Baaghi TV

Tag: پنجاب پولیس

  • پنجاب پولیس نے نئے مالی سال کیلئے 158 ارب روپے کا بجٹ مانگ لیا

    پنجاب پولیس نے نئے مالی سال کیلئے 158 ارب روپے کا بجٹ مانگ لیا

    لاہور:حکومت کے لئے ایک اور اہم ادارے کی جانب سے ڈیمانڈ آ گئی، پنجاب پولیس نے نٸے مالی سال 2022/2023کے لیے 158ارب روپے کا بجٹ مانگ لیا ہے۔

    ذراٸع کے مطابق پنجاب پولیس کی سوا دو لاکھ سے زاٸد فورس کے لیے پنجاب پولیس کے سربراہ راؤسردار علی خان نے نٸے مالی سال 2022/2023کے لیے 158ارب روپے کا بجٹ مانگ لیا ، بجٹ تنخواہوں، اخراجات،سامان کی خریداری سمیت دیگر کے لیے مانگا گیا ہے۔

    ذراٸع کا کہنا ہے کہ لیس کے ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں سب سے زیادہ 120 ارب مانگا گیا ہے جبکہ 25ارب پیٹرول کے لیے، ڈیڑھ ارب بجلی کے بلز کی مد اور تین ارب روپے یونیفارم کی مد میں مانگے گئے ہیں۔

    ذراٸع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کاسٹ آف انویسٹی گیشن کی مد میں تین ارب اور متفرق و اینٹی رائٹ کے اخراجات کی مد میں ڈیڑھ ارب روپے طلب کیے گئے ہیں جبکہ گاڑیوں، بلڈنگز اور مینٹیننس کی مد میں دو ارب، متفرق اخراجات کی مد میں 7 ارب، ایل پی آر کی مد میں ڈیڑھ ارب مانگے گئے ہیں۔

    ذراٸع کا مزید کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب نے دوران سروس فوت ہونے والے افسران و ملازمین کے لیے 3 ارب، شہدا کے لیے 50 کروڑ روپے کا بجٹ مانگا ہے جبکہ متفرق گاڑیوں و دیگر سامان کی خرید وفروخت کی مد میں 7 ارب روپے طلب کیے گئے ہیں۔

    سوئی سدرن کےلیےگیس کی قیمت میں44 فیصد اضافے کی منظوری

    بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    ہمارے ملک میں مداخلت کیوں:کویت نے امریکی سفیرکوطلب کرکےسخت پیغام بھیج دیا

    اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونےکا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی

  • پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

    پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں اور قیادت کے گھروں پر چھاپوں سے ن لیگ نے پھر وہی دکھایا ہے جس سے ہم واقف ہیں-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ پرامن احتجاج ہمارےشہریوں کاحق ہے۔ پنجاب اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنان اوررہنماؤں کیخلاف ظالمانہ چھاپوں نے ایک مرتبہ پھرہمیں وہی کچھ دکھایاہےجس سےہم واقف ہیں کہ جب بھی اقتدار ہاتھ لگتاہے نون لیگ فسطائیت پراترتی ہے –

    ‏بریکنگ نیوز، پولیس حماد اظہر کو گرفتار کرنے ان کے گھر پہنچ گئی


    عمران خان نے کہا کہ یہ کریک ڈاؤن(کٹھ پتلیوں کی) ڈوریاں تھامنےوالوں پربھی سنجیدہ سوالات اٹھارہاہےمعیشت پہلےہی تباہی کے گڑھے میں اتر چکی ہے۔ ڈاکوؤں اور ان کے آقاؤں کومیں خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ یہ غیر جمہوری اور سفاکانہ اقدامات معاشی صورتحال میں مزید ابتری کے موجب بنیں گے اور ملک کو طوائف الملوکی کی جانب دھکیلیں گے۔


    انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کیخلاف پیپلزپارٹی، مسلم لیگ نواز اور جمعیت علمائے اسلام کے جلوسوں کو روکا گیا نہ ہی ہم نے ان کے کارکنان کے خلاف کسی قسم کی چھاپہ مار کاروائیاں کیں جب کہ ہمارے کارکنوں کے گھروں پر کریک ڈاؤن ان کے ہینڈلرز سے متعلق بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے ڈیموکریٹس اور کلپٹوکریٹس میں یہی تو فرق ہوتا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے خلاف 25 مئی کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد پولیس لا ہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق پولیس کی بھاری نفری نے گارڈن ٹاؤن لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر کے گھر پر چھاپا مارا تو وہاں یاسمین راشد سمیت دیگر رہنما موجود تھے ڈاکٹر یاسمین راشد نےگرفتاری سے بچنے کے لیے زمین پر بیٹھ کر دھرنا دے دیا تاہم پولیس حماد اظہر کی رہائش گاہ سے کسی پی ٹی آئی رہنما کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

    اس کے علاوہ پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ، یاسر گیلانی، سابق صوبائی وزیر چودھری اخلاق ،سعدیہ سہیل،پی ٹی آئی کےسابق سیکرٹری اطلاعات فرخ جاویدمون ،گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کے سینیررہنما صدیق مہر سمیت کئی دیگر رہنماوں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے-

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماگھر پر موجود نہیں تھے اس لیے ان کی گرفتاری نہ ہوسکی پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے لاہور سے اب تک 73 کارکنان کو حراست میں لے لیا ہے۔

  • ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید،ملزمان اسلحہ سمیت گرفتار

    ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید،ملزمان اسلحہ سمیت گرفتار

    لاہور: ماڈل ٹاؤن میں پاکستان تحریک انصاف ایکٹیوسٹ کیخلاف پولیس کے کریک ڈاؤن کے دوران فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق لاہور کےعلاقہ ماڈل ٹاؤن میں پاکستان تحریک انصاف کیخلاف پولیس کےکریک ڈاؤن کےدوران فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہوگیا-

    اب يہ وائٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے گا، مریم نواز

    کانسٹیبل کمال احمد کو سینے پر گولی لگی، زخمی کانسٹیبل کو طبی امداد کے لیے لاہور جنرل ہستپال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا پوسٹ مارٹم کے بعد نماز جنازہ کا علان کیا جائے گا-

    پولیس ریکارڈ کے مطابق کانسٹیبل کمال گرین ٹاون بلاک نمبر 3 کا رہائشی تھا کانسٹیبل کمال تھانہ ماڈل ٹاون میں فراض سرانجام دے رہا تھا کانسٹیبل کمال احمد ماڈل ٹاؤن میں تعینات تھا کمال احمد نے اپریل 2007 میں پولیس فورس جوائن کی تھی انہوں نے سوگواران میں 3 بیٹے 2 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

    وزیراعظم کی آج جے یو آئی کے ارکان پارلیمنٹ کو ظہرانے کی دعوت،ن لیگ کا اجلاس بھی…

    ڈی آئی جی آپریشنز بھی جنرل ہسپتال پہنچےڈی آئی جی آپریشنز سہیل چوہدری نے کہا کہ ماڈل ٹاون سی بلاک 112 میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ ساجد بخاری کے گھر کریک ڈاؤن کیا گیا، ریڈ پر مزاحمت کی گئی اور چھت سے2 فائر کیے گئے جواہلکا رکےسینے میں لگے، انہوں نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے اور اہلکار کو شہید کرنے والے کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا-

    ساجد بخاری

    ‏بریکنگ نیوز، پولیس حماد اظہر کو گرفتار کرنے ان کے گھر پہنچ گئی

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے حمزہ شہباز نے ہلاک ہونے والے اہلکار کے ورثاسے اظہار تعزیت کی اور کہا کہ فائرنگ کرنے والے افراد کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا قانون ہاتھ میں لینے والو ں کے خلاف بلا تفریق کارروائی عمل میں لائی جائے گی-

    عکرمہ بخاری
    پولیس نے ملزمان ساجد بخاری اور اسکے بیٹے اکرمہ کو گرفتار کر لیا اسلحے سمیت گرفتار کر لیا ہے پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ باپ بیٹا فائرنگ کا اعتراف کررہے ہیں، فرانزک کے بعد قاتل کی نشاندہی ہو جائے گی-

    ملتان میں پولیس کریک ڈاون ،پی ٹی آئی کے 70 سے زائد کارکنان گرفتار

    پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ پولیس کی جانب سے بوقت1:40 بجے رات بسلسلہ سرچ آپریشن کرایہ داری کیا گیا جب سی بلاک میں سید ساجد حسین بخاری کے گھر بیل دی گئی تو ساجد حسین نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا اس وقت میرے گھرکیوں آئے ہو ؟-

    ایف آئی آر کے مطابق جوابا پولیس نے بتایا کہ ہم کرایہ داری کے سلسلے میں سرچ آپریشن کر رہے ہیں جس پر دونوں باپ بیٹا طیش میں آگئے اور پولیس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور ساجد حسین نے اپنے بیٹے عکرمہ کو کہا کہ پولیس پارٹی پر سیدھی فائرنگ کرو جس پر عکرمہ نے جان سے مار دینے کی نیت سے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی جو ایک فائر گھر کے باہر کھڑے کا نسٹیبل کمال احمد کو سینے پر دائیں جانب لگا کمال احمد زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا ساجد حسین نے بھی اپنے دستی اسلحہ سے پولیس پر فائر نگ کہ جو ایک فائر سرکاری گاڑی نمبر LEG-1914 پر بھی لگا ہم نے سرکاری گاڑی اور دیوار کی اوٹ لے کر جانیں بچائیں-

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق عکرمہ بخاری اور سید ساجد حسین بخاری نے پولیس پر حملہ آور ہو کر جان سے مار دینے کی نیت سے سیدھی فائرنگ کر کے سرکار میں مزاحمت کرنے اور کانسٹیبل کمال احمد کو قتل کرکے سرکاری گاڑیبکو نقصان پہنچا کر اررکاب جرم 302/34/324/186/353/427ATA ت پ کا کیا ہے –

  • پنجاب میں پولیس افسران کے تبادلے

    پنجاب میں پولیس افسران کے تبادلے

    پنجاب میں پولیس افسران کے تبادلے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے اضلاع میں کئی افسران کا تبادلے کر دیئے ہیں

    پنجاب حکومت نے پولیس سروس گریڈ 20 کے آفیسر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ڈاکٹر محمد عابد خان کو تبدیل کرکے ریجنل پولیس آفیسر گوجرانوالہ، ان کے پیش رو ڈی آئی جی عمران احمر کو تبدیل کر کے او ایس ڈی بنا دیا ہے، انہیں ایس اینڈ جی اے ڈی میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    سٹی پولیس آفیسر فیصل آباد غلام مبشر میکن کو بھی تبدیل کر کے او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے جبکہ اے آئی جی ٹریننگ پنجاب پولیس سید علی ناصر رضوی کو تبدیل کر کے سٹی پولیس آفیسر فیصل آباد تعینات کیا کر دیا گیا ہے چیف کوآرڈی نیٹر فار لا اینڈ آرڈر اینڈ سیکیورٹی وزیر اعلی سیکرٹریٹ اختر فاروق اور سٹاف آفیسر ٹو وزیر اعلی پنجاب رانا عمر فاروق کو تبدیل کر کے او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے، دونوں کو محکمہ پولیس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

    قبل ازیں آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان کی صورتحال بارے سنٹرل پولیس آفس میں اہم اجلاس ہوا،اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے دیگر افسران نے شرکت کی

    دوسری جانب ایس ایس پی آپریشنزکیپٹن(ر) مستنصر فیروز نے کہا ہے کہ لاہور پولیس نے عوام کی سہولت کیلئے شہر کے داخلی وخارجی راستوں پر قائم ای پولیس چیک پوسٹوں پر باڈی کیم نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاہور پولیس کا یہ اقدام ناصرف امن وامان کا قیام یقینی بنائے گا بلکہ عوام اور پولیس کے درمیان بدسلوکی کے واقعات کی روک تھام بھی ممکن ہوسکے گی۔انہوں نے کہا کہ باڈی کیم کے ذریعے پولیس اہلکاروں کی شہریوں کے ساتھ گفتگو بھی ریکارڈکی جاسکے گی۔

    ایس ایس پی آپریشنزمستنصر فیروزنے کہا کہ لاہور پولیس کے اس اقدام سے جرائم پیشہ عناصر کی شناخت، جرائم کے تدارک اور بیخ کنی میں مدد ملے گی۔ لاہور پولیس کا یہ اقدام عوام کے محکمہ پر اعتماد کی بحالی کا باعث ہوگااور شہری کسی بھی واقعہ کی شکایت کا اندراج1787پر کروا سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ سینئرپولیس افسران براہِ راست اس اقدام کی مانیٹرنگ کریں گے اورتمام شکایات کے فوری ازالہ کیلئے موقع پراحکامات جاری کئے جائیں گے۔

    سابق شوہر نے شراب کی بوتل کے ساتھ جنسی زیادتی کی،ہالی ووڈ اداکارہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں

    بیوی نے بیٹی اورساتھیوں سے ملکر اپنے شوہر کو بیدردی سے قتل کردیا

    شاگرد سے زیادتی کرنے والا معلم گرفتار

  • پولیس افسران کے حکم پر گھر میں گھس کر شہریوں پر تشدد،مقدمہ جھوٹا ثابت،افسران کو بچانے کی کوشش

    پولیس افسران کے حکم پر گھر میں گھس کر شہریوں پر تشدد،مقدمہ جھوٹا ثابت،افسران کو بچانے کی کوشش

    پولیس افسران کے حکم پر گھر میں گھس کر شہریوں پر تشدد،مقدمہ جھوٹا ثابت،افسران کو بچانے کی کوشش
    لاہور 18 -19 اپریل 2022 کی درمیانی شب جوھِر ٹاون کے علاقہ G4 میں پرائیویٹ کمپنی مالک شوکت علی گل اور بیوی بچوں پر پولیس کے دو ایس پی حضرات کے ذاتی/ غیر قانونی حکم پر تھانہ بادامی باغ اور تھانہ جنوبی چھاؤنی سے بھیجے گئے بے وردی پولیس اہلکاروں کا گھر کی دیوار پهلانگ کر بدترین تشدد، توڑ پھوڑ ،اہم کاغذات لیپ ٹوپ بچے کا ٹیب اور موبائل فون چھین لئے ۔

    ۱۸-۱۹ اپریل ۲۰۲۲ کو پنجاب پولیس کے 2 ایس پی ( عیسی سکھیرا اور حفیظ بگٹی ) کے ذاتی حکم پر سادہ کپڑوں میں ملبوس بادامی باغ تھانے کے پولیس اہل کاروں اور SP کینٹ عیسی سکھیرا کے ذاتی گارڈ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے بغیر وارنٹ آدھی رات کو جوہر ٹاؤن کے علاقے G/4 میں گیٹ پھلانگ کر پرائیویٹ کمپنی کے مالک کے گھر کے تمام دروازے توڑتے ہوئے بیڈ روم کے اندر گُھس گئے، بیوی بچوں کے سامنے بیہامانہ تشدد کیا- لیپ ٹاپ ، بچے کا ٹیب، موبائلز چھین لیے، کمپنی کے مالک شوکت علی گل کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر تشدد کرتے ہوئے اور گھسیٹتے ہوئے پولیس ڈالے میں ڈال کر تھانہ جنوبی چھاؤنی میں لے گئے – جہاں جھوٹی FIR درج کی گئی،

    وردا فضل نامی ایک ہائی سوسائٹی گرل نے اپنے سابقہ شوہر سجاد ہاشمی جو کہ ایک کمپنی میں اعلی عہدے پر فائز ہے، کے خلاف دھمکیاں دینے کی ایک جھوٹی شکائت کراچی سے واٹساپ میسج پر اپنے دوست SP حفیظ بگٹی کے ذریعے SP کینٹ عیسی سُکھیرا کو بھجوائی ، جنہوں نے بغیر تحقیقات کئے FIR درج کرنے کا حکم دیا اور SP حفیظ بگٹی کی بادامی باغ سے بھیجے گئے سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اھل کاروں/غنڈوں کی ٹیم کے ساتھ تھانہ جنوبی چھاؤنی کے اھل کار بھیج دئے، پولیس کی اس غنڈہ بردار ٹیم نے بغیر کسی قانونی استحقاق کے پہلے سجاد ھاشمی جو کہ خود ایک کمپنی میں چیف آپریٹنگ آفیسر ہے، اسکو مورخہ ۱۸ اپریل رات کے ۹ بجے انکے دوست کے ساتھ ان کے آفس ڈیفنس فیز 6 سے زبردستی آنکھوں پر کپڑا باندھ کر تشدد کرتے ہوئے اُٹھایا اور ان کے بھی موبائل فون ، لیپ ٹاپ چھین لئے، اور تھانہ جنوبی چھاؤنی لے گئے-

    بعد ازاں بادامی باغ /جنوبی چھاؤنی تھانے اور ذاتی گارڈ کی اسی ٹیم نے رات کے ۱۲:۳۰ بجے سجاد ھاشمی کے بہنوئی شوکت علی گل جو کہ ایک پرائیویٹ کمپنی کے مالک بھی ہیں، اور جنکی کمپنی کیلئے وردا فضل HASCOL کی ملازمہ ہوتے ہوئے کام کرتی تھیں اور کروڑوں کا فراڈ کر گئیں، وردا فضل کے خلاف کمپنی کے مالک شوکت علی گل نے HASCOL کمپنی کے CEO عقیل خان کو مورخہ 7 اپریل2022 کو ایک خط بھی لکھا تھا، انھی اقدامات کی پاداش میں ہائی سوسائٹی گرل وردا فضل نے مبینہ طور پر اپنے حفیظ بگٹیSP کے ساتھ ناجائز تعلقات استعمال کرتے ہوئے SP عیسی سُکھیرا کے ساتھ اس تمام غیر قانونی آپریشن کا نہ صرف پلان کیا بلکہ کراچی سے بیٹھ کرآن لائن ویڈیوز کے زریعے ایک ایک ایکشن کو کنٹرول کیا-

    کمپنی کے مالک شوکت علی گل کے گھر آدھی رات کو دھاوا بولا گیا، ان کا لیپ ٹاپ، اور اسکے بیٹے کا ٹیب اور موبائل فونز اسی لئے قبضے میں لیے گے تاکہ کمپنی کا بزنس ریکارڈ ختم کیا جا سکے- رات کے 3 بجے شوکت علی گل اور سجاد ھاشمی کے دوست سہیل ظفر کو چھوڑ دیا گیا، جبکہ سجاد ھاشمی کو دوسرے دن SP عمران کھوکھر کے تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد چھوڑ دیا گیا کہ FIR جھوٹی ہے اور FIR میں درج کوئی وقوعہ ہوا ہی نہیں ہے –

    مورخہ ۲۲ اپریل ۲۰۲۲ کو ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر عابد نے پولیس کی اس کھلے عام غنڈہ گردی کا نوٹس لیتے ہوئے 7 پولیس اہلکار بشمول 2 ایس ایچ او تھانہ بادامی باغ عمران نیازی اور تھانہ جنوبی چھاؤنی سید وجیہہ کو معطل کر دیا اور تحقیقات کا حکم دے دیا – جھوٹی FIR 971/22 جنوبی چھاؤنی مکمل تحقیقات کے بعد خارج ہو چکی ہے-

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    11 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر بھارتی فوجی اہلکار گرفتار

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    مگر دوسری طرف متاثرین واقعہ کا موقف ہے کہ اس ساری واردات کے اصل کردار ایس پی حفیظ بگٹی اور ایس پی عیسی سُکھیرا کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور ان کے خلاف مکمل شہادتوں اور بیانات کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا جا رھا جبکہ اس واردات میی ملوث ایک اہم کردار جو کہ ایس پی عیسی سُکھیرا کا ذاتی گارڈ بتایا جاتا ہے، جسکے cctv فوٹیج اور تصاویر بھی موجود ہے، جو تمام تر تشدد میں پیش پیش رھا اور تشدد کی وڈیوز بنا کر SP حفیظ بگٹی اور وردا فضل کو بھیجتا رھا، اسکو بچا لیا گیا ہے، اور اسکے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ، وہ غنڈہ ابھی تک آباد ہے اور متاثرین ابھی تک حراساں ہیں -ایس پی حفیظ بگٹی جو کہ کراچی ٹرانسفر ہو چکا ہے، وہ خاندان کے دوسرے افراد خصوصی طور پر سجاد ھاشمی کے بڑے بھائی معروف سرجن ڈاکٹر پرویز محمود ھاشمی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رھا ہے – جسکے ثبوت موجود ہیں –

    متاثرین وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس پاکستان، آرمی چیف اور آئی جی پنجاب سے انصاف اور تحفظ کی اپیل کرتے ہیں، اور سوال کرتے ہیں کہ کیا ریاست ایس پی حضرات کے ذاتی احکامات کی غلام ہے؟ کیا ریاست قانون کی پابند نہیں؟ جو دفعات جھوٹی FIR میں لگائی گئیں ہیں، کیا ان کے تحت ریاستی مشینری، پولیس گردی، گھر میں گھسنا، تشدد، موبائلز لیپ ٹاپ بچے کا ٹیب لینا بنتا ہے؟ جو ابھی تک واپس نہیں کیا گیا-

    کیا ریاست ان ایس پی حضرات کے سامنے بے بس ہے، کیا ریاستی ادارے ان کو ٹھیکے پر دے دئے گئے ہے؟ اور ان کے ذاتی معاملات کی دیکھ بھال کیلئے کسی کو بھی بھینٹ چڑھایا جا سکتا ہے ؟ کیا طاقت کے نشے میں دھُت ان سول سروسز کے پولیس افسران کا کوئی احتساب کوئی پوچھ گُچھ نہیں ہے؟ کیا اس قسم کے افسران کو مستقبل میں ڈسٹرکٹ اور صوبے کا پولیس چیف لگایا جائے گا؟

  • سی سی پی او لاہور کا تبادلہ

    سی سی پی او لاہور کا تبادلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سی سی پی او لاہور کا تبادلہ کر دیا گیا ہے،

    بلال صدیق کمیانہ کو سی سی پی او لاہور تعینات کر دیا گیا،ترجمان لاہور پولیس کے مطابق سی سی پی او لاہور کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے، بلال صدیق کمیانہ کا تعلق پولیس سروسز کے 24 ویں کامن سے ہے،بلال صدیق کمیانہ مختلف اضلاع میں آر پی او،سی پی او اور ڈی پی او کے اہم عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں،بلال صدیق کمیانہ آر پی او فیصل آباد، آر پی او شیخوپورہ،سی پی او راولپنڈی تعینات رہ چکے ہیں،بلال صدیق کمیانہ ڈی آئی جی آر اینڈ ڈی،ڈی آئی جی سپیشل پروٹیکشن یونٹ بھی تعینات رہے

    سی سی پی او لاہور شہزادہ سلطان کو ایک ہفتہ بعد ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا ایک ہفتہ قبل شہزادہ سلطان کو سی سی پی او لاہور کا اضافی چارج دیا گیا تھا، آج انکو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاہور میں زیادتی کیسز میں مسلسل اضافہ،نوکری کی بہانے خاتون کے ساتھ ہوٹل میں زیادتی

    ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

    لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • پنجاب پولیس پردوان ڈیوٹی ٹک ٹاک کےاستعمال پر پابندی عائد

    پنجاب پولیس پردوان ڈیوٹی ٹک ٹاک کےاستعمال پر پابندی عائد

    لاہور: پنجاب پولیس نے اہلکاروں پر دوان ڈیوٹی ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کردی –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شکایت پورٹل پر دوران ڈیوٹی پولیس ملازمین کےٹک ٹاک استعمال کرنے کی شکایتیں سامنے آنے پر پنجاب پولیس نے دوران ڈیوٹی ملازمین کو ٹک ٹاک ایپلی کیشن کے استعمال پر پابندی عائد کر دی-

    پب جی گیم پر”پابندی”کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    اے آئی جی آپریشنز پنجاب کی طرف سے پنجاب بھر کے تمام آر پی اوز کو مراسلہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ یہ طرز عمل سوشل میڈیا پر محکمہ پولیس کی نرم شبیہ اور وقار کو مجروح کرتا ہے، عدم تعمیل کی صورت میں سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    علاوہ ازیں پنجاب پولیس نے محکمہ داخلہ پنجاب کو پب جی گیم بین کرنے کے حوالے سے سفارشات پیش کر دیں۔ مراسلہ ایڈیشنل آئی جی آپریشن کی جانب سے محکمہ داخلہ کو بھجوا دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ 19 تاریخ کو کاہنہ میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کے قتل کی وجہ آن لائن گیم پب جی بنا، پب جی گیم کے باعث ماضی میں بھی کاہنہ قتل کیس جیسے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

    کاہنہ میں ماں اور تین بچوں کے قتل کا ڈراپ سین،بیٹا ہی قاتل نکلا

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ تھانہ شمالی چھاونی، تھانہ جنوبی چھائونی، تھانہ کاہنہ اور تھانہ نواں کوٹ میں بپ جی گیم کے باعث قتل و اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے مقدمات درج ہیں، پب جی کو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کی جانب سے بین کر دینا چاہیے-

    واضح رہے کہ کاہنہ میں لیڈی ڈاکٹر اور اس کے تین بچوں کی ہلاکت پر محکمہ پنجاب پولیس نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو ایسی خطرناک وڈیو گیمز پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیاتھا جو نوجوانوں میں تشدد کے رجحانات کو فروغ رہی ہیں اور ان پر پابندی سے نوجوان نسل کو ان کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رہا جاسکے گا جس کے لئے لاہور پولیس نے پب جی گیم پر پابندی کے لیے آئی جی پنجاب سے درخواست کی تھی-

    آئی جی پنجاب کا پب جی گیم پر پابندی کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب کو خط

  • قصور سے لاپتہ بچے 3 ماہ بعد لاہور سے برآمد

    قصور سے لاپتہ بچے 3 ماہ بعد لاہور سے برآمد

    لاہور: صدر پولیس نے 12 سالہ شان اور 10 سالہ سلمان کو گارڈن ٹاؤن سے برآمد کرلیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق 3 ماہ قبل قصور سے لاپتہ ہونے والے دوکمسن بھائی لاہور سے برآمد ہوگئے، حکام کے مطابق تھانہ صدر پولیس نے 12 سالہ شان اور 10 سالہ سلمان گارڈن ٹاون سے برآمد کیا۔

    لاہور:داتا دربار سے 3 ماہ کی بچی اغوا

    پولیس نے بتایا کہ دونوں کمسن بھائی 11 نومبر کو اپنے والد کی ڈانٹ ڈپٹ سے دلبرداشتہ ہوکر گھر سے بھاگ گئے تھے، اور ان کے والد کی مدعیت میں ان کے اغواء کا مقدمہ تھانہ صدر قصور میں درج کیا گیا تھا-

    ایف آئی اے نےغیرملکی کرنسی پشاوراسمگل کرنےکی کوشش ناکام بنا دی

    آئی جی پنجاب نے بھی بچوں کی گمشدگی پر نوٹس لیا تھا، بچوں کی برآمدگی کے لئے ایس پی انویسٹی گیشن حافظ کامران اصغر، اے ایس پی رحمت اللہ اور ایس ایچ او ثقلین بخاری پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔

    سات سالہ بچی کو اغوا کے بعد قتل کرکے لاش درختوں میں لٹکا دی

    قبل ازیں گجرات پولیس نے ہسپتال سے اغواء ہونے والے نومولود بچے کو 2 گھنٹوں میں بازیاب کروا لیا تھا سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے اغواء کار خاتون کو گرفتار کر لیا گیا تھا گجرات کے ہسپتال سے نومولود بچہ اغواء ہو گیا تھا۔ جس کی رپورٹ بروقت تھانے میں درج کروائی گئی تھی ۔ ملزمان کی گرفتاری اور شناخت کے لئے وقوعہ کی CCTV فوٹیج سے مدد حاصل کی گئی تھی-

    ہندوستان :ریپستان بن گیا:اجتماعی زیادتی کیس میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد گرفتار

    ڈی پی او گجرات نے فوٹیج موصول ہونے پر تمام تھانہ جات کے ایس ایچ اوز کو ویڈیوکا بغور ملاخطہ کرنے کی ہدایت جاری کی تھی پولیس نے بڑی ذہانت سے اور بڑے ہی جدید انداز سے اس مجرم کو پکڑا اعلیٰ پولیس افسران نے بچے کو برآمد کرنے کے بعد اور اغوا کاروں کو گرفتارکرنے کے بعد جس پر نومولود بچے کو اٴْسکے اصل والدین کے حوالے کر دیا گیا۔جس پر بچے کے والدین نے ڈی پی او گجرات اور گجرات پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

    گجرات پولیس نے اغوا ہونے والا 2 سال کا بچہ بازیاب کروا لیا:اغوا کار کون؟سُن کرسب…

  • پب جی گیم پر”پابندی”کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پب جی گیم پر”پابندی”کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    آن لائن گیم "پب جی” پر پابندی کے لئے لاہور ہائی کوڑت یں درخواست جمع کرا دی گئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شہری تنویر احمد نے ندیم سرور کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ ،یں درخواست جمع کرائی درخواست گذار نے موقف اپنایا کہ کہ پاکستان میں "پب جی” گیم کے منفی اثرات کی وجہ سے کئی ہلاکتیں ہو چکی ہیں لاہور میں پب جی کے استعمال سے 14 سالہ لڑکے نے ماں بہن اور بھائیوں کو قتل کر دیا ہے-

    درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ پب جی کے استعمال سے نوجوان نسل کی ذہنی صحت اور زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں انڈیا میں آن لائین گیمز کو ریگولیٹ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں آن لائن گیمز کو ریگولیٹ کرنے کے لئے کو قوانین وضع نہیں کئے گئے-

    کراچی:ضلع وسطی میں 2 ماہ میں غیر قانونی تعمیرات ختم کرانے اورمتعلقہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے…

    درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ "پب جی ” گیم پر فوری پابندی عائد کی جائے اس درخواست پر پیر کے روز سماعت کا امکان ہے-

    دوسری جانب محکمہ پنجاب پولیس نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو ایسی خطرناک وڈیو گیمز پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو نوجوانوں میں تشدد کے رجحانات کو فروغ رہی ہیں اور ان پر پابندی سے نوجوان نسل کو ان کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رہا جاسکے گا۔

    بلدیاتی بل میں ترمیم:وزیراعلی سندھ نےکابینہ اجلاس طلب کر لیا

    پب جی گیم سے فائرنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث لاہور کے علاقے کاہنہ میں بیٹے نے اپنی ماں، بھائی اور دو بہنوں کی جان لے لی ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق والدہ اور تین بچوں کے قتل کا معمہ حل ہوچکا ہے، پب جی گیم کا عادی بیٹا ہی قاتل نکلا۔


    محکمہ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ’پب جی‘ جیسی گیموں کی وجہ سے فائرنگ کے کئی واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں، اسی لیے محکمہ پولیس نے اس طرح کی گیمز پر پابندی کے لیے حکومت سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

     

    کاہنہ میں ماں اور تین بچوں کے قتل کا ڈراپ سین،بیٹا ہی قاتل نکلا

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پابندی سے متعلق سفارشات دینے کا فیصلہ گزشتہ ہفتے لاہور کے علاقے کاہنہ میں ہونے والے واقعے کے تناظر میں کیا گیا ہے، افسوسناک واقعے میں 14 سالہ لڑکے نے گیم سے بُری طرح سے متاثر ہوکر اپنے خاندان کے چار افراد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، مقتولین میں لڑکے کی ماں اور 3 بہن بھائی شامل تھے، لڑکے کی ماں ناہید مبارک لیڈی ہیلتھ ورکر تھیں۔

    ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پٹرول میں اضافے کا امکان

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے مطابق 18 سالہ علی زین پب جی گیم کا عادی تھا، ملزم نے گھر میں موجود والدہ کے پسٹل سے ماں، بہنوں اور بھائی کو قتل کیا، خونی کھیل کوانجام دینے کے بعد قاتل ٹاسک مکمل ہونے کے نشہ میں گھر کے نچلے حصہ میں آکر چین کی نیند سوگیا اور پولیس تحفظ کی یقین دہانی کے باوجود علی زین منظر سے غائب ہوگیا تھا، اسے مقتولین کی تدفین کے بعد سے حقیقی خالہ نے فیصل آباد کے قریب گاؤں میں چھپا کر رکھا ہوا تھا زین علی کو پب جی کی لت ہوسٹل میں رہنے والے طلبہ سے لگی۔


    ترجمان پولیس نے بتایا کہ علی زین کو پولیس نے ماہمونوالی گاؤں سے تلاش کیا، دوران تفتیش ملزم نے اعتراف کیا کہ پب جی گیم میں بار بار شکست کی وجہ سے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوا، ملزم نے یہ سوچ کر گولیاں چلائیں کہ گیم کی طرح سب دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔

    اسلام آباد ائیرپورٹ سےبیرون ملک منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’پب جی‘ نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے بہت خطرناک گیم ہے کیونکہ اس گیم کو زیادہ کھیلنے والے اس میں دیے گئے اہداف اور ٹاسک کو مکمل کرتے کرتے بہت زیادہ جارح مزاج ہوجاتے ہیں انسپکٹر جنرل پولیس کی طرف سے والدین سے درخواست کرتے ہوئے ترجمان محکمہ پولیس پنجاب کا کہنا تھا والدین اپنے بچوں کی نگرانی کریں اور ان کو کسی بھی منفی سرگرمی میں مشغول ہونے سے روکیں۔

    واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب پولیس راو سردار علی احمد خان نے خاندان کو قتل کرنے کے واقعے کا نوٹس لیا ہے اور لاہور پولیس کو کیس کو حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    امریکا میں 6 روز میں ایک ہی اسٹور کو تین مرتبہ لوٹنے والا ڈاکو چوتھی بار گرفتار

    واضح رہے کہ رواں برس 19 جنوری کو لاہور کے علاقے کاہنہ گجومتہ میں واقع ایک گھر سے خاتون اور اس کے تین بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھی، جاں بحق ہونے والوں میں ماں، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے، چاروں کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔

    بعد ازاں انکشاف ہوا کہ واردات میں بچ جانے والا بیٹا ہی اپنے بہن بھائی اور ماں کا قاتل تھا، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے اس سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا اور ملزم نے اعتراف جرم بھی کرلیا۔

    واضح رہے کہ آن لائن گیمز سے متعلق یہ اس طرح کا چوتھا واقعہ ہے جب اس طرح کا پہلا واقعہ 2020 میں سامنے آیا تھا تو اس وقت کے کیپیٹل سٹی پولیس چیف ذوالفقار حمید نے لوگوں کی زندگیاں، وقت اور لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل بچانے کے لیے اس طرح کی گیمز پر پابندی کی سفارش کی تھی۔

    گزشتہ دو سالوں کے دوران ’پب جی‘ گیم کھیلنے والے تین نوجوان خودکشیاں کر چکے ہیں اور پولیس نے اپنی رپورٹ میں اموات کی وجہ گیم کو قرار دیا تھا۔

    بنوں میں شادی کی تقریب میں فائرنگ سے خواجہ سرا جاں بحق،3 افراد زخمی

  • دوسری شادی کی خواہش پر بیوی نے شوہر کو قتل کردیا

    دوسری شادی کی خواہش پر بیوی نے شوہر کو قتل کردیا

    راولپنڈی: دوسری شادی کی خواہش پر بیوی نے شوہر کو قتل کردیا اور موقع سے فرار ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق 50 سالہ مقتول ذوالفقار علی دوسری شادی کرنا چاہتا تھا جس پر بیوی روبینہ نے فائرنگ کرکے اسے قتل کردیا اور موقع سے فرار ہوگئی۔

    سی پی او راولپنڈی عمر سعید ملک نے قتل واردات کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ صدربیرونی کو فوری ملزمہ کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

    دوسری شادی کی خواہش، بیوی نے شوہر کی انگلیاں توڑ دیں

    قبل ازیں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ایک خاتون نے دوسری شادی کی خواہش پر اپنے شوہر کی انگلیاں توڑ دیں تھیں متحدہ عرب امارات کی ریاست الفجیرہ میں میاں بیوی کے درمیان معمولی سے بات پر جھگڑا ہوگیا، دونوں نے ایک دوسرے کو زدوکوب کیا اور مارا پیٹا شوہر نے تھپڑ مارا جس کی وجہ سے اس کی بیوی کی سماعت پر فرق پڑا اور اسے سننے میں مشکلات پیش آنے لگیں اس دوران بیوی نے خود کو کمرے میں بند کرلیا شوہر نے دروازہ توڑنے کی کوشش کی جس پر مشتعل بیوی نے اچانک دروازہ کھول کر شوہر کی انگلیاں پھنسا دی۔

    حسنین شاہ کو کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کرائے جانے کا انکشاف

    دروازے میں ہاتھ آنے سے شوہر کی انگلیوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور ایمرجنسی میں اسپتال جانا پڑا اس دوران بیوی تھانے پہنچ گئی اور شوہر کیخلاف مقدمہ درج کرانے کی درخواست کی جس پر پولیس نے بتایا کہ آپ کے شوہر نے پہلے ہی آپ پر مقدمہ کر رکھا ہے وہ اپنے شوہر کے دوسری عورت سے شادی کرنے کے فیصلے اور اسے ازدواجی حقوق دینے سے انکار پر طیش میں آگئی تھی۔

    پولیس نے دونوں کو گرفتار کرکے فیملی کورٹ میں پیش کیا متحدہ عرب امارات کی فوجداری عدالت نے ایک 25 سالہ ایشیائی خاتون کو دوسری عورت سے شادی کرنے کے بارے علم ہونے پر شوہر کی انگلیاں توڑنے کے جرم میں 6 ماہ قید اور ملک بدری کی سزا سنائی –

    گجرات پولیس نے اغوا ہونے والا 2 سال کا بچہ بازیاب کروا لیا:اغوا کار کون؟سُن کرسب…

    اس سے قبل پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں شوہر نے بیوی پر تیزاب پھینک دیا تھا ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر محمد عابد خان نےواقعہ کا نوٹس لیا اور ایس پی سٹی حفیظ الرحمان بگٹی کی قیادت میں شفیق آباد پولیس نے بروقت کاروائی کی، شفیق آباد پولیس نے کاروائی کرتے واقعہ میں ملوث ملزم عاقب کو گرفتار کر لیا .ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ گھریلو ناچاقی لڑائی جھگڑا پر پیش آیا,زخمی خاتون کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا جو علاج معالجہ کے بعد گھر واپس آ گئی ،ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے، ایس پی سٹی حفیظ الرحمان بگٹی کا کہنا ہے کہ خواتین پر تشدد اور جنسی استحصال کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے,

    ہائی کورٹ نے ریپ کیس میں متاثرہ کمسن بچی کا بیان بھی قابل تسلیم گواہی قراردیا