Baaghi TV

Tag: پنجاب نگران حکومت

  • لوگ صحت کارڈ پر ارب پتی بن گئے. ترجمان پنجاب حکومت

    لوگ صحت کارڈ پر ارب پتی بن گئے. ترجمان پنجاب حکومت

    نگران وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا صحت سہولت کارڈ کا نام بدلتا رہا، لوگ اس کارڈ پر ارب پتی بن گئے اور اتنے اسٹنٹ ڈالے گئے کہ ملک سے اسٹنٹ ختم ہوگئے۔ جبکہ لاہور میں نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر اور ڈاکٹر جاوید اکرم نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں عامر میر کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ اسکیم نواز شریف کے دور 2015 میں غریبوں کے لیے تھی، اس دور میں ہیلتھ کارڈ پر آپریشن کیلئے 3 لاکھ حد رکھی گئی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے ہیلتھ کارڈ پر400 ارب روپے مختص کیے، ایک مافیہ بنا پرائیوٹ اسپتالوں کے ساتھ کمیشن طے ہوئے، دھڑا دھڑ مریضوں کو پرائیوٹ اسپتالوں میں آپریشن کیلئے بھیجا گیااور خوب پیسا کمایا گیا۔ جبکہ عامر میر کا کہنا تھاکہ سابق حکومت کے صحت کارڈ پرپرائیوٹ اسپتالوں کے 100، 100 ارب روپے کے بل بنے پڑے ہیں، صحت سہولت کارڈ سے متعلق خبروں سے غلط تاثر پیدا ہورہا ہے، اب یہ سہولت ان لوگوں کے لیے ہوگی جو افورڈ نہیں کرسکتے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    نگران وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ ایک اچھا مثبت قدم تھا، اسے بند نہیں کیا جا رہا، اب صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور سوشل ویلفیئر سے رجسٹرڈ غریب افراد صحت کی سہولت حاصل کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحت سہولت کارڈ کا نام بدلتا رہا، لوگ اس کارڈ پر ارب پتی بن گئے، اتنے اسٹنٹ ڈالے گئے کہ ملک سے اسٹنٹ ختم ہوگئے، جونیئرز ڈاکٹرز نے پرائیوٹ اسپتالوں میں آپریشن کیے، 50 فیصد نارمل ڈلیوری کے سی سیکشن ہوئے۔ جبکہ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، پورے ملک میں الیکشن ایک ہی دن ہو گا۔

  • پی ایس ایل میچز کی لاہور منتقلی:حکومت پنجاب اورپی سی بی کے درمیان ڈیڈلاک برقرار

    پی ایس ایل میچز کی لاہور منتقلی:حکومت پنجاب اورپی سی بی کے درمیان ڈیڈلاک برقرار

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 8 کے پنجاب میں ہونے والے میچز کے سکیورٹی اخراجات کے حوالے سے حکومت پنجاب اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے۔

    باغی ٹی وی: پاکستان کرکٹ بورڈ کا اس حوالے سے اجلاس میں ہوا جس میں فیصلہ کیا گیاکہ بورڈ اپنےمؤقف پر ڈٹا رہے گا پنجاب حکومت کو پیغام پہنچا دیا ہے کہ سکیورٹی اخراجات کی مد میں حکومت کو کوئی ادائیگی نہیں کی جائے گی-

    پی سی بی کی جانب سے نگران حکومت پنجاب کی جانب سے پی سی بی کو 25 کروڑ روپے ادا کرنے کے پیغام پر جواب دے دیا گیا ہے کہ ادائیگی نہیں کی جائےگی۔

    پی سی بی کی جانب سے حکومت پنجاب کو پیغام بھیجا گیا ہے کہ لاہور میں دو پی ایس ایل میچز کے بعد لیگ کے بقیہ میچز کراچی میں ہوں گے سیکیورٹی کو بنیاد بنا کر کسی کھلاڑی نے دستبرداری کا فیصلہ کیا تو بورڈ ذمے دار نہیں ہوگاسیکیورٹی کی ذمےداری اسٹیٹ کی ہے، ٹیموں کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ حاصل ہے۔

    دوسری جانب سابق چیئرمین پی سی بی رمیزراجہ نے اپنےبیان میں کہا کہ اگر حکومت سکیورٹی نہیں دے گی تو بڑا ٹورنامنٹ نہیں ہوسکے گا، پی ایس ایل دوسرے شہروں میں شفٹ کرنے سے بہت نقصان ہوگا۔

    جبکہ نگران حکومت کے وزیر تعلیم منصور قادر نے بتایا کہ اس سال پی ایس ایل کے انتظامات کا تخمینہ ایک ارب 20 کروڑ روپے لگایاگیا، اتنی بڑی رقم خرچ کرنے پر نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کے تحفظات ہیں غیر ضروری اخراجات ختم کرکے پی ایس ایل پر اخراجات کا تخمینہ 50 کروڑ روپے لگایا گیا جس میں سے ہم 25 کروڑ روپے خرچ کرنے کو تیار ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے 25 کروڑ روپے دینے سے انکار کر دیا ہے ہم نے پی سی بی سے کہا کہ 25 کروڑ روپے دے کر لائٹیں خرید لیں، تاکہ ہر سال کام آئیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کے فوری بعد رمضان شروع ہو رہا ہے، مالی بحران کا شکار حکومت رمضان میں عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے یہی وجہ ہے کہ پی ایس ایل پر اتنی بڑی رقم خرچ کرنے سے گریزاں ہے، حکومت پنجاب کو رمضان میں عوام کو ریلیف دینا مشکل ہو رہا ہے ہم چاہتے ہیں کہ پی سی بی اپنا شیئر ڈالے تاکہ عوام کو تفریح کے ساتھ ساتھ رمضان میں سہولت بھی دے سکیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل پنجاب حکومت نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی سکیورٹی کیلئے سرکاری خزانے سے 50 کروڑ روپے دینے سے انکار کردیا تھا آج نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی سربراہی میں پنجاب کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے اس فیصلے سے پی سی بی کو آگاہ کیا گیا تھا۔

    ذرائع‏ کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے پی سی بی پر واضح کیا گیا تھا کہ پنجاب حکومت تب انتظامات کرے گی جب پی سی بی 25 کروڑ روپے ادا کرےگاکابینہ میں مؤقف اپنایا گیا کہ پنجاب حکومت اب تک پی ایس ایل میچز کے انتظامات پر 45 کروڑ روپے لگا چکی ہے۔

    خیال رہے کہ کل کراچی میں پی ایس ایل کا آخری میچ شیڈول ہے جس کے بعد فائنل سمیت تمام میچز لاہور اور پنڈی میں شیڈول ہیں۔ معاملہ طے نہ ہوا تو ایونٹ کا شیڈول تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔