Baaghi TV

Tag: پریانتھا کمارا

  • پریانتھا کمارا قتل کیس کی پیروی کیلئے نئی پراسیکیوشن کمیٹی تشکیل

    پریانتھا کمارا قتل کیس کی پیروی کیلئے نئی پراسیکیوشن کمیٹی تشکیل

    سیالکوٹ میں قتل کیے جانے والے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے قتل کیس کیلئے نئی پراسیکیوشن کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی : سیکرٹری پراسیکیوشن کا کہنا ہےکہ پریانتھا کمارا کے قتل کیس کی پیروی کرنے والی پرانی کمیٹی تحلیل کرکے نئی کمیٹی تشکیل دینے کا مقصد کیس میں بہترین قانونی معاونت فراہم کرنا ہے-

    اپوزیشن پیکا آرڈیننس کی منسوخی کے لیے پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرے گی

    سیکرٹری پراسیکیوشن نے بتایا کہ نئی کمیٹی کے پانچ ارکان میں سینیئر اور تجربہ کار پراسیکیوٹرز شامل ہیں کمیٹی تمام عدالتی کارروائی کے بارے میں آگاہ کرے گی،کیس میں انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے سابقہ پراسیکیوشن کمیٹی تحلیل کی گئی ہے۔

    دوسری جانب گوجرانوالا کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پریانتھا کمارا قتل کیس میں تفتیشی آفیسر نے چالان جمع کروانےکے لیے مہلت مانگ لی تفتیشی آفیسر نے چالان جمع کروانےکے لیے عدالت سے مہلت طلب کرتے ہوئےکہا کہ آئندہ پیشی سے قبل چالان عدالت میں جمع کروا دیا جائےگا۔

    عدالت نے14 مارچ کو ہونے والی آئندہ سماعت پر مقدمےکا چالان جمع کروانےکا حکم دے دیا۔

    پیکا قانون سےآزادی صحافت متاثرنہیں ہورہا پیکا ترمیمی آرڈینس بہت ضروری ہے،وزیراعظم

    واضح رہےکہ گزشتہ سال دسمبر میں سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کےتشدد سے ہلاک ہوگیا تھااسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا تھا پریانتھا کمارا جان بچانے کیلئے بالائی منزل پر بھاگے لیکن فیکٹری ورکرز نے پیچھا کیا اور چھت پر گھیر لیا، مار مار کر ادھ موا کردیا۔

    انسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈز روکنے میں ناکام رہےتھے تاہم فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے ، مار مار کر جان سے ہی مار دیا، اسی پر بس نہ کیا، لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہر چوک پر لے گئے، ڈنڈے مارے، لاتیں ماریں اور پھر آگ لگا دی۔

    ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 27 روپے ایک پیسے کا اضافہ

  • سیالکوٹ بزنس کمیونٹی کیجانب سے پریانتھا کمارا کے اہلخانہ کیلئے 0.1 ملین ڈالر امداد

    سیالکوٹ بزنس کمیونٹی کیجانب سے پریانتھا کمارا کے اہلخانہ کیلئے 0.1 ملین ڈالر امداد

    سیالکوٹ: پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کی بیوہ کے لئے سیالکوٹ بزنس کمیونٹی نے پاکستان سے امداد بھجوائی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی کی جانب سے سیالکوٹ میں اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری میں غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا جسے توہین مذہب کے نام پر فیکٹری ورکرز کے ہجوم نے ہلاک کیا تھا کی بیوہ کے بینک اکاؤنٹ میں 0.1 ملین ڈالر منتقل کیے ہیں-

    سیالکوٹ میں افسوسناک واقعہ: لوگوں کو اشتعال دلانے والا دوسرا ملک دشمن،اسلام دشمن…

    علاوہ ازیں پریانتھا کی فیکٹری کی جانب سے بھی ان کی تنخواہ 1667 یو ایس ڈالر بھی اس کی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی ہے۔


    دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پریانتھا کمارا قتل کیس میں گرفتار 79 ملزمان کا مزید چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے 31 جنوری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا گوجرانوالہ کی انسداددہشت گردی عدالت میں پریانتھا کمارا قتل کیس کی سماعت ہوئی ، پولیس نے 79 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا۔

    یقین سے کہتا ہوں کہ عمران خان ذمے داروں کوکٹہرے میں لائیں گے،سری لنکن وزیراعظم کی…

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش :مذہبی انتہا…

    پولیس نے عدالت کو بتایا 7ملزمان کو پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے، آج پیش کئےگئے79 ملزمان میں ایک اورملزم کی گرفتاری ہوئی ہے عدالت نے تمام 79 ملزمان کا مزید چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا اور تمام ملزمان کو 31 جنوری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

    یاد رہے پولیس نے سانحہ سیالکوٹ کے ابتدائی چالان میں 85ملزمان کونامزد کیا تھا جبکہ 10 سے 12 مرکزی ملزمان قرار دیئے گئے تھے ، مرکزی ملزمان میں متعدد فیکٹری کے ملازمین شامل ہیں۔

    صفائی ستھرائی کے لیے جس سپروائزر کی پریانتھا نے سرزنش کی اسی نے ورکرز کو اشتعال دلایا، پولیس رپورٹ

    واضح رہے کہ گزشتہ برس 3 دسمبر کو سیالکوٹ میں اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا تھاانسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈز روکنے میں ناکام رہے پریانتھا کمارا پر جب فیکٹری ملازمین نے حملہ کیا تو پروڈکشن منیجر نے انہیں چھت پر چڑھا کر دروازہ بند کردیا،تاہم 20 سے 25 مشتعل افراد دروازہ توڑ کر اوپر آگئے اور پریانتھا پر حملہ کردیا، اس موقع پرپروڈکشن منیجر درخواست کرتا رہا کہ پریانتھا نےکچھ کیا ہے تو انہیں پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں۔تاہم ہجوم نے ایک نہ سنی اور الٹا پروڈکشن منیجر کو زدوکوب کیا۔

    مقتول سری لنکن منیجر کی اہلیہ کا پہلا بیان:وزیراعظم عمران خان ہمیں‌ انصاف چاہیے

    فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے ، مار مار کر جان سے ہی مار دیا، اسی پر بس نہ کیا، لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہرچوک پرلےگئے، ڈنڈے مارے، لاتیں ماریں اور پھر آگ لگا دی پریانتھا کمارا جان بچانے کیلئے بالائی منزل پر بھاگے لیکن فیکٹری ورکرز نے پیچھا کیا اور چھت پر گھیر لیا۔

    پریانتھا کمارا کے بھائی کمالا سری نتاشا کمارا کا کہنا تھا کہ وہ تحقیقات سے مطمئن ہیں، انہیں پاکستان پسند ہے اور اب بھی ان کے پاکستان کے بارے میں خیالات اچھے ہیں، حکومت ایسے اقدامات کرے کہ ایسا مزید کوئی واقعہ رونما نہ ہو۔

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ پیش،گرفتار افراد میں سے 13اہم ملزمان کی تصاویر جاری

    کمالا سری نتاشا کمارا نے کہا تھا کہ ان کے گھر والے اب تک ہونے والی تحقیقات سے مطمئن ہیں، پاکستانی حکومت کی تحقیقات درست سمت میں ہیں، وزیر اعظم سنجیدگی سے معاملے کو دیکھ رہے ہیں، پاکستان حکومت سے گزارش ہے کہ بھائی کے بچوں کیلئے کچھ کرے انہوں نے کہا تھا کہ ان کا بھائی ہنس مکھ ، انجینئر اور فیملی میں سب سے چھوٹا تھا، وہ ہمیشہ پاکستان کی تعریف کرتا تھا ، اس نے کبھی پاکستان سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی۔

    پریانتھا کمارا کے بھائی کا کہنا تھا کہ ان کا ایک بھائی کراچی میں ملازمت کرتا ہے اور وہ ابھی بھی کراچی میں موجود ہے، ہمیں پاکستان پسند ہے، ایسا واقعہ کہیں بھی ہوسکتا ہے پاکستان کے بارے میں ہمارے خیالات اب بھی اچھے ہیں۔ وہ خود بھی فیصل آباد میں ملازمت کرتے تھے، پاکستانی لوگ بہت ملنسار ہیں، وہ بہت سے ممالک میں رہے، ہر جگہ اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں، پاکستانی حکومت ایسے اقدامات کرے کہ مزید ایسے واقعات نہ ہوں۔

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ، سیالکوٹ واقعہ پرکی مذمت

  • سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ پیش،گرفتار افراد میں سے 13اہم ملزمان کی تصاویر جاری

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ پیش،گرفتار افراد میں سے 13اہم ملزمان کی تصاویر جاری

    سیالکوٹ واقعے میں ملوث 100 سے زائد ملزمان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

    باغی ٹی وی : سیالکوٹ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہےاس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ واقعہ میں ملوث دیگر ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے۔


    پنجاب پولیس نے سیالکوٹ واقعے کی ابتدائی رپورٹ متعلقہ حکام کوبھیج دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ واقعے میں ملوث 118 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے 160 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرلی گئی ہے جو 12 گھنٹوں کی ہے۔


    ان گرفتاریوں میں سے سیالکوٹ واقعے میں ملوث 13 ملزمان کی شناخت ہوچکی ہے جن کے نام یہ ہیں:لاش کو گھسیٹنے والا احتشام، جلتی لاش کے ساتھ سیلفی لینے والا جنید ، میڈيا کے سامنے اعتراف جرم کرنے والے طلحہ عرف باسط اور فرحان ادریس، ورکرز کو اشتعال دلانے والا صبور بٹ، تشدد میں ملوث عثمان رشید ، شاہ زیب احمد ، عمران ، عبدالرحمان ، شعیب عرف گونگا، اور راحیل عرف چھوٹا بٹ، پرتشدد ہجوم میں شامل ناصر،فیکٹری کی چھت پر اینٹ اٹھاکر مارنےوالا تیمور احمد بھی گرفتار ہے-


    اس کے باوجود ابھی اور بہت سے چہرے ہیں جو با آسانی شناخت کیے جاسکتے ہيں پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان کے موبائل فونز کا ڈیٹا حاصل کر کے اس کا فارنزک آڈٹ کرایا جا رہا ہے۔

    پنجاب پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے واقعے سے متعلق تفتیش کی جا رہی ہے۔

    سری لنکن منیجر کو بچانے والے شہری کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیاسیالکوٹ واقعے کی ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھاجاسکتا ہےکہ وحشی ہجوم کے درمیان ایک بے بس شخص لوگوں کے سامنے ہاتھ جوڑتا رہا اور پریانتھا کمارا کی زندگی کی بھیک مانگتا رہا، لیکن بے حس ظالم ہجوم میں سے کسی نے ایک نہ سنی، الٹا اسی کو دھکے مارےگئے، دائیں بائیں گھسیٹا گیا۔

    کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں عروج پر: بھارتی فوج اورپولیس صحافیوں کومار…

    پریانتھا کمارا کو بچانےکی کوشش کرنے والوں میں ایک اور شخص بھی تھا جس نے اسےکَور کیا ہوا تھا اور خود مار کھا رہا تھا اور اسے بچانےکی کوشش کر رہا تھا۔پولیس نے دیگر ملزمان کے علاوہ دونوں افرادکو بھی اپنی تحویل میں لے رکھا ہے پریانتھا کمارا کو بچانےکے لیے خود کی جان خطرے میں ڈالنے والا دوسرا شخص اسی فیکٹری کا پروڈکشن منیجر تھا جو کہ جان ہتھیلی پر رکھ کر پریانتھا کمارا کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق پریانتھا کمارا پر جب فیکٹری ملازمین نے حملہ کیا تو پروڈکشن منیجر نے انہیں چھت پر چڑھا کر دروازہ بند کردیا،تاہم 20 سے 25 مشتعل افراد دروازہ توڑ کر اوپر آگئے اور پریانتھا پر حملہ کردیا، اس موقع پر پروڈکشن منیجر درخواست کرتا رہا کہ پریانتھا نےکچھ کیا ہے تو انہیں پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں۔تاہم ہجوم نے ایک نہ سنی اور الٹا پروڈکشن منیجر کو زدوکوب کیا۔

    سیالکوٹ میں افسوسناک واقعہ: لوگوں کو اشتعال دلانے والا دوسرا ملک دشمن،اسلام دشمن…

    واضح رہے کہ سیالکوٹ واقعے کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ کے مطابق غیر ملکی شہری تشدد سے ہلاک ہوا۔ ہلاکت کے بعد لاش کو جلایا گیا۔

    واضح رہے کہ سری لنکا کے وزیر نوجوانان اور اسپورٹس نمل راجہ پاکسا نے پریانتھا کمارا کے گھر پہنچے جہاں انہوں نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی سری لنکن وزیراعظم مہندر راجہ پاکسا کے وزیر بیٹے نمل راجہ پاکسا سیالکوٹ میں قتل ہونے والے فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا کے دارالحکومت کولمبو کے گھر پہنچےملاقات میں مقتول فیکٹری منیجر کی اہلیہ اور دو بچے بھی موجود تھے۔

    یقین سے کہتا ہوں کہ عمران خان ذمے داروں کوکٹہرے میں لائیں گے،سری لنکن وزیراعظم کی…

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش :مذہبی انتہا…

    سری لنکن وزیراعظم کے بیٹے نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کی اپیل کی۔

    اس سے قبل برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو میں مقتول فیکٹری منیجر کی اہلیہ کا کہنا تھاکہ میرے شوہر معصوم انسان تھے، خبروں سے پتا چلا کہ بیرون ملک اتنا کام کرنے کے باوجود میرے شوہر کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا انہوں نے سری لنکا کے صدر اور پاکستان کے صدر و وزیر اعظم سے منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ میرے شوہر اوردو بچوں کو انصاف دیا جائے۔

    مقتول فیکٹری منیجر کے بھائی کا کہنا تھاکہ پریا نتھا 2012 سے سیالکوٹ کی اس فیکٹری میں ملازمت کر رہے تھے، فیکٹری کے مالک کے بعد پریانتھا نے ہی اس کا تمام انتظام سنبھالا ہوا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق تعلیم کے اعتبار سے پریا نتھا کمارا ایک انجینیئر تھے اور ان کے دو بچے ہیں جن کی عمریں 14 اور 9 سال ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا، پریانتھا کمارا جان بچانے کیلئے بالائی منزل پر بھاگے لیکن فیکٹری ورکرز نے پیچھا کیا اور چھت پر گھیر لیا۔

    انسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈز روکنے میں ناکام رہے، فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے ، مار مار کر جان سے ہی مار دیا، اسی پر بس نہ کیا، لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہر چوک پر لے گئے، ڈنڈے مارے، لاتیں ماریں اور پھر آگ لگا دی۔

    دوسری طرف سری لنکن وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے سانحہ سیالکوٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقین محکم سے سری لنکن عوام کو یقین دہانی کرواتا ہوں کہ عمران خان ذمے داروں کوکٹہرے میں لائیں گے،

    مقتول سری لنکن منیجر کی اہلیہ کا پہلا بیان:وزیراعظم عمران خان ہمیں‌ انصاف چاہیے

    ہفتہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے لکھا کہ سری لنکن منیجر کے پاکستان میں قتل پر صدمے میں ہوں، میری ہمدردی سری لنکن منیجر کے اہلخانہ کیساتھ ہے،وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے کہا کہ سری لنکا اور اس کے عوام کو وزیراعظم عمران پر یقین ہے، ہمیں پورا یقین ہے کہ عمران خان ذمے داروں کو کٹہرے میں لائیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سری لنکن صدر کو یقین دلایا کہ سانحہ سیالکوٹ میں ملوث ملزمان کیخلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    صفائی ستھرائی کے لیے جس سپروائزر کی پریانتھا نے سرزنش کی اسی نے ورکرز کو اشتعال دلایا، پولیس رپورٹ

  • سیالکوٹ واقعہ: سیاسی و معروف شخصیات کا اظہار افسوس

    سیالکوٹ واقعہ: سیاسی و معروف شخصیات کا اظہار افسوس

    سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کے تشدد سے ہلاک ہوگیا تھا مشتعل افراد نے لاش کو سڑک پر گھسیٹا اور آگ لگا دی تھی-

    باغی ٹی وی : اسپورٹس گارمنٹ فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن مینیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کیا تھا مشتعل افراد کا دعویٰ تھا کہ مقتول نے مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے تھے، مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی فیکٹری کا منیجر پریانتھا کمارا جان بچانے بالائی منزل پر بھاگا ، فیکٹری ورکرز نے چھت پر گھیر لیا، مار مار کر بے دم کردیا ، انسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈ روکنے میں ناکام رہے جس پر معورف سماجی و سیاسی شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا ہے-

    وزیاراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی امور طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعے کی مذمت کرتے ہیں، بطور مسلمان اس واقعے پر شرمندہ ہوں، ان افراد نے اسلام کو مسخ کیا ایسا کرنےوالوں نے اسلام کو بدنام کیا ہے، توہین مذہب کے قوانین موجود ہیں، جو بھی مجرم ہیں ان کو چھوڑا نہیں جائےگا، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائےگاجن عناصر نے یہ کام کیا انہوں نے کوئی خدمت نہیں کی بلکہ توہین مذہب سے متعلق قانون کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے کوئی ایک ایف آئی آر بھی توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کی درج نہیں کی گئی، اسی ہفتے سری لنکا کے سفارتخانے میں تمام مکاتب فکر کے افراد تعزیت کیلیے جائیں گے اب تک 50 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، سی سی ٹی وی ویڈیو کی مدد سے دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

    سیالکوٹ، توہین مذہب کے الزام پر شہری کا قتل،وزیراعظم کا نوٹس،گرفتاریاں شروع

    لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعے پر ہم فیکٹس کو دیکھ رہے ہیں، اگر پولیس کی غفلت یا کوتاہی سامنے آئی تو فوری کارروائی ہوگی 48 گھنٹے میں انکوائری رپورٹ طلب کی گئی ہے، ملزموں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دیں گے فون کال اور پولیس رسپانس میں 20 منٹ کا وقت لگا ہے، 48 گھنٹوں میں اس بات کا تعین کریں گے کہ کیا کسی سرکاری افسر کی کوئی کوتاہی تھی یا نہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیالکوٹ میں فیکٹری منیجر کے ہجوم کے ہاتھوں قتل کی مذمت کی اور اسے شرمناک اقدام قرار دیا انہوں نے اس معاملے میں سول انتظامیہ کو مدد کی پیشکش بھی کی اور کہا کہ گھناؤنےجرم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سول انتظامیہ کو مدد فراہم کی جائے گی۔

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ میں مشتعل گروہ کا ایک کارخانے پر گھناؤنا حملہ اور سری لنکن منیجر کا زندہ جلایا جانا پاکستان کے لئے ایک شرمناک دن ہے میں خود تحقیقات کی نگرانی کررہا ہوں اور دوٹوک انداز میں واضح کردوں کہ ذمہ داروں کو کڑی سزائیں دی جائیں گی واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹر پر سیالکوٹ واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے مریم نواز نے کہا کہ سیالکوٹ میں ہونے والے دل خراش واقعہ نے دل چیر کے رکھ دیا کیا یہ درندگی ہماری پہچان، ہمارا اور آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے؟ کیا یہ ملک ایک محفوظ ملک تصور ہو گا؟ یہاں حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں، انسان سوال کرے بھی تو کس سے کرے؟۔

    معروف عالم دین اور مبلع مولانا طارق جمیل نے سیالکوٹ واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے سیالکوٹ میں ناموسِ رسالت کی آڑ میں غیر ملکی کو زندہ جلا دینے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے محض الزام کی بنیاد پر قانون کو ہاتھ میں لینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

    وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ سیالکوٹ واقعہ بہت دلخراش ہے، وفاقی حکومتی ادارے واقعے کی تحقیقات میں پنجاب حکومت کی معاونت کررہے ہیں، نیشنل کرائسس سیل واقعے کے محرکات کا جائزہ لے رہا ہے، واقعے میں ملوث افراد کو قانون کی عدالت میں لائیں گے ،مذہب کے نام پر انتہا پسندی کے واقعات کو روکنے کے لئے پورے معاشرے کو ملکر کام کرنا ہوگا۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا کہ واقعے کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، ہمیں امن، محبت اور رحم کے پیغام پر کاربند ہونے کی ضرورت ہے۔

    نورمقدم کیس، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، ماں نے چال چل دی

    ن لیگ کے رہنما پرویز رشید نے سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کی ہلاکت پر سری لنکا سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ ʼوہ اپنے ہم وطنوں کو سمجھانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ پرویز رشید نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر لکھاسری لنکا ہم آپ کے مجرم ہیں،اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ سیالکوٹ واقعہ اور اس کے تمام کردار تماشائیوں سمیت انسانیت کے نام پر دھبا ہیں

    ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نےکہا کہ ملک کو آئین و قانون کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا اور توہین مذہب جیسے سنگین جرم سے نمٹنے کے لئے قانون کی موجودگی کے باوجود محض الزام کی بنیاد پر کسی شخص کی جان لینا کسی طور رحمت اللعالمینﷺ کے پیغام کی تفسیر نہیں اور قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سیالکوٹ واقعے کو اسلام اور انسانیت کی توہین قرار دیتے ہوئے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور مجرموں کی گرفتاری اور قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    جہانگیر ترین نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ میں تشدد کی بہیمانہ کارروائی پر گہرا صدمہ! میرا دل پریانتھا کمارا کے خاندان کے لیے جاتا ہے،ہمارے نبی ﷺ صبر کی انتہا تھے، تشدد کی کارروائی کرنا، وہ بھی ناموس رسالتؐ کے نام پر، اسلام کی بہت بڑی توہین ہے۔

    شاہد آفریدی نے سیالکوٹ میں مشتعل افراد کے ہاتھوں سری لنکن شہری کی ہلاکت پر ردّعمل دیتے ہوئے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر قرآن پاک کی آیت کا ترجمہ لکھا۔اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’جس نے کسی ایک انسان کا قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا۔

    امریکا،سکول میں فائرنگ 3 طالبعلم ہلاک،ٹیچر سمیت 6 افراد زخمی

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے سیالکوٹ واقعے کو انتہائی قابل افسوس اور اسلام و شرفِ انسانیت کی توہین قرار دیا ہے سراج الحق نے ایک بیان میں سیالکوٹ میں فیکٹری منیجر کے ہجوم کے ہاتھوں قتل پر کہا کہ اس واقعے کا اسلام اور دینی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہےسری لنکن فیکٹری منیجر کا بے دردی سے قتل پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے۔واقعہ انتہائی قابل افسوس اور اسلام و شرفِ انسانیت کی توہین ہے، سیالکوٹ واقعے کا اسلام اور دینی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں واقعےکی تحقیقات کی جائیں اور مجرموں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کےتشدد سے ہلاک ہوگیا،اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا، پریانتھا کمارا جان بچانے کیلئے بالائی منزل پر بھاگے لیکن فیکٹری ورکرز نے پیچھا کیا اور چھت پر گھیر لیا، مار مار کر ادھ موا کردیا فیکٹری گارڈز روکنے میں ناکام رہے، فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے ، مار مار کر جان سے ہی مار دیا، اسی پر بس نہ کیا، لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہر چوک پر لے گئے، ڈنڈے مارے، لاتیں ماریں اور پھر آگ لگا دی۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر(ڈی پی او) عمرسعید ملک کے مطابق ملازمین نے الزام عائد کیا کہ منیجر نے ایک پوسٹر پھاڑ کر مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے جس کے بعد ملازمین نے فیکٹری میں ہجوم کی شکل اختیار کرلی

    کراچی: تین ہٹی کے قریب جھگیوں میں آگ کیسے لگی؟ پولیس معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی

    واقعہ سیالکوٹ کے علاقے وزیر آباد روڈ پر پیش آیا، ہجوم نے منیجر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مارنے کے بعد لاش گھسیٹ کر جی ٹی روڈ پر لے گئے اورآگ لگادی، جی ٹی روڈ پرڈھائی گھنٹے تک ٹریفک بلاک رہی جسے بعد میں کھلوا دیا گیا

    مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی،فیکٹری منیجر کے قتل اور اس کی لاش نذر آتش کرتے ہوئے ہجوم میں شامل افراد کی جانب سے بے حسی کا افسوس ناک مظاہرہ سامنے آیا،ہجوم میں سے کسی نے مشتعل افراد کو روکنے کی کوشش نہیں کی، کچھ لوگ تشدد کی وڈیو بناتے اور سیلفیاں لیتے رہے، کچھ افراد لاش پر بھی ڈنڈے برساتے رہے ، باقی ہجوم خاموش تماشائی بنا رہا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    لاہور: پولیس کا غیر اخلاقی کارنامہ، 10 ماہ میں 16 ہزار شکایات درج کرنے سے گریز

    فیکٹری کے سری لنکن منیجر کے قتل کو روکنے میں پولیس ناکام رہی، پولیس اہلکار پہلے تو پہنچے ہی دیر سے، پھر مشتعل ہجوم دیکھ کر مزید پولیس اہلکار بلوائے لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی، پریانتھا کمارا قتل ہوچکا تھا اور اس کی لاش جلائی جاچکی تھی،خاموش تماشائی بنے رہنے کا جواز پولیس نے یہ گھڑا کہ ہجوم بے قابو تھا، لوگ بہت تھے اور مشتعل تھے۔ریسکیو 1122 والے بھی کچھ نہ کرسکے اور کہا کہ ہم وردی میں تھے ممکن ہی نہ تھا کہ مشتعل لوگوں میں گھس کر پٹنے والے شخص کو بچانے کے لیے کوئی مداخلت کرتے، جب پولیس نے ہجوم کو نہیں روکا تو ہم کہاں سے ریسکیو کرتے؟۔

    فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ پرانتھا کمارا کےحوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، جب اس معاملےکی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کےہتھےچڑھ گیا تھا

    پولیس کو تقریباً صبح پونے گیارہ بجے اطلاع دی تھی، جب پولیس پہنچی تو نفری کم تھی، پولیس کی مزید نفری پہنچنے سے پہلے پرانتھا ہلاک ہوچکا تھا۔فیکٹری مالک نے بتایا کہ پرانتھا کمارا نے 2013 میں بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا تھا، پرانتھا کمارا محنتی اور ایماندار پروڈکشن منیجر تھے۔

    آن لائن گیم پر دوستی،لڑکے سے ملنے لاہور پہنچنے والی لڑکی کے ساتھ خوفناک حادثہ