Baaghi TV

Tag: پرویزمشرف

  • پرویزمشرف کی وطن واپسی کیلئے ملکی قیادت کے رابطے پرشکرگزار ہیں:فمیلی ذرائع

    پرویزمشرف کی وطن واپسی کیلئے ملکی قیادت کے رابطے پرشکرگزار ہیں:فمیلی ذرائع

    دبئی : پرویزمشرف کی وطن واپسی کیلئے ملکی قیادت کے رابطے پرشکرگزار ہیں:اطلاعات کے مطابق سابق صدر و جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی فیملی نے ان کی بیماری سے متعلق ردعمل کا اظہار کیا ہے۔سابق صدر کی فیملی کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کی وطن واپسی کیلئے ملکی قیادت کے رابطہ کرنے پر شکرگزار ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ پاکستان واپسی سے پہلے طبی، قانونی اور حفاظتی چیلنجز کوبغور دیکھ رہے ہیں۔پرویزمشرف فیملی کے مطابق پاکستان میں مطلوبہ ادویات اورطبی سہولیات نہیں ہیں۔
    خیال رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف شدید علیل ہیں اور دبئی میں زیرعلاج ہیں، انہیں ڈاکٹروں نے سفر سے منع کردیا ہے جس کے بعد ان کی جلد وطن واپس ممکن نہیں۔

    واضح رہے کہ پرویز مشرف 2016 میں عدالتی حکم پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل ) سے نام نکالے جانے کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے اور اس وقت سے دبئی میں مقیم ہیں۔17 دسمبر 2019 کو خصوصی عدالت نے جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اور ان پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہوتا ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن قبل آج ہی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے تصدیق کی تھی کہ پرویز مشرف کا خاندان پاکستان واپسی کے حوالے سے فوج سے رابطے میں ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ پرویز مشرف کی فیملی سے رابطہ کیاگیا، پرویز مشرف کی واپسی کا فیصلہ ان کی فیملی اور ان کے ڈاکٹرز نے کرنا ہے کہ وہ ان کو ایسی کنڈیشن میں سفر کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں یا نہیں، اگریہ دونوں چیزیں سامنے آجاتی ہیں تو اس کے بعد ہی کوئی انتظامات کیےجاسکتے ہیں، انسٹی ٹیوشن محسوس کرتاہے کہ جنرل مشرف کو اگر ہم پاکستان لاسکیں کیوں کہ ان کی کنڈیشن ایسی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں ادارے اور اس کی لیڈرشپ کا موقف ہے کہ پرویز مشرف کو واپس آجانا چاہیے۔

    ہفتے کے روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی پرویز مشرف کی واپسی کے خیال کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا تھا کہ جنرل مشرف کی خراب صحت کے پیش نظر ان کو وطن واپس آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ھونا چاہیے، ماضی کے واقعات کواس سلسلے میں مانع نہیں ھونے دینا چاہیے.وزیر دفاع نے سابق آرمی چیف کے لیے دعائے صحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اللہ ان کو صحت دے اور وہ عمر کے اس حصہ میں وقار کیساتھ اپنا وقت گزار سکیں۔

  • انڈین میڈیاپاکستان کے خلاف جھوٹ بولنے سے بازنہ آیا

    انڈین میڈیاپاکستان کے خلاف جھوٹ بولنے سے بازنہ آیا

    لاہور:پاکستان کے خلاف بھارتی سوچ میں تبدیلی نہ آئی ،اطلاعات کے مطابقانڈین میڈیاپاکستان کے خلاف جھوٹ بولنے سے بازنہ آیا،غلط اور منفی رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کے خلاف جھوٹ بولنا بھارتی میڈیا کا وطیرہ بن گیا ، جس طرح آج بھارتی میڈیا نے سابق صدرپاکستان جنرل پرویز مشرف کی وفات کی جھوٹی خبرپھیلا دی

    یہ پہلا موقع نہیں بلکہ بھارت نے موقع پر پاکستان کے خلاف نفرت کا بیج بویا،

    آج جہاں ایک طرف بھارتی میڈیا سابق صدرجنرل پرویزمشرف کی وفات کی جھوٹی خبریں پھیلا رہا تھا تو دوسری طرف سابق صدر کے خاندان کی طرف سے ایسی جھوٹی خبروں کو نہ صرف مسترد کیا گیا بلکہ جھوٹ قراردیا گیا مگراس کے باوجود بھارتی میڈیا ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹی خبر نشر کرتا رہا

     

    https://www.indiatoday.in/world/story/former-pakistan-president-pervez-musharraf-passes-away-1960875-2022-06-10

     

    معروف بھارتی ترجمان ٹی وی انڈیا ٹوڈے نے تو حد کردی اورمسلسل سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی وفات کی جھوٹی خبرنشرکرتا رہا ہے

     

    https://www.youtube.com/watch?v=0jtDnJkygXQ

    ایسے ہی ٹی وی 9 بھارت ورش بھی یوٹیوب کے ذریعے جھوٹی خبریں پھیلا کرپاکستانیوں کے لیےپریشانی کا سبب بنتا رہا ہے

     

    یاد رہے کہ بھارتی میڈیا کی طرف سے جھوٹی خبر کی تردید بھی کردی گئی مگربھارتی میڈی باز نہ آیا،سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے انتقال کی جعلی خبریں سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے لگیں۔

    سوشل میڈیا پر جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف دبئی کے ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔

    ان خبروں پر  سابق صدر کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے خاندان کی طرف سے بتایا گیا کہ پرویز مشرف وینٹی لیٹر پر نہیں ہیں، وہ اپنی بیماری (امائلائیڈوسس) کی پیچیدگی کی وجہ سے پچھلے تین ہفتوں سے ہسپتال میں زیر علاج ہیں

     

    ٹویٹر اکاؤنٹ سے بتایا گیا کہ ایک مشکل مرحلے سے گزرنا جہاں صحت یابی ممکن نہیں اور اندرونی اعضاء خراب اور کام کرنا چھوڑ رہے ہیں۔

     

    ٹویٹر سے آخر میں ایک مرتبہ پھر سب سے استدعا کی گئی کہ ان کی روزمرہ زندگی میں آسانی کے لیے دعا کریں۔

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ میری پرویز مشرف کے بیٹے بلال مشرف سے بات چیت ہوئی ہے، سابق صدر اپنے گھر پر ہیں اور صحتمند ہیں۔