Baaghi TV

Tag: پشاور ہائیکورٹ

  • پشاور ہائیکورٹ نے قائد اعظم نامی شہری کو ملک بدر کرنے سے روک دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے قائد اعظم نامی شہری کو ملک بدر کرنے سے روک دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے شناختی کارڈ بلاک ہونے اور ممکنہ ملک بدری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ’قائد اعظم‘ نامی شہری کو ملک بدر کرنے سے روک دیا ہے-

    پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پیر کو اس کیس کی سماعت کی جہاں درخواست گزار کے وکلاء اور نادرا کے قانونی نمائندے نے اپنے اپنے دلائل پیش کیےسماعت کے دوران درخواست گزار قائد اعظم کے وکیل سیف اللہ محب کاکا خیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل پاکستان اور دبئی میں کاروبار کرتا ہے۔

    انہوں نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ ”ان کا موکل ایک پاکستانی شہری ہے جو باقاعدہ کاروبار کر رہا ہے اور حکومت کو ٹیکس ادا کرتا ہے،شناختی کارڈ بلاک ہونے کی وجہ سے ان کے موکل کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اسے ایک قسم کی سزا دی جا رہی ہے،نادرا کی جانب سے اب درخواست گزار کو اپنے چچا کو پیش کرنے کا کہا جا رہا ہے، جبکہ ان کے خاندان کے دیگر تمام افراد کے پاس پہلے سے پاکستانی شناختی کارڈ موجود ہیں۔

    دوسری جانب نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل شاہد عمران گیگیانی نے عدالت میں اتھارٹی کی نمائندگی کی اور بینچ کو بتایا کہ نادرا نے اس معاملے پر اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے،درخواست گزار کا شناختی کارڈ مشکوک قرار دیا گیا تھا جس کی بنیاد پر اسے بلاک کیا گیا ہے“۔

    عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد نادرا کو ہدایت کی کہ وہ درخواست گزار کے کیس کا جائزہ لے اور قائد اعظم کو نادرا کے بورڈ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا، جبکہ بورڈ کے فیصلے تک حکام کو انہیں کسی بھی قسم کی ملک بدری یا زبردستی کارروائی سے روک دیا ہے۔

  • قائداعظم نامی شہری کا شناختی کارڈ بلاک،پشاور ہائیکورٹ کا بڑا حکم جاری

    قائداعظم نامی شہری کا شناختی کارڈ بلاک،پشاور ہائیکورٹ کا بڑا حکم جاری

    پشاور ہائیکورٹ نے قائداعظم نامی شہری درخواست گزار کی دبئی سے ڈی پورٹیشن روک دی۔

    پشاور ہائیکورٹ میں قائداعظم نامی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی ،سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس عنایت اللہ خان نے کی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار کا پاکستان اور دبئی میں کاروبار ہے، درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کر دیا گیا ہے۔

    اس موقع پر ڈائریکٹر لیگل نادرا کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کا شناختی کارڈ مشکوک ہونے کی بنیاد پر بلاک کیا گیا ہے،عدالت نے آئندہ سماعت تک درخواست گزار کی دبئی سے ڈی پورٹیشن روکتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہو جائیں پھر اس کیس کا فیصلہ کریں گے۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا میں افغان باشندوں سے جڑے 60 ہزار سے زائد مشکوک قومی شناختی کارڈز کا انکشاف ہوا ہے ، نادرا نےواپس جانے والے افغان مہاجرین کے شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال شروع کردی،واپس جانے والے ہر افغان مہاجر کے بائیو میٹرک،اے سی ار اور پی او ار کارڈ کی سکیننگ جاری ہے،افغان مہاجرین کوفیملی ٹری میں شامل کرنے والےمقامی باشندوں کی تلاش بھی جاری ہے،ایک سال کے دوران،جعل سازی میں ملوث 300 سے زائد نادرا اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوئی،اہلکاروں کے کئی کیس خود پکڑ کر ایف ائی اے کے حوالے کے گئے۔

  • ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کی ملازمت،وفاقی آئینی عدالت نے صوبا ئی حکومت کی اپیل خارج کر دی

    ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کی ملازمت،وفاقی آئینی عدالت نے صوبا ئی حکومت کی اپیل خارج کر دی

    وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کی ملازمت دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے صوبا ئی حکومت کی اپیل خارج کر دی۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران عدالت نے اس معاملے پر سخت ریمارکس دیےسماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا اب ایم اے پاس کرنے والا شخص سوئیپر کا کام کرے گا؟‘ انہوں نے کہا کہ اگرچہ متعلقہ شخص گزشتہ 10 برس سے ملازمت کر رہا ہے، اس لیے اب اسے نوکری سے نکالنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔

    عدالت نے تجویز دی کہ صوبائی حکومت شکایت کنندہ کو کسی دوسری مناسب جگہ ملازمت فراہم کرےاس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں سوئیپر کی کوئی خالی آسامی موجود نہیں ہے، اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے، کیا خیبرپختونخوا اتنا صاف ستھرا ہو گیا ہے کہ سوئیپر کی ضرورت ہی نہیں؟ صاف ستھرا تو کسی اور صوبے کا سنا تھا۔

    دورانِ سماعت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بھی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے دریافت کیا کہ متعلقہ ملازم سے کیا کام لیا جاتا ہے، جس پر ایجوکیشن آفیسر نے بتایا کہ اس کی ذمہ داریوں میں جھاڑو لگانا اور صفائی کرنا شامل ہے۔

    اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ کیا اس کے جھاڑو لگانے پر کسی کو شرم نہیں آتی؟ ایم اے پاس شخص کا سوئیپر کی نوکری کرنا ایک المیہ ہے،ایسے نظام کو تو شاباش دینی چاہیے،بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل مسترد کر دی۔

  • پشاور ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ جاری

    پشاور ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ جاری

    پشاور ہائیکورٹ نے ججز کی نئی سنیارٹی لسٹ جاری کر دی ہے-

    پشاور ہائیکورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس سید محمد عتیق شاہ ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج برقرار ہیں جبکہ جسٹس اعجاز انور سینئر پیونی جج کی حیثیت سے اپنی پوزیشن پر برقرار رہیں گے،جبکہ جسٹس سید ارشد علی سنیارٹی لسٹ میں تیسرے اور جسٹس صاحبزادہ اسداللہ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں۔ اسی طرح جسٹس محمد نعیم انور پانچویں جبکہ جسٹس وقار احمد چھٹے نمبر پر شامل ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ سے تبادلے پر آنے والے جسٹس بابر ستار کو سنیارٹی لسٹ میں ساتواں نمبر دیا گیا ہے، جسٹس کامران حیات میاں خیل آٹھویں اور جسٹس محمد اعجاز خان نویں نمبر پر ہیں جبکہ جسٹس محمد فہیم ولی دسویں نمبر پر شامل کیے گئے ہیں،جسٹس خورشید اقبال گیارہویں اور جسٹس طار ق آفریدی بارہویں نمبر پر ہیں۔

    اسی طرح جسٹس عبدالفیاض چودھویں اور جسٹس فرح جمشید پندرہویں نمبر پر شامل ہیں جسٹس انعام اللہ خان سولہویں اور جسٹس ثابت اللہ خان سترہویں نمبر پر ہیں جبکہ جسٹس صلاح الدین اٹھارہویں اور جسٹس صادق علی مومند انیسویں نمبر پر شامل کیے گئے ہیں جبکہ جسٹس مدثر امیر بیسویں اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ اکیسویں نمبر پر ہیں۔

    پشاور ہائیکورٹ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انتظامی کمیٹی کے یکم مئی 2026 کے فیصلے کی روشنی میں نئی نامزدگیاں بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

  • کمرہ عدالت میں خاتون جج کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال،وکیل کو قید اور جرمانہ

    کمرہ عدالت میں خاتون جج کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال،وکیل کو قید اور جرمانہ

    پشاور ہائیکورٹ نے سوات کورٹ روم میں خاتون جج کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے والے وکیل کو 6ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کر دیا۔

    عدالت کے مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ سوات کے وکیل اسد اللہ کے خلاف شکایات رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کو وصول ہوئی، شکایت خاتون سول جج فوزیہ نسیم نے کی،پشاور ہائیکورٹ نے شکایت توہین عدالت درخواست میں تبدیل کر دی، عدالت نے توہین عدالت کارروائی شروع کرتے ہوئے وکیل کو نوٹس جاری کیا اور کارروائی کے دوران وکیل پر الزامات ثابت ہوئے تو ہائیکورٹ نے توہین عدالت آرڈنینس 2004 کے تحت وکیل کو 6 ماہ قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کر دیا۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ:بھارتی شہری نے شائننگ انڈیا کے دعووں کا پول کھول دیا، ویڈیو وائرل

    بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ کیس: آئندہ سماعت پر فریقین سے حتمی دلائل طلب

    سپریم کورٹ: جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق کیس کا تحریری فیصٌلہ جاری

  • پی ٹی آئی احتجاج کے باعث راستوں کی بندش کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    پی ٹی آئی احتجاج کے باعث راستوں کی بندش کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے احتجاج کے باعث راستوں کی بندش کے خلاف دائر مقدمے پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صوبے کے ہائی ویز اور مختلف اہم راستے بند ہونے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا عدالت نے اس معاملے پر چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا کو طلب کیا، جو کچھ دیر بعد عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے افسران سے پوچھا کہ راستوں کی بندش پر کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں، تاہم ان کے جواب سے عدالت مطمئن نہیں ہوئی اور صوبائی حکومت اور آئی جی پولیس کے رویے پر گہرا افسوس ظاہر کیا۔

    عدالت نے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو واضح ہدایت کی کہ تمام رکاوٹیں فوری طور پر ہٹائی جائیں اور کسی کو بھی راستے بند کرنے کی اجازت نہ دی جائے،سی سی پی او پشاور، مردان، ہزارہ ڈویژن، ڈی آئی خان، بنوں اور کوہاٹ سےرپورٹیں طلب کی گئیں، جن میں پولیس نےراستے کھلنے کی تصدیق کی جبکہ وکلا نے بھی اس کی تصدیق کی۔

    شادی کے بعد عورت بدل جاتی ہے، گوہر رشید کا کبریٰ خان سے متعلق دلچسپ بیان

    عدالت نے ریجنل پولیس افیسرز اور ڈی پی اوز کو سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی قسم کی راستے بندش کی اجازت نہ دی جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی احکامات کی تعمیل پر ہی ان درخواستوں کو نمٹایا جاتا ہے۔

    کراچی میں اس وقت متعدد میگا پروجیکٹس جاری ہیں،شرجیل میمن

  • پشاور ہائیکورٹ کے حکم پرموٹروے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی

    پشاور ہائیکورٹ کے حکم پرموٹروے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی

    6 روز بعد موٹروے پر ٹریفک بحال ہو گئی جب پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد پولیس نے پشاور اسلام آباد موٹروے (ایم ون) کو ٹریفک کے لیے کھول دیا-

    صوابی پولیس کی ایک ٹیم صوابی انبار انٹرچینج پہنچی اور مظاہرین کو ہائیکورٹ کے حکم سے آگاہ کیا پولیس حکام کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز نے ایم ون موٹروے پر صوابی کے مقام پر دھرنا دے کر موٹروے بند کر رکھی تھی،جس وقت پولیس ٹیم پہنچی، اس وقت ورکرز کی تعداد انتہائی کم تھی، اور پولیس نے ورکرز کو ہٹا کر موٹروے کھول دی، جس کے بعد 6 روز بعد ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی۔

    پولیس کے مطابق موٹروے کھولنے کی کارروائی کے دوران پی ٹی آئی ورکرز نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی اور پرامن رہے جبکہ پولیس نے موٹروے پر رکھی گئی تمام رکاوٹیں ہٹا کر ٹریفک کو بحال کردیا مظاہرین اس وقت بھی موٹروے کے صوابی ریسٹ ایریا پر موجود ہیں، تاہم ان کی تعداد کم ہے اس وقت موٹروے مکمل طور پر ٹریفک کے لیے بحال ہے اور پولیس ٹیم نگرانی کر رہی ہے۔

    لاہور: فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبہ نے چھت سے کود کر خودکشی کرلی

    گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ میں روڈ بندش کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے پولیس اور صوبائی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیےکہ حکومت روڈ کھولنے کے حوالے سے کیا اقدامات کر رہی ہے سماعت کے دوران چیف سیکریٹری اور آئی جی عدالت میں پیش ہوئے، اور ہائیکورٹ نے کارروائی کرنے اور روڈ کھولنے کا حکم دیا-

    وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو کا رمضان میں کیا ریلیف پیکج دے رہی ہیں؟

    واضح رہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپوزیشن اتحاد نے احتجاج کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی خیبر پختونخوا نے جمعے سے صوبے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر دھرنے دے رکھے ہیں پی ٹی آئی کے مطابق اس وقت بھی دھرنا جاری ہےڈی آئی خان سے کوہستان تک دھرنے ہو رہے ہیں، جبکہ احتجاج ختم کرنے کے حوالے سے پارٹی کی جانب سے کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی۔

    سدھارتھ ملہوترا کے والدانتقال کر گئے

  • پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کی مستقلی، 4 ججز کی 6 ماہ توسیع کی منظوری

    پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کی مستقلی، 4 ججز کی 6 ماہ توسیع کی منظوری

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کی مستقلی، 4 ججز کی توسیع کی منظوری دی گئی-

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پشاور ہائیکورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کے معاملے پر غور کیا گیا کمیشن نے 10 میں سے 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ 4 ججز کو 6 ماہ کی توسیع دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صبعت اللہ، جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق علی اور جسٹس مدثر امیر کی مستقلی پر غور کیا گیا اور ان میں سے 6 ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صلا ح الدین، جسٹس صادق علی، جسٹس مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کی مستقلی کی منظوری دی گئی۔

    گلشنِ معمار میں 17 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی،، ملزم گرفتار

    اسی طرح جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ، جسٹس اورنگزیب اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کے کیسز پر بھی غور ہوا، جن میں سے جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ اور جسٹس اورنگزیب کو 6 ماہ کی توسیع دینے کی منظوری دی گئی ہے۔

    آئی سی سی کی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس کی نئی رینکنگ جاری

  • پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے،پشاور ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ

    پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے،پشاور ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ

    پشاور ہائیکورٹ نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کی غیر قانونی ٹریڈنگ کے خلاف دائر درخواست کو خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا-

    پشاورہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کی غیر قانونی ٹریڈنگ کے خلاف دائر درخوا ست پر سماعت کرنے کے بعد تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

    فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ حکومت نے ورچوئل ایسٹس آرڈیننس 2025 متعارف کرایا ہے، آرڈیننس کے تحت لائسینسنگ اور ریگولیشن کے لئے لیگل فریم ورک تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے معاملات کو ریگولیٹ کیا گیا اور اس کے بعد یہ درخواست اب غیر موثر ہوگئی ہےْ

    پنجاب پولیس کے ریٹائر ہونے والے افسران کی فہرست جاری

    فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ درخواست غیر موثر ہونے پر خارج کیا جاتا ہے جسٹس کامران حیات نے فیصلے میں لکھا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں، اسٹیٹ بینک کے مراسلوں اور سرکلرز کے ذریعے مالی اداروں اور لوگوں کو صرف آگاہ کیا گیا ہے کہ اس قسم کی کرنسی کاروبار میں احتیاط کریں۔

    پشاور ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ اسٹیٹ بینک کے مراسلوں میں یہ ذکر نہیں ہے کہ کرپٹو کرنسی کا کاروبار جرم ہے، یا اس کے لئے کوئی سزا ہے، کرپٹو اور ڈیجیٹل فاریکس ٹریڈنگ کی ریگولیشن کا معاملہ پالیسی اور قانون سازی کا ہے اور یہ عدالتی اختیار میں نہیں آتا۔

    سہیل آفریدی کا دورۂ پنجاب ، ناروا سلوک کے شکووں پر خواجہ آصف کا ردعمل

    ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ قانون سازی اور پابندی کا اختیار انتظامیہ اور مقننہ کے پاس ہےدرخواست گزار کے مطابق منی کرپٹو ٹریڈنگ سے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خدشات ہے، حکومت کی جانب سے ورچول ایسٹس آرڈیننس 2025 کے تحت ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا گیا ہے، کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فارکس کے لئے پالسی 2025 آئی ہے، اس سٹیج پر یہ درخواستیں غیر موثر ہوگئی ہے۔

  • پشاور ہائیکورٹ کا ڈینگی روک تھام اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار، محکمہ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب

    پشاور ہائیکورٹ کا ڈینگی روک تھام اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار، محکمہ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب

    پشاور ہائیکورٹ نے صوبے میں ڈینگی کی روک تھام کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

    ڈینگی کنٹرول سے متعلق درخواست کی سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی عدالت میں پیش ہونے والے ڈی جی ہیلتھ نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈینگی روک تھام صرف محکمہ صحت کی نہیں بلکہ تمام محکموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ہر سال جنوری میں ڈینگی کنٹرول پلان تیار کیا جاتا ہے جبکہ اس مہم میں مجموعی طور پر 19 محکمے شامل ہوتے ہیں۔

    ڈی جی ہیلتھ نے عدالت کو بتایا کہ ڈینگی کی روک تھام کے لیے ڈی پی او کو اب تک اس پلان میں شامل نہیں کیا گیا تھا، تاہم اس بار اس پہلو پر بھی کام کیا جائے گا۔

    ڈکی بھائی کے دوران حراست تشدد ،گالیوں اور رقم کے مطالبے کے سنگین الزامات

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو مکمل رپورٹ دی جائے کہ کن عوامل کے باعث مشکلات درپیش ہیں اور ان کا حل کس طرح ممکن ہے ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کو علاج کی سہولیات مفت فراہم کی گئیں یا ان سے پیسے لیے گئے؟ عدالت نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے تفصیلی اعداد و شمار بھی رپورٹ کا حصہ بنائے جائیں۔

    سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ 2022 میں ڈینگی کے کیسز غیر معمولی حد تک بڑھ گئے تھے تاہم حکومتی اقدامات کے باعث صورتحال پر بہتر طور پر قابو پایا گیا،جس کے بعد عدالت نے محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ فریقین سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

    بجلی بحالی میں ناکامی : نیشنل گرڈ کمپنی اور سی پی پی اے پر جرمانہ عائد