Baaghi TV

Tag: پنجاب کالج

  • پنجاب کالج ، ریپ کے الزامات میں بظاہر کوئی صداقت نہیں،ایچ آر سی پی

    پنجاب کالج ، ریپ کے الزامات میں بظاہر کوئی صداقت نہیں،ایچ آر سی پی

    پنجاب کالج میں ریپ کے الزامات میں بظاہر کوئی صداقت نظر نہیں آ رہی

    پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) اور اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل کے مشترکہ فیکٹ فائنڈنگ مشن کا کہنا ہے کہ فورینسک شواہد اور قابل بھروسہ شہادتوں کی عدم موجودگی میں یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اکتوبر 2024 کے اوائل میں لاہور کے ایک نجی کالج میں ایک طالبہ کے ریپ کے الزامات حقیقت پر مبنی تھے۔ اس حوالے سے پیش آنے والے کئی واقعات نے پنجاب کالج کے کیمپس نمبر 10 کے طالبعلموں میں شبہات اور بداعتمادی کی فضا پیدا کر دی تھی جیسے کہ سوشل میڈیا پر ریپ کے غیرمصدقہ دعووں سے متعلق مواد کی تشہیر، سرکاری نمائندوں کے متضاد بیانات ( جنہوں نے پہلے الزامات کی تصدیق اور بعد میں تردید کی)، اور الزامات پر کالج انتظامیہ کا تاخیری اور غیرمعقول ردعمل ہے،

    مشن نے 14 اکتوبر کو کیمپس 10 میں سینکڑوں طالبعلموں کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔ ان طالبعلموں نے مبینہ ریپ کا نشانہ بننے والی طالبہ کے لیے ‘انصاف’ کا مطالبہ کرنے کے لیے بہت بڑے احتجاج کا اہتمام کیا تھا تاہم اس پر انہیں پولیس تشدد کا نشانہ بننا پڑا۔البتہ، آن لائن پلیٹ فارمز پر بہت زيادہ شورو غل سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ دیگر فریقین نے طالبعلموں کے بیانیے کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے اور سوشل میڈيا پر اپنا دائرہ کار بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ مشن کے مشاہدے کے مطابق، طالبعلموں کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کی صورت حال اور جنسی ہراسانی کے مسلسل واقعات اور متاثرین ہی کو مورد الزام ٹھہرانے کی روش سے بہت زيادہ نالاں ہیں۔ مسئلے کے حل کے لیے کیمپس کے منتظمین کی بظاہر عدم دلچسپی اور پولیس و کالج انتظامیہ پر شدید بداعتمادی نے حالات کو اور زيادہ خراب کیا ہے۔مشن کا کہنا ہے کہ طالبعلموں کے غصّے کو محض اس وجہ سے نظرانداز نہیں کر دینا چاہیے کہ وہ من گھڑت معلومات ملنے کی وجہ سے مشتعل تھے۔ تاہم، من گھڑت معلومات کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے پیش نظر یہ بھی ضروری ہے کہ ڈیجیٹل خواندگی اور حقائق کا ادراک آسان بنانے کے لیے باقاعدگی کے ساتھ عوامی سطح پر ایک سے زیادہ نتیجہ خیز شعوری مہم چلائی جائے۔

    دیگر سفارشات کے ساتھ ساتھ، مشن یہ تجویز بھی پیش کرتا ہے کہ کیمپس 10 پر اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دورانیے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فورینسک معائنہ کروایا جائے۔ علاوہ ازیں، طالبعلموں پر تشدد کرنے اور مبینہ جرم کے الزام میں ایک شخص کو ایف آئی آر کے بغیر حراست میں رکھنے پر پولیس کا محاسبہ کیا جائے۔ تاہم، مشن کا پرزور مطالبہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں ہراسانی اور جنسی تشدد کے الزامات کو ہمیشہ سنجیدہ لیا جائے اور تمام تعلیمی اداروں میں انسداد ہراسانی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو حقِ رازداری کی حفاظت کے ساتھ طالبعلموں کی دسترس میں ہوں۔

    پنجاب میں سوشل میڈیا کے جھوٹے دعوے کا سراغ، نئی جے آئی ٹی تشکیل

    پنجاب کالج مقدمہ،خاتون صحافی مقدس فاروق اعوان نے ضمانت کروا لی

    پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

  • پنجاب کالج مقدمہ،خاتون صحافی مقدس فاروق اعوان نے ضمانت کروا لی

    پنجاب کالج مقدمہ،خاتون صحافی مقدس فاروق اعوان نے ضمانت کروا لی

    صحافی و کالم نگار مقدس فاروق اعوان کی پنجاب کالج مبینہ جنسی زیادتی کے مقدمے میں عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ہے

    خاتون صحافی مقدس فاروق اعوان اردو پوائنٹ سمیت کئی اداروں میں کام کر چکی ہیں، پاکستان کے قومی اخبارات میں بھی انکے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں، مقدس فاروق اعوان سوشل میڈیا پر بھی متحرک رہتی ہیں، ایف آئی اے کی جانب سے پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس میں سوشل میڈیا پر پوسٹیں کرنے کی وجہ سے مقدس فاروق اعوان پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا،اردو پوائنٹ کے ذیشان عزیز پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، ذیشان عزیز اور مقدس فاروق اعوان نے درج مقدمے میں ضمانت منظور کروا لی ہے،دوسری جانب پولیس نے مقدس فاروق اعوان کے گھر پر چھاپے بھی مارے ہیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مقدس فاروق اعوان نے پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کی شاید واحد خاتون صحافی ہوں جو رات گئے گھر پر چھاپے اور مقدمات کا سامنا کر رہی ہوں، عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر لی ہے

    صحافی مغیث علی ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہتے ہیں کہ افسوسناک صورتحال، ایک خاتون صحافی کے گھر چھاپے مارے جارہے ہیں، آوازیں دبانےکیلئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال ہورہےہیں، ہمارے پیارے دوست جو اس وقت خوش ہیں اور جبر کا سامنا نہیں کررہے انہیں یاد رکھنا چاہئے ہوائیں ایک جیسی نہیں رہتیں، وقت بدلتا ہے،ضرور بدلے گا،کم از کم سانس لینے کی آزادی تو دیں، یا سانس بھی چھیننا چاہتے ہیں؟ عدلیہ کا شکریہ کہ وہ اس گھٹن زدہ ماحول میں آخری اُمید ہے، بہادر ججز کو سلام۔۔۔!!!

    قبل ازیں گزشتہ روز لاہور کی سیشن عدالت نے پنجاب کالج میں جنسی زیادتی کے واقعہ پر فیک نیوز پھیلانے کے الزام میں درج مقدمے میں سینئر تجزیہ کار و رکن قومی اسمبلی ایاز امیر کی ضمانت منظور کر لی ہے

    علاوہ ازیں پنجاب کالج پروپیگنڈہ ریپ کیس میں پولیس نے سوشل میڈیا پرمہم چلانے والے 16 افراد گرفتار کرلیے ہیں، فیک نیوز پھیلانے والے 138اکاؤنٹس بلاک کروائے گئے ہیں جبکہ توڑپھوڑ اور تشدد میں 40 طلبہ ملوث تھے جن کی شناخت کرلی گئی ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا،

    پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

  • زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار

    لاہور میں نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی غیرمصدقہ خبر وائرل ہونے کے معاملے پر متاثرہ طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے ملزمہ سارہ خان کو کراچی سے حراست میں لے کر لاہور منتقل کیا جبکہ تھانہ گلبرگ میں ملزمہ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔پولیس کے سامنے ملزمہ نےاعتراف کیا کہ صرف سوشل میڈیا پر ویوز لینے کے لیے ویڈیو اپ لوڈ کی تھی جبکہ ملزمہ کو آج بیان قلمبند کروانے کے لیے جے آئی ٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے کیوں اور کس کے کہنے پر وڈیو اپ لوڈ کی اس حوالے سے تفتیش ہوگی جبکہ غیرمصدقہ خبر پھیلانے پر اب تک مجموعی طور پر چار مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔واضح رہے کہ 14 اکتوبر کو لاہور کے نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی جس کے طلبہ و طالبات مشتعل ہوکر سڑکوں پر نکل آئے تھے اور مذکورہ کالج میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا تھا، اس دوران پولیس سے جھڑپوں میں 27 طلبہ زخمی ہوگئے تھے۔پولیس نے سراپا احتجاج طلبہ کی نشاندہی پر نجی کالج کے ایک سیکیورٹی گارڈ کو حراست میں لے لیا تھا، تاہم بعدازاں اس خبر کے جھوٹا ہونے کی اطلاعات زیر گردش کرنے لگی تھیں۔اس کے بعد اے ایس پی بانو نقوی نے متاثرہ طالبہ کے مبینہ والد اور چچا کے ساتھ ایک وڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں اے ایس پی کے ساتھ کھڑے ایک شخص نے کہا تھا کہ لاہور کے نجی کالج میں پیش آئے واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں، جن میں ان کی بچی کا نام لیا جارہا ہے لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے، ہماری بچی گھر کی سیڑھیوں سے گری، جس سے اس کی کمر پر چوٹ آئی ہے اور اسے آئی سی یو لے جایا گیا۔اس کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب نے طالبہ سے زیادتی کی غیر مصدقہ خبر سوشل میڈیا پر پھیلانے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جعلی خبر پھیلانے میں ملوث عناصر کےخلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ سازش کامیاب ہوجاتی تو کئی جانیں جاسکتی تھیں، سازش کے تمام تانے بانے کھل کر میرے سامنے آگئے ہیں، سوشل میڈیا پر جھوٹ کی فیکٹریوں کو اب بند ہونا چاہیے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا تھا کہ 10 اکتوبر کو ایک بچی کا نام لیا گیا کہ وہ ریپ کا شکار ہوئی ہے لیکن وہ بچی 2 اکتوبر سے اسپتال میں داخل ہے، وہ بچی کہیں گری اور بری طرح زخمی ہونے کے بعد آئی سی یو میں داخل ہے۔

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار

    امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

    بی این پی کے منحرف سینیٹر قاسم رونجھو مستعفی ہو گئے

    پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

  • پنجاب کالج معاملہ،جھوٹی خبریں پھیلانے والے 4ملزمان گرفتار

    پنجاب کالج معاملہ،جھوٹی خبریں پھیلانے والے 4ملزمان گرفتار

    پنجاب کالج معاملہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

    واقعہ سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف تحقیقات کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنادی گئی ہے،ٹیم پنجاب یونیورسٹی کے ہوسٹل میں ہلاک ہونے والی طالبہ کے واقعے پر جھوٹی خبروں کی تحقیقات بھی کریگی،کمیٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور کی قیادت میں تمام اکاونٹس کی تحقیقات چھان بین کریگی، ڈائریکٹر سائبرآپریشن ایف آئی اے لاہوربھی اس کمیٹی کا حصہ ہونگے،ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ چارملزمان جھوٹی خبریں پھیلانے کےالزام میں گرفتارکئے گئے ہیں،ایک ملزم سرکاری ملازم ہے ، انکوپارلیمنٹ سے گرفتارکیا گیا ہے، اڑتیس ملزمان کیخلاف مقدمہ درج ہوچکا ہے،لاہور ہائیکورٹ نے بھی ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا

    پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    پنجاب کالج ریپ کیس کا ڈراپ سین،پنجاب کالج لاہور میں ریپ کا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ جعلی واقعہ بنا کر جعلی اکاؤنٹس سے پھیلایا گیا اور طلباء میں شرپسند عناصر کو گھسا کر اشتعال انگیزی کی گئی۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ منظرعام پر آ گئی۔

    چیف سیکرٹری پنجاب ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، سیکرٹری داخلہ ،سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ،سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن نے رپورٹ مرتب کی،کمیٹی نے سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش کر دی،کمیٹی رپورٹ کے مطابق معاملے کو سوشل میڈیا پر پوسٹوں کے ذریعے اچھالا گیا، سوشل میڈیا کی پوسٹوں میں کوئی ٹھوس شواہد نہیں تھے، ہرپوسٹ سنی سنائی باتوں اور افواہوں پر مبنی تھی ، اطلاع ملنے پر پولیس نےکالج انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا، پولیس نے اس بیسمنٹ کا معائنہ بھی کیا جس کا مبینہ واقعے میں ذکر کیا گیا، پولیس نے سی سی ٹی وی ویڈیوز اور دیگر ریکارڈنگ دیکھیں، پولیس نے سی سی ٹی وی ویڈیوز اور دیگر ریکارڈنگ تحویل میں بھی لیں،تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم گارڈ چھٹی لے کرگیا ہوا ہے،کالج میں اس کی چھٹی کی درخواست بھی موجود تھی، من گھڑت اسٹوری کے لیے مخصوص طلبہ کا ویڈیو پیغام باربار استعمال کیا گیا، اس لڑکی نےکمیٹی کو بتایا کہ وہ کیمپس 10 کی اسٹوڈنٹ ہی نہیں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے معاملات کو ہینڈل کیا، بے بنیاد خبر پھیلانے کا مقصد امن و امان کی صورتحال خراب کرنا تھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالب علموں کو اپنے معاملات مثبت انداز میں لینے کی ضرورت ہے،طالب علموں کو منفی اور مثبت سرگرمیوں میں فرق کرنے کی ضرورت ہے،طالب علموں کو فیک نیوز فلٹر کرنے میں رہنمائی دینے کی ضرورت ہے،والدین اپنے بچوں کا استحصال نہ ہونے دیں،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے کی ضرورت ہے،کمیٹی نے سوشل میڈیا پر مبینہ واقعے پر نفرت انگیز معاملے کی مزید تفتیش کی سفارش کر دی،رپورٹ میں کہا گیا کہ انفلوئنسرز اور وی لاگرز کو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے سے روکنے کی ضرورت ہے، فیک نیوز پھیلانے کیلئے جعلی سوشل میڈیا اکائونٹس استعنال کیے گئے،فیک نیوز کے ذریعے معصوم طالب علموں کو نشانہ بنایا گیا،اس واقعے سے فیک نیوز کے ذریعے اشتعال پھیلانا بھی ثابت ہوتا ہے، حکومت کو متاثرہ خاندان کی عزت کی بحالی کیلئے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ پر چیف سیکرٹری پنجاب سمیت تمام افسران کے دستخط موجود ہیں،کمیٹی نے 15 اور 16 اکتوبر کو ریکارڈ کیے گئے 16 افراد کے بیانات کو اہم قرار دیا ،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران، اے ایس پی گلبرگ شاہ رخ خان، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر شاید وحید کے بیانات ریکارڈ کیے گئے،جنرل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر فریاد حسین اور ڈی ایم ایس ڈاکٹر وقاص یاسین ، ایور کیئر ہسپتال کے کرنل ریٹائرڈ صابر حسین بھٹی اور اتفاق ہسپتال کے واصف بیانات ریکارڈ کیے گئے،کمیٹی نے جنرل ہسپتال کے عملے سے رواں ماہ جنسی زیادتی سے متعلق آنے والے مریضوں سے متعلق بھی تفتیش کی

    دوسری جانب پنجاب کالج مبینہ زیادتی واقعہ پر احتجاج کی تحقیقات کے لئےبنائی گئی جے آئی ٹی نے ڈس انفارمیشن پھیلانے والوں کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے،محکمہ داخلہ کی جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ہوا، اجلاس میں پولیس اور حساس اداروں کے نمائندے شریک ہوئے،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں شیئر کرنے والوں کا ڈیٹا اکھٹا کیا جائے گا اور اس ڈیٹا کی روشنی میں ویڈیو اور پوسٹیں شیئر کرنے والوں کو جے آئی ٹی میں بلایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں طالبہ سے متعلق وائرل خبرکی تحقیقات کیلئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی سربراہی میں 6 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی،جے آئی ٹی میں تین پولیس اور تین حساس اداروں کے نمائندے شامل ہیں جبکہ جے آئی ٹی تھانہ ڈیفنس اے میں درج مقدمے کی تفتیش کر رہی ہے۔

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • ہر بچہ کہہ رہا تھا  زیادتی ہوئی  مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    لاہور ہائیکورٹ،تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی

    آئی جی پنجاب عثمان انور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ لا افسر صاحب آپ بتائیں اس میں کیا کیا ، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پوسٹ میں کہا گیا نجی کالج کی لڑکی کے ساتھ ریپ ہوا ،مختلف گروپس میں یہ خبر فوری پھیلی،کیمپس 10 کی بچیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کی جب بچیوں کو محفوظ کرنے کے لیے اوپر کلاسز میں روکا گیا تو پھر ایک نئی بات شروع ہو گئی ،یہ واقع نو اور دس اکتوبر کا ہے ، ایک بچی گھر میں گری اور اسکو جنرل ہسپتال میں لایا گیا ،گیارہ اکتوبر کو یہ بچی ڈسچارج ہوتی ہے اور گھر آتی ہے ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی پنجاب کہاں ہیں ؟ ڈی آئی جی فیصل کامران نے کہا کہ وہ عدالت سے باہر ہیں، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ وہ عدالت سے باہر کیوں ہیں ؟

    آئی جی پنجاب عدالت میں پہنچ گئے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ عدالت کے وقت آپ باہر کیوں تھے؟ویڈیوز کو روکنے کا کام آدھے گھنٹے کا تھا، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی اتھارٹی نہیں ہے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ کیا آپ کسی اتھارٹی کے پاس گئے؟ آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم پی ٹی اے کے پاس گئے،یہ ویڈیوز 13, 14 اکتوبر کو وائرل ہونا شروع ہوئیں، سی ٹی ڈی نے 114 اکاؤنٹس کی شناخت کی، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ کو فوراً ایف آئی اے سے رابطہ کرنا تھا، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے فورا ایف آئی اے سے رابطہ کیا،پولیس نے 700 سے زائد اکاؤنٹس کی شناخت کی، انگلینڈ میں بھی اپلوڈ روکنے کی طاقت نہیں ہے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ وہاں کی بات مت کریں، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے وزارت داخلہ سے بات کی، انہیں مراسلے لکھے، 700 سے زائد اکاؤنٹس پر یہ ویڈیوز چل رہی تھیں،ان کو بند کرنے کا اختیار پی ٹی اے کے پاس ہے،ہمارے پاس جتنی اتھارٹی ہے، ہم اس پر کام کرنا شروع ہو گئے تھے،ہم نے کچھ اکاؤنٹس کی شناخت کی، وہ ابھی تک ڈیلیٹ نہیں ہوئے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر ارادہ ہو تو سارے کام ہوتے ہیں، آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمارا کیوں ارادہ نہیں تھا،

    ہم جسے گرفتار کرتے ہیں وہ اگلے دن ہیرو بن جاتا ہے،سرکاری وکیل کی پنجاب کالج بارے فیک نیوز دینے والے ملزم کی رہائی پر مایوسی
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا حکومت پنجاب نے اس حوالے سے کچھ کیا ؟ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ اپلوڈ ہوئی کہ نجی کالج میں ایک طالبہ سے مبینہ زیادتی کا واقعہ ہوا ہے،علاقے کے اے ایس پی کالج پرنسپل سے ملے، سی سی ٹی وی چیک کیا، ہر بچہ کہہ رہا تھا کہ زیادتی ہوئی ہے مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے،دوسرے کیمپس کے بچے بھی اس کیمپس پہنچ گئے،ایک منظم طریقے سے یہ سب کچھ ہوا،صرف یہ ایک بچی ہسپتال نہیں آرہی تھی تو کسی نے کہا کہا کہ ہمیں زیادتی کا شکار بچی مل گئی ہے،صرف اس بنا پر کہ بچی کالج نہیں آ رہی اسے زیادتی کی افواہ سے جوڑ دیا گیا ہے، اگر آپ کہیں گے تو میں آپ کی اس بچی سے ملاقات کروا سکتا ہوں،ایک اور صاحب نے جو خود کو وکیل کہتے ہیں ان بچیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ویڈیو بنائی، اس وکیل کو مجسٹریٹ کی جانب سے مقدمے سے بری کر دیا گیا، مقدمے سے بری کرنے کا نیا رواج چل پڑا ہے،ہم جسے گرفتار کرتے ہیں وہ اگلے دن ہیرو بن جاتا ہے، ہم شاید اتوار کے دن تعین نہیں کرسکے کہ اتوار کو کیا ہونے جا رہا ہے، ہمارے حوالے سے کچھ ناکامیاں ضرور ہیں۔

    اس وقت جو بچے سڑکوں پر ہیں کیا وہ اس اسٹیٹ آف مائنڈ میں ہیں کہ دوبارہ کالج آسکیں،عدالت
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ ایک منظم طریقے سے ہوا مگر جب یہ ہوا موقع پرستوں نے فائدہ اٹھایا، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں ہراسانی کی کتنی شکایات ہیں؟ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ 14 اکتوبر کو ایک بچی نے ہراسانی کی درخواست دی،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ اس شخص کے خلاف کتنی شکایات ہیں؟رجسٹرار لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے جواب دیا کہ اس شخص کے حوالے سے ایک ہی شکایت ہوئی ہے، ہم نے مذکورہ شخص کو معطل کر دیا ہے، ہماری ہراسمنٹ کمیٹی بہت عمدہ طریقے سے کام کر رہی ہے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سوال کیا کہ اس شخص کے پاس طالبہ کا نمبر کیسے آیا؟رجسٹرار نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی یہ ہے کہ وہ نمبر مذکورہ شخص کا نہیں تھا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتی ہیں، کوئی ڈاکومنٹ دیں،رجسٹرار یونیورسٹی نے کہا کہ ہم اس حوالے سے رپورٹ جمع کروائیں گے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ آج بھی کوئی کہتا ہے کہ اس نے یہ واقعہ ہوتے دیکھا ہے تو اس عدالت میں پیش ہو، جو نقصان ہوا ہے کالج کی بلڈنگ کا اس کو کیا والدین پورا کریں گے، اگر کسی بات کا غصہ ہے تو سب سے پہلے اپنا گھر توڑیں،ایک فیک نیوز پر اگر ایسا ہوا تو انتہائی افسوس ناک ہے، بچوں کے مستقبل کا سوچیں، بچوں کا مستقبل خرابی کی طرف جارہا ہے، بچوں کی تعلیم کا بہت بڑا نقصان ہورہا ہے،ایک دن چھٹی ہو جائے تو تعلیمی شیڈول میں اس کو ریکور نہیں کیا جاسکتا،اس وقت جو بچے سڑکوں پر ہیں کیا وہ اس اسٹیٹ آف مائنڈ میں ہیں کہ دوبارہ کالج آسکیں،ایسے لگتا ہے کہ ایک ماہ تک بچے کالجز کا رخ نہیں کریں گے، کیا والدین دوبارہ بچوں کو کالجز بھیج پائیں گے؟ بچوں کے مستقبل کا سوچیں، فوری ایکشن لیں جہاں طالبات موجود ہیں وہاں مردوں کو موجودگی ممنوع کریں،والدین کا بھروسہ دوبارہ بحال کیجیے۔

    ڈی جی ایف آئی اے پنجاب یونیورسٹی خودکشی، پنجاب کالج زیادتی اور لاہور کالج ہراسگی شکایت کیس کی تحقیقات کرینگے،عدالت
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ یہ کیس بہت اہم ہے اس پر فل بنچ بنا رہے ہیں ،فل بنچ منگل سے کارروائی سماعت کریگا،سرکاری وکیل نے کہا کہ ہمیں پیر کا دن دے دیں تاکہ مکمل رپورٹ پیش کی جا سکے.عدالت نے ڈجی ایف آئی اے کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی،ڈی جی ایف آئی اے اس معاملے کی تحقیقات کرینگے،عدالت نے کہا کہ یہ کالج انتظامیہ کا فیلئر ہے،لڑکی کا بیان لیا جائے ،آگر یہ علم ہوا کہ لڑکی کا بیان لینے کیلئےدباؤ ڈالا گیا تو پھر نتائج کیلئے تیار رہیں. ڈی جی ایف آئی اے پنجاب یونیورسٹی خودکشی پنجاب کالج زیادتی اور لاہور کالج ہراسگی شکایت کیس کی تحقیقات کرینگے۔یہ دیکھنا ہے کہ آخر یہ بندہ کون ہے کہاں سے آیا، لاہور ہائیکورٹ کا فل بنچ ان حالیہ واقعات اور سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلنے کے حوالے سماعت کرے گا،منگل کے روز فل بنچ ان کیسز پر سماعت کرے گا، عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • طالبہ مبینہ زیادتی احتجاج، گجرات میں تشدد سے کالج کا گارڈ جاں بحق

    طالبہ مبینہ زیادتی احتجاج، گجرات میں تشدد سے کالج کا گارڈ جاں بحق

    لاہور میں کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کے حوالے سے پولیس، انتظامیہ اور کالج کی وضاحتوں کے باوجود واقعے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور لاہور اور پنجاب کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ پشاور میں مبینہ زیادتی کے خلاف طلبہ نے پرتشدد احتجاج کرتے ہوئے املاک کو نقصان پہنچایا جہاں دوران احتجاج گجرات میں نجی کالج کا گارڈ جاں بحق ہو گیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق صوبائی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ نجی کالج کی جانب سے طالبہ سے زیادتی کے واقعے کی تردید اور تمام تر وضاحتوں کے باوجود مختلف شہروں میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور لاہور کے بعد اب گجرات، فیصل آباد، پشاور سمیت مختلف شہروں میں طلبہ سڑکوں پر آگئے۔لاہور میں لال پُل کیمپس پر دھاوا بولنے والے متعدد افراد کو پولیس نے گرفتار کرلیا جہاں پولیس نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین نے نجی کالج میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کی اور 6 موٹرسائیکلیں جلائیں جبکہ کالج وین اور گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیے۔گجرات میں نجی کالج میں طلبہ کے تشدد سے گارڈ جاں بحق ہوگیا اور طلبہ نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے کالج کے شیشے، فرنیچر اور کمپیوٹر توڑ دیے۔شور کوٹ کے طلبہ نے کینٹ روڈ پر مبینہ زیادتی کے خلاف احتجاج کیا جس سے کینٹ روڈ بلاک ہو گیا اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔گورنمنٹ ڈگری کالج اور پنجاب کالج کے طلبہ کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے بعد پنجاب کالج شورکوٹ کی عمارت میں پولیس داخل ہوگئی ہنگامہ آرائی کرنے والے 100 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔

    دوسری جانب فیصل آباد میں مشتعل مظاہرین نے سڑک بلاک کرکے نجی کالج کی عمارت پر پتھراؤ کیا جبکہ لیہ میں احتجاج کرنے والے طلبہ نے ایم ایم روڈ کو بند کردیا۔اسی طرح پشاور میں ایڈورڈز کالج کے طلبہ بھی واقعے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور طلبہ کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔اس سے قبل لاہور کے نجی کالج کی انتظامیہ نے طالبہ سے زیادتی کے واقعے کو من گھڑت اور جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ طالبہ سے زیادتی کا کوئی واقعہ وجود ہی نہیں رکھتا۔انہوں نے واقعے کو سراسر پروپیگنڈا اور میڈیا اسٹنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں موجود 98 فیصد طالبات کالج کے متعلقہ کیمپس سے تعلق ہی نہیں رکھتیں۔دوسری جانب نجی کالج کی طالبہ سے منسلک من گھڑت ویڈیو کے واقعے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں ڈیفنس اے میں درج کرلیا گیا۔مقدمے کے متن مطابق سوشل میڈیا پر طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کی خبر وائرل ہوئی لیکن متعلقہ لڑکی اور اس کے والدین نے واقعے کی مکمل تردید کی۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ واقعے سے متعلق طلبہ اور عوام کو حکومتی اداروں کے خلاف سوچی سمجھی سازش کے تحت بھٹکایا گیا اور اشتعال دلوا کر احتجاج پر مجبور کیا گیا۔اسی طرح مبینہ زیادتی کے واقعے سے متعلق غلط معلومات پھیلانے پر ایف آئی اے سائبر کرائم کی 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کے پروپیگنڈے میں تحریک انصاف کو ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچی زیادتی نہیں بلکہ گھٹیا سازش کا شکار بنی، بار بار کی احتجاج کی کال ناکام ہونے کے بعد انتہائی گھٹیا اور خطرناک منصوبہ بنایاگیا اور اس فتنہ و فساد کی جڑ خیبرپختونخوا حکومت ہے۔

    کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

    ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی

  • پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس کے بارے میں سوشل میڈیا پر من گھڑت افواہ پھیلانے والے کوگرفتار کر لیا گیا ہے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایکس پر پوسٹ میں کہا ہے کہ یہ لڑکا جس نے صریح جھوٹ کا پرچار کیا، تشدد کو ہوا دیا اور طلباء کو اکسایا، گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وعدے کے مطابق، میں کسی بھی ایسے شخص کو نہیں بخشوں گی جو اس سازش اور جھوٹے پروپیگنڈے کا حصہ تھا جس نے ایک معصوم لڑکی اور اس کے خاندان کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اس نے عصمت دری کا الزام لگایا ہے جو کبھی نہیں ہوئی تھی،

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ملزم کی تصویر بھی شیئر کی، ملزم پی ٹی آئی کا رکن ہے اور اسکی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ تصاویر بھی ہیں،مریم نواز نے وہ تصویر بھی شیئر کی ہے

    قبل ازیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دہشتگرد جماعت ہے، پنجاب کالج میں کوئی واقعہ نہیں ہوا، کہانی گھڑی گئی جس کا وجود ہی نہیں،طلبا کو سازش کے ذریعے استعمال کیا، انتشار کی کال کی ناکامی کے بعد گھٹیا منصوبہ بنایا گیا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں ماں بھی ہوں اور صوبے کی چیف ایگزیکٹو بھی ہوں، خواتین کی آبرو کی حفاظت میری ذمہ داری ہے،بچی کی والدہ سے بات ہوئی ہے وہ شدید صدمے میں ہیں اور والدہ نے کہا کہ اس کی چار بییٹیاں باقی ہیں جن کی شادی ہونی ہیں میں غریب ہوں مجھے کچھ نہیں چاہیے جنہوں ںے یہ کہانی گھڑی ہے انہیں ایکسپوز کریں اور سزا دلوائیں گے،تحریک انصاف ایک دہشتگرد جماعت ہے اور نجی کالج میں مبینہ زیادتی والا واقعہ گھڑنے کے پیچھے تحریک انصاف ہے۔

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج