Baaghi TV

Tag: پنجاب حکومت

  • سرکاری ملازمین کا دوسرے روز بھی مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج

    سرکاری ملازمین کا دوسرے روز بھی مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے سرکاری ملازمین کا دوسرے روز بھی مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج جاری ہے

    پنجاب کے تمام اضلاع سے سرکاری ملازمین سول سیکرٹریٹ لاہور کے باہر احتجاج کر رہے ہیں، احتجاج میں خواتین بھی شریک ہیں، شرکاء نے رات سڑک پر گزاری، کل صبح سے سول سیکرٹریٹ کے اطراف کی سڑکیں بند ہیں، مظاہرین سڑکوں پر ہی بیٹھے ہیں، مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہماری تنخواہ اور پنشن میں اضافہ وفاق کے برابر کیا جائے، پنجاب کے سرکاری ملازمین کا معاشی استحصال بند کیا جائے، انکو انکے حقوق دیئے جائیں

    جماعت اسلامی نے سرکاری ملازمین کے مطالبات کی حمایت کر دی، امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ پنجاب کے مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین صوبہ بھر سے لاہور میں جمع ہیں، سراپا احتجاج ہیں۔ جماعت اسلامی ان کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ تنخواہوں میں اضافے سمیت تمام مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک برتنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ پنجاب حکومت کو فوری طور پر وفاق کے نوٹیفکیشن کے مطابق باقی تینوں صوبوں کی طرح تنخواہوں میں 35 فیصد اور پینشنرز میں ساڑھے سترہ فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن کرنا چاہیے،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور مرکزی سیکرٹریٹ میں سرکاری ملازمین کے حوالے منعقدہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو نے مزید کہا کہ اس وقت پنجاب بھر کے تمام سرکاری دفاتروں میں قلم چھوڑ ہڑتال ہوچکی ہے، پنجاب بھر سے ہزاروں سرکاری ملازمین سول سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنہ دئیے ہوئے ہیں جو ملک و قوم کے لیے کسی صورت فائدے مند نہیں ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی ساتھ امتیازی سلوک کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور پنجاب کی نگران حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سرکاری ملازمین کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا جتنی جلد ازالہ کرے اتنا ہی مناسب ہوگا ،دوسری صورت میں ملازمین میں ایک بے چینی موجود رہے گی جو معاشرتی امن و سکون کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔

  • راجہ جاوید اشرف کی جانب سے پولیس اہلکار کی تضحیک،الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا

    راجہ جاوید اشرف کی جانب سے پولیس اہلکار کی تضحیک،الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسپیکر قومی اسمبلی کے بھائی راجہ جاوید اشرف کی طرف سے پولیس اہلکار کی تضحیک کا نوٹس لے لیا۔

    باغی ٹی وی : باخ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی، چیف سیکریٹری، آئی جی پنجاب کو کارروائی کی ہدایت کردی الیکشن کمیشن نے کہا کہ راجہ جاوید اشرف کے خلاف پنجاب حکومت نے فوری کارروائی نہیں کی تو الیکشن کمیشن قانون کے مطابق مداخلت کرے گا۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف کے بھائی راجہ جاوید اشرف نے گوجر خان میں چوکی انچارج سب انسپکٹر کی تذلیل کی تھی جس کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی راجہ جاوید اشرف نے گوجر خان میں ایک جلسے کے دوران چوکی انچارج کو اسٹیج پر بلا کر وہاں موجود لوگوں کی طرف رخ کرنے کا کہا۔

    عید الاضحیٰ پرمسافر ٹرینوں کےکرائے میں 33 فیصد کمی کا اعلان

    راجہ جاوید اشرف نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چوکی انچارج کو میں نے یہاں لگایا ہے، چوکی انچارج کو کہا ہے کہ اگر جھوٹا پرچہ دیا تو یہ سارے اسٹار اتر جائیں گے،خطاب کے آخر میں راجہ جاوید اشرف نے چوکی انچارج کو جانے کا کہا ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد راجہ جاوید اشرف کی جانب سے پنجاب پولیس سے معافی بھی مانگ لی گئی تھی۔

    میری فلم وی آئی پی میں میری لُکس بہت اچھی لگی ہیں سلیم معراج

    راجہ جاوید اشرف کا کہنا تھا کہ کچھ ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں پولیس کے بھائیوں کی دل آزاری ہوئی ہے، جس پر پنجاب پولیس خاص طور پر متعلقہ افسران سے معذرت طلب کرتا ہوں سیاسی تقاریر میں جذبات میں اکثر ایسے الفاظ ادا ہوجاتے ہیں، شہداء کی زمین گوجر خان کے رہنے والے وردی کا احترام کرتے ہیں،چوکی انچار ج اور ایس ایچ او گوجر خان میرے بھائی ہیں۔

    پری مون سون بارشوں سےسیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    دوسری جانب اس حوالے سے راولپنڈی پولیس کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے سب انسپکٹر صفدر کو 2 روز قبل معطل کر دیا گیا ہے افسران کو مطلع کیے بغیر جلسے میں شرکت پر اہل کار کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے محکمے کے وقار کو مجروح کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

    ایمن اور منال نے کر دیا حیران مداحوں اور اپنے شوہروں کو لیکن کیسے ؟

  • محکمہ صحت اور اسپتالوں کی انتظامیہ ڈاکٹروں کو کام پر لانے میں ناکام،ہڑتال 8ویں روز بھی جاری

    محکمہ صحت اور اسپتالوں کی انتظامیہ ڈاکٹروں کو کام پر لانے میں ناکام،ہڑتال 8ویں روز بھی جاری

    لاہور: محکمہ صحت اور اسپتالوں کی انتظامیہ ڈاکٹروں کو کام پر لانے میں ناکام،لاہور کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹر پر تشدد کے خلاف ینگ ڈاکٹرز کی 8ویں روز بھی ہڑتال جاری ہے۔

    باغی ٹی وی: ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کی وجہ سےسرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز آٹھویں روز بھی بند ہونےسے مریضوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہےمریضوں نے سرکاری اسپتالون کی او پی ڈیز کھلوانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غریب مریضوں کی سنوائی کہیں نہیں ہے۔ بار بار اسپتالوں کے چکر لگارہے ہیں لیکن علاج نہیں ہورہا ہے۔

    ینگ ڈاکٹرزکی ہڑتال:عدالت نے پنجاب حکومت اور سیکرٹری صحت سے جواب طلب کرلیا

    ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر ہے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے خلاف درخواست جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی طرف سے دائر کی گئی جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی طرف سےدائر کی گئی ہے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ سرکاری اسپتالوں میں سستا علاج عوام کا بنیادی حق ہے لیکن ڈاکٹرز نے غیر قانونی طور پر ہڑتال کردی جس سے غریب مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    گزشتہ روز ڈاکٹروں کی غیر قانونی ہڑتال کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے درخواست پر سماعت کی درخواست گزار جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی وکلا آمنہ اور سلمیٰ نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ سرکاری اسپتالوں میں سستا علاج کرانا شہریوں کا آئینی حق ہے تاہم ڈاکٹرز نے اسپتالوں میں غیر قانونی طور پر ہڑتال کر رکھی ہے۔

    ڈاکٹروں کی غیر قانونی ہڑتال کیخلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی وکلاء نے استدعا کی کہ عدالت ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن معطل کرنے کا حکم دے اور سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے لئے احکامات جاری کرے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت، سیکرٹری صحت اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کو کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

    واضح رہے کہ 31 مئی کو چلڈرن اسپتال میں دوران علاج جاں بحق ہونے والی ایک سالہ بچی کے لواحقین نے ڈیوٹی ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد ڈاکٹرز نے او پی ڈی بند کر کے احتجاج شروع کیا جو اب تک جاری ہے۔

    کینیڈا کے جنگلات میں آگ،امریکا میں بھی شدید فضائی آلودگی کا انتباہ جاری

  • ینگ ڈاکٹرزکی ہڑتال:عدالت نے  پنجاب حکومت اور سیکرٹری صحت سے جواب طلب کرلیا

    ینگ ڈاکٹرزکی ہڑتال:عدالت نے پنجاب حکومت اور سیکرٹری صحت سے جواب طلب کرلیا

    لاہور: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال پر لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت اور سیکرٹری صحت سے جواب طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: ڈاکٹروں کی غیر قانونی ہڑتال کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے درخواست پر سماعت کی درخواست گزار جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی وکلا آمنہ اور سلمیٰ نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ سرکاری اسپتالوں میں سستا علاج کرانا شہریوں کا آئینی حق ہے تاہم ڈاکٹرز نے اسپتالوں میں غیر قانونی طور پر ہڑتال کر رکھی ہے۔

    آئی ایم ایف کے طے شدہ معیارات کی کوئی خلاف ورزی نہ ہو،وزیراعظم

    جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی وکلاء نے استدعا کی کہ عدالت ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن معطل کرنے کا حکم دے اور سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے لئے احکامات جاری کرے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت، سیکرٹری صحت اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کو کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

    واضح رہے کہ چلڈرن اسپتال لاہور میں ڈاکٹر پرتشدد کے خلاف اسپتالوں کی اوپی ڈیز کی بندش کو ایک ہفتہ ہوگیا مگر ڈاکٹرز ٹھوس اقدامات تک احتجاج جاری رکھنے پربضد ہیں صوبے پھر میں او پی ڈیز کی بندش اور باربارہڑتالوں سے تنگ آکر مریضوں نے حکومت سے معاملہ سلجھانے کا مطالبہ کردیا۔

    ڈاکٹروں کی غیر قانونی ہڑتال کیخلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    ایک سال کی بچی میڈیکل وارڈ میں داخل تھی، طبیعت نہ سنبھلنے پر ڈاکٹرز کی کوشش کے باوجود جانبر نہ ہو سکی اور خالق حقیقی سے جا ملی بچی کی ہلاکت پر لواحقین آپے سے باہر ہو گئے، لواحقین نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور ڈیوٹی ڈاکٹر و عملہ پر تشدد کیا-

    لواحقین نے ڈیوٹی ڈاکٹر کو تھپڑوں، لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، لواحقین کے تشدد سے ڈاکٹر شدید زخمی ہو گیا، مشتعل لواحقین نے لیڈی ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف کو بھی گالیاں دیں،مذکورہ واقعہ کے بعد ڈاکٹرز نے اسپتال میں علاج معالجہ بند کر دیا تھا-

    محکمہ ایکسائز نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے نام رجسٹرڈ گاڑیوں کی تفصیل نیب کو …

  • جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے سے یاسمین راشد کی بریت چیلنج

    جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے سے یاسمین راشد کی بریت چیلنج

    لاہور ہائیکورٹ میں جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے سے یاسمین راشد کی بریت کو پنجاب حکومت نے چیلنج کر دیا۔

    باغی ٹی وی : حکومت پنجاب نے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کے توسط سے اپیل دائر کی، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے جناح ہاؤس پر حملے کی ہدایات دیں یاسمین راشد پی ٹی آئی ورکرز کو جناح ہاؤس تک لے کر گئیں، ملزمہ کےخلاف ٹھوس شواہد اور موقع کے گواہان موجود ہیں،درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت یاسمین راشد کی بریت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

    افغانستان کےصوبے بدخشاں میں بم دھماکہ:صوبے کے ڈپٹی گورنر جاں بحق

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کی گزشتہ ماہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں رینجرز کی جانب سے بدعنوانی کے مقدمے میں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں مظاہرے ہوئے تھے، اس دوران فوجی تنصیبات سمیت کئی نجی اور سرکاری املاک کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    یاسمین راشد کو پی ٹی آئی کی 17 دیگر خواتین کارکنوں کے ساتھ ابتدائی طور پر مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس (ایم پی او) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور 13 مئی کو لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ان کی رہائی کا حکم دئیے جانے کے چند گھنٹوں بعد ہی انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا۔

    جج کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا،چیف جسٹس

    یاسمین راشد پر 9 مئی کے فسادات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے سے متعلق لاہور میں درج تین مقدمات میں بھی فرد جرم عائد کی گئی تھی تاہم ہفتہ کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو کور کمانڈر لاہور کی ہائش گاہ میں توڑ پھوڑ سے متعلق کیس میں پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد کو 23 دیگر ملزمان سمیت بری کرنے کا حکم جاری کیا تھا 9 مئی کے احتجاج سےمتعلق دیگرمقدمات کی وجہ سے انہیں رہا نہیں کیا گیا-

    تاہم دو دن قبل پنجاب پولیس نےپی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی رہائی کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    کوئٹہ:نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سپریم کورٹ کا وکیل جاں بحق

  • پی ٹی آئی کارکنان کی بازیابی کی درخواست،حکومت پنجاب کو جواب جمع کرانے کیلئےمہلت

    پی ٹی آئی کارکنان کی بازیابی کی درخواست،حکومت پنجاب کو جواب جمع کرانے کیلئےمہلت

    لاہور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے 335 رہنماؤں اور کارکنوں کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے 335 رہنماؤں اور کارکنان کی بازیابی کیلئے درخواست کی سماعت جسٹس انوار الحق پنوں نے کی ،درخواست میں نگراں وزیراعلیٰ چیف سیکرٹری سمیت دیگرکو فریق بنایا گیا-

    سپریم کورٹ،آڈیو لیکس پر بنائے گئے کمیشن پر حکم امتناع میں توسیع

    دوران سماعت پی ٹی آئی کارکنان کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ عمران خان کی گرفتاری پر عوام نے احتجاج کیا جسے روکنے کے لئے حکومت نےخلاف قانون اقدامات اٹھائے،انتظامیہ نے بڑے پیمانے پرگرفتاریاں کیں، اورصوبے بھر میں ڈپٹی کمشنرز نے پی ٹی آئی رہنماؤں اورکارکنوں کی نظربندی کے احکامات جاری کیے۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ جمہوریت میں پر امن احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، ڈپٹی کمشنرز نے نظربندی کے احکامات بغیر کسی قانونی جواز کے جاری کیے، کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف بے بنیاد الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔

    سعودی خلابازوں کا مشن مکمل،10 دن بعد زمین پر واپس پہنچ گئے

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پی ٹی آئی رہنماؤں کی بازیابی اور رہائی کے احکامات جاری کرے، اور ڈپٹی کمشنرز کے جاری کردہ نظربندی کے نوٹیفکیشنز کالعدم قرار دے۔

    عدالت نے حکومت پنجاب کو جواب جمع کرانے کیلئے 6 جون تک مہلت دے دی۔

  • پی ٹی آئی خواتین کی گرفتاریوں کیخلاف کیس،پنجاب حکومت، ہوم سیکرٹری اورآئی جی پنجاب کو نوٹس جاری

    پی ٹی آئی خواتین کی گرفتاریوں کیخلاف کیس،پنجاب حکومت، ہوم سیکرٹری اورآئی جی پنجاب کو نوٹس جاری

    پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی خواتین کارکنوں کی گرفتاریوں اور تشدد کے خلاف کیس ،لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت، ہوم سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو نوٹس جاری کردیئے-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید شہباز علی رضوی نے پی ٹی آئی کی خواتین کارکنوں کی گرفتاریوں اور تشدد کے خلاف کیس کی سماعت کی ، پی ٹی آئی سینیٹر زرقا سہروردی نے درخواست دائر کی-

    آڈیو لیکس کمیشن کیس :ذاتی مفادات سے متعلق کیس کوئی جج نہیں سن سکتا،انکوائری کمیشن

    وکیل نے عدالت میں کہا کہ تحریک انصاف کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرنے اور تشدد کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، پی ٹی آئی کی خواتین کارکنان کو غیر قانونی طور پر گرفتار اور نظر بند کیا جا رہا ہے، تحریک انصاف کی تمام خواتین پر امن احتجاج کر رہی تھیں جو ان کا جمہوری بنیادی حق ہے۔

    عدالت سے استدعا کی گئی کہ تحریک انصاف کی تمام خواتین رہنماؤں اور کارکنان کو رہاکرنے اور تحریک انصاف کی تمام خواتین رہنماؤں اور کارکنان پر تشدد اور استحصال سے متعلق جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے کر تحقیقات کروانے کا حکم دیا جائے۔

    سرکاری وکیل نے بتایا کہ خواتین کے ساتھ تشدد یا بد سلوکی کا کوئی واقع پیش نہیں آیا، خاتون ڈی سی لاہور اور خاتون پولیس آفیسر نے جیل جا کر خواتین سے ملاقات بھی کی، عدالت درخواست کو ناقابل سماعت دے کر خارج کرے۔

    رینجرز اور پولیس نے میرے گھر کے دروازے ملازمین کے بازو توڑ دیئے،شیخ رشید

    عدالت نےسرکاری وکیل کی استدعا مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، ہوم سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا کہا کہ بتایا جائے کہ کتنی خواتین نظر بند ہیں، رپورٹ دی جائے کہ کتنی خواتین جیلوں اور کتنی ریمانڈ پر ہیں، پولیس کا تو سارا نظام کمپیوٹرائزڈ ہے، عدالت کو مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔

    دوسری جانب آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے 9 مئی کے بعد حراست میں لی جانے والی خواتین سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کو پرانی اور جعلی قرار دیدیا گزشتہ روز آئی جی پنجاب عثمان انور نے آئی جی جیل خانہ جات فاروق نذیر اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا کہ جیلوں میں 150 کیمرے نصب ہیں، سوشل میڈیا پرزیر حراست خواتین کی متعدد پرانی اور جعلی ویڈیوز وائرل کی گئیں۔

    عدالت نے آڈیولیک تحقیقاتی کمیٹی کو ثاقب نثارکے بیٹےکیخلاف کارروائی سے روک دیا

    انہوں نے کہا کہ ہم ہر قسم کی جوڈیشل اور نان جوڈیشل انکوائری میں پیش ہونے کے لیے تیار ہیں،9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کی 4 کیٹگیریز ہیں اور سب کے خلاف کارروائی جاری ہے،گناہ گار کو چھوڑیں گے نہیں اور بے گناہ کوکچھ کہیں گے نہیں۔

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن انوش مسعود کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث 13 خواتین لاہور اور 2 راولپنڈی کی جیلوں میں ہیں، جیل میں خواتین قیدیوں کو گھر جیسا ماحول نہیں دے سکتے تاہم انسانی حقوق کے مطابق پوری سہولتیں دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، ان سے ملاقات کروائی جارہی ہے ، کوئی مرد اہلکار خواتین قیدیوں کے سیل میں نہیں جا سکتا۔

    تحریک لبیک کا مہنگائی مارچ ،مبشر لقمان نے بھی حمایت کر دی

  • سی ٹی ڈی کی کاروائی،آپریشن کے دوران 12 دہشت گرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائی،آپریشن کے دوران 12 دہشت گرد گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی کی کارروائیاں جاری ہیں

    سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 12 دہشت گرد گرفتار کر لئے گئے، سی ٹی ڈی نے کاروائی پنجاب کے شہروں سرگودھا ، راولپنڈی ملتان بہالپور اور گوجرنوالہ میں کی ،گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم داعش اور ٹی ٹی پی سے ہے ، دہشت گردوں سے بارودی مواد ، خودکش جیکٹ ،ڈیٹو نیٹر ، ہینڈگرنیڈ ،اسلحہ ،گولیاں اور نقدی برآمد کی گئی ہے، دہشت گردوں کی شناحت میر احمد ،حبیب الرحمان ہارون ،ضیاء۔عمران ، مدثر،عدیل اور فاروق کے نام سے ہوئی،دہشت گردوں کے خلاف مقدمات درج کرکے تفتیش جاری ہے

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق رواں ہفتے 249 کومبنگ آپریشنز کے دوران 40 مشتبہ افراد گرفتار کیے ،کومبنگ آپریشنز میں 12112 افراد سے پوچھ کچھ کی گئی ، سی ٹی ڈی محفوظ پنجاب کے ہدف پر عمل پیرا ہے ، سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں ،

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کر لئے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

  • 9 مئی واقعات کی تحقیقات کیلئےجے آئی ٹی کی تشکیل،پنجاب حکومت سے جوب طلب

    9 مئی واقعات کی تحقیقات کیلئےجے آئی ٹی کی تشکیل،پنجاب حکومت سے جوب طلب

    لاہور: عدالت نے 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کی تشکیل پر پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: نگراں حکومت پنجاب نے 9 مئی کو جناح ہاؤس پر حملے کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی، جس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی جسٹس شاہد بلال حسن نے درخواست پر سماعت کی درخواست میں نگران وزیر اعلیٰ، سیکرٹری ہوم، چیف سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے۔

    اعجاز چوہدری کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کالعدم قرار

    جے آئی ٹی کی تشکیل کے خلاف درخواست پر عدالت نے پنجاب حکومت سے جواب طلب کر لیا۔

    وضح رہے کہ 19 مئی کو نگراں حکومت پنجاب نے 9 مئی کو جناح ہاؤس پر حملے کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی، اور محکمہ داخلہ پنجاب نے نوٹی فکیشن بھی جاری کیا تھا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی کا سربراہ ڈی آئی جی کامران عادل کو مقرر کیا گیا ہے، جب کہ ایس ایس پی صہیب اشرف، ڈی ایس پی رضا زاہد، اے ایس پی تیمورخان اور انچارج انویسٹی گیشن محمد سرور بھی جے آئی ٹی میں شامل ہوں گے۔

    پہلے بتا دیتے شیریں مزاری کی گرفتاری کا ایم پی او کے ساتھ کوئی تعلق …

    محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور کے مختلف تھانوں میں درج دیگر 9 مقدمات پر بھی جی آئی ٹی تشکیل دی تھی، اور محکمہ داخلہ نے آئی جی پولیس کی سفارشات پر نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔

  • الیکشن کمیشن نے صدر کو ایک دن انتخابات کی ایڈوائس کیوں نہیں دی؟ چیف جسٹس

    الیکشن کمیشن نے صدر کو ایک دن انتخابات کی ایڈوائس کیوں نہیں دی؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ، پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت شروع ہو گئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ اس سے پہلے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل دلائل دیں میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، گزشتہ روز عدالت کی جانب سے کچھ ریمارکس دئے گئے،عدالت نے کہا جو نکات پہلے نے نہیں اٹھائے وہ اب کیوں رکھ رہے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ گھبرا کیوں رہے ہیں آپ نے گھبرانا نہیں ہے، یہ عدالت سماعت کیلئے بیٹھی ہے کوئی معقول نقطہ اٹھائیں سن کر فیصلہ کریں گے،آپ نے نکات بے شک اٹھائے لیکن ان پر بحث نہیں کی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل عدالت میں کہا گیا الیکشن کمیشن کے اٹھائے گئے نکات پہلے کیوں نہیں اٹھائے گئے تھے ،دوسرا نقطہ تھا وفاقی حکومت پہلے چار تین کے چکر میں پڑی رہی، ایک صوبے میں انتخابات ہوں تو قومی اسمبلی کا الیکشن متاثر ہونے کا نقطہ پہلے اٹھایا گیا تھا، اپنے جواب میں 4/3 کا فیصلہ ہونے کا ذکر بھی کیا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی معقول نقطہ اٹھایا گیا تو جائزہ لے کر فیصلہ بھی کریں گے، کل نظر ثانی کے دائرہ اختیار پر بات ہوئی تھی ماضی کو حکومت کے خلاف استعمال نہیں کریں گے، حکومت کی نہیں اللہ کی رضا کے لیے بیٹھے ہیں، بہت سی قربانیاں دے کر یہاں بیٹھے ہیں ،آپ اپنے ساتھیوں سے کہیں کہ ہمارے دروازے پر ایسی باتیں نہ کریں، ایوان میں گفتگو بھی سخت نہ کیا کریں ہم اللہ کے لیے کام کرتے ہیں اس لیے چپ بیٹھے ہیں ،جس ہستی کا کام کر رہے ہیں وہ بھی اپنا کام کرتی ہے،آپ صفائیاں نہ دیں عدالت صاف دل کے ساتھ بیٹھی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کو بھی خوش آمدید کہا گڈ ٹو سی یو کہا ،ہماری ہرچیز درست رپورٹ نہیں ہوتی،کہا گیا عمران خان کو عدالت نے مرسیڈیز دی تھی، میں تو مرسیڈیز استعمال ہی نہیں کرتا، پولیس نے عمران خان کی مرسیڈیز کا بندوبست کیا تھا، اس بات کو پتہ نہیں کیا سے کیا بنا دیا گیا ، پی آر او نے وضاحت کی اسے بھی غلط طریقے سے پیش کیا گیا ، ہم نے توآپ کو دیکھ کرکھلے دل سے”گڈ ٹو سی یو” کہا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی اورطریقے سے کہی گئی باتیں رپورٹ ایسے ہوئیں کہ ان سے تاثرغلط گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ پرسکون رہیں بیٹھ جائیں،ابھی الیکشن کمیشن کے وکیل کوسنتے ہیں پھرآپکے مفید دلائل بھی سنیں گے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل کا آغاز کردیا ،سجیل سواتی وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ہمیشہ آئین کی تشریح زندہ دستاویز کے طور پر کرتی ہے،انصاف کا حتمی ادارہ سپریم کورٹ ہے اس لئے دائرہ کار محدود نہیں کیا جا سکتا، مکمل انصاف اور آرٹیکل 190 کا اختیار کسی اور عدالت کو نہیں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظیروں کے مطابق نظر ثانی اور اپیل کے دائرہ کار میں فرق ہے،اس سوال کا جواب آپ نے کل سے نہیں دیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دائرہ کار پر آپ کی دلیل درست مان لیں تو سپریم کورٹ رولز کالعدم ہو جائیں گے، سپریم کورٹ رولز میں نظر ثانی پر ابھی تک کوئی ترمیم نہیں کی گئی، دائرہ کار بڑھایا تو کئی سال پرانے مقدمات بھی آ جائیں گے،کیسے ہو سکتا ہے سپریم کورٹ رولز کا نظرثانی سے متعلق آرڈر 26 پورا لاگو نہ ہو، آرڈر 26 پورا لاگو نہ ہونے سے نظر ثانی دائر کرنے کی مدت بھی ختم ہو جائے گی، کیا دس سال بعد کوئی نظر ثانی دائر کر کے کہہ سکتا ہے رولز مکمل لاگو نہیں ہوتے، آپ کو شاید اپنی دلیل مانے جانے کے نتائج کا اندازہ نہیں ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نظر ثانی دائر کرنے کے لیے مدت ختم نہیں ہونی چاہیئے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ 70 سال میں یہ نقطہ آپ نے دریافت کیا ہے تو نتائج بھی بتائیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کا دائرہ کار سپریم کورٹ رولز میں موجود ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ رولز نظر ثانی کے آئینی اقدام پر قدغن نہیں لگا سکتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 184/3 کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے،احساس ہوا ہے کہ اس سے غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں، آپ کی نظر میں نظر ثانی کا دائرہ محدود ہونا درست نہیں ہے، آپ چاہتے ہیں نظر ثانی میں دائرہ وسیع کیا جائے،اب اصل مقدمہ کی جانب آئیں اس پر بھی دلائل دیں،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ دینے کا معاملہ پہلی بار عدالت آیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت توقع کرتی ہے کہ ایسے قانون کے حوالے بھی دئیے جائیں گے، الیکشن کمیشن نے کہا تھا سکیورٹی اور فنڈز دے دیں انتخابات کروا دیں گے، اب ان تمام نکات کی کیا قانونی حیثیت ہے، نو رکنی بینچ نے اپنے حکم میں اہم سوالات اٹھائے تھے،سیاسی جماعتوں کے مفادات کہیں اور جڑے ہوئے تھے،قانونی نکات پر دلائل کی بجائے بینچ پر اعتراض کیا گیا، نو رکنی بینچ سے پانچ رکنی بینچ بنا وہ بھی عدالتی حکم پر، سات رکنی بینچ عدالت کے حکم پر بنا ہی نہیں تو 4/3 کا فیصلہ کیسے ہو گیا، عدالت دو منٹ میں فیصلہ کر سکتی ہے کہ نظر ثانی درخواست خارج کی جاتی ہے،عدالت قانونی نکات پر سن کر فیصلہ کرنا چاہتی ہے ، آسانی سے کہہ سکتے ہیں آپ نے سواری مس کر دی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن نے صدر کو خط لکھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کو وہ صورتحال نہیں بتائی جو عدالت کو اب بتا رہے ہیں ، صدر کو خط صرف تاریخ دینے کا لکھا گیا تھا، سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے کی کوشش کرتا ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں تو نظر ثانی دائر کرنے کی مدت بھی نہیں دی گئی، کیا فیصلے کے بیس سال بعد نظر ثانی دائر ہو سکتی ہے ،اگر نظر ثانی کی مدت والا رول لاگو ہو سکتا ہے تو دائرہ کار کیسے نہیں ہو گا، وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ رولز بنانے والوں نے دائرہ کار آئینی مقدمات میں محدود نہیں رکھا ،ملک کے تین بہترین ججز کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر رہا ہوں،وقت کے ساتھ قانون تبدیل ہوتا رہتا ہے ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کو ایک دن انتخابات کی ایڈوائس کیوں نہیں دی؟ الیکشن کمیشن نے صدر کو نہ سکیورٹی کا بتایا نہ فنڈز کا، زمینی حالات کا ذکر کیے بغیر کہا جا رہا ہے آرٹیکل 218/3 کے تحت مزید اختیارات دئیے جائیں ، آئین اختیار دیتا ہے تو استعمال کرنے سے پہلے آنکھیں اور ذہن بھی کھلا رکھیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تلور کے شکار والے کیس میں بھی عدالت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی، 16 ہزار ملازمین کے کیس میں نظر ثانی خارج ہوئی لیکن عدالت نے 184/3 اور 187 کا اختیار استعمال کیا، ججز کیس میں بھی عدالت نے اپنا فیصلہ خود تبدیل کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ججز کیس میں سوموٹو نظر ثانی کی تھی ،ملازمین کیس میں اقلیتی نوٹ ہے کہ خارج شدہ نظرثانی آرٹیکل 187 میں بحال نہیں ہوسکتی، وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ دہشتگردی کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا دوسری نظرثانی درخواست نہیں ہوسکتی لیکن عدالت خود فیصلے کا جائزہ لے سکتی ہے، الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے جسٹس فائز عیسی کیس کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی نظرثانی درخواست میں بھی عدالت نے اپنا فیصلہ واپس لیا تھا، کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی،

    نگران پنجاب حکومت نے صوبہ پنجاب میں فوری الیکشن کی مخالفت کر دی

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟