Baaghi TV

Tag: پمز

  • میرے وزیراعظم انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے،وزیر قانون

    میرے وزیراعظم انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے،وزیر قانون

    اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے خود خواہش کا اظہار کیا کہ مجھے پمز اسپتال میں لے جائیں اور علاج وہی سے کروایا جائے، میرے وزیراعظم نے سیکرٹری ہیلتھ کو کہا کہ وہ ای ڈی پمز کے ساتھ پریس کانفرنس کریں، میرے وزیراعظم انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے-

    سینیٹ اجلاس میں عمران خان کی صحت سے متعلق سوالات پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے خود کہا اگر امن وامان کی صودتحال کا مسئلہ تو مجھے شام کو لے جائیں پمز کے ای ڈی نے یہ باتیں ایک پریس کانفرنس میں کی ہوئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ بھی کوئی مسئلہ آیا تو انہیں یہ سہولیات دی جائیں گی، بانی پی ٹی آئی کو ایک مسئلہ سامنے آیا جس پر انہوں نے خود کہا مجھے یہ انجکشن پمز سے لگوایا جائے بلاشبہ آئین پاکستان ہر شخص کو حقوق دیتا ہے، حقوق کا اطلاق بھی آئینی طریقہ ہے، سابق وزیراعظم کو ایک پروسیجر اپنا کر عدالت نے سزا دی ہے، ان کے خلاف ساڑھے چار کروڑ کے ہیروں کے ہار کو بہت کم قیمت میں بیچنے کا کیس ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ سزا یافتہ مجرم کی ذمہ داری اپیلٹ کورٹ کو ہوتی ہے، قیدی کو سہولیات نا ملنے کا معاملہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ سے پوچھا جا سکتا ہے رانا ثناء اللہ کو جب گرفتار کیا گیا تو انہیں کچھ دن پہلے آنکھ کا فالج ہوا تھا، میں نے مجسٹریٹ کو بھی کہا لیکن مجسٹریٹ صاحب نے آئیں بائیں شائیں کی، رانا ثناء اللہ کو باون ڈگری کے ٹمپریچر میں زمین پر سلایا جاتا تھا اور جیل ڈاکٹر سے بھی نہیں ملنے دیا جاتا تھا، رانا ثناء اللہ پر منشیات کا کیس ڈالا گیا تھا۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرے وزیراعظم نے تو کبھی نہیں کہا انہیں طبی سہولیات نا دی جائیں، میرے وزیراعظم نے سیکرٹری ہیلتھ کو کہا کہ وہ ای ڈی پمز کے ساتھ پریس کانفرنس کریں، میرے وزیراعظم انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہےجیل سپرنٹنڈنٹ نے قیدی کی ہدایت پر پمز اسپتال سے علاج کروایا اور ان کا پروسیجر کامیاب ہوا ہے، انہیں مزید کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

  • اربوں روپے مالیت سے تیار ہونیوالا وبائی امراض کا ہسپتال ٹھیکے پر دینے کی تیاری

    اربوں روپے مالیت سے تیار ہونیوالا وبائی امراض کا ہسپتال ٹھیکے پر دینے کی تیاری

    اربوں روپے مالیت سے تیار ہونے والا وبائی امراض کا ہسپتال ٹھیکے پر دینے کی تیاری

    وزارت صحت کی نا اہلی کے باعث 250بیڈز پر مشتمل ہسپتال پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں دینے کی تیاری کر لی گئی،وفاقی سیکرٹری صحت نے ہسپتال پرائیویٹ ادارے کے سپرد کرنے کے لئے کمیٹی قائم کر دی ،عالمی امدادی اداروں کی مدد سے اربوں روپے مالیت سے وبائی امراض کا ہسپتال تعمیر کیا گیا ،کرونا کے دوران ایمرجنسی میں قلیل مدت میں پی ٹی آئی حکومت نے تعمیر کیا ،وزارت صحت حکام کی نا اہلی کے باعث ہسپتال کو پمز انتظامیہ کے ماتحت کر دیا گیا ،پمز انتظامیہ پمز کو چلا نہ سکی آئی ایچ آئی ٹی سی کو ٹھیکے پر دینے کی تجویز دے دی ،سیکرٹری صحت نے اپنی ہی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی ،کمیٹی ہسپتال کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ میں دینے کےقواعد و ضوابط طے کرے گی

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

  • پمز اسلام آباد، 100 سے زائد نرسنگ سٹاف کنٹریکٹ ختم ہونے پر فارغ

    پمز اسلام آباد، 100 سے زائد نرسنگ سٹاف کنٹریکٹ ختم ہونے پر فارغ

    وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکے پمز ہسپتال کے ایک سو سے زائد نرسنگ سٹاف کو زبانی حکم پر نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا

    پمز میں فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹز ایکٹ کے تحت بھرتی ہونے والے 100 سے زائد نرسنگ اسٹاف کو زبانی حکم پر نہ صرف نوکری سے فارغ کردیا گیا بلکہ انہیں ہاسٹل چھوڑنے کا حکم بھی دے دیا گیا ہے، نرسنگ سٹاف کا کہنا ہے ہمیں زبانی حکم پر اور صرف ایک دن کے نوٹس پر نکالا جا رہا ہے، کنٹریکٹ میں‌توسیع کے لئے ہسپتال انتظامیہ کئی ماہ سے کہہ رہی تھی، ہمیں چار ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ، اب ہمیں نکال کر نئے افراد کو بھرتی کیا جائے گا جو غیر تربیت یافتہ ہو گا

    پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر کا کہنا ہے کنٹریکٹ ختم ہو چکا ہے اور اب یہ معاملہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور محکمہ صحت کے درمیان ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں نرسنگ اسٹاف کو دو سال کے کاٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا تھا، پی ڈی ایم دور حکومت میں نرسنگ اسٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع دی گئی اور توسیعی کنٹریکٹ بھی دسمبر 2023 میں ختم ہو چکا ہے، کنٹریکٹ ختم ہونے پر ایک سو سے زائد نرسنگ سٹاف کو نوکریوں سے نکالا گیا ہے

    جنس معلوم کرنے کیلئے حاملہ بیوی کا پیٹ چاک کرنے والے شوہر کو عمرقید

    بھارت میں مرد ٹیچر نے الیکشن ڈیوٹی سے بچنے کیلئے خود کو ’حاملہ‘ قرار دیدیا

    سفاک شوہر نے حاملہ بیوی اور کمسن بیٹی کو جان سے مار دیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    سوتیلے باپ نے لڑکی کے ساتھ کی زیادتی، ماں‌نے جرم چھپانے کیلیے کیا تشدد

    کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا

    کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل

    16 خواتین کو نازیبا و فحش ویڈیو ،تصاویر بھیج کر بلیک میل کرنے والا گرفتار

  • پمز کی میڈٰکل ٹیم  کی جانب سے بشری بی بی کے  معائنے کی رپورٹ سامنے آ گئی

    پمز کی میڈٰکل ٹیم کی جانب سے بشری بی بی کے معائنے کی رپورٹ سامنے آ گئی

    اسلام آباد: پمز ہاسپٹل کی 4 رکنی میڈیکل کنسلٹنٹس کی ٹیم کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشری بی بی کے مکمل چیک اپ کی رپورٹس سامنے آ گئی-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق 51 سالہ مریضہ بشری بی بی کا مکمل چیک اپ سب جیل بنی گالہ میں کیا گیا ، مریضہ بشریٰ بی بی کے مطابق انہوں نے ڈھائی ماہ قبل کچھ کھانا کھایا جو ہونٹوں میں جلن اور آنکھوں میں پانی آنا شروع ہوا اور جلد کی خشکی کا باعث بنا، یہ کچھ گھنٹوں تک جاری رہا اور پھر اس میں بہتری آئی اگلے چند دنوں میں مریضہ کو منہ کا ذائقہ خراب ہونا محسوس ہوا کبھی کبھار ایپی گیسٹرک درد اور پیٹ کے نچلے حصے میں تکلیف اور کھانا نگلنے میں مشکل ہونے کی شکایت کی، تاہم کوئی اوڈینوفجیا ( وہ درد جو نگلنے کے عمل کے دوران ہوتا ہے)ڈیسفیا ( گلے، غذائی نالی، یا اسٹرنم (سینے کی ہڈی کے پیچھے محسوس کیا جانے والادرد) کا تجربہ نہیں ہوا ہے۔ مریضہ کا ابتدائی ہفتے میں کچھ وزن کم ہوا جو کہ غیر دستاویزی تھا تاہم وزن دوبارہ بڑھ گیا ہے فی الحال مریضہ نے منہ کے خراب ذائقے اور کبھی کبھار پیٹ کے نچلے حصے میں ہلکی ہلکی تکلیف کی شکایت کی، انہوں نے کبھی کبھار کان میں رکاوٹ محسوس ہونے کی شکایت بھی کی، لیکن کان یا ناک کی کوئی دوسری علامات نہیں ہیں، دونوں کانوں کے اوٹوسکوپک معائنے پر دو طرفہ کان کی کینال صاف تھیں اور ٹائیمپینک جھلی برقرار تھیں،مریضہ کی درخواست پر پیٹ کا محدود معائنہ کیا گیا دھڑکن پر کوئی نرمی اور ریباؤنڈ نوٹ نہیں کیا گیا تھا اور آنتوں کی آوازیں نارمل تھیں-


    قبل ازیں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی سے آج صبح ملاقات ہوئی، ان کا معائنہ کیا ہے، ان کو زہر دینے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی، ڈاکٹر عاصم یوسف کا کہنا تھا کہ کہ بشریٰ بی بی کو زہر دیے جانے کے اس وقت کوئی شواہد نہیں ہیں، بشریٰ بی بی کو زہر دینے سے متعلق کوئی ٹیسٹ نہیں کر رہے، اس وقت بشریٰ بی بی کو ایسے کسی مسئلے کی تصدیق نہیں ہوئی،بہتر ہو گا کہ چیک کیا جائے کہ کوئی سنجیدہ مسئلہ تو نہیں، بشریٰ بی بی کی طبیعت 2 ماہ پہلے کھانے کے بعد خراب ہوئی تھی، ماضی میں ان کو کچھ دیا گیا کو تو کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ان کو معدے میں اب بھی تکلیف ہے تاہم پہلے سے ان کی طبیعت کافی بہتر ہے، منہ میں دانے نہیں ہیں، ابھی بشریٰ بی بی بالکل ٹھیک ہیں، انکو کھانا نگلنے میں مشکل ہوتی تھی تا ہم اب یہ کیفیت ختم ہو چکی ہے-

    ڈاکٹر عاصم یوسف کا مزیدکہنا تھا کہ دو ماہ قبل بشریٰ کی طبیعت کھانے کے بعد ہی خراب ہوئی تھی لیکن کیوں ہوئی تھی کس وجہ سے ہوئی تھی کچھ نہیں ہو سکتی، میں نے کیمرہ ٹیسٹ کا کہا ہے، پمز کے چار ڈاکٹر کی ٹیم ہمارے ساتھ تھی بنی گالہ میں جا کر ہم نے چیک اپ کیا، بہت حد تک بشریٰ بی بی کی ریکوری ہو چکی ہے-

  • چودھری پرویز الٰہی کے علاج کے لئے پمز کا پانچ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل

    چودھری پرویز الٰہی کے علاج کے لئے پمز کا پانچ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل

    راولپنڈی: سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے علاج کے لئے پمز کا پانچ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق میڈیکل بورڈ میں کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر اختر علی بندیشہ، میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر عارف، پلمونالوجسٹ ڈاکٹر اسرار اور پلاسٹک سرجن ڈاکٹر تاشفین بھی شامل ہیں ،جبکہ سرجن ڈاکٹر ممتاز کو میڈیکل بورڈ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

    بورڈ چودھری پرویز الٰہی کا طبی معائنہ اور اپنی نگرانی میں علاج معالجہ کرے گا، انہیں گزشتہ روز پمز ہسپتال کے کارڈیک سینٹر میں داخل کیا گیا تھا،چودھری پرویز الٰہی کو دل، سانس،شوگر اور گردوں کی پرانی بیماری لاحق ہے جبکہ گرنے سے ان کی پسلیاں بھی ٹوٹ گئی تھیں۔

    بجلی کی تقسیم کار 5 کمپنیوں پر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا الزام ثابت،25 کروڑ جرمانہ

    اسلام آباد دھرنے کے لیے جارہے ہیں، دیکھتے ہیں کون ہم پرلاٹھیاں برساتا ہے،شیر افضل

    کوٹ ادو:اعتکاف میں بیٹھے بچے سے مبینہ زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار

  • پمز میں ایم آر آئی مشین کافوٹو سیشن,مریضوں کو ٹرخایا جانے لگا

    پمز میں ایم آر آئی مشین کافوٹو سیشن,مریضوں کو ٹرخایا جانے لگا

    اسلام آباد(محمداویس)اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) میں نئی انسٹال شدہ ایم آر آئی مشین کافوٹو سیشن کیلئے دو مرتبہ افتتاح تو کر دیا گیا لیکن ٹیسٹوں کیلئے مریضوں کو مہینوں کا وقت دیکر ٹرخایا جانے لگا –

    باغی ٹی وی : مرض کی تشخیص کیلئے فوری ایم آر آئی ٹیسٹ کرانے کیلئے مریضوں اور ان کے عزیز و اقارب کی منت سماجت کے باوجود بھی شعبہ ریڈیالوجی کے حکام ٹیسٹ کرنے کے بجائے مزید لمبی تاریخیں دیکر مریضوں کو اذیت میں مبتلا کرنے لگے ، مریض مجبورا مہنگی داموں پرائیویٹ لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کرنے لگے ۔

    تفصیلات کے مطابق پمز ہسپتال میں آج سے کچھ ماہ قبل تک ایم آر آئی مشین تک نہ تھی تاہم ایم آر آئی مشین کی تنصیب کے دوران ہی شعبہ ریڈیالوجی کی سربراہ ڈاکٹر عائشہ عیسانی نے مشین کے ساتھ اپنا فوٹو شوٹ کرتے ہوئے میڈیا میں بیان جاری کرایا کہ انہوں نے ایم آر آئی میشن کا افتتاح کر دیا ہے اور اس فوٹو شوٹ کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی تاہم ان کی اس کوشش پر اس وقت پانی پھیر دیا گیا جب ہسپتال انتظامیہ نے اس افتتاح کو مسترد کر دیا اور ان کے فوٹو شوٹ افتتاح کے کچھ دن بعد وزیر صحت نے آکر دوبارہ سے اس کا افتتاح کر دیا جس سے مریضوں کو ایک آس لگی کہ ڈاکٹروں کی جانب سے تجویز کردہ فوری ایم آر آئی ٹیسٹ فوری کرانے کی تجویز سے ان کی بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے گی تاہم شعبہ ریڈیالوجی نے مریضوں کی آس پر پانی پھیر دیا ہے اور ڈاکٹروں کی جانب سے ایم آر آئی کرانے کی تجویز پر فوری ٹیسٹ کرنے کیلئے مریضوں کو مہینوں کی تاریخ دی جانے لگی ہے اور یہی مدعا بیان کیا جا رہا ہے کہ مریضوں کی رش کی وجہ سے تین سے پانچ ماہ کی تاریخ دے رہے ہیں شعبہ ریڈیالوجی کے حکام اور سٹاف کے اس طرز عمل سے مریض اور ان کے لواحقین شدید پریشانی کا شکار ہیں کہ ان کی سہولت کیلئے انسٹال کی جانے والی ایم آر آئی مشین سے غریب مریضوں کے ٹیسٹ ہونا ایک خواب بن گیا ہے ۔

    اس وقت پمز ہسپتال میں ایم آر آئی کرانے کیلئے جو مریض جاتا ہے اسے مارچ2024 کے آخری ہفتے سے لیکر اپریل 2024تک ٹیسٹ کا وقت دیا جا رہا ہے اور اس دوران کوئی مریض کتنا ہی سیریس کیوں نہ ہو جس کی ایم آر آئی فوری کرنا انتہائی ضروری ہو اسے بھی تین ماہ سے زائد کا وقت دیا جا رہا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جن مریضوں کو فروری2024 میں آپریشن کی تاریخیں دی گئیں اور انہیں ایم آر آئی ٹیسٹ کرانا تجویز کیا گیا تو انہیں ایم آر آئی ٹیسٹ کی تاریخ ، آپریشن کی تاریخ سے بعد کی دی جا رہی ہے ۔

    شعبہ ریڈیالوجی کے حکام کے اس طرز عمل سے مریض اور لواحقین شدید پریشان ہیں اور مجبورا پرائیویٹ لیبارٹریوں سے مہنگی داموں ایم آر آئی ٹیسٹ کرا رہے ہیں ۔مریضوں اور لواحقین نے شعبہ ریڈیالوجی کے حکام کو فوری تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتال کے ڈاکٹروں کی جانب سے تجویز کردہ ایم آر آئی ٹیسٹ کو کم سے کم تین سے چار دنوں کو کرنے کی تاریخ دی جانی چاہئے تاکہ مریض کی بیماری کی فوری تشخیص ہو اور علاج معالجہ شروع ہو سکے۔

  • نگران حکومت کا وفاقی دارالحکومت کے دونوں بڑے ہسپتال فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ

    نگران حکومت کا وفاقی دارالحکومت کے دونوں بڑے ہسپتال فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد(محمداویس)وفاقی وزارت قومی صحت کا وزارت کے زیر انتظام اداروں میں کام کرنیوالے افسران پر عدم اعتماد، شہر کے دونوں بڑے ہسپتالوں میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے انتظامی عہدوں پر مستقل تعیناتی کیلئے وزارت دفاع کو خط لکھ دیا،فوج سے دو حاضر سروس افسران مانگ لئے ۔

    باغی ٹی وی کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق وزارت قومی صحت نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) اور فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک ہسپتال(ایف جی پی سی) میں مستقل ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے عہدوں پر تعیناتی کیلئے وزارت دفاع کو خط لکھ کر قابل اور اہل افسران کی تعیناتی کیلئے مدد مانگ لی ہے،باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت دفاع کو لکھے گئے خط میں وزارت صحت حکام نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے ہسپتالوں پمز اور فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک میں مستقل بنیادوں گریڈ اکیس کے قابل اور اہل افسران کی ضرورت ہے جو کہ وزارت صحت میں میسر نہیں ہے وزرات دفاع دونوں انتظامی افسران کی تعیناتی کیلئے افسران نامزد کرے

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے دونوں ہسپتالوں میں وزارت قومی صحت کے تحت کام کرنیوالے تجربہ کار قابل اور ماہر افسران موجود ہیں تاہم وزارت صحت کیجانب سے اپنی وزارت کے ماتحت کام کرنیوالے افسران پر عدم اعتماد کا اظہار اور کسی دوسری وزارت کو خط لکھ کر مدد طلب کرنے کی یہ نرالی منطق ناقابل فہم ہے

    بڑے ہسپتالوں کے سربراہان کی بھرتی ریکروٹمنٹ رولز کے مطابق ہو گی ،ترجمان وزارت صحت
    دوسری جانب خبر کے ایک دن بعد ترجمان وزارت صحت کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے بڑے ہسپتالوں کے سربراہان کی بھرتی ریکروٹمنٹ رولز کے مطابق ہو گی ،اس سلسلے میں مروجہ طریقے کار کے مطابق سختی سے عمل کیا جائے گا ، اس سلسلے میں انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں ، یہ فیصلہ وفاقی وزیر صحت کی سربراہی میں25 اگست 2023 ایک اجلاس میں ہوا تھا ،حکومت بھرتیوں میں شفافیت اور میرٹ پر سختی سے عمل کرنے کا عزم رکھتی ھے ،اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات /مفروضوں پر دھیان نہ دیں، کوئی غیر مصدقہ اطلاع اور مہم ہمیں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے مشن سے نہیں روک سکتی،وزارت صحت عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے بہترین امیدواروں کے انتخاب کا عزم رکھتی ھے

    ترجمان وزارت صحت سے جب سوال پوچھے گئے تو انہوں نے خاموشی اختیار کی اور کوئی جواب نہیں دیا، ترجمان وزارت صحت سے پوچھے گئے سوالوں میں کہا گیا تھا کہ ساجد شاہ صاحب ہسپتالوں کے سربراہان کی بھرتی نہیں ہونی تعیناتی ہو گی اور وہ بھی گریڈ اکیس کے افسر کی جسکی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کو ہے، وزارت نے کس انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں ؟ اور یہ بھی واضح کر دیں اس ردعمل کے بعد ہم یہ سمجھیں کہ وزارت نے جو خط وزارت دفاع کو لکھا وہ منسوخ ہوگیا یے؟ کیونکہ یہ مروجہ طریقہ کے تحت نہیں،میڈیا اور سوشل میڈیا پر تو وزارت کا جاری کیا گیا خط وائرل ہے کیا وہ مفروضہ اور غیر مصدقہ ہے ؟

    دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی اسلام آباد کا ہنگامی اجلاس ،وزارت صحت کی طرف سے وفاقی دارالحکومت کے 2 بڑے ہسپتال پمز اور پولی کلینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی اسامیوں پر فوجی افسران کی تعیناتی کیلئے سیکرٹری دفاع کو لکھے گئے خط کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔پی ایم اے اسلام آباد کے ڈاکٹر میاں رشید ،ڈاکٹر ریاض شہباز جنجوعہ ،ڈاکٹر محمد اجمل ،ڈاکٹر عابد سعید،ڈاکٹر عمر فاروق ،ڈاکٹر رانا جاوید اور دیگر نے کہا کہ ایسوسی ایشن ایسے کسی بھی اقدام کی نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ وزارت صحت کو متنبہ کرتی ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام سے باز رہے۔پی ایم اے اسلام آباد کے مطابق ایسا کوئی بھی اقدام سول ڈاکٹرز کی توہین ہے ۔وزارت نے خط لکھ اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔وزارت صحت کے اس اقدام سے سول سوسائٹی اور ادارے کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔پی ایم اے اسلام اپنے اداروں پر مکمل اعتماد کرتی ہے،ہمیں مکمل یقین ہے کہ مذکورہ ادارہ بھی وزارت صحت کے اقدام کا خیر مقدم نہیں کرے گا ۔پی ایم اے اسلام آباد کے مطابق ایسوسی ایشن ایسے کسی بھی اقدام کی بھرپور مزاحمت کرے گی۔

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی “فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    letter

  • پمز میں گردے کا ٹرانسپلانٹ شروع کرنے کے حوالے سے تجاویز طلب

    پمز میں گردے کا ٹرانسپلانٹ شروع کرنے کے حوالے سے تجاویز طلب

    اسلا م آباد،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی صحت نے پمز اسپتال کا دورہ کیا

    کمیٹی ممبران نے شعبہ کارڈیک کی ایمرجنسی کا دورہ کیا، ہسپتال حکام نے کہا کہ کارڈیک ایمرجنسی میں صرف 10 بیڈز مختص ہیں ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 10 بیڈز کیا اسلام آباد اور دیگر علاقوں سے آنے والوں کے لیے کافی ہے ؟ کمیٹی ممبران نے کہا کہ کارڈیک ایمرجنسی میں موجود بیڈز کی تعداد کم ہے ،ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا کہ کارڈیک ایمرجنسی میں 200 بیڈز کی ایمرجنسی کا منصوبہ زیر تکمیل ہے، ایمرجنسی کو بہتر انداز میں چلا رہے ہیں مگر آبادی کے اعتبار سے کم جگہ ہے اس وقت ڈینگی کے 56 مریض پمز میں زیر علاج ہیں ،ڈینگی کے لیے پمز میں 64 بیڈز مختص کیے ہوئے ہیں

    حکام کا کہنا تھا کہ پمز اسپتال میں گردے کا ٹرانسپلانٹ کرنا چاہتے ہیں ،پمز میں گردے ٹرانسپلانٹ شروع کرنے کے لیے جگہ کی کمی کا سامنا ہے ، پمز میں گردے کا ٹرانسپلانٹ شروع کرنے کے حوالے سے تجاویز طلب کی گئی ہیں ،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پمز اسپتال میں 1992 کے بعد کوئی واضح ترقیاتی کام نہیں ہوا،پمز کے گریجویٹ سٹوڈنٹس نجی رہائش گاہوں میں رہ رہے ہیں، فوزیہ ارشد نے کہا کہ میں پولی کلینک گئی ،آپریشن تھیٹر کے برا حال تھا بچوں کے اسپتال میں اے سی کام نہیں کر رہا ،درجہ حرارت زیادہ ہے ،ہسپتال انتظامیہ نے کہا کہ اسپتال کا سینٹرل اے سی کام نہیں کر رہا ،بہت پرانا ہے سپلٹ یونٹ لگائے ہیں ،مگر کم ہیں پمز اسپتال کو وسائل کمی کا سامنا ہے

    پمز کی نجکاری کے خلاف احتجاج میں رحمان ملک کی شرکت، کیا بڑا اعلان

    پمز ہسپتال کی نجکاری کی کیخلاف ملازمین کا احتجاج ساتویں روز بھی جاری

    پمز ہسپتال میں زیر علاج سابق صدر آصف زرداری کی تصویر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    پمز ہسپتال میں آنکھوں کا شعبہ ڈاکٹروں کی بداخلاقی اور مریضوں سے ناروا سلوک کی بدترین مثال بن گیا ،

    پمز میں ڈاکٹرز مسیحائی کی بجائے انتظامی امور سر انجام دینے میں مصروف

    ہولی فیملی ہسپتال میں مریضوں کا خون پینے والی لیڈی ڈاکٹر بارے سامنے آیا تہلکہ خیز انکشاف

  • پمز میں ڈاکٹرز مسیحائی کی بجائے انتظامی امور سر انجام دینے میں مصروف

    پمز میں ڈاکٹرز مسیحائی کی بجائے انتظامی امور سر انجام دینے میں مصروف

    پمز میں ڈاکٹرز مسیحائی کی بجائے انتظامی امور سر انجام دینے میں مصروف

    پاکستان میڈیکل انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ڈاکٹرز مسیحائی کی بجائے انتظامی امور سر انجام دینے میں مصروف، پمز میں ڈاکٹرز مسیحائی کی بجائے دفتری امور نمٹانے اور اعلیٰ سیٹوں پر براجمان ہو کر ملنے والی آسائشیں استعمال کرنے لگے

    پمز میں 9 ڈاکٹرز ایسے ہیں جو ادارے کے اندرونی ٹرانسفرز کے ذریعے مختلف سیٹوں پر براجمان ہیں ،میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ارم نوید ڈائریکٹر انڈور کی پوسٹ پر کام کرنے لگی جبکہ یہ پوسٹ ہے ہی نہیں لیڈی ڈاکٹر ارم نوید نے پرائیویٹ وارڈ میں مریضوں کیلئے مختص کمروں میں سے دو کمرے بھی اپنے زیر استعمال رکھ لیے، باخبر ذرائع کے مطابق دونوں کمرے ڈاکٹر اور اسٹاف کے زیر استعمال ہیں، ڈاکٹر حفیظ میمن ڈائیرکٹر کو آپریٹ سروس پر کام کرتے پوئے سرکاری لینڈ کروزر استعمال کرنے لگے ،ڈاکٹر رعنا فاطمہ جو کہ میڈیکل آفیسر کی جگا پر ڈائریکٹر ای اے سی کی پوسٹ پر کام کرنے لگی اینستھیزیا کے ڈاکٹر نوید شیخ کو ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کا چارج دیا گیا ہے

    ڈاکٹر رابعہ بلوچ گریڈ سترہ کی میڈیکل آفیسر کی جگا چلڈرن وارڈ کی ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنے لگی ڈاکٹر ذوفشاں ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر غلام رضا ڈپٹی ڈائریکٹر برن سینٹر اور ڈاکٹر فرح کمال جنکی ترقی چھ ماہ قبل ہوئی پر ابھی تک ایم ایل او کی سیٹ پر براجمان ہیں، ڈاکٹر خالق پلاسٹک سرجن کی جگا پرچیز ڈیپارٹمنٹ میں ڈائریکٹر کی خدمات سرانجام دینے لگے پمز میں پرچیز ڈپارٹمنٹ کی پوسٹ ہی موجود نہیں رفاقت بٹ اسسٹنٹ سول سب انجینئر کی جگا ڈپٹی ڈائریکٹر کی سیٹ پر اپنی خدمات انجام دینے لگے

    پمز ہسپتال میں آنکھوں کا شعبہ ڈاکٹروں کی بداخلاقی اور مریضوں سے ناروا سلوک کی بدترین مثال بن گیا ،

    پمز کی نجکاری کے خلاف احتجاج میں رحمان ملک کی شرکت، کیا بڑا اعلان

    پمز ہسپتال کی نجکاری کی کیخلاف ملازمین کا احتجاج ساتویں روز بھی جاری

    پمز ہسپتال میں زیر علاج سابق صدر آصف زرداری کی تصویر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

  • پمز ہسپتال،شعبہ آپٹامالوجی مریضوں سے بدسلوکی کی بدترین مثال بن گیا

    پمز ہسپتال،شعبہ آپٹامالوجی مریضوں سے بدسلوکی کی بدترین مثال بن گیا

    اسلام آباد : پمز ہسپتال میں آنکھوں کا شعبہ ڈاکٹروں کی بداخلاقی اور مریضوں سے ناروا سلوک کی بدترین مثال بن گیا ، ڈاکٹر صبا نامی آنکھوں کی ڈاکٹر خود اخلاق سے نابینا ہوگئی ،کمرے کو اندر سے کنڈیاں لگا کر خوش گپیاں ،آنکھوں کے سینکڑوں مریض باہر انتظار کی سولی پر لٹک گئے ،احتجاج پر عمر رسیدہ خاتون مریض کو دھکے دیکر کمرے سے باہر نکال دیا ،علاج سے انکار ۔ انتظامیہ کو شکایت کرنے پر ٹس سے مس نہ ہوئیں ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا حکم بھی ہوا میں اڑا دیا ،لواحقین کے ہسپتال انتظامیہ کو ڈاکٹر صبا کیخلاف باضابطہ درخواست جمع کرادی ۔

    تفصیلات کے مطابق پمز ہستال انتظامیہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور صحت کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے میں ناکام ہوگئی ۔ ہسپتال میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے آئے روز کسی نہ کسی بہانے سے ہڑتالیں اور احتجاج معمول بن گیا جب کہ ہسپتال انتظامیہ اپنی رٹ قائم کرنے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ کمزور انتظامیہ کی وجہ سے تکبر اور انا میں اٹے ڈاکٹرز غریب مریضوں کے لئے خدا بن بیٹھے ہیں ۔

    گزشتہ روز سوہان اسلام آباد سے آئی 68 سالہ عمررسیدہ خاتون مریضہ سے بھی پمز ہسپتال میں آنکھوں کے شعبہ کی ڈاکٹر صبا نے انتہائی نامناسب اور تضحیک آمیز رویہ اپناتے ہوئے علاج سے انکار کردیا ۔ مذکورہ مریضہ کے بیٹے طاہر نے بتایا کہ وہ اپنی والدہ کو لیکر صبح ساڑھے 8 بجے ہستپال آئے اور ایک بجے تک شعبہ آپٹامالوجی میں کمرہ نمبر تین کے سامنے دوائی کا نسخہ لکھوانے کے لئے انتظار کرتے رہے ،اس دوران ڈاکٹر صبا نامی ڈاکٹر نےمسلسل کمرے کے دونوں دروازوں کو اندر سے کنڈی لگائے رکھی اور اپنی دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہی ، گھنٹوں کے انتظار کے بعد جب عمرہ رسیدہ مریضہ کمرے میں گئی تو ڈاکٹر صبا نے انہیں آدھا گھنٹہ بیٹھانے کے بعد بغیر نسخہ دیئے کمرے سے انتہائی بدتمیزی ،ڈانٹ ڈپٹ اور دھکے دیکر باہر نکال دیا اور کمرے کے دوبارہ کنڈیاں لگا لیں۔

    مریضہ کے بیٹے کے مطابق آدھے گھنٹے انتظار کے بعد جب سٹاف کے کہنے پر مذکورہ ڈاکٹر نے دروازہ کھولاتو انھو ں نےایک بار پھر مذکورہ ڈاکٹر سے نسخہ لکھنے کی درخواست کی اور سوال کیا کہ آیا انھوں نے دروازوں کو کنڈیاں کیوں لگا رکھی ہیں جب کہ سینکڑوں مریض باہر خوار ہورہے ہیں تو مذکورہ ڈاکٹرآگ بگھولہ ہوگئیں اور ایک بار پھر انہیں والدہ سمیت کمرے سے باہر نکال دیا ۔ بیٹا مریضہ کے مطابق وہ اس واقعے کی شکایت لیکر جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اعجاز قدیر کے پاس گئے ،تو انھوں نے اپنے پی اے کو مذکورہ ڈاکٹر کے پاس بھیجا اور نسخہ لکھنے کی ہدایت کی تاہم ڈاکٹر صبا نے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ہدایت بھی نظر انداز کردی اور ایک بار پھر نسخہ لکھنے سے انکار کردیا ۔ مریضہ اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے وہ اس واقعے سے شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکار ہوئے ہیں اور معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان ،سیکرٹری ہیلتھ کئیر اور پمز ہسپتال انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ مذکورہ ڈاکٹر کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں انصاف فراہم کیاجائے ۔