Baaghi TV

Tag: پرچم

  • پاکستان کا 78 واں یوم آزادی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،پتوکی میں بہت بڑی کانفرنس

    پاکستان کا 78 واں یوم آزادی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،پتوکی میں بہت بڑی کانفرنس

    قصور
    تفصیلات کے مطابق آج ملک بھر کی طرح قصور میں بھی پاکستان کا 78 واں یوم آزادی قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے قصور شہر اور پورے ضلع شہروں و گردونواح میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے ریلیوں، پرچم کشائی کی تقاریب اور وطن سے محبت کے اظہار کے پروگرام جاری ہیں

    آج نماز مغرب کے بعد پاکستان مرکزی مسلم لیگ قصور کے زیرِ اہتمام سٹی پتوکی میں آج ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوگی جس میں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے
    کانفرنس میں آزادی کی اہمیت، ملک کے دفاع اور ترقی کے حوالے سے تقاریر کی جائیں گی، جبکہ قومی ترانے اور ملی نغموں کی گونج سے فضا گونج اُٹھے گی ان شاءاللہ

  • ٹانگوں سے محروم نوجوان نے موبائل ٹاور پر چڑھ کر پرچم لہرا دیا

    ٹانگوں سے محروم نوجوان نے موبائل ٹاور پر چڑھ کر پرچم لہرا دیا

    قصور
    ٹانگوں سے محروم نوجوان نے 200 فٹ اونچے موبائل ٹاور پر ہاتھوں کے سہارے چڑھ کر پاکستانی پرچم لہرا دیا،پاکستان کا جھنڈا سب سے اونچا لہرانا چاہتا ہوں،مرزا شہزاد بیگ

    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں اوراڑا نو میں پیدائشی معذور ٹانگوں سے محروم نوجوان شہزاد بیگ نے موبائل ٹاور پر ہاتھوں کے سہارے چڑھ کر پاکستانی پرچم لہرا دیا
    شہزاد بیگ پیدائشی معذور ہے جس کی دونوں ٹانگیں کام نہیں کرتیں اور وہ ہاتھوں کے سہارے چلتا پھرتا ہے
    شہزاد بیگ نے اپنی معذوری کے باوجود جذبہ حب الوطنی کا دنیا کو پیغام دینے کی خاطر 200 فٹ اونچے موبائل ٹاور پر چڑھ کر پاکستانی پرچم لہرا کر لوگوں کو پیغام دیا کہ وطن کی محبت میں معذوری آڑے نہیں آتی بس جذبہ جنوں ہونا لازم ہے
    تقریبا 25 منٹ میں شہزاد بیگ نے ٹاور پر چڑھ کر پرچم لہرایا اور واپس بھی اترا جس پر اہل علاقہ نے شہزاد بیگ کو خوب داد دی اور انعام سے بھی نوازا
    اس موقع پہ جامع نعیمیہ اوراڑا نو کے مہتمم حافظ نیاز رضا نقشبندی نے نوجوان کو انعام سے نوازہ اور گلے میں ہار ڈالے

  • سری لنکا: صدارتی محل سے پرچم چرانے والا شخص گرفتار

    سری لنکا: صدارتی محل سے پرچم چرانے والا شخص گرفتار

    سری لنکن پولیس نے صدارتی محل سے پرچم چرانے والے شخص کو گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق گرفتار شخص نے صدارتی محل سے دو پرچم چرائے تھے جنہیں وہ بیڈ شیٹ اور دھوتی کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔

    رانیل وکرما سنگھے سری لنکا کے نئے صدر منتخب

    سری لنکن پولیس کے مطابق گرفتار شخص ٹریڈ یونین لیڈر ہے جسے سوشل میڈیا پوسٹ کی مدد سے گرفتار کیا گیا سوشل میڈیا پوسٹ میں ملزم کو سرکاری صدارتی پرچموں کو بیڈ شیٹ اور دھوتی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا ملزم سےصدارتی محل سے چرایا گیا ایک پرچم بر آمد کر لیا گیا جبکہ اس نے اعتراف کیا ہے کہ دوسرا پرچم اس نے جلا دیا ہے۔

    سری لنکا:سیاسی بحران جاری، نئے صدر سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ

    یاد رہے کہ قبل ازیں سری لنکن پولیس نے صدارتی محل سے چوری کیے گئے سونے کی اشیاء کو فروخت کرنے والے 3 مظاہرین کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا تھا ان افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے اور ان کے قبضے سے 40 سے زائد قیمتی اشیاء برآمد کی گئی ہیں۔ ملزمان کو کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کردیا گیا تھا-

    واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بدترین معاشی بحران کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں مظاہرین نے صادرتی محل پر دھاوا بول دیا تھا ملزم نے اسی احتجاج کے دوران پرچم چرائے تھے احتجاج کے بعد سابق سری لنکن صدر کو ملک سے فرار ہونا پڑا تھا اور انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔

    سری لنکا: صدارتی محل سے سونے کی اشیاء چرانے والے3 مظاہرین گرفتار

  • اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    ہم پاکستانی بھی عجیب لوگ ہیں. رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے فیوض و برکات سمیٹنے کے لئے ماہ مقدس میں پکے مسلمان بن جاتے ہیں اور رب کو عبادات کے ذریعے منانے کی اور اپنے گناہ بخشوانے کی کوشش کرتے ہیں. ربیع الاول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ در و دیوار، گلی محلوں بازاروں کو سجا کر اور ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلیں سجا اور لوگوں میں نیاز تقسیم کر کے اپنی عقیدت و محبت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں.

    محرم میں غم حسین رضی اللہ عنہ میں اتنے سوگوار ہوتے ہیں کہ ان دنوں میں خوشیوں کی تقریبات کو ملتوی کر دیتے ہیں لوگ محبت حسین رضی اللہ عنہ میں اور قاتلین کربلا سے نفرت میں مجالس منعقد کرتے ہیں نوحے و مرثیے پڑھے جاتے ہیں.ماتمی جلوس نکال کر اور سینہ کوبی کر کے یزیدی لشکر کی مذمت کی جاتی ہے مظلوم کربلا کے سوگ میں کالے کپڑے پہن کر اپنے غم کا اظہار کیا جاتا ہے.

    محرم میں پانی کی سبیلیں لگا کر اور لنگر حسینی رضی اللہ عنہ تقسیم کر کے قاتلین کربلا کے اس عمل سے اپنی نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے جب انہوں نے کربلا کے مسافروں پر کھانا اور پانی بند کیا.

    اسی طرح اگست کے مہینے میں قومی یکجہتی کے اظہار کے لئے اور ایک الگ وطن حاصل کرنے کی خوشی میں گھروں پر اور عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں. گلی محلوں میں ملی نغموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں گھروں کو جھنڈیوں سے سجایا جاتا ہے عمارتوں پر لائٹنگ کی جاتی ہیں اور ریلیاں نکال کر اپنی خوشی کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے.

    لیکن ہوتا کیا ہے ہماری عبادات صرف رمضان المبارک، عشق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح اظہار صرف ربیع الاول میں، مظلوم کربلا سے اظہار یکجہتی صرف محرم میں اور حب الوطنی کے جذبات صرف اگست میں بیدار ہوتے ہیں. کیا ان مہینوں کے علاوہ ہم مسلمان، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عاشق حسین رضی اللہ عنہ اور محب وطن نہیں ہیں.

    آئیں ہم آج کے بعد مخصوص مہینے کے لئے نہیں بلکہ پوری زندگی کے لئے مسلمان اور محب وطن بن جائیں اگست کا مہینہ ہے تو ہم اپنی ابتدا اسی مہینے سے کرتے ہیں ہم اپنی خود احتسابی کرتے ہیں کیا یہ ملک کسی مخصوص فرقے کے لئے حاصل کیا گیا یا مسلمانوں کے لئے، اگر مسلمانوں کے لئے حاصل کیا گیا تو ہم نے دیگر فرقوں کے مسلمانوں کے لئے اس ملک کو جہنم کیوں بنا دیا.

    قائد اعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم مسلمانوں کے لئے اس علیحدہ خطے کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے مذہب کے مطابق آزادی سےزندگی گزار سکیں لیکن افسوس آج ہم اپنے قائد کے فرمان کو بھول کر سیاسی، نسلی، لسانی تعصبات کا شکار ہو گئے فرقہ بندیوں میں پڑ گئے جس قوم نے مضبوط ہو کر دیگر مظلوم مسلمان اقوام کی مدد کرنی تھی وہ آج خود مدد کے لئے غیر مسلم حکومتوں کی طرف دیکھ رہی ہے.

    اس سب کی وجہ صرف فرقہ واریت اور عدم برداشت ہے ہم جب تک فرقہ واریت سے پاک رہے ہماری ترقی کی رفتار قابل رشک تھی دنیا کی دیگر اقوام ہمیں رشک سے دیکھتی تھیں لیکن پھر ہم نے آپس کی محبت ختم کر دی اور اپنا اتحاد ختم کر کے ٹکڑوں میں بٹ گئے آج یہ حالت ہے کہ ہم نے جن سے آزادی حاصل کی اب انہی کے ملک میں جانا اور وہاں اپنے خاندان سمیت مستقل رہائش اختیار کرنا ہماری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے.

    ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ایک ہیں لیکن ہم عملی طور پر اس پرچم کے سائے تلے ایک نہیں ہیں. ہمیں ایک ہونے کے لئے اپنے دلوں میں سے ہر قسم کے تعصبات کو ختم کرنا ہوگا. ہمیں ایک دوسرے کی نیک نیتی پر یقین کرنا ہو گا ہمیں اس طرح آپس میں متحد ہونا پڑے گا جیسے 1947 میں تمام مسلمان قائد اعظم کی قیادت میں فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر متحد تھے.

    بڑے بڑے علماء کرام نے اس حقیقت کو تسلیم کر کے کہ حقیقی آزادی قائد اعظم کی قیادت میں ملے گی آپ کو اپنا راہنما تسلیم کیا اور مساجد اور ممبر رسول سے لوگوں کو آپ کی قیادت پر متفق کیا. اسی جذبے کی ہمیں آج ضرورت ہے تاکہ ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکیں کہ "اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں”

  • کیاسعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہی ہے تو پھرکیوں کیا جارہا ہے؟

    کیاسعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہی ہے تو پھرکیوں کیا جارہا ہے؟

    ریاض :سعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہے تو پھرکیوں کیا جارہا ہے؟،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اپنے قومی ترانہ اور سبز پرچم سے متعلق شاہی فرمان میں تبدیلی کے قریب ہے جو اسلامی عقائد اور اسلام کے مرکز کی عکاسی کرتا ہے۔

    خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی غیرمنتخب شوریٰ کونسل نے تبدیلیوں کے حق میں ووٹ دیا اور یہ سعودی ولی عہد کی جانب سے سعودی قومیت اور قومی فخر کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

    شوریٰ کے فیصلوں پر موجودہ قوانین اور ڈھانچہ اثرانداز نہیں ہوتا تاہم ووٹ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اس کے اراکین کا تقرر فرماں روا کرتے ہیں اور اس کے فیصلے عموماً قیادت کی رضامندی سے ہوتے ہیں۔

    سرکاری میڈیا نے رپورٹ میں بتایا کہ تبدیلیاں پرچم، نعرہ اور قومی ترانے کے نظام میں ترامیم کے حق میں ہیں لیکن اس کے مندرجات سے نہیں ہیں۔

    مقامی میڈیا نے بتایا کہ مجوزہ تبدیلیاں ریاستی نشانات کے باقاعدہ استعمال کے لیے واضح تعریف، پرچم کی اہمیت کی آگاہی پھیلانے اور پرچم کو بے حرمتی یا نظرانداز ہونے سے بچانے کے حوالے سے ہیں۔

    اس حوالے سے مقامی میڈیا کا کہنا ہےکہ گزشتہ ہفتے سعودی پولیس نے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 4 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن پر الزام تھا کہ سعودی پرچم کو کچرا کنڈی میں جمع کرکے اس کی بے حرمتی کی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شوریٰ کونسل نے پرچم سے متعلق تقریباً 50 سالہ پرانے شاہی فرمان میں ترامیم کے ڈرافٹ کی منظوری کے لیے ووٹ دیا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ترامیم کونسل کے رکن سعد العطیبی نے پیش کی تھیں اور کونسل کے اراکین میں بحث سے قبل ذیلی کمیٹی میں زیر بحث آئی تھیں۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے بزرگ والد شاہ سلمان کی حمایت کے ساتھ سعودی شناخت کا تعین نو کر رہے ہیں، جس کی تعریف پہلے سے وضع نہیں کی گئی ہے۔اس کی تازہ مثال حال ہی میں جاری ہونے والا شاہی فرمان ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 22 فروری کو سعودی عرب کا یوم تاسیس منایا جائے گا۔

    قومی دن 18 ویں صدی میں محمد بن سعود کی جانب سے پہلی سعودی ریاست کے قیام کے لیے کی جانے والی کوشش کی یاد میں منایا جائے گا۔

    حکومت نے ہدایات دی ہیں کہ اسی ہفتے میں سعودی عرب میں ریسٹورنٹس اور کافی شاپس عربک کافی کو سعودی کافی کا نام دیں جو ثفاقتی عناصر کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کی کوشش ہے، جس سے سعودی شناخت اور اس کے روایات کا اظہار ہوتا ہے۔

    یاد رہے کہ 1973 میں سعودی پرچم میں سفید رنگ میں کلمہ طیبہ لکھا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمدﷺ اللہ کے آخری پیغمر ہیں۔

    سعودی پرچم میں کلمہ طیبہ کے نیچے تلوار ہے، اسی طرح مکہ میں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان زائرین عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں جہاں پیغمبر آخرالزمان ﷺ کی ولادت ہوئی اور وحی نازل ہوئی۔

    سعودی عرب کے پرچم اور قومی ترانے کے قانون میں تبدیلی سے متعلق شوریٰ کونسل کی تجاویز صرف سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کی جارہی ہیں جو حتمی منظوری کے لیے فرماں روا شاہ سلمان کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

  • محب وطن بلوچ کی ہلالی پرچم سے وفا … عبدالحمید صادق

    محب وطن بلوچ کی ہلالی پرچم سے وفا … عبدالحمید صادق

    جب محبت اپنے عروج کو پہنچتی ہے تو پھر اس کی راہ میں بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی زیر ہو جایا کرتی ہے….. ایسا ہی کچھ معاملہ بلوچوں کے دلوں کی دھڑکن، محب وطن بلوچ رہنما جناب سراج رئیسانی شہید کا تھا، وہ وطن کی محبت میں مارے مارے پھرتے تھے، ان کا جینا مرنا پاکستان کے لیے تھا.
    اپنے ہر پروگرام اور سفر میں سبز ہلالی پرچم کو اپنے ساتھ رکھتے تھے….. یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس پرچم کے بغیر ان کی زندگی نامکمل ہے…… اور واقعتاً یہ بات حقیقت ثابت ہوئی.
    انہوں نے پاکستان کی محبت میں ڈیڑھ کلو میٹر لمبا جھنڈا بنوایا اور ان کی یہ خواہش تھی کہ یہ جھنڈا بلوچستان کے بلند و بالا پہاڑوں پر اس انداز سے لہرایا جائے کہ دور سے آنے والے لوگوں نظر آئے اور وطن دشمنوں کو للکارے.
    بلوچستان کہ جہاں اس قدر وطن دشمن تنظیمیں موجود ہوں، وہاں پاکستان کا جھنڈا اتنی دلیری سے لہرانا کوئی عام بات نہیں کیونکہ ایک وقت تھا کہ وہاں پاکستان کا نام لینے والوں کو گولی مار دی جاتی تھی.
    افسوس کہ انڈین فنڈڈ بی ایل اے نے سراج رئیسانی کو شہید کر دیا لیکن یہ جھنڈا اس کے بعد ان کے بہادر بیٹے جمال رئیسانی نے اس پہاڑی پر لگا کر اپنے والد کی خواہش پورا کر دیا ایسا بہادر بلوچوں اور افواج پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے آج دشمن کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری تباہ ہو گئی۔
    وہ بلوچستان کہ جہاں لوگ عدالتوں میں کھڑے ہو کر پاکستان مخالف نعرے لگاتے تھے آج وہی نادانی میں بھٹک جانے والے بلوچ جوق در جوق ریاست پاکستان کو تسلیم کر کے پہاڑوں سے اتر کر ، ہتھیار پھینک کر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔
    ان کے بیٹے جمال کا کہنا ہے کہ بابا کی یہ خواہش تھی کہ وطن کی محبت میں جان قربان کر جاؤں اور وہی ہوا کہ بابا جان کو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے اور سبز ہلالی پرچم لہرانے کی پاداش میں شہید کیا گیا اور ہمیں اس بات پر فخر ہے.
    آج وہی بلوچستان ہے کہ جس میں دشمن کی مسلسل سازشوں کی وجہ سے پاکستان کا نام لینا بھی مشکل تھا آج وہاں محب وطن بلوچوں اور افواج پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کی وجہ سے ہر شخص وطن پر جاں نچھاور کرنے کو تیار ہے.
    اللہ تعالٰی دشمن کی سازشوں کو ناکام کرے اور جناب رئیسانی کی اس عظیم قربانی کو قبول فرمائے. آمین
    ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن
    تم کو زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک