Baaghi TV

Tag: پناہ گزین

  • برطانیہ میں غیرقانونی پناہ گزینوں کا کریک ڈاؤن، متعدد فوڈ رائیڈرز گرفتار

    برطانیہ میں غیرقانونی پناہ گزینوں کا کریک ڈاؤن، متعدد فوڈ رائیڈرز گرفتار

    برطانوی حکومت نے سمندر کے ذریعے یا دیگر غیر قانونی طریقے سے آنے والے پناہ گزینوں کو روکنے کیلئے فوڈ رائیڈرز کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے بڑا کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے، برطانیہ بھر میں سینکڑوں گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

    20 سے 27 جولائی کے درمیان مجموعی طور پر 1,780 افراد کو روکا گیا اور ان سے مشتبہ غیر قانونی کام کی سرگرمیوں سے بات کی گئی،اس کے نتیجے میں شمال مغربی لندن میں ہلنگڈن، سکاٹ لینڈ میں ڈمفریز اور برمنگھم سمیت علاقوں میں،تقریباً 280افراد کو گرفتار کیا گیا ،ان میں سے تقریباً 89 کو ملک سے نکالے جانے کے التوا میں حراست میں لیا گیا ہے اور 53 اب ان کی سیاسی پناہ کی حمایت کا جائزہ لے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی حمایت کو معطل یا واپس لیا جا سکتا ہے۔

    ہوم آفس نے آپریشن کو "ملک گیر شدت کے ہفتہ” کے طور پر بیان کیا ہے جس میں غیر قانونی کام کرنے والے ہاٹ سپاٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں گیگ اکانومی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جہاں کام مختصر مدت یا ملازمت کے حساب سے تفویض کیا جاتا ہے،امیگریشن انفورسمنٹ ٹیموں کو بارڈر سیکیورٹی کے لیے پہلے سے اعلان کردہ £100m کی فنڈنگ سے £5m ملیں گے، جس کا مقصد آنے والے مہینوں میں ان علاقوں میں افسران کے دوروں میں اضافہ کرنا ہے۔

    برطانیہ میں سزا یافتہ غیر ملکی مجرموں کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کافیصلہ

    برطانوی ہوم آفس نےایک اہم بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ بڑی فوڈ ڈلیوری کمپنیز میں رائیڈرز جعلی ناموں یا دوسروں کے اکاؤنٹس استعمال کرکے کام کررہے ہیں، اس سلسلے میں برطانیہ میں پناہ کے متلاشی (اسائلم سیکرز) اور دیگر غیر ملکیوں کا ڈیٹا ان فوڈ کمپنیوں کو فراہم کیا جائے گا تاکہ اس سلسلے کو روکا جاسکے۔

    رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے ایسے غیر ملکیوں افراد کیخلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے جو غیر قانونی طور پر جعلی اکاؤنٹس سے فوڈ ڈلیوری کا کام کررہے ہیں،اس سلسلے میں پولیس نے بڑے پیمانے پر شہر میں گشت کرنے والے فوڈ ڈلیوری رائیڈرز کو چیک کیا اور شناخت کے بعد انہیں گرفتار کرکے قانونی کارروائی شروع کردی،جن میں سیاسی پناہ کے خواہشمند اور غیر قانونی امیگریشن کے ذریعے ملک میں داخل ہونے والے ملزمان بھی شامل ہیں۔

    لندن : فلسطین کے حق میں مظاہرہ ، پولیس کا کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار

    امیگریشن حکام تمام صنعتوں پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں تاہم اس بارانہوں نے زیادہ تر ریسٹورنٹ، ٹیک وے، کیفے اور کھانے پینے کے کاروبار کو نشانہ بنایا جو لوگوں کو غیر قانونی طور پر ملازمت دیتے تھے۔

  • آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

    آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

    جرمنی میں شامی پناہ گزینوں کی خوشیاں اس وقت زائل ہو گئیں جب اتوار کو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے گرنے پر شامی پناہ گزینوں کے جشن کے بعد جرمن سیاستدانوں نے انہیں واپس اپنے وطن بھیجنے کا مطالبہ شروع کر دیا۔

    اتوار کے دن، جب جرمنی کے مختلف شہروں میں شامی پناہ گزین جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکلے، تو جرمنی کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کی رہنما ایلس ویڈل نے اعلان کیا کہ جو لوگ "آزاد شام” کا جشن مناتے ہیں، انہیں اب یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔انہوں نے کہا، "ایسے افراد کو فوراً شام واپس جانا چاہیے۔”

    دوسری جانب، جرمن وزیر اور قدامت پسند سیاستدان ینس اسپان نے کہا کہ جو شامی واپس جانا چاہتے ہیں، انہیں جرمنی خصوصی پرواز فراہم کرے گا اور 1,000 یوروز (تقریباً 824 برطانوی پاؤنڈ) کا ابتدائی فنڈ بھی دیا جائے گا۔یہ خیالات صرف دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے نہیں بلکہ بائیں بازو کی سیاستدانوں نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

    شامی پناہ گزینوں کی تعداد اور ان کے جرمنی میں قیام کی قانونی حیثیت
    2015 میں، جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے شامی جنگ سے متاثر افراد کے لیے جرمنی کے دروازے کھول دیے تھے، جس کی وجہ سے ملک میں شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ مرکل کے اس فیصلے کو اس وقت سراہا گیا تھا، لیکن آج یہ پناہ گزینوں کے مستقبل کے حوالے سے تنازعے کا باعث بن چکا ہے۔ جرمنی میں اس وقت تقریباً 975,000 شامی پناہ گزین موجود ہیں، جو یورپ میں کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ ہیں۔

    اتوار کو شام میں ایک نیا موڑ آیا جب اسلام پسند گروپ "حیات تحریر الشام” نے دمشق پر قبضہ کر لیا، اور اس کے اگلے ہی دن شامی صدر بشار الاسد روس کی جانب فرار ہو گئے۔ اس تبدیلی کے بعد جرمنی اور دیگر یورپی ممالک نے شامی پناہ گزینوں کی پناہ گزینی کی درخواستوں پر فیصلہ روک دیا، اور اس صورتحال کے واضح ہونے تک ان کی درخواستوں پر مزید فیصلے نہیں کیے جائیں گے۔جرمنی کے وزیر داخلہ نینسی فیزر نے کہا کہ یہ فیصلہ صحیح ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس اتار چڑھاؤ کی حالت میں شامی پناہ گزینوں کی واپسی کے بارے میں قیاس آرائی کرنا "غیر سنجیدہ” ہوگا۔

    شامی پناہ گزینوں کے لیے ان تجویزوں نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ انیس مدامانی، جو 2015 میں جرمنی آئے تھے اور اب برلن میں مقیم ہیں، نے کہا، "میں اس خیال کو انتہائی برا سمجھتا ہوں۔ شام میں ابھی بھی حالات اتنے خطرناک ہیں جتنے پہلے تھے۔ برلن اب میرا دوسرا گھر بن چکا ہے، اور میں یہاں رہنا چاہوں گا۔”شامی پناہ گزینوں کی واپسی یا ان کے قیام کا معاملہ اب جرمنی میں ایک سنگین سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس پر مختلف جماعتوں کی طرف سے شدید ردعمل آ رہا ہے، اور ملک میں اگلے سال ہونے والے انتخابات کے پیش نظر یہ مسئلہ ایک بڑا انتخابی موضوع بن سکتا ہے۔

    شامی پناہ گزینوں کی جرمنی میں موجودگی اور ان کے مستقبل کے بارے میں مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے متضاد بیانات آ رہے ہیں۔ جرمنی کے کئی سیاستدان، خواہ وہ دائیں بازو سے ہوں یا بائیں بازو سے، یہ سمجھتے ہیں کہ اب شام میں حالات بدل چکے ہیں، اور شامی پناہ گزینوں کا جرمنی میں قیام غیر قانونی ہے۔ لیکن شامی پناہ گزینوں کے لیے ان تجاویز کو قبول کرنا آسان نہیں ہے، اور یہ معاملہ مستقبل میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

    شام،بدنام زمانہ جیل میں شہریوں کی اپنے پیاروں کی تلاش جاری

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

  • برطانیہ میں بچوں سمیت تارکیں وطن کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، آکسفورڈ یونیورسٹی

    برطانیہ میں بچوں سمیت تارکیں وطن کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، آکسفورڈ یونیورسٹی

    لندن: آکسفورڈ ہونیورسٹی نے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکڑوں تارکین وطن بشمول بچوں کو برطانیہ پہنچنے پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی اخبار ”دی گارڈین“ کے مطابق ان رپورٹ کے بعد استغاثہ بڑی حد تک مشکل کا شکار ہوگیا ہے، اس معاملے کو سینیگال کے نوجوان ابراہیم باہ کے کیس نے اجاگر کیا ہے جسے قتل و غارت کے چار الزامات اور امیگریشن قانون کی خلاف ورزی میں سہولت فراہم کرنے کے بعد نو سال اور چھ ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ڈوب گئے تھے۔

    یونیورسٹی آف آکسفورڈ اور بارڈر کرمینولوجی کے سینٹر فار کرمینالوجی کی رپورٹ میں ان لوگوں کے کیسوں کا جائزہ لیا گیا جنہیں نیشنلٹی اینڈ بارڈرز ایکٹ کے بعد ”چھوٹی کشتیوں“ پر برطانیہ آنے کی وجہ سے قید کیا گیا ہےجون 2022 اور اکتوبر 2023 کے درمیان، 253 لوگوں کو 1971 کے امیگریشن ایکٹ کے سیکشن 24 کے تحت غیر قانونی داخلے کے لیے اور سات کو اس ایکٹ کے سیکشن 25 کے تحت سہولت کاری کے لیے سزا سنائی گئی۔

    خاتون کو مشتعل ہجوم سے بچانے پر اے ایس پی شہربانو نقوی کومیڈل دینے کا …

    تحقیق کے مطابق، جن لوگوں کو قانونی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا وہ یا تو باہ جیسے کشتی ڈرائیور تھے یا ان کی برطانیہ میں امیگریشن کی تاریخ تھی جیسے کہ ویزا کی سابقہ درخواست دیے جانا۔

    2021 میں، کامیاب اپیلوں کے ایک سلسلے نے 1971 کے امیگریشن ایکٹ کے ان سیکشنز کے تحت مقدمات کو الٹ دیا جواب میں، جون 2022 میں، نیشنلٹی اینڈ بارڈرز ایکٹ نے برطانیہ میں غیر قانونی آمد سے متعلق مجرمانہ جرائم کے دائرہ کار کو بڑھا دیا اور ”غیر قانونی آمد“ کا جرم متعارف کرایا گیا، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا چار سال تھی اور ”سہولت کاری“ کے جرم میں زیادہ سے زیادہ سزا 14 سال سے بڑھا کر عمر قید کر دی گئی تھی۔

    2022 میں، ہر 10 کشتیوں کے لیے ایک شخص کو کشتیوں کی اسٹیئرنگ میں مبینہ کردار کے لیے گرفتار کیا گیا۔ 2023 میں، یہ تعداد بڑھ کر ہر سات کشتیوں کے لیے ایک ڈرائیور ہوگئی گرفتار ہونے والوں میں سوڈان، جنوبی سوڈان، افغانستان، ایران، اریٹیریا اور شام سمیت ایسے ممالک کے لوگ شامل ہیں جن میں سیاسی پناہ دینے کی شرح زیادہ ہے۔

    برطانیہ میں پہلی بار ارکان پارلیمنٹ کو سیکیورٹی فراہم

    عمر کے تنازعات میں بچوں پر ”غیر قانونی آمد“ اور ”سہولت کاری“ کے جرم میں بڑوں کے طور پر چینل بھر میں کشتیوں کو چلانے میں ان کے مبینہ کردار کے لیے چارج کیا گیا ہے ہیومنز فار رائٹس نیٹ ورک نے 15 متنازع بچوں کی شناخت کی ہے جن کے ساتھ ہوم آفس کی عمر کے جائزوں کے بعد بالغوں کے طور پر غلط سلوک کیا گیا اور ان نئے جرائم کا الزام لگایا گیا۔

    اب تک، ان ملزمان میں سے پانچ کے نابالغ ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے اور باقی کے لیے عمر کے جائزوں کے نتائج کا انتظار ہے۔ ان متنازعہ نوجوانوں کی اکثریت سوڈانی یا جنوبی سوڈانی ہے، جو لیبیا کے راستے برطانیہ گئے ہیں۔

    تاہم، ہوم آفس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں استعمال کی گئی زبان گمراہ کن ہے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے زیادہ تر پناہ کے متلاشیوں کو ابتدائی طور پر 24 گھنٹے یا اس سے کم کے لیے حراست میں رکھا جاتا ہے، پناہ کے متلاشیوں کو پہلے ملک میں تحفظ حاصل کرنا چاہیے جہاں ان کے لیے ایسا کرنا مناسب ہو، ہم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے اور تارکین وطن کو چینل کے اس پار خطرناک،غیر قانونی اور غیر ضروری سفر کرنے سے روکنے کے لیے سخت کارروائی کرتے رہتے ہیں۔

    کراچی میں پی آئی اے پرواز کے حادثے کی رپورٹ 4 سال بعد جاری

  • کینیڈا  کا  پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا فیصلہ

    کینیڈا کا پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا فیصلہ

    ٹورنٹو: کینیڈا نے لاکھوں غیر قانونی امیگرنٹس کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: کینیڈا کے وفاقی وزیر امیگریشن مارک ملر نے اعلان کیا کہ کینیڈا میں قانونی دستاویزات کے بغیر رہنے والے افراد کو مستقل رہائشی کارڈ جاری کیا جائے گا اور اس طرح وہ قانونی حیثیت حاصل کر لیں گے، اس فیصلے سے لاکھوں پناہ گزینوں کو فائدہ پہنچے گا، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے ورک پرمٹ یا بین الاقوامی طلبہ کے ویزوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔

    مارک ملر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بعض تعلیمی ادارے ”پپی ملز“ کے طور پر کام کر رہے ہیں، انہوں نے سسٹم کے اندر دھوکہ دہی اور بدسلوکی سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا یہاں پپی ملز کی اصطلاح ڈگریوں کے بے دریغ جاری کیے جانے اور اداروں میں سہولت سے زیادہ طالب علموں کی موجودگی کیلئے استعمال کی گئی ہے،صوبوں میں، پپی ملز کی طرح ڈپلومہ ہولڈرز موجود ہیں جو صرف ڈپلومہ حاصل کر رہے ہیں اور یہ طالب علم کیلئے جائز تجربہ نہیں ہے۔

    مارک ملر نے بین الاقوامی طلبا کو ممکنہ خطرات اور استحصال سے بچانے کے لیے حکومت کے عزم پر زور دیا،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر صوبے کارروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو وفاقی حکومت مداخلت کے لیے تیار ہے، بہت ہو چکا، اگر صوبے اور علاقے یہ نہیں کر سکتے تو ہم ان کے لیے کریں گے۔

    وزیرِ امیگریشن کے مطابق غیر قانونی قیام پذیر امیگرنٹس کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کینیڈا میں 2025 تک پانچ لاکھ افراد کو امیگریشن دینے کے منصوبے کا حصہ ہے، حکومت کینیڈا کے نئے فیصلے کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

    کینیڈین حکومت نے بین الاقوامی طلباء کے لیے 20 گھنٹے کام کی حد پر لگائی گئی پابندی پر عارضی امتناع کی مدت بڑھا دی ہے، طلبا اب 30 اپریل 2024 تک کیمپس سے باہر ہفتے میں 20 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے کے اہل ہیں کینیڈا کی نئی اسٹوڈنٹ ویزا پالیسی میں متوقع طلبا کے لیے مالی ضرورت کو بڑھا کر 20,635 ڈالرز کر دیا جائے گا، جو کہ دیرینہ10,000 ڈالرز کی حد سے دوگنی ہے،علاوہ ازیں اب 18 ماہ کا مزید ورک پرمٹ حاصل کرنے کا اصول جنوری سے ختم کر دیا گیا ہے۔

    حکومت اس حوالے سے آئندہ موسمِ بہار میں باضابطہ تجویز کابینہ میں رکھے گی کینیڈا کی حکومت اگلے تین سال میں پناہ گزینوں کی مدد سے متعلق پروگرام کے تحت ایسے 51 ہزار 615 پناہ گزینوں کا خیر مقدم کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے جنہیں تحفظ کی اشد ضرورت ہے ان میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے ارکان، مشکل اور خطرناک حالات سے دوچار خواتین اور لڑکیاں، انسانی اسمگلنگ اور اذیت کا شکار ہونے والے افراد، روہنگیا پناہ گزین اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن شامل ہیں۔

  • جوبائیڈن انتظامیہ کی پناہ گزینوں پر عائد کی گئی پابندیاں معطل

    جوبائیڈن انتظامیہ کی پناہ گزینوں پر عائد کی گئی پابندیاں معطل

    واشنگٹن: امریکی عدالت نے صدر جوبائیڈن انتظامیہ کی پناہ گزینوں پر عائد کی گئی پابندیوں کو معطل کر دیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی عدالت نے میکسیکو کی سرحد سے امریکہ میں داخلے کے منتظر افراد کے پناہ کی درخواست دینے پر عائد پابندیاں معطل کیں امریکی عدالت نے پابندیوں کو پناہ گزینوں سے متعلق ملکی قوانین سے متصادم قرار دیا۔ عدالت نے فیصلے میں جو بائیڈن انتظامیہ کو اپیل کے لیے 2 ہفتے کی مہلت دے دی جبکہ جو بائیڈن انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف سرکٹ کورٹ آف اپیلز سے رجوع کر لیا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن انتظامیہ نے رواں سال مئی میں پناہ گزینوں سے متعلق پابندی عائد کی تھیں جس کے تحت امریکہ میں پناہ لینے کے خواہش مندوں کی اکثریت درخواست دینے کی اہل نہیں رہی تھی جو بائیڈن انتظامیہ میکسیکو کی سرحد سے غیرقانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں کمی کو اپنی اسی پالیسی کا ثمر قرار دے رہی ہے۔

    افسران کیلئے نئی گاڑیاں، نگران حکومت پنجاب سمیت دیگر کو نوٹسز جاری

    دریں اثنا انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے عدالتی فیصلے کو فتح سے تعبیر کیا ہے امریکن سول لبرٹیز یونین کی ڈپٹی ڈائریکٹر کترینا ایلینڈ کا کہنا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ فتح کے مترادف ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی جزوی ہے اس غیرقانونی پابندی کے خلاف جنگ کو بائیڈن انتظامیہ جتنا طول دے گی، اتنا ہی میکسیکو کی سرحد پر موجود امریکا میں تحفظ کے متلاشی ہزاروں افراد اور ان کے اہل خانہ کے مصائب میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

    بائیڈن انتظامیہ میکسیکو کی سرحد سے غیرقانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں کمی کو اپنی اسی پالیسی کا ثمر قرار دے رہی ہے۔ جون میں میکسیکو کی سرحد پر ایک لاکھ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جو فروری 2021 کے بعد سے کم ترین تعداد ہے۔

    50 ہزارجرمانہ اور تنخواہ بند،ہوم سیکرٹری ،آئی جی پنجاب،آئی جی جیل پہنچے عدالت

  • یونان:پناہ گزینوں کیخلاف  پالیسیاں مزید سخت کرنے کا فیصلہ

    یونان:پناہ گزینوں کیخلاف پالیسیاں مزید سخت کرنے کا فیصلہ

    یونان کے نئے وزیر برائے مہاجرین نے ہجرت اور ملک میں غیر قانونی داخلے کی کوششوں کے حوالے سے ایک ”سخت لیکن منصفانہ“ پالیسی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق سینٹرل رائٹ نیو ڈیموکریسی پارٹی نے اتوار کو ہونے والے انتخابات میں بائیں بازو کے مخالفین کو ہرا دیا،اب دائیں بازو کی اس جماعت نے یونان اور ترکی کی سرحد کے ساتھ دیوار کی توسیع کرنےاور مشرقی بحیرہ روم میں سخت گشت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے تاکہ تارکین وطن کی یورپی یونین میں داخل ہونے والی کشتیوں کو روکا جا سکے۔

    امریکا کا یوکرین کو نصف ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاردینے کا اعلان

    یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکس کی نئی حکومت کے حلف اٹھانے کے چند گھنٹے بعد نومنتخب وزیر دیمتریس کیریڈیس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم انسان دوست ہیں لیکن نادان نہیں ہیں،کیریڈیس نے کہا کہ ان کی حکومت کو امید ہے کہ اگلے چھ مہینوں میں یورپی یونین کے وسیع ہجرت کے معاہدے کی منظوری کو حتمی شکل دی جائےگی جب یورپی یونین کا ساتھی رکن اسپین یورپی یونین کی گردشی صدارت سنبھالے گا۔

    حجاج رات مزدلفہ میں گزار کر واپس منیٰ کی جانب روانہ

    دوسری جانب انسانی حقوق کے گروپس نے تارکین وطن کو زبردستی واپس بھیجے جانے کی متعدد رپورٹوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جسے پش بیکس بھی کہا جاتا ہےاس دعوے کی حکومت نےتردید کی ہے لیکن مکمل طور پر آزاد انکوائری کی جانچ پڑتال سے مشروط ہونے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

    سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک میں عیدالاضحیٰ منائی جا رہی ہے