Baaghi TV

Tag: پلاٹ

  • سپریم کورٹ،ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس،اپیل منظور

    سپریم کورٹ،ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس،اپیل منظور

    اسلام آباد کے سیکٹر ایف 14 اور 15 میں ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کی اپیل منظور کرلی،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو دوبارہ معاملہ دیکھنے کی ہدایت کر دی،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اسکیم کو غیر آئینی قرار دیا تھا،جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 21 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    جسٹس عائشہ ملک نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا
    ججز پلاٹس کیس: جسٹس عائشہ ملک نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا لکھا کہ پلاٹس کی اُس الاٹمنٹ کو بھی ہائیکورٹ نے معطل کیا، جو اُس کے سامنے تھا ہی نہیں، عدالتوں کا اپنا دائرہ اختیار بڑھانا قبول نہیں.
    ایف 14 اور ایف 15 میں بیوروکریٹس اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے پلاٹس کا معاملہ،سپریم کورٹ نے جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیدیا،جسٹس عائشہ ملک کا تحریر کردہ 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پلاٹس سے متعلق اس نظرثانی شدہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا جو ہائیکورٹ میں چیلنج ہی نہیں تھی،22 نومبر 2022 کو پلاٹس کی نظرثانی شدہ پالیسی اس دن عدالت کے سامنے آئی جس دن فیصلہ محفوظ کیا گیا،پلاٹس کی نظرثانی شدہ پالیسی پر نہ دلائل دیے گئے نہ ہی وفاقی حکومت کو سنا گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں اشرافیہ کے وسائل پر قبضے اور ججز پلاٹس کا زکر کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو کہا وہ کیس اس کے سامنے تھا ہی نہیںججز کے پلاٹس کی اس الاٹمنٹ کو بھی ہائی کورٹ نے معطل کیا جو اس کے سامنے تھا ہی نہیں، یہ آئینی طور پر ناقابل قبول ہے کہ عدالتیں اپنے دائرۂ اختیار کو وسعت دیں، نہ تو آئین اور نہ ہی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔توفیق آصف کیس میں اس عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹ ایسی ریلیف نہیں دے سکتی جو درخواست میں مانگی ہی نہ گئی ہو، ہائی کورٹ خود سے کسی پالیسی کو غیر آئینی یا غیر قانونی قرار نہیں دے سکتی، اسلام ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے نظرثانی شدہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا ،آرٹیکل 10 اے کے تحت ہر شخص کو شنوائی کا حق دینا آئینی تقاضا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ کو ایسا فیصلہ دینے سے قبل تمام فریقین کو سننا چاہیے تھا،ہائی کورٹ کسی معاملے کو اس وقت سن سکتی جب اس سامنے کوئی فریق ہو،

    جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا گیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی گئی، عدنان سید کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیل بحال کی جاتی ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ اپیل پر فیصلے کی مصدقہ نقل کے بعد 90 دن میں فیصلہ کرے، پلاٹس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا رٹ پٹیشن بھی بحال کی جاتی ہے،سپریم کورٹ میں آئے وہ فریقین جو اسلام آباد میں فریق نہیں تھے وہ بھی عدالت عالیہ میں فریق بن سکتے ہیں،ہماری عدالتی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر اسلام آباد ہائی کورٹ کیس کا فیصلہ کرے

    واضح رہے کہ 2021 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے گریڈ 22 کے افسران ، ججز اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ غیرقانونی قرار دے دی تھی ججز، افسران اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کے حوالے سے دائردرخواست پر 20 اگست کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ کے ججوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کردی تھی، ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سنایا تھا،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی ایف 14 ،ایف 15 کے مختلف کیٹگریز کے4700 پلاٹس کی قرعہ اندازی کی گئی تھی، جس میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد، سابق چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی اور پانامہ کیس کا فیصلہ تحریر کرنے والے اعجاز افضل خان سمیت معروف ججز اور بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے بھی پلاٹ نکلے تھے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا تھا کہ ایف 12، جی 12، ایف 14 اور 15 کی اسکیم غیرقانونی اورمفاد عامہ کیخلاف ہے، ریاست کی زمین اشرافیہ کیلیے نہیں، صرف عوامی مفاد کیلئے ہے، جج، بیورکریٹس، پبلک آفس ہولڈرز مفاد عامہ کیخلاف ذاتی فائدے کی پالیسی نہیں بنا سکتے جج اور بیوروکریٹس اصل اسٹیک ہولڈر یعنی عوام کی خدمت کیلئے ہیں،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی آئین کیخلاف کوئی اسکیم نہیں بنا سکتی،

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

  • ایک ارب سے زائد کا نقصان،غیر مستحق افراد کو پلاٹ الاٹ کرنیوالا ملزم گرفتار

    ایک ارب سے زائد کا نقصان،غیر مستحق افراد کو پلاٹ الاٹ کرنیوالا ملزم گرفتار

    ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل اسلام آباد کی بڑی کاروائی،اسلام آباد کے مختلف موضع میں ایکوائر کی گئی 624 کنال اور 8 مرلہ اراضی کی جعلی رپورٹیں بنانے کا معاملہ،اینٹی منی لانڈرنگ سرکل اسلام آباد نے مقدمہ درج کر کے سی ڈی اے کے سابقہ ممبر اسٹیٹ کو ڈیلر سمیت گرفتار کر لیا

    گرفتار ملزمان میں افنان عالم اور جبار شامل ہیں،گرفتار ملزم افنان عالم سی ڈی میں بطور ممبر اسٹیٹ تعینات رہا ہے، ملزم نے کرپشن کرتے ہوئے غیر مستحق افراد کو سیکٹر I-15 اسلام آباد میں 62 پلاٹ الاٹ کئے۔ملزم نے دیگر ساتھیوں کی ملی بھگت سے مجموعی طور پر 1 ارب کا نقصان پہنچایا،اس سے قبل ملزم کے خلاف کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد میں بھی مقدمہ درج تھا،ملزم افنان عالم نے کرپشن کرتے ہوئے اپنے اور اہلیہ کے نام پر غیر قانونی اثاثے بنائے۔ملزم نے کرپشن سے حاصل کردہ بھاری رقوم سے سیکٹر C14 میں پراپرٹیز بنائی،ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    پنجاب : "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کے لیے 9 ارب 88 کروڑ 96 لاکھ روپے کی منظوری

    ”اپنی چھت اپنا گھر“ پانچ شہروں میں 519کنال اراضی کی نشاندہی کا عمل مکمل

    ”اپنی چھت، اپنا گھر“ مریم نواز کے ویژن پر کام شروع،ہر ضلع میں 3ہزار گھر بنیں گے

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

     

  • چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے کی عدالت طلبی

    چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے کی عدالت طلبی

    اسلام آباد ہائی کورٹ،ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے بعد چیف کمشنر کیپٹن (ر) انوار الحق نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا

    جسٹس بابر ستار نے چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے کیپٹن ریٹائرڈ انوار الحق کو طلب کرلیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کی جانب سے شہریوں کے پلاٹوں کی ٹرانسفر پر پابندی کو غیر قانونی قرار دیا تھا ، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے کیپٹن ریٹائرڈ انوار الحق، ممبر اسٹیٹ طارق سلام مروت اور ڈی جی لینڈ آئندہ ہفتے پیش ہوں،شہریوں کی پراپرٹیز کو قانون کے مطابق ٹرانسفر کرنا سی ڈی اے کی ذمہ داری ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کے پلاٹوں کو قانون کے مطابق ٹرانسفر کرنے کا حکم دیا تھا ،چیف کمشنر اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ انوار الحق نے ایف آئی اے کو جواز بنا کر سینکڑوں پلاٹوں کی ٹرانسفر روک دی تھی ،وکیل قاضی عادل ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایف آئی اے نے صرف زیر التواء انکوائری کی ٹرانسفر کو روکا، سی ڈی اے نے سینکڑوں فائلز روک لیں،شہریوں نے چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے کیپٹن ریٹائرڈ انوار الحق کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 5 جوان شہید

    فاطمہ بھٹو ماں بن گئیں، بیٹے کی پیدائش،نام بھی رکھ دیا

    آصفہ بھٹونوابشاہ پہنچ گئیں،جیالوں کا رقص،این اے 207 سے لڑیں گی الیکشن

    سینیٹ میں خواتین کی نشست پر صنم جاوید کو الیکشن لڑوانے کا فیصلہ

    سینیٹ میں بلوچستان کی گیارہ خالی نشستوں کے انتخابات کا شیڈول

    سینیٹ انتخابات، اسلام آباد سے پیپلز پارٹی امیدوار یوسف رضا گیلانی کامیاب

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • روڈا کے تحت صحافیوں کوپلاٹ دینے کا اقدام لاہورہائیکورٹ میں چیلنج

    روڈا کے تحت صحافیوں کوپلاٹ دینے کا اقدام لاہورہائیکورٹ میں چیلنج

    لاہور: روڈا کے تحت صحافیوں کوپلاٹ دینے کا اقدام لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    درخواست گزاروں کی حد تک صحافیوں کےپلاٹ دینے پرحکم امتناع جاری کر دیا گیا،عدالت نے پنجاب حکومت اور روڈا کےاشتہار پرعملدرآمد عدالتی حکم سے مشروط کردیا ،عدالت نے پنجاب حکومت ، سی ای اوروڈا ، پنجاب جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کو نوٹس جاری کر دیا،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر نے درخواست پر سماعت کی

    عدالت نے استفسار کیا کہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ملازمین کو نظر انداز کر کے پلاٹس کی الاٹمنٹ کیسے ہوسکتی ہے؟محکمہ اطلاعات کے ملازمین خواجہ محمد سمیع اللہ رفیق و دیگر کی درخواست پر سماعت کی گئی،جسٹس سلطان تنویر احمد نے استفسار کیا کہ آپ نے اس اشتہار کو کیوں چیلنج کیا ؟بیرسٹر سید علی نعمان نے کہا کہ پنجاب جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ایک ادارہ ہے ،ادارہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر سرپرستی کام کرتا ہے، جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا کام صحافیوں کی فلاح و بہبود ہے ،فورم کا کام صحافیوں کو رہائش کیلئے بلا معاوضہ بغیر منافع پلاٹ فراہم کرنا ہے،انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ملازمین کا کوٹہ 2004قانون میں مختص کیا گیا،الاٹمنٹ کے فارم جاری کرنا ، پی جے ایچ ایف کاکام ہے، روڈا ڈویلپمنٹ اتھارٹی ہے اس کا اس میں کوئی دخل نہیں بنتا ، جسٹس سلطان تنویر احمد نے کہا کہ جن حضرات کو کوٹہ دیا گیا اس سے آپ کو کیا اعتراض ہے؟وکیل نے کہا کہ صحافیوں کی لسٹ لاہور پریس کلب مرتب کر کے فورم کو بھجواتی ہے ، جرنلسٹ فاؤنڈیشن صرف ڈویلپمنٹ چارجز کے عوض پلاٹ کی الاٹمنٹ کرتی ہے،

  • اکیس کنال پلاٹ پرائیویٹ تعلیمی ادارے کو دینے پر جواب طلب

    اکیس کنال پلاٹ پرائیویٹ تعلیمی ادارے کو دینے پر جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ : ایف الیون میں اکیس کنال پلاٹ پرائیویٹ تعلیمی ادارے کو دینے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیا، عدالت نے سیکرٹری ایجوکیشن اور سی ڈی اے کے ممبر اسٹیٹ اصل ریکارڈ سمیت آئندہ سماعت پر طلب کر لئے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو معاملہ اعلی سطح پر اٹھانے کی ہدایت کر دی، ٹیچرز ایسوسی ایشن کے رہنما فضل مولا کی درخواست پر سماعت ہوئی ، سماعت سے قبل ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں طلب کئے گئے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے سرکار کی ڈیوٹی ہے کہ وہ بچوں کو فری تعلیم دے ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس تو نیب کو بھیجنا چاہیے تھا ، اصل معاملہ پلاٹ کا ہے جو کسی کو نوازنے کے لیے ہے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب اس معاملے کو اعلی ترین سطح پر اٹھائیں ،

    عدالت نے آئیندہ سماعت پر معاملے کی اصل فائل عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی، ،عدالت نے کہا کہ یہ ذہن میں رکھیں اس کیس میں کوئی گڑ بڑ نہیں ہونی چاہیے ، سی ڈی اے کے الاٹمنٹ مقصد سے ہٹ کر اگر پلاٹ دیا گیا ہے تو اسکو کینسل کرنا سی ڈی اے کا اختیار ہے ، وکیل کاشف ملک نے کہا کہ آرٹیکل 25 اے کے تحت سرکار کے فرائض میں ہے کہ مفت تعلیم فراہم کرنا ہر شہری کا حق ہے ، 2012 کا مفت اور لازم تعلیم ایکٹ اسلام آباد میں لاگو ہے، اس ایکٹ کے تحت تمام سرکاری سکولوں میں سولہ سال کی عمر تک مفت تعلیم دینا سرکار کے فرائض میں شامل ہے، سی ڈی اے کے قوانین کے تحت پرائمری سکول کا پلاٹ وفاقی حکومت کے اداروں کو بغیر کسی ادائیگی کے الاٹ کیا جاتا ہے ، پبلک اور پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نام پر ایک پرائیویٹ شخص کو نوازنے کے لیے یہ سارا عمل کیا گیا اس پرائیویٹ شخص کے خلاف نیب ، اینٹی کرپشن و دیگر اداروں میں کیسز زیر التواء ہیں ،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ،اصل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    جسم فروش خواتین اسی طریقے سے نیپال سرحد عبور کر کے بھارت آتی ہیں،

     ہماری بیٹی آج سے ہمارے لئے مر گئی

    بھارتی لڑکی کا پاکستان میں نکاح، حق مہر کتنا رکھا گیا؟

  • پی اے سی اجلاس،ایم این ایز،وزرا،ججز کو ملنے والے پلاٹس کی تفصیلات دوبارہ طلب

    پی اے سی اجلاس،ایم این ایز،وزرا،ججز کو ملنے والے پلاٹس کی تفصیلات دوبارہ طلب

    اسلام آباد: نور عالم خان کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا

    اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کا معاملہ ،چیئرمین پی اے سی نورعالم خان کا کہنا تھا کہ ہم نے آپکو تجاوزات کے خلاف آپریشن کا کہا تھا آپکے لوگوں نے دوبارہ پیسے لے کر فٹ پاتھ پر کرسیاں لگوانا شروع کر دیں آپکی سوسائٹیز لوگوں سے پیسے زیادہ وصول کر رہی ہیں لوگوں کو قبضہ دینے کے لیے مزید پیسے مانگے جا رہے ہیں، چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ یہ کرسیاں نئی لگیں ہیں،ہم نے جو سامان اٹھایا وہ ہم نے واپس نہیں کیا ،چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ آپ اشرافیہ پر بھی ہاتھ ڈالیں، صرف غریب کی ریڑھی پر توجہ مرکوز نہ کریں

    رکن کمیٹی نے کہا کہ ایف سیون میں تجاوزات مافیا نے فیملیز پر تشدد بھی کیا ، چیئرمین سی ڈے اے نے کہا کہ ہم نے ابھی تک وہ دکانیں سیل کی ہوئی ہیں ،نور عالم خان نے کہا کہ آپ ایلیٹ کلاس میں سب سے پہلے جائیں ،ہم نے سی ڈی اے سے ایم این اے، جج، جرنیل، بیوروکریٹ کو الاٹ پلاٹوں کی رپورٹ مانگی تھی وہ رپورٹ ابھی تک نہیں ملی ، چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے کسی کو پلاٹ الاٹ نہیں کرتا یہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کرتی ہیں،نور عالم خان نے کہا کہ مارگلہ ایونیو میں ناقص مٹیریل کے استعمال پر ہمیں رپورٹ پیش کریں ،چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ میرے آنے سے قبل یہ پروجیکٹ تقریباً مکمل ہوچکا تھا ایک محدود ایریا پر دراڑیں پڑیں ہیں، نور عالم خان نے کہا کہ آپ تھرڈ پارٹی سے پروجیکٹ کا آڈٹ کروائیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سی ڈی اے کی حدود میں ایم این ایز،وزرا،ججز کو ملنے والے پلاٹس کی تفصیلات دوبارہ طلب کر لیں، اراکین کمیٹی نے کہا کہ سی ڈی اے بتائے کہ اب تک کن بڑی شخصیات کو پلاٹس دیے گئے اُس وقت اُن پلاٹس کی کیا مالیت تھی، اور کیا پلاٹس کی مکمل قیمت ادا کی گئی

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

  • ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر عوام سے فراڈ — نعمان سلطان

    ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر عوام سے فراڈ — نعمان سلطان

    سرمایہ دار ہمیشہ کم آمدنی والے غریب افراد کو سہانے خواب دیکھا کر لوٹتے ہیں. ایک غریب شخص جس کی زندگی کی خواہش اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے اپنی ملکیتی جگہ پر رہائش اور اپنا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے یا مزید بہتر کرنے کے لئے ذرائع آمدن میں اضافہ ہے. ان کو سرمایہ دار لالچ میں مبتلا کر کے، ان کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور ان کی کم کاروباری سمجھ بوجھ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں.

    کئی اللہ کے نیک بندے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے پاس موجود سرمایہ، گھر کے زیورات بیچ کر اور لوگوں سے ادھار لے کر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور دھوکے کی صورت میں اپنے سرمائے سے محروم ہونے کے علاوہ لوگوں کے مقروض بھی ہو جاتے ہیں. اور قرض خواہوں کے روز روز کے تقاضوں سے گھبرا کر وہ بعض اوقات انتہائی قدم بھی اٹھا لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں خراب کر لیتے ہیں.

    سرمایہ داروں کے فراڈ کے کئی طریقوں میں سے ایک طریقہ جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر غریب عوام کو لوٹنا ہے. یہ یاد رہے کہ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی جعلی نہیں ہوتی لیکن ان کی اکثریت جعل ساز ہی ہوتی ہے.یہ شروع میں ہزار یا دو ہزار کنال سستی زمین خرید کر وہاں تعمیراتی مشینری منتقل کر دیتے ہیں.ہاؤسنگ سوسائٹی کی ایک یا دو خوبصورت سی مین انٹری بنا دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ سوسائٹی کے شروع میں ہی ہاؤسنگ سوسائٹی کا مرکزی آفس بنا دیا جاتا ہے.

    پھر پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہاؤسنگ سوسائٹی کی تشہیری مہم شروع کر دی جاتی ہے. کاغذات میں ہاؤسنگ سوسائٹی میں مسجد، پارک، سکول، کشادہ مرکزی سڑکیں اور لنک روڈ، کمرشل ایریا، بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہونا، ہاؤسنگ سوسائٹی کی اپنی ذاتی سیکیورٹی، پانی کی وافر مقدار میں فراہمی الغرض دنیا کی ہر سہولت فراہم کی جاتی ہے.

    تعمیراتی مشینری کو دیکھا کر بتایا جاتا ہے کہ ڈیویلپمنٹ زور و شور سے جاری ہے. ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کے ریٹ مقرر کئے جاتے ہیں. اس کے بعد شروع میں پراپرٹی ڈیلرز کو زیادہ منافع پر رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی فائلیں مناسب تعداد میں فراہم کی جاتی ہیں. وہ اپنے منافع کے لالچ میں اپنے انوسٹر کو بتاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں فائلیں خرید لیں.

    ساری فائلیں جب انوسٹر اٹھا لیتا ہے تو مارکیٹ میں فائلیں شارٹ ہونے کی وجہ سے بلیک میں بکتی ہیں اور یہاں سے چھوٹے انوسٹر، تنخواہ دار یا چھوٹے کاروباری شخص کی بدنصیبی شروع ہوتی ہے. وہ منافع کمانے، اپنی ذاتی رہائش بنانے یا اپنی بچت محفوظ رکھنے کے لئے پلاٹ کی فائلیں خرید لیتا ہے اس دوران ہاؤسنگ سوسائٹی والے مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق تھوڑی تھوڑی کر کے فائلیں مارکیٹ میں فروخت کرتے رہتے ہیں.

    چھوٹے انوسٹر کو اس وقت دھچکہ لگتا ہے جب اس کی فائلیں فروخت نہیں ہوتی اور اسے پلاٹ کی پہلی یا، دوسری قسط دینی پڑ جاتی ہے اور وہ اپنا سرمایہ ڈوبنے سے بچانے کے لئے فائلیں نقصان پر فروخت کر دیتا ہے جبکہ جو لوگ اپنے رہنے کے لئے وہاں پلاٹ لیتے ہیں وہ اپنا پیٹ کاٹ کر پلاٹ کی قسطیں بھرتے رہتے ہیں.

    اس دوران ہاؤسنگ سوسائٹی والے لوگوں کے جمع شدہ پیسوں سے تھوڑا بہت سوسائٹی میں ترقیاتی کام بھی کراتے ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کو آس امید لگی رہتی ہے کہ سست روی سے سہی لیکن کام ہو رہا ہے اور سوسائٹی لوکل ایجنٹوں کے ساتھ مل کر اپنی خرید سے کئی گنا زیادہ جگہ (مثلاً اگر دو ہزار کنال جگہ خریدی تو دس ہزار کنال بیچ دی) فروخت کر دیتی ہے.

    کیونکہ سوسائٹی گورنمنٹ سے منظور شدہ نہیں ہوتی تو اس کا کوئی نقشہ بھی نہیں ہوتا اس وجہ سے لوگوں کو اپنے پلاٹس کی نشاندہی بھی نہیں ہوتی. سوسائٹی والے لوگوں کو یہی تسلی دیتے رہتے ہیں کہ جس ترتیب سے فائلیں فروخت ہوئی اسی ترتیب سے سیکٹر بنا کر آپ کو پلاٹ الاٹ کر دئیے جائیں گے.

    اس دوران وہ حکومتی محکموں کا منہ ہر ممکن طریقے سے بند رکھتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ اب ہم اس علاقے سے عوام کو مزید نہیں لوٹ سکتے تو وہ محکموں کا خرچہ بند کر دیتے ہیں کچھ دن بعد اخبارات میں آ جاتا ہے کہ مذکورہ ہاؤسنگ سوسائٹی بغیر این او سی کے بنی ہے اور اس میں لین دین کرنے والا خود ذمہ دار ہو گا اور جب یہ خبر پڑھ کر لوگ سوسائٹی کے دفتر جاتے ہیں تو وہاں ان کی رام کہانی سننے والا کوئی نہیں ہوتا اور لوگوں کی عمر بھر کی کمائی لٹ جاتی ہے.

    اس فراڈ سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے کوشش کریں مکمل قیمت ادا کر کے پلاٹ خریدیں اور اپنے نام رجسٹری کرائیں اگر سوسائٹی میں پلاٹ لینا ہے تو گورنمنٹ کی منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہی پلاٹ لیں.

  • عمران خان نے 258 کنال اہلیہ جبکہ 240 فرح کے نام الاٹ کرائی۔ رانا  ثناءاللہ

    عمران خان نے 258 کنال اہلیہ جبکہ 240 فرح کے نام الاٹ کرائی۔ رانا ثناءاللہ

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے 258 کنال اپنی اہلیہ بشری بی بی کے نام کروائی جبکہ 240 کنال اپنی اہلیہ کی دوست فرح گوگی کے نام کروائی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ: عمران خان بنی گالہ میں بیٹھے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ میں یہ بتا دوں گا میں ان سے پوچھتا ہوں انہوں نے دھرنا کیوں دیا تھا ؟

    ان کا کہنا تھا کہ: عمران خان کو ڈی چوک پر بیٹھنے نہیں دیا گیا تو کیا یہ ہراساں کرنا ہوگیا۔

    رانا ثناء نے واضح کیا کہ: عمران خان کی ان دھمکیوں سے کوئی بھی خوف زدہ نہیں ہوگا اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا.

    وزیر داخلہ نے دعوی کیا کہ: عدلیہ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے کیس پر سوموٹو لے اور اگر میرے خلاف منشیات کا کیس ثابت ہوجائے تو میں ہر قسم کی سزا کیلئے تیار ہوں۔

    رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ: عمران خان مجھے بتائیں کہ وہ پندرہ کلو ہیروئن کس کی تھی؟ اور عمران یہ بھی بتائیں کہ اراضی اسکینڈل میں 5 ارب روپے کا غبن کیسے کیا گیا؟
    انہوں نے دعوی کیا کہ: اراضی اسکینڈل میں اقرار نامہ، رجسٹری سمیت سب کچھ موجود ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پنجاب سے اکٹھی ہونے والی رقم وزیراعلیٰ ہاؤس جاتی تھی یا بنی گالہ۔

    رانا نے کہا: ابھی تو صرف سوالات پوچھے جا رہے ہیں اور تحقیقات کی جارہی ہیں۔

    ان کے مطابق: توشہ خانہ میں جو انہوں نے گھڑیاں لیں اور بیچی ہیں اسکے ثبوت موجود ہیں اوروہ دوکان بھی موجود ہے جہاں یہ گھڑیاں بیچی گئی تھیں،

  • موجودہ چیئرمین نیب کے دورمیں 587 ارب روپے ریکورکیے گئے،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    موجودہ چیئرمین نیب کے دورمیں 587 ارب روپے ریکورکیے گئے،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    موجودہ چیئرمین نیب کے دورمیں 587 ارب روپے ریکورکیے گئے،قائمہ کمیٹی میں انکشاف
    پی اے سی اجلاس کے بعد چئیرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے میڈیا سے گفتگو کی ہے، چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب کے بارے میں اراکین پارلیمنٹ کو تفصیلی بریفنگ دوں گا، صحافی نے سوال کیا کہ عمران خان کے تحائف کے بارے میں تحقیقات ہوں گی؟ جس پر چیئرمین نیب نے جواب دیا کہ کیا ان کے خلاف تحقیقات نہیں ہو رہی؟ کیا ان کے کیسز عدالتوں میں نہیں ہیں؟ یہ بھول جائیں کہ نیب کی کسی کے ساتھ کوئی وابستگی ہو گی،نیب کی وابستگی صرف پاکستان کے ساتھ ہے،
    پولیٹیکل انجنئیرنگ کا لفظ نیب میں ہے ہی نہیں،شاہد خاقان عباسی سابق وزیراعظم ہیں میرے قابل احترام ہیں، شاہد خاقان عباسی کے بارے میں بات نہ کریں، چیئرمین نیب سے سوال کیا گیا کہ عمران خان چلے گئے کیا عہدہ سے مستعفی ہوں گے؟ جس کے جواب میں چیئرمین نیب نے کہا کہ آفس میں آئیں جواب دوں گا، جیسے آپ کہیں گے کر لیں گے،

    قبل ازیں راناتنویرکی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا ،چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال بھی اجلاس میں شریک ہوئے اور بریفنگ دی، چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نےایک لاکھ 77 ہزارسے زائد سوسائٹیزکے متاثرین کورقوم دیں،متاثرین کو 25ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئیں نیب نے مجموعی طورپر 820 ارب روپے ریکورکیے ،موجودہ چیئرمین کے دورمیں 587 ارب روپے ریکور کیے گئے،اپنے دورمیں ایک روپیہ ادھر سے اُدھر نہیں ہونے دیا،ایک ایک پائی کا حساب رکھا ہے،آپ حساب لے سکتے ہیں ،آڈیٹر جنرل نےنیب ریکوریوں کامکمل آڈٹ کیا،

    نیب حکام نے کہا کہ نیب نے 500 ارب روپے ڈائریکٹ ریکور کیے، نیب نے 198 ارب روپے بینک لون ڈیفالٹر سے وصول کیے، نیب نے 45 ارب روپے عدالتی جرمانے کی مد میں وصول کیے،رانا تنویرنے کہا کہ چیئرمین نیب نے اچھا کام کیا لیکن ابھی بہت کام کرنے والا ہے،لاہور میں ایسے گروپ بھی جن کے پاس زمین نہیں اور اربوں روپے وصول کر رہے ہیں،عمران خان کے دور میں گندم اور ادویات اسکینڈل پر نیب نے کچھ نہیں کیا،آر ایل این جی میں تاخیر سے سیکریٹری پیٹرولیم نے اعتراف کیا 20 ارب کا نقصان ہوا،نیب نے آر ایل این جی کی تاخیر پر کوئی تحقیقات نہیں کیں،

    چیئرمین نیب نے کہا کہ راولپنڈی کی ایک سوسائٹی سے اڑھائی ارب روپے متاثرین کو دلوائے، اس سوسائٹی میں 45 لاکھ کا میں نے بھی پلاٹ لیا تھا،جب سوسائٹی مالک کو طلب کیا تو اس نے کہا پیسے پاس ہیں مجھے زمین لے کر دیں، سوسائٹی کے مالک کو کہا کہ نیب زمین کی لین دین کا کام نہیں کرتا،سوسائٹی مالک نے کہا میں آگے تک جاؤں گا میں نے کہا آپ آگے جائیں گے نہ پیچھے جائیں گے بلکہ جیل جائیں گے، میرے دور میں نیب نے اچھے کام کیے ان کی تو تعریف ہونی چاہیے، جس پر چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ تعریف آپ کی ہے اور کیا آپ کی تنخواہیں بڑھا دیں؟ تنخواہیں، مراعات نیب پہلے ہی بہت زیادہ لے رہا اور جب چاہے بڑھا لیتے ہیں،

    نیب حکام نے کہا کہ نیب نے خود سے ریٹرن جمع کرانے والوں سے 176 ارب روپے ریکور کیے، چیئرمین نیب نے کہا کہ پلی بارگین کرنے والے 99 فیصد کرپٹ افسران اپنے عہدوں پر نہیں ہیں،سپریم کورٹ کے احکامات اور ہدایات پر عمل درآمد کر رہے ہیں،

    میاں چنوں: ‘بھائی ذہنی طور پر مفلوج تھا اوراس کا علاج جاری تھا’بے گناہ قتل کیا گیا:مقتول کے بھائی کا انکشاف

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام کس کیلئے تھا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    فیصل واوڈا کی نااہلی،شیخ رشید کا اعلان،اپوزیشن کو بھی چیلنج دے دیا

    پشاور دھماکہ،وزیراعظم کو بریفنگ، ملزمان کی شناخت ہو چکی، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    تحریک عدم اعتماد،اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،ملاقاتیں جاری

    واقعی عمران خان گھبرا گئے؟ کابینہ اجلاس چوتھے ہفتے بھی التوا کا شکار

    تحریک عدم اعتماد کے بعد ہمارے کچھ لوگوں کو نیب کے نوٹس ملے ہیں،شاہد خاقان عباسی