Baaghi TV

Tag: پلاسٹک

  • لاہور ہائیکورٹ کی پولی تھین بیگز سے متعلق پالیسی بنانے کی ہدایت

    لاہور ہائیکورٹ کی پولی تھین بیگز سے متعلق پالیسی بنانے کی ہدایت

    لاہور ہائیکورٹ ، پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو پولی تھین بیگز سے متعلق پالیسی بنانے کی ہدایت کر دی گئی

    جسٹس شاہد کریم نے شہری سمیت دیگر کی درخواستوں کا تحریری حکم جاری کردیا ، عدالت نے کہا کہ ہر ڈپٹی کمشنر پولی تھین بیگ اکٹھے کرنے اور ان کو تلف کرنے کیلئے پالیسی بنائے، شہریوں پر جرمانہ عائد کرنے کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا جائے، پنجاب کے تمام اضلاع کی پالیسی عدالت میں پیش کی جائے ، پنجاب بھر کی صنعتوں کو فضلہ اور آلودگی کا باعث نہ بننے والے ڈیوائسز لگانے کی ہدایت کی گئی

    عدالت نے چیمبر آف کامرس کو ہدایات جاری کرتے ہوئے 4ہفتے میں رپورٹ مانگ لی ،عدالت نے کہا کہ وکیل کے مطابق لاہور، شیخوپورہ اور ننکانہ کے محکمہ ماحولیات کے افسران کے تبادلے ہوئے ،آلودگی کا باعث بننے والی فیکٹریوں اور بھٹوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھی جائیں ،لاہورہائیکور ٹ نے کیس کی سماعت 3 مئی تک ملتوی کردی

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • پاکستان سالانہ 3.3 ملین ٹن پلاسٹک کا فضلہ پیدا کرتا ہے،شیری رحمان

    پاکستان سالانہ 3.3 ملین ٹن پلاسٹک کا فضلہ پیدا کرتا ہے،شیری رحمان

    پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیری رحمان نےورلڈ ارتھ ڈے کے حوالے سے پیغام میں کہا ہے کہ آج دنیا بھر میں ارتھ ڈے منایا جا رہا ہے،

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اس سال ارتھ ڈے کا تھیم "سیارہ بمقابلہ پلاسٹک” ہے،اس کا مقصد پلاسٹک کی آلودگی کے انسانی صحت اور ماحولیات پر دیرپا اور تباہ کن اثرات سے نمٹنے کی فوری ضرورت کی طرف توجہ دینا اور 2040 تک پلاسٹک کی پیداوار میں 60 فیصد کمی لانا ہے،پاکستان جیسے ملک کیلئے پلاسٹک کی آلودگی کا اثر شدید اور دیرپا ہوتا ہے، اس حوالے سے اقوام متحدہ کے پلاسٹک کے عالمی معاہدے کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ پلاسٹک کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان سالانہ 3.3 ملین ٹن پلاسٹک کا فضلہ پیدا کرتا ہے،اس وسیع مقدار کا ایک بڑا حصہ پلاسٹک کی اشیاء اور کھانے کے اسکریپ پر مشتمل ہے، بدقسمتی سے جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستان سب سے زیادہ پلاسٹک کا غیر منظم فضلہ پیدا کرتا ہے،پلاسٹک کا فضلہ بڑی مقدار میں لینڈ فلز، ڈمپنگ سائٹس اور آبی ذخائر میں چلا جاتا ہے، یہ صورت حال ماحولیاتی اور انسانی صحت کے لیے شدید مسائل پیدا کرتی ہے،اس معاملے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، وزارت ماحولیاتی تبدیلی نے گزشتہ سال پلاسٹک کی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع روڈ میپ متعارف کرایا تھا،یہ روڈ میپ سات آر (7-R)کے ایجنڈے پر بنایا گیا ہے، جس میں پلاسٹک کے حوالے سے وسائل، تحقیق، ذمہ داری، ری سائیکل، دوبارہ استعمال، دوبارہ ڈیزائن، اور پلاسٹک کا کم استعمال کرنا جیسے کثیر جہتی ایجنڈاز شامل ہیں، زمین سے پلاسٹک کی آلودگی سے نمٹنے اور اس کے خاتمے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ہمیں فضلہ کے انتظام کے ذمہ دارانہ طریقوں کو فروغ دینا ہوگا،اس مقصد کو سنگل یوز پلاسٹک کے متبادل تلاش کرکے، سیارے پر پلاسٹک کی آلودگی کے تباہ کن اثرات کے بارے میں لوگوں میں شعور بیدار کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے،

    قابل تجدید توانائی کا فروغ موجودہ حکومت و پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل ہے،ایاز صادق
    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ڈپٹی اسپیکر سید میر غلام مصطفیٰ شاہ نےارتھ ڈے کے موقع پر خصوصی پیغام جاری کیا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ ارتھ ڈے منانے کا مقصد ماحولیاتی آلودگی سے زمین کو محفوظ بنانا اور لوگوں میں زمین سے محبت کا شعور اجاگر کرنا ہے۔اس سال ارتھ ڈے پلاسٹک سے پھیلنے والی آلودگی اور اس کے سدباب کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔پلاسٹک کا بے دریغ استعمال ماحولیاتی آلودگی کا بڑا ز ذریعہ ہے ۔دنیا کو اس وقت ماحولیاتی آلودگی اور اس کے سبب بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدلیوں کا سامنا ہے۔پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید ترین متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔کرہ ارض کی حفاظت کرہ ارض کے مکینوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا اور پلاسٹک کے استعمال کو کم کر کے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ قابل تجدید توانائی کا فروغ موجودہ حکومت و پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ پاکستان کی پارلیمان کو شمسی توانائی پر منتقل ہونے والی دنیا کی پہلی پارلیمان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ مشترکہ کوششوں سے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے، موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلینج ہے جس کے حل کیلئے دنیا کو متحدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی توانائی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا،

    ارتھ ڈے،آج سے "پلاسٹک کو ناں” مہم کا آغاز کر دیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے "ارتھ ڈے” 2024 پر پیغام میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے "ارتھ ڈے” سے پہلے ماحول دوست گرینڈ پلان پر عمل درآمد کا آغاز کیا۔آج "ارتھ ڈے” پنجاب کے ہر ڈویڑن اور ضلع کی سطح پر منایا جارہا ہے۔آج سے "پلاسٹک کو ناں”( No to Plastic ) مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے،صوبہ پنجاب کو سرسبز بنانے، سموگ اور زہریلے دھوئیں سے پاک کرنے اور انسانی صحت بہتر بنانے کے تاریخی اقدامات پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے۔زمین کائنات میں انسانوں اور جانداروں کا گھر ہے جس کی حفاظت اور بہتری کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔زمین کی سانس کے ساتھ ہی ہر جاندار کی سانس بھی چل رہی ہے۔زمین کے درجہ حرات، زہریلی گیسوں سمیت دیگر آلودگیوں میں اضافہ، جنگلات اور زمین کا کٹاؤ کرہِ ارض کے لئے بڑے خطرات ہیں۔”ارتھ ڈے” یہ جاننے کا دن ہے کہ زمین تباہ ہوئی تو انسان اور کوئی جاندار بھی زندہ نہیں بچے گا۔ہر شہری درخت لگا کر، شاپنگ بیگز استعمال نہ کرکے زمین کی زندگی بڑھا سکتا ہے۔ "ارتھ ڈے” پر پنجاب کی تاریخ کے سب سے تاریخی ماحول دوست اقدامات کا آغاز کیا ہے۔الیکٹرک بسوں، ماحول دوست ایندھن، جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کے استعمال سے ماحولیاتی مسائل حل کریں گے۔پلاسٹک سے بنے تھیلے اور دیگر اشیاء جلانے سے پیدا ہونے والا زہریلا دھواں کینسر اور دیگر بیماریاں پھیلا رہا ہے۔صنعتی زہریلا مواد ہمارے پانی کو زہر بنا رہا ہے، پینے کے صاف پانی کے ناہونے سے پیٹ، جگر اور گردوں کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔نئے ہسپتالوں اور علاج کی سہولیات کی طرح ماحول کی بہتری، پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی شجرکاری بھی انسانی صحت اور زندگی کو بہتر بنانے کے عمل کا حصہ ہے۔5 جون سے پنجاب بھر میں پلاسٹک تھیلوں کے استعمال پر پابندی ہوگی۔”ارتھ ڈے” پر نو ٹو پلاسٹک کے پیغامات جاری کیے جا رہے ہیں، قومی اور سوشل میڈیا پرخصوصی مہم شروع کر دی ہے۔دکاندار، شاپنگ مالز، ریستوران، تندوروں سمیت تمام لوگ پلاسٹک بیگز کا استعمال نہ کرنے کی مہم کا ساتھ دیں، انسانی صحت کو بہتر بنانے اور سموگ کے خاتمے میں اپنا حصہ ڈالیں، گھروں میں بھی پلاسٹک بیگز اور پلاسٹک کی دیگر اشیاء خاص طور پر کھانے پینے کے برتن استعمال نہ کریں،شہری اور میڈیا ماحول اور انسانی صحت کے اہم مسئلے کو اجاگر کرنے اور مہم کو کامیاب بنانے میں مدد کریں،ارتھ ڈے اور ماحول کی بہتری کے لیے طالب علموں اور تعلیمی اداروں میں خصوصی لیکچرز اور تربیتی ورکشاپس منعقد کی جارہی ہیں، نصاب میں مضامین شامل کررہے ہیں۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ارتھ ڈے منایا جا رہا ہے، آج کے دن کا مقصد ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔1970ء میں دنیا میں پہلی مرتبہ ’ارتھ ڈے‘ منایا گیا اور ماحولیات کی بقاء کیلئے کوششوں کا آغاز ہوا، 2040ء تک پلاسٹک کی پیداوار میں 60 فیصد کمی لانا ہے، 1950ء کی دہائی میں دنیا میں پلاسٹک کی پیداوار 20 لاکھ ٹن تھی جو اب 450 ملین ٹن تک جا پہنچی ہے۔اقوام متحدہ کی جاری کردہ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر سال 33 لاکھ ٹن پلاسٹک کا فضلہ پیدا ہوتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک زمین کو تیزی سے آلودہ کر رہا ہے اور کلائمیٹ چینج جیسے خطرے کی ایک بڑی وجہ پلاسٹک ہے، پلاسٹک انسانوں کے علاوہ سمندری حیات کیلئے بھی انتہائی نقصان دہ ہے اور یہ بلاواسطہ طور پر ہمارے جسم کا حصہ بن رہا ہے۔پلاسٹ سے چھٹکارا پانے کیلئے لازم ہے کہ جس حد تک ہو سکے اس کے استعمال پر قابو پایا جائے اور اگر استعمال ناگزیر ہو تو دوبارہ قابل استعمال پلاسٹک پر انحصار کریں۔

    سستی روٹی نہ ملنے پر نواز شریف کے حلقہ انتخاب میں شہری پھٹ پڑے

    روٹی کی قیمت کم نہ کرنے پر مقدمہ درج،کاروائیاں بند کی جائیں، فاروق چوہدری

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    پلاسٹک آلودگی کا خطرہ ایک اہم مسئلہ ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ چیئرمین سینیٹ
    چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے عالمی یوم ارض پر پیغام میں کہا ہے کہ جیسا کہ ہم یوم ارض منا رہے ہیں، ہمیں اپنے کرہ ارض کو درپیش اہم ماحولیاتی چیلنجوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ہمارے ماحولیاتی نظام کو پلاسٹک کے نقصان دہ اثرات کا سامنا ہے جن کا تدارک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پلاسٹک آلودگی کا خطرہ ایک اہم مسئلہ ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ہم اس وقت پلاسٹک کے پھیلاؤ کی وجہ سے ایک غیر معمولی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جو ماحولیاتی نظام کو تباہ کر نے کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں، اور جس سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ہمیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔عوام کی کوششوں کے بغیر حکومت اپنی پالیسیوں اور ضوابط کو نافذ نہیں کر سکتی۔کسی بھی پالیسی کو کامیاب بنانے کیلئے کمیونٹی کی شمولیت ناگزیر ہے۔اس یوم ارض کے موقع پر، میں پلاسٹک کی کھپت کو کم کرنے، ری سائیکلنگ کو فروغ دینے، اور ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کے متبادل ذرائع پیدا کرنے کیلئے قانون سازی اور پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیتا ہوں۔اپنی اجتماعی کوششوں سے ہم موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک صاف ستھری اور صحت مند فضا قائم کرنے کی جانب اہم پیش رفت کر سکتے ہیں۔آئیے ہم کرہ ارض کی حفاظت اور اس کے قیمتی وسائل کی حفاظت کے لیے اپنے عزم کو دہرائیں -ایک ساتھ مل کر ہم مشکل سے مشکل چیلنج کا مقابلہ کرسکتے ہیں

    ’ارتھ ڈے‘2024 سے آلودگی کے خاتمے اور ماحول کی بہتری کا کام جنگی بنیادوں پر شروع
    حکومت پنجاب نے ’ارتھ ڈے‘2024 سے آلودگی کے خاتمے اور ماحول کی بہتری کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کردیاہے۔آج سے ’نو ٹو پلاسٹک‘ مہم کا آغاز کردیا ہے اور 5 جون سے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر مکمل پابندی لاگو ہوگی تاکہ صاف ماحول پروان چڑھے۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی ہدایت پرماحول دوست پالیسیوں کا تاریخی پیکج تیار کیا جا رہا ہے۔فصلوں کی باقیات جلانے کے تدارک کے لئے کسانوں کو جدید سبسیڈائزڈ مشینری دی جا رہی ہے۔ پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی سے سموگ ختم ہوگا اور پھیپھڑوں کے کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں سے عوام کی صحت کا تحفظ ہوگا۔سینئروزیر نے کہا کہ صنعتوں کے زہریلے مواد، کاربن کے اخراج اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا کو دھوئیں سے پاک کرنے کے اقدامات پر عمل درآمد جاری ہے۔وزیراعلی مریم نوازشریف کے اقدامات سے چند برسوں میں پنجاب ماحول دوستی کے حوالے سے ایک روشن مثال بن جائے گا۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کو ماحول کو بہتر بنانے کی اہمیت اور آلودگی کے مضراثرات سے آگاہ کرنے کی مہم شروع کردی گئی ہے۔اسی طرح پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی شجرکاری مہم کے اجراء کے علاوہ الیکٹرک بسوں اور دھوئیں کی پڑتال کا جدید نظام بھی لایاجا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ماحول کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنا کرطالب علموں میں ماحول کی بہتری کی سوچ کوپروان چڑھایاجا رہا ہے۔اس حوالے سے یہ بات خوش آئند ہے کہ ایکو سسٹم کی بہتری کے لئے وائلڈ لائف میپنگ کے ساتھ ساتھ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کی مہم تیزی سے جاری ہے

    وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی کوآرڈینیشن رومینہ خورشید عالم نے سیو دی چلڈرن آرگنائزیشن کے کنٹری ڈائریکٹر سے ملاقات کی اور باکو میں آنے والے 29ویں COP میں متاثرہ بچوں کی شرکت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی متاثرہ بچے جو موسمیاتی بحران سے متاثر ہوئے ہیں، انہیں خود کو عالمی موسمیاتی قیادت کو صورتحال سے آگاہ کرنا چاہیے۔عالمی یوم ارض پر روشنی ڈالتے ہوئے، موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم نے بھی بچوں کے فعال کردار پر زور دیا کہ وہ اپنے بڑوں کو قومی موافقت کے منصوبے (این اے پی) کے مطابق پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال کو روکنے کی تلقین کریں۔اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وزارت کے موسمیاتی ایجنڈے کو قومی طے شدہ شراکت (NDCs) کے مطابق بچوں کے ذریعے ملک بھر میں فروغ دیا جائے گا۔ دونوں فریقوں نے موسمیاتی پالیسی کی تشکیل اور موسمیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کے دوران بچوں کی شرکت کے بڑھے ہوئے کردار پر اتفاق کیا۔

    پلاسٹک کی آلودگی کے خطرات پر عوامی آگاہی مہم کو بڑھانے کی ہدایت
    وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ محترمہ رومینہ خورشید عالم نے وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق پلاسٹک کی آلودگی سے نمٹنے، اور زمین کو پلاسٹک کی لعنت سے بچانے کے لیے ہر ممکنہ اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سب کے متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شہریوں، تنظیموں اور حکومتی اداروں کی جانب سے پلاسٹک کے استعمال سے کرہ ارض کو لاحق خطرے کے خلاف جنگ میں اکٹھے ہونے کے لیے مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر نے وزارت اور اس سے منسلک تنظیموں کے اجلاس کی صدارت کی تاکہ ان اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے جو انہوں نے ارتھ ڈے کے لیے لازمی قرار دیے تھے، جو کہ دنیا بھر میں اور پاکستان میں منایا جا رہا ہے، اس موقع کو "زمین بمقابلہ پلاسٹک” کے عنوان کے تحت منانے کے لیے سرگرمیوں کا ایک ہفتہ طویل سلسلہ طے کیا گیا ہے۔ "انہوں نے سینئر افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ مختلف عوامی تفریحی مقامات کے اچانک دورے کریں اور پلاسٹک کے استعمال کے خلاف اقدامات کے نفاذ کے بارے میں رپورٹ کریں۔ پلاسٹک کی ممانعت کے لیے سائن بورڈز کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، اس نے عوام تک واضح پیغام رسانی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ مارگلہ ٹریلز اور اسلام آباد چڑیا گھر جانے والوں کو اب دوبارہ بھرنے کے قابل بوتلیں لانے کی ضرورت ہوگی، 12,000 سے زائد کپڑے کے تھیلے بچوں میں تقسیم کیے جائیں گے تاکہ وہ والدین کو پولی تھین بیگ استعمال کرنے سے گریز کرنے کی ترغیب دے سکیں۔ وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر نے ماحولیات کو پلاسٹک کی آلودگی کے خطرات پر عوامی آگاہی مہم کو بڑھانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت کے بعد، انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے ری سائیکل شدہ پولی تھین بیگز سے بینچز اور پلانٹر تیار کرنا شروع کر دیے ہیں، جنہیں وزارت کے اندر رکھا جائے گا اور مستقبل قریب میں عوامی علاقوں تک پھیلا دیا جائے گا۔

  • انتخابی مہم میں پلاسٹک کے بنے پینا فلیکس پر پابندی عائد ہونے کا امکان

    انتخابی مہم میں پلاسٹک کے بنے پینا فلیکس پر پابندی عائد ہونے کا امکان

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی مہم میں پلاسٹک کے بنے پینا فلیکس پر پابندی عائد کرنے کا امکان ہے

    انتخابی مہم اور عام انتخابات میں ہزاروں ٹن پلاسٹک استعمال کیے جانے کا خدشہ ،لاکھوں پینا فلیکس اور بینرز بننے سے فضائی الودگی کا خدشہ ہے،غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے الیکشن کمیشن سے انتخابی مہم میں پلاسٹک کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی درخواست جمع کروا دی گئی،درخواست میں کہا گیا کہ عام انتخابات میں سیاسی امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم میں لاکھوں ٹن پلاسٹک کا استعمال کیا جائے گا،پلاسٹک کے بنے پینافلکیس,بینرز انتخابی نشان پر پابندی لگائی جائے،الیکشن کمیشن ایسی پالیسی بنائے کہ انتخابی مہم میں پلاسٹک کے استعمال پر پاپندی لگائی جائے، 8 فروری کو انتخآِبات میں ووٹروں کے لیے کھانے پینے کے انتظامات میں ڈس پیلزبیل میڑیل استعمال کیا جائے گا،الیکشن کمیشن اپنے جاری کردہ ماحول دوست نوٹی فکش پر عمل درآمد کروائے،

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    گرل فرینڈ کی لاش کے 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم نے کیا عدالت میں جرم کا اعتراف

    پاکستان میں جتنا پلاسٹک ویسٹ ہے اس سے کے ٹو کا پہاڑ دو دفعہ کھڑا ہو سکتا ہے

  • انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات دریافت

    انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات دریافت

    سائنسدانوں نے پہلی بار انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانیہ کی Hull یونیورسٹی اور Hull یورک میڈیکل اسکول کی تحقیق میں فوڈ پیکجنگ اور پینٹ میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کے ذرات کو انسانی شریانوں میں دریافت کیا گیا۔

    سعودی عرب آئیندہ 2027 میں ایشیاکپ فٹ بال ٹورنا منٹ کی میزبانی کرے گا. اے ایف سی کا اعلان

    جرنل Plos One میں شائع کردہ اس تحقیق میں بائی پاس سرجری کے عمل سے گزرنے والے مریضوں کی Saphenous شریانوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا تھا،محققین نے شریانوں کے ہر گرام ٹشوز میں اوسطاً 5 مختلف اقسام کے پلاسٹک کے 15 ننھے ذرات کو دریافت کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ ہم اس دریافت سےحیران رہ گئے، ہم یہ پہلے سےجانتے تھے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات خون میں موجود ہوتے ہیں ابھی یہ واضح نہیں کہ پلاسٹک کے ذرات شریانوں سے گزر کر دیگر ٹشوز تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں، مگر نتائج سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ ایسا ممکن ہے۔

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر…

    انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی ہم ان ذرات سے انسانی صحت پر مرتب اثرات کے حوالے سے کچھ نہیں جانتے، مگر لیبارٹری تجربات میں معلوم ہوا کہ اس سے ورم اور تناؤ کا ردعمل بڑھ سکتا ہے محققین کے خیال میں اس سے دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

  • ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلاسٹک کا لفظ یونانی زبان کے لفظ "پلاسسٹیکوس” سے نکلا ہے جسکے معنی مختلف اشکال میں تبدیل ہونے کی صلاحیت کے ہیں۔

    انیسویں صدی کے وسط تک صنعتی ترقی کے باعث جانوروں سے حاصل کردہ مصنوعات کی کھپت میں اضافہ ہونے لگا۔ اُس زمانے میں ہاتھی دانت کا استعمال مختلف اہم اشیا میں ہوتا جیسے کہ پیانو کے کی بورڈ میں یا سنوکر بالز میں۔ اسی طرح کچھوؤں کے خول سے کنگھی بنائی جاتی۔ اور دیگر جانوروں کی ہڈیوں یا سینگوں سے مختلف طرح کی روزمرہ کے استعمال کی اشیاء ۔ ایسے میں کئی جانوروں کی نسل معدوم ہونے کا خطرہ بڑھتا گیا۔

    اس مسئلے کے حل کے لیے مصنوعی میٹریل کی تلاش تھی جو پائیدار اور مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ سستا بھی ہو۔ یہ بات آپکو حیران کن لگے مگر پلاسٹک کی ایجاد دراصل ماحول اور جانوروں کو بچانے کے لیے کی گئی۔ 1862 میں برطانیہ کے ایک کیمیاء دان الییکسنڈر پارکِس نے ایسا میٹریل ایجاد کیا جسے دنیا کا سب سے پہلا پلاسٹک کہا جا سکتا ہے۔ (ویسے فطرت میں بھی کچھ قدرتی پلاسٹک پائے جاتے ہیں). اس پلاسٹک کا نام پارکیسائن رکھا گیا۔ اسے مختلف اشیاء میں ہاتھی دانت اور کچھوے کے خول کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا مقصود تھا۔ یہ پلاسٹک دراصل کپاس کے دھاگوں کو گندھگ اور نائیٹرک ایسیڈ میں حل کر کے بنایا جاتا جسکے بعد اس میں سبزیوں سے نکلا تیل شامل کیا جاتا۔ بعد میں اس پلاسٹک کا استعمال سینما گھروں کی ریلز میں، کنگھوں میں اور بلیئرڈ کی گیندوں میں عام ہونے لگا۔ سستا ہونے کے باعث اب یہ عوام میں مقبول ہونے لگا۔ مگر اسکا استعمال ابھی بھی محدود تھا۔

    1907 میں بیلجیم کے ایک کیمیا دان لیو بائیکی لینڈ نے پہلا ستنھیٹک پلاسٹک متعارف کرایا۔ یہ محض دو کیمیکلز کے کو لیبارٹری میں حرارت اور دباؤ کے زیرِ اثر لا کر بنایا گیا۔

    دوسری جنگِ عظیم کے بعد خام تیل اور پلاسٹک انڈسٹری کے اشتراک سے پلاسٹک ٹیکنالوجی مزید بہتر آئی اور اسکا استعمال پیکنک اور روزمرہ کی اشیاء میں بڑھتا گیا۔

    بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام طرح کا پلاسٹک ماحول کے لئے برا ہے۔ یہ بت مکمل نہیں ۔ دراصل ایک بار استعمال ہونے والا پلاسٹک ماحول کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

    چند اور اہم مسائل بھی پلاسٹک سے جڑے ہیں۔جن میں اس کی تیار ہونے کے عمل میں زیریلی اور مضرِ صحت گیسوں اور کیمکلز کا اخراج اور قدرتی ماحول میں ڈی کمپوز نہ ہونا شامل ہے۔ پلاسٹک کی عمر بے حد طویل ہوتی ہے۔ایک پلاسٹک کے ٹکڑے کو جو بوتلوں، پییکنگ یا گھریلو استعمال کے کام اتا ہے، ماحول میں ڈی کمپوز جعنی گلنے سڑنے ہونے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔وجہ یہ کہ اسےقدرت میں موجود بیکٹریا یا دیگر مائیکروب آسانی سے کیمیائی طور پر توڑ نہیں سکتے۔اسکے علاوہ یہ آکسیجن یا فضا میں موجود دیگر گیسوں یا پانی میں موکود کئی کیمکلز سے کیمیائی تال میل نہیں رکھتا۔

    یہی وجہ ہے کہ پلاسٹک کے فضلے کو صحیح طور پر ٹھکانے لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ نکاسی آب کے راستے دریاؤں، ندی نالوں سے ہوتا ہوا سمندروں تک جا پہنچتا ہے۔

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سمندروں میں جاتا ہے۔

    پلاسٹک محض سمندروں میں نہیں، اسکے چھوٹے چھوٹے ذرات ہماری خوراک، ہوا اور پینے کے پانی میں بھی موجود ہوتے ہے۔ اسے مائیکرپلاسٹک کہتے ہیں۔ یہ محض انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ اس سے پودوں اور جانوروں کی نشونما پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    دنیا بھر میں پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے آج سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔اسکے استعمال کو روکنے یا کم کرنے کے لئے پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے بہت سی حکومتیں اور فلاحی تنظیمیں آگاہی مہم چلا رہی ہیں ۔ اسکے علاہ پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر پلانٹس لگائے جا رہے ہیں۔

    کولڈ ڈرنک اور دیگر خوراک بنانے والی کمپنیوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کی زیادہ سے زیادہ ری سائیکلنگ کریں۔

    مثال کے طور پر جرمنی یا دیگر یورپی ممالک میں آپ کولڈ رنکس یا پانی کی بوتلیں خریدنے جائیں تو اس کی کل قیمت پر آپکو اضافی 25 سے 30 سینٹ دینے پڑتے ہیں۔ یہ رقم پلاسٹک کی بوتل کی ہوتی ہے جو بوتل خالی ہونے کے بعد جب آپ سپر مارکیٹ کے باہر لگی مشین میں ڈالتے ہیں تو آپکو واپس کر دی جاتی ہے۔ مقصد گاہک کو مجبور کر کے پلاسٹک کی بوتلوں کی ری سائیکلنگ کو یقینی ںنانا ہوتا ہے ۔
    بالکل ایسے ہی کئی ممالک میں پلاسٹک، پیپر اور کھانے پینے کے کوڑے کے لیے جگہ جگہ الگ رنگ کے کوڑے دان موجود ہوتے ہیں۔ تاکہ بہتر طریقے سے مختلف قسم کے کوڑے کو الگ کر کے اسے ری سائیکل کیا جا سکے۔

    پلاسٹک کی آلودگی کو روکنے کے لیے 30 مائیکرمیٹر سے موٹے تھیلے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اُڑ نہ سکیں، پائیدار ہوں اور بار بار استعمال کیے جا سکیں۔ جبکہ ہماری ہاں عوام دہی کے لیے بھی کہتے ہے کہ شار ڈبل کروا رہی ہوتی ہے اور زرا سی ہوا چلنے سے شاپر قوم کی مہنگائی کو دیکھ کر اُڑنے والی نیندوں کیطرح اُڑ رہے ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں پلاسٹک کی آلودگی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ زرعی ملک ہے لہذا یہاں ایک وسیع آب پاشی کا نظام ہے۔

    شہروں میں آبادی بڑھنے، ، پہاڑی علاقوں کی سیاحت اور عوام میں بے حسی کے اضافے کے باعث ہماری آبی گزرگاہیں، شہر، دیہات سب پلاسٹک کی لپیٹ میں ہیں۔۔یوں لگتا ہے کچھ عرصے بعد پورا ملک پلاسثک کا بن جائے گا۔

    مگر اس آلودگی کو لیکر حکومتی سنجیدگی، واضح پالیسی یا حکمت عملی کا مکمل فقدان ہے۔اشرافیہ میں بیٹھے "محترم” بابے خود شاپر کی شکل کے ہوتی جا رہے ہیں۔ توندیں اور بے حسی بڑھتی اور عقل اور سر کے بال گھٹتے جا رہے ہیں۔

    پلاسٹک کے تھیلوں پر کسی خاص علاقے یا شہر میں پابندی لگا دینا ہی کافی نہیں ۔ اس حوالے سے آگاہی مہم چلانا، پلاسٹک کے تھیلوں کی کوالٹی کو بہتر بنانا، ایک سے زائد بار پلاسٹک کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا، پلاسٹک کے متبادل ماحول دوست پیپر یا کپڑے کے تھیلے استعمال کرنا، غیر ضروری طور پر پلاسثک کے استعمال کو روکنا وغیرہ وغیرہ یہ وہ سنجیدہ اقدامات ہیں جن سے ملک میں پلاسٹک کی آلودگی کو کم کر کے انسانوں، اور دیگر جانداروں کے لیےرہنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

    ملک کو صاف رکھ کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اور دنیا کے سامنے پاکستان کا ایک مثبت اور ماحول دوست چہرا سامنے لا کر اسے غیر ملکی سیاحت کے لیے پُر کشش بنایا جا سکتا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کو مفت کی روٹیاں اور "گورے کمپلیکس” کے علاوہ بھی کئی طریقے ہیں سیاحت کے فروغ کے لیے جو تادیر اثر رکھتے ہیں۔جن میں سب سے اہم یہ پلاسٹک کی آلودگی کا خاتمہ اور ملک کو صاف کرنا ہے۔

    ضرورت واضح حکمت عملی اور شعور کی ہے۔

  • پلاسٹک سے ہیرے بنائیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلاسٹک سے ہیرے بنائیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیا پلاسٹک سے ہیرے بن سکتے ہیں؟ وہ بھی اصلی ہیرے۔ اُس پلاسٹک سے جو عام پانی یا کولڈ ڈرنک کی بوتلوں میں استعمال ہوتا ہے، جسکا ایک مشکل سا نام ہے مگر اسکا مخفف آسان ہے پی ای ٹی یعنی PET ، مگر ہیرے کیسے ؟

    اسے سمجھنے کے لیے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ پلاسٹک دراصل ہوتا کیا ہے ۔ پلاسٹک عمومی طور پر تین عناصر کے ایٹموں سے مل کر بنتا ہے۔۔کاربن، ہائیڈروجن اور آکسیجن ۔ ان ایٹموں سے بنے پیچیدہ اور لمبے لمبے مالیکول ایک خاص ترتیب میں پلاسٹک میں زنجیروں کی طرح ایک دوسرے سے آپس میں جکڑے ہوتے ہیں (محض سمجھانے کے لیے)۔ مختلف طرح کے مالیکول اور مختلف قسم کی ترتیب کے کمبینیشن بنائیں ان میں کچھ اور عناصر ڈالیں اور طرح طرح کی خاصیت کے پلاسٹک بنائیں۔ پلاسٹک کی تاریخ دلچسپ ہے مگر اس پر بات پھر کبھی۔

    اب آتے ہیں اس پر کہ ہیرے کیا ہوتے ہیں۔ ہیرے دراصل کاربن کی ہی شکل ہوتے ہیں جس میں کاربن کے ایٹم ایک خاص ترتیب میں آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ کاربن کے ایٹم مختلف طرح سے جڑیں تو انکی ظاہری اور کیمیائی خاصیتیں بدل جاتی ہیں۔ اب تک کاربن کے ایٹم 8 مختلف طرح کی ترتیبوں میں قدرت اور لیبارٹریوں میں جڑے ہوئے پائے گئے ہیں۔ ہر اس طرح کی ترتیب سے پیدا ہونے والی کاربن کی صورت کو ایلوٹروپ کہتے ہیں۔ سو کاربن کا عنصر ہیرے یا ڈائمنڈ کی شکل میں، گرافائٹ کی طرح ، عام کوئلے جیسا(اس میں کاربن ایٹم بے ترتیب ہوتے ہیں)، نینو ٹیوب کیطرح وغیرہ وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔

    سو اب اگر ہم کاربن کے ایٹموں کو لیبارٹری میں ایسے ترتیب دیں جیسے قدرت میں یہ ہیرے کے اندر موجود ہوتے ہیں تو ہم نقلی ہیرے بنا سکتے ہیں۔ قدرت میں پائے جانے والے ہیرے دراصل زمین کے اندر موجود کاربن یا کوئلے پر صدیوں پڑنے والے شدید دباؤ اور درجہ حرارت سے بنتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسی طرح سے نقلی ہیرے بنائے جاتے ہیں۔ لیبارٹریوں میں ایک خاص عمل کے تحت کاربن کے ایٹموں کو بے حد درجہ حرارت (1400 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ) اور دباؤ (5 گیگا پاسکل یعنی زمین پر ہوا کے دباؤ سے تقریباً 49 ہزار گنا زیادہ) کے زیرِ اثر لا کر ہیروں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ گویا ہیرے بنانے کے لئے تین اہم چیزیں درکار ہیں۔ کاربن، حرارت اور دباؤ ۔

    اب پلاسٹک میں کاربن تو موجود ہے مگر آکسیجن اور ہائڈروجن سے جڑی ہوئی۔ تو اسے کیسے شدید درجہ حرارت اور شدید دباؤ کے زیر اثر لایا جائے؟ اسکا جواب ہے انتہائی طاقتور لیزر۔ حال ہی میں کیے گئے تجربات جب پلاسٹک کے ٹکڑے پر جرمنی کے روسٹک یونیورسٹی کے محققین نے طاقتور اور انتہائی کم دورانیے کی لیزر پلسس پھینکیں تو ہوا کچھ یوں کہ پلاسٹک کے اُن حصوں پر شدید حرارت اور دباؤ پڑا ۔ اس سے ان میں موجود مالیکیولز کے اندر کاربن آکسیجن اور ہائڈروجن ایٹموں سے الگ ہوئے اور پھر ننھے ننھے ہیروں میں تبدیل ہوتے گئے۔ یہ ہیرے سائز میں نینومیٹر میں تھے یعنی ہائڈروجن ایٹم کے قطر سے تقریباً 20 گنا بڑے۔

    اس تحقیق سے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ نظامِ شمسی کے سیارے نیپچون اور یورینس پر ہیروں کی بارش کیسے ہوتی ہے۔کیونکہ وہاں بھی ہائڈروجن، آکسیجن اور کاربن کے کئی طرح کے کیمیائی مرکبات اُنکی فضا میں موجود ہیں اور وہاں بھی سیاروں کے اندر شدید درجہ حرارت اور دباؤ کاربن کو ہیروں میں بدل سکتا ہے۔

    اوپر کے بیان کردہ تجربات سے بننے والے یہ ننھے منے ہیرے اس عمل سے کیسے نکالے جائیں یہ ابھی معلوم نہیں ۔ مگر نینو ڈائمنڈ کے جدید ٹیکنالوجی میں کئی مصرف ہیں جیسا کہ کوانٹم کمپیوٹر اور کوانٹم کمیونکیشن میں استعمال ہونے والے آلات کی تیاری میں یا نینو بیٹریوں میں۔

    فطرت کے اُصولوں کوجاننے اور سمجھنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ ہر جگہ خود جا کر یا دیدے پھاڑ کر دیکھیں۔ اگر آپ لیبارٹریوں میں بگ بینگ کے حالات پیدا کر سکتے ہیں یا سورج میں ہونے والے کروڑوں میل دور کے فیوژن کے عمل کو زمین پر پیدا کر سکتے ہیں تو آپ فطرت کو یہیں زمین پر بھی جان سکتے ہیں۔ ایک گیند دیوار پر مارنے پر جب واپس آتی ہے تو یہی اایکشن ری ایکشن کا اُصول کائنات کے کسی بھی کونے میں لاگو ہو گا۔ چاند پر بھی، سورج پر بھی، سیاروں پر بھی اور ہم سے لاکھوں نوری سال دور کسی ستارے پر بھی۔

    Reference:

    Z. He et al. Diamond formation kinetics in shock-compressed C-H-O samples recorded by small-angle X-ray scattering and X-ray diffraction. Science Advances. Published online September 2, 2022. doi: 10.1126/sciadv.abo0617.

  • زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    حال ہی میں سائنسدانوں نے انسانی خون میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو پہلی بار دریافت کیا تھا اور اب مائیکرو پلاسٹک آلودگی پھیپھڑوں کی گہرائی میں پہلی بار دریافت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار دی گارجئین کے مطابق سائنسی جریدے ’سائنس آف ٹوٹل انوائرنمنٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہلی بار زندہ لوگوں کے پھیپھڑوں میں گہرائی میں مائیکرو پلاسٹک آلودگی پائی گئی ہے، اس سلسلے میں جتنے نمونے تجزیے کے لیے لیے گئے تھے، تقریباً تمام نمونوں میں یہ ذرات پائے گئے ہوا گزرنے کے راستے انتہائی تنگ ہونے کی وجہ سے پہلے اس کو ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

    مائیکرو پلاسٹک اس سے پہلے انسانی کیڈور پوسٹ مارٹم کے نمونوں میں پائے گئے، لیکن یہ پہلی تحقیق ہے جس میں یہ زندہ لوگوں کے پھیپھڑوں میں دکھائی دیئے ہیں۔

    یونیورسٹی آف ہل اور ہل یارک میڈیکل سکول کے محققین نے جن 13 مریضوں کے نمونوں کی جانچ پڑتال کی، لگ بھگ ان سب میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو پھیپھڑوں کی گہرائی میں دریافت کیا گیا۔

    سائنسدانوں نے کہا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات کی آلودگی اب دنیا بھر میں اس حد تک پھیل چکی ہے کہ انسانوں کے لیے اس سے بچنا ممکن نہیں رہا اور صحت کے حوالے سے خدشات بڑٖھ رہے ہیں۔

    اس تحقیق کے دوران سرجری کے عمل سے گزرنے والے 13 مریضوں کے پھیپھڑوں کے ٹشوز کی جانچ پڑتال کی گئی اور 11 میں پلاسٹک ذرات کو دریافت کیا گیا۔

    سائنسدانوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے فضائی آلودگی، مائیکرو پلاسٹک اور انسانی صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے جو ہمیں معلوم ہوئی ہیں ان اقسام کی خصوصیات اور مائیکرو پلاسٹک کی سطح اب صحت پر اثرات کا تعین کرنے کے مقصد سے لیبارٹری میں تجربات کے لیے حقیقت پسندانہ حالات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔‘

    مائیکرو پلاسٹک کی اقسام اور سطحوں کی کردار سازی اب صحت کے اثرات کا تعین کرنے کے مقصد سے لیبارٹری ایکسپوزر تجربات کے لئے حقیقت پسندانہ حالات سے آگاہ کر سکتی ہے۔

    ایسٹ یارکشائر کے کیسل ہل ہسپتال کے سرجنوں نے پھیپھڑوں کے زندہ ٹشو فراہم کیے۔ یہ ٹشو مریضوں پر کیے گئے سرجیکل طریقہ کار سے حاصل کیے گئے تھے جو ابھی تک زندہ تھے، یہ ان کی معمول کی طبی دیکھ بھال کا حصہ تھا۔ اس کے بعد یہ انہیں دیکھنے کے لیے فلٹر کیا گیا کہ ان میں کیا ہے۔.

    جن مائیکرو پلاسٹک کا پتہ چلا ان میں سے 12 اقسام ایسی تھیں جو عام طور پر پیکیجنگ، بوتلوں، کپڑے، رسی اور بہت سے مینوفیکچرنگ کے عمل میں پائی جاتی ہیں خواتین کے مقابلے میں مرد مریضوں میں مائیکرو پلاسٹک کی تعداد کافی زیادہ تھی۔

    تحقیق میں شامل ایک محقق لورا ساڈوفسکی کا کہنا تھا کہ ہمیں پھیپھڑوں کے نچلے حصوں میں سب سے زیادہ ذرات یا اس سائز کے ذرات ملنے کی توقع نہیں تھی۔

    تحقیق سے پتہ چلا کہ پھیپھڑوں کے اوپری حصے میں 11 مائیکرو پلاسٹک، وسطی حصے میں 7 اور پھیپھڑوں کے نچلے حصے میں 21 مائیکرو پلاسٹک پائے گئے جو ایک غیر متوقع دریافت تھی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کیونکہ پھیپھڑوں کے نچلے حصوں میں ہوا گزرنے راستے چھوٹے ہوتے ہیں اور ہمیں توقع تھی کہ پھیپھڑوں کے اندر اتنی گہرائی میں جانے سے پہلے اتنے بڑے ذرات فلٹر ہوجائیں گے یا پھپھڑوں پھنس جائیں گے۔

    مارچ میں محققین نے انسانی خون میں پہلی بار پلاسٹک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا تھا ان نتائج سے ثابت ہوا تھا کہ یہ ذرات خون کے ذریعے جسم میں سفر کرسکتے ہیں اور اعضا میں اکٹھے ہوسکتے ہیں ان ذرات سے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں تو ابھی معلوم نہیں مگر لیبارٹری تجربات میں ان ذرات سے انسانی خلیات کو نقصان پہنچنا ثابت ہوچکا ہے اسی طرح فضائی آلودگی کے ذرات کے بارے میں پہلے ہی علم ہے کہ وہ جسم میں داخل ہوکر ہر سال لاکھوں اموات کا باعث بنتے ہیں۔

    اس سے قبل لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے دوران اس طرح کے نتائج سامنے آئے تھے۔

    2021 میں برازیل میں ہونے والی ایسی ایک تحقیق میں 20 میں سے 13 لاشوں کے نمونوں میں پلاسک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا گیا۔1998 میں امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بھی 100 نمونوں میں پلاسٹک اور کاٹن ذرات کو دریافت کیا گیا تھا۔

    اس سے قبل اکتوبر 2020 میں آئرلینڈ کے ٹرینیٹی کالج کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ننھے بچے فیڈنگ بوتلوں کے ذریعے پلاسٹک کے لاکھوں کروڑوں ننھے ذرات نگل لیتے ہیں تحقیق میں زور دیا گیا کہ اس حوالے سے مزید جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے کہ پلاسٹک کے ان ننھے ذرات سے انسانوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ایک اور حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات خون کے سرخ خلیات کی اوپری جھلی سے منسلک ہوکر ممکنہ طور پر آکسیجن کی فراہمی کی صلاحیت کو محدود کرسکتے ہیں۔

  • دریاؤں میں پلاسٹک پھینکنا جرم ہے،پوپ فرانسس

    دریاؤں میں پلاسٹک پھینکنا جرم ہے،پوپ فرانسس

    پوپ فرانسس کا کہنا ہے کہ دریاؤں میں پلاسٹک پھینکنا جرم ہے-

    باغی ٹی وی :ویٹیکن کے سرکاری ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کا کہنا ہے کہ اگر آنے والی نسلوں کے لئے اس دنیا کو محفوظ رکھنا ہے تو پلاسٹک کو پھینکنے کی بجائے صحیح طریقے سے ٹھکانے لگانے کی عادت اپنانا ہوگی۔

    انٹرویو میں پوپ فرانسس نے اپنی دور پاپائیت کے دوران اٹھائے جانے والے مختلف موضوعات پر گفتگو کی جن میں اسلحے کی بے جا خرید وفروخت پر تنقید، تارکین وطن کے حقوق کا دفاع اور چرچ کے قدامت پسندوں کے سخت نظریات پر تنقید شامل ہے۔

    عورت کو تکلیف دینا خدا کی توہین کے مترادف ہے: پوپ فرانسس

    پوپ فرانسس نے ماحولیاتی تحفظ پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ ایک بار ان کے پاس اطالوی مچھیرے آئے اور انہوں نے بتایا کہ ایڈریاٹک سمندر میں ٹنوں کے حساب سے پلاسٹک موجود ہےاس کے کچھ عرصے کے بعد مچھیروں نے بتایا کہ اب پہلے سے دوگنا پلاسٹک سمندر میں پایا جاتا ہے۔

    پوپ کا کہنا تھا کہ پانی کے ذرائع میں پلاسٹک پھینکنا جرم ہے جس کے سبب حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچتا ہے اور تمام جانداروں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں پوپ فرانسس نے اپنے سال نو کے پیغام میں خواتین پر تشدد کو خدا کی توہین کے مترادف قرار دے دیا تھا 85 سالہ پوپ نےسال نو کے موقع پر دن ویٹی کن کے سینٹ پیٹرز باسلیکا میں خصوصی دعائیہ تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ خواتین کے خلاف تشدد کو ختم کرنا ضروری ہے پوپ متعدد مرتبہ خواتین پر گھریلو تشدد کے خلاف آواز بلند کر چکے ہیں، جس میں وبا کے دوران اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    وزیراعظم رواں ماہ صدرپیوٹن کی دعوت پر روس کا دورہ کریں گے، وزیرخارجہ

    پوپ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ایک خاتون کو تکلیف پہنچانا، خدا کو ناراض کرنا ہے پوپ فرانسس کے نئے سال کے خطاب میں خاص طور پر ماں کی ممتا اور خواتین کو یہ کہتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا تھا کہ وہ امن کی پیامبر ہیں کیونکہ وہ زندگی کے دھاگوں کو جوڑ کر رکھتی ہیں خواتین دنیا کو اس نظر سے نہیں دیکھتیں کہ وہ کس طرح اس سے ناجائز فائدہ اٹھائیں، بلکہ اس طرح کہ اس پر زندگی موجود رہ سکے خواتین جو دل سے دیکھتی ہیں وہ تجریدیت اور بانجھ عملیت میں بہے بغیر خوابوں اور آرزوؤں کو ٹھوس حقیقت کے ساتھ جمع کر سکتی ہیں چونکہ وہ زندگی دے سکتی ہیں اور خواتین دنیا کو اکٹھا رکھتی ہیں، ہمیں مل کر ماؤں کو آگے بڑھانے اور خواتین کے تحفظ کے لیے زیادہ کوششیں کرنی چاہییں۔

    سعودی وزیر داخلہ کی آرمی چیف سے ملاقات

  • پاکستان میں جتنا پلاسٹک ویسٹ ہے اس سے کے ٹو کا پہاڑ دو دفعہ کھڑا ہو سکتا ہے

    پاکستان میں جتنا پلاسٹک ویسٹ ہے اس سے کے ٹو کا پہاڑ دو دفعہ کھڑا ہو سکتا ہے

    پاکستان میں جتنا پلاسٹک ویسٹ ہے اس سے کے ٹو کا پہاڑ دو دفعہ کھڑا ہو سکتا ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس ہوا

    کمیٹی نے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی مختلف لیبارٹریز کا دورہ کیا،ماحولیاتی تبدیلی کو جانچنے والی مشینوں کو دورہ کیا جا رہا ہے ،سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ اسلام آباد میں پلاسٹک ویسٹ سے سڑک بنانا ایک اچھا اقدام ہے، آلودگی کی ری سائیکلنگ کا سوچا جانا چاہئیے، جرمنی میں اس پر بہت کام ہو رہا ہے، سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جتنا پلاسٹک ویسٹ ہے اس سے کے ٹو کا پہاڑ دو دفعہ کھڑا ہو سکتا ہے،پاکستان میں اس وقت 3.3 ملین ٹن پلاسٹک ویسٹ موجود ہے،

    کمیٹی ارکان نے پلاسٹ ویسٹ کو زیر استعمال لانے کی تجاویز دیں، تاج حیدر نے کہا کہ کراچی میں پلاسٹک بیگز کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، پلاسٹک کا استعمال ہو تو کراچی کی قسمت بدل جائے گی، پلاسٹک کو روڈ کی تعمیر کے لئے استعمال کیا جائے، سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم عمل دخل ہے، کرشنا کماری نے کہا کہ لاہور میں سموگ کی بری صورتحال ہے، بمبئی آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر تھا، لیکن لاہور نے آلودگی کے حساب سے بمئی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، آلودگی صرف لاہور نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے اسے سنجیدہ لینا ہوگا،

    کمیٹی ارکان نے کراچی میں آلودگی کی بڑھتی صورتحال پر اظہار تشویش کیا اور کمیٹی ارکان نے کراچی کے دورے کی تجویز دے دی ،سینیٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ کراچی میں آلودگی کی صورتحال ایک خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے، کراچی کے کورنگی انڈسٹریل ایریا کی ساری گندگی سمندر میں جا رہی ہے، کراچی کا پانی پینے کے قابل نہیں،کراچی کے لوگوں کو پانی خرید کر پینا پڑ رہا ہے،

    ڈی جی ای بی اے نے کہا کہ فصلوں کو آگ لگانا اسموگ کاباعث بن رہے ہیں،فرزانہ الطاف نے کہا کہ فضائی آلودگی سے بچنے کیلئے لوگ کم سے کم گاڑیاں سڑکوں پر لائیں اسلام آباد میں ٹریفک میں اضافہ ہوگیا ہے،روزانہ 4 لاکھ گاڑیاں ایکسپریس وے سے گزرتی ہیں،گاڑیوں میں مسلسل اضافہ فضا میں آلودگی کا باعث بن رہی ہیں،تاج حیدر نے کہا کہ اسلام آباد میں بڑی گاڑیوں پر پابندی لگا کر الیکٹرک بسوں کا استعمال کیا جائے،چائنیز کمپنیز بڑی الیکٹرک بسیں بھی بنا رہی ہیں

    واضح رہے کہ سی ڈی اے نے اسلام آباد میں پہلی پلاسٹک روڈ پر کام کا آغاز کردیا ہے ایک کلومیٹر لمبی پلاسٹک روڈ اتاترک ایونیو پر تعمیر کی جارہی ہے گزشتہ ماہ اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں اس منصوبے کا پائلٹ پراجیکٹ تعمیر کیا گیا تھا جس پر تھرڈ پارٹی انجینئرنگ نتائج حاصل کیے گئے تھے نتائج کی کامیابی کے بعد اب اس منصوبے پر باقاعدہ تعمیراتی کام کا آغاز اتاترک ایونیو پر کردیا گیا ہے اس ایک کلومیٹر پلاسٹک روڈ کا تعمیراتی کام دو دنوں میں مکمل کردیا جائے گا جس میں 170 ٹن پلاسٹک ویسٹ استعمال ہوگا اور یہ روایتی روڈ کے مقابلے میں زیادہ پائیدار بھی ثابت ہوگی جبکہ ماحولیاتی اعتبار سے اسکے مثبت اثرات بھی مرتب ہونگے

    خیال نہیں رکھ سکتے تو پنجروں میں قید کیوں، چڑیا گھر کے جانوروں کو پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا جائے؟ عدالت

    پاکستان ایک انتہائی غیر محفوظ ممالک میں سے ایک ہے،زرتاج گل کے بیان پر وزیراعظم حیران

    نوجوانوں کو گوگل پر سرچ کرنے کی بجائے کیا کرنا چاہئے؟ زرتاج گل نے دیا مشورہ

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    رنگ گورا کرنے کیلئے کاسمیٹکس کا استعمال کیسا ہے؟ زرتاج گل نے کیا اہم انکشاف

    اسلام آباد میں پہلی دفعہ یہ "کام” ہو رہا ہے، زرتاج گل نے یہ کیا کہہ دیا؟

    وزیر ماحولیات زرتاج گل اور اسکے شوہر نے دس لاکھ رشوت مانگی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا الزام

    زرتاج گل پر حلقے میں عوام نے برسائے ٹماٹر، لگائے پی ٹی آئی مردہ باد کے نعرے

    ہارنا ہے تو وقار سے ہاریں، زرتاج گل نے کس کو دیا مشورہ؟

    مریم نواز میں یہ کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں، زرتاج گل کا چیلنج

    میرا بھائی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوا،یہ کس قربانی کی بات کرتے ہیں،زرتاج گل

    وزیراعظم کے خواتین کے ریپ بارے بیان پر زرتاج گل بھی بول پڑیں

    سینما کے مالک کا بیٹا اب وزیر اعظم پر تنقید کرتا ہے،زرتاج گل

    اقوام متحدہ کی ماحولیات کانفرنس کے دوران زرتاج گل نے کیا "گُل ” کھلا دیئے؟

    وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کارکردگی کیا،واش روم بھی گئے تو سیلفیاں بنائیں،زرتاج گل بھی پھٹ پڑیں