Baaghi TV

Tag: پاک نیوی

  • کراچی: میری ٹائم سیکیورٹی مشق سی گارڈ-26 کامیابی سے اختتام پذیر

    کراچی: میری ٹائم سیکیورٹی مشق سی گارڈ-26 کامیابی سے اختتام پذیر

    پاکستان نیوی کے زیرِ اہتمام میری ٹائم سیکیورٹی مشق سی گارڈ-26 کراچی میں ڈی بریف سیشن کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی، اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی چیف آف اسٹاف پاکستان نیوی وائس ایڈمرل راجا رب نواز تھے۔

    ڈی بریف سیشن کے دوران مشق میں شامل اداروں کے نمائندگان کو مختلف منظرناموں کا تفصیلی تجزیاتی جائزہ پیش کیا گیا، جبکہ بحری شعبے میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے معلومات کے تبادلے اور مشترکہ ردِعمل کے نظام کی جانچ بھی کی گئی۔

    وائس ایڈمرل راجا رب نواز نے مشق کے پیشہ ورانہ انعقاد اور بحری شعبے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہم آہنگ کرنے میں جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر (JMICC) کے مؤثر کردار کو سراہا انہوں نے اسٹیک ہولڈرز کے مابین مسلسل روابط اور تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ملکی بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پاک بحریہ کے عزم کا اعادہ کیا۔

    سی گارڈ سیریز کی تیسری مشق میں بحری شعبے سے تعلق رکھنے والے مختلف سرکاری ریگولیٹری اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سمندری نجی تنظیمو ں اور تعلیمی حلقوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مشق کا مقصد سمندر میں درپیش کثیرالجہتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کو فروغ دینا تھا، مشق کے دوران بندرگاہوں کی سیکیورٹی، بحری جہازوں اور انفراسٹرکچر کا تحفظ، انسدادِ منشیات کارروائیاں اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز شامل رہے۔

  • پاکستان نیوی نے 14 ویں مرتبہ سی ٹی ایف-150 کی کمان سنبھال لی

    پاکستان نیوی نے 14 ویں مرتبہ سی ٹی ایف-150 کی کمان سنبھال لی

    پاکستان نیوی نے مشترکہ میری ٹائم ٹاسک فورس 150 (CTF-150) کی کمان 14ویں مرتبہ سنبھال لی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس سلسلے میں کمان کی تبدیلی کی تقریب بحرین میں قائم کمبائنڈ میری ٹائم فورسز (CMF) کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی تقریب کے دوران پاکستان نیوی کے کموڈور محمد یاسر طاہر نے کمان رائل سعودی نیول فورسز کے کموڈور فہد ایس الجواید سے سنبھالی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کموڈور محمد یاسر طاہر نے کہا کہ ان کی ٹیم اس اہم اور باوقار ذمہ داری کو نبھانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے خطے میں سمندری سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان نیوی غیر قانونی سمندری سرگرمیوں کے خلاف مؤثر اقدامات جاری رکھے گی اور اہم بحری تجارتی راستوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    لاہور ہائیکورٹ،مریم نواز کی 7کروڑ روپے کی رقم واپسی درخواست پر نوٹس جاری

    کمان کی تبدیلی کی اس تقریب میں بحرین میں پاکستان کے سفیر، کمانڈر کمبائنڈ میری ٹائم فورس، کمانڈر رائل بحرین نیول فورسز اور سی ایم ایف کے تحت کام کرنے والی دیگر ممالک کی بحری افواج کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    سی ٹی ایف-150، کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے تحت کام کرنے والی 5 ٹاسک فورسز میں سے ایک ہے۔ اس کا بنیادی مشن غیر ریاستی عناصر کی جانب سے اسلحہ، منشیات اور دیگر غیر قانونی اشیا کی اسمگلنگ کو روکنا ہے، جو بحر ہند، بحیرہ عرب اور خلیج عمان میں سرگرم ہوتے ہیں،رائل سعودی نیول فورسز کی قیادت کے دوران پاکستان نیوی کے جہازوں کی جانب سے کی جانے والی کامیاب انسدادِ منشیات کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان نیوی علاقائی امن و سلامتی کے لیے مشترکہ سمندری کوششوں میں سنجیدہ اور پُرعزم کردار ادا کر رہی ہے۔

    دکی :اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مال خانے سے 270 کلو منشیات چوری

  • کمانڈر کراچی اور کمانڈر پاکستان فلیٹ کی کمان تبدیل

    کمانڈر کراچی اور کمانڈر پاکستان فلیٹ کی کمان تبدیل

    وائس ایڈمرل محمد فیصل عباسی نے کمانڈر کراچی اور ریئر ایڈمرل عبدالمنیب نے کمانڈر پاکستان فلیٹ کی کمانڈ سنبھال لی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وائس ایڈمرل محمد فیصل عباسی نے پاک بحریہ کے فلیٹ کی کمانڈ ریئر ایڈمرل عبدالمنیب اور ریئر ایڈمرل محمد سلیم نے وائس ایڈمرل محمد فیصل عباسی کو کمانڈر کراچی کی کمان سونپی۔پاک بحریہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وائس ایڈمرل محمد فیصل عباسی پاکستان نیوی وار کالج لاہور، نیول کمانڈ کالج امریکہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ وائس ایڈمرل محمد فیصل عباسی ایک شاندار بحری کیریئر رکھتے ہیں جس میں مختلف کمانڈ اینڈ اسٹاف تقرریوں کا وسیع تجربہ شامل ہے۔ان کی اہم تقرریوں میں ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف آپریشنز، ڈائریکٹر جنرل نیول انٹیلی جنس اور کمانڈر پاکستان فلیٹ شامل ہیں۔ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انھیں ہلال امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔ریئر ایڈمرل عبدالمنیب پاکستان نیوی وار کالج لاہور، نیول کمانڈ کالج امریکہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔رئیر ایڈمرل عبدالمنیب ایک شاندار بحری کیریئر رکھتے ہیں جس میں مختلف کمانڈ اینڈ اسٹاف تقرریوں کا وسیع تجربہ شامل ہے۔ان کی اہم تقرریوں میں ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف آپریشنز، ڈائریکٹر جنرل C4I اور ڈائریکٹر جنرل نیول انٹیلی جنس شامل ہیں۔ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انھیں ہلال امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں رات گئے کومبنگ آپریشن، 10 ملزمان گرفتار

    پاکستان ریلوے نے موسم سرما کا ٹائم ٹیبل جاری کر دیا

    چینی شہریوں کو ہرممکن فول پروف سیکیورٹی دی جائے گی، کراچی پولیس چیف

  • قطر بحریہ کے جہاز الخور کی دو طرفہ مشق اسد البحر میں شرکت کے لیے کراچی آمد

    قطر بحریہ کے جہاز الخور کی دو طرفہ مشق اسد البحر میں شرکت کے لیے کراچی آمد

    قطر امیری بحریہ کے جہاز الخور نے کراچی کا دورہ کیا، پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں نے قطری جہاز کا پرتپاک استقبال کیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک بحریہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق دورےکے دوران قطری بحری جہاز کے کمانڈنگ آفیسر نے مزار قائد پر حاضری دی۔انہوں نے کمانڈر پاکستان فلیٹ وائس ایڈمرل فیصل عباسی سے بھی ملاقات کی۔ملاقات کے دوران قطری بحری جہاز کے کمانڈنگ آفیسر نے خطے میں امن و سلامتی کے فروغ میں پاک بحریہ کی کوششوں کو سراہا۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔قطری جہاز اپنے دورہ کے دوران مشق اسد البحر اور مشترکہ تربیت اور تبادلہ خیال میں حصہ لے گا۔

    کراچی: جرمنی جانے کی کوشش میں مزید 3 افغان خواتین گرفتار

    واضح رہے کہ قطری جہاز کا یہ اہم دورہ نہ صرف پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط سفارتی تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ دفاعی اور باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کا موقع فراہم کرتا ہے

  • 8 ستمبر کا دن، پاک بحریہ کے نام،یوم بحریہ پر خصوصی پرومو جاری،صدر،وزیراعظم کا پیٍغام

    8 ستمبر کا دن، پاک بحریہ کے نام،یوم بحریہ پر خصوصی پرومو جاری،صدر،وزیراعظم کا پیٍغام

    سمندری حدود کے نگہبانوں کو سلام پیش کرنے کے لیے ملک بھر میں یوم بحریہ آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے، آپریشن دوارکا میں پاکستان نیوی نے دشمن کے دلوں پر جو لرزہ طاری کیا، اسی کی یاد میں 8 ستمبر کو پاک بحریہ کا دن منایا جاتا ہے۔

    جنگِ ستمبر میں پاک بحریہ کی شاندار کارکردگی کی یاد میں ہر سال 8 ستمبر کو یومِ بحریہ کے طور پر منایا جاتا ہے، اس دن پاک بحریہ نے پاکستان کی بری اور فضائی افواج کے شانہ بشانہ رہ کر دشمن کے دانت کھٹے کیے۔1965کی جنگ میں بری، بحری اور فضائی افواج نے دفاع وطن کا فریضہ بھرپور طریقے سے انجام دیا لیکن 8 ستمبر کا دن پاک بحریہ کے نام رہا۔

    8 ستمبر کا دن، پاک بحریہ کے نام،7 اور 8 ستمبر کی درمیانہ شب پاک بحریہ نےبھارتی نیول بیس دوارکا پر حملہ کیا، آپریشن سومناتھ میں پاک بحریہ کے سات جنگی جہازوں نے حصہ لیا،حصہ لینے والوں میں پی این ایس بابر، خیبر، بدر، جہانگیر، عالمگیر، شاہجہان اور ٹیپو سلطان شامل تھے،صرف چار منٹ میں بھارتی نیول بیس آگ کا ڈھیربن گئی تھی،پاک بحریہ کی شدید بمباری سے بھارتی ایئر فورس کا ریڈار بھی زمین بوس ہو گیا،پاک بحریہ کے نڈر اور اپنے پانیوں سے 120 میل دور بھارتی سرزمین پر حملے نے بھارتی بحریہ کو شل کر دیا،صرف چند میل کی دوری پر موجود بھارتی جنگی جہاز ”میسور” اور ”تلوار” نے مدد کی اپیل کا جواب دینے سے ہی انکار کر دیا،بھارتی جنگی جہازوں نے جنگ کی باقی مدت خوف کے مارے بندرگاہوں میں کھڑے ہی گزار دی،پاک بحریہ کی شدید بمباری سے بھارتی ایئر فورس کا ریڈار بھی زمین بوس ہو گیا،

    یوم بحریہ کے موقع پر پاکستان بحریہ کا خصوصی پرومو جاری کردیا گیا ہے،پاسدار بحر کے نام سے جاری پرومو پاک سرزمین پر بہنے والے پانی کے سفر کی کہانی ہے،دریاؤں کا یہ سفر جو شمال کے برفاب سے شروع ہو کر جنوب کی ترائیوں میں بحیرہ عرب میں اتر جاتا ہے۔ اپنی کہانی میں خود سے جڑی ہریالی اور محنت کش ہاتھوں کے کئی نقش چھوڑتا ہے،یہ پرومو وطن کے ان محنت کشوں کی ہر لحظہ پانی سے جڑی زندگی کےرنگ دکھاتا ہے۔ یہ پرومو پاکستان بحریہ کا بحری سرحدوں اور پانیوں کی حفاظت کے عزم کا اظہار ہے

    قوم پاک بحریہ، اُسکے جوانوں کی بہادری، لگن اور جذبہ حب الوطنی پر فخر کرتی ہے،صدر مملکت
    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ بحریہ پر پاک بحریہ کو خراجِ تحسین پیش کیا،صدر مملکت نے دفاع وطن میں پاک بحریہ کے کردار ، افسروں اور جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ 1965 کی جنگ میں دشمن کے خلاف کامیاب کارروائی کرکے پاک بحریہ نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ،پاک بحریہ ملک کو درپیش روایتی اور غیر روایتی بحری چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، ایک مضبوط بحریہ پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کی ضامن ہے، صدر مملکت نےپاک بحریہ کو مزید جدید اور مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع اور علاقائی امن کے فروغ میں پاک بحریہ کا کلیدی کردار ہے، پاکستان کے بحری مفادات اور حدود کے دفاع کے لیے پاک بحریہ ہر وقت تیار ہے، قوم پاک بحریہ، اُسکے جوانوں کی بہادری، لگن اور جذبہ حب الوطنی پر فخر کرتی ہے، پاک بحریہ کے ہیروز کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں،

    سمندری سرحدوں کے تحفظ میں پاک بحریہ کے کردار کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔وزیراعظم
    یوم بحریہ کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ بحریہ پر پاکستان بحریہ کے تمام اراکین کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں،پاک بحریہ کی مستقل مزاجی ان کی فرض شناسی اور وطن سے محبت کا ثبوت ہے، پاک بحریہ کی خدمات اور قربانیوں کی دل سے قدر کرتے ہیں،سمندری سرحدوں کے تحفظ میں پاک بحریہ کے کردار کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔

    پاکستان کی جنگی تاریخ میں پاک بحریہ کا نمایاں کردار ہے ،وزیراعلیٰ سندھ
    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یوم بحریہ کے موقع پر پیغام میں کہا کہ پاک بحریہ دنیا کی مضبوط ترین بحری فورسز میں سے ایک ہے ،پاک بحریہ سمندری حدود کی نگرانی کے لیے 24 گھنٹے چوکس رہتی ہے ، ہمارے سمندری محافظوں نے اس ملک کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، پاکستان کی جنگی تاریخ میں پاک بحریہ کا نمایاں کردار ہے ، ملکی تحفظ کیلئے سمندری حدود کی نگرانی بڑی اہمیت کی حامل ہے ،پاک بحریہ تمام تر جنگی صلاحیتوں سے لیس ہے ،

    پاکستان نیوی خطے میں باصلاحیت اور متحرک پروفیشنل بحری فورس بن کر اُبھری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت پر مامور پاک بحریہ کو سلام پیش کرتی ہوں، قوم پاکستان نیوی کے جانبازوں کے کارناموں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے،8ستمبر کادن پاک بحریہ کے سرفروشوں کی قربانیوں اور غیر معمولی کارناموں کی یاد دلاتا ہے، 1965 اور 1971 میں پاک بحریہ نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے، پاک بحریہ کے جانبازوں نے جنگ کے دوران سمندری حدود کا دفاع کرتے ہوئے دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت کرنے والے پاک بحریہ کے افسر اور جوان ہمارا فخر ہیں، دفاع وطن میں پاک بحریہ کے ناقابل فراموش کردارکو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، پاکستان نیوی خطے میں باصلاحیت اور متحرک پروفیشنل بحری فورس بن کر اُبھری ہے۔

    پاک بحریہ8 ستمبر1965کے جذبے کو زندہ جاوید رکھنے کے لئے پر عزم ہے۔وزیر داخلہ
    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے یوم بحریہ پر کہا ہے کہ ہم اپنے بہادر سمندری محافظوں کی عظیم قربانیوں اور بے مثال خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،8 ستمبر ہماری دفاعی تاریخ کا ایک اور عظیم الشان اور یادگار دن ہے، 1965کی جنگ میں پاک بحریہ کے سرفروشوں نے دشمن کی سمندری طاقت کا غرور ملیامیٹ کیا۔8 ستمبر بھی قربانیوں، لازوال جذبوں اور غیر معمولی کارناموں کی تاریخ سموئے ہوئے ہے،بری، فضائی کی طرح بحری فوج نے بھی جوانمردی سے دشمن کو پسپا کیا،پاک بحریہ کے جانبازوں نے سمندری حدود کا دفاع کرتے ہوئے دشمن کو شکست دی، سمندری سرحدوں کی حفاظت کرنے والے پاک بحریہ کے افسر اور جوان ہمارا فخر ہیں، 1965 کی جنگ میں پاک بحریہ کے ناقابل فراموش کردارکو سنہری حروف سے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، پاک بحریہ ہر قسم کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے،نیوی ڈے پاک بحریہ کے بہادر سپوتوں کے عظیم کارناموں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے،پاک بحریہ8 ستمبر1965کے جذبے کو زندہ جاوید رکھنے کے لئے پر عزم ہے۔

    پاکستان نیوی کے بحری بیڑے میں جدید جنگی جہاز بابر اور حنین شامل

    دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی،آرمی چیف

    یوم دفاع پاکستان،ملکی سلامتی کیلئے دعائیں،شہدا کی قبروں پر سلامی

    کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں،فیض حمید کیخلاف ثبوتوں پر کاروائی ہو رہی، ترجمان پاک فوج

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    شرپسند عناصر عوام اور مسلح افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    مضبوط جمہوریت کے لیے درست معلومات کا فروغ لازمی ہے۔آرمی چیف

  • 1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر :  ثاقب حسن لودھی

    1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر : ثاقب حسن لودھی

    1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر : ثاقب حسن لودھی

    بلاشبہ موجودہ دنیا میں کسی بھی ملک کے لیے اس کی جغرافیائی حیثیث قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔ آج 4 دسمبر کا وہ تاریخی دن ہے جب پاک بحریہ کے چاق و چوبند دستے پی۔این۔ ایس "غازی” کے شہداء کی یاد میں وطن سے ہر قیمت پر وفاداری کے عہد کو ایک بار پھر دہرا رہے ہیں۔ یہ وہی ‘غازی’ ہے جو 1971 کی جنگ میں دشمن کی نظروں سے اوجھل اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے بدقسمتی سے اپنی ہی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے تباہ ہو گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں تقریبا 85افسران جام شہادت نوش کر گئے تھے جن کی جرات و بہادری کو ہر سال خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ گو کہ پی این ایس غازی بہت کم عرصہ تک پاکستانی فلیٹ کا حصہ رہی لیکن اس کی دھاک اور دہشت سے آج بھی دشمن کانپ جاتا ہے۔ اگر ہم 1971 کی جنگ کا مختصر جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ جنگ بھارت کی غیر قانونی و انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی تھی۔ عالمی قوانین کے مطابق کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا اختیار نہیں رکھتا مگر بھارت کی جانب سے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مکتی باہنی کے ذریعے مشرقی پاکستان میں شورش پھیلائی گئی۔ بعد ازاں بھارت کی جانب سے باقاعدہ جنگ چھیڑے جانے کے بعد پاکستان کے پاس صرف بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا آپشن باقی تھا۔ پاک بحریہ کے پاس پی این ایس غازی کی صورت میں ڈیزل الیکٹرک سب میرین موجود تھی جو بھارت کے’وکرانت’ نامی ائیر کرافٹ کئیریر کو تباہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ لہذا بھارتی افسران کی جانب سے وکرانت کو ‘محفوظ مقام’ پر منتقل کیا گیااور ‘غازی’ کا مقابلہ کرنے کے لیے خلیج بنگال میں دو جنگی بحری جہاز روانہ کیے گئے۔ ان سب کی نظروں سے اوجھل پی این ایس غازی بھارتی کیمپ کے انتہائی قریب پہنچنے میں کامیاب رہی۔ 4 دسمبر کی رات بھارتی بحریہ کے پڑاو میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جس وقت زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی۔ بھارتی بحریہ کے سابق کموڈور جیکب کے مطابق دھماکے کے آوازیں اس قدر شدید تھیں کہ انہیں گمان ہوا کھ شایدپی این ایس غازی کی جانب سے شدید حملہ ہو گیا ہے۔ بعد ازاں 5 دن کی مسلسل غوطہ خوری کے نتیجے کے مطابق حقیقت معلوم ہوئی کہ پی این ایس غازی اپنی ہی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگ کے پھٹنے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔

    بھارت کی جانب سے اس کو اپنی کامیابی گردانا گیا اور اس وقوعہ کے 5 دن بعد 9 دسمبر کو اس کو بھارتی بحریہ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ یاد رہے 9 دسمبر کا دن بھی وہ تاریخی نوعیت کا دن ہے جب پی این ایس ‘ہنگور ‘ نے بھارتی بحریہ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھنے جانے والے آئی این ایس’ ککری’ کو شکست دی تھی۔ مبصرین کے مطابق ککری کی شکست سے تو جہ ہٹانے کی خاطر بدقسمت غازی کو اپنی کامیابی بتایا گیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کار بھارتی بحریہ کی جانب سے 5 دن تک اپنی خود ساختہ کامیابی کا اعلان کیوں نہ کیا گیا ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 2010 میں بھارتی سرکار کی جانب سے غازی سے متعلق تمام ریکارڈ کو ضائع کر دیا گیا تھا۔ یہ تمام سوالات اس حقیقت کو عیاں کرتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کی طرح اپنی عوام کو بیوقوف بنانے کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ حال ہی میں فروری 2017 کے قیدی بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو ایوارڈ سے نواز کر بھارت دنیا کی توجہ پاکستان کی جنگی کامیابیوں سے ہٹانا چاہتا ہے۔

    پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جاری

    یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی

    پاک بحریہ میں یوم آزادی کی تقریب،اکیس توپوں کی سلامی دی گئی

    پاک بحریہ کی ساتویں کثیرالقومی بحری مشق امن 2021 کا آغاز

    پاک بحریہ کے زیر اہتمام گوادر میں مقامی بچوں کے لیے سیلنگ کیمپ کا انعقاد کیا گیا

    جنگ کے طور طریقے بدل گئے ہیں اور اب غیر روایتی انداز میں دشمن کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارت بالی ووڈ کے ذریعے حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔ بھارت کا غازی سے لیکر ابھی نندن تک کے تمام جھوٹ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔دنیا یہ جانتی ہے کہ بحری جنگ زمینی اور فضائی جنگ سے قدرے مختلف ہے اور اس میں جنگی حکمت عملی بنا کر اپنی صلاحیت سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے بہت مشکل ہوتا ہے۔ پی این ایس غازی کا دشمن کی نظروں سے اوجھل ہو کر بھارتی کیمپ کے نز دیک پہنچ جانا اور بعد ازاں پی این ایس ہنگور کی جانب سے آئی این ایس ککری کو شکست دینا اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاک بحریہ جنگی حکمت عملی بنانے اور آپریشنل لیول پر اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بھارتی بحریہ سے بہت بہتر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی سفید وردی میں ملبوس پاک بحریہ کے جوان دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ پاکستان کی بحری حدود میں 50 ہزار مربع کلومیٹر کا اضافہ اورمسلسل سات ‘ امن مشقوں ‘ کا انعقاد اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاک بحریہ نہ صرف تمام دوست ممالک سے امن اور برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہے بلکہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ پاک بحریہ نے ماضی میں بھی قومی دفاع اور سلامتی کی خاطر جانیں قربان کی ہیں اور آج کے تاریخی دن قوم سے ایک بار پھر وعدہ ہے کہ دشمن چاہے کتنا ہی طاقت ور اور تعداد میں بڑا کیوں نہ ہو، پاکستان کی بحری افواج اپنے ملک و قوم کی ایک ایک انچ کی حفاظت کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

    پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا پاکستان نیوی وار کالج کا دورہ،آئی ایس پی آر

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا پاکستان نیوی وار کالج کا دورہ،آئی ایس پی آر

    راولپنڈی:آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 51ویں پی این ایس اسٹاف کورس کے شرکاء سے خطاب کیا، نیوی وار کالج آمد پر کمانڈنٹ ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان نے آرمی چیف کا استقبال کیا جبکہ آرمی چیف نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہدائے پاکستان کو خراج عقیدت پیش کیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق شرکاء سے خطاب میں آرمی چیف نے جیو اسٹریٹجک ماحول اورقومی سلامتی چیلنجز سے نمٹنے کے اقدامات پر بات چیت کی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ قومی سلامتی چیلنجز سے بہتر طریقے سے نمٹنے میں مسلح افواج کا کردار اہم ہے جبکہ پاکستان نیوی کی تاریخ بہادری اور قربانیوں کی شاندار روایات سے بھری پڑی ہے۔۔

    آرمی چیف نے مزید کہا کہ پاکستان نیوی وہ ناقابل شکست فورس ہے جس نے ہمیشہ ملک کی سمندری حدود کا دفاع کیا جبکہ پاکستان نیوی ہمیشہ قوم کی توقعات پر پورا اتری۔

  • پاکستان نیوی کے پاس ایسے ہتھیار آچکے کہ اب بھارتی نیوی کی تباہی یقینی ہے:بھارتی دفاعی حکام سخت پریشان

    پاکستان نیوی کے پاس ایسے ہتھیار آچکے کہ اب بھارتی نیوی کی تباہی یقینی ہے:بھارتی دفاعی حکام سخت پریشان

    نئی دہلی :پاکستان نیوی کے پاس ایسے ہتھیار آچکے کہ اب بھارتی نیوی کی تباہی یقینی ہے:بھارتی دفاعی حکام سخت پریشان ،بھارتی وزارت دفاع اس وقت بہت پریشان ہے اور بھارتی فوجی حکام کے ذہنوں پر ایک چیز سوار ہوچکی ہے کہ پاکستان نیوی نے چین سے ایسے جنگی ہیلی کاپٹر اورمیزائل حاصل کرلیے ہیں کہ جن کے استعمال کی صورت میں بھارتی بحریہ کی تباہی کے واضح آثار ہیں‌

     

     

     

     

    امریکی اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاک بحریہ کے 054 A/P فریگیٹس چین تیار کر رہے ہیں۔بھارتی دفاع حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے ہی جیسے مثال کے طور پر پی این ایس طغرل گزشتہ سال فراہم کیا گیا تھا۔بھارتی فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے پتہ چلتا ہےکہ بھارت کو یہ اطلاعات مل چکی ہیں کہ پاکستان چین سے ایک نہیں بلکہ تین قسم کے جدید خطرناک ہتھیاراپنی نیوی میں‌ شامل کرنے کےلیے لے رہا ہے ،۔ اطلاعات کے مطابق ان میزائلوں کا ہدف بظاہر بھارتی جنگی جہاز جیسے کولکتہ اور ویزاگ کلاس ڈسٹرائرز اور اسٹیلتھ فریگیٹس ہیں۔

    بھارتی اورامریکی دفاعی حکام کا یہ بھی دعویٰ‌ ہے کہ پاکستان اپنے جنگی جہازوں کے لیے LY-70 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم خریدنے کے لیے بھی چین سے بات چیت کر رہا ہے۔ اس نے پہلے ہی مینوفیکچرر ALIT سے تکنیکی اور بجٹ تجویز کی درخواست کی ہے۔ پاکستان نیوی نے دو دہائیاں قبل اپنے طارق کلاس فریگیٹس کے لیے پچھلی قسم، LY-60N خریدی تھی۔

    اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکسان کےلیے چینی ہاربن ایئر کرافٹ انڈسٹری گروپ ہاربن Z-9 حملہ ہیلی کاپٹر تیار کرتا ہے۔ Z-9EC ایک اینٹی سب میرین وار فیئر ویرینٹ ہے جو پاکستان نیول ایئر آرم کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ دشمن کی آبدوزوں کی شناخت، ٹریک کرنے اور انہیں ختم کرنے کے لیے، ہیلی کاپٹر ASW ٹارپیڈو اور سینسر اور ریڈار کے ساتھ ایک ہی وقت میں کئی خوبیوں سے مزین ہے

    پاک بحریہ نے چین کی طرف سے چار قسم کے 054A/P فریگیٹس کی فراہمی کا آرڈر دیا ہے۔اس رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ‌ کیا گیا ہے کہ چینی اسلحہ سازکمپنیون نے نومبر 2021 میں چینی ساختہ پہلی قسم 054A/P گائیڈڈ میزائل فریگیٹ PNS Tughril کو شروع کیا۔

    بھارتی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا طغرل الیکٹرونک جنگی نظام، جدید ترین سطح، زیر زمین، اور اینٹی ایئر ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جنگی انتظامی نظام سے لیس ہے، اور اسے F-22P فریگیٹ کے لیے چینی فراہم کردہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جنگی جہاز بنیادی طور پر اینٹی ایئر وارفیئر کے لیے بنایا گیا ہے، حالانکہ یہ اینٹی سرفیس اور اینٹی سب میرین کاموں کو بھی انجام دے سکتا ہے۔

     

     

    انڈین اور امریکن ڈیفنس ماہرین کا کہنا ہے کہ CM-501GA زمین پر حملہ کرنے والے CM-501G میزائل کا ہلکا قسم ہے۔ چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ انڈسٹری کارپوریشن یہ میزائل تیار کرتی ہے، جن کی رینج تقریباً 40 کلومیٹر ہے۔ لائٹر ویریئنٹ کو چینی ساختہ ہاربن Z-9 ہیلی کاپٹر سے لانچ کیا جا سکتا ہے، جسے پاکستان کی بحریہ بھی استعمال کرتی ہے۔

    میزائل کا ڈیزائن CM-501G پر مبنی ہے، ایک زمینی حملہ کرنے والا میزائل جسے ابتدائی طور پر نومبر 2012 میں 9ویں Zhuhai Air شو میں دکھایا گیا تھا۔ سی ایم 501 جی میزائل کی رینج 70 کلومیٹر ہے۔ یہ میزائل امریکی NLOS-LS Netfires میزائل یا اسرائیلی JUMPER میزائل کے چینی مساوی سمجھا جاتا ہے۔

    اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ CM-501G سسٹم دو گاڑیوں پر مشتمل ہے، دونوں گاڑیاں شانکسی آٹوموبائل گروپ SX2190 6 x 6 کراس کنٹری ہیوی ڈیوٹی ٹرک پر مبنی ہیں۔ دو لانچرز/کنٹینرز، جن میں سے ہر ایک تین بائی تھری لے آؤٹ میں نو میزائلوں کے ساتھ، لانچنگ گاڑی کے پچھلے حصے میں نصب ہیں، جن کی کل تعداد 18 ہے۔ یہ Netfires کے 15 سے زیادہ ہے لیکن JUMPER کے 24 سے کم ہے۔

     

     

    ماہرین کے مطابق اوپن آرکیٹیکچر اور ماڈیولر ڈیزائن کے تصور نے CM-501G سسٹم کو اتنا ورسٹائل بنا دیا ہے کہ وہ مختلف گائیڈنس سسٹمز کا انتخاب کر کے صارفین کے مختلف مطالبات کو پورا کر سکے: جب فنڈنگ ​​محدود ہو تو دو طرفہ ڈیٹا لنک اور امیجنگ انفرا ریڈ۔ (IIR) کو سستے سیمی ایکٹیو لیزر (SAL) کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا ہے، اور سیٹلائٹ رہنمائی GPS، GLONASS، یا BeiDou میں سے کوئی بھی ہو سکتی ہے۔

    فائر کنٹرول ماڈیول، ایمونیشن اڈاپٹر، اور خود مختار پاور کیبلز فائر کنٹرول سسٹم کو تشکیل دیتے ہیں۔ نیٹ ورک کے جنگی نیٹ ورک میں ضم ہونے کے بعد آپریٹرز ریموٹ کنٹرول استعمال کر سکتے ہیں۔ چونکہ یہ بارود کے اڈاپٹر سے ڈیٹا پر کارروائی کر سکتا ہے اور ہدف کو پوزیشن میں رکھ سکتا ہے، اس لیے فائرنگ کا نظام خود مختار طور پر کام کر سکتا ہے۔

    ایک کمپیکٹ C41SR سسٹم جسے جنگی نیٹ ورک سے منسلک کیا جا سکتا ہے کمانڈ سسٹم کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ فائرنگ سسٹم کی رہنمائی کرنے، ڈیٹا کو پروسیسنگ اور اسٹور کرنے، ہدایات جاری کرنے، نقصان کا اندازہ لگانے اور سسٹم کی حالت کی نگرانی کرنے کے قابل ہے۔ پراجیکٹائل کی بہترین جنگی تاثیر ہوتی ہے کیونکہ جاسوسی اور فائر پاور یونٹ مؤثر طریقے سے کمانڈ سسٹم سے منسلک ہوتے ہیں۔

     

    اس کی لانچنگ اور آپریشنل کنٹرول گاڑیاں خود مختار طور پر نیویگیٹ کر سکتی ہیں اور نامعلوم ماحول میں تیز رفتار ہتھکنڈے اور جدید ترین فائرنگ کے مشن کو انجام دے سکتی ہیں۔ لانچ گاڑی کو فائر کرنے کے لیے تیار ہونے میں تقریباً پانچ منٹ لگتے ہیں۔ شوٹنگ کے بعد موبائل موڈ پر واپس آنے میں ایک منٹ لگتا ہے۔

    CM-501GA ٹی وی/انفراریڈ امیجری کے امتزاج کا استعمال کرتے ہوئے سیر کرتا ہے۔ CM-501GA میزائل 2 میٹر لمبا ہے جس کا قطر 180 ملی میٹر ہے۔

    اس کے پاس 20 کلو گرام ہائی ایکسپوزیو وار ہیڈ ہے جس کی رینج 5-40 کلومیٹر ہے اور اس کا وزن 100 کلو ہے۔ مینوفیکچرر کے مطابق، ہٹ کی درستگی کو 1 میٹر کے اندر ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے اور ہٹ کی شرح 90% ہے۔