Baaghi TV

Tag: پلاسٹک ذرات

  • پلاسٹک کے ننھے ذرات بارشوں کے نظام پر اثر  انداز ہوتے ہیں،تحقیق

    پلاسٹک کے ننھے ذرات بارشوں کے نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں،تحقیق

    امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات موسموں پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور ان کے باعث بارش برسنے کا نظام بدل گیا ہے۔

    باغی ٹی وی:جرنل انوائرمنٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع پین اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات سمندروں سے لے کر ہمارے جسموں میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور یہ بادلوں کی ‘سیڈنگ’ کا کام بھی کرتے ہوئے آسمان میں برفانی کرسٹلز بننے میں مدد فراہم کر رہے ہیں لیبارٹری تجربات میں دیکھا گیا کہ کس طرح پلاسٹک کے ننھے ذرات بادلوں کے بننے کے عمل پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

    سائنسدانوں نے نے پلاسٹک کے ذرات کی 4 عام اقسام کو ان تجربات کے لیے استعمال کیا اور مشاہدہ کیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات گرم درجہ حرارت میں بننے والے برفانی کرسٹلز میں موجود تھے یا یوں کہہ لیں کہ ان ذرات نے برف بننے کے عمل کو زیادہ آسان کردیا، یہاں تک کہ زیادہ درجہ حرارت میں بھی ایسا ممکن ہوا۔

    محققین کے مطابق برفانی کرسٹلز بارش کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور پلاسٹک کے ننھے ذرات کی مدد سے وہ زیادہ آسانی سے بننے لگے اس دریافت سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات کس طرح ہمارے ماحول پر اثرانداز ہو رہے ہیں یہ ذرا ت ممکنہ طور پر بارش برسنے کے عمل پر 2 متضاد طریقوں سے اثرات مرتب کرتے ہیں، یعنی کہیں یہ بارش برسنے کی مقدار میں کمی لاتے ہیں اور کہیں بہت زیادہ بارش برسنے کا باعث بنتے ہیں۔

    مثال کے طور پر ان ذرات سے آلودہ فضا میں بادلوں میں موجود پانی متعدد چھوٹے ذرات میں پھیل جاتا ہے جس سے بارش کم برسنے لگتی ہے مگر جب یہ ننھے ذرات مل کر بڑے ہوتے ہیں تو بارش کی شدت معمول سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

  • زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

    زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

    لندن: سمندری جانداروں اور انسانوں کے بعد اب زمینی چھوٹے میملز کی نصف سے زائد انواع میں اب پلاسٹک کے آثار پائے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق برطانوی ماہرین نے مختلف مقامات پر مختلف غذائیں کھانے والے ممالیوں کا جائزہ لیا اور ان کی نصف سے زائد تعداد میں پلاسٹک کے ذرات ملے ہیں جو ان کے فضلے میں بھی خارج ہو رہے تھے۔

    تحقیق سے وابستہ پروفیسر فیونا میتھیوز نے جامعہ سسیکس کے شعبہ ماحولیات کے تحت یہ اہم مطالعہ کیا ہے جس کے مطابق جنگلی حیات کے فضلے سے معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک ایسے مقامات تک بھی پہنچ چکا ہے جو انسانوں سے دور ہے جنگلوں میں موجود چھوٹے ممالیے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

    برطانیہ میں سات مقامات سے چھوٹے ممالیوں کے فضلے کے کل 261 نمونے لیے گئے اور انفراریڈ مائیکرو اسکوپی سے ان کا جائزہ لیا گیا اس طرح سات میں سے چار انواع میں پالیمر طرز کا پلاسٹک موجود تھا ان میں یورپی خارپشت، کئی اقسام کے چوہے اور دیگر جاندار شامل تھے۔

    دوسرے مطالعے میں شہری علاقوں کے پاس رہنے والے جانوروں میں مائیکروپلاسٹک کی غیرمعمولی مقدار دیکھی گئی خواہ وہ سبزہ خور، ہمہ خور تھے یا صرف گوشت خور ممالیے تھے۔

    ماہرین نے اس رحجان پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ یورپی خارپشت کی تعداد برطانیہ میں تیزی سے کم ہورہی ہے تاہم پلاسٹک سے جانوروں میں کمی کے تعلق پر مزید تحقیق اور ثبوت جمع کرنا باقی ہیں جاندار پلاسٹک کھارہے ہیں اور پرندے پلاسٹک سے اپنے گھونسلے بنارہے ہیں۔