Baaghi TV

Tag: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی

  • خواجہ آصف کا بیوروکریٹس کے پرتگال میں پراپرٹی خریدنے کا بیان ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نےنوٹس لے لیا

    خواجہ آصف کا بیوروکریٹس کے پرتگال میں پراپرٹی خریدنے کا بیان ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نےنوٹس لے لیا

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزیردفاع خواجہ آصف کے پرتگال میں بیوروکریٹس کی جانب سے پراپرٹی خریدنے کے بیان کا نوٹس لے لیا۔

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا جنید اکبر خان کی زیر صدارت اجلاس ہواوزیر دفاع خواجہ آصف کے پرتگال میں بیوروکریٹس کی جانب سے پراپرٹی خریدنے کے بیان کا معاملہ زیر بحث آیا، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے کہا گیا کہ وزیر دفاع کا یہ بیان انتہائی سنگین معاملہ ہے، کمیٹی نے معاملے پر آئندہ اجلاس میں وزارت داخلہ، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر حکام کو طلب کر لیا،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکم دیا کہ وزارت داخلہ، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو بریفنگ دیں۔

    ملک بھر میں پولیو وائرس کے مثبت نمونوں میں کمی کا رجحان

    واضح رہے کہ چند روز قبل، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر کی گئی پوسٹ میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ملک کی بیوروکریسی کے بارے میں بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں جائیدادیں خرید چکی ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف پاک امریکہ تعاون خوش آئند ہے،محسن نقوی

    بعد ازاں، نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی کو تمام قوانین اور قواعد کا پابند ہونا چاہیے، جو بحیثیت پارلیمنٹیرینز مجھ پرلاگو ہوتے ہیں، کیا آج تک کسی بیوروکریٹ کا احتساب ہوا ہے، کسی نے سوچا ہے کہ ان کے پاس کتنے پلاٹ ہیں، میرے پاس 2 کمرے کا فلیٹ ہے، پچھلے 25 سال سے وہاں رہ رہا ہوں، میں نے بیوروکریسی کی شان میں بس اتنی گستاخی کی کہ یہ پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں، مجھے نہیں معلوم تھا کتنے لوگ خرید رہے ہیں یا اتنا رولا پڑ جائے گا اور اب رولا پڑگیا ہے تو میں انکوائری بھی کر رہا ہوں اور نام بھی بتاؤں گا،ہ جس کے ذریعے جائیدادیں خریدی گئیں، اس نے ان کی تصاویر بھی بنائی ہوئی ہیں، میں نے رولا ڈالا ہے، اب میڈیا اس کی تحقیقات کرے-

    ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرف کے بعد بھارت میں امریکی برانڈز کی بائیکاٹ مہم زور پکڑ گئی

  • پی اے سی اجلاس میں 40 ارب کا کوہستان اسکینڈل، ہاکی ٹیم اسکینڈل کا انکشاف

    پی اے سی اجلاس میں 40 ارب کا کوہستان اسکینڈل، ہاکی ٹیم اسکینڈل کا انکشاف

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں اربوں روپے کی کرپشن اور سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی پر کئی اہم انکشافات سامنے آئے۔

    چیئرمین جنید اکبر کی زیر صدارت اجلاس میں 40 ارب روپے کے کوہستان اسکینڈل پر خیبرپختونخوا آڈیٹر جنرل سے رپورٹ طلب کرلی گئی۔جنید اکبر نے کہا کہ آڈیٹ پر بار بار زور دینے کے باوجود رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں، اے جی خیبرپختونخوا پر سنگین الزامات ہیں، اس کے باوجود ان کا تبادلہ اسلام آباد کیسے کیا گیا؟ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ کوہستان اسکینڈل میں چیک بک کا غلط استعمال ہوا، فنانس ڈیپارٹمنٹ کے تین اہلکاروں کی مبینہ کرپشن پر نیب تحقیقات کر رہا ہے۔

    اجلاس میں وزارت بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری محی الدین وانی نے بتایا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے عہدیدار بیرون ملک ہوٹل کے بل ادا کیے بغیر فرار ہوگئے، جس سے ملک کی بدنامی ہوئی، اور اسپورٹس بورڈ کو 10 ہزار ڈالرز ادا کرنا پڑے۔آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کا گزشتہ 15 سالوں سے آڈٹ نہیں ہوا۔ بورڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ 2009 تک آڈٹ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ مالی سال 2024-25 کے لیے فرم ہائر کی جا چکی ہے۔

    پی اے سی نے تمام آڈٹس 6 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت دی، جسے اسپورٹس بورڈ نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مدت ناکافی ہے۔اجلاس میں جناح اسکوائر انٹرچینج کی ایک سڑک کے بارش سے بیٹھنے کا معاملہ بھی زیربحث آیا۔ چیئرمین پی اے سی نے استفسار کیا کہ تین ماہ بھی نہیں گزرے اور سڑک بیٹھ گئی، ذمہ دار کون ہے؟

    نیسپاک حکام نے بتایا کہ منصوبے کی لاگت 4 ارب 20 کروڑ روپے تھی، 72 دنوں میں مکمل کیا گیا جبکہ منصوبے کا مقررہ وقت 120 دن تھا۔ رکن کمیٹی نے جلدبازی کو سستی شہرت قرار دیا جبکہ وزیر مملکت طلال چوہدری نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ عالمی معیار کے مطابق مکمل کیا گیا، تنقید کے بجائے تعریف کی جائے۔

    سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ سوئی نادرن نے منصوبے کے قریب کھدائی کی، جس کی بھرائی مناسب انداز میں نہ کی گئی، جس کے باعث 25 جون کی شدید بارش میں سڑک کو نقصان پہنچا۔ تاہم، منصوبے میں خرابی کو ایک ہی دن میں دور کر دیا گیا۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا، جس پر سی ڈی اے نے جناح اسکوائر کی تازہ ویڈیو بھی پیش کی۔

    اجلاس میں ایک بار پھر چیئرمین پی اے سی نے کوہستان اسکینڈل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم آڈٹ کا کہتے ہیں تو مزاحمت کی جاتی ہے۔ آڈٹ حکام نے جواب میں بتایا کہ فراڈ کرنے والے تینوں افراد فنانس ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتے تھے، نیب تحقیقات کر رہا ہے، فنانس ڈیپارٹمنٹ کو کئی بار ایکشن لینے کے لیے کہا مگر تاحال کوئی ڈسپلنری کارروائی نہیں کی گئی۔

    بھارت و اسرائیل کی صلاحیتیں چیک، مودی کے دن گنے جا چکے ہیں: خواجہ آصف

    آسٹریلیا اور میکسیکو طوفان، پروازیں منسوخ، ہزاروں گھر بجلی سے محروم

    پاکستان کا اضافی ایل این جی فروخت کرنے پر غور، تین کارگو موجود

    پیٹرول مہنگا، ریلوے کرایے بھی بڑھا دیے گئے، 4 جولائی سے اطلاق ہوگا

    غزہ میں اسرائیلی بربریت جاری، مزید 47 شہادتیں

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بجلی کے 300بڑے ڈیفالٹرز کی فہرستیں طلب کرلیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بجلی کے 300بڑے ڈیفالٹرز کی فہرستیں طلب کرلیں

    اسلام آباد(محمداویس)پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بجلی کے 300بڑے ڈیفالٹرز کی فہرستیں طلب کرلیں ، صارفین سے اووربلنگ کرنے والے جن حکام کے خلاف ایکشن ہواان کی فہرست کمیٹی نے طلب کرلی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین کمیٹی جنید اکبر نے بغیر تیاری آنے پر وزارت خزانہ کے حکام پر شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ مجھے مجبور نہ کریں کہ میٹنگ سے کسی کو نکالوں،جو یہاں آئے، تیاری کے ساتھ آیا کرے۔حکومتی اتحادی خالد حسین مگسی نے کہاکہ بلوچستان میں شاہراؤں پر بی ایل اے والے گھو م رہے ہیں وزیر سے بھی ہتھیارلے کر چھوڑاگیاہے وہاں ریکوری ناممکن ہے۔پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس میںبورڈ آف انویسٹمنٹ سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیاگیا۔

    آڈٹ حکام نے بتایاکہ مالی سال2021-22 کے دوران5.5 ملین کی مختلف سروسز بغیر کمپٹیشن حاصل کی گئیں جو خلاف ضابطہ ہیں،اسٹیبلشمنٹ آف پی ایم یو آن سی پیک آئی سی ڈی پی انتظامیہ نے اخراجات کئے، چیئرمین کمیٹی نے سوال کیاکہ کیا فنانس پیپرا رولز معطل کرسکتا ہے؟ تین چار سال آپ نے کیا کیا؟حکام وزارت خزانہ نے کہاکہ یہ معاملہ ہمیں ریفر کیا جائے، جس پرچیئرمین پی اے سی وزارت خزانہ حکام پر برہم ہوگئے اور کہاکہ آپ یہاں چائے پینے آئی تھیں؟ آپ کو پتہ تھا کہ یہ آڈٹ پیرا آنا تھا،آپ کی تیاری نہیں تھی تو یہاں بیٹھی کیوں تھیں،مجھے مجبور نہ کریں کہ میٹنگ سے کسی کو نکالوں،جو یہاں آئے، تیاری کے ساتھ آیا کرے،کمیٹی نے معاملہ حل کرنے کے لئے 15 دن کا وقت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ڈی اے سی میں ذمہ داری کا تعین کرکے کمیٹی کو بتایا جائے۔

    اجلاس میں ہوٹل سروسز بغیر کمپٹیشن کے ہائیر کرنے کا معاملہ آیاجس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ آئندہ پری کوالیفیکیشن بھی کرائی جائے اور کمپٹیشن بھی اور معاملہ نمٹا دیا۔پی اے سی اجلاس میں پاور ڈویژن کی گرانٹس کا جائزہ لیاگیا۔آڈٹ حکام نے بتایاکہ 2.7 بلین کے فنڈز لیپس ہوئے جو گرانٹ کا 13.7 فیصد بنتا ہے، شاہدہ اختر علی نے کہاکہ سپلیمنٹری گرانٹ اوریجنل گرانٹ سے زیادہ ہے،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ایک طرف پیسے نہیں ہوتے دوسری طرف اربوں روپے سرینڈر ہوتے ہیں، سیکرٹری پاور نے کہاکہ یہ ڈویژن کی غلطی ہے۔ثنا اللہ خان مستی خیل نے کہاکہ دھابیجی ملک کا بہت بڑا منصوبہ ہے، فوری طور پر ذمہ داری کا تعین کیا جائے، وقت پر منصوبے مکمل نہیں ہورہے تو کون ذمہ دار ہے،سسٹم فیل ہو چکا ہے، ڈلیور نہیں کر رہا، ہمارا دل دکھتا ہے، ہمیں رونا آتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ نیلم جہلم کا منصوبہ مکمل ہوا لیکن رائٹ آف وے کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔

    کمیٹی میں انکشاف ہواکہ 9 بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ڈیفالٹرز سے سینکڑوں ارب کی ریکوری نہ کراسکیں، کمیٹی میں ڈیفالٹرز سے 877 ارب کی ریکوری نہ کرانے سے متعلق آڈٹ اعتراض زیر غور آیا۔ سیکرٹری پاور نے کہاکہ 162 ارب کے ریکوری کے ڈاکیومنٹ جمع کرا دیئے ہیں،کمیٹی میں کیسکو میں ڈیفالٹرز سے 603 ارب روپے وصول نہ ہونے کا انکشاف ہوا۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ اس میں کیسکو کی بڑی رقم ہے، حکام نے بتایا کہ کیسکو میں 27 ہزار ٹیوب ویل ہیں، آج تک انہوں نے پیسے نہیں دیئے،سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ٹاپ 300 رننگ ڈیفالٹرز کی لسٹ فراہم کریں۔خالد حسین مگسی نے کہاکہ بلوچستان میں روڈ پر بی ایل اے والے گھوم رہے ہیں، ریکوری ناممکن ہے، منسٹر کے ہتھیار لے کر اس کو چھوڑ دیا گیا، کمیٹی نے ٹاپ 300 ڈیفالٹرز کی لسٹ طلب کرلی ۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ایک کھمبے کے چھ ہزار چارج کئے جاتے ہیں، خیبرپختونخوا میں یہ کھمبے نہیں لگا سکتے، ہم خود لگاتے ہیں، اس کا بھی آڈٹ کر لیں کہ پری کوالیفیکیشن ہوتی ہے یا نہیں،سیکرٹری پاور ڈویزن نے بتایاکہ بل پر ٹیکس کو کم کرنے کے لئے کام ہو رہا ہے،حیسکو، سیپکو اور پیسکو کی نجکاری کے لئے لکھ دیا ہے، ہم ریکوری میں بہتری دکھائیں گے،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ہر مہینے ہمیں بتایا جائے کہ ریکوری کتنی ہوئی ہے،یہ بھی بتایا جائے کہ کتنے افسران کے خلاف ایکشن لیا۔

    ثنا اللہ خان مستی خیل نے کہاکہ25 روپے پی ٹی وی کی فیس لیتے ہیں، پی ٹی وی دیکھتا ہی کوئی نہیں ہے۔501 ارب کے نادہندگان سے الیکٹریکل ایکوئپمنٹ نہ ہٹانے اور ریکوری نہ کرنے سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیاگیا۔جنید انوار چوہدری نے کہاکہ 118 خط ہم نے ان کو لکھے ہیں، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اس پر بھی نوٹس لیں کہ 118 خط لکھ کر بھی یہ چیزیں ہو رہی ہیں، سید حسین طارق نے کہاکہ یہ اپنے آپ کو کتنی فری بجلی دیتے ہیں؟جنید اکبر خان نے کہاکہ مفت بجلی یہ صرف خود نہیں لیتے، رشتہ داروں کو بھی دیتے ہیں، جو ریٹائر ہوں وہ بھی مفت بجلی لیتے ہیں، سیکرٹری توانائی نے کہاکہ مفت یونٹس حکومت نے ختم کر دیئے ہیں،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ڈسکوز کے اہلکار چوری کریں تو ان کو کون پکڑتا ہے؟ سیکرٹری پاور نے بتایاکہ ڈسکوز نے ایک سال میں 590 ارب کے نقصانات کئے ہیں۔اجلاس میں غیر مجاز طور پر اضافی لوڈ استعمال کرنے والے صارفین کو فیور دینے سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیاگیا۔آڈٹ حکام نے بتایاکہ 7689 صارفین مقررہ لوڈ سے اضافی لوڈ کا استعمال کر رہے تھے جس سے کمپنیوں پر اضافی بوجھ پڑا، کمیٹی نے معاملے پر انکوائری کرنے کی ہدایت کردی۔پانچ ڈسکوز میں غبن کی وجہ سے1.5 ارب روپے کے نقصان سے متعلق آڈٹ اعتراض زیر بحث آیا۔

    ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 کیسز، چھ انکوائریاں رجسٹرڈ ہوئی تھیں، حیدر آباد سرکل میں چار انکوائریاں اور ایک کیس ہے،16 ملین کی ریکوری ہو چکی ہے، 9 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں، ان تمام کیسز میں 33 لوگ گرفتار ہوئے ہیں، چیئرمین کمیٹی نے اب تک کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرانے کی ہدایت کردی۔کمیٹی میں اووربلنگ کے 21 ارب سے زائد روپے صارفین کو واپس ری فنڈ کئے جانے سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا۔آڈٹ حکام نے بتایاکہ میٹر ریڈنگ عملے کی غفلت عیاں ہوتی ہے لیکن ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی،سیکرٹری پاور نے بتایاکہ لوگوں کو اووربلنگ کی گئی بعد میں پیسے واپس کئے گئے،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ جن کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے ان کی فہرست کمیٹی کو فراہم کریں، حنا ربانی کھر نے کہاکہ پاور سیکٹر کے ہاتھوں معیشت بھی بیٹھ گئی، گھر بھی بیٹھ گئے ہیں۔

    کراچی کے صارفین کے لیے بجلی سستی ہونے کا امکان

    وزارت داخلہ کو ملی ضمنی گرانٹ منظوری کے بغیر دی گئی

    سندھ حکومت کی جنوبی کوریا کو صنعتیں لگانے کی پیشکش

    مولانا فضل الرحمان کا اپوزیشن الائنس میں باضابطہ شمولیت سے انکار

    بلوچستان کے طلبا کیلیے یو اے ای کا اسکالرشپ پروگرام کااعلان

  • وزارت داخلہ کو ملی ضمنی گرانٹ منظوری کے بغیر دی گئی

    وزارت داخلہ کو ملی ضمنی گرانٹ منظوری کے بغیر دی گئی

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں وزارت داخلہ کو دی جانے والی ضمنی گرانٹ کی قومی اسمبلی سے منظوری نہ لینے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت پی اے سی اجلاس میں وزارت داخلہ کی آڈٹ رپورٹ 24-2023 زیر غور آئی۔وزارت داخلہ کے اکاؤنٹس کے جائزے کے دوران پی اے سی وزارت خزانہ کی نمائندے کے جواب سے غیر مطمئن نظر آئے جس پر پی اے سی نے فوری طور پر سیکرٹری خزانہ کو طلب کر لیا۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزارت داخلہ کی 3 ارب گرانٹ لیپس ہونے پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔ نوید قمر نے کہا کہ اگر رقم کی ضرورت نہیں ہوتی تو قومی اسمبلی کا وقت کیوں ضائع کرتے ہیں۔

    اجلاس میں گن اینڈ کنٹری کلب کی طرف سے بغیر لائسنس کے اسلحہ اور گولہ بارود رکھنے کا آڈٹ پیرا بھی زیر غور آیا۔سید حسین طارق نے کہا کہ ایک حکومتی ادارہ بغیر لائسنس کیسے اسلحہ خرید رہا ہے، بغیر لائسنس کے انہوں نے ہتھیار خرید کر رکھے ہوئے ہیں۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ یہ کلب تو وزارت بین الصوبائی رابطہ کے ماتحت آنے کو تیار ہی نہیں تھا، اس معاملے پر ایک ماہ میں انکوائری مکمل کرکے رپورٹ جمع کرائیں۔وزارت بین الصوبائی رابطہ سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ بھی لیا گیا۔

    آڈٹ بریف میں بتایا گیا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے غیر مجاز طور پر میسرز اسپورٹس ان پاکستان کو ایک کروڑ 38 لاکھ روپے گرانٹ کی پیشگی رقم دی۔سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ نے کہا کہ ہم رقم بھی واپس لیں گے اور ایکشن بھی لیں گے۔ چیئرمین کمیٹی ن ےکہا کہ 15 دن میں ریکوری کریں اور کمیٹی کو بتائیں۔

    سندھ حکومت کی جنوبی کوریا کو صنعتیں لگانے کی پیشکش

    مولانا فضل الرحمان کا اپوزیشن الائنس میں باضابطہ شمولیت سے انکار

    بلوچستان کے طلبا کیلیے یو اے ای کا اسکالرشپ پروگرام کااعلان

    کراچی سمیت متعدد ایئر پورٹس پر سیکیورٹی کے جدید آلات نصب

    بھارت میں عورتیں غیر محفوظ،بس کے اندرلڑکی سے زیادتی

  • سندھ کی جیلوں میں 2ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

    سندھ کی جیلوں میں 2ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

    سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں سندھ کی جیلوں میں قیدیوں کو کھانے، ادویات، کپڑوں اور فرنیچر کی فراہمی کے ٹھیکوں میں 2 ارب 45 کروڑ 61 لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں اور فنڈز کے غلط استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سندھ کی مختلف جیلوں میں قیدیوں کو کھانے اور ادویات کی فراہمی سمیت دیگر اشیا کی خریداری کے لئے ٹھیکوں میں 2 ارب 45 کروڑ سے زائد کی بے ضابطگیوں کی سیکریٹری داخلہ سندھ کو تحقیقات کا حکم دے کر ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے۔پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں سندھ اسمبلی کی کمیٹی روم میں ہوا۔اجلاس میں کمیٹی اراکین خرم کریم سومرو، مخدوم فخرالزمان سمیت آئی جی جیلز قاضی نظیر احمد اور مختلف جیلوں کے جیل سپرنٹنڈنٹس نے شرکت کی۔

    اجلاس میں محکمہ جیل خانہ جات کی سال 2019 اور سال 2020 کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینٹرل جیل کراچی سمیت دیگر جیلوں میں قیدیوں کو کھانے،ادویات، کپڑوں اور فرنیچر کی فراہمی کے ٹھیکوں میں 2 ارب 45 کروڑ 61 لاکھ روپے بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا جس پر پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے آئی جی جیل سے استفسار کیا کہ قیدیوں کو کھانے اور دیگر اشیا کی فراہمی کے لئے اربوں روپے کے ٹینڈرز کن ٹھیکداروں کو دئے گئے اوراس متعلق ریکارڈ فراہم کریں اور بتایا جائے کے قیدیوں کو فراہم کئے جانے والے تین وقت کے کھانے کا معیار کیا ہے اور معیار کس طرح چیک کیا جاتا ہے۔

    جس پر آئی جی جیل خانہ جات قاضی نظیر احمد نے پی اے سی کو بتایا کہ سندھ کی تمام جیلوں میں قیدیوں کو تین وقت کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے اور کھانے کا معیار میڈیکل افسران اور ججز بھی آکر چیک کرتے ہیں اور قیدیوں کو کھانے کی فراہمی سمیت ادویات فرنیچر اور کپڑوں اور دیگر اشیا کی خریداری میں 2 ارب 45 کروڑ خرچ کئے گئے جس کا باضابطہ ٹینڈر جاری کیا گیا تھا تاہم جیل حکام پی اے سی اور آڈٹ کو 2 ارب 45 کروڑ سے زائد قیدیوں کو کھانے کی فراہمی سمیت دیگر اشیا کی خریداری کے متعلق مطمئن نہیں کر سکے۔

    آڈٹ پیراز کے جائزے کے دوران جیلوں میں ادویات کی خریداری میں 3 کروڑ 70 لاکھ روپے، یونیفارم کی خریداری میں 3 کروڑ 45 لاکھ روپے، قیدیوں کے فرنیچر پر 10 لاکھ 27ہزار روپے خرچ ہونے کا انکشاف سامنے آیا جبکے جیلوں میں مشینری اور پلانٹ کی خریداری کی مد میں 6 کروڑ 18لاکھ روپے کپڑوں کی خریداری پر 29لاکھ روپے خرچہ ظاہر کیا گیا جس پر ڈی جی آڈٹ نے سندھ کی جیلوں میں قیدیوں کو کھانے کی فراہمی پر 2 ارب 45 کروڑ روپے خرچ ہونے پر ڈی جی آڈٹ نے اعتراض اٹھایا۔

    پی اے سی نے سندھ کے سیکریٹری داخلہ کو قیدیوں کے کھانے سمیت دیگر اشیا کی خریداری کی مد میں 2 ارب 45 کروڑ سے زائد کی رقم خرچ کرنے اور فنڈز کے غلط استعمال کے معاملے کی تحقیقات کرکے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ پی اے سی نے جیل حکام کو سینٹرل جیل کراچی سمیت دیگر اضلاع کے جیلوں میں قیدیوں کے کھانے کے معیار کی چیکنگ کے لئے فوڈ اتھارٹی کے افسران کو مقرر کرنے کی ہدایت کی۔

    اجلاس میں ملیر جیل حکام 80 لاکھ روپے خرچ کرنے کا آڈٹ ریکارڈ فراہم نہیں کرسکے۔ پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے پوچھا کہ ملیر جیل حکام نے 80 لاکھ روپے کہاں خرچ کئے جس پر ملیر جیل حکام نے پی اے سی کو بتایا کے ملیر جیل کی مینٹیننس، پیٹرول پر 80 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں جس پر پی اے سی نے ملیر جیل حکام کو 10 دنوں میں 80لاکھ روپے کے خرچوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

    اجلاس میں کمیٹی کے رکن خرم کریم سومرو نے جیل حکام سے استفسار کیا کہ جیلوں میں اصلاحات کے لئے اربوں روپے بجٹ فراہم ہورہا ہے تو ملیر جیل کی کھڑکی سے قیدی کیسے فرار ہوا جس پر جیل حکام قیدی فرار ہونے پر پی اے سی کو مطمئن جواب نہ دے سکے۔ اجلاس میں پی اے سی نے سندھ بھر کے جیلوں کی انٹرنل آڈٹ کرانے کی ہدایت کردی۔

    سوزوکی نے آلٹو کی قیمت ایک بار پھر بڑھا دی

    وی پی این کو قانونی بنانے کے لیے لائسنس سروس شروع

    فرانس میں روسی قونصل خانے پر حملہ

  • سندھ کے تعلیمی بورڈز میں کرپشن پر اسپیشل آڈٹ کرانے کا حکم

    سندھ کے تعلیمی بورڈز میں کرپشن پر اسپیشل آڈٹ کرانے کا حکم

    پی اے سی نے سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں کرپشن اور دیگر معاملات پر اسپیشل آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے صوبے بھر کے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سندھ بھر کے تمام ساتوں تعلیمی بورڈز میں مالی بے ضابطگیوں، مارکس کے طریقہ کار سمیت مالی اخراجات کے اسپیشل آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا ہے۔پی اے سی نے ڈی جی آڈٹ کو سال 2022ء سے سال 2024ء تک تعلیمی بورڈز کا 3سال کا اسپیشل آڈٹ کرکے 4 ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے جب کہ پی اے سی نے محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو تعلیمی بورڈز کے اسپیشل آڈٹ کے لیے ٹی او آرز بنا کر ڈی جی آڈٹ کو ایک ہفتے میں فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

    سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں ہوا، جس میں کمیٹی کے اراکین سعدیہ جاوید، خرم کریم سومرو سمیت سیکرٹری یونیورسٹیز و بورڈز عباس بلوچ، انٹر و میٹرک بورڈ کے چیئرمین شرف علی شاہ سمیت دیگر تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز نے شرکت کی۔اجلاس میں سندھ بھر کے تعلیمی بورڈز کے سال 2016 سے سال 2017ء تک آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے سندھ کے تعلیمی بورڈز میں مالی بے ضابطگیوں پر تشویش اور برہمی کا اظہار کیا اور تعلیمی بورڈز کی کارکردگی کو سوالیہ نشان قرار دے کر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ بھر کے تعلیمی بورڈز کا معیار یہ بن چکا ہے کہ الزام لگ رہے ہیں کہ بورڈز میں پیسے دو اور مارکس لو اگر تعلیمی بورڈز میں پیسے لے کر اے پلس مارکس دیے جائیں گے تو بچے پھر انٹری ٹیسٹ میں فیل ہی ہوں گے۔

    چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے افسران سے مخاطب ہوکر کہا کہ سندھ حکومت نے انٹر تک تعلیم مفت کردی ہے، اس ضمن میں سندھ حکومت تعلیمی بورڈز کو امتحانی فیس کی مد میں سالانہ 2ارب روپے فراہم کر رہی ہے مگر تعلیمی بورڈز کے نتائج میں ہیرا پھیری کی وجہ سے تعلیم کا معیار سوالیہ نشان بن چکا ہی انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان نسل کے مستقبل کا مسئلہ ہے اس لیے ہم تعلیم پر کسی صورت مصلحت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی بورڈز کے مالی معاملات اور کارکردگی کی مانیٹرنگ ہونی چاہیے اور ہم نوجوان نسل کے مستقبل سے کسی کو کھیلنے نہیں دیں گے۔ اگر کورکھ ہل کا اسپیشل آڈٹ ہو سکتا ہے تو پھر تعلیمی بورڈز کا بھی اسپیشل آڈٹ کیا جا سکتا ہے۔

    علی پور چٹھہ قتل کیس کا فیصلہ، مجرم کو 3 بار سزائے موت کا حکم

    مصر میں رہائشی عمارت گرنے سے 10 افراد ہلاک، 8 زخمی

  • پبلک اکاونٹس کمیٹی کے لئے سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا نامزد

    پبلک اکاونٹس کمیٹی کے لئے سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا نامزد

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی نے سربراہ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نامزد کردیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق عمران خان نے حامد رضا کی نامزدگی کیلئے اپوزیشن لیڈر عمرایوب کو ہدایات جاری کردیں،اپوزیشن اراکین زین قریشی، شیر افضل مروت اور حامد رضا نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی جس میں پارلیمانی کمیٹیوں کی تشکیل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،اپوزیشن نے چئیرمین پی اے سی کے لیے حامد رضا کا نام اسپیکر کو تجویز کر دیا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ چیئرمین پی اے سی کا انتخاب قواعد کے مطابق ہو گا، اسپیکر کا چئیرمین پی اے سی کی نامزدگی میں کوئی اختیار نہیں، یہ فیصلہ اپوزیشن نے کرنا ہے، وہ جسے مرضی چاہیں چئیرمین نامزد کریں، میں تو پارلیمانی کمیٹیوں کو معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتا ہوں-

    واضح رہے کہ اس سے قبل بانی پی ٹی آئی نے شیرافضل مروت کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے لئے نامزد کیاتھا-

    دوسری جانب ترجمان قومی اسمبلی نے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے حوالے اسپیکر قومی اسمبلی سے منسوب میڈیا میں چلنے والی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ میڈیا پر اسپیکرقومی اسمبلی سے منسوب چیئرمین پی اے سی کی نامزدگی کے حوالے سے چلنے والی خبر جس میں کہا گیا ہے کہ ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت یا کسی بھی اور معزز ممبر قومی اسمبلی کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نہیں بنایا جائے گا من گھڑت اور بے بنیاد ہے،قائمہ کمیٹیوں کے حوالے سے تمام پارلیمانی پارٹیوں سے مشاورت جاری ہے، قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے قاعدہ نمبر 215کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی کو قائمہ کمیٹیوں کے انتخاب، کمیٹی ارکان اور کمیٹی چیئرمین مقرر کرنے کا اختیار ہے۔تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ قومی اسمبلی کی روایت ہے کہ قائمہ کمیٹیاں اور ان کے چیئرمین تمام پارلیمانی جماعتوں کی مشاورت اور رضامندی سے تشکیل دی جاتی ہیں اور اسپیکر قومی اسمبلی اس اتفاق رائے کو قائم کرنے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

  • تین ارب کے قرضوں کا قصہ پی اے سی نے نمٹا دیا

    تین ارب کے قرضوں کا قصہ پی اے سی نے نمٹا دیا

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں 628 افراد کو 3 ارب ڈالر بلا سود قرض دینے کا معاملہ بغیر کسی کارروائی کے نمٹا دیا ہے جبکہ چیئرمین نورعالم خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

    وزارت خزانہ اوراسٹیٹ بینک کی درخواست پر اجلاس ان کیمرہ کر دیا گیا، اور کورونا کے دوران 2020 میں با اثر 620 صنعتکاروں اور بزنس مینوں کو دیئے گئے قرضوں پر بریفنگ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق حکام نے قرضہ دینے والے بینکوں اور قرضہ لینے والے افراد کے نام فراہم نہیں کیے، اور صرف کمپنیوں کے نام ظاہر کیے۔ چیئرمین پی اے سی نے معاملہ نیب اور ایف آئی اے کے سپرد کرنے کی تجویز دی، تاہم دیگر ارکان نے اس کی مخالفت کی، اور مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ نیب اور ایف آئی اے کے حوالے کرنے سے صنعتی شعبے پر منفی اثر پڑے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب نے اسٹیٹ آف پاکستان میں 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کردیئے،اسحاق ڈار
    سرکاری ملازمین کا دوسرے روز بھی مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج
    پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر میں امن و امان بحال کیا،وزیراعلیٰ سندھ
    چیئرمین پی ٹی آئی جیسا ڈکٹیٹر ملکی تاریخ میں پیدا نہیں ہوا، شرجیل میمن
    موسم گرما میں حاملہ خواتین کے لئے قدرتی مشروبات
    سویڈن میں اسلام دشمن سرگرمی پر جنرل ہسپتال میں ہیلتھ پروفیشنلز کی احتجاجی ریلی
    کویت کا سویڈش زبان میں قرآن کریم کے ایک لاکھ نسخے شائع کرنے کا اعلان

    ارکان کی مخالفت کے بعد کمیٹی نے 628 افرد کے بلاسود قرض کے معاملے کو نمٹا دیا تاہم واضح رہے کہ کورونا کے دوران ٹرف اسکیم کے تحت بھاری قرضے جاری کیئے گئے تھے، کمرشل بینکوں نےعارضی اکنامک ری فنانس فیسیلٹی کے تحت قرضے دیئے، جب کہ پی اے سی نے قرضوں سے فائدہ اٹھانے والےافراد کی مکمل فہرست طلب کی تھی۔

  • سرکاری ادارے آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کیوں نہیں کروا رہے؟پبلک اکاؤنٹس کمیٹی

    سرکاری ادارے آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کیوں نہیں کروا رہے؟پبلک اکاؤنٹس کمیٹی

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا،چیئرمین نورعالم خان نے اجلاس کی صدارت کی،

    چیئرمین پی اے سی نے اجلاس میں کہا کہ کچھ سرکاری ادارے آڈیٹر جنرل سے آڈٹ نہیں کروا رہے ، صحت کے ذیلی ادارے کالج آف فیزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان اور پاکستان نرسنگ کونسل کا آڈٹ کیوں نہیں ہو رہا ، وفاقی سیکریٹری صحت نے کہا کہ سی پی ایس پی خودمختار ریگولیٹری ادارہ ہے ،ادارہ ہمارے دائرہ کار میں نہیں آتا ہمارا ادارے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے سی پی ایس پی نے آڈیٹر جنرل سے آڈٹ سے استثنیٰ کیلئے حکم امتناع لے رکھا ہے وزارت صحت انکو سالانہ کوئی امداد نہیں دیتی نرسنگ کونسل ختم ہو چکی ہے اس ادارے کو حکومت کوئی فنڈ نہیں دیتی تھی نہ اس پر کوئی کنٹرول تھا اب جو نئی نرسنگ کونسل قائم کی جارہی ہے اس میں حکومت کا زیادہ کنٹرول ہو گا

    آڈیٹر جنرل اجمل گوندل نے اجلاس میں کہا کہ یہ دونوں ادارے حکومت کے آرڈینس اور چارٹرڈ کے تحت قائم کیے گئے اس کے تحت انکا آڈٹ آڈیٹر جنرل کر سکتا ہے

    قبل ازیں پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اوگرا، نیپرا اور پی ٹی سی ایل سمیت 8 اداروں کے مکمل کا آڈٹ کرنیکا حکم دیدیا جبکہ نیپرا کا پرفارمنس آڈٹ سب سے پہلے کرنیکی ہدایت بھی کردی۔اجلاس میں وزارت آئی ٹی ،کابینہ ڈویژن اور وزارت صنعت و پیداوار کے 21-2020 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔چیئرمین پی اے سی نے کہا وزارت آئی ٹی اورپی ٹی سی ایل آڈٹ کرانے سے گریزاں ہیں ،آئین کے تحت ہر ادارہ آڈٹ کرانے کا پابند ہے، مہربانی کریں ملک کو چلنے دیں، پی ٹی سی ایل میں پاکستان کا شیئر 62 فیصد اور اتصالات 800 ملین ڈالر کی نا دہندہ ہے۔سیکرٹری آئی ٹی نے کہا آڈٹ کے حوالے سے آئین بڑا واضح ہے، پی ٹی سی ایل نے سندھ ہائیکورٹ سے ریلیف لیا، نیپرا میں کارکردگی آڈٹ میں مسائل ہیں۔چیئرمین نیپرا نے کہا آڈیٹر جنرل آفس کے پاس آڈٹ کی صلاحیت بھی ہونی چاہیئے اس پر نور عالم خان نے برہمی کا اظہار کی

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

  • افسران کو ایک سال میں 9 ارب کے قریب بجلی مفت دی جاتی ہے،پاور ڈویژن حکام

    افسران کو ایک سال میں 9 ارب کے قریب بجلی مفت دی جاتی ہے،پاور ڈویژن حکام

    اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نےوزیراعظم کو گریڈ 16 سے 22 تک کے افسران کو مفت بجلی کی فراہمی ختم کرنے کی سفارش کردی۔

    باغی ٹی وی : پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا جس میں وزارت توانائی سے متعلق سال 2021-22 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا کمیٹی نے پاورڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے دی گئی گرانٹ میں سے ایک ارب 48 کروڑ لیپس ہونے پر تشویش کا اظہار بھی کیا اور حکام کے جواب پر عدم اطمینان کا بھی اظہار کیا۔

    لکی مروت: دہشتگردوں کی فائرنگ، ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    کمیٹی نے گرانٹ لیپس ہونے کے معاملے سمیت دیگر آڈٹ اعتراضات کی انکوائری کرنے کی ہدایت کردی جب کہ وزارت توانائی کو دوبارہ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ ہم نے بجلی کے مفت یونٹس ختم کرنے کی ہداہت کی تھی،کمیٹی کی ہدایت پر عملدرآمد کا جواب نہیں آیا، پاور ڈویژن کے نقصانات کتنے ہیں؟ اس پر سیکرٹری پاور ڈویژن نے جواب دیا کہ اس سال نقصانات 590 ارب تک ہوں گے۔

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    پاور ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ افسران کو ایک سال میں 9 ارب کے قریب بجلی مفت دی جاتی ہے جس پر نور عالم خان نے کہا کہ ایم این اے اور پارلیمنٹیرین نہ فری بجلی لگاتے ہیں نہ فری گیس لگاتے ہیں۔