Baaghi TV

Tag: پنجاب یونین آف جرنلسٹس

  • پنجاب  یونین آف جرنلسٹس کا پی یوجے کے صدرکے گھر پر پولیس چھاپہ کے خلاف اظہار مذمت

    پنجاب یونین آف جرنلسٹس کا پی یوجے کے صدرکے گھر پر پولیس چھاپہ کے خلاف اظہار مذمت

    پنجاب یونین آف جرنلسٹس کا پی یوجے کے صدر نعیم حنیف کے گھر پر پولیس چھاپہ کے خلاف اظہار مذمت

    پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے کرائم رپورٹرز اور لاہور پولیس کے درمیان جاری حالیہ کشمکش کے دوران پی یوجے کے صدر نعیم حنیف کے گھر پر پولیس کے چھاپے کو آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر سنگین حملہ قرار دیا ہے اور کہا کہ پولیس اپنے خلاف خبروں کو دبانے کے لئے جہاں کرائم رپورٹرز پر حملہ آوور ہے وہیں صحافیوں کی آواز اور آزادی اظہار کے حق کو دبانے کے لئے پی ایف یوجے ، پی یوجے اور لاہور پریس کلب جیسے اداروں کے خلاف بھی میدان میں آگئی ہے ۔ یہ صحافیوں کو کھلی دھمکی ہے اور اس کے پیچھے جو بھی عناصر ہیں پی ایف یوجے ، پی یوجے اور سول سوسائٹی کھڑی ہے ۔

    لاہور پریس کلب میں منعقدہ ایک مشاورتی اجلاس ،جس میں پی ایف یوجے کے سیکرٹری جنرل و صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری سمیت لاہور کی تمام صحافی قیادت شریک تھی ۔اس موقع پر پی یوجے کے صدر نعیم حنیف نے کہا کہ وہ تو چاہتے تھے کہ اس تنازع کو زیادہ ہوا نہ دی جائے اور جو عناصر بھی حکومت اور صحافیوں کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں انہیں ان کے ناپاک مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دیا جائے ، گزشتہ دنوں وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری کی لاہور پریس کلب اور آمد اور صحافی قیادت سے ملاقات میں بھی ہم نے ان مکروہ عناصر کی نشاندہی کی تھی اور تمام معاملہ وزیر اطلاعات کے حوالے کردیا تھا مگر شومئی قسمت جس روز دوپہر کو عظمی بخاری لاہور پریس کلب تشریف لائیں اسی شب پولیس نے میرے گھر پر چھاپہ مارا ۔جہاں میرے والدین اور بھائیوں کو پریشان کیا گیا۔

    سیکیورٹی فورسز کا ڈی آئی خان میں آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ 7 دہشتگرد ہلاک

    نعیم حنیف نے کہا ہم آج بھی سمجھتے ہیں اس لڑائی کے درپردہ جو بھی عناصر ہیں حکومت خود ان کا محاسبہ کرئے اور ذمہ دارا عناصر کو قابو میں کرئے۔ اجلاس میں شریک سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے وصدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری ،کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن ، ایسوسی ایشن آف فوٹو جرنلسٹس لاہور ، سپورٹس رپورٹرز فیڈریشن آف پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحافی آزادی صحافت اور آزادی اظہار کی اس جدوجہد میں متحد ہیں ۔ انہوں نے صدر پی یوجے نعیم حنیف کے گھر پر پولیس کے چھاپے کی شدید مذمت کی اور اس چھاپہ کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    دریں اثنا پی یوجے کی ایگزیکٹو کونسل نے یونین ہے صدر کے گھر پر حملہ کو صحافیوں کے خلاف کھلا حملہ قرار دیا ہے اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سے اس چھاپے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ پی یوجے کے جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی نے واضح کیا صحافیوں نے آزادی صحافت ،ازادی اظہار اور شہری آزادیوں پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ۔اس جنگ میں ہمارے سینئر نے لازوال قربانیوں دی ہے ہیں اور ہم آج بھی ہر طرح کی جدوجہد کے لئے پر عزم ہیں ۔

    معرکہ حق میں،فیلڈ مارشل نے اپنے جوانوں کو تیار کیا اور کمال کی کارکردگی دکھائی ،وزیراعظم

  • خیبر یونین آف جرنلسٹس کا صحافیوں کے گرینڈ اجلاس بلانے کا فیصلہ

    خیبر یونین آف جرنلسٹس کا صحافیوں کے گرینڈ اجلاس بلانے کا فیصلہ

    پشاور:خیبر یونین آف جرنلسٹس کا صحافیوں کے گرینڈ اجلاس بلانے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق خیبر یونین آف جرنلسٹس نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے پشاور کے صحافیوں کے ساتھ نامناسب رویہ اپنانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے اپنے رویہ پر نظرثانی نہ کی تو جلد صحافیوں کے گرینڈ اجلاس میں لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔

    اس حوالے سے رفعت اللہ اورکزئی کہتے ہیں کہ جو پشاور میں صحافیوں کےساتھ ہوا وہ اچھا نہیں ہے ، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے رویے پر نظرثانی کرے تو بہتر ہے ورنہ پھر سخت لائحہ عمل تیار کیا جائے گا

    یاد رہےکہ پشاور میں اس وقت بدمزگی دیکھنے میں آئی جب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پشاور میں‌ پریس کانفرنس کررہے تھے تو ایک صحافی کی طرف سے سخت سوالات کے پوچھے جانے پر عمران خان پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کرچلے گئے

    اس پریس کانفرنس میں‌ سابق وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ شہباز ، رانا ثناء کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں سزا مل جاتی تو اتنا ظلم نہ کرتے، ہماری حکومت کیساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی، میری اگلی ساری زندگی قوم کی حقیقی آزادی کے لیے ہے۔خون خرابے سے بچنے کیلئے اسلام آباد سے واپس گئے۔حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، جون میں الیکشن کا اعلان ہوجائے تو باقی معاملات پر بھی بات چیت ہوسکتی ہے۔

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج پر امن تھا لیکن حکومت نے اسے پرتشدد بنادیا، لاہور میں پولیس نے وکلا کو بسوں سے نکال نکال کر مارا، حکومت نے پنجاب پولیس کو استعمال کیا، آئی جی سمیت چن چن کر ایسے افسران لائے جنہوں ںے ظلم کیا، کون سی ملک دشمن پولیس نے جو اپنے ملک کی خواتین اور بچوں پر تشدد کرے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہمارے خلاف پروپیگنڈا ہے کہ ہم انتشار پھیلانے جارہے تھے، کیا کوئی خواتین کو اور اہل خانہ لے کر انتشار پھیلانے جائے گا؟ یہ لوگ یزید کو ماننے والے ہیں، ماڈل ٹاؤن میں چودہ افراد کو قتل کے باوجود انہیں سزا نہیں ملی اگر مل جاتی تو یہ لوگ اس طرح کا ظلم نہ کرپاتے۔

    انہوں ںے کہا کہ میں وہ آدمی ہوں جو 126 دن دھرنے میں بیٹھا، میرے لیے ایک اور دھرنے میں بیٹھنا کوئی مشکل نہیں تھا، جب ہم دھرنے میں پہنچے تو اندازا ہوا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں، مجھے معلوم ہوا کہ خون خرابہ ہونے والا ہے، لوگ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے تھے، ہمارے لوگ پولیس کی مار کھاکر وہاں پہنچے وہ بہت مشتعل تھے، لوگ بہت غصے میں تھے، میں گارنٹی کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس دن خون خرابہ ہوتا اور پولیس کے ساتھ تصادم ہوتا۔

    پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ حکومت نے گلو بٹ بٹھائے ہوئے ہیں، پولیس کا قصور نہیں اسے استعمال کیا جارہا ہے، اگر ہمارا تصادم ہوتا تو ملک کا نقصان ہوتا کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہماری کمزوری تھی یا ہم نے کوئی ڈیل کرلی، میں نہیں چاہتا کہ ملک میں اداروں اور عوام کے درمیان خلیج بڑھے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم آرام سے بیٹھ جائیں گے اور اس امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیں گے تو یہ لوگوں کی بھول ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہم چھ دن دے رہے ہیں، اگر انہوں ںے واضح طور پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا اور اسمبلیاں تحلیل نہ کیں تو ہم دوبارہ نکلیں گے اور اب کی بار تیاری کے ساتھ نکلیں گے کیوں کہ نہیں پتا تھا کہ ہمیں اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑجائے گا، سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ہمارے جلسے کی راہ میں رکھی رکاوٹیں نہیں ہٹائیں گئیں انہیں کارکنان نے ہٹایا، میں اپنے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ میں نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر سوالات کیے ہیں کہ اپنی پوزیشن کلیئر کریں، چھ دن میں پتا چل جائے گا کہ سپریم کورٹ ہمارے حقوق کا تحفظ کرتی ہے کہ نہیں۔

  • نائب امیر جماعت اسلامی کا پیکا آرڈی نینس کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ

    نائب امیر جماعت اسلامی کا پیکا آرڈی نینس کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ

    نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے پیکا آرڈی نینس مسترد کرتے ہوئے حکومت سے اس کالے قانون کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پنجاب یونین آف جرنلسٹس ( پی یو جے) کے زیر اہتمام مظاہرے میں شرکت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ جابرانہ طرز حکومت اور میڈیا پر پابندی کسی صورت قبول نہیں۔

    172 کی بجائے 182 ووٹ بھی دے دیں تو وزیراعظم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے،فیصل واوڈا

    انہوں نے کہا کہ حکومتیں کالے کرتوتوں کو چھپانے کے لیے کالے قوانین کا سہارا لیتی ہیں۔ پیکا آرڈی نینس غیر اسلامی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہے صحافت کا معاملہ آئینے کی طرح ہوتا ہےحکومت اپنا چہرہ ٹھیک کرنے کی بجائے اس آئینے کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    جماعت اسلامی کے رہنما ذکراللہ مجاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اور صحافی برادری کے درمیان قدریں مشترک ہیں جماعت اسلامی ہر پلیٹ فارم پر پیکا آرڈی نینس کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی اور صحافی برادری کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ اور ماضی کی حکومتوں نے غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔ موجودہ حکومت نے نااہلی، نالائقی اور صحافیوں سے دشمنی کے ریکارڈ توڑ دیئے۔

    دریں اثنا پیکا ترمیمی آرڈی ننس کے خلاف پی بی اے، پی ایف یو جے سمیت دیگر صحافتی تنظیموں اور سینئر صحافیوں کی درخواست پر وکلا نے دلائل مکمل کر لیے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئندہ سماعت پر 21 مارچ کو اٹارنی جنرل سے دلائل طلب کر لیے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کی پی بی اے کے وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ پیکا ترمیمی آرڈی ننس کے آرٹیکل 44 اے کے تحت عدلیہ اور جج کی آزادی کو متاثر کیا آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت آرڈی نینس صرف ہنگامی حالات میں جاری ہو سکتا ہے، آرڈی نینس کا اجرا ایگزیکٹو پاور ہے جو عدالتی نظرثانی سے مشروط ہے۔

    انہوں نے صدر عارف علوی کے ٹویٹ کا اسکرین شاٹ پیش کیا اور بتایا کہ صدر مملکت نے 14 فروری کو 12:32 پر ٹویٹ کیا کہ 18 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا ہے جبکہ 18 فروری کو صدر پاکستان نے پیکا ترمیمی آرڈی ننس جاری کردیا۔

    شہباز شریف کی جانب سے عشائیہ، اپوزیشن قیادت کی آمد کا سلسلہ جاری

    پنجاب یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے وکیل عادل عزیز قاضی نے کہا کہ 18 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس شیڈول تھا جسے ملتوی کیا گیا، صرف اسی نکتے سے آرڈیننس کے اجرا میں بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔

    پی ایف یو جے کے وکیل ساجد تنولی نے کہا کہ لوگوں کی رائے دبانے کے لیے خصوصی قانون سازی کے ذریعے اس قانون کو لایا گیا، یہ قانون بنیادی حقوق اور آئین کی بعض شقوں سے متصادم ہے لہذا اسے کالعدم قراردیا جائے۔

    فرحت اللہ بابر کے وکیل بیرسٹر اسامہ خاور نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق ہے مگر اس میں کچھ پابندیوں کا بھی ذکر ہے جو قومی مفاد، توہین اسلام، خودمختاری، توہین عدالت یا کسی کو جرم پر اکسانے جیسے معاملات پر ہیں۔

    بھارت نے واہگہ بارڈر سے پاکستان جانیوالوں کیلئے اسپیشل اجازت نامہ کی پابندی ختم کردی