Baaghi TV

Tag: پوتن

  • امریکہ دنیا میں جان بوجھ کرجنگوں کوہوادے رہا ہے،یوکرین جنگ کو بھی طول دے رہا ہے:ولادی میرپوتن

    امریکہ دنیا میں جان بوجھ کرجنگوں کوہوادے رہا ہے،یوکرین جنگ کو بھی طول دے رہا ہے:ولادی میرپوتن

    ماسکو:امریکہ دنیا میں جان بوجھ کرجنگوں کوہوادے رہا ہے،ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ تائیوان میں امریکی مداخلت ایک خطرناک سازش ہے ، پوتن کا کہنا تھا کہ امریکہ یوکرین کے تنازع کو طول دینے کی کوشش کر رہا ہے اور ایشیا پیسیفک خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

     

    روس کے ساتھ امن مذاکرات کا مطلب ماسکو کی کامیابی کو تسلیم کرنا ہے:یوکرین

    پوتن نے ماسکو انٹرنیشنل سیکورٹی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ "یوکرین کی صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اس تنازعے کو طول دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور وہ بالکل اسی طرح کام کر رہے ہیں، جو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں تنازعات کے امکانات کو ہوا دے رہے ہیں۔”

    یہ بھی یاد رہے کہ روس نے فروری کے آخر میں یوکرین میں فوجی آپریشن شروع کیا، کیف کی جانب سے منسک معاہدوں کی شرائط پر عمل درآمد میں ناکامی اور ماسکو کی جانب سے مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک اور لوہانسک کے الگ ہونے والے علاقوں کو تسلیم کرنے کے بعد یہ ردعمل دیا ہے ۔اس وقت، پوتن نے کہا تھا کہ جس کو وہ "خصوصی فوجی آپریشن” کہتے ہیں اس کا ایک مقصد یوکرین کو "ڈی نازیفی” کرنا تھا۔

    روس نے بارہا خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو ہتھیاروں کی مغربی سپلائی کے ساتھ ساتھ ماسکو پر سخت پابندیاں جاری جنگ کو طول دے گی، جو پہلے ہی چھٹے مہینے میں پہنچ چکی ہے۔

    روس غذائی اجناس کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے:یورپی یونین

    پوتن نے کہا کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے حالیہ متنازع دورے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "ایک احتیاط سے منصوبہ بند اشتعال انگیزی” قرار دیا۔انہوں نے کہا، "تائیوان کے سلسلے میں امریکی مہم جوئی صرف ایک انفرادی غیر ذمہ دار سیاستدان کا سفر نہیں ہے، بلکہ خطے اور دنیا کی صورتحال کو غیر مستحکم کرنے اور افراتفری پھیلانے کے لیے ایک بامقصد، باشعور امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے۔”

    چین کا کہنا ہے کہ امریکی قانون سازوں کے تائیوان کے دورے نے آبنائے تائیوان میں امن کو خراب کرنے والے کے طور پر واشنگٹن کا اصل چہرہ پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

    روس اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی،امریکا

    چین نے طویل عرصے سے خودساختہ جزیرے میں امریکی مداخلت کے ساتھ ساتھ امریکی حکام کے اس علاقے کے باقاعدہ دوروں کی مخالفت کی ہے حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے "ایک چائنا” پالیسی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے جس کے تحت تقریباً تمام ممالک تائیوان پر بیجنگ کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہیں۔

    پیلوسی کے دورے کے جواب میں، چین نے جزیرے کے ارد گرد بے مثال فوجی مشقیں کیں اور واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کی کچھ لائنوں کو معطل کر دیا۔پیلوسی 25 سالوں میں اس جزیرے کا دورہ کرنے والی سب سے سینئر امریکی سیاست دان بن گئیں۔ چینی وزیر خارجہ نے اس طوفانی سفر کو "پاگل، غیر ذمہ دارانہ اور غیر معقول” قرار دیا۔

    پیلوسی کے خودساختہ جزیرے کے دورے کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے بعد، امریکی کانگریس کا ایک وفد پیر کو غیر اعلانیہ دورے پر تائیوان پہنچا، جسے مبصرین امریکہ کے ایک اور اشتعال انگیز اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔دارالحکومت تائی پے میں واشنگٹن کے ڈی فیکٹو سفارت خانے نے کہا کہ کانگریس کے پانچ ارکان پیر تک دورہ کریں گے۔

  • سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان:   طیب اردوان،ولادی میرپوتن کا بھرپوراستقبال

    سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان: طیب اردوان،ولادی میرپوتن کا بھرپوراستقبال

    تہران : سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان:طیب اردوان،ولادی میرپوتن کا بھرپوراستقبال،اطلاعات کے مطابق آج ایران کی سرزمین پرسہ فریقی سربراہی اجلاس میں اہم فیصلے ہوں گے اور اس سلسلے میں طیب اردوان اور روسی صدر ایرانی قیادت کے ساتھ صلاح مشورے کریں‌گے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملک شام سے متعلق آستانہ عمل کے ضامن ملکوں کا سہ فریقی سربراہی اجلاس آج ایران، روس اور ترکی کے سربراہوں کی شرکت سے تہران میں منعقد ہو رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، آستانہ عمل کے ضامن ملکوں کے سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان گزشتہ شب تہران پہنچ گئے ہیں جبکہ روسی صدر ولادمیر پوتین تہران پہنچنے کو ہیں۔

    ولادی میر پوتن بھی عمران خان بن گئے:کہتےہیں کہ گھبرانا نہیں‌

    اجلاس کی سائیڈ لائن میں ایران، روس اور ترکی کے سربراہان مملکت ایک دوسرے سے علاقائی اور عالمی صورتحال کے حوالے سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔ترکی کے صدر کی قیادت میں آنے والے اعلی سطحی وفد میں وزیر داخلہ، وزیر خارجہ، انٹیلینجس کے سربراہ، صدارتی دفتر کے سربراہ، صدارتی دفتر کے ترجمان، وزیر توانائی اور وزیر تجارت شامل ہیں۔

    مغربی ممالک کی نااہلی کی قیمت دنیاچُکا رہی ہے،معاشی بحران کےذمہ دار

    گزشتہ روز ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے اجلاس کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شام میں لڑائی والے علاقوں میں کشیدگی کم کرنے اور شام میں استحکام کے تحفظ کے مسئلے کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شام اور ترکی کے مابین نئے سیکورٹی بحران کو حل کئے جانے کی ضرورت ہے۔

    روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    عبداللہیان کا کہنا تھا کہ ترکی شام میں تیس کلو میٹر اندر تک فوجی کاروائی کرنے کی بات کرتا ہے اور ایران اس مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کئے جانے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے۔

    واضح رہے کہ روس اور ترکی کے تعاون اور شام میں قیام امن کی غرض سے آستانہ مذاکرات دو ہزار سترہ میں ایران کی کوششوں سے شروع ہوئے ہیں۔

  • پیوٹن کوکینسرہوگیا، اختیارات سابق انٹیلی جنس چیف کو ملنے کا امکان

    پیوٹن کوکینسرہوگیا، اختیارات سابق انٹیلی جنس چیف کو ملنے کا امکان

    لندن :پیوٹن کوکینسرہوگیا، اختیارات سابق انٹیلی جنس چیف کو ملنے کا امکان ،اطلاعات کےمطابق برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی کینسر کی سرجری جلد متوقع ہے اور اس دوران یوکرین جنگ کا اختیار روسی خفیہ ایجنسی کے سابق چیف کو سونپے جانے کا امکان ہے۔

    برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق کریملن کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن کی جلد کینسر کی سرجری متوقع ہے اور چند دنوں کیلئے یوکرین جنگ کے حوالے سے فیصلوں کا اختیار روسی سکیورٹی کونسل کے سربراہ اور خفیہ ایجنسی KGB کے سابق چیف، پیوٹن کے دوست نکولائی پیٹروشیف کو دیا جاسکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ولادیمیر پیوٹن میں 18 ماہ قبل پیٹ کے کینسر اور دماغی بیماری پارکنسنز کی تشخیص ہوئی تھی جبکہ ان میں شیزوفرینیا کی علامات بھی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پیوٹن نے سرجری میں تاخیر کی ہے اور اب سرجری جنگ عظیم دوئم میں روس کی کامیابی کی یاد میں منائے جانے والے وکٹری ڈے کے بعد ہی ممکن ہے۔ وکٹری ڈے 9 مئی کو منایا جاتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سرجری اپریل میں ہونی تھی لیکن پیوٹن نے اسے مؤخر کیا لیکن اب ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مزید تاخیر کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

    خیال رہے کہ روسی صدارتی محل ہمیشہ سے پیوٹن کی خرابی صحت کے حوالےسے خبروں کی تردید کرتا رہا ہے۔

    پیوٹن کی جانب سے اختیارات نکولائی پیٹروشیف کو سونپے جانے کی اطلاعات پر ناقدین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کیوں کہ آئین کے تحت صدر کی غیر موجودگی میں اختیارات وزیراعظم کے پاس جاتے ہیں۔کچھ عرصہ قبل یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ ڈاکٹر نے انہیں مغربی ممالک سے منگوائی جانے والی دوائی شروع کرنے کا کہا تھا۔ ڈیلی میل کے مطابق پیوٹن نے جب یہ دوائی کھانا شروع کی تو ان میں شدید سائیڈ افیکٹس دیکھے گئے اور ان کی کمزوری اور چکر میں اضافہ ہوگیا۔

    رپورٹس کے مطابق جس ڈاکٹر نے دوائی تجویز کی تھی بعد ازاں اسے پیوٹن کے علاج کے عمل سے فارغ کردیا گیا اور غیر دوست ملک سے امپورٹ کی گئی دوا کی بھی جانچ کی گئی۔روس کے ایک جلا وطن صحافی نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ پیوٹن کو تھائیرائیڈ کینسر ہے اور ہر وقت بہترین ڈاکٹرز کی ٹیم ان کے ساتھ رہتی ہے۔

    حال ہی میں کچھ ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں جن میں پیوٹن کے ہاتھ کو لاشعوری طور پر تھرتھراتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس سے انہیں پارکنسنز کی بیماری ہونے کی خبروں کو تقویت ملی تھی۔

    ڈیلی میل نے ایک تصویر جاری کی ہے جس میں روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کے ساتھ ملاقات میں پیوٹن کو میز کو پکڑ کر بیٹھے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ اس میٹنگ کی تصویر میں پیوٹن کے چہرے پر سوجن کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

  • ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئےتووہ حشر    کروں گاکہ نسلیں یادرکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی

    ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئےتووہ حشر کروں گاکہ نسلیں یادرکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی

    ماسکو: ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئے تو وہ حشرکروں گا کہ نسلیں یاد رکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر سوار روس نے اب اپنے دیگر پڑوسی ممالک کو صاف صاف لفظوں میں دھمکی دیدی ہے کہ اگر نیٹو کی جانب رکنیت کے لیے نظر اٹھا کر دیکھا تو سنگین فوجی اور سیاسی نتائج بھگتنے کے لیے تیارت ہوجائیں ۔ابھی یوکرین کی جنگ جاری ہے اور دنیا روس کے سامنے بے بس ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ یوکرین کا ساتھ دینے کے بجائے ملک کی راجدھانی کیف سے انخلا کا مشورہ دے رہا ہے۔ اسی دوران اب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سویڈن اور فن لینڈ کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ نیٹو میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں ‘فوجی نتائج’ بھگتنا پڑیں گے۔

    یہ اس وقت ہوا جب یوکرین پر روس کا حملہ آج خاص طور پر دارالحکومت کیف میں ایک رات کی لڑائی کے بعد شدت اختیار کر گیا۔پوتن نے یوکرین سے آگے یورپ پر غلبہ حاصل کرنے کے اپنے منصوبہ کو بالکل واضح کردیا ہے۔۔

    سویڈن اور فن لینڈ روس کے دو قریب ترین ممالک ہیں۔خارجہ امور کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہا، ‘فن لینڈ اور سویڈن کو اپنی سلامتی کی بنیاد دوسرے ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر نہیں رکھنی چاہیے اور نیٹو میں ان کے الحاق کے نقصان دہ نتائج ہو سکتے ہیں اور انہیں کچھ فوجی اور سیاسی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔’

    وزارت خارجہ نے بعد میں ٹویٹر پر اس دھمکی کا اعادہ کیا۔محکمے نے لکھا، ‘ہم شمالی یورپ میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے فوجی عدم اتحاد کی پالیسی کے لیے فن لینڈ کی حکومت کے عزم کو ایک اہم عنصر سمجھتے ہیں۔’ ‘فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے سنگین عسکری اور سیاسی اثرات ہوں گے۔’

    ولادیمیر پوتن کے بارے میں بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ یوکرین پر مغربی ممالک کی جانب سے نیٹو میں شامل ہونے کے خیال کے بعد یوکرین پر حملہ کیا گیا تھا، اس خدشے کے پیش نظر کہ اس کی دہلیز پر امریکی فوج کی موجودگی ختم ہو سکتی ہے۔سویڈن یا فن لینڈ کا ایسا ہی اقدام ممکنہ طور پر اسی طرح کے غصے کو بھڑکا سکتا ہے۔

    پوتن کے خارجہ امور کے ترجمان نے کہاہے کہ ‘فن لینڈ اور سویڈن کو اپنی سلامتی کی بنیاد دوسرے ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر نہیں رکھنی چاہیے۔ یوکرائنی رہنما نیٹو میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن روس اس اقدام کی سخت مخالفت کرتا رہا ہے۔نیٹو اور صدر جو بائیڈن دونوں نے کہا تھا کہ اگر کریملن نے حملہ کیا تو امریکہ 30 رکنی اتحاد کا بھرپور دفاع کرے گا۔

    بائیڈن نے جمعے کی صبح نیٹو کے ساتھی ارکان کے ساتھ عملی طور پر ملاقات کی تاکہ مشرقی اتحادیوں کو یقین دلایا جا سکے کہ ان کی حفاظت کی جائے گی کیونکہ روسی فوجی کیف میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ مگر اب روس کی پیشقدمی کیف تک پہنچ چکی ہے اور امریکہ زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کرسکا ہے۔

    زیلنسکی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر تنقید کی تھی کہ وہ اپنے ملک کو تنہا لڑنے کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔’ہمارے ساتھ لڑنے کو کون تیار ہے؟ میں کسی کو نہیں دیکھ رہا ہوں،‘‘ انہوں نے جمعرات کی رات کہاتھا کہ ‘یوکرین کو نیٹو کی رکنیت کی ضمانت کون دینے کو تیار ہے؟ ہر کوئی خوفزدہ ہے۔

  • امریکی صدر نے ٹیلی فون کرکے روسی صدرکو دھمکی دے دی

    امریکی صدر نے ٹیلی فون کرکے روسی صدرکو دھمکی دے دی

    واشنگٹن :امریکی صدر نے ٹیلی فون کرکے روسی صدرکو دھمکی دے دی ،اطلاعات ہیں کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹیلی فون کرکے روس کی دھمکی دی ہے کہ اگر روس نے یوکرین میں دراندازی کی تو اسے فیصلہ کُن ردعمل کا سامناہوگا،

    امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین کشیدگی کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے پیوٹن سے کہا کہ روس نے یوکرین میں دراندازی کی تو اسے فیصلہ کُن ردعمل کا سامناہوگا، روسی جارحیت سے بڑے پیمانے پر مشکلات ہوں گی، اور اس ساری صورت حال کا ذمہ دار بھی روس ہی ہوگا اس کے ساتھ ساتھ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکا سفارت کاری اور دیگر منظرناموں کیلئے تیار ہے۔لیکن یہ تب ممکن ہے کہ روس اپنی افواج کو یوکرین کی سرحد سے واپس بلائے

    امریکی و روسی صدور کی گفتگوکے حوالے سے ایک امریکی عہدے دار نے بتایا کہ بائیڈن اور پیوٹن کی فون کال پیشہ ورانہ کال تھی، بائیڈن اور پیوٹن کی کال سے کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی، روس سفارت کاری کے راستے پرجائےگایا نہیں، ابھی واضح نہیں، روس فوجی ایکشن کی طرف بھی جا سکتا ہے۔امریکی عہدیدار نے کہا کہ روس دنیاسےالگ تھلگ اور چین پر زیادہ انحصار کرتا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ حال ہی میں امریکا، برطانیہ و دیگر ممالک نے الزام عائد کیا ہے کہ روس یوکرین میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے اور جلد اس حوالے سے وہ یوکرین پر چڑھائی کا بھی ارادہ رکھتا ہے، اس مقصد کیلئے اس نے سرحد پر فوج بڑھادی ہے۔

    برطانیہ کا دعویٰ ہے کہ روس سابق یوکرینی رکن پارلیمنٹ یف ہین مرائیف کو حکومتی سربراہ بنانا چاہتا ہے تاہم اپنے حالیہ انٹرویو میں مرائیف نے اس بات کی تردید کردی ہے۔برطانیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے اپنی مرضی کی حکومت کیلئے یوکرین پر چڑھائی کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    البتہ روس نے عسکری کارروائی کو پروپیگنڈا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ روس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔

    دوسری طرف ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات بھی درست ہے کہ اگر روس کا ارادہ محض یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روکنا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ یوکرین خود نیٹو میں شامل نہ ہو اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب وہاں روس کی حمایت یافتہ حکومت ہو۔

  • "آجاؤخان جی تہانوں اکھیاں وڑیکدیاں”روسی صدرکی دعوت :وزیراعظم عمران خان کا تاریخی دورہ روس

    "آجاؤخان جی تہانوں اکھیاں وڑیکدیاں”روسی صدرکی دعوت :وزیراعظم عمران خان کا تاریخی دورہ روس

    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان رواں ماہ روس کا تاریخی دورہ کریں گے، وزیراعظم روس کا دوطرفہ دورہ کرنے والے 23سال میں پہلے وزیراعظم ہونگے، وزیراعظم عمران خان دورہ روس، روسی صدر پیوتن کی دعوت پر کر رہے ہیں۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق دورہ میں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ اعلیٰ سطح وفد بھی انکے ہمراہ جائے گا، دورہ روس فروری کے آخر میں کیا جائے گا، دورہ سے متعلق حتمی شیڈیولنگ کا سلسلہ جاری ہے،
    دفتر خارجہ کے ذرائع نے ڈیلی ٹائمز کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان رواں ماہ کے آخری ہفتے میں روس کا تاریخی دورہ کرنے والے ہیں تاکہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی جا سکے۔

    ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ وزیراعظم اپنے دورے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کریں گے۔ بات چیت میں معیشت، تجارت، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

    وزیراعظم دورہ روس میں دوطرفہ تعلقات، نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن جسے اسٹریٹجک اسٹریم گیس پائپ لائن منصوبہ بھی کہا جاتا ہے ، جو پہلے نارتھ ساؤتھ پائپ لائن کے نام سے جانا جاتا تھا، بھی بات چیت کے ایجنڈے میں شامل ہوگا اور توقع ہے کہ ماسکو میں دونوں فریقین کے درمیان وفود کی سطح کے دوران اس منصوبے پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ 2.5 بلین ڈالر کا پائپ لائن منصوبہ کراچی اور گوادر کے مائع قدرتی گیس (LNG) ٹرمینلز سے بڑے شمال وسطی شہر لاہور تک ہر سال 12.3 بلین کیوبک میٹر (bcm) قدرتی گیس کی ترسیل کو محفوظ بنائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ منصوبہ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان 1970 کی دہائی کے وسط سے شروع کیا جانے والا پہلا اتنے بڑے پیمانے پر اقتصادی اقدام ہوگا۔

    اگرچہ پاکستان اور روس کے درمیان مختلف سطحوں پر تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے لیکن 2003 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دورہ ماسکو کے بعد سے یہ وزیراعظم عمران خان کا پہلا دورہ ہوگا۔اس پس منظر میں اس دورے کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے جس سے دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی نئی شروعات متوقع ہے۔

    حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں وزیراعظم عمران خان اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن دونوں نے بھی اپنے تعاون کو مزید تقویت دینے پر اتفاق کیا۔

    دفتر خارجہ کے ذرائع نے یقین ظاہر کیا کہ روسی صدر کا رواں سال کے آخر تک دورہ پاکستان کا بھی امکان ہے جو دوطرفہ تعلقات میں ایک تاریخی لمحہ ہوگا اور اسے مزید بلندی کی جانب لے جانے میں مدد ملے گی۔

    خیال رہے کہ آخری بار کسی پاکستانی وزیراعظم نے دو طرفہ دورہ روس سنہ 1999 میں کیا تھا،سابق صدر آصف علی زرداری نے بطور صدر آخری مرتبہ روس کا دوطرفہ دورہ کیا تھا جو سنہ 2011 میں ہوا۔

  • وزیراعظم عمران خان کاروسی صدرپیوٹن سےرابطہ   :توہین رسالت کیخلاف بیان کی تعریف:ملکرچلنےکا فیصلہ

    وزیراعظم عمران خان کاروسی صدرپیوٹن سےرابطہ :توہین رسالت کیخلاف بیان کی تعریف:ملکرچلنےکا فیصلہ

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا روسی صدرپیوٹن سے رابطہ،توہین رسالت کیخلاف بیان کی تعریف:ملکرچلنے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا روس کے صدر ولادی میر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ۔ توہین رسالت کے خلاف صدرپیوٹن کے بیان کو سراہا۔

    وزیراعظم عمران خان اورروسی صدرولادی میرپیوٹن کے درمیان ٹیلی فونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، عالمی اورعلاقائی امورپرتبادلہ خیال کیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے روسی صدرپیوٹن کے توہین رسالت کیخلاف بیان کوسراہا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اسلاموفوبیا میں خوفناک اضافے اوراس سے منسلک نفرت کو باقاعدگی سے اجاگرکیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اورروس کے تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں جس میں تجارتی واقتصادی تعلقات اورتوانائی کے تعاون پرتوجہ مرکوزکی گئی ہے۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان علاقائی استحکام کے لیے اہم ہے۔افغانستان کو سنگین انسانی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس نازک موڑ پر افغانستان کے عوام کے لیے بین الاقوامی برادری کی حمایت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

    وزیراعظم نے افغان عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے افغانستان کے مالیاتی اثاثوں کے اجراء کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون، اعلیٰ سطح کے تبادلے بڑھانے اور افغانستان سے متعلق معاملات پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا اورایک دوسرے کو اپنے ممالک کے دورے کی دعوت دی۔