Baaghi TV

Tag: پنجاب بجٹ

  • وزیراعلیٰ پنجاب سے مختلف اضلاع کے اراکین اسمبلی کی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب سے مختلف اضلاع کے اراکین اسمبلی کی ملاقات

    وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف سے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی نے ملاقات کی ہے۔

    سعود مجید، رکن صوبائی اسمبلی ملک خالد محمود، عدنان افضل چٹھہ ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔ معاون خصوصی ذیشان ملک بھی موجود تھے، ارکان اسمبلی نے وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کو 100 دنوں میں عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں پر خراج تحسین پیش کیا۔ ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویلز پراجیکٹ سے عوام کو دہلیز پر ریلیف مل رہا ہے-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویلز کا دائرہ کار بڑھا رہے ہیں- شعبہ صحت کے امور کی دن رات مانیٹرنگ کررہی ہوں- پنجاب بھر کے بنیادی صحت مراکز کی اپ گریڈیشن تکمیل کے آخری مراحل میں ہے- ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کو اپنے حلقوں کے مسائل اور ضروریات سے آگاہ کیا۔

    پنجاب حکومت نے عوامی توقعات کے عین مطابق بجٹ پیش کیا، وزیر بلدیات
    وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے عوام دوست بجٹ پیش کرنے پر وزیراعلی مریم نواز شریف کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے عوامی توقعات کے عین مطابق بجٹ پیش کیا۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے بجٹ بناتے ہوئے پارٹی منشور اور صدر مسلم لیگ ن کی ہدایات کو مدنظر رکھا۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ نواز شریف نے بطور وزیراعلی اور وزیراعظم ہمیشہ ملک کی ترقی و خوشحالی کو ترجیح دی۔ اسی سوچ کی عکاسی نئے مالی سال کے بجٹ میں نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انشائاللہ وزیراعلی مریم نواز شریف کی قیادت میں ایسے کئی مثالی بجٹ پیش ہوں گے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ بجٹ میں مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی کے اقدامات تجویز کئے گئے۔ زراعت اور کسان کیلئے تاریخی فنڈز مختص کئے گئے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات بھی قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دور میں ایک اینٹ بھی لگانے میں ناکام عناصر کو ترقی اور خوشحالی کا نیا سفر ہضم نہیں ہو رہا.

    حکومت نے معذور افراد کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کر کے احسن اقدام اٹھایا ،سہیل شوکت بٹ
    صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال سہیل شوکت بٹ نے کہا ہے کہ نہایت خوشی کا مقام ہے کہ پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم، صحت، واٹر سپلائی اینڈ سینیٹیشن، ویمن ڈویلپمنٹ، سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز، بہبود آبادی، اور سماجی تحفظ جیسے اہم سوشل سیکٹرز کے لیے کل 280 ارب 65 کروڑ روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے، جو آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کا 33 فیصد ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں حکومت نے ایک شاندار اور عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے۔ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے جس سے صوبے میں ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے اضافی فنڈز کی فراہمی سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں حکومت کی جانب سے غریب طبقے کے لیے خصوصی رعایتیں دی گئی ہیں تاکہ معاشرے کے کمزور طبقے کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی فنڈز کا اعلان بھی کیا گیا ہے جس سے ان کی فلاح و بہبود میں مزید اضافہ ہوگا۔حکومت پنجاب نے معذور لوگوں کے لیے 2 ارب روپے کی لاگت سے ”چیف منسٹر ہمت کارڈ پروگرام” کا اجراء کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت کام کی اہلیت نہ رکھنے والے تصدیق شدہ افراد باہم معذوری کو بذریعہ ”ہمت کارڈ” 7500 روپے سہ ماہی وظیفہ دینے کی منظوری دی گئی ہے۔وزیر سہیل شوکت بٹ نے سوشل ویلفیئر پروگراموں کے لیے بڑے فنڈز مختص کرنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حکومت نے معذور افراد کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کر کے ایک اور احسن اقدام اٹھایا ہے۔ اس سہولت سے استفادہ کرنے کے لیے مطلوبہ اہلیت رکھنے والے افراد محکمہ کے قائم کردہ کسی بھی ہیلپ ڈیسک یا دفتر ضلعی آفیسر سوشل ویلفیئر وزٹ کرکے اپنے کوائف کے درست اندراج کو یقینی بنا سکتے ہیں۔آخر میں، وزیر سہیل شوکت بٹ نے کہا کہ حکومت نے عوام کی توقعات پر پورا اترنے والا بجٹ پیش کیا ہے جو کہ صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے سنگ میل ثابت ہو گا۔

    رسمی تعلیم کیلئے 669 ارب، غیر رسمی کیلئے 4 ارب، سپیشل ایجوکیشن کیلئے 2، اعلی تعلیم کیلئے 17 ارب مختص
    وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ نئے مالی سال کا بجٹ سرکاری سکولوں کے انفراسٹرکچر اور تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانے سمیت ان تمام امور پر شفاف طریقے سے خرچ ہوگا جن کا ہم نے صوبے کی عوام سے عہد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ حکومت کی طرح دلاسے نہیں دیں گے بلکہ حرف بہ حرف اپنے وعدوں پر عمل کر کے عوام کے سامنے سرخرو ہوں گے۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ طلباء کو تعلیم کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی ہماری ترجیح ہے۔ اسی ضمن میں ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن پر توجہ دی جائے گی تاکہ ابتداء سے ہی بچوں کو تعلیم کا بہترین آغاز فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کی جسمانی اور ذہنی نشونما کیلئے سکول میل پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ جس کے تحت سرکاری سکولوں میں بچوں کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جائے گا۔ دوسری جانب ڈیجیٹل لٹریسی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے طلباء، اساتذہ اور نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مہارات دینے کیلئے بھی خاطرخواہ بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل ٹرانفارمیشن کو آگے بڑھانے، تعلیمی نظام میں جدت لاتے ہوئے آئی ٹی کا سہارا لینے اور مختلف مسائل کے ڈیجیٹل حل کو فروغ دینے کیلئے طلباء، اساتذہ اور نوجوانوں کو خصوصی مہارات سے مستفید کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام امور کیلئے موجودہ بجٹ میں 669 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن کا شفاف استعمال ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ رسمی تعلیم کیلئے 669 ارب، غیر رسمی تعلیم کیلئے 4 ارب، اعلیٰ تعلیم کیلئے 17 ارب، سپیشل ایجوکیشن کیلئے 2 ارب مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 10 ارب کی لاگت سے لیپ ٹاپ سکیم لانچ کی جا رہی ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ 1 ارب کی لاگت سے سکول میل پروگرام بھی شروع کیا کیا جا رہا ہے جبکہ دانش سکول منصوبے کو وسعت دینے کیلئے 2 ارب 50 کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔ رانا سکندر حیات نے مزید کہا کہ پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ کیلئے 10 کروڑ مختص کئے ہیں۔ دوسری جانب بڑی تعداد میں آئی ٹی پروفیشنلز پیدا کرنے کیلئے ڈیجیٹل ترقی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ آئندہ 2 سالوں میں تعلیم کے حوالے سے فرق واضح دکھائی دے گا۔

    حکومت نے عوام کی توقعات پر پورا اترنے والا بجٹ پیش کیا،صوبائی وزیر معدنیات
    صوبائی وزیر معدنیات سردار شیر علی گورچانی نے مالی سال 2025-2024 کا شاندار بجٹ پیش کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے اور اس میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جو صوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔صوبائی وزیر معدنیات نے مزید کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے کے لیے اضافی فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جس سے وزیراعلیٰ پنجاب نے عوام کے دل جیت لیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے غریب طبقے کے لیے خصوصی رعایتیں دی گئی ہیں، جو کہ ایک قابل ستائش اقدام ہے۔زرعی سیکٹر کی ترقی کے لیے بجٹ میں تاریخی اضافہ کیا گیا ہے اور کاروباری طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے، جسے وزیراعلیٰ کا اہم اقدام قرار دیا گیا ہے۔ سردار شیر علی گورچانی نے کہا کہ روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے حکومت کی انقلابی پالیسیاں عوام میں پذیرائی حاصل کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کی توقعات پر پورا اترنے والا بجٹ پیش کیا ہے، جو کہ نہ صرف صوبے کی معاشی حالت کو مستحکم کرے گا بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی معاون ثابت ہوگا۔

    مشکل حالات کے باوجود عوامی بجٹ پیش کیا۔۔ بلال اکبر خان
    صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے پنجاب کا تاریخ ساز بجٹ دینے پر مریم نواز شریف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود عوامی بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ جدید ترین ٹرانسپورٹ کیلئے خطیر رقم وقف کرنے سے عوام کو براہ راست بہترین سفری سہولیات میسر آئیں گی۔ لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں میں ایکو فرینڈلی بسیں چلائی جائیں گی۔ الیکٹرک بسوں کے چلنے سے سموگ کا تدارک بھی ہو سکے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب نے مشکل معاشی حالات کے باجود تنخواہ دار طبقے کا خصوصی خیال رکھا ہے۔ بجٹ میں تعلیم اور صحت سمیت زندگی کے ہر شعبے میں عوامی فلاحی منصوبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ تقریبا 100 روز کی حکومت کے باوجود شاندار بجٹ پیش کرنے سے وزیر اعلی پنجاب کی قابلیت سب پر واضح ہوگئی۔ مخالفین کچھ بھی کہیں اس سال کا بجٹ ہر لحاظ سے ایک عوام دوست بجٹ ہے۔

    عوام کو مہنگائی میں مزید کمی کی نوید تازہ ہوا کا جھونکا ہے، بلال یاسین
    صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے پنجاب کی تاریخ کے بہترین بجٹ پر وزیر اعلی پنجاب کو مبارکباد دی۔ بلال یاسین نے کہا ہے کہ مشکل ترین حالات میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی قیادت میں عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا۔ صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ عوام کو مہنگائی میں مزید کمی کی نوید تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ بلال یاسین نے کہا کہ گندم کے ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام توجہ براہ راست کسان کو ریلیف فراہم کرنے پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسان اور زراعت کیلئے 64 ارب 60 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کرنا خوش آئیند ہے۔ اس کے علاوہ کسان کارڈ سے 5 لاکھ کسانوں کو 75 ارب روپے کے بلاسود قرضہ جات کی فراہمی مثالی اقدام ہے۔ بلال یاسین نے کہا کہ حکومت پنجاب کے اولین 100 دنوں میں جعلسازوں اور ملاوٹ مافیا کے خلاف جہاد شروع کیا۔ اس دوران گندم، آٹے، میدے، روٹی، نان، بیکری مصنوعات، مرغی کے گوشت اور متعدد فوڈ آئٹمز کی قیمتوں میں تاریخی کمی کی گئی اور عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کیا گیا۔ بلال یاسین نے کہا کہ فوڈ انڈسٹری میں نئے رحجانات کو متعارف کروانے کیساتھ ساتھ فوڈ سیفٹی قوانین پر مزید کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 100 یونٹس صرف غریب کا بل ہے اور مفت سولر پینل کی فراہمی خوش آئند اقدام ہے۔ صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ 842 ارب روپے کا ریکارڈ ترقیاتی بجٹ خوشحالی کے سفر کا آغاز ہے۔ بلال یاسین نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی بروقت پایہ تکمیل ہماری حکومت کا خاصہ رہا ہے اور ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا

    پنجاب بجٹ،ہتک عزت قانون کیخلاف صحافیوں کا احتجاج کا فیصلہ

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • پنجاب اسمبلی، بجٹ پیش،اپوزیشن کا احتجاج،پیپلز پارٹی کا بائیکاٹ

    پنجاب اسمبلی، بجٹ پیش،اپوزیشن کا احتجاج،پیپلز پارٹی کا بائیکاٹ

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر ملک احمد خان کی زیر صدارت ہوا

    پنجاب اسمبلی اجلاس میں مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کیا جارہا ہے۔پنجاب کے صوبائی وزیر خزاننہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ پیش کیا، وزیر خزانہ مجتبی شجاع الرحمان کا کہنا تھا کہ آج اس حکومت کا پہلا ٹیکس فری بجٹ پیش کیا جارہا ہے، پنجاب میں ترقی کا آغاز ہوگیا ہے،وزیراعلیٰ مریم نواز نے مہنگائی کے مسئلے پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ کرنے والے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیے۔پنجاب حکومت کا بجٹ ٹیکس فری ہےبجٹ کا حجم 5 ہزار 446 ارب ہے،ترقیاتی بجٹ کا حجم 842 ارب ہے اور نو ارب 50 کروڑ کی لاگت سے چیف منسٹر روشن گھرانہ پروگرام کا اجرا کیا جارہاہے، پہلے مرحلے میں 100 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کو مکمل سولر سسٹم فراہم کیاجائے گا. 10 ارب کی لاگت سے اپنی جھت اپنا گھر پروگرام شروع کیاگیاہے، پانچ لاکھ کسانوں کو 75 ارب کے قرض دییے جارہے ہیں، 9 ارب کی لاگت سے چیف منسٹر سولرائزیشن آف ٹیوب ویلز پروگرام سے 7000 ٹیوب ویلز پر منتقل ہونگے، کسانوں کو 30 ارب کی لاگت سے بغیر سود ٹریکٹرز فراہم کیے جائیں گے ،ایک ارب 25 کرور کی لاگت سے ماڈل ایگری کلچر مالز کا قیام عمل میں لایا جارہاہے. دو ارب کی لاگت سے لائیو اسٹاک کارڈ کا اجرا کیا جارہاہے،8 ارب کی لاگت ایگری کلچر شرمپ فارمنگ کا آغاز ہوگا اور پانچ ارب کی لاگت سے لاہور میں ماڈل فش مارکیٹ کا قیام عمل میں لایا جارہاہے، 80 ارب روپے کی لاگت سے چیف منسٹر ڈسٹرکٹ ایس ڈی جیزپروگرام کا آغاز جس کےذریعے ضلعی سطح پر ترقیاتی ضروریات کو پورا کیا جارہا ہے، 296 ارب روپے کی لاگت سے 2380 کلومیٹر سٹرکوں کی تعمیر و بحالی اور 135 ارب روپے کی لاگت سے 482 اسکیموں کے تحت خستہ حال اور پرانی سڑکوں کی مرمت و بحالی کےلئے مختص ہوں گے، 2 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سے انڈر گریجوایٹ اسکالرشپ پروگرام اور2 ارب 97 کروڑ روپے کی لاگت سے چیف منسٹرز سکلڈ پروگرام ٹیکسٹائل کی صنعت کو فروغ دیاجائے گا،زرمبادلہ میں اضافے کیلئے 3 ارب روپے کی لاگت سے پنجاب میں پہلےگارمنٹس سٹی کا قیام7 ارب روپے کی لاگت سے کھیلتا پنجاب کے بڑے منصوبے کا آغاز ہوگا، تمام صوبائی حلقوں میں میدان اور کھیلوں کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی، پنجاب بھر میں کھیلوں کی موجودہ سہولیات کی بحالی وتعمیر نو کیلئے 6 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک بڑا منصوبہ بھی آئندہ مالی سال میں شروع کیا جارہا ہے،ڈیجیٹل پنجاب کا وز یر اعلی مریم نواز کا خواب تیزی سے حقیقت میں بدل رہا ہے،3 ماہ کی قلیل مدت میں پاکستان کے پہلےنوازشریف آئی ٹی سٹی کی بنیادشہر لاہور میں رکھ دی گئی ہے، انٹرنیٹ تک آسان رسائی ڈیجیٹل پنجاب کے منصوبے کا بنیادی جزو ہے،

    پنجاب بجٹ،لیپ ٹاپ سکیم، خواتین کیلئے ڈے کیئر سنٹرز ،معذور افراد کیلئےہمت کارڈ،خواجہ سراؤں کیلئے 1 ارب فنڈ کی تجویز
    وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ وعدے کی تکمیل کرتے ہوئے لاہور کے کئی مقامات پر فری وائی فائی کی سہولت کا آغاز کر دیا ہے جسے پنجاب کے دیگراضلاع تک پھیلایا جارہا ہے،طالب علموں کیلئے خوش خبری ہے کہ 10 ارب روپے کی لاگت سے سی ایم پنجاب لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع کی جا رہی ہے ، نو جوان آئی ٹی کی دنیا میں اپنا مقام بنا ئیں گے اور ان کے ہاتھ میں پٹرول ہم نہیں لیپ ٹاپ اچھا لگتا ہے، 67 کروڑ روپے کی لاگت سے لاہور میں آٹزم سٹیٹ آف دی آرٹ سکول کا قیام عمل میں لایاجائے گا،بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشو ونما کیلئے 1 ارب روپے کی لاگت سے چیف منسٹر سکولز میل پروگرام 1 ارب روپے کی لاگت سے پنجاب بھر میں ملازمت پیشہ خواتین کیلئے ڈے کیئر سنٹرز کا قیام عمل میں لایاجائے گا، 2 ارب روپے کی لاگت سے معذور لوگوں کیلئے چیف منسٹر ہمت کا رڈ پروگرام کا اجراء کیاجائے گا،ٹرانسجینڈرکمیونٹی کیلئے 1 ارب روپے کی لاگت سے چیف منسٹر سکلڈ ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغازہوگا،اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے 2 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت مانیریٹی ڈویلپمنٹ فنڈ کا قیام اور56 ارب روپے کی لاگت سے نوازشریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ری سرچ لاہور کا قیام عمل میں لایاجائے گا، 8 ارب 84 کروڑ روپے کی لاگت سے سرگودھا شہر میں نوازشریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام عمل میں لایاجائے گا، 45 کروڑ روپے کی لاگت سے ائیر ایمبولینس سروس کا آغاز کیاجائے گا،ایک ارب روپے کی لاگت سے کلینک آن ویلزمنصوبے کا آغاز ہوگا جس کے تحت 200 ایمبولینسز کوفعال کیاجائے گا،

    پنجاب کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کتنا اضافہ؟
    پنجاب حکومت نے گریڈ ایک سے سولہ تک صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں 25فیصد اضافہ کرُدیاہے، گریڈ سترہ سے گریڈ 22تک 20فیصد تنخواہوں کا اضافہ کیاہے، پنجاب حکومت نے پنشن کی مد میں 15فیصد اضافہ کیاجائے گا، پنجاب حکومت نے مزدور کی تنخواہ کم از کم 32ہزار روپے سے بڑھاکر 37ہزار روپے کرنے کی تجویز کی ہے،

    سو یونٹ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو سولر سسٹم مفت فراہم کرنے کا اعلان
    پنجاب حکومت نے 100 یونٹ ماہانہ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو مفت سولر سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے،نو ارب پچاس کروڑ کی لاگت سے چیف منسٹر روشن گھرانہ پروگرام کا اجرا کیا جا رہا ہے۔ جس کے تحت مہنگی بجلی اور بلوں سے پریشان عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا،اس پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں سو یونٹ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو سولر سسٹم مفت فراہم کر رہے ہیں۔ سولر سسٹم لگانے کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی،اسی طرح کسان کارڈ کے ذریعے 5 لاکھ کسانوں کو 75 ارب روپے کے بلاسود قرضے دیے جائیں گے۔ نو ارب کی لاگت سے زرعی ٹیوب ویل کی سولرائزیشن کا پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت سات ہزار ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کیا جائے گا۔

    پنجاب اسمبلی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نےشدید احتجاج کیا اور بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دیں،اسمبلی میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود ہیں،اپوزیشن اراکین نےکرسیوں بینچوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا،پیپلز پافٹی نے پنجاب اسمبلی اجلاس کا علامتی بائیکاٹ کردیا،تا ہم دوبارہ واپسی ہو گئی،پارلیمانی روایات کے مطابق حکمراں جماعت کا وفد پیپلزپارٹی کو منانے ان کے چیمبر میں گیا ،پیپلزپارٹی کی شکایت تھی کہ ان کو بجٹ پر اعتماد میں نہیں لیا گیا ،ایک گھنٹے کی گفتگو کے بعد پارٹی کے دو اراکین علامتی طور پر واپس آگئے،پیپلزپارٹی کے رہنما حیدر گیلانی کا کہنا ہے کہ اجلاس میں علامتی طور پر 2 اراکین شریک ہیں، پیپلزپارٹی کو بجٹ کی تیاری میں شامل نہیں کیاگیا.

    پنجاب اسمبلی پریس گیلری میں صحافیوں نےہتک عزت بل کیخلاف بجٹ تقریر کے دوران شدید احتجاج کیا اور ہتک عزت قانون کی واپسی کا مطالبہ کیا،صحافیوں نے بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں، صحافیوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی.

    سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے پنجاب کے بجٹ کو تاریخی قرار دے دیا
    سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے صوبائی بجٹ کو تاریخی قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنی حکومت کے پہلے بجٹ میں کئی تاریخی ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار پنجاب اپنے ذرائع سے ایک ہزار ارب روپے آمدن والا صوبہ بن گیا ہے، الحمدللہ پہلی بار پنجاب کاپانچ ہزار 466 ارب روپے کا ریکارڈ بجٹ پیش کیا گیا ہے جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کا سب سے بڑا 842 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی گئی ہے۔ پہلی بار ترقیاتی منصوبوں کے لئے مطلوبہ رقوم بجٹ میں رکھ دی گئی ہیں جس سے منصوبے ریکارڈ رفتار سے مکمل ہوں گے کیونکہ فنڈنگ پہلے سے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی پروگرام کے آغاز کے باوجود پہلی بار ٹیکس فری بجٹ دیا گیا ہے۔ بجٹ میں تعلیم، صحت، زراعت، آئی ٹی، ہنرمندی، حیوانات، موسمیاتی تبدیلی، ماہی گیری، شرمپ فارمنگ، جنگلات اور جنگلی حیات کے شعبوں میں ترقی کے لئے تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں کسانوں اور زراعت کے لئے 30 ارب روپے کی سب سے بڑی ٹریکٹر سکیم شروع کی جا رہی ہے۔اس طرح کسانوں کو بلاسود قرض کے لئے 10 ارب روپے سے سب سے بڑا پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ مال مویشیوں کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لئے پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار 2 ارب روپے کی لاگت سے لائیوسٹاک فارمنگ کی سب سے بڑی سکیم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی ترقی کا سفر انشاء اللہ پھر سے شروع ہو رہا ہے۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ میڈیا ورکرز کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک ارب کی ہیلتھ انشورنس کی خصوصی منظوری دی ہے.

    محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور کے لیے ریکارڈ بجٹ مختص،صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ کا اظہار تشکر
    صوبہ پنجاب کا ریکارڈ بجٹ پیش کردیا گیا۔محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور کے لیے دو ارب پچاس کروڑ کی لاگت سیمینارٹی ڈیولپمنٹ فنڈ کے قیام پر صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے اظہار تشکر کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی قیادت بالخصوص وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا مذہبی اقلیتوں کے جانب سے شکریہ ادا کیا کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مینارٹیز کے لیے ریکارڈ ساز بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں مینارٹیز کے بجٹ میں ایک ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی اقلیتوں کے لیے متعدد ڈیولپمنٹ اسکیمیں لارہے ہیں اور صوبہ بھر میں اقلیتوں کے لیے ترقی کے جال بچھائے جا رہے ہیں جبکہ صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب ایک بے مثال صوبہ بن کر رہے گا

    صوبائی بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا نہ ہی موجودہ ٹیکسزکی شرح میں اضافہ کیا گیا
    قبل ازیں پنجاب کابینہ نے تاریخ کے سب سے بڑے ٹیکس فری بجٹ کی منظوری دی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کابینہ نے 5446 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دی جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے بجٹ دستاویز 25-2024 پر دستخط بھی کیے،دستاویزات کے مطابق صوبائی بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا نہ ہی موجودہ ٹیکسزکی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے، ٹیکس بڑھائے بغیر مالیاتی ذرائع سے ریونیو میں 53 فیصد کا اضافہ کیا جائے گا،گزشتہ سال ریونیو ہدف 625 ارب روپے تھا جبکہ موجودہ ریونیو ہدف 960 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے اور یہ ریونیو صوبہ اپنے ذرائع سے اکٹھا کرے گا، صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں 20 سے25 فیصد اورپنشن میں 15فیصد اضافےکی منظوری دی گئی ہے جبکہ صوبے میں کم ازکم اجرت کو 32 ہزار سے بڑھا کر37 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے،بجٹ میں لاہو رڈیولپمنٹ اتھارٹی کے لیے 35 ارب روپے اور مری کے لیے 5 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، وزیراعلیٰ ضلعی ترقیاتی پروگرام کے لیے بھی 80 ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے

    پنجاب بجٹ،ہتک عزت قانون کیخلاف صحافیوں کا احتجاج کا فیصلہ

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

    حکومت کے وفاقی او رصوبائی بجٹ نے عام آدمی کو بری طرح مایوس کیا،جماعت اسلامی
    امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے حکومت کے وفاقی او رصوبائی بجٹ کو عوام دشمن بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی او رصوبائی بجٹ نے عام آدمی کو بری طرح مایوس کیاہے۔ حکمرانوں کی عیدقربان سے قبل بجٹ میں عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار عوام کا معاشی قتل عام ہے۔ موجودہ بجٹ میں سیکز ٹیکس،تنخواہوں پر ٹیکس،موبائل، کاغذ، سمنٹ،نان فائلر پراپرٹی و غیرہ میں ٹیکسز سراسر ظلم کی انتہاء ہے۔ بجٹ کے بعد عام آدمی کے استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو گی۔ حکومت کا بجٹ عوام دشمن ہی نہیں بلکہ غربیوں کا معاشی قاتل بھی ہے جس سے عام آدمی کے معمولات زندگی پر بری طرح اثرات پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی میں 80 روپے تک کا اضافے سے عوام پر مزید بوجھ بڑھے گا۔ سیلز ٹیکس سے ہر چیز مہنگی ہوگی ۔ حکومت نے عوام دوست نہیں بلکہ آئی ایم ایف دوست بجٹ پیش کیا ہے جس جماعت اسلامی اور پوری قوم مسترد کرتی ہے۔ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آنے والے آئی ایم ایف کے غلام حکمران عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے

  • ملک کے حالات مزید بہتری کی طرف جائینگے، مہنگائی میں کمی ہو رہی ،مریم نواز

    ملک کے حالات مزید بہتری کی طرف جائینگے، مہنگائی میں کمی ہو رہی ،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مشکل معاشی حالات میں عوام دوست بجٹ پیش کرنے پر وزیر اعظم شہباز شریف اور انکی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ محمد نوازشریف کی رہنمائی اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں متوازن بجٹ پیش کیا گیا -پائیدار ترقی کے سفر کا آغاز ہو چکا ہے -ملک معاشی بحران کی کیفیت سے دن بدن باہر آ رہا ہے – انہوں نے کہا کہ بجٹ عوامی امنگوں کے عین مطابق ہے-وفاقی بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی کوشش کی گئی ہے-انشااللہ ملک کے حالات مزید بہتری کی طرف جائینگے-اللہ تعالی کے فضل وکرم سے مہنگائی میں کمی ہو رہی ہے-

    مشکل فیصلوں سے ملک میں معاشی استحکام آیا ہے:مریم اورنگزیب
    سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے وزیراعظم شہباز شریف کو متوازن وفاقی بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مسلسل محنت کے ذریعے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا اور اب معیشت کو استحکام دے رہے ہیں تا کہ عام آدمی کا بھلا ہو- سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے پوری قوم، ہر شعبہ ہائے زندگی اور میڈیا کو ایک ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلوں سے ملک میں معاشی استحکام آیا ہے اور اس بجٹ سے معیشت کو نئی پرواز ملے گی۔انہوں نے تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کو کم ہوتی مہنگائی کے دوران ایک بڑا ریلیف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ڈیفالٹ کے کنارے لے جانے اور عوام کو مہنگائی میں غرق کرنے والوں کو آج وفاقی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔مریم اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ قائد محمد نواز شریف نے ملک کو جس ترقی کی منزل پر چھوڑا تھا، شہباز شریف ملک کو دوبارہ اس مقام تک لے جا رہے ہیں

    پنجاب بجٹ،ہتک عزت قانون کیخلاف صحافیوں کا احتجاج کا فیصلہ

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • پنجاب بجٹ،ہتک عزت قانون کیخلاف صحافیوں کا احتجاج کا فیصلہ

    پنجاب بجٹ،ہتک عزت قانون کیخلاف صحافیوں کا احتجاج کا فیصلہ

    پنجاب اسمبلی میں پنجاب کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، سپیکر ملک احمد خان اجلاس کی صدارت کریں گے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی اجلاس میں شریک ہوں گی، اس موقع پر اجلاس کی سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے جائیں گے

    پنجاب حکومت کی جانب سے ہتک عزت قانون پر صحافی تنظیموں نے احتجاجی تحریک کا پہلا مرحلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے میں تمام صحافتی تنظیموں نے آج پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے ۔اجلاس کے دوران پریس گیلری سے واک آؤٹ بھی کیا جائے گا، صحافی بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کریں گے, احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے میں سرکاری تقریبات کی کوریج کا بھی بائیکاٹ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ آج اپنا پہلا تاریخی ٹیکس فری بجٹ دینے جا رہی ہیں, ہر محکمے کے الگ سے فنڈز رکھے گئے ہیں,سی ایم نے 77 نئی سکیمیں شروع کر دی ہیں,تمام سکیموں کے لیے فنڈ زموجود ہیں,1954کے بعد پہلی بار گندم کی مد میں سود اور واجبات کو کلیئر کرنے جا رہی ہے,تعلیم صحت سوشل سیکٹر سب کے لیے بجٹ مختص کیا گیا، ایک سال میں تمام بجٹ کو مکمل کیا جائے گا,وزیراعلیٰ پنجاب سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی ہیں,پیپلز پارٹی بجٹ میں شرکت کرتی ہے یا نہیں یہ ان کی مرضی ہے۔

    عید قرباں سے پہلے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کی قربانی دے دی گئی،حسن مرتضیٰ
    جنرل سیکرٹری پیپلزپارٹی وسطی پنجاب حسن مرتضیٰ نےوفاقی و صوبائی بجٹ پر ردِ عمل میں کہا ہے کہ بجٹ پر سخت تحفظات ہیں لیکن ریاست کے معاملات کو منجمد کرنے کے حق میں بھی نہیں۔پیپلزپارٹی قومی اسمبلی میں اپنے جائز تحفظات پر احتجاج جمہوری طریقے سے ریکارڈ پر لائی۔حکومتِ وقت کی اولین ترجیح عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے پر ہونی چاہیے تھی۔تنخواہ دار طبقے کو ایک ہاتھ سے ریلیف دیکر دوسرے ہاتھ سے ٹیکس میں اضافہ کرکے واپس لے لیا گیا۔زراعت کے لئے قومی سطح پہ کوئی جامع پالیسی مرتب نہیں کی گئی۔وفاقی بجٹ میں حکومتی کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان بھی نہ ہو سکا۔نوجوانوں، خواتین اور کاشتکاروں کو بجٹ میں یکساں نظر انداز کر دیا گیا۔بجٹ عوام دوست اور غریب پرور بجٹ ہونا چاہیے تھا نہ کہ آئی ایم ایف کی مرضی کا۔عید قرباں سے پہلے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کی قربانی دے دی گئی۔بنیادی تنخواہ میں %25 اضافہ کرکے ٹیکس میں بھی %15 اضافہ کر دیا گیا۔سیلز ٹیکس میں اضافے سے چینی، گھی، ادویہ سمیت سیکڑوں اشیا مہنگی ہونگی۔پیپلز پارٹی کئی روز سے پانی اور لوڈ شیڈنگ پر آواز اُٹھا رہی ہے لیکن حکومتی کان پر جوں نہیں رینگتی۔وفاق کی طرح پنجاب میں بھی حکومت بجٹ پر اتحادی جماعتوں کیساتھ اعتماد کی فضا قائم کرنے میں ناکام رہی۔ پیپلزپارٹی کو مریم نواز سے اچھے کی امید ہے، دیکھتے ہیں وہ عوام اور ہماری امیدوں پر کتنا پورا اتریں گی۔

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • وزیراعلی پنجاب مریم نواز  نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے مالی سال 2024-25 بجٹ میں عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، چیف سیکرٹری، سیکرٹری خزانہ اور دیگر حکام موجود تھے۔

    پنجاب کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا،ترقیاتی بجٹ کے لیے 700 ارب روپے، 95 ارب کی فارن فنڈڈ جاری اسکیمیں بھی شامل ہیں، ترقیاتی منصوبوں کے لیے 33 ارب 82 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ،دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں 1863 اسکیموں کو مکمل کیا جائے گا،لوکل گورنمنٹ کے لیے 14ارب 4 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، آئندہ مالی سال میں 1617 جاری اور 246 نئی اسکیمیں مکمل کرنے کا ہدف ہے،روڈ سیکٹر اسکیموں کے لیے ایک کھرب 21 ارب 74 کروڑ 60 لاکھ روپے اور اسپیشل ایجوکیشن کے لیے 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے.لٹریسی و نان فارمل ایجوکیشن کے لیے 3 ارب 50 کروڑ روپے اور اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئر کے لیے 4 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ روپے جبکہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے لیے 76 ارب 61 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، پرائمری ہیلتھ کیئر کے لیے 33 ارب 89 کروڑ 70 لاکھ روپے، پاپولیشن ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے لیے 3 ارب روپے جبکہ واٹر سپلائی اینڈ سینی ٹیشن کے لیے 8 ارب 9 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،سوشل ویلفیئر کے لیے ایک ارب 5 کروڑ 79 لاکھ روپے، محکمۂ ویمن ڈیولپمنٹ کے لیے 92 کروڑ 60 لاکھ روپے، پبلک بلڈنگ کے لیے 20 ارب 78 کروڑ 50 لاکھ روپے اور اربن ڈیولپمنٹ کے لیے 24 ارب 38 کروڑ 10 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے.محکمۂ انڈسٹریز کے لیے 10 ارب 79 کروڑ 80 لاکھ روپے جبکہ محکمۂ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے لیے37 ارب 38 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس کیلیے 1 ارب روپے مختص ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی ہے،

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • پنجاب،نگران حکومت کی زیر نگرانی 4 ماہ کا بجٹ پیش

    پنجاب،نگران حکومت کی زیر نگرانی 4 ماہ کا بجٹ پیش

    پنجاب،نگران حکومت کی زیر نگرانی 4 ماہ کا بجٹ پیش
    محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے آئندہ مالی سال کا بجٹ آج نگران کابینہ سے منظوری کے بعد پیش کر دیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 126کے تحت محکمے کی جانب سے نگران حکومت کی زیر نگرانی 4 ماہ کا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ جو یکم جولائی 2023 سے 30 اکتوبر2023 تک ہو گا۔ بجٹ میں 4 ماہ کے اخراجات کا کل تخمینہ 1,719.3 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں 881 ارب روپے کے محصولات وفاق کی جانب سے جب کے صوبے کے ذاتی محصولات کی مد میں 194ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے۔ بجٹ کے نمایاں خدوخال میں، تعلیم اور صحت کے بجٹ میں 31فیصد اضافہ، سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 30فیصد اضافہ، آئی ٹی انڈسٹری سے تمام صوبائی ٹیکسز کا خاتمہ،ایک ارب روپے سے جرنلسٹ انڈومنٹ فنڈ کا قیام، سماجی بہبود کی مد میں 70ارب روپے کی خطیر رقم اور خدمات کی فراہمی کے لیے 120.4ارب روپے کی تخصیص شامل ہے۔بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ سٹیمپ ڈیوٹی کی شرح میں 3فیصد اضافے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے سٹیمپ ڈیوٹی کو 1فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔ توانائی کے شعبہ میں 16.4ارب روپے کی کیپیٹل انویسٹمنٹ جبکہ زرعی شعبہ کی ترقی کے لیے 47.6ارب روپے کی منظوری لی گئی ہے۔

    صوبائی خزانے کو روزانہ کی بنیاد پر 25کروڑ روپے کے سود کا سامنا تھا،سیکرٹری خزانہ
    سیکرٹری خزانہ مجاہد شیر دل نے بتایا بجٹ میں مہنگائی پر کنٹرول کے لیے بلاک ایلوکیشن رکھی گئی ہے اس کے علاوہ پنجاب حکومت گندم پر دی گئی سبسڈی کے مد میں بنکوں سے لیے گئے 600ارب روپے کے قرضوں کی ادائیگی کے سلسلہ کا بھی آغاز کر چکی ہے جس کی وجہ سے صوبائی خزانے کو روزانہ کی بنیاد پر 25کروڑ روپے کے سود کا سامنا تھا۔ پر امید ہیں کہ آئندہ چار ماہ میں یہ قرض ادا کر دیا جائے گا جس کی بدولت سود کی مد میں ضائع ہونے والی رقم کو عوامی بہبود کے کاموں پر خرچ کرنا ممکن ہو گا۔ پینشن کی مد میں 60سا80سال تک کی عمر میں 5فیصد جبکہ 80سال سے اوپر کے ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں تقریباً 20فیصد اضافے کی وضاحت کرتے ہوئے سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ پہلے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کی تنخواہ ان کی ریٹائرمنٹ کے دن سے بند کر دی جاتی تھی جس کے بعد انہیں ایک سے ڈیڈھ سال کا عرصہ پینشن کی دستاویزات کی تیاری میں لگتا تھا اس دوران انہیں تنخواہ ملتی تھی نا پینشن لیکن آج محکمہ خزانہ پنجاب پنجاب حکومت کی منظوری سے ایک نوٹیفیکیشن جاری کرنے جا رہی ہے جس کے بعد ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو اپنی ریٹائرمنٹ کے ایک سال بعد تک تنخواہ کا 65 فیصد حصہ ملتا رہے گا۔ یہ پینشنرز کے لیے بہت بڑا ریلیف ہے۔

    عوامی بہبود کے لیے ٹارگٹڈ ریلیف دی جائے گی،سیکرٹری خزانہ
    سیکرٹری خزانہ نے یہ بھی وضاحت کی کہ الیکشن کے اخراجات وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔صوبائی حکومت عام انتخابات میں سیکیورٹی کے اخراجات کے لیے فنڈز مہیا کرے گی۔ سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ گندم پر سبسڈی کی مد میں لیے گئے قرض میں اضافے کی وجہ نان ٹارگٹٹڈ سبسڈی تھی مثلاً کم وسیلہ سافراد کے لیے آٹے کی مقرر کردہ قیمت سے صاحب حیثیت لوگ بھی استفادہ کر رہے تھے۔اس بار عوامی بہبود کے لیے ٹارگٹڈ ریلیف دی جائے گی جو ضروری نہیں آٹے کی شکل میں ہو وہ کیش ٹرانسفر بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اشیا خورد و نوش پر سبسڈی لانگ ٹرم نہیں ہوتی۔

    بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،صوبائی وزیر اطلاعات
    صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر نے صوبائی وزیر صنعت وتجارت ایس ایم تنویر کے ہمراہ سول سیکرٹریٹ میں پنجاب کے بجٹ کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی قیادت میں پنجاب کی نگران حکومت نے 4 ماہ کے لئے عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ بزنس سے سیلز ٹیکس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے جس سے آئی ٹی کی ایکسپورٹ بڑھے گی۔ غریب عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لئے 70ارب روپے رکھے گئے ہیں انھوں نے کہا کہ پنجاب کی نگران کابینہ نے آئین کے آرٹیکل 126کے تحت 4 ماہ کے حکومتی اخراجات اور آمدن کی منظوری دی ہے۔ جو یکم جولائی 2023ء سے 30اکتوبر 2023ء تک ہوں گے۔ 4 ماہ کا لے آؤٹ بشمول آمدن و اخراجات 1719 ارب روپے ہے جس میں سے 881ارب روپے وفاق کی طرف سے اور 194ارب روپے پنجاب خود اکٹھے کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔ پنجاب میں 4800جاری سکیموں میں سے 2500 ترقیاتی سکیمیں اگلے 4ماہ میں مکمل کر لی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی خصوصی کاوشوں سے 1ارب روپے کا جرنلسٹ انڈومنٹ فنڈ کا قائم کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر عامر میر نے کہا کہ نگران وزیر اعلیٰ کا انتخاب الیکشن کمیشن نے کیا ہے اور حکومت الیکشن کمیشن کے زیر نگرانی کام کررہی ہے۔جیسے ہی الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوگاتو نگران حکومت الیکشن کراکے چلی جائے گی۔

    پنشنرز کی پنشن میں 20فیصد اضافے کی منظوری
    اس موقع پر صوبائی وزیر صنعت وتجارت و توانائی ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ پنجاب کی نگران حکومت نے پنجاب بنک اور دیگر بنکوں سے گندم کیلئے لئے گئے 600ارب روپے کے قرض اتارنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر روزانہ 25کروڑ روپے سود ادا کیا جارہاہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو 2024ء میں یہ قرض 1000 ارب روپے جبکہ 2025ء میں 2000ارب روپے ہوجائے گا جس پر حکومت کو روزانہ 80کروڑ روپے کا سود ادا کرنا پڑتا۔ پنجاب کی نگران حکومت نے اس قرض کی ادائیگی شروع کر دی ہے اور سود کی مند میں بچائی گئی رقم عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کی جائے گی اور یہ پنجاب حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ انھوں نے کہا کہ صوبے میں جاری تعمیراتی سکیمیں اگلے 4ماہ میں 50فیصد مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پنجاب تھرمل پاور کمپنی لمٹیڈ نے 2017ء میں 1240میگاواٹ کے آر ایل این جی بیسیڈ پاور پلانٹ پر کام کا آغاز کیا تھا۔ جو کسی وجوہات کی بنا پر مکمل نہ ہوسکا۔ پنجاب کی نگران حکومت اگلے 2ماہ میں اس منصوبے کو مکمل کر ے گی جس کے لئے 16ارب روپے کے فنڈز رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم اور صحت کے بجٹ میں 31فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے اسٹامپ ڈیوٹی کی شرح3 فیصد تک بڑھانے کی تجویز مسترد کر دی جبکہ تعمیراتی صنعت کے فروغ کیلئے اسٹامپ ڈیوٹی1 فیصد کرنے کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30فیصد اور 80برس سے زائد عمر کے پنشنرز کی پنشن میں 20فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے

    دوسری جانب ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کھیت میں مناسب عمر کی پنیری کی منتقلی دھان کی اچھی پیداوار کے لیے بہت ضروری ہے۔ کدو کے طریقہ سے تیار کی ہوئی پنیری 30-25دن میں منتقلی کے قابل ہو جاتی ہے جب کہ خشک طریقہ سے کاشت کی ہوئی پنیری 40-35دن میں تیار ہوتی ہے۔ سب اقسام کے لیے موزوں عمر 40-25دن ہے اگر منتقلی کے وقت پنیری کی عمر 25دن سے کم ہو تو پودے نازک ہونے کی وجہ سے گرمی برداشت نہیں کر سکتے او رکافی تعداد میں مر جاتے ہیں اس طرح کھیت میں پودوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ اگر پنیری 40دن سے زیادہ عمر کی ہو گی تو کھیت میں منتقلی کے بعد اس کی شاخیں کم بنیں گی اور اس طرح پیداوار پر بْرا اثر پڑے گا۔ پنیری اکھاڑنے سے ایک دو دن پہلے دیکھ لینا چاہیئے کہ پنیری میں پانی موجود ہے۔ اگر پانی موجود ہو گا تو مٹی نرم ہونے کی وجہ سے پنیری کو اکھاڑتے وقت جڑیں نہیں ٹوٹیں گی۔ اگر پانی موجود نہ ہو تو پانی دے دینا چاہیئے تاکہ پنیری باآسانی اکھاڑی جا سکے۔ پنیری کی منتقلی کے وقت کھیت بالکل ہموار ہونا چاہیئے اور اس میں پانی کی گہرائی ایک سے ڈیڑھ انچ ہونی چاہیئے۔پنیری کی مناسب عمر(40-25دن)کی صورت میں ایک سوراخ میں دوپودے لگائیں۔ پنیری کی مناسب عمر کی صورت میں ایک پودا یا دو پودے فی سوراخ لگانا ایک جیسی پیداوار دیتا ہے بشرطیکہ لاب کی منتقلی کے بعد ناغے پر کر دیئے جائیں۔ لیکن عملی طو رپر کاشت کار ناغے پْر نہیں کرتے اس لیے دو پودے لگائیں۔ زیادہ عمر کی پنیری کم شاخیں بناتی ہے اس لیے فی سوراخ پودوں کی تعداد بڑھانا ناگزیر ہے۔ 50دن سے زیادہ عمر کی پنیری منتقل نہ کی جائے ورنہ پیداوار میں 40-30فیصد کمی ہو جائے گی کیونکہ 50دن سے زیادہ عمر کی پنیری گنڈھل ہو جاتی ہے۔ ایسی پنیری سے پودوں کی تعداد فی سوراخ بڑھا کر اچھی پیداوار حاصل نہیں کی جا سکتی۔ نتائج سے واضح ہے کہ اگرپنیری زیادہ عمر کی ہو جائے تو فی سوراخ پودوں کی تعداد بڑھا کر اچھی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے لیکن 50دن سے زیادہ عمر کی پنیر ی منتقل کرنا سودمند نہیں ہوتا۔ایک ایکڑ میں اسی ہزار پودوں کی تعداد ہو نی چاہئے

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

  • پنجاب کابینہ میں توسیع، کابینہ کا اجلاس بھی طلب

    پنجاب کابینہ میں توسیع، کابینہ کا اجلاس بھی طلب

    پنجاب کابینہ میں توسیع، کابینہ کا اجلاس بھی طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کابینہ میں میں توسیع کر دی گئی ہے

    پنجاب کے نئے وزراء سے کل گورنر پنجاب حلف لیں گے، پنجاب کابینہ میں مزید 20 نئے وزرا کو شامل کیا جا رہا ہے، جن اراکین کو اب وزیر بنایا جا رہا ہے ان میں ن لیگ کے رانا مشہود ،میان مجتبیٰ شجاع، خواجہ عمران نذیر، طاہر خلیل سندھو، چودھری ا قبال ، یاورزمان ، علاوہ کرنل (ر)ایوب، تنویراسلم ، بلال یاسمین ،سیف الملوک کھوکھر، ذکیہ شاہ نواز، منشااللہ بٹ ، جہانگیر خانزادہ ،کرنل (ر)طارق، عظمیٰ بخاری ، کاظم علی اور ندیم کامران شامل ہیں ،

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے بجٹ منظوری کے لئے صوبائی کابینہ کا اجلاس 13 جون کو طلب کرلیا ہے، اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کریں گے، اجلاس میں پنجاب کی کابینہ کے اراکین شریک ہوں گے، اجلاس میں بجٹ کی منظوری دی جائے گی،جلاس میں آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ اور سالانہ اخراجات کی منظوری لی جائے گی

    پنجاب کا بجٹ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان پیش کریں گے، میاں مجبتی شجاع الرحمان کو وزارت خزانہ کا چارج دیا جائے گا،

    دوسری جانب اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی سےسابق وزیراعلیٰ عثمان بزدارکی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں سابق وفاقی وزیرمونس الہٰی ،بشارت راجہ،محمود الرشید ظہیرالدین شریک تھے ،وفد نے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کو اپنے خلاف حکومتی کارروائیوں سے آگاہ کیا ،چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس ارکان صوبائی اسمبلی اور اسٹاف کو بے جا ہراساں کر رہی ہے،بجٹ اجلاس کی تیاری کرنے والے اسمبلی اسٹاف کو گرفتار کیا جا رہا ہے، جب اسمبلی سٹاف کو گرفتار کر لیا جائے گا تو بجٹ اجلاس کیسے ہوگا؟ جعلی حکمران ارکان اسمبلی کے خلاف پرچے کٹوا کر پارلیمانی روایات کو پامال کر رہے ہیں،

    پنجاب کا بجٹ تاریخ ساز بجٹ ہوگا،مالی سال2023۔2022 کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا

    پنجاب کا بجٹ 13 جون کی دوپہر دو بجے اسمبلی میں پیش کیا جاے گا

    پنجاب کے آئندہ مالی سال 2022-23 کے ترقیاتی بجٹ سے متعلق پہلا مسودہ تیار کرلیا گیا 

    پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جاری نہ کرنے پرجواب طلب