Baaghi TV

Tag: پتھر

  • 12 ہزار سال پرانے  پہیوں کی شکل کے پتھر دریافت

    12 ہزار سال پرانے پہیوں کی شکل کے پتھر دریافت

    ماہرین نے ایسے گول پتھر دریافت کیے جو ممکنہ طور پر چرخے ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: ماہرین آثار قدیمہ نے 12 ہزار سال پرانے ایسے پتھروں کو اکٹھا کیا ہے جو ممکنہ طور پر پہیے کی اولین مثالوں میں سے ایک ہیں، پہلے مانا جاتا تھا کہ پہیے کی ایجاد 6 ہزار قبل ہوئی تھی مگر اس نئی دریافت سے عندیہ ملتا ہے کہ پہیے جیسی ٹیکنالوجیز ہماری توقعات سے بھی پہلے موجود تھیں۔

    جرنل PLOS One میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ماہرین نے ایسے گول پتھر دریافت کیے جو ممکنہ طور پر چرخے ہوسکتے ہیں، یہ پتھر شمالی اسرائیل میں کھدائی کے دوران دریافت ہوئے۔

    محققین کے خیال میں یہ پتھر ممکنہ طور پر Natufian ثقافت سے جڑی بستیوں سے تعلق رکھتے ہیں یہ تہذیب ہزاروں سال قبل فلسطین اور اردن سے تعلق رکھتی تھی اور یہ وہ عہد تھا جب انسانی زندگی کاشتکاری طرز زندگی کی جانب بڑھ رہی تھی، اس کے ہزاروں سال بعد کانسی کے عہد میں حقیقی پہیہ وجود میں آیا۔

    محققین کے مطابق اس دریافت سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ پہیے جیسی ایجاد ہمارے اندازوں سے 4 ہزار سال پہلے ہوچکی تھی، ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ پہیے کی ایجاد عراق کے قدیم خطے بین النہرین یا مشرقی یورپ میں ہوئی مگر حقیقی مقام نامعلوم ہے۔

    محققین نے بتایا کہ دریافت ہونے والے پتھروں سے گھومنے والے پہیوں کی تیاری کے عمل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے انہوں نے کہا کہ یہ پتھریلے ٹولز درحقیقت شکل اور افعال کے مطابق اولین پہیے تھے یہ پتھر 12 ہزار سال پرانے ہیں اور 3 ڈی ماڈل کو استعمال کرکے انہوں نے ان پتھروں کا تجزیہ کیا جو کہ چونے کے پتھر سے بنے ہوئے تھے،ان کی ساخت کے باعث محققین کا ماننا ہے کہ انہیں چرخے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

  • فضائی سفر کے دوران ایئرلائن کے کھانے سے نکلے پتھر

    فضائی سفر کے دوران ایئرلائن کے کھانے سے نکلے پتھر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی ایئر لائن ایئر انڈیا آجکل خبروں میں بہت زیادہ ہی سامنے آ رہی ہے

    ایئر انڈیا میں دو واقعات ایسے پیش آ چکے ہیں کہ مسافر نے خاتون پر پیشاب کر دیا، اب ایئر انڈیا کے بارے میں ایک اور سچ سامنے آیا ہے، دوران سفر مسافروں کو جو کھانا دیا گیا اس میں سے پتھر برآمد ہوئے ہیں، ایئر انڈیا کی جانب سے مسافروں کو معیاری کھانا نہیں دیا جا رہا، کھانے میں سے پتھر برآمد ہونے پر ایک خاتون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پتھروں کی تصویریں شیئر کر دیں اور اپنی شکایت بھی لکھ دی،

    ٹویٹر پر خاتون نے ٹویٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایئر انڈیا کی فلائٹ میں دیئے گئے کھانے میں اسے پتھر کا یہ ٹکڑا ملا اس نے کرو ممبر کو بھی اطلاع دی تا ہم کرو ممبر نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے، کرو ممبر نے بات بھی نہیں سنی، اس طرح کی لاپرواہی بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے، خاتون کی جانب سے ٹویٹ کرنے کے بعد ایئر انڈیا نے جواب دیا اور لکھا کہ ہم کیٹرنگ ٹیم کے سامنے معاملات رکھیں گے، اس مسئلے کو دیکھنے کے لئے کچھ وقت دیں،

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    دوسری جانب فضائی سفر میں مسافر نے خاتون پر پیشاب کر دیا تھا، اس مسافر کی شناخت شنکر کے طور پر ہوئی جس کی عمر 34 برس ہے، شنکر کو اس بیہودہ حرکت پر کمپنی نے کام سے نکال دیا ہے،شنکر مشرا کو دہلی پولیس نے بنگلورو سے گرفتار کیا ہے،، شنکر کے دوبارہ فضائی سفر پر پابندی عائد کی جا چکی ہے، واقعہ پر ایئر انڈیا کے سی ای او نے خاتون سے معافی مانگی ہے جبکہ چار کیبن کریو، پائلٹ کو بھی تحقیقات میں شامل کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا گیا ہے کہ انہوں نے کیوں اطلاع نہیں دی، اور بات کو کیوں چھپایا، سی ای او ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ جو لوگ فلائٹ رولز پر عمل نہیں کریں گے ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی،امریکہ میں قائم مالیاتی سروس کمپنی ویلز فارگو جہاں شنکر مشرا کام کرتے تھے انہوں نے انہیں برطرف کر دیا ہے۔

    اس واقعہ کی تفصیلات تب سامنے آئیں جب ایک خاتون نے ایئر انڈیا کے گروپ چیئرمین کو خط لکھا اور تفصیلات سے آگاہ کیا ، ایئر انڈیا گروپ کے چیئرمین این چندر شیکرن کو خط ملنے کے بعد واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، واقعہ کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے جبکہ جہاز میں دوران سفر خاتون پر پیشاب کرنیوالے مسافر پر فضائی سفر کے لئے پابندی عائد کر دی گئی ہے،سول ایوی ایشن کے ڈی جی نے واقعہ کی مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے،

  • چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے 50 سال قبل چاند سے زمین پر لائے گئے پتھروں کے آخری مجموعے کو آج قریباً 50 برس بعد کھول دیا گیا ہے پتھروں کو زمین پر لانے کے بعد فوراً ایک مکمل طور پر مہربند نلکیوں نما پیکنگ میں رکھا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق 73001 نامی یہ زیر تحقیق نمونہ خلانوردوں، یوجین سرنن اور ہیریسن شمٹ نے دسمبر 1972 میں اپالو 17 مشن کے دوران جمع کیا تھا، جو اس پروگرام کا آخری نمونہ تھا۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    اس کی قیادت اپالو نیکسٹ جنریشن سیمپل اینالیسس پروگرام (ANGSA) کر رہی ہے، جو ایک سائنس ٹیم ہے جس کا مقصد چاند کے جنوبی قطب پر آنے والے آرٹیمس مشن سے پہلے نمونے اور چاند کی سطح کے بارے میں مزید جاننا ہے۔

    ناسا کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے اپولو مشنز کے ذریعے زمین پر کُل 2,196 چٹانوں کے نمونے لائے گئے ہیں جس میں سے ایک نمونے کو اب کھولنا شروع کیا گیا ہے، جو آج سے 50 سال قبل اکٹھا کیا گیا ہے، یہ پتھر 35 سیںٹی میٹر لمبی اور 4 سینٹی میٹر چوڑی ٹیوب میں رکھا گیا تھا یہ پتھر چاند کی مشہور وادی ٹارس لیٹرو سے اٹھایا گیا تھا۔

    آثار، معدومیات اور چاند کے پتھروں کی تحقیق میں یہ چلن عام ہے کہ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ مزید تحقیق سے گزارا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں جدت کی بدولت عشروں قبل حقائق کےمقابلے میں قدرے تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس پتھر کے مطالعے میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔

    ماہرین کی جانب سےامکان ظاہرکیا جارہا ہے کہ 73001 نامی جس نمونے کو کھولا جارہا ہے اس میں طیران پذیر مادے ار گیس یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی وغیرہ ہوسکتے ہیں۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    واشنگٹن میں ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس زربوچن نے کہا کہ اپالو لینڈنگ سائٹس پر چاند کے نمونوں کی ارضیاتی تاریخ اور ارتقاء کو سمجھنے سے ہمیں ان نمونوں کی تیاری میں مدد ملے گی جن کا سامنا آرٹیمس کے دوران ہو سکتا ہے آرٹیمس کا مقصد قطب جنوبی کے قریب سے ٹھنڈے اور مہر بند نمونے واپس لانا ہے۔ ان نمونوں کو جمع کرنے اور منتقل کرنے، ان کا تجزیہ کرنے، اور سائنسدانوں کی آئندہ نسلوں کے لیے انہیں زمین پر ذخیرہ کرنے کے لیے درکار آلات کو سمجھنے کا یہ ایک دلچسپ سیکھنے کا موقع ہے۔

    جب اپالو کے خلابازوں نے تقریباً 50 سال پہلے یہ نمونے واپس کیے تو NASA کے پاس ان میں سے کچھ کو نہ کھولے اور قدیم رکھنے کی دور اندیشی تھی۔

    ناسا ہیڈ کوارٹر میں پلینٹری سائنس ڈویژن کی ڈائریکٹر لوری گلیز نے کہاایجنسی جانتی تھی کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کرے گی اور سائنس دانوں کو مستقبل میں نئے سوالات کو حل کرنے کے لیے مواد کا نئے طریقوں سے مطالعہ کرنے کی اجازت دے گی،اے این جی ایس اے کا اقدام ان خاص طور پر ذخیرہ شدہ اور سیل شدہ نمونوں کی جانچ کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ آرتیمس چاند پر ناسا کا اگلا مشن ہے جبکہ ایجنسی 2025 تک چاند پر انسان بردار سواریاں بھیجنا چاہتی ہیں اس ضمن میں آرتیمس اول نامی خلائی جہاز اسی سال روانہ کیا جائے گا دیرینہ مطالبے کے بعد اب کانگریس نے اس منصوبے کے لیے رقم بھی جاری کردی ہے۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا