Baaghi TV

Tag: پروگرام

  • آزاد کشمیر: تین دہائیوں بعد بلدیاتی انتخابات کےلیے پولنگ کا وقت ختم،گنتی جاری

    آزاد کشمیر: تین دہائیوں بعد بلدیاتی انتخابات کےلیے پولنگ کا وقت ختم،گنتی جاری

    مظفرآباد:اکتیس سال بعد آزاد کشمیر ( Azad Kashmir ) میں بلدیاتی انتخابات کےلیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، پہلے مرحلے میں مظفر آباد کے تین اضلاع میں صبح 8 بجے سے پولنگ شروع ہوئی جو بلا تعطل شام پانچ بجے تک جاری رہی۔

    مظفرآباد، وادی نیلم اور جھیل ویلی میں تقریباً سات لاکھ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ چھ سو چودہ نشستوں میں سے انیس کونسلرز بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔ پانچ سوپچیانوے نشستوں پر اکتیس خواتین سمیت ستائیس سو پچیس امیدوار میدان میں ہیں۔

    مظفر آباد ڈویژن میں ایک ہزار 323 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جن میں تقریباً 4 ہزار 500 پولیس اہلکارسمیت کوئیک رسپانس فورس (کیو آر ایف) کے 500 پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے، یہ اہلکار کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے تمام پولنگ اسٹیشن پر تعینات ہوں گے۔

    عمران خان نےاسمبلیاں توڑنےکا اعلان کرکےشکست کا اعلان کیا ہے:رانا ثنااللہ

    مظفرآباد ڈویژن کے تین اضلاع نیلم، مظفرآباد اور جھیل میں کل 6 لاکھ 97 ہزار 732 ووٹرز ہیں، جن میں سے خواتین ووٹرز کے تعداد 3 لاکھ 21 ہزار 536 ہے۔مظفر آباد ڈویژن میں صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک شہری اور دیہی کونسل کے تقریباً 750 وارڈز میں ووٹرز اپنے بلدیاتی نمائندگان کا انتخاب کریں گے۔بلدیاتی انتخابات میں تقریباً 2 ہزار 716 امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن میں زیادہ تر تعلق پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ہے۔

    حکام کے مطابق کہ ایک ہزار 323 پولنگ اسٹیشن میں سے 418 حساس اور 257 انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جہاں بالترتیب 3 اور5 پولیس اہلکار تعینات ہوں گے تاہم دیگر پولنگ اسٹیشن پر2 پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔

    عمران خان اسمبلیوں سے نکلنے کے فیصلے پر یوٹرن لیں گے،قمرزمان کائرہ

    غیر سرکاری غیر حتمی نتائج

    آزاد کشمیر بلدیاتی انتخابات کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق میونسپل کارپوریشن مظفرآباد کے وارڈنمبر 8 سے تحریک انصاف کے سعید شاہ 446ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ مسلم لیگ ن کے سیدرحمت شاہ 439 ووٹ لیکر لیکردوسرے نمبر پر رہے۔

    یونین کونسل 76 دومیل کے وارڈ نمبر ایک سے پیپلزپارٹی کے امیدواراعظم خان 259 ووٹ لیکرکامیاب رہے جبکہ یوسی کٹن جاگراں سے آزاد امیدوارعنایت اللہ نے میدان مار لیا۔

    وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے حوالے سے ن لیگ کی منصوبہ بندی…

    آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے دوران یونین کونسل انوار شریف میں دو گروپوں میں تصادم کے بعد متعلقہ پولنگ اسٹیشن پر ووٹنگ کا عمل روک دیا گیا ہے۔ پولنگ اسٹیشن پر تصادم کے دوران دو گروپس کے کارکنوں نے مکوں اور ڈنڈوں کا آزادنہ استعمال کیا، جس سے پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔

    تصادم کے بعد پولنگ اسٹیشن میں ووٹنگ کا عمل روک دیا گیا ہے، تاہم اس سلسلے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ووٹنگ کو کب تک روکا کیا گیا ہے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب سے  ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی ملاقات،احساس پروگرام کادائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب سے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی ملاقات،احساس پروگرام کادائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی سے پنجاب احساس پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ملاقات کی،ملاقات میں پنجاب میں احساس پروگرام کادائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا.

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت فی خاندان ماہانہ سبسڈی میں اضافے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت مستحق خاندان آٹا،گھی اور دالیں مارکیٹ سے 40فیصد سستی خرید سکیں گے، وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے احساس راشن رعایت پروگرام کااجراء جلد کرنے کی ہدایت کی.

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیر انتظام چلنے والے فلاحی اداروں میں رہائش پذیر بچوں، بچیوں اور بزرگوں کیلئے کھانے کی فی کس رقم دوگنا کرنے کی منظوری بھی دے دی.

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ مہنگائی اور کھانے کے معیار و مقدار کو بہتر بنانے کیلئے فلاحی اداروں میں رہائش پذیر افراد کیلئے کھانے کی فی کس رقم میں اضافہ کیا ہے۔کھانے کی فی کس رقم میں اضافے سے ایسے افراد کو معیاری اور وافر کھانا مل سکے گا۔ احساس بل پنجاب اسمبلی میں جلد پیش کیاجائے گا۔

    جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے فلاحی منصوبے متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے.چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ پنجاب احساس پروگرام کے تحت جنوبی پنجاب میں خواتین کیلئے ویلفیئر پراجیکٹس شروع کئے جائیں گے۔ Stunting سے بچاؤ کے لئے حاملہ خواتین کو وظائف دئیے جائیں گے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کی سپیشل سرکاری ملازمین کے لئے نئی ہاؤسنگ پالیسی تیار کرنے کی ہدایت کی.چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ سپیشل سرکاری ملازمین کے لئے ہاؤسنگ الاٹمنٹ پالیسی کے تحت5فیصد ہارڈ شپ کوٹہ مختص کیاجائے گا۔ سپیشل افراد کے لئے پنجاب گورنمنٹ سرونٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن میں کوٹہ متعارف کرایا جائے گا۔ہاؤسنگ سوسائٹیز میں سپیشل افراد کو سبسڈی دینے کے لئے 50کروڑ روپے مختص کئے جائیں گے۔

    ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پنجاب احساس پروگرام کے تحت مختلف ویلفیئر پراجیکٹس پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی ،چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، سیکرٹری خزانہ اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے.

  • پنجاب میں احساس راشن رعایت پروگرام شروع کرنے کی منظوری

    پنجاب میں احساس راشن رعایت پروگرام شروع کرنے کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے پنجاب میں احساس راشن رعایت پروگرام شروع کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت غریب لوگوں کو ماہانہ ایک ہزار روپے کی بجائے 1500روپے دینے کا فیصلہ کیاہے اور احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت غریب لوگوں کو آٹا،دالیں اورگھی سستے داموں ملے گا۔

    شیریں مزاری کاامریکی حکام کےپاکستان کےحساس علاقوں کےدورے پرشکوہ،سوشل میڈیاصارفین کی تنقید

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے احساس راشن رعایت پروگرام پر عملدر آمد کیلئے وزارتی سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔سٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر ہوں گی۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ احساس راشن رعایت پروگرام کے حوالے سے ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا جائے گااوراحساس راشن رعایت پروگرام پر عملدرآمد کے حوالے سے موثر مانیٹرنگ نظام تشکیل دیا جائے گا۔

     

    غلامی نامنظور اور سازش اپنی جگہ،عطیہ کیسے ٹھکراوں،یہ ہے عمران خان

     

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے احساس پروگراموں کے لئے احساس ایکٹ تیار کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی احساس ایکٹ کو اسمبلی سے منظورکرائیں گے۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے سماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجاکرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اورتمام پروگراموں کو یکجاکیاجائے۔

     

    ادویات کی قیمتوں میں اضافےکےساتھ ہی کھانےپینے کی اشیاء 48 فیصد مہنگی کردی گئیں

     

    انہوں نے کہا کہ احساس ہی انسانیت ہے- سماجی اورمعاشرتی تحفظ سے محروم افراد فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ احساس راشن رعایت پروگرام غربت کے خاتمے اورفلاحی ریاست کی جانب ایک بہت بڑا قدم ہے۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس راشن رعایت پروگرام،احساس کارڈاوراحساس تحفظ پروگرام کے خدوخال کے بارے میں بریفنگ دی۔صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد،ڈاکٹر ثانیہ نشتر،مشیرعمر سرفراز چیمہ،رکن قومی اسمبلی مونس الہی،سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سلمان غنی،سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر،چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات،ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122اورمتعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

  • برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا

    برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا

    لندن:برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا ،بی بی سی کی ایک تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ کی ایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) کور کے کمانڈوز نے افغانستان میں دوران قیام کم از کم 54 افغان شہریوں کو ہلاک کیا لیکن اعلیٰ فوجی حکام نے اس سے آگاہ ہونے کے باوجود کارروائی کرنے سے انکار کردیا۔

    افغآنستان میں افغآنیوں کے قتل عام کے حوالے سے چار سالہ تحقیقات کی رپورٹ جو منگل کو شائع ہوئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں اپنی تعیناتی کے دوران، غیر مسلح افغان مردوں کو معمول کے مطابق برطانوی فوجیوں نے رات کے وقت چھاپوں کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا،

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے ہی ایک واقعے میں افغان شہریوں کوایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) یونٹ نے نومبر 2010 سے مئی 2011 تک جنوبی صوبہ ہلمند کے چھ ماہ کے دورے کے دوران گولی مار دی تھی۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل مارک کارلٹن سمتھ سمیت سینئر افسران، جو اس وقت یو کے اسپیشل فورسز کے سربراہ تھے،جرائم سے آگاہ تھے لیکن انہوں نے ملٹری پولیس کو رپورٹ نہیں کی۔

    یاد رہے کہ مسلح افواج پر حکمرانی کرنے والے برطانوی قانون کے مطابق ممکنہ جنگی جرائم سے آگاہ ہونا اور ملٹری پولیس کو اطلاع نہ دینا جرم ہے۔

    بی بی سی کا کہنا ہے کہ “رات کے چھاپوں میں بہت سارے لوگ مارے جا رہے تھے ۔ ایک بار جب کسی کو حراست میں لے لیا جاتا ہے،تواسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جاتا تھا جب تک کہ اس کی جان نہ لے لی جاتی

    “اس کا بار بار ہونا ہیڈکوارٹر میں خطرے کی گھنٹی کا باعث بن رہا تھا۔ اس وقت یہ واضح تھا کہ کچھ غلط تھا۔بی بی سی کے پروگرام ’پینوراما‘، جس نے رپورٹ شائع کی، کہا کہ یہ تحقیقات عدالتی دستاویزات، لیک ای میلز اور جنگ زدہ ملک میں کارروائیوں کی جگہوں پر اس کے اپنے صحافیوں کے سفر پر مبنی تھی۔

    برطانیہ کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی نے کافی ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔

    گروپ کی طرف سے کیے گئے جرائم کو نظر انداز کرتے ہوئے، بیان میں ایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) کی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ برطانیہ کی مسلح افواج نے “افغانستان میں جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ خدمات انجام دیں اور ہم انہیں ہمیشہ اعلیٰ ترین معیارات پر قائم رکھیں گے۔”

    برطانوی لڑاکا فوجیوں نے 2014 میں افغانستان سے امریکہ کی قیادت میں نیٹو اتحاد کے ایک حصے کے طور پر ملک پر حملہ کرنے کے تقریباً 13 سال بعد انخلا کیا۔پچھلے سال اگست میں، طالبان کے ڈرامائی قبضے کے بعد باقی تمام برطانوی فوجی ملک چھوڑ گئے تھے۔

    مئی میں جاری ہونے والی فوجی انخلاء کے بارے میں ایک پارلیمانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے برطانوی انخلاء ایک “تباہی” اور ملک میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ “خیانت” تھا جس کی وجہ انٹیلی جنس، سفارت کاری، منصوبہ بندی اور تیاری کی نظامی ناکامی تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “حقیقت یہ ہے کہ دفتر خارجہ کے سینئر رہنما چھٹی پر تھے جب کابل گرا، قومی ہنگامی صورتحال کے وقت سنجیدگی، گرفت یا قیادت کی بنیادی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔”

  • احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کےمقالےکی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد

    احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کےمقالےکی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد

    لاہور:احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کے مقالے کی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد جو کہ ماس کمونیکیشن کے طالب علم انہوں نے احساس پروگرام کی افادیت کے حوالےسے کچھ چیزیں بیان کی ہیں ، ان کا کہنا ہےکہ جوحقائق اس وقت احساس پروگرام کی افادیت کو ثابت کرنےکےلیے پیش کیے جارہے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ،ان کا کہنا تھا کہ فیس بک کے ایک صارف کی طرف سے جواس قسم کے حقائق پیش کیے گئے ان میں غلط بیانی کی گئی ہے

    احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ لوگوں کومستفید کریں گے، ثانیہ نشتر

    رانا عبداللہ حماد کہتے ہیں کہ جیسا کہ پہلے دعوی کیا گیا تھا کہ یہ حقائق پرمبنی رپورٹ ہے جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ مصنفین نے غربت کے خاتمے میں خان کی پالیسیوں کی تعریف کی، لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ جیسا کہ فیس بک صارف جواد ملک نے لکھا، “مطالعہ اسٹینفورڈ کا اپنا نہیں ہے،یہ کہ ایک غیرملکی مصنف، ڈیلیوری ایسوسی ایٹس، کی طرف سے حقائق پیش کیئے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود احساس پروگرام کے حوالے سے ایک متعلقہ عنصرہے

    وزیراعظم کے احساس پروگرام کو دنیا بھر میں سراہا گیا یے،بلال غفار

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بھی اپنی تازہ ترین تقریر میں اسٹینفورڈ کی تحقیق کا حوالہ دیا، جب کہ اسے فیس بک صارف کے دعوے کے مطابق شائع بھی نہیں کیا گیا۔

     

    رانا عبداللہ حماد کہتے ہیں کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دوسری جانب یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان کے احساس پروگرام کو بل گیٹس جیسے بہت سے لوگوں نے سراہا اور پاکستان میں غربت کے بڑے مسائل کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے اس پروگرام کی افادیت کو تسلیم کیا

    *وزیر اعظم کا احساس پروگرام بنا امید سحر*

    یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں ملک سے غربت کے خاتمے اور غریب کو معاشی طور پر سہارا دینے کیلئے متعارف کروائے گئے “احساس پروگرام” کے حوالے سے دنیا مثالیں دینا شروع ہوگئی ہے۔

    امریکہ کی عالمی شہریت یافتہ یونیورسٹی “سٹینفورڈ”نے ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں دنیا کواحساس پروگرام کی مثال دے کر کہا گیا ہے کہ دنیا اس پروگرام سے غربت کے خاتمے کا طریقہ کار سیکھ سکتی ہے۔

    مقالہ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کے کمزور ترین طبقے کو اوپر لانے کیلئے احساس پروگرام دنیا کا ایک بہترین پروگرام بن کر سامنے آیا ہے۔

    سٹینفورڈ یونیورسٹی نے حکومت پاکستان کی جانب سے 2018 کے بعد کورونا بحران کےدنوں میں متعارف کروائے گئے احساس پروگرام کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ مقالہ شائع کیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ احساس پروگرام کے تحت غربت کے خاتمے کے ایک جامع اور مربوط ہدف میں معاشی طور پر کمزور پاکستانیوں کو مدد کا نظام متعارف کروایا گیا، جس میں غیر مشروط نقد رقم کی منتقلی، ٹارگٹڈ سبسڈی، اور صحت اور غذائیت کی کوریج میں اضافہ شامل ہے۔

    سٹینفورڈ یونیورسٹی کے مقالے میں کہا گیا ہے ہم دنیا بھر کے ممالک میں متعارف کروائی گئی پالیسیوں اور پرواگرامز کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں سے بہترین اصلاحات کو عالمی پالیسی سازوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، ہم جن اصلاحات کو چنتے ہیں ان میں خاص طور پر اچھی قیادت، مضبوط اداروں کی تعمیر، ٹیکنالوجی کے موثراستعمال، انسداد غربت کیلئے مربوط نظام جیسے پروگرامز شامل ہیں۔

    مقالے میں کہا گیا ہے کہ احساس پروگرام پر تجزیے کے دوران ثابت ہوا ہے کہ اس پروگرام کی کامیابی نے شفافیت، شفافیت ،استفادہ کنندگان اور پروگرام کے منتظمین کے درمیان اعتماد پیدا کرنے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے 2018میں ملک کے کمزور ترین طبقے کو معاشی طورپر مستحکم کرنے کیلئے “احساس پروگرام” متعارف کروایا تھا جس کے ذریعے ایک منظم نظام کے ذریعے لوگوں کی نقد رقم، تین وقت کے کھانے، رہائش کیلئے پناہ گاہوں اورٹارگٹڈ سبسڈی جیسے اقدامات سے مدد کی گئی۔

  • ضلع بھر میں یوم پاکستان کے حوالے سے پروگرام

    ضلع بھر میں یوم پاکستان کے حوالے سے پروگرام

    قصور
    یوم پاکستان کے حوالے سے ضلع بھر کے تمام شہروں،گاؤں دیہات میں پروگرام،پروگراموں میں لوگوں کی شوق و ولولے سے بھرپور شرکت

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح ضلع قصور میں بھی یوم پاکستان، قرار داد پاکستان 23 مارچ 1940 کو پیش کردہ دو قومی نظریہ کے حق میں ضلع قصور کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور گاؤں دیہات میں جلسے اور پروگرام کئے جا رہے ہیں جن میں لوگوں کی بڑی تعداد شوق اور ولولہ سے شرکت کر رہی ہے
    مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ان پروگراموں میں شرکاء کا عزم ہے کہ علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ اور قائد اعظم محمد علی جناح و رفقاء کی قربانیوں سے حاصل کئے گئے اس ارض پاک کیلئے ہر طرح کی قربانیاں دینے سے دریغ نہیں کیا جائے گا اور اپنی افواج پاکستان و دیگر اداروں سے ملک کر دشمن کا ہر محاذ پر مقابلہ کیا جائے گا

  • 25 فروری کو ورکرز کنونشن سے خطاب

    25 فروری کو ورکرز کنونشن سے خطاب

    قصور
    امیدوار برائے میئر ضلع قصور، سربراہ تحریک اللہ اکبر پاکستان پروفیسر سیف اللہ خالد قصوری 25 فروری کو قصور میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرینگے

    تفصیلات کے مطابق تحریک اللہ اکبر پاکستان کے سربراہ اور امیدوار برائے مئیر ضلع قصور مفسر قرآن پروفیسر سیف اللہ خالد قصوری 25 فروری بروز جمعہ سٹی قصور میں دیوان خاص میرج ہال میں ورکرز کنونشن میں خطاب فرمائیں گے
    پروگرام نماز مغرب سے شروع ہو گا
    ورکرز کنونشن میں سیف اللہ خالد کے علاوہ قصور کی صحافی،وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کے عہدیداران بھی خطاب فرمائیں گے

  • مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے 914 دن گز گئے

    مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے 914 دن گز گئے

    قصور
    تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کل ضلع بھر میں مشترکہ پروگرام کرینگے، بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے 914 دن ہو گئے

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری بھرپور طریقے سے منایا جائے گا
    ضلع بھر کی تمام سیاسی و مذہبی تنظیمیں ایک ہو کر پورے ضلع میں کشمیریوں کے حقوق کیلئے بھارت کے خلاف پروگرام کرینگی
    قصور،نور پور،الہ آباد کھڈیاں،پتوکی،چونیاں،کوٹ رادہاکشن،پھولنگر،کنگن پور و دیگر ضلع بھر کے تمام گاؤں دیہات،قصبوں و شہروں میں تمام جماعتیں یک جان ہو کر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرینگی
    پورے ضلع بھر میں کشمیریوں کی حمایت پر مبنی بینرز لگ گئے ہیں جس میں بھارت کی فوجوں کی واپسی اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے
    واضع رہے کہ بھارت کی طرف سے ریاست مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اے کو 5 اگست 2019 کو منسوخ کیا گیا تھا

  • احساس راشن رعایت:کس کس کوہوگا فائدہ یہ بھی اعلان کردیاگیا

    احساس راشن رعایت:کس کس کوہوگا فائدہ یہ بھی اعلان کردیاگیا

    اسلام آباد: احساس راشن رعایت:کس کس کوہوگا فائدہ یہ بھی اعلان کردیاگیا،اطلاعات کے مطابق حکومت نے احساس راشن رعایت میں کریانہ مالکان کے لیے 8 فی صد کمیشن کی منظوری دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اقتصادی امور عمر ایوب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایک نکاتی ایجنڈے پر ہی غور کیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں احساس راشن رعایت میں کریانہ مالکان کے لیے 8 فی صد کمیشن کی منظوری دی گئی ہے، کریانہ مالکان کو ہر سیل پر سبسڈی رقم کے ساتھ 8 فی صد کمیشن بھی دیا جائے گا۔

    وزیر اعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے بتایا کہ خصوصی راشن کمیشن کا مقصد کریانہ مالکان کی حوصلہ افزائی ہے، اس پروگرام پر عمل درآمد نیشنل بینک کے اشتراک سے ہو رہا ہے، کریانہ مالکان کوفی سہ ماہی بذریعہ قرعہ اندازی انعامات دیے جائیں گے۔ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ انعامات میں گاڑیاں، موٹر سائیکلز، موبائل فونز اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

    انھوں نے بتایا کریانہ مالکان کی رجسٹریشن بذریعہ ویب پورٹل جاری ہے، چھوٹے بڑے سب کریانہ مالکان اس پروگرام میں رجسٹر ہو سکتے ہیں، پروگرام میں شمولیت کے لیے کریانہ مالکان کا بینک اکاؤنٹ اور اینڈرائڈ فون ضروری ہے۔

    معاون خصوصی نے کہا کہ نیشنل بینک کی شاخوں میں کریانہ مالکان کے اکاؤنٹ کھولے جا رہے ہیں۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کریانہ مالکان نے دھڑا دھڑ اپنے اکاونٹ نیشنل بینک میں‌ کھولنے کے لیے اپلائی کرلیا ہے اوربہت بڑی تعداد اس کھیل میں‌شامل ہوجائے گی