Baaghi TV

Tag: پنجاب اسموگ

  • مصنوعی بارش کیلئے مقامی ٹیکنالوجی کا تجربہ کامیاب ہو گیا

    مصنوعی بارش کیلئے مقامی ٹیکنالوجی کا تجربہ کامیاب ہو گیا

    پنجاب میں مصنوعی بارش کی مقامی ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے، صوبے میں جہلم، چکوال، تلہ گنگ اور گوجر خان میں ’سیڈ کلاؤڈنگ‘ کے نتیجے میں جہلم اور گوجر خان میں بارش ہوئی ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق محکمہ موسمیات نے اس پیش رفت کی تصدیق کر دی، افواج پاکستان کے سائنسی تحقیق اور ترقی کے ماہرین (ایس پی ڈی)، آرمی ایوی ایشن، پارکو، ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) اور پنجاب حکومت نے اشتراک عمل سے مصنوعی بارش منصوبے میں کامیابی حاصل کی۔ماہرین کا کہنا تھا کہ دوپہر 2 بجے ’کلاوڈ سیڈنگ‘ کی گئی تھی جس سے جہلم اور گوجر خان میں چند گھنٹوں بعد بارش ہوئی۔’کلاؤڈ سیڈنگ‘ کے اثرات لاہور پر بھی بارش کی صورت برآمد ہونے کا قوی امکان ہے، مصنوعی بارش سے اسموگ میں کمی لانے میں بڑی مدد ملے گی۔دوسری جانب ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تمام متعلقہ اداروں، سائنسی ماہرین کو مصنوعی بارش کے کامیاب تجربے پر مبارک باد دی ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ آج آپ کی محنت، لگن اور قابلیت سے صوبہ پنجاب نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، پوری قوم آپ پر فخر کرتی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس متحدہ عرب امارات کے تعاون سے مصنوعی بارش برسانے کا تجربہ کیا گیا تھا، اس بار 100 فیصد اپنی مقامی مہارت اور ٹیکنالوجی سے کامیاب تجربہ کیا۔

    حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ

    کراچی خودکش حملہ: چشم دید گواہان نے مرکزی ملزم کوشناخت کرلیا

    پی ٹی آئی ،جے یوآئی کے اتحاد کی کوئی بات نہیں ہوئی، عبدالغفور حیدری

  • پنجاب : اسموگ کے باعث ایک کروڑ سے زائد بچے خطرےمیں

    پنجاب : اسموگ کے باعث ایک کروڑ سے زائد بچے خطرےمیں

    پاکستان میں عالمی ادارہ یونیسیف نے پنجاب کے شدید متاثرہ اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر ایک کروڑ سے زائد بچوں کے اسموگ کے خطرے سے دو چار ہونے کے باعث فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق پنجاب کے سات شہروں میں آج ریکارڈ کیا جانے والا ایئرکوالٹی انڈیکس 400 سے زائد تھا جبکہ کھیلوں کے سازوسامان کے لیے مشہور شہر سیالکوٹ میں فضائی معیار 774 تک ریکارڈ کیا گیا۔اسلام آباد میں اقوام متحدہ فنڈ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ ہفتے لاہور اور ملتان میں ریکارڈ فضائی آلودگی کے باعث درجنوں بچوں سمیت متعدد افراد ہسپتالوں میں داخل ہوئے۔ گزشتہ ماہ صوبے میں اسموگ کو آفت قرار دیا گیا تھا جبکہ پنجاب کے بڑے شہروں میں بچوں کو آلودگی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اسکول 17 نومبر تک بند کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ اسموگ کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے لوگوں پر پارکوں، چڑیا گھروں، کھیل کے میدانوں اور عجائب گھروں میں جانے پر 17 نومبر تک پابندی عائد کی گئی ہے۔پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فادل نے کہا کہ میں اس آلودہ اور زہریلی ہوا میں سانس لینے والے بچوں کی صحت کے حوالے سے انتہائی تشویش میں مبتلا ہوں۔’ پنجاب کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر ایک کروڑ سے زائد بچے سموگ کے خطرے سے دو چار ہیں۔’عبداللہ فادل نے کہا کہ’ فضائی آلودگی کے ریکارڈ سطح سے قبل پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر 12 فیصد بچوں کی اموات ہوا کے خراب معیار کی وجہ سے ہوتی تھی۔’ ’ غیر معمولی اسموگ’ کے اثرات کا اندازہ کچھ وقت بعد ہوگا، تاہم ہم جانتے ہیں آلودگی کی مقدار میں دوگنا اور تین گنا اضافہ ہونے سے حاملہ خواتین اور خاص طور پر بچوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔عبداللہ فادل کا کہنا تھا کہ ’فضائی آلودگی سے بچے اس لیے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے پھیپڑے کمزور ہیں اور ان کی قوت مدافعت کم ہے۔‘آلودہ ذرات بچوں کے پھیپڑوں اور دماغ کی نشونما پر بہت زیادہ اثر انداز ہوسکتے ہیں، آلودہ فضا میں سانس لینے سے دماغی ٹشوز متاثر ہوسکتے ہیں۔’ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب حاملہ خواتین آلودہ فضا میں سانس لیتی ہیں تو ان کے بچوں کی قبل از وقت پیدائش کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ ان بچوں کا پیدائشی وزن بھی کم ہوسکتا ہے۔‘انہوں نے حکام سے فوری طور پر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانے اور طویل مدتی حفاظت کے لیے آلودہ مادوں کے اخراج سے متعلق ضوابط کو مزید مضبوط بنانے کی درخواست کی۔

    سندھ حکومت نے اسٹیل مل بحال کیلئے روس سے رابطہ کر لیا

    کراچی ایئرپورٹ سگنل پر خود کش حملے کا ماسٹر مائنڈ بلوچستان سے گرفتار