Baaghi TV

Tag: پنکی

  • منشیات ڈیلر  پنکی کے مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آ گئے

    منشیات ڈیلر پنکی کے مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آ گئے

    منشیات فروش پنکی کے خواتین سمیت مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آ گئے۔

    سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کے مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس نے نئی رپورٹ جمع کرا دی، جس میں ملزمہ کے مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آئے ہیں۔

    پولیس رپورٹ کے مطابق انمول عرف پنکی کو 12 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا گرفتاری کے بعد اس کے 3 سہولت کاروں کو بھی حراست میں لیا گیا، جن میں ذیشا ن، سہیل اور سمیر شامل ہیں انمول عرف پنکی کے مزید 7 قریبی ساتھی تاحال مفرور ہیں اور پولیس نے انہیں سہولت کار قرار دیتے ہوئے مفروروں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے مفرور ملزمان میں فیاض، عاقب، حمزہ، اعزاز، زید اور 2 خواتین صابرہ اور اینا شامل ہیں ان تمام ملزمان کی گرفتاری کے لیے کو ششیں جاری ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کر رہے ہیں۔

  • پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پر ڈرامہ بنایا جائے،حنا پرویز بٹ

    پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پر ڈرامہ بنایا جائے،حنا پرویز بٹ

    لاہور : مسلم لیگ ن کی رہنما اور چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے مبینہ طور پر منشیات فروشی میں ملوث کردار ‘انمول عرف پنکی’ پر ڈرامہ بنانے کی خبروں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ پروڈکشن ہاؤسز کو آڑے ہاتھوں لے لیا، کہا پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پرڈرامہ بنایا جائے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک بیان میں حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ اگر ‘پنکی’ پر واقعی کوئی ڈرامہ یا سیریل بنائی جا رہی ہے تو یہ ایک انتہائی شرمناک اور چھچھوری حرکت ہے،ایک جرائم پیشہ اور منشیات فروش خاتون معاشرے کے لیے کسی صورت رول ماڈل نہیں ہو سکتی جس کی زندگی کو سکرین پر پیش کیا جائے۔

    چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی نے اس اقدام کو ملک کی باوقار خواتین کی تذلیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل ان تمام عورتوں کی صریحاً بے عزتی ہے جنہوں نے معاشرے کی ترقی اور سدھار میں مثبت کردار ادا کیا ہے اور آج بھی کر رہی ہیں۔

    انہوں نے میڈیا انڈسٹری کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم کب تک صرف ویورشپ اور پیسے کے لالچ میں ایسے منفی اور جرائم پیشہ افراد کو ہیرو یا رول ماڈل بنا کر پیش کرتے رہیں گے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسی کسی بھی کوشش کو فوری طور پر روکا جانا چاہیےجبکہ معاشرے میں بے شمار مثبت اور قابلِ تقلید شخصیات موجود ہیں جن کی جدوجہد اور کامیابیاں اجاگر کیے جانے کی مستحق ہیں۔

  • انمول عرف پنکی 3 روز ہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    انمول عرف پنکی 3 روز ہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    منشیات کے جرم میں گرفتار انمول عرف پنکی کو مختلف مقدمات میں عدالت نے 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کو سخت سیکیورٹی حصار میں سماعت کے لیے سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس پہنچایا گیا، جہاں اسے درخشاں اور گزری تھانوں میں درج 8 مقدمات کے سلسلے میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا، پولیس نے عدالت سے انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاکہ مقدمات سے متعلق مزید تفتیش اور شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    واضح رہے کہ ملزمہ کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں منشیات فروشی کے متعدد مقدمات درج ہیں، پنکی شہر کے پوش علاقوں میں بھی آن لائن منشیات فروخت کرتی تھی، منشیات کا نیٹ ورک غیر قانونی طور پر معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام بھی منشیات کی ترسیل میں استعمال کرتھا جس جس کی ویڈیو سامنے آگئی۔

    منشیات کا نیٹ ورک غیر قانونی طور پر معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام بھی منشیات کی ترسیل میں استعمال کرتا رہا،منشیات منگوانے والے ایک کسٹمر نے کچھ ماہ قبل ایک خفیہ ویڈیو بھی بنالی تھی رائیڈرز اس بات سے لاعلم ہوتے تھے کہ پارسل میں منشیات موجود ہے،ویڈیو میں رائیڈر سے کسٹمر کو پارسل وصول کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    رائیڈر نے پارسل دینے کے بعد صرف ڈلیوری چارجز وصول کیے پارسل کے اندر ایک پیکٹ سے آئس برآمد ہوتے ہوئے بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

  • منشیات فروش پنکی کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی تفصیلات جاری

    منشیات فروش پنکی کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی تفصیلات جاری

    منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

    دستاویزات کے مطابق ملزمہ پنکی نے 17 اپریل 2018 کو کراچی سے پاسپورٹ حاصل کیا جو 17 اپریل 2023 کوایکسپائر ہوا، دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ملزمہ انمول نے شناختی کارڈ بھی کراچی سے 6 دسمبر 2016 میں حاصل کیا، شناختی کارڈ پر ابوالحسن اصفہانی روڈ گلشن اقبال کا پتہ درج ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ پنکی نے نام تبدیل کرکے ایک اور شناختی کارڈ بنوانے کی بھی کوشش کی جبکہ ملزمہ پنکی کی سفری تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے پنکی کے اہلخانہ کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی تفصیلات بھی حاصل کرلی گئی ہیں اور معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ چند کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد ہوئی تھیں۔

  • پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    مبینہ منشیات فروش خاتون پنکی کو بچانے کے لیے بعض نامعلوم قوتوں کے متحرک ہونے کا انکشاف سامنے آگیا-

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ گارڈن تھانے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دستیاب نہیں، ذرائع کے مطابق ملزمہ کو تھانے کب لایا گیا اور کب وہاں سے روانہ کیا گیا، اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں، جس پر پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُس وقت بجلی موجود نہیں تھی، اسی وجہ سے ریکارڈنگ نہیں ہو سکی تاہم ذرائع کے مطابق معاملے نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اہم شواہد غائب کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ملزمہ پنکی کا مبینہ آن لائن کوکین سپلائی نیٹ ورک اب بھی سرگرم ہے، البتہ کارروائیوں کے بعد اس کے کارندوں نے رابطے کے نمبرز تبدیل کر لیے ہیں،مبینہ طور پر منشیات خریدنے والوں کو پیغامات ارسال کیے گئے جن میں کہا گیا کہ میڈم پنکی کا سابقہ نمبر بند ہو چکا ہے اور اب سروس ان کے دوست فراہم کر رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مبینہ پیغامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی میں 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کوکین دستیاب ہے پیغامات میں گولڈن اسٹف 25 ہزار روپے فی گرام جبکہ سلور اسٹف 15 ہزار روپے فی گرام فروخت کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ مبینہ خریداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ رقم اب فیاض کمیونی کیشنز کے اکاؤنٹ میں منتقل نہ کی جائے کیونکہ مذکورہ اکاؤنٹ بلاک ہو چکا ہے، نیٹ ورک نئے مالیاتی ذرائع اور رابطہ نمبرز کے ذر یعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ اور تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا-

  • انمول عرف پنکی کے انکشافات، ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 11 افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار

    انمول عرف پنکی کے انکشافات، ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 11 افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار

    انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے ہیں اور 24 افراد کو گرفتار کیا کرلیا گیا ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’کوکین کوئین‘ انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد مختلف شہروں میں کارروائیاں شروع کردی ہیں کراچی، راولپنڈی اور قصور سمیت متعدد علاقوں سے دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں 11 افریقی باشندے بھی شامل ہیں جو منشیات اسمگل کر کے اسے پاکستان میں انمول عرف پنکی تک پہنچاتے تھے، ان افریقی باشندوں نے پاکستانی خواتین سے شادیاں بھی کر رکھی تھیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نیٹ ورک سے وابستہ مزید افراد کو بھی جلد گرفتار کیا جاسکتا ہے، جس کے لیے تحقیقات کا دائرہ پھیلایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب کراچی کی سٹی کورٹ نے انمول عرف پنکی کے خلاف درج 12 سے زائد مقدمات میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

  • متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی،منشیات فروش پنکی کا انکشاف

    متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی،منشیات فروش پنکی کا انکشاف

    منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ ایک افسر نے میرے بھائی کو متعدد بار پکڑا اور رشوت لے کر چھوڑ دیا۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے کراچی میں ماہانہ 2 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات فروخت کرنے کا انکشاف کیا ہےتفتیش میں پنکی کے زیرِ استعمال 2 موبائل سمز افضل اور صابرہ بی بی کے ناموں پر رجسٹرڈ نکلیں، متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی، پولیس اہلکار نے میرے رائیڈرز کو حرا ست میں لے کر 1 کروڑ کی مجموعی رشوت لی۔

    ملزمہ انمول عرف پنکی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار نے اتنا تنگ کیا کہ اسے قتل کروانے کی منصوبہ بندی بھی کی، پولیس اہلکار کے قتل کے لیے کرائے کے قاتلوں کی مدد لینے کا بھی سوچا لاہور سے منشیات بھیجنے کے لیے انٹر سٹی بسوں کا استعمال کیا جاتا ہے، میرا شناختی کارڈ بلاک ہوا تو سمیر کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھلوایا۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے بتایا کہ منشیات کی رقم موبائل ایپ سے بھیجی اور وصول کی جاتی ہے، رقم کی منتقلی کے لیے بینک اکاؤنٹ ذیشان کے نام سے بھی کھلوایا گیا، سابق شوہر کے 2 بھائی بطور ایڈووکیٹ کام کرتے ہیں، پولیس سے بچنے کے لیے سابق شوہر منشیات وکلا بھائیوں کے چیمبرز میں رکھتا ہے۔