Baaghi TV

Tag: پرویزخٹک

  • پرویز خٹک نے نئی سیاسی جماعت کا اعلان کر دیا

    پرویز خٹک نے نئی سیاسی جماعت کا اعلان کر دیا

    پرویز خٹک کی جانب سے نئی پارٹی بنائے جانے پر عمران خان کا ردعمل بھی سامنے آ گیا ہے

    عمران خان لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے، اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ پرویز خٹک نے نئی پارٹی بنا لی ہے،کیا کہیں گے، جس پر عمران خان نے کہا، گڈ لک،

    https://twitter.com/sana_J2/status/1680915603039858689

    جہانگیرترین کا نئی سیاسی جماعت کے قیام پر نیک خواہشات کا اظہار
    استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین نے نئی سیاسی جماعت کے قیام پر کہا ہے کہ پرویز خٹک اور ان کی جماعت کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں ، 9 مئی کے بعد سیاست بدل رہی ہے ،محب وطن سیاسی قیادت کو ملکی استحکام عزیز ہے سیاسی رہنما 9 مئی کے بیانیے کی آبیاری سے علیحدگی اختیار کررہے ہیں،

    تحریک انصاف کے سابق رہنما اور عمران خان کے قریبی ساتھی پرویز خٹک نے نئی سیاسی جماعت کا اعلان کر دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کے نام سے الیکشن میں حصہ لیا جائے گا ،خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کو بڑا جھٹکا لگا ہے ، عمران خان کی ہٹ دھرمی، ریاست مخالف بیانیہ نے تحریک انصاف کے خاتمے کی بنیاد رکھی اور اب کے پی میں تحریک انصاف کا نام لینے والا بھی شاید کوئی نہیں بچا، سابق وفاقی وزیردفاع اور عمران خان کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے پرویزخٹک نے نئی سیاسی پارٹی کا اعلان کرلیا۔ پرویزخٹک نے پی ٹی آئی پارلیمینٹرینز کے نام سے پارٹی کا اعلان کیا، سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان بھی نئی سیاسی جماعت میں شامل ہیں

    pkhatk khan

    پی ٹی آئی کے 57 سابق ارکانِ اسمبلی نے پرویز خٹک کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر اشتیاق ارمڑ اور شوکت علی نئی پارٹی کا حصہ ہیں،ارکانِ اسمبلی نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات کی وجہ سے پی ٹی آئی سے راہیں جدا کی۔

    پرویزخٹک کا کہنا تھا کہ سانحہ 9 مئی جیسے واقعات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، پاکستان کی وجود سے ہی ہم سب کا وجود ہے- تحریک انصاف کا خیبرپختونخوا سے مکمل خاتمہ ہوگیا۔

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کو شدید دھچکا ۔ گزشتہ دس سال سے حکومت کرنے والی پارٹی اب صوبے کی سیاست سے ہی آؤٹ ہو گئی۔ سابق وزیر اعلیٰ و وزیر دفاع پرویز خٹک پارٹی کے سربراہ مقرر کئے گئے ہیں، سابق وزیر اعلیٰ محمود خان اورمتعدد سابق وزراء سمیت درجنوں ارکان نے پی ٹی آئی کو خیر باد کہہ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ نئی پارٹی پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز میں گزشتہ حکومت سے وابستہ 57 سے زائد اراکین اسمبلی شامل ہیں، جبکہ مزید شمولیتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ۔ نئی پارٹی کا قیام سانحہ 9 مئی پر پی ٹی آئی کے اندر اختلافات اوراحتجاج کی صورت میں سامنے آ گیا۔

    نئی پارٹی میں شامل ہونے والے تمام سیاسی رہنماء سابق وزیر اعظم عمران خان کو سانحہ 9 مئی کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ عمران خان کے ملک دشمن ایجنڈے کو نہ صرف عوام بلکہ ان کے اپنی پارٹی کی قیادت نے بھی مسترد کردیا۔ اور سانحہ 9 مئی کے واقعات پر ان محب وطن سیاست دانوں نے پی ٹی آئی سے راہیں جدا کر لی۔ سابق وزیر اعلیٰ محمود خان کے علاوہ سابق وزراء ضیاء اللہ بنگش، اشتیاق ارمڑ اور رکن صوبائی افتخار مشوانی بھی پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کا حصہ بن گئے۔ پشاور سے سابق رکن قومی اسمبلی شوکت علی اور ڈی آئی خان سے سابق ارکان قومی اسمبلی یعقوب شیخ و آغاز اکرام گنڈاپور، ملاکنڈ سے پیر مصور شاہ اور مانسہرہ سے سابق ایم این اے صالح محمد نے بھی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ نئی پارٹی میں شامل ہونے والوں میں پشاور سے سابق رکن صوبائی اسمبلی ارباب وسیم حیات، اورکزئی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی سید غازی غزن جمال، باجوڑ سے سابق صوبائی وزیر انورزیب خان، مانسہرہ سے سابق رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ فرید صلاح الدین اور سوات سے سابق رکن صوبائی اسمبلی محب اللہ خان شامل ہیں۔پارٹی کی دیگر اراکین میں ڈی آئی خان ڈویژن سے عرفان کنڈی اور رمضان شوری ، ہزارہ ڈویژن سے اورنگزیب اور مفتی عبید جبکہ کوہاٹ ڈویژن سے عتیق ہادی اور دیگر شامل ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کئی دیگر سابق پارلیمنٹیرنز بھی جلد پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرینگے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی صدارت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ کئی دنوں سے ملک میں سیاسی حالات کو دیکھ رہا ہوں، 9 مئی کے واقعات کی پہلے ہی مذمت کر چکا ہوں، ملک کا سیاسی ماحول بہت خراب ہے اس ماحول میں چلنا مشکل ہے اس کے بعد پی ٹی آئی نے پرویز خٹک کی جانب سے پارٹی کو ارکان کو جماعت سے علیحدگی کی ترغیب دلوانے پر شوکاز جاری کیا تھا اور جواب مانگا تھا اور جواب نہ دینے پر ان کو پارٹی سے نکال دیا تھا-

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

    شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    پرویز خٹک کی نئی پارٹی کے قیام پر تحریک انصاف کا ردعمل
    صدر تحریک انصاف خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے پرویز خٹک کی نئی پارٹی کے قیام پر ردعمل میں کہا ہے کہ پرویز خٹک کی قیادت میں بے ضمیروں کے ٹولے کی عوام میں کوئی حیثیت نہیں۔تحریک انصاف بھرپور مقابلہ کرے گی اور عوام کی سپورٹ سے الیکشن جیتے گی۔ آج جو لوگ نئی پارٹی کے قیام پر خوشی منا رہے ہیں یہ ان کی وقتی خوشیاں ہیں۔آنے والا دور تحریک انصاف کا ہے۔تحریک انصاف سے آج بزدلوں کا صفایا ہوگیا۔ آج جانے والے عوام کا سامنا نہیں کرسکیں گے۔ عوام ان کو ائینہ دکھائے گی۔آج یہ میڈیا سے چھپ کر آئے الیکشن میں عوام سے چھپیں گے۔تحریک انصاف چھوڑنے والے اپنے زور بازو پر کونسلر کی سیٹ بھی نہیں جیت سکتے اور یہ خود کو پارلیمنٹرین کہتے ہیں ۔عمران خان کی وجہ سے یہ لوگ اسمبلی پہنچے آج ان لوگوں نے احسان فراموشی کی۔ خود کو غیرت مند کہنے والوں نے تحریک انصاف کو سخت وقت میں چھوڑ کر بے غیرتی دکھائی اور پختون روایات کی پامالی کی۔عوام الیکشن میں اپنے ووٹ سے بدلہ لے گی۔تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی سیاست میں ایک حقیقت ہے۔

    تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک کی مایوسی بھری میٹنگ کے مایوس چہرے۔ ان سب کو خود بھی معلوم ہے کے کسی نئی پارٹی نہیں بلکہ اپنی سیاسی تدفین پر آئے بیٹھے ہیں۔

    https://twitter.com/asadmariner01/status/1680904602466779137

  • پرویزخٹک اور نورالحق کا منسٹرانکلیو میں سرکاری رہائشگاہیں خالی کرنےسےانکار

    پرویزخٹک اور نورالحق کا منسٹرانکلیو میں سرکاری رہائشگاہیں خالی کرنےسےانکار

    سابق وزیر دفاع پرویزخٹک اور سابق وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے منسٹرانکلیو میں سرکاری رہائش گاہیں خالی کرنے سے انکار کردیا۔

    ذرائع کے مطابق کابینہ ختم ہونےکے بعد 15 دن تک وزیر سرکاری رہائش گاہ استعمال کرسکتے ہیں لیکن کابینہ ختم ہونے باوجود پرویزخٹک نے تاحال سرکاری رہائش گاہ خالی نہیں کی۔

    ذرائع نے بتایا کہ پرویزخٹک کی سرکاری رہائش گاہ وفاقی وزیرمولانا عبدالواسع کوالاٹ کی گئی ہے اور سرکاری رہائش گاہ خالی نہ ہونے باعث مولانا عبدالواسع میں شفٹ نہیں ہوسکے۔

    دوسری طرف اسٹیٹ آفس نے سابق وزیر دفاع سے گھر خالی کرانے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ کو خط لکھ دیا،اسٹیٹ آفس نے سابق وزیر دفاع پرویز خٹک سے گھر خالی کرانے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ کو خط لکھ دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق خط میں لکھا گیا کہ منسٹر انکلیو میں واقع بنگلہ نمبر 28 دسمبر 2018 میں پرویز خٹک کو الاٹ کیا گیا، وفاقی کابینہ 10 اپریل کو تحلیل ہوگئی تھی، پرویز خٹک کابینہ تحلیل ہونے کے 15 دن تک رہائشگاہ رکھ سکتے تھے۔

    خط میں کہا گیا کہ بنگلہ نمبر 28 وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس مولانا عبد الواسع کو الاٹ کیا گیا تھا، بنگلہ نمبر 28 کو پرویز خٹک سے فوری طور پر خالی کروایا جائے۔

    ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کا موقف ہے کہ گھر خالی کروانے کے اختیارات اسٹیٹ آفس کے پاس ہیں، ضلعی انتظامیہ جہاں لاء اینڈ آڈر کا مسلئہ بنے گا مدد کی جائے گی۔

  • عمران خان اوراداروں میں کوئی ناراضگی نہیں:    امریکی دھمکی آمیزخط ایک حقیقت:پرویزخٹک

    عمران خان اوراداروں میں کوئی ناراضگی نہیں: امریکی دھمکی آمیزخط ایک حقیقت:پرویزخٹک

    نوشہرہ:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ عمران خان اور اداروں میں کوئی ناراضگی نہیں ، پی ٹی آئی خیبر پختونخوا اسمبلی سے استعفے نہیں دے گی، حکمران مسجد نبوی واقعہ کو غلط رنگ دے رہے ہیں.پرویزخٹک کا کہنا تھا کہ امریکی خط ایک حقیقت ہے جسے کبھی بھی نظرانداز نہیں کرسکتے

    پی ٹی آئی رہنما پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد واپس لینے اور اس وقت کی اپوزیشن کو آرمی چیف کے ذریعے کوئی مشروط مذاکرات کی دعوت نہیں دی گئی تھی، آرمی چیف اور فوج کے ساتھ جو تعلقات پہلے تھے اب بھی ویسے ہی ہیں مگر حالات تبدیل ہوچکے ہیں، تحریک انصاف خیبرپختونخوا اسمبلی سے استعفیٰ نہیں دے گی، خیبرپختونخوا اسمبلی کو توڑنے کا بھی کوئی آپشن زیر غور نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کی تجویز ان کے ذریعے اپوزیشن کو دی گئی تھی، اپوزیشن کو اقتدار میں لانے کے لیے امریکہ سمیت دیگر ممالک نے اپنا کام دکھایا ہے، امریکی مداخلتی دھمکی آمیز خط ایک حقیقت ہے، کبھی خاموش نہیں رہے، امپورٹڈ حکمران مسجد نبوی ﷺ کے باہر واقعہ کو مسترد کرتے ہیں، حکمران غلط رنگ دیکر جھوٹے مقدمات قائم کر رہے ہیں۔

    پرویز خٹک نے مزید کہا کہ عمران خان اس وقت جہاں اندورونی پاکستان دشمن قوتوں کا مقابلہ کررہے ہیں وہاں بیرونی قوتوں کا بھی سامنا کررہے ہیں ، وہ بہت جلد بڑی قوت کے ساتھ واپس حکومت میں آئیں گے

  • ٹی وی دیکھ کرحیران رہ گیا کہ اس قدرشرپھیلائی جارہی ہے:پرویزخٹک منافقانہ صحافت پربرس پڑے

    ٹی وی دیکھ کرحیران رہ گیا کہ اس قدرشرپھیلائی جارہی ہے:پرویزخٹک منافقانہ صحافت پربرس پڑے

    اسلام آباد:ٹی وی دیکھ کرحیران رہ گیا کہ اس قدرشرپھیلائی جارہی ہے:پرویزخٹک منافقانہ صحافت پربرس پڑے ،اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان سے تلخ کلامی کے معاملے پر وزیر دفاع پرویز خٹک کا رد عمل سامنے آگیا ہے۔

    وزیر دفاع پرویز خٹک نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ کسی سے تلخ کلامی نہیں ہوئی، میں نے اپنے حق کی بات کی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اجلاس سے اٹھ کر باہر کیوں گئے تھے تو انہوں نے کہا کہ اجلاس سے ناراض ہوکر نہیں بلکہ سگریٹ پینے باہرگیا تھا۔

    پرویز خٹک کا مزید کہنا تھا کہ اختلاف کوئی نہیں صرف گیس کی بات ہوئی تھی، وزیراعظم سے اختلاف کبھی نہیں ہوا۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وزیر اعظم پر آپ کو اعتماد ہے؟ تو پرویز خٹک نے جواب دیا کہ وزیراعظم پر 100 فیصد اعتماد ہے، گیس کی بات ہوئی ہے پرابلم کو زیر بحث لائے ہیں، کسی مسئلے کو زیر بحث لائیں تو اسے اختلاف نہیں کہتے۔

    پرویز خٹک سے جب پوچھا گیا کہ کوئی فارورڈ بلاک تو نہیں بن رہاتو انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو فارورڈ بلاک بنانے ہی نہیں دیں گے۔جو ایسی خواہش رکھتے ہیں وہ پہلے کی طرح اب بھی نامراد ہوں گے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے اپنے چیمبر میں وزیر دفاع پرویز خٹک سے علیحدہ ملاقات کی جس میں عمر ایوب بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں پرویزخٹک اور عمران خان کے درمیان اچھے موڈ اور ماحول میں بات ہوئی اور میڈیا پرچلنے والی من گھڑت خبروں کی مذمت بھی کی

    اس ملاقات کے بعد پرویز خٹک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ٹی وی دیکھ کر حیران تھا جیسے میں نے کوئی طوفان کھڑا کردیا، صرف گیس کے مسائل پر ڈسکشن ہوئی، میرا سوال تھا کہ جو ہماری گیس کی اسکیمیں ہیں وہ چلنی چاہئیں، میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی کہ ووٹ نہیں دوں گا، یہ پارٹی کی اندرونی بات ہے، میں نے کوئی سخت بات نہیں کی، وزیراعظم کے نہ خلاف ہوں نہ ہوسکتا ہوں اور نہ ہی سوچ سکتا ہوں۔

    پرویزخٹک کا کہنا تھا کہ میری وضاحت کےبعد بھی اگرکوئی میرے سے یہ غلط بیانی منسوب کرتا ہے تو پھریہ اس کی اصلیت ، حقیقت اور بربریت ہے

    قبل ازیں حکومت مخالف میڈیا چینلز پر یہ جھوٹی اور فیک کہانی چلائی گئی تھی کہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیراعظم کےدرمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہو ہے۔اور پرویزخٹک نے وزیراعظم کو سخت جملے کہے جبکہ پرویزخٹک نے ان کی تردید بھی کردی ہے