Baaghi TV

Tag: پنجابی فلمز

  • صائمہ ترکش آئس کریم کی دیوانی نکلیں

    صائمہ ترکش آئس کریم کی دیوانی نکلیں

    ڈائریکٹر مصنف سید نور کی اہلیہ پنجابی فلموں‌کی سپر ہٹ اداکارہ صائمہ کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ ترکش آئسکریم کی خریداری کررہی ہیں. وڈیو میں‌دیکھا جا سکتا ہے کہ صائمہ ترکش آئسکریم ڈیمانڈ‌کررہی ہیں . صائمہ کو ترکش آئس کریم روایتی انداز میں‌دی جارہی ہے جسکو دیکھ کر صائمہ کافی خوش ہو رہی ہیں . صائمہ نور ویسے تو بہت کم کم سوشل میڈیا پر آتی ہیں لیکن آئسکریم لینے کی وڈیو نے صائمہ کے مداحوں کو کر دیا ہے خوش. اس وڈیو پر طرح‌طرح‌کے تبصرے ہو رہے ہیں. صائمہ کے مداح ان کو بہت زیادہ سراہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اداکارہ کی آئسکریم لیتے ہوئے کی وڈیو وائرل ہو رہی ہے لوگ پسند کررہے ہیں. یاد رہے کہ صائمہ

    نور حال ہی میں‌انسٹاگرام پر آئیں ہیں وہاں اپنی کبھی کبھار وڈیو اور پوسٹس شئیر کرتی رہتی ہیں. یاد رہے کہ صائمہ نور پاکستان فلم انڈسٹری کی وہ ہیروئین ہیں جنہوں نے اپنی اداکاری کے زریعے لاکھوں کروڑوں دلوں پر راج کیا . انہوں‌نے سید نور کے ساتھ شادی کی ، ان کی خود کی اولاد نہیں‌ہے لیکن رخسانہ نور کے بچوں‌کو اپنا بچہ سمجھتی ہیں اور سید نور اور رخسانہ نور کے بچے صائمہ کو بے حد پسند بھی کرتے ہیں.

  • انڈین فلمیں پاکستان میں لگ رہی ہیں تو پاکستانی فلمز انڈیا میں‌ کیوں نہیں‌ لگتیں؟ مسعود بٹ کا سوال

    انڈین فلمیں پاکستان میں لگ رہی ہیں تو پاکستانی فلمز انڈیا میں‌ کیوں نہیں‌ لگتیں؟ مسعود بٹ کا سوال

    کئی سپر ہٹ پنجابی فلموں کے خالق مسعود بٹ نے کہا ہے کہ انڈین فلمیں پاکستان میں اگر لگ رہی ہیں اور ماضی میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ پاکستانی فلمیں انڈیا میں‌کیوں نہیں‌لگتیں؟ کیوں ایسی کوششیں نہیں‌کی جاتیں؟ مسعود بٹ نے کہا کہ پاکستان میں جو اس وقت پنجابی فلمیں بن رہی ہیں ان کا بجٹ چند لاکھ ہوتا ہے جبکہ بھارت میں بننے والی فلموں کا بجٹ کروڑوں میں ہوتا ہے وہ باہر کے ملکوں میں شوٹ ہوتی ہیں. ہماری پنجابی فلموں کا موازنہ بالکل بھی انڈین پنجابی فلموں کے ساتھ نہیں کیاجانا چاہیے. گوگا لاہور یا اشتہاری ڈوگر جیسی فلمیں

    دیکھنے والا بھی ایک طبقہ ہے لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان فلموں کو دیکھنے والا طبقہ نہیں ہے. مسعود بٹ نے کہا کہ کراچی والے لوگ جو فلمیں بنا رہے ہیں وہ اچھی ہیں ان پر اعتراض کرنے والوں پر مجھے اعتراض ہے. ہمایوں سعید ماہرہ خان اور فہد مصطفی ہہت اچھا کام کررہے ہیں . میں سمجھتا ہوں کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ سپر ہٹ فلم ہے مجھے جب ناصر ادیب نے یہ آئیڈیا سنایا تھا بہت پسند آیا تھا میں نے ان کو کہہ دیا تھا کہ یہ فلم اگر بنی تو سپر ہٹ ہو گی . بلال لاشادی اچھا ڈائریکٹر ہے اس نے کام بھی اچھا کام کیا ہے.

  • مجھ پر فلم انڈسٹری تباہ کرنے کا الزام لگانے والے بتائیں وہ کیوں انڈسٹری چھوڑ کر بھاگے ناصر ادیب

    مجھ پر فلم انڈسٹری تباہ کرنے کا الزام لگانے والے بتائیں وہ کیوں انڈسٹری چھوڑ کر بھاگے ناصر ادیب

    معروف مصنف ناصر ادیب جن کے آجکل بہت چرچے ہیں ان کہنا ہےکہ مجھ پر یہ الزام بالکل غلط ہے کہ میں نے فلم انڈسٹری کو تباہ کیا. میں نے تو بلکہ فلم انڈسٹری کو بچایا. میں فلم انڈسٹری کی بقا کےلئے کام کرتا رہا جو لوگ انڈسٹری کو چھوڑ کر چلے گئے وہ کس منہ سے فلم انڈسٹری کی بات کرتے ہیں. میری بے شمار ہٹ فلمیں ہیں اور تمام تقریبا پنجابی ہیں اگر میں پنجابی میں لکھ رہا تھا تو اردو فلمیں لکھنے اور بنانے والے کیوں بھاگے؟ میں نے کسی کے ہاتھ نہیں پکڑے تھے کہ وہ فلمیں ہی نہ بنائیں کیوں انہوں نے میدان میں میرا مقابلہ نہیں کیا جب میں پنجابی

    لکھ رہا تھا تو یہ لوگ اردو لکھ لیتے، مقابلہ تو کرتے مقابلہ کسی نے کیا ہی نہیں اور آج مجھ پہ الزام لگایا جاتا کہ میں نے فلم انڈسٹری تباہ کی. ناصر ادیب نے یہ بھی کہا کہ میری لکھی ہوئی مولا جٹ آج بھی مقبول ہے کہ نوجوان نسل نہ صرف اس کو دیکھنا چاہتی ہے بلکہ اس فلم کے کرداروں پر فلمیں بن رہی ہیں اور یہ میرے لئے فخر کی بات ہے. ناصر ادیب نے کہا کہ وقت کے ساتھ خود کو ڈھالنا چاہیے جن لوگوں‌ نے وقت کے ساتھ خود کو نہیں ڈھالا وہ آج خسارے میں ہیں.

  • پرائیڈ آف پرفارمنس کےلئے انجمن حکومت پاکستان کی ہیں شکر گزار

    پرائیڈ آف پرفارمنس کےلئے انجمن حکومت پاکستان کی ہیں شکر گزار

    اداکارہ انجمن جن کو پرائیڈ آف پرفارمنس دئیے جا نے کا اعلان کیا گیا ہے وہ اس اعلان پر ہیں بہت خوش. ان کا کہنا ہے کہ مجھے یہ ایوارڈ کافی لیٹ مل رہا ہے لیکن پھر بھی میں حکومت پاکستان کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے عزت بخشی ہے. میں بہت محسوس کرتی تھی جب مجھ سے بعد میں آنے والوں کو پرائیڈ آف پرفارمنس ملتا تھا لیکن میں خاموش ہی رہتی تھی کچھ نہیں کہتی تھی. میرے مداح بہت افسردہ رہتے تھے کہ کیوں مجھے یہ ایوارڈ نہیں دیا جا رہا تھا لیکن یقینا میرے مداح بھی اب میری طرح کافی خوش ہیں. انجمن کا کہنا ہے کہ میں نے ہمیشہ بہت محنت سے کام کیا اور میرے کام کو عوام میں بہت

    پذیرائی ملی، میری فلمیں کئی کئی مہینے سینما گھروں سے نہیں اترتی تھیں. میری تقریبا فلموں نے ڈائمنڈ ،گولڈن اور پلاٹینیم جوبلی کی. مجھے کسی سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے، میرا چونکہ قسمت پر بہت یقین ہے لہذا ہمیشہ ہر معاملے میں یہی سوچا کہ جب جو قسمت میں ہو گا مل جائیگا. انجمن نے مزید یہ بھی کہا کہ مجھے اب بھی اگر کوئی اچھا اور پاور فل کردار آفر ہو گا تو یقینا میں کروں گی. آج کل کے فنکار بہت اچھا کام کررہے ہیں ان سب کا کام دیکھ کر دل کو خوشی ہوتی ہے.اچھی اور مثبت بات یہ ہے کہ فلمیں اچھا بزنس کررہی ہیں.