Baaghi TV

Tag: پریشان

  • سال 2023 بھی امریکیوں کے لیے اچھا نہیں رہے گا:حقائق سامنے آگئے

    سال 2023 بھی امریکیوں کے لیے اچھا نہیں رہے گا:حقائق سامنے آگئے

    واشنگٹن :سال 2023 بھی امریکیوں کے لیے اچھا نہیں رہے گا:حقائق سامنے آگئے،اطلاعات کے مطابق ریاستہائے متحدہ میں ایک حالیہ سروے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ امریکی 2023 میں امریکی امکانات کے بارے میں بڑی حد تک مایوسی کا شکار ہیں، آبادی کی اکثریت اس سال سیاسی تنازعات اور معاشی مشکلات سے بھرپور ہونے کی توقع رکھتی ہے۔

    امریکہ میں مقیم پولسٹر گیلپ کے مطابق، امریکیوں نے نئے سال کا آغاز قوم کے لیے "زیادہ تر اداس نظریے کے ساتھ” کیا۔سروے کے مطابق، نوے فیصد امریکیوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ یہ سال امریکہ میں سیاسی تنازعات کا دور ہوگا۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی عوام کو 6 جنوری 2021 کے حملے کے بارے میں اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی ہاؤس سلیکٹ کمیٹی سے "جھوٹ سے دھوکہ” دیا گیا ہے۔معیشت کے بارے میں، 10 میں سے 8 امریکی بالغوں نے کہا کہ ان کے خیال میں 2023 زیادہ ٹیکسوں اور بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے کے ساتھ معاشی مشکلات کا سال ہو گا جبکہ نصف سے زیادہ نے کہا کہ انہیں بے روزگاری میں اضافے کی توقع ہے۔

    رائے دہندگان نے امریکہ کے حالات کے بارے میں ریپبلکنز کو ڈیموکریٹس سے زیادہ مایوس کن پایا، جسے گیلپ نے کہا کہ موجودہ صدر کی پارٹی پر مبنی ایک عام رجحان ہے۔

    بینک آف امریکہ کے چیف اکانومسٹ مائیکل گیپن نے کہا کہ امریکی معیشت کساد بازاری میں گرنے کا خطرہ زیادہ ہے اور 2023 ملک کے لیے مشکل سال ہو سکتا ہے۔گیلپ کے مطابق، مجموعی طور پر امریکیوں کو بہت کم توقع تھی کہ 2022 میں بند ہونے والی معاشی جدوجہد 2023 میں ختم ہو جائے گی۔دریں اثنا، ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکہ میں اقتصادی کساد بازاری کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

  • مہنگائی کا نیا طوفان ،شہری سخت پریشان

    مہنگائی کا نیا طوفان ،شہری سخت پریشان

    قصور
    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مہنگائی کا طوفان،ہر چیز کی قیمتیں بڑھ گئیں،شہری سخت پریشان

    تفصیلات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد قصور میں مہنگائی کا نیا طوفان آ گیا ہے جس کے باعث شہری سخت پریشان ہو گئے ہیں
    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد دکانداروں نے تمام ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتیں بڑھا دی ہیں جبکہ سرکاری ریٹ ابھی تک نہیں بڑھے

    دکانداروں و تاجروں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کرایوں و دیگر اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے جس کے باعث قیمتیں بڑھانا ہماری مجبوری بن گئی ہے
    دوسری طرف شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سرکاری ریٹ پر چیزوں کی فراہمی کو یقینی بنانے پر سخت ناکام ہے جس کے باعث مہنگائی کا طوفان آیا ہے
    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • خرچ 900 آمدن 880

    خرچ 900 آمدن 880

    قصور
    ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے تعاون کی اپیل کر دی قصور سے رائیونڈ ٹویوٹا ہائی ایس وین کا آنے جانے کا خرچ 900 روپیہ جبکہ گورنمنٹ کے مقرر کردہ کرایہ اور ایس او پیز پر سواریاں بٹھا کر ٹوٹل کرایہ 880
    تفصیلات کے مطابق ٹرانسپورٹرز نے گورنمنٹ سے مدد مانگ لی ہے ایس او پیز اور 20 پرسنٹ کرایہ میں کمی کیساتھ ٹرانسپورٹرز سخت پریشان ہیں ٹرانسپورٹرز نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم رائیونڈ سے قصور کا کرایہ 50 روپیہ لیتے تھے جبکہ 22 سواریاں بٹھاتے تھے اب گورنمنٹ کے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق 50 فیصد سواریاں کم بٹھانی ہیں اور کرایہ 20 فیصد کم لینا ہے تو اس لحاظ سے رائیونڈ سے قصور آنے جانے میں گاڑی کا فیول 800 روپیہ اور 100 روپیہ اڈہ پرچی کا ہو گا جبکہ فی سواری سے 40 روپیہ کرایہ لینا ہوگا تو کل رقم ہمیں سواریوں سے 880 روپیہ ملے گی جبکہ صرف فیول اور اڈہ فیس کی مد میں 900 روپیہ خرچ ہوگا باقی گاڑی کی مرمت اور کنڈیکٹر ڈرائیور کی دیہاڑی الگ سے ہو گی لہذہ گورنمنٹ ہم پر رحم کرتے ہوئے اڈہ فیس معاف کرکے ساتھ تھوڑی بہت مالی معاونت کرے تب ہمارے گھروں کے چولہے جلینگے ورنہ ہم گاڑیاں روڈ پر نہیں لا سکتے

  • تاجر شدید پریشان حکومتی تعاون کے منتظر

    تاجر شدید پریشان حکومتی تعاون کے منتظر

    قصور
    کوٹ رادھاکش میں چھوٹے تاجر معاشی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں لاک ڈاون نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے
    ان خیالات کا اظہار مرکزی انجمن تاجراں الپاک بازار کے صدر ملک محمد ارشاد ، سرپرست چوہدری محمد ارشاد اسلم ،صدر منیاری مرچنٹ عبدالرشید کلاتھ مرچنٹ محمد افضل شوز مرچنٹ شیخ عرفان زرگر ایسوسی ایشن شہزاد اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتی ہو کیا انہوں نے کہا کہ لاک ڈاون میں تاجروں نے حکومتی ایس او پیز پر مکمل عمل کیا ہے لیکن اب ان کی معاشی حالت بلکل خراب ہو رہی ہے اور اگر حالات اسی طرح چلتے رہے تو وہ فاقہ کشی کا شکار ہو جائیں گے حکومت کو لاک ڈاون میں مذید نرمی پیدا کر کے انہیں محدود پیمانے پر کاروباری مراکز کھولنے کی اجازت دینی چاہیے اور ساتھ ساتھ معاشی معاملات کی بہتری کے لئے بلا سود آسان اقساط پر قرضے بھی جلد سے جلد فراہم کرنے چاہیں جیسا کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں وعدہ کیا ہے سو اس وعدے کو پورا کیا جائے تاکہ جلد سے جلد تاجروں کے ساتھ ملکی معیشت میں بھی بہتری آ سکے