Baaghi TV

Tag: پنجاب الیکشن

  • پنجاب انتخابات، نظر ثانی سماعت کیلئے لارجر بینچ کی استدعا مسترد

    پنجاب انتخابات، نظر ثانی سماعت کیلئے لارجر بینچ کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،پنجاب انتخابات معاملہ ،وفاقی حکومت کی الیکشن کمیشن نظر ثانی سماعت کیلئے لارجر بینچ کی استدعا مسترد کر دی گئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نظرثانی کیس کی سماعت کیلئے تین رکنی بینچ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، سپریم کورٹ میں کیس کل سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا، حکومت نے نئے قانون کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ کل نظر ثانی کیس کی سماعت کریگا

    واضح رہے کہ آخری سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ 2023 کی کاپی اور نوٹیفکیشن سپریم کورٹ جمع کروایا تھا، آرٹیکل 184 کے تحت مقدمات کی نظرثانی درخواستوں میں سپریم کورٹ اپیل کی طرز پر سماعت کرے گی،ایکٹ کا دائر کار اس قانون کے بننے سے پہلے کے فیصلوں پر بھی ہو گا، نظرثانی درخواست کی سماعت لارجر بینچ کرے گا، لارجر بینچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز سے زیادہ ہوگی، 184(3)کے فیصلے کے خلاف 60روز میں اپیل دائر کی جاسکے گی، نظر ثانی میں اپنی مرضی کا وکیل مقرر کیا جا سکے گا،ایکٹ کا دائرہ کار سپریم کورٹ و ہائیکورٹس کے فیصلے اور رولز پر بھی ہو گا،ایکٹ نافذ ہونے کے بعد نواز شریف اور جہانگیر ترین بھی ایکٹ سے فائدہ اٹھا سکیں گے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    پنجاب میں انتخابات کرانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست میں نگران پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا تھا وفاقی حکومت نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پرنظرثانی کی استدعا کی ہے۔ وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سپریم کورٹ نے خود تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیار کو غیر موثر کر دیا، پنجاب میں انتخابات پہلے ہوئے تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہونےکا اندیشہ ہے۔نگران پنجاب حکومت نے صوبے میں فوری انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئےکہا ہےکہ الیکشن کی تاریخ دینےکا اختیار ریاست کے دیگر اداروں کو ہے، 14 مئی الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات کے آئینی تقسیم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، آرٹیکل 218 کے تحت صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اختیارات کی تقسیم کے پیش نظر سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم پر نظر ثانی دائر کررکھی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ کا حکم نہیں دے سکتی، عدالت نے تاریخ دیکر اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 14 مئی کو پنجاب بھر میں انتخابات کرانے کا حکم دے رکھا تھا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے 4 اپریل کے فیصلے کو عدالت عظمٰی میں چیلنج کیا گیا تھا

  • آئین کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہوں گے؟ چیف جسٹس

    آئین کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہوں گے؟ چیف جسٹس

    ریویو آف ججمنٹس ایکٹ کیس اور پنجاب انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواستوں کا معاملہ ،سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بینچ میں شامل تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس اور ریویو ایکٹ ساتھ سنتے ہیں، عدالت نے پی ٹی آئی وکیل علی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے استفسارکیا کہ سپریم کورٹ نظر ثانی نئے قانون پر آپ کا کیا موقف ہے ؟علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نظر ثانی پر نیا قانون آئین سے متصادم اور پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا تسلسل ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس کچھ درخواستیں آئی ہیں، ریویو ایکٹ کے معاملے کو کسی اسٹیج پر دیکھنا ہی ہے،اٹارنی جنرل کو نوٹس کر دیتے ہیں، ریویو ایکٹ پر نوٹس کے بعد انتخابات کیس ایکٹ کے تحت بنچ سنے گا،

    بیرسٹر علی ظفرنے عدالت میں کہا کہ عدالت پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس کا فیصلہ ریویو ایکٹ کیس کے فیصلے تک روک سکتی ہے، پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس میں دلائل تقریبا مکمل ہو چکے ہیں اسلیے کیس مکمل کر لینا چاہئے، عدالت نے کہا کہ اگر ریویو ایکٹ ہم پر لاگو ہوتا ہے تو الیکشن کمیشن کے وکیل کو لارجر بنچ میں دوبارہ سے دلائل کا آغاز کرنا ہو گا .عدالت کیسے پنجاب انتخابات کیس سنے اگر سپریم کورٹ ریویو ایکٹ نافذ ہو چکا ہے؟ آپ بتائیں کہ کیسے ہم پر سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس میں لاگو نہیں ہوتا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب چاہتے ہیں نظرثانی کیس کا فیصلہ ہو، وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ کیس کی سماعت ملتوی نہ کرے، نئے قانون کی شق 5 کا اطلاق پنجاب الیکشن کیس پر نہیں ہوتا ہے، مجھے امید ہے عدالت دونوں قوانین کو کالعدم قرار دے گی

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں پنجاب الیکشن کیس پرانے قانون کے تحت سنا جائے،وکیل علی ظفر نے کہاکہ جی میں یہی کہنا چاہتا ہوں کیس پرانے قانون کے تحت سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب چاہتے ہیں کہ پنجاب انتخابات نظرثانی کیس کا فیصلہ ہو الیکشن کمیشن کے وکیل نے یہ دلیل دی کہ ان کے پاس وسیع تراختیارات ہیں اپیل کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں پنجاب انتخابات نظرثانی کیس نیا نہیں اس پر پہلے بحث ہوچکی الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل نظرثانی کا دائرہ کار بڑھانے پر تھے انتخابات نظرثانی کیس لارجر بینچ میں جاتا ہے تو الیکشن کمیشن کے وکیل دلائل وہیں سے شروع کرسکتے ہیں انتخابات کا معاملہ قومی مسئلہ ہے 14 مئی کے فیصلے پرعملدرآمد ممکن نہیں مگر یہ فیصلہ تاریخ بن چکا عدالتی فیصلہ تاریخ میں رہے گا کہ 90 روز میں انتخابات لازمی ہیں دیکھنا تو یہ تھا کہ کیا انتخابات کے لیے 90 روز بڑھائے جا سکتے ہیں کیا 9 مئی کے واقعات کے بعد حالات وہ ہیں جو آئین میں انتخابات میں التوا کے لیے درج ہیں؟ ہر چیز تشدد اور زورزبردستی سے نہیں ہوسکتی، کیا نو مئی کے واقعات کے بعد 8 اکتوبر کو الیکشن ہوں گے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل اس سوال کا جواب نہیں دے سکے، کیا آئینی احکامات کو پس پشت ڈالا جا سکتا ہے؟ آئین کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہوں گے؟ آئین پاکستان کی ایک خوبصورت دستاویز ہے،

    علی ظفر نے کہا کہ 14 مئی کی رات 12 بج کر ایک منٹ پر آئین مر چکا ہے آئین کی وفات کی دو وجوہات ہیں،ایک وجہ ہے کہ 90 روز میں انتخابات کے قانون کو فالو نہیں کیا گیا،دوسری وجہ ہے کہ انتخابات کروانے کے سپریم کورٹ کے واضح حکم پر عمل نہیں کیا گیا دو صوبے جمہوریت اور عوامی نمائندوں سے محروم ہیں، کروڑوں لوگوں کا کوئی منتخب نمائندہ نہیں، مجھے لگتا ہے آئین پاکستان کا قتل ہوچکا ہے، حکومت دو تین اور تین چار کا کھیل کھیلتی رہی، ہر گزرتا دن آئین کے قتل کی یاد دلاتا ہے،اس وقت ملک کے دو صوبے جمہوریت،اسمبلی اور عوامی نمائندگی کے بغیر ہیں،اس وقت آئین پر کوئی عمل نہیں ہے ،وزیراعظم ، چیف جسٹس پاکستان سمیت سب نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل جو بھی دلائل دیں اس سے حقیقت تبدیل نہیں ہوگی، جب ریویو ایکٹ پاس ہوا تو میں نے سینیٹ میں کہا کہ کیسے آئین سے متصادم قانون بنا رہے ہیں؟ سینیٹ سے 5 منٹ میں یہ ریویو ایکٹ پاس ہوا، بحث بھی نہیں ہوئی، عدلیہ کی آزادی سے متعلق قوانین صرف آئینی ترمیم سے بنائے جاسکتے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یعنی آپ کے خیال میں حکومت نے آرٹیکل 184 تین میں اپیل کا حق دیا جو خلاف آئین ہے،علی ظفر نے کہا کہ جو نکات مرکزی کیس میں نہیں اٹھائے گئے وہ نظر ثانی میں نہیں لائے جا سکتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون میں آرٹیکل 184 تین سے متعلق اچھی ترامیم ہیں، صرف ایک غلطی انہوں نے یہ کی کہ آرٹیکل 184 تین پر نظر ثانی کو اپیل قرار دے دیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بات اچھی ہوئی کہ حکومت اور اداروں نے کہا عدالت میں ہی دلائل دیں گے جو قانونی ہیں، ورنہ یہ تو عدالت کے دروازے کے باہر احتجاج کر رہے تھے، اس احتجاج کا کیا مقصد تھا؟
    انصاف کی فراہمی تو مولا کریم کا کام ہے، آپ یہ کہ رہے ہیں کہ اپیل کو نئے قانون میں نیا نام دیا گیا؟ علی ظفر نے کہا کہ نظر ثانی اور اپیل دونوں قانون میں الگ الگ چیزیں، آئن کے برخلاف جا کر ایک قانون میں رویو کو اپیل بنا دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو محدود کر دیا گیا ہے 184(3) پر، 14مئی کو انتخابات کا فیصلہ کو اب واپس لانا ممکن نہیں انتخابات تو نہیں ہوئے لیکن ہم نے اصول طے کردیے کن حالات میں انتخابات ملتوی ہوسکتے ہیں اور کن میں نہیں

    سپریم کورٹ نے انتخابات کیس کی سماعت 13 جون تک ملتوی کردی ،عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا ،سپریم کورٹ نے انتخابات کیس اور نئے قانون کیخلاف درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا،عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ،عدالت نے صدر مملکت کو بذریعہ پرنسپل سیکر ٹری نوٹس جاری کر دیا،وزارت پارلیمانی امور اور سیکرٹری سینٹ کو نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عدالتی نظرثانی ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا

  • پنجاب انتخابات،نظر ثانی کے قوانین کا اطلاق ہو چکا ہے،اٹارنی جنرل

    پنجاب انتخابات،نظر ثانی کے قوانین کا اطلاق ہو چکا ہے،اٹارنی جنرل

    اٹارنی جنرل پاکستان نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ 2023 کی کاپی اور نوٹیفکیشن سپریم کورٹ جمع کروا دیا

    آرٹیکل 184 کے تحت مقدمات کی نظرثانی درخواستوں میں سپریم کورٹ اپیل کی طرز پر سماعت کرے گی، ایکٹ
    ایکٹ کا دائر کار اس قانون کے بننے سے پہلے کے فیصلوں پر بھی ہو گا، نظرثانی درخواست کی سماعت لارجر بینچ کرے گا، لارجر بینچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز سے زیادہ ہوگی، 184(3)کے فیصلے کے خلاف 60روز میں اپیل دائر کی جاسکے گی، نظر ثانی میں اپنی مرضی کا وکیل مقرر کیا جا سکے گا،ایکٹ کا دائرہ کار سپریم کورٹ و ہائیکورٹس کے فیصلے اور رولز پر بھی ہو گا،ایکٹ نافذ ہونے کے بعد نواز شریف اور جہانگیر ترین بھی ایکٹ سے فائدہ اٹھا سکیں گے

    سپریم کورٹ ،پنجاب انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، سپریم کورٹ کے نظر ثانی کے قوانین منظور ہو چکے ہیں،سپریم کورٹ کے نظر ثانی کے قوانین کا اطلاق ہو چکا ہے ،سپریم کورٹ کے نظر ثانی کے قوانین کا اطلاق جمعے سے ہوا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی لیے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اصل دائرہ اختیار آرٹیکل 184 تھری کے کیسز میں نظر ثانی کا قانون بنایا گیا ہے،سپریم کورٹ کے نظر ثانی اختیار کو وسیع کیا گیا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو جوڈیشل کمیشن والا کیس مقرر ہے،آپ اس بارے بھی حکومت سے ہدایات لے لیں،نیا قانون آچکا ہے ہم بات سمجھ رہے ہیں،آج سماعت ملتوی کر دیتے ہیںتحریک انصاف کو بھی قانون سازی کا علم ہوجائے گا،چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو جو کیس مقرر ہے اس پر بھی ہدایات لے لیں، یہ عدالت عدلیہ کی آزادی کے قانون کو لاگو کرتی ہے، سمجھتے ہیں کہ آرٹیکل 184 تھری کے دائرہ اختیار کے کیسز میں نظر ثانی ہونی چاہیے، سپریم کورٹ کے ہی فیصلے آرٹیکل 187 کے تحت نظر ثانی کے دائرہ اختیار کو بڑھانے کا راستہ دے رہے ہیں، جج کی جانبداری کا بھی معاملہ اٹھایا گیا ہے،کیوریٹیو ریویو کا جو معاملہ آپ نے اٹھایا اس کو بھی دیکھ رہے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ دوسری جانب سے کون آیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ علی ظفر آج نظر نہیں آئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے علی ظفر کو کچھ برا کہا ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے بیرسٹر علی ظفر کو کچھ نہیں کہا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے آڈیو لیکس کمیشن کیس میں ہمارا حکم نامہ پڑھا ہوگا ذہن میں رکھیں کہ عدالت نے کمیشن کالعدم قرار نہیں دیا عدالت نے عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کرنا ہے ،خفیہ ملاقاتوں سے معاملات نہیں چل سکتے یہ تاریخی ایکسیڈنٹ ہے کہ چیف جسٹس صرف ایک ہی ہوتا ہے ہم نےمیمو گیٹ،ایبٹ آباد کمیشن اورشہزاد سلیم قتل کے کمیشنز کا نوٹیفکیشن دکھایا تمام جوڈیشل کمیشنز چیف جسٹس کی مرضی سے تشکیل دیے جاتے ہیں کسی چیز پر تحقیقات کرانی ہیں تو باقاعدہ طریقہ کارسے آئیں میں خود پر مشتمل کمیشن تشکیل نہیں دوں گا کسی اورجج سے تحقیقات کرائی جاسکتی ہیں یہ سیاسی پارہ معیشت اورامن و امان کو بہتر نہیں کرے گا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو فی الحال ملتوی کر رہے ہیں، سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی،

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

  • الیکشن کمیشن کو اختیارات استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں ،چیف جسٹس

    الیکشن کمیشن کو اختیارات استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں ،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل تھے، الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے دلائل کا آغاز کردیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تیسرا دن ہے الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل سن رہے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن کے دلائل مختصر ہوں،بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کافی وقت ضائع ہوا،ہمیں بتائیے کہ آپ کا اصل نقطہ کیا ہے، سجیل سواتی وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ سپریم کورٹ رولز آئینی اختیارات کو کم نہیں کرسکتے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ رولز عدالتی آئینی اختیارات کو کیسے کم کرتے ہیں، اب تک کے نقاط نوٹ کر چکے ہیں آپ آگے بڑھیں،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات کیلئے نگران حکومت کا ہونا ضروری ہے،نگران حکومت کی تعیناتی کا طریقہ کار آئین میں دیا گیا ہے، نگران حکمرانوں کے اہلخانہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے، آئین میں انتخابات کی شفافیت کے پیش نظر یہ پابندی لگائی گئی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی اسمبلی چھ ماہ میں تحلیل ہو جائے تو کیا ساڑھے چار سال نگران حکومت ہی رہے گی،ساڑھے چار سال قومی اسمبلی کی تحلیل کا انتظار کیا جائے گا،؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ساڑھے چار سال نگران حکومت ہی متعلقہ صوبے میں کام کرے گی, آئین کے ایک آرٹیکل ہر عمل کرتے ہوئے دوسرے کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی، آرٹیکل 254 سے نوے دن کی تاخیر کو قانونی سہارا مل سکتا ہے، انتخابات میں نوے دن کی تاخیر کا مداوا ممکن یے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مداوا ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ ساڑھے چار سال کے لیے نئی منتخب حکومت آ سکتی ہے، آئین میں کیسے ممکن ہے کہ منتخب حکومت چھ ماہ اور نگران حکومت ساڑھے چار سال رہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 90 دن کا وقت بھی آئین میں دیا گیا ہے،نگران حکومت 90 دن میں الیکشن کروانے ہی آتی ہے آئین میں کہاں لکھا ہے کہ نگران حکومت کا دورانیہ بڑھایا جا سکتا ہے،نگران حکومت کی مدت میں توسیع آئین کی روح کے منافی ہے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن سے متفق ہوں،آئین کی منشاء منتخب حکومتیں اور جہموریت ہی ہے۔ملک منتحب حکومت ہی چلا سکتی ہے۔ جہموریت کو بریک نہیں لگائی جا سکتی 1973 میں آئین بنا تو نگران حکومتوں کا تصور نہیں تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین بنا تو مضبوط الیکشن کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔نگران حکومتیں صرف الیکشن کمیشن کی سہولت کے لیے آئین میں شامل کی گئیں۔ شفاف انتحابات کروانا الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے،الیکشن کمیشن فنڈز اور سیکورٹی کی عدم فراہمی کا بہانہ نہیں کرسکتا۔ کیا الیکشن کمیشن بااختیار نہیں ہے ۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اپنے آئینی اختیارات سے نظر نہیں چرا سکتے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ بتائیں 90 دن کی نگران حکومت ساڑھے چار سال کیسے رہ سکتی ہے،آئین پر اسکی روح کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پنجاب اور کے پی کے دونوں صوبوں میں ہی اسمبلیاں تحلیل ہوئیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کا پنجاب انتحابات سے متعلق فیصلہ چیلنج ہوا تھا،سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا اس پر آپ نظر ثانی پر دلائل دے رہے ہیں،آپ کہہ رہے ہیں کے پی کے کی اسمبلی بھی تحلیل ہوئی تھی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میرے کہنے کا مطلب تھا کے پی کے اور پنجاب پورے ملک کا ستر فیصد ہیں جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بلوچستان اسمبلی وقت سے پہلے تحلیل ہو تو کیا اس پر آئین کا اطلاق نہیں ہوگا،نشستیں جتنی بھی ہوں ہر اسمبلی کی اہمیت برابر ہے،حکومت جو بھی ہو شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،کیا الیکشن کمیشن کہہ سکتا منتحب حکومت کے ہوتے ہوئے الیکشن نہیں ہوں گے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات سے معذوری ظاہر نہیں کر سکتا ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن تو کہتا تھا فنڈز اور سیکورٹی دیں تو انتحابات کروا دیں گے،آئین کے حصول کی بات کر کے خود اس سے بھاگ رہے ہیں،

    وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ آٹھ اکتوبر کی تاریخ حقائق کے مطابق دی تھی۔جسٹس مینب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آٹھ ستمبر کو الیکشن کمیشن کہے کہ اکتوبر میں الیکشن ممکن نہیں تو کیا ہوگا؟ انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کا فرض ہے، صوابدید نہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے خود کہا آئین کی روح جمہوریت ہے، کب تک انتخابات آگے کرکے جمہوریت قربان کرتے رہیں گے، تاریخ میں کئی مرتبہ جمہوریت قربان کی گئی، جب بھی جمہوریت کی قربانی دی گئی کئی سال نتائج بھگتے، عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے، الیکشن کمیشن کے جواب میں صرف وسائل نہ ہونے کا زکر تھا، الیکشن کمیشن کب کہے گا کہ اب بہت ہوگیا انتخابات ہر صورت ہونگے،اب الیکشن کمیشن سیاسی بات کررہا ہے، بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں ٹرن آوٹ ساٹھ فیصد تھا، سیکیورٹی خدشات کے باوجود بلوچستان کے عوام نے ووٹ ڈالا، انتخابات تاخیر کا شکار ہوں تو منفی قوتیں اپنا زور لگاتی ہیں،بطور آئین کے محافظ عدالت کب تک خاموش رہے گی، آرٹیکل 224 کو سرد خانے میں کتنے عرصے تک رکھ سکتے ہیں .وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نو مئی کے واقعات سے الیکشن کمیشن کے خدشات درست ثابت ہوئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے خدشات کی نہیں آئین کے اصولوں کی بات کرنی ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات کا مطلب صرف قومی اسمبلی کا الیکشن نہیں ہوتا، ایک ساتھ انتخابات میں پانچ جنرل الیکشن ہوتے ہیں، وزیر اعظم اور وزاء اعلی چھ ماہ بعد اسمبلیاں تحلیل کر دیں تو الیکشن کمیشن کیا کرے گا ،وزیر اعظم اور وزیر اعلی جب چاہیں اسمبلیاں تحلیل کر سکتے ہیں،آئین کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر بتائیں الیکشن کمیشن کا موقف کیا ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت صرف اس لیے آتی ہے کہ کسی جماعت کو سرکاری سپورٹ نہ ملے، کیا نگران حکومت جب تک چاہے رہ سکتی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نگران حکومت کی مدت کا تعین حالات کے مطابق ہو گا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہائیکورٹ میں انتخابات سے معذوری ظاہر کی نہ سپریم کورٹ میں ، سپریم کورٹ کو بھی کہا کہ وسائل درکار ہیں، اب الیکشن کمیشن کہتا ہے آئین کے اصولوں کے مطابق انتخابات ممکن نہیں ہیں، پہلے کیوں نہیں کہا کہ وسائل ملنے پر بھی انتخابات ممکن نہیں ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اپنے تحریری موقف میں بھی یہ نقطہ اٹھایا تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر اور گورنر کو بھی حقائق سے آگاہ نہیں کیا، دو دن تک آپ مقدمہ دوبارہ سننے پر دلائل دیتے رہے، ایک دن انتخابات سے آئین کی کون سی شقیں غیر مؤثر ہوں گی، لیڈر آف ہاؤس کو اسمبلی تحلیل کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے ، نظام مضبوط ہو تو شاید تمام انتخابات الگ الگ ممکن ہوں، فی الحال تو اندھیرے میں ہی سفر کر رہے ہیں جس کی کوئی منزل نظر نہیں آ رہی،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سیاسی ماحول کو دیکھ کر ہی آٹھ اکتوبر کی تاریخ دی تھی، نو مئی کو جو ہوا اس خدشے کا اظہار کر چکے تھے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نہیں ہوسکتا جو آپکو سوٹ کرے وہ موقف اپنا لیں۔جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو نو مئی پر بات کرنے سے روک دیا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کبھی الیکشن کی کوئی تاریخ دیتے ہیں کبھی کوئی تاریخ دیتے ہیں پھر کہتے ہیں ممکن ہی نہیں۔ ہر موڑ پر الیکشن کمیشن نیا موقف اپنا لیتا ہے۔ آپ ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دے رہے ہیں ماضی اور آج کے حالات میں فرق ہے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ موجودہ حالات میں انتحابات ممکن نہیں۔ جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پھر آئینی اصولوں سے موجودہ حالات پر آگئے ہیں۔ کیا پانچوں اسمبلیوں کے الیکشن الگ الگ ہوسکتے ہیں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نگران حکومتیں ہوں تو الگ الگ انتحابات ممکن ہیں۔ موجودہ حالات میں الگ الگ انتحابات ممکن نہیں۔ پنجاب میں منتخب حکومت آ گئی تو قومی اسمبلی کے انتحابات کیسے شفاف ہوں گے؟ الیکشن کمیشن تمام سرکاری مشینری حکومت سے لیتا ہے۔نیوٹرل انتظامیہ نہیں ہوگی تو شفاف انتحانات کیسے ہوں گے؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو وزارت خزانہ کے بہانے قبول نہیں کرنے چاہیے، الیکشن کمیشن کو حکومت سے ٹھوس وضاحت لینی چاہیے،کل ارکان اسمبلی کے لیے 20 ارب کی سپلیمنٹری گرانٹس منظور ہوئیں، الیکشن کمیشن کو بھی 21 ارب ہی درکار تھے، ارکان اسمبلی کو فنڈ ملنا اچھی بات ہے، الیکشن کمیشن خود غیر فعال ہے، الیکشن کمیشن کے استعدادکار میں اضافے کی ضرورت ہے، الیکشن کمیشن نے چار لاکھ پچاس ہزار سیکیورٹی اہلکار مانگے، الیکشن کمیشن کو بھی ڈیمانڈ کرتے ہوئے سوچنا چاہیے، فوج کی سیکیورٹی کی ضرورت کیا ہے؟ فوج صرف سیکیورٹی کے لیے علامتی طور پر ہوتی ہے، فوجی اہلکار آرام سے کسی کو روکے تو لوگ رک جاتے ہیں۔ جو پولنگ سٹیشن حساس یا مشکل ترین ہیں وہاں پولنگ موخر ہوسکتی ہے،ہوم ورک کرکے آئیں، پتہ تو چلے کہ الیکشن کمیشن کی مشکل کیا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن مکمل بااختیار ہے، کارروائی کرسکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اختیارات استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں۔ الیکشن کیس کی سماعت سوموار 29 مئی تک ملتوی کر دی گئی،

    نگران پنجاب حکومت نے صوبہ پنجاب میں فوری الیکشن کی مخالفت کر دی

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

  • پنجاب میں الیکشن، ن لیگ کا بائیکاٹ

    پنجاب میں الیکشن، ن لیگ کا بائیکاٹ

    سپریم کورٹ کے حکم پر پنجاب میں الیکشن، ن لیگ نے بائیکاٹ کر دیا تا ہم ن لیگی رہنما نے بائیکاٹ کی تردید کر دی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق الیکشن 14 مئی کو ہونے ہیں، سپریم کورٹ میں ابھی بھی کیس زیر سماعت ہے ، آج الیکشن کمیشن میں ٹکٹ جمع کروانے کا آخری دن ہے تا ہم ن لیگ نے ابھی تک کسی کو ٹکٹ جاری نہیں کیا، ن لیگ پنجاب کے الیکشن جو سپریم کورٹ کے حکم پر اگر صرف پنجاب میں ہوئے تو اسکا بائیکاٹ کر رہی ہے، اس امر کا فیصلہ ن لیگ کے صدر شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی امیدوار کو ٹکٹ جاری نہیں کیا جائے گا،ن لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 14 مئی کو الیکشن سے متعلق ن لیگ کا موقف واضح ہے مسلم لیگ ( ن) 14 مئی کو ہونے والے کسی الیکشن کو تسلیم نہیں کرتی اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف نظرثانی کی درخواست زیرالتوا ہے ،

    دوسری جانب پنجاب میں ن لیگ کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ پر ن لیگی رہنما عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ن لیگ الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کر رہی، امیدواروں کو ٹکٹ جاری نہیں کئے گئے، ہمارا موقف ہے کہ 14 مئی کے الیکشن کو نہیں مانتے بائیکاٹ اس وقت ہوتا ہے جب امیدوار کاغذات واپس لے لیں

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

  • پنجاب الیکش: نوجوت سنگھ سدھو کو شکست، ارچنا پورن کی نشست خطرے میں پڑگئی، سوشل میڈیا پر میمزوائرل

    پنجاب الیکش: نوجوت سنگھ سدھو کو شکست، ارچنا پورن کی نشست خطرے میں پڑگئی، سوشل میڈیا پر میمزوائرل

    نوجوت سنگھ سدھو کو الیکشن میں شکست ، سوشل میڈیا پر ارچنا پورن پر میمز وائرل ہونے لگیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی چار ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج پر جہاں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث جاری تھی وہیں اب اداکارہ ارچنا پورن سنگھ کی ٹوئٹر پر ٹرینڈنگ میں ہیں۔

    بھارتی پنجاب اب آپ کا۔ کانگریس، بی جے پی کو بدترین شکست

    بھارتی میڈیا کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوت سنگھ سدھو الیکشن میں مصروف تھے اور اسی وجہ سے معروف کامیڈی شو دی کپل شرما شو میں بھارتی اداکارہ ارچنا پورن سنگھ نے سدھو جی کی کرسی سنبھال لی تھی۔

    تاہم اب نوجوت سنگھ سدھو کو الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ سے ارچنا پورن کو کامیڈی شو میں سدھو کی کرسی چھوڑنی بھی پڑ سکتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا ہر ارچنا پورن کی جاب کو لے کر میمز کی بھرمار ہو گئی ہے اور سوشل میڈیا صارفین کہہ رہے ہیں کہ اب ارچنا پورن کی جاب خطرے میں ہے۔

    اردو بھارتی ریاست آندھرا پردیش کی دوسری سرکاری زبان بن گئی


    https://twitter.com/eshaloveu20/status/1501845010563551232?s=20&t=njFBRFbWoRVy54jvcqi0-Q


    https://twitter.com/Sukhbrar5414/status/1501873284886851589?s=20&t=njFBRFbWoRVy54jvcqi0-Q

    دوسری جانب ارچنا پورن سنگھ نے ٹائمز آف انڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں ان میمز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے نوجوت سنگھ سدھو پر مضحکہ خیز اور مزاحیہ میمز کو ریٹویٹ کیا۔ مجھے تمام لطیفے بہت پسند آئے جیسے دوسری بار وہ سیٹ ہارے، پہلی بار وہ ارچنا پورن سنگھ سے ہارے اور ایک صارف نے کہا کہ ارچنا جی آپ کی کرسی خطرے میں ہے وغیرہ انیوں نے مزید کہا کہ مجھے ہر طرح کا مزاح پسند ہے-

    بھارت مان گیا، میزائل ہم سے فائر ہوا، بھارتی وزارت دفاع

    ارچنا نے کہا کہ درحقیقت، میں سدھو جی سے صرف ایک بار ملی ہوں جب میں شو میں اپنی فلم ڈولی کی تشہیر کیلئے گئی تھی ہم وہاں ملے۔ خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن میں وہاں بیٹھوں گی اورسدھو اور میرے نام کو لے کر اتنا انتشار ہو گا۔ کل میرانام ٹویٹر پر ٹرینڈ کر رہا تھا، کیا آپ تصور کر سکتے ہیں۔ میرا کیا لینا دینا۔ یہ بہت اچھا ہو سکتا ہے کہ وہ دوبارہ سیٹ پر آ جائیں یہ ان کے لیے بہت اچھا ہے۔ میں ہمیشہ آگے بڑھتی ہوں۔ میں نے اتنے سالوں سے کامیڈی سرکس کیا ہے۔ ایسا نہ ہوا تو کچھ اور ہو گا۔ ہم پیشہ ور اور فنکار ہیں، ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا ہے۔ میں نے کپل کے ساتھ 10 سال سے کام کیا ہے اور یہ بہت اچھا سفر رہا ہے۔

    بریکنگ، بھارتی فوج کا ہیلی کاپٹر کشمیر میں تباہ