Baaghi TV

Tag: پنجابی فلم

  • ہیر رانجھا،پاکستان کی پہلی پنجابی فلم

    ہیر رانجھا،پاکستان کی پہلی پنجابی فلم

    چناں کتھے گزاری اے رات وے

    ہیر رانجھا
    پاکستان کی پہلی پنجابی فلم

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کی پہلی پنجابی فلم 1932 میں لاہور کے سنیما مالک حکیم رام پرشاد نے پلے آرٹ فوٹو ٹون کے بینر تلے، ” حور پنجاب ” کے نام سے بنانا شروع کی. بعد میں اس کا نام ” ہیر رانجھا” کردیا گیا. ہیر انوری بیگم بنی اور رانجھارفیق غزنوی،(دونوں نے بعد میں شادی کرلی تھی) کیدو ایم اسماعیل بنے جن سے یہ کردار چپک گیا، وہ بعد میں بھی کیدو بنتے رہے. فلم کے ہدایت کار اے آر کاردار تھے. فلم لاہور کے امپیریل تھیٹر میں لگی( جس کا نام بعد میں ریجنٹ سنیما رکھ دیا گیا تھا) تیکنیکی ناتجربہ کاری کی وجہ سے فلم کی فوٹو گرافی اور ساؤنڈ دونوں ناقص رہیں جس کی وجہ سے فلم فلاپ ہوئی. ویسے بھی یہ پنجابی اردو ملی جلی تھی. بہر حال پنجابی فلموں کا آغاز ہوگیا.

    1932 سے 1947 تک 37 پنجابی فلمیں بنیں. پنجابی فلم سازی کے مراکز کلکتہ، لاہور اور بمبئی رہے.

    پاکستان میں فلموں کا کوئی آرکائیو یا لائبریری نہیں ہے جہاں یہ فلمیں، ان کے گانے، بک لیٹ، پوسٹر محفوظ ہوں. دلچسپی رکھنے والے لوگوں نے ایسی کچھ چیزیں محفوظ کی ہیں لیکن مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں. ایسی صورت حال میں مشہور فلمی ریسرچر فیاض احمد اشعر نے اس مشکل ٹاسک پر کام شروع کیا. ان کی دُھن اور دوسروں سے تعاون کو سب مانتے ہیں اس لیے اکثر کلیکٹرز نے ان سے بھی تعاون کیا-

    اس طرح وہ ان فلموں کے بیشتر گانے جمع کرنے میں کامیاب رہے اور وہ سب اس کتاب”ابتدائی پنجابی فلمی گیت” میں پیش کردئیے. ایک ایک گیت کی تلاش کیلئے انہیں کہاں کہاں بھٹکنا اور خجل خوار ہونا پڑا، اس کا اندازہ کوئی ریسرچر ہی لگا سکتا ہے. گیت ہی نہیں، انہوں نے ہر فلم بنانے والی کمپنی، ہدایت کار، موسیقار، اداکاروں اور گلوکاروں کے نام بھی دے دئیے ہیں. اس طرح یہ فلمی تاریخ بھی ہے اور اس کی ادبی اہمیت بھی ہے.

    یہ جس قدر محنت طلب کام تھا اور ریسرچ کا نتیجہ جتنا وقیع ہے، اس سے آدھے کام پر بھی ایم فل بلکہ پی ایچ ڈی کی ڈگریاں مل جاتی ہیں. ( یہ الگ بات ہے کہ اب بھاری فیسیں بھی دینا پڑتی ہیں)

    1932 سے 1947 کی پنجابی فلمیں :

    1932 ہیر رانجھا( لاہور)
    1932شیلا عرف پنڈ دی کڑی (کلکتہ)
    1935 مرزا صاحباں عرف عشق پنجاب( کلکتہ)
    1938 ہیر سیال( کلکتہ)
    1939 مرزاصاحباں( بمبئی)
    سوہنی کمہارن (کلکتہ)
    سسی پنوں( کلکتہ)
    سوہنی مہینوال (لاہور)
    بھگت سورداس (کلکتہ)
    پورن بھگت( کلکتہ)
    گل بکاؤلی( لاہور)
    1940 یملا جٹ( لاہور)
    متوالی میراں( کلکتہ)
    لیلے’ مجنوں( کلکتہ)
    دلا بھٹی( لاہور)
    جگا ڈاکو( کلکتہ)
    علی بابا( بمبئی)
    1941 چترا بکاؤلی( لاہور)
    چنبے دی کلی( کلکتہ)
    کڑمائی (بمبئی)
    مبارک (کلکتہ)
    میرا پنجاب (کلکتہ)
    میرا ماہی (لاہور)
    چودھری (لاہور)
    سہتی مراد (لاہور)
    پٹواری( لاہور)
    پردیسی ڈھولا (کلکتہ)
    1942 منگتی (لاہور)
    راوی پار (لاہور)
    گوانڈھی( لاہور)
    پٹولا (کلکتہ)
    1943 اک مسافر (لاہور)
    1944 گل بلوچ (لاہور)
    کوئل (لاہور)
    1945 نکھٹو (لاہور)
    1946 کملی (لاہور)
    1947 وساکھی.. لاہور میں بننا شروع ہوئی لیکن فسادات کے باعث بمبئی منتقل کردی گئی اور 1950 میں ریلیز ہوسکی دو اور فلمیں کالیاں راتاں اور ماہیا بننے کا بھی اعلان ہوا. کچھ کام ہوا، گیت بھی ریکارڈ ہوئے لیکن فلمیں بن نہ سکیں.
    ماہیا کی خاص بات یہ تھی کی اس کی موسیقی نثار بزمی نے دی تھی. لیکن یہ سامنے نہ آسکی. اس کے بعد انہوں نے کسی پنجابی فلم کا میوزک نہیں دیا.

    آپ کو حیرت ہوگی کہ اس دور کے فلمی (اور بعض غیر فلمی ) گیتوں کے مقبول مکھڑوں پر بعد کے شاعروں بالخصوص خواجہ پرویز نے خوب ہاتھ صاف کیا . مثلا” یہ مکھڑے :
    ماہی میرا غصے غصے
    پلا مارکے بجھا گئی دیوا
    چناں کتھے گزاری اے رات وے
    کچی ٹٹ گئی جنہاں دی یاری
    بتی بال کے بنیرے آتے رکھنی آں
    ڈھول جانی ساڈی گلی آویں
    بھاویں جانے تے بھاویں نہ جانے
    چھڈ میری وینی نہ مروڑ
    لما لما باجرے دا سٹا

  • بڑی سکرین سے دور نہیں‌ رہ سکتی ثناء

    بڑی سکرین سے دور نہیں‌ رہ سکتی ثناء

    فلم سٹار ثناء جن کی آنے والے دنوں میں فلم سپر پنجابی ریلیز ہو رہی ہے اس فلم کو معروف ڈائریکٹر ابو علیحہ نے ڈائریکٹ کیا ہے. فلم میں نسیم وکی ، جگن کاظم و دیگر شامل ہیں. ثناء کا اس فلم کے ھوالے سے کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی کا بہترین کردار ادا کیا ہے ، سپر پنجابی لوگوں کو بہت پسند آئیگی. سپر پنجابی میں جس موضوع کو ڈسکس کیا گیا ہے وہ اس سے پہلے کبھی کسی فلم میں ڈسکس نہیں‌کیا گیا. میں ڈراموں میں بھی کام کررہی ہوں ، لیکن میری پہلی ترجیح بڑی سکرین ہے جب بھی موقع ملتا ہے میں فلم میں کام کرتی ہوں اور کوشش کرتی ہوں بڑی

    سکرین سے زیادہ دوری نہ بنے. سپر پنجابی ایک بہترین فلم ثابت ہو گی سب نے بہت محنت کی ہے اور ابو علیحہ نے تمام فنکاروں سے بہت ہی خوبصورت انداز میں کام لیا ہے. ثناء نے مزید کہا کہ میں نے اپنے کیرئیر کا آغاز فلموں سے ہی کیا تھا اسلئے بڑی سکرین پر کام کرکے اطمینان ہوتا ہے . مجھے خوشی ہے کہ میرے مداح مجھے ہر کردار میں اور ہر میڈیم پر پسند کرتے ہیں . اس وقت بھی میں‌متعدد ڈراموں کی شوٹنگ میں مصروف ہوں جب جب فلم آفر ہوتی رہی ضرور کروں گی کیونکہ فلم میرا عشق ہے.

  • اچھے سکرپٹ کی منتظر ہوں  جاناں ملک

    اچھے سکرپٹ کی منتظر ہوں جاناں ملک

    اداکارہ جاناں ملک جنہوں‌ نے کم عرصے میں اپنا نام بنایا انہوں نے حال ہی میں پنجابی فلم رنگ عشق دا کے ٹریلر لانچ میں‌شرکت کی. وہاں انہوں نے میڈیا سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ میں‌آج یہاں‌اپنے دوست اپنے بھائی علی عباس جو کہ فلم کے ہیرو ہیں کا حوصلہ بڑھانے کےلئے آئی ہوں. جاناں ملک نے کہا کہ میں اب شیف بن چکی ہوں، کھانا بنانا اور اس طرح کے تجربے کرنا میرا بہت پرانا شوق تھا. جب اداکاری سے کچھ وقفہ لیا تو پھر میں‌نے یہ کام شروع کیا اور مجھے بہت اچھا ریسپانس بھی ملا. انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں اداکاری سے

    بالکل دور نہیں ہوئی آج بھی اگر مجھے کوئی اچھا سکرپٹ ملے گا تو میں ضرور کام کروں گی. انہوں نے مزید کہا کہ جو فلمیں بھی ریلیز ہورہی ہیں میں ساری دیکھ رہی ہوں. مولا جٹ حال ہی میں‌ دیکھی ہے بہت اچھی لگی. خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں اتنا اچھا کام ہو رہا ہے. مولا جٹ نے دراصل ہم سب کو حوصلہ دیا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ میں کسی بھی کردار کا انتخاب سکرپٹ میں اسکی اہمیت کے حساب سے کرتی ہوں. میں‌نے جتنا بھی کام کیا ہے اس سے بے حد مطمئن ہوں اور مزید بھی جب جب اچھا کام ملا کرتی رہوں گی.

  • ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے فواد خان

    ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے فواد خان

    ”فواد خان” نے حال ہی میں ایک انڑویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی کام کرنا پسند کرتا ہوں. ایک سے زیادہ کام میں مینج ہی نہیں‌ کر پاتا شاید کیرئیر کے آغاز میں دو پراجیکٹ ایک ساتھ کئے تھے لیکن اس کے بعد کبھی نہیں کئے. فواد خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے پنجابی بولی نہیں آتی تھی جب ڈائیلاگ بولنے ہوتے تھے تو میری ٹانگیں کانپ جاتی تھیں، نروس ہو جاتا تھا لیکن سکرین پر آپ کو یہ چیز نظر نہیں آئیگی. انہوں نے اس انٹرویو میں‌ یہ بھی کہا کہ میں کردار یا کوئی بھی پراجیکٹ کرنے میں سست ہوں، کافی وقت لگ جاتا

    ہے مجھے یہ فیصلہ کرنے میں‌ کہ میرے پاس جو پراجیکٹ آیا ہے کرنا ہے یا نہیں کرنا. انہوں نے کہا کہ میں کراچی میں پیدا ہوا لیکن میری سکولنگ اور پرورش لاہور میں ہوئی ، گھر کا ماحول ایسا تھا کہ اس میں پنجابی بولی نہیں جاتی تھی اس لئے مجھے پنجابی بولنے اور سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے لیکن فلم کے لئے بہت محنت کی اور بہت سارے لفظوں‌ کے مطلب پوچھتا رہا اور مجھے لگتا ہے کہ مجھے اب ان کے معنی بھی بھول چکے ہوں گے. یاد رہے کہ فواد خان کی فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ 13 اکتوبر کو سینما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے. فلم کی ایڈوانس بکنگ کامیابی سے جاری ہے.

  • انڈین اور پاکستانی فنکاروں کی پنجابی فلم ماں دا لاڈلا کی لاہور میں سکریننگ

    انڈین اور پاکستانی فنکاروں کی پنجابی فلم ماں دا لاڈلا کی لاہور میں سکریننگ

    انڈین پنجابی فلم ”ماں دا لاڈلا” جس میں ترسیم سنگھ جسڑ اور نیروباجوہ کے علاوہ پاکستانی فنکار نسیم وکی ، افتخار ٹھاکر اور قیصر پیا نے اہم کردار ادا کئے ہیں. گزشتہ روز اس فلم کی لاہور میں سکریننگ کی گئی. اس موقع پر نسیم وکی موجود تھے انہیں فلم میں ہیرو کا کردار کرنے والے ترسیم سنگھ جسڑ نے وڈیو کال کی اور بے حد خوشی کا اظہار کیا پنجابی میں بولے” مینوں بوہت خوشی اے کے میری فلم پاکستان اچ ریلیز ہو رئی اے” . فلم میں پنجابی کلچر کو دکھایا گیا ہے بیرون ملک میں شوٹ ہونے والی اس فلم میں پاکستانی فنکاروں کے کردار نمایاں ہیں. ماں دا لاڈلا فلم کی ریلیز کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے کہا جا رہا ہےکہ اس فلم کے بعد دیگر انڈین فلموں کی ریلیز کے راستے کھلیں گے. فلم میں نیروباجوہ کافی

    خوبصورت لگ رہی ہیں کہانی میں ایک سوشل ایشو کو ہائی لائٹ کیا گیا ہے. نسیم وکی اور افتخار ٹھاکر کے فلم میں ڈائیلاگز نے شائقین کو خوب محظوظ کیا. یا درہے کہ فلم میں نسیم وکی ، افتخار ٹھاکر اور قیصر پیا کے علاوہ نرمل رشی، روپی گل نے بھی اہم کردار ادا کئے ہیں. دو گھنٹے پر محیط یہ فلم کامیڈی ڈرامہ ہے. فلم کی سکریننگ پر افتخار ٹھار اور قیصر پیا اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے نہیں پہنچ سکے یوں سکریننگ میں‌نسیم وکی پر تمام نظریں جمی رہیں.