Baaghi TV

Tag: پریکٹس اینڈ پروسیجر بل

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 لاہور رجسٹری میں چیلنج

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 لاہور رجسٹری میں چیلنج

    لاہور: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پرسیجر بل لاہور رجسٹری میں چیلنج کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق مقامی وکیل شاہد رانا نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں "سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023” سے متعلق درخواست دائر کی ہے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں بنچوں کی تشکیل چیف جسٹس کا انتظامی اختیار ہے۔

    چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی طبیعت ناساز،بینچ ڈی لسٹ

    مقامی وکیل کی جانب سے دائر درخواست میں مزید کہا گیاکہ ازخود نوٹسز میں اپیل کا حق آئین میں ترمیم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ موجودہ ایکٹ سپریم کورٹ کے اختیارات پر قدغن لگانے کے مترادف ہےدرخواست میں استدعا کی کہ عدالت سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023ء کو کالعدم قرار دے۔


    واضح رہے کہ عدالتی اصلاحات سے متعلق سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 پارلیمنٹ کے بعد صدر سے دوبارہ منظوری کی آئینی مدت گزرنے پر از خود منظور ہوکر قانون کی شکل اختیار کرگیا ہے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ مجلس شوریٰ (پارلیمان) کا سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 دستور پاکستان کی دفعہ 75 کی شق 2 کےتحت صدر سے منظور شدہ سمجھا جائے گا۔

    2023 کا بارشوں کا طاقتورترین سسٹم ملک پراثرانداز ہونے کیلئے تیار

    بل منظوری کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا ترجمان قومی اسمبلی نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل اب قانون کی شکل میں نافذ ہوچکا ہے۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیا ہے؟

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے تحت سو موٹو نوٹس لینے کا اختیار اب اعلیٰ عدلیہ کے 3 سینیئر ترین ججز کے پاس ہوگااس بل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کرائے جانے کے بعد دستخط کے لیے صدر کو بھیجا گیا تھا۔

    بل کے تحت چیف جسٹس کا ازخود نوٹس کا اختیار محدود ہوگا، بینچوں کی تشکیل اور از خود نوٹس کا فیصلہ ایک کمیٹی کرے گی جس میں چیف جسٹس اور دو سینئر ترین ججز ہوں گے، نئی قانون سازی کے تحت نواز شریف، کو از خود نوٹس پر ملی سزا پر اپیل کا حق مل گیا، یوسف رضا گیلانی، جہانگیر ترین اور دیگر فریق بھی فیصلوں کو چیلنج کرسکیں گے۔

    ویرات کوہلی پرلاکھوں روپے جرمانہ عائد

  • صدر نے عمل سے ثابت کیا وہ پی ٹی آئی کارکن کے طور پر کام کر رہے ہیں،وزیر اعظم

    صدر نے عمل سے ثابت کیا وہ پی ٹی آئی کارکن کے طور پر کام کر رہے ہیں،وزیر اعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کا پارلیمنٹ سے منظور شدہ بل واپس کرنا افسوسناک ہے-

    باغی ٹی وی: صدر مملکت عارف علوی کو پارلیمنٹ سے منظور شدہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 واپس بھیجنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹئوٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ صدر مملکت کا پارلیمنٹ سے منظور شدہ بل واپس کرنا افسوسناک ہے-

    پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ …


    انہوں نے کہا کہ صدر نے عمل سے ثابت کیا وہ پی ٹی آئی کارکن کے طور پر کام کر رہے ہیں،صدر مملکت عمران نیازی کیلئے آئینی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کو نظرثانی کیلئے واپس بھیج دیا ہے،صدر پاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوایا ہے۔

    صدر نے کہا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے، بل قانونی طورپر مصنوعی اور ناکافی ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے، میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پوری کرنےاور دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے-

    وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا …

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے تحت سو موٹو نوٹس لینے کا اختیار اب اعلیٰ عدلیہ کے 3 سینیئر ترین ججز کے پاس ہوگااس بل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کرائے جانے کے بعد دستخط کے لیے صدر کو بھیجا گیا تھا۔

    بل کے تحت چیف جسٹس کا ازخود نوٹس کا اختیار محدود ہوگا، بینچوں کی تشکیل اور از خود نوٹس کا فیصلہ ایک کمیٹی کرے گی جس میں چیف جسٹس اور دو سینئر ترین ججز ہوں گے، نئی قانون سازی کے تحت نواز شریف، کو از خود نوٹس پر ملی سزا پر اپیل کا حق مل گیا، یوسف رضا گیلانی، جہانگیر ترین اور دیگر فریق بھی فیصلوں کو چیلنج کرسکیں گے۔

    پاکستان میں ہماری جنگ حقیقی آزادی کیلئے ہے،عمران خان

  • پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرسپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے،صدر عارف علوی

    پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرسپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے،صدر عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہےسپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر سپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر گفتگو کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا چیف جسٹس کا اختیار محدود کرنےکی قانون سازی کی ٹائمنگ ایک سوالیہ نشان ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر سپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، ان کی دعا ہے کہ جج آپس میں اشتراک پیدا کریں۔

    نیا عدالتی اصلاحاتی بل، نواز،ترین اور گیلانی کو اپیل کا حق مل گیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے اکتوبر میں انتخابات کے اعلان کے حوالے سے صدر عارف علوی کا کہنا تھا اکتوبر میں بھی الیکشن کا انعقاد خطرے میں نظر آرہا ہے۔

    یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے آج سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظور کر لیا ہے جس کے تحت سو موٹو نوٹس لینے کا اختیار اب اعلیٰ عدلیہ کے 3 سینئر ترین ججز کے پاس ہو گا۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز بل میں محسن داوڑ کی ترمیم شامل ہونے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کو از خود نوٹس پر ملی سزا کے خلاف اپیل کا حق مل گیا ہے 30 دن میں ون ٹائم اپیل کے حق سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ساتھ یوسف رضاگیلانی، جہانگیر ترین سمیت از خود نوٹس کیسز کے فیصلوں کے دیگر متاثرہ فریق بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

    جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے …

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ترمیمی بل کیا ہے؟

    بل کے تحت سپریم کورٹ کے سامنے ہر معاملے اور اپیل کو کمیٹی کا تشکیل کردہ بینچ سنے اور نمٹائے گا جب کہ کمیٹی میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین ججز ہوں گے اور کمیٹی کا فیصلہ کثرت رائے سے ہو گا۔

    آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت معاملہ پہلے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا، بنیادی حقوق سے متعلق عوامی اہمیت کے معاملے پر3 یا اس سے زائد ججزکا بینچ بنایا جائے گا، آئین اور قانون سے متعلق کیسز میں بینچ کم از کم 5 ججز پر مشتمل ہو گا جب کہ بینچ کے فیصلے کے 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جاسکے، دائر اپیل 14 روز میں سماعت کے لیے مقررہوگی، زیرالتوا کیسز میں بھی اپیل کا حق ہوگا، فریق اپیل کے لیے اپنی پسند کا وکیل رکھ سکتا ہے اس کے علاوہ ہنگامی یا عبوری ریلیف کے لیے درخواست دینےکے 14 روزکے اندر کیس سماعت کے لیے مقرر ہوگا-

    محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج