باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہو رمیں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس کاروائیاں جاری ہیں
اغواء برائے تاوان سیل سی آئی اے نے نقب زن گینگ کے 5 ملزمان گرفتار کر لیے،گرفتار ملزمان میں سرغنہ اویس،اسد، زین،اویس اور ابراہیم شامل ہیں،ملزمان کے قبضہ سے 32 عدد گھوٹ تار تانبا،32 عدد تار کواںٔل تانبا،1 عدد پرنٹر مشین کل مالیت 33 لاکھ روپے برآمد کر لئے گئے، ملزمان لاہور کے پوش علاقوں،خالی فیکٹریوں کی ریکی کرتے،موقع دیکھ کر نقب زنی کے واردات کرے کے فرار ہو جاتے،ملزمان سابقہ ریکارڈ یافتہ،دوران تفتیش نقب زنی کی متعدد وارداتوں کا انکشاف بھی کیا،ڈی آئی جی کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، ڈی آئی جی کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کی طرف سے ڈی ایس پی KR اور اس کی ٹیم کو شاباش اور تعریفی سرٹیفکیٹ دیئے گئے،
دوسری جانب پاکستان ریلویز پولیس کی فلاحی کارروائیوں کا سلسلہ جاری، پب جی گیم کا شکار 12 سالہ معصوم بچے کو اس کی والدہ کے حوالے کر دیا گیا ، والد نے مزید بتایا کہ جواد پب جی گیم کھیلنے کا شوقین تھا اور پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتا تھا،گھر والوں کے ڈانٹنے پر ناراض ہوکر بذریعہ ٹرین راولپنڈی سے لاہور آگیا تھاریلوے اسٹیشن لاہور پر ریلویز پولیس نے بچے کو اپنی حفاظتی تحویل میں لیکر اس کے ورثاء سے رابطہ کیا،جواد کی والدہ نے کمسن بچہ بحفاظت واپس لوٹانے پر ریلویز پولیس کا شکریہ ادا کیا،ریلویز پولیس کی بروقت کارروائی نے کمسن بچے کو درپیش معاشرتی خطرات سے بچالیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سے بھارت گئی خاتون سیما حیدر کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ سے ہفتہ وار بریفنگ میں سوال کیا گیا ہے
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سے بھارت جانے والی خاتون سیما حیدر پرپاکستان کو ابھی تک قونصلر رسائی نہیں دی گئی ابھی تک سیما کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئی تا حال ہم سیما کی قومیت کی تصدیق نہیں کرسکے، ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت سے پاکستان آنے والی خاتون کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہ انجو قانونی ویزے پر آئی بھارتی ہائی کمیشن نے ابھی تک انجو کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا
دوسری جانب سیما سے بھارت میں تحقیقات تیسری بار جاری ہیں اور اسکے لئے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں، دو بار تحقیقات کے بعد تیسری بار اب پھر سیما تحقیقاتی اداروں کی تحویل میں ہے، تحقیقاتی اداروں کو ابھی تک سیما اور سچن کی محبت پر یقین نہیں آیا کیونکہ وہ دونوںجس مکان میں رہ رہے تھے اس مکان کے مالک نے کچھ اور ہی کہانی سنائی ہے، سیما تحقیقاتی ٹیموں کو سچن سے محبت اور پیار کا دعویٰ مسلسل کر رہی ہے، بھارتی تحقیقاتی ایجنسیاں یہ سوچ رہی ہیں کہ سیما ایسا کیوں کر رہی ، اسکے پیچھے کیا مقصد ہے، سیما اور سچن 2019 سے رابطے میں تھے، سیما سچن سے جس آئی ڈی پر گیم کھیلتی تھی اس آئی ڈی کا نام مریم خان تھا، مریم خان نام سامنے آنے پر بھی تحقیقاتی ادارے پھر متحرک ہو گئے ہیں، جب تک سیما کو کلین چٹ نہیں ملتی وہ مشکل میں ہے اور اس سے تحقیقات جاری رہے گی،
سیما اور سچن کے مالک مکان نے تحقیقاتی ایجنسیوں کو بتایا کہ سیما اور سچن آپس میں لڑتے رہتے تھے، سیما بیڑی کھاتی ہے، سچن اسکو منع کرتا تھا، ڈیڑھ ماہ تک وہ کرائے پر رہے،ایک دوسرے پر کبھی کبھار تشدد بھی کرتے تھے، سچن نے مالک مکان کو بتایا تھا کہ سیما کو بیڑی کھانے کی عادت ہے،سچن ایک سٹور پر کام کرتا ہے، سیما اسکو بار بار فون کرتی تھی جس کی وجہ سے بھی سچن پریشان ہوتا تھا اور واپس آ کر لڑئی ہوتی تھی، مالک مکان کے بیان کے بعد بھی تحقیقاتی ادارے چوکس ہو گئے،
سندھ کے علاقے خیر پور کی رہائشی ،سیما حیدر نے بھارت میں جیل سے رہائی کے بعد ہندو مذہب قبول کیا،سیما حیدر کی بھارت میں طبیعت خراب ہو گئی ہے، تو دوسری جانب سوشل میڈیا اکاؤنٹ سیما نے پبلک کر دیا ہے،سوشل میڈیا پر سیما کے نام کے کئی جعلی اکاؤنٹس بھی چل رہے ہیں
سیما حیدر جب پاکستان میں تھی تو اس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو پبلک نہیں کیا ہوا تھا اپنے پارٹنر سچن اور سیما آپس میں ہی کھیلتے تھے اور بات چیت کرتے تھے تا ہم اب سیما نے اپنے اکاؤنٹ کو پبلک کیا ہے، سیما کے نام سے کئی جعلی اکاؤنٹ بھی سامنے آئے ہیں جس میں سے ایک کے چار لاکھ سے زائد فالور ہو چکے ہیں، سیما کے گھر اسے دیکھنے اور ملنے والوں کے لئے آنے والوں کی لائن لگی رہتی ہے جس کی وجہ سے سیما کی طبیعت خراب ہو گئی ہے اور اس سے ملاقاتوں کی ہر طرح کی پابندی عائد کر دی گئی ہے،
دوسری جانب قانون نافز کرنیوالے اداروں نے ایک بار پھر سیما کی بھارت آمد پر تحقیقات شروع کر دی ہے، پولیس نے سیما اور اسکے پارٹنر سچن سے پوچھ گچھ کی ہے،پولیس سیما کے موبائل کی بھی تحقیقات کر رہی ہے اور اسکے فرانزک کا انتظار ہے،
دوسری جانب بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹریفک پولیس کنٹرول روم کو ایک کال موصول ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر سیما کو پاکستان واپس نہ بھیجا تو ممبئی حملوں کے طرز پر حملے کئے جائیں گے، جس سے بھارت برباد ہو جائے گا ،کالر کرنے والے نے اردو میں بات کی اور ڈیمانڈ کی کہ سیما کو واپس بھیجا جائے، اگر واپس نہ بھیجا گیا تو پھر ممبئی حملوں کی طرح کی کاروائی ہو گی اور اسکی زمہ دار اترپردیش حکومت ہو گی، حملوں کی دھمکی کی کال کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے،یہ کال 12 جولائی کو آئی ، ابھی تک تحقیقاتی ادارے اس کال کرنے والے کو ٹریس نہیں کر سکے،اس کال کے بعد علاقوں کی سیکورٹی سخت کی گئی ہے، سیما کو ملنے والے افراد پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے
سیما نے بھارت میں اپنی مرضی سے شادی کی
سیما حیدر بھارت میں ہے، سیما اور سچن کے مابین 2019 میں پب جی گیم کی وجہ سے رابطہ ہوا سیما اپنے بچوں کو ساتھ لے کر بھارت پہنچی،جیل گئی مگر پھر رہا ہو کر سچن سے شادی کر لی،سیما نے کراچی کے غلام حیدر سے پہلے شادی کی تھی ، اسکا پاکستانی شوہر دبئی میں کام کرتا ہے، سیما نے بھارت جانے کے لئے 12 لاکھ کی زمین بیچی،سیما کا کہنا ہے کہ وہ شادی سے پہلے کسی اور سے محبت کرتی تھی، غلام حیدر سے زبردستی اسکی شادی کروا دی گئی، اب سیما نے بھارت میں اپنی مرضی سے شادی کی ہے،سیما کے والدین کی موت ہو چکی ہے اسکا ایک بھائی ہے،
پب جی پارٹنر کے لئے سیما نے ملک چھوڑا،زمین بیچ کر ،شوہر کو دھوکہ دے کر ،بچوں سمیت بھارت پہنچی
غیر قانون مقیم ہونے کی وجہ سے گرفتاری ہوئی، ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،سیما نے بچوں کے نام بھی بدل لئے
پارٹنر سچن نے سیما کو بچوں سمیت قبول کر لیا ہے، مودی سے اپیل کی ہے کہ بھارتی شہریت دے دیں
سیما کی پہلی شادی 2014 میں ہوئی تھی سیما حیدر کے کل 4 بچے ہیں۔ شوہر شارجہ، دبئی میں ملازمت کرتا ہے
سیما کو کسی پاکستانی ایجنسی نے تو بھارت نہیں بھیجا، سیما کو بھارت آنے میں کس نے مدد کی؟بھارتی ایجنسیاں تحقیقات کر رہی ہیں،
سندھ کے علاقے خیر پور کی رہائشی ،سیما حیدر نے بھارت میں جیل سے رہائی کا پروانہ ملنے کے بعد ہندو مذہب قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے بچوں کے نام بھی ہندوؤں کے ناموں پر رکھ دیئے،
سیما حیدر غیر قانونی طور پر بھارت میں گئی تھی، تا ہم اپنے پب جی پارٹنر کے ساتھ شادی کے لئے وکیل سے رابطہ کرنے پر نہ صرف سیما بلکہ سچن اور اسکے والد بھی گرفتار ہو گئے، ضمانت پر سب کو رہائی مل چکی ہے،سیما سچن کے گھر میں مقیم ہے اور اسکا کہنا ہے کہ اس نے ہندو مذہب قبول کیا ہے،پب جی پارٹنر کو اپنانے کے لئے سیما نے ملک چھوڑنے کے بعد مذہب بھی بدل لیا، سیما،نے اپنا نام نہیں بدلا تا ہم بچوں کے نام بدل کر راج، پرینکا، پری اورمنی رکھ دیئے،
سیما سچن کے گھر میں ہی مقیم ہیں،سیما نے بھارت جانے کے لئے 12 لاکھ کی زمین فروخت کی تھی،بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے سیما کے پب جی پارٹنر سچن کا کہنا ہے کہ اسکے خاندان نے سیما کو بچوں سمیت قبول کر لیا ہے، میں بھارتی وزیراعظم مودی سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ سیما کو بھارتی شہریت دے دیںَ ،
واضح رہے کہ سیما نیپال کے راستے بھارت پہنچی تھی،سیما کی پہلی شادی 2014 میں ہوئی تھی سیما حیدر کے کل 4 بچے ہیں۔ شوہر شارجہ، دبئی میں ملازمت کرتا ہے، سیما بھارت کیوں آئی، اس حوالہ سے بھارتی ایجنسیاں تحقیقات کر رہی ہیں، یہ بھی تحقیقات کی جا رہی ہے کہ سیما کو کسی پاکستانی ایجنسی نے تو بھارت نہیں بھیجا، سیما کو بھارت آنے میں کس نے مدد کی؟ سرحد پار کرتے وقت سیما کیسے سیکورٹی کی نظروں سے بچ گئی؟
پولیس حکام کے مطابق تحقیقا ت جاری ہیں کہ نیپال کی ٹریول ایجنسی کی مدد سے سیما بھارت پہنچی، سیما اور سچن جس ہوٹل میں ٹھہرے وہاں بھی تحقیقات کی گئی ہیں، ہوٹل مالکان کو تحقیقات کے لئے طلب کیا گیا ہے، پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ سیما کے لئے پاکستان سے کسی بھی نے رابطہ نہیں کیا، اگر کوئی رابطہ کرے گا تو پھر دیکھیں گے، سیما سے موبائل فون قبضے میں لے لئے گئے ہیں، فون اور سم میں سے کافی ڈیٹا سیما نے ضائع کر دیا تھا جس کو ریکور کیا جا رہا ہے
پب جی کا کمال،کراچی کی "سیما”چار بچوں کے ہمراہ پارٹنر سے ملنے بھارت پہنچ گئی
پولیس نے خاتون کو گرفتار کر لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ، میڈیا رپورٹس کے مطابق گوتم بدھ نگر کی پولیس نے پاکستانی خاتون سیما کو گرفتار کیا ہے جو اپنے چار بچوں کے ہمراہ رہائش پزیر تھی اور ایک ماہ قبل نیپال کے راستے بھارت میں داخل ہوئی تھی اور غیر قانونی طور پر گریٹر نوئیڈا میں مقیم تھی، خاتون کی گرفتاری کے حوالہ سے پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جس شخص نے خاتون کو ٹھہرایا ہوا تھا اسکو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، پاکستانی خاتون پب جی پر گیم کھیلتی تھی اور اپنے پارٹنر کوملنے آ گئی، خاتون کا پپ جی پارٹنر کے ساتھ شادی کا پروگرام تھا
خاتون خود شادی شدہ تھی اور اسکے چار بچے ہیں، سیما کراچی کی رہائشی ہے، سیما کے شوہر دبئی میں کام کرتے ہیں اور چار پانچ برسوں بعد گھر آتا ہے،سیما نے بھارت آنے سے قبل اپنا کراچی کا گھر بھی فروخت کر ڈالا،پولیس حکام کے مطابق سیما کی عمر 27 برس ہے جبکہ جس شخص سچن کو وہ ملنے آئی اور ٹھہری ہوئی تھی اسکی عمر 22 برس ہے،دونوں میں دوستی پب جی کھیلتے ہوئے ہوئی، پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد مناسب کاروائی کی جائے گی،سچن کرائے کی دکان میں کام کرتا ہے ،دونوں کی جنوری میں نیپال میں ملاقات ہو چکی تھی،سیما نے سچن کے ساتھ شادی کی ضد کی تو دونوں نے وکیل سے رابطہ کیا اور پھر بات پولیس تک چلی گئی،
طالبان نے ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک اور شوٹنگ گیم پب جی پر پابندی عائد کر دی ہے
خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان ٹیم کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کی اخلاقی پولیسنگ مہم کے ایک حصے کے طور پر افغانستان میں ٹک ٹاک ویڈیو ایپ پر پابندی عائد کی جائے گی انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی سوشل میڈیا ایپلی کیشن نوجوان نسل کو گمراہ کر رہی ہےٹک ٹاک کا مواد اسلامی قوانین کے مطابق نہیں تھا، اس لیے اس پر پابندی لگائی گئی
افغانستان کی کل آبادی کا تقریباً 23 فیصد انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ہے اس پابندی کا فیصلہ کابینہ کے اجلاس کے دوران لیا گیا پچھلے سال اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار طالبان نے کسی ایپ پر پابندی لگائی ہے، طالبان کے ترجمان سمنگانی نے کہا کہ کابینہ نے جنوبی کوریا کے مشہور جنگی میدان پب جی گیم کو روکنے اور افغان ٹیلی ویژن چینلز کو “غیر اخلاقی” مواد نشر کرنے سے روکنے کا بھی فیصلہ کیا ہے
طالبان ترجمان نے مزید کہا کہ انہیں بہت شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ کیسے یہ ایپس لوگوں کا وقت ضائع اور انہیں گمراہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اس سلسلے میں وزارت مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھی حکم دیا جا چکا ہے کہ وہ ان ایپس کو انٹرنیٹ سرورز سے ہٹا دیں اور انہیں افغانستان میں ہر کسی کے لیے ناقابل رسائی بنائیں
اس سے قبل افغانستان کے بے دخل کیے گئے سابق صدر اشرف غنی کی حکومت نے بھی پب جی گیم پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ اس میں ناکام رہے تھے
آئی جی پنجاب نے پب جی گیم پر پابندی کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب کو خط لکھ دیا۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آئی جی کے خط کے حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب وفاقی حکومت سے اس گیم پر پابندی لگانے کی سفارش کر ے گی خط میں پب جی گیم سے ہونے والی قتل وغارات کا بھی ذکر کیا گیا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ پب جی گیم کہ وجہ سے لاہور میں بیٹے نے ماں اور بہن بھائیوں سمیت 4افر اد کو قتل کر دیا شمالی چھاؤنی، جنوبی چھاؤنی اور نواں کوٹ میں پب جی گیم سے ہونے والی ہلاکتیں کا بھی حوالہ دیا گیا خط میں ایف آئی آر کے نمبر بھی لکھے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ کاہنہ میں لیڈی ڈاکٹر اور اس کے تین بچوں کی ہلاکت پر محکمہ پنجاب پولیس نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو ایسی خطرناک وڈیو گیمز پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیاتھا جو نوجوانوں میں تشدد کے رجحانات کو فروغ رہی ہیں اور ان پر پابندی سے نوجوان نسل کو ان کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رہا جاسکے گا جس کے لئے لاہور پولیس نے پب جی گیم پر پابندی کے لیے آئی جی پنجاب سے درخواست کی تھی-
پب جی گیم سے فائرنگ کےبڑھتے ہوئے رجحان کے باعث لاہور کے علاقے کاہنہ میں بیٹے نے اپنی ماں، بھائی اور دو بہنوں کی جان لے لی ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق والدہ اور تین بچوں کے قتل کا معمہ حل ہوچکا ہے، پب جی گیم کا عادی بیٹا ہی قاتل نکلا-
علاوہ ازیں شہری تنویر احمد نے ندیم سرور کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ ،یں درخواست جمع کرائی درخواست گذار نے موقف اپنایا تھا کہ پاکستان میں "پب جی” گیم کے منفی اثرات کی وجہ سے کئی ہلاکتیں ہو چکی ہیں لاہور میں پب جی کے استعمال سے 14 سالہ لڑکے نے ماں بہن اور بھائیوں کو قتل کر دیا ہے-
آن لائن گیم "پب جی” پر پابندی کے لئے لاہور ہائی کوڑت یں درخواست جمع کرا دی گئی-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شہری تنویر احمد نے ندیم سرور کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ ،یں درخواست جمع کرائی درخواست گذار نے موقف اپنایا کہ کہ پاکستان میں "پب جی” گیم کے منفی اثرات کی وجہ سے کئی ہلاکتیں ہو چکی ہیں لاہور میں پب جی کے استعمال سے 14 سالہ لڑکے نے ماں بہن اور بھائیوں کو قتل کر دیا ہے-
درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ پب جی کے استعمال سے نوجوان نسل کی ذہنی صحت اور زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں انڈیا میں آن لائین گیمز کو ریگولیٹ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں آن لائن گیمز کو ریگولیٹ کرنے کے لئے کو قوانین وضع نہیں کئے گئے-
درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ "پب جی ” گیم پر فوری پابندی عائد کی جائے اس درخواست پر پیر کے روز سماعت کا امکان ہے-
دوسری جانب محکمہ پنجاب پولیس نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو ایسی خطرناک وڈیو گیمز پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو نوجوانوں میں تشدد کے رجحانات کو فروغ رہی ہیں اور ان پر پابندی سے نوجوان نسل کو ان کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رہا جاسکے گا۔
پب جی گیم سے فائرنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث لاہور کے علاقے کاہنہ میں بیٹے نے اپنی ماں، بھائی اور دو بہنوں کی جان لے لی ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق والدہ اور تین بچوں کے قتل کا معمہ حل ہوچکا ہے، پب جی گیم کا عادی بیٹا ہی قاتل نکلا۔
لاہور تھانہ کاہنہ کے علاقہ میں والدہ سمیت تین بہن بھائیوں کے قتل کی تفتیش میں تہلکہ خیز انکشافات، بیٹا ہی قاتل نکلا۔ ملزم پب جی (PUBG) گیم کا عادی ہے، جس نے یہ جانتے ہوئے قتل کیا کہ سب گیم کی طرح دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ 1/2 pic.twitter.com/UMJU3LclHj
محکمہ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ’پب جی‘ جیسی گیموں کی وجہ سے فائرنگ کے کئی واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں، اسی لیے محکمہ پولیس نے اس طرح کی گیمز پر پابندی کے لیے حکومت سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پابندی سے متعلق سفارشات دینے کا فیصلہ گزشتہ ہفتے لاہور کے علاقے کاہنہ میں ہونے والے واقعے کے تناظر میں کیا گیا ہے، افسوسناک واقعے میں 14 سالہ لڑکے نے گیم سے بُری طرح سے متاثر ہوکر اپنے خاندان کے چار افراد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، مقتولین میں لڑکے کی ماں اور 3 بہن بھائی شامل تھے، لڑکے کی ماں ناہید مبارک لیڈی ہیلتھ ورکر تھیں۔
لاہور پولیس کا خطرناک گیم (PUBG)پر پابندی لگانے کیلئے صوبائی و وفاقی حکومت سے سفارش کا فیصلہ۔ 2/2 pic.twitter.com/t6qICbMIU0
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے مطابق 18 سالہ علی زین پب جی گیم کا عادی تھا، ملزم نے گھر میں موجود والدہ کے پسٹل سے ماں، بہنوں اور بھائی کو قتل کیا، خونی کھیل کوانجام دینے کے بعد قاتل ٹاسک مکمل ہونے کے نشہ میں گھر کے نچلے حصہ میں آکر چین کی نیند سوگیا اور پولیس تحفظ کی یقین دہانی کے باوجود علی زین منظر سے غائب ہوگیا تھا، اسے مقتولین کی تدفین کے بعد سے حقیقی خالہ نے فیصل آباد کے قریب گاؤں میں چھپا کر رکھا ہوا تھا زین علی کو پب جی کی لت ہوسٹل میں رہنے والے طلبہ سے لگی۔
کاہنہ لاہور میں والدہ اور تین بچوں کے قتل کا معمہ حل, پب جی (PUBG) گیم کا عادی بیٹا ہی قاتل نکلا۔ ملزم نے گھر میں موجود والدہ کے پسٹل سے ماں، بہنوں اور بھائی کو قتل کیا. پنجاب پولیس کا خطرناک گیم (PUBG)پر پابندی لگانے کیلئے صوبائی و وفاقی حکومت سے سفارش کا فیصلہ۔ pic.twitter.com/akudvru59S
ترجمان پولیس نے بتایا کہ علی زین کو پولیس نے ماہمونوالی گاؤں سے تلاش کیا، دوران تفتیش ملزم نے اعتراف کیا کہ پب جی گیم میں بار بار شکست کی وجہ سے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوا، ملزم نے یہ سوچ کر گولیاں چلائیں کہ گیم کی طرح سب دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’پب جی‘ نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے بہت خطرناک گیم ہے کیونکہ اس گیم کو زیادہ کھیلنے والے اس میں دیے گئے اہداف اور ٹاسک کو مکمل کرتے کرتے بہت زیادہ جارح مزاج ہوجاتے ہیں انسپکٹر جنرل پولیس کی طرف سے والدین سے درخواست کرتے ہوئے ترجمان محکمہ پولیس پنجاب کا کہنا تھا والدین اپنے بچوں کی نگرانی کریں اور ان کو کسی بھی منفی سرگرمی میں مشغول ہونے سے روکیں۔
واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب پولیس راو سردار علی احمد خان نے خاندان کو قتل کرنے کے واقعے کا نوٹس لیا ہے اور لاہور پولیس کو کیس کو حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
واضح رہے کہ رواں برس 19 جنوری کو لاہور کے علاقے کاہنہ گجومتہ میں واقع ایک گھر سے خاتون اور اس کے تین بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھی، جاں بحق ہونے والوں میں ماں، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے، چاروں کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔
بعد ازاں انکشاف ہوا کہ واردات میں بچ جانے والا بیٹا ہی اپنے بہن بھائی اور ماں کا قاتل تھا، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے اس سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا اور ملزم نے اعتراف جرم بھی کرلیا۔
واضح رہے کہ آن لائن گیمز سے متعلق یہ اس طرح کا چوتھا واقعہ ہے جب اس طرح کا پہلا واقعہ 2020 میں سامنے آیا تھا تو اس وقت کے کیپیٹل سٹی پولیس چیف ذوالفقار حمید نے لوگوں کی زندگیاں، وقت اور لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل بچانے کے لیے اس طرح کی گیمز پر پابندی کی سفارش کی تھی۔
گزشتہ دو سالوں کے دوران ’پب جی‘ گیم کھیلنے والے تین نوجوان خودکشیاں کر چکے ہیں اور پولیس نے اپنی رپورٹ میں اموات کی وجہ گیم کو قرار دیا تھا۔