Baaghi TV

Tag: پودے

  • پودوں کو خوراک، پانی کی بجائے کوڑے کرکٹ سےڈھانپ دیا

    پودوں کو خوراک، پانی کی بجائے کوڑے کرکٹ سےڈھانپ دیا

    قصور
    پودوں کو خوراک،پانی کی بجائے کورا کرکٹ سے ڈھانپ دیا گیا،پودے سوکھنے لگے،
    ڈپٹی کمشنر سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث گرین بیلٹ پر لگے پودوں کو پانی و خوراک دینے کی بجائے
    کوڑا کرکٹ دیا جا رہا ہے
    کورے کرکٹ سے بھری ٹرالیاں پورے شہر سے اکٹھی کرکے پودوں کی جڑوں میں سٹاک کی جا رہی ہیں جس سے گرین اینڈ کلین پنجاب کی دھجیاں بکھر کر رہ گئی ہیں اور پودے سوکھنا شروع ہو گئے ہیں
    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ سخت گرمی کے موسم میں پودوں کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کی جائے تاکہ گرمی کی سخت میں سڑکوں پہ مسافروں کو گرمی سے بچنے میں مدد ملے

  • اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں،تحقیق

    اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں،تحقیق

    تل ابیب: ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: ماضی میں کی جانے والے ایک تحقیق میں سینسر کو استعمال کرتے ہوئے پودوں سے نکلنے والی الٹرا سونک لہروں کو ریکارڈ کیا جاچکا ہےحال ہی میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں پہلی بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ پودے آواز نکالتے ہیں جس کے متعلق محققین نے اندازہ لگایا کہ تیز سماعت رکھنے والے جانور یہ آوازیں 16 فٹ کی دوری سے سن سکتے ہیں۔

    100 دن کیلئےزیرآب موجود سائنسدان کا نئی نوع دریافت کرنےکا دعویٰ

    سائنسئ جرنل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں مصنفین نے پایا کہ جن پودوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے یا جن کے تنوں کو حال ہی میں کاٹا گیا ہے وہ فی گھنٹہ تقریباً 35 آوازیں پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اچھی طرح سے ہائیڈریٹڈ اور کٹے ہوئے پودے زیادہ پرسکون ہوتے ہیں، جو فی گھنٹہ صرف ایک آواز پیدا کرتے ہیں۔

    آپ نے شاید کبھی پیاسے پودے کو شور کرتے نہیں سنا ہوگا کہ آوازیں الٹراسونک ہیں تقریباً 20-100 کلو ہرٹز۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اتنے اونچے ہیں کہ بہت کم انسان انہیں سن سکتے ہیں۔ کچھ جانور، تاہم، شاید کر سکتے ہیں چمگادڑ، چوہے اور کیڑے ممکنہ طور پر پودوں کی آوازوں سے بھری ہوئی دنیا میں رہ سکتے ہیں، اور اسی ٹیم کےپچھلے کام سے پتہ چلا ہےکہ پودے بھی جانوروں کی آوازوں کا جواب دیتے ہیں۔

    انسان چوںکہ بلند فریکوئنسی کی آواز نہیں سکتا اس لیے محققین نے ان آوازوں کی فریکوئنسی کم کی تاکہ ان آوازوں کی سماعت کی جاسکے اور اس طرح معلوم ہوا کہ ان آوازوں کی تیزی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی انسانی گفتگو کی ہوتی ہے۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    عام طور پر پودے پاپ کارن کے پھٹنے جیسی آوازیں ہر گھنٹے میں اوسطاً ایک سے کم بار نکالتے ہیں۔ ان آوازوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تنے میں بننے والے بلبلوں کے پھٹنے سے پیدا ہوتی ہیں۔

    لیکن تحقیق میں دیکھا گیا کہ ٹماٹر کے پودے جن کو پانچ دنوں تک پانی نہیں دیا گیا ان پودوں میں سے آوازیں زیادہ شدت کے ساتھ نکلیں۔ یہ پودے ہر دو منٹ میں اوسطاً ایک سے زیادہ بار ایسی آوازیں نکالتے تھے جب ان پودوں کو کاٹا جاتا تب یہ پودے ہر ڈھائی منٹ میں ایک تنبیہی آواز نکالتے تھے۔

    تحقیق میں شامل محقق ہاڈنی کا کہنا ہے کہ پودوں میں آواز کی ہڈی یا پھیپھڑے نہیں ہوتے ہیں۔ موجودہ نظریہ کہ پودے اپنے زائلم پر شور کا مرکز کیسے بناتے ہیں، وہ ٹیوبیں جو پانی اور غذائی اجزاء کو اپنی جڑوں سے اپنے تنوں اور پتوں تک پہنچاتی ہیں۔ زائلم میں پانی کو سطح کے تناؤ سے ایک ساتھ رکھا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پانی پینے کے تنکے سے چوسا جاتا ہے۔ جب زائلم میں ہوا کا بلبلہ بنتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے، تو یہ تھوڑا سا پاپنگ شور کر سکتا ہے، اور خشک سالی کے دباؤ کے دوران بلبلے کی تشکیل کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن درست طریقہ کار کو مزید مطالعہ کی ضرورت ہے-

    پاکستان میں فیس بک اور انسٹاگرام کو ویریفائیڈ کروانے کی فیس کتنی اور کن شرائط …

  • سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    آسٹریلوی سائنسدانوں نے خلائی مشن سے متعلق معلومات دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کی کوشش کریں گے۔

    باغی ٹی وی : اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی کوئنز لینڈ یونیورسٹی میں ماہر نباتیات بریٹ ویلیمز نے بتایا کہ چاند پر پودے لگانے کے ایک پرائیویٹ اسرائیلی مشن کے تحت پودوں کے بیجوں کو بیری شیٹ 2 خلائی جہاز کے ذریعے چاند پر لے جایا جائے گا جہاں انہیں ایک سیل بند چیمبر کے اندر پانی دیا جائے گا اور ان کے اگنے اور نشو و نما کی نگرانی کی جائے گی ۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    سائنسدان دیکھیں گے کہ پودے کس حد تک انتہائی شدید حالات کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور کتنی دیر میں اُگاؤ کا عمل شروع ہوتا ہے، ماہرین چاند پر ریسوریکشن گھاس کا بھی چناؤ کر سکتے ہیں جو بغیر پانی کے بھی زندہ رہ سکتی ہے۔

    آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کی پروفیسر کیٹلین برٹ نے کہا ہے کہ اگر چاند پر پودے اگانے کا نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئے تو پھر زمین پر بھی انتہائی مشکل ماحول میں خوراک اگانے کا سسٹم بنا سکیں گے۔

    محققین نے ایک بیان میں کہا کہ یہ منصوبہ خوراک، ادویات اور آکسیجن پیدا کرنے کے لیے پودوں کو اگانے کی جانب ایک ابتدائی قدم ہے، جو سب ہی چاند پر انسانی زندگی کے قیام کے لیے بہت اہم ہیں۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    کینبرا میں آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کیٹلن برٹ نے کہا کہ یہ تحقیق موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے غذائی تحفظ کے خدشات سے بھی منسلک ہے اگر آپ چاند پر پودوں کو اگانے کے لیے ایک نظام تشکیل دے سکتے ہیں، تو آپ زمین پر بھی کچھ مشکل ترین ماحول میں خوراک اگانے کا نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔

    اس پراجیکٹ کو لوریا ون نامی تنظیم چلا رہی ہے، جس میں آسٹریلیا اور اسرائیل کے سائنسدان شامل ہیں۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

  • دنیا کے سات مقدس ترین پودے

    دنیا کے سات مقدس ترین پودے

    انسانیت، روحانیت اور پودوں کا تعلق قدیم ہے بہت سی مذہبی روایات میں پودوں کو روحانی علامت، شفایابی، قوت بخشی اور بعض اوقات خدائی تعلق کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : موسیقارجانہوی ہیریسن نے ’مقدس نباتیات‘ کے نام سے ایک البم ترتیب دیا ہے جس میں سات قابل احترام سمجھے جانے والے پودوں کا ذکر ہے جس میں انہوں نے روشنی ڈالی ہے کہ ان مقدس پودوں میں کیا خصوصیات ہیں؟ کیا یہ پودے لوگوں کی زندگی میں ماضی کی طرح آج بھی اہمیت کے حامل ہیں؟ ان کا احترام کون لوگ کرتے ہیں؟ –

    مسلم، ہندو اور عیسائیوں کامشترکہ قبرستان

    کنول کا پھول: کنول کا پودا کیچڑ میں اگتا ہے اگرچہ اس کی جڑیں کیچڑ میں ہوتی ہیں لیکن کنول کا پھول پانی کے اوپر تیرتا دکھائی دیتا ہے مشرقی روحانیت کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ کنول کا پودا کئی معانی اور بیانیوں کی پرتیں ظاہر کرتا ہے ہندوؤں کے لیے کنول کا خوبصورت پھول زندگی اور پیداوار اور بودھوں کے نزدیک یہ پاکیزگی کی علامت ہے۔

    ہندو مذہب میں کنول کی کہانی کچھ یوں ہے کہ کنول بھگوان وشنو کی ناف سے ابھرا، اور اس پھول کے درمیان برہما بیٹھا ہوا تھا۔ کچھ کا خیال ہے کہ بھگوان کے ہاتھ اور پاؤں کنول جیسے ہیں اور اس کی آنکھیں کنول کی پتیوں کی طرح اور اس کے چھونے کا احساس کنول کی کلیوں کی طرح نرم۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    امربیل: آج کل امربیل کو عموماً کرسمس کے جادو سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن اس کو علامت سمجھنے کی تاریخ قدیم سیلٹک پیشواؤں کے دور سے تعلق رکھتی ہے انھیں یقین تھا کہ امربیل سورج کے دیوتا تارنس کا جوہر ہے، اور جس درخت کی شاخوں کے ساتھ امربیل بڑھتی ہے وہ درخت بھی مقدس ہو جاتا ہے سردیوں میں روحانی پیشوا بلوط کے درخت سے امربیل کو سنہری درانتی سے کاٹتا ہے یہ خاص پودا اور اس کے پھل رسومات یا ادویات کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

    ناگ پھنی: ناگ پھنی ایک چھوٹا سا گٹھلی کے بغیر کیکٹس کا پودا ہے جو امریکی ریاست ٹیکسس کی جنوب مغربی اور میکسیکو کے صحرائی علاقے میں قدرتی طور پر اگتا ہے اور اس کا استعمال مقامی افراد روحانی مقاصد کے لیے کرتے ہیں میکسیکو کے انڈینز اور شمالی امریکہ کے مقامی قبائیلیوں کا اعتقاد ہے کہ یہ مقدس پودا خدا کے ساتھ رابطے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اس کا استعمال دعائیہ تقریبات میں کیا جاتا ہے۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    روحانی طاقتوں کے لیے صرف مقامی قبائل ہی اس کا استعمال نہیں کرتے1950 کی دہائی سے فنکار، موسیقار اور مصنفین بھی اس کا استعمال کر رہے ہیں کین کیسی کا دعویٰ تھا کہ ‘ون فلیو اوور دی ککوز نیسٹ’ کے ابتدائی صفحات لکھتے ہوئے وہ ناگ پھنی کے نشے میں تھے۔

    تلسی: ہندو مذہب کے مطابق دیوی ورندا نے بھگوان کرشنا اور اس کے پیروکاروں کی خدمت کرتے ہوئے وندراون کی مقدس زمین کی حفاظت کی تھی اگرچہ یہ دیوی انسانی شکل میں تھیں لیکن قدیم تحریروں کے مطابق کرشنا نے بذات خود انھیں تلسی کا پودا بننے کا کہا تھا، جس کی وجہ سے اب تلسی مقدس کہلاتی ہے دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں ہندو اپنے گھروں اور مندروں میں تلسی کی پوجا کرتے ہیں۔

    برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    صنوبر کا درخت:صنوبر کی ایک قسم یئو سدا بہار درخت ہے جسے تولید اور ابدی زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس درخت کی شاخیں جھک کر دوبارہ زمین میں داخل ہو جاتی ہیں اور ان سے نئے تنے جنم لیتے ہیں اس کے علاوہ یئو پرانے درخت کے کھوکھلے تنے سے بھی اگ سکتی ہے۔ اس لیے یہ تعجب کی بات نہیں کہ اسے تولید اور زرخیزی کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    بھنگ: بھنگ راستافاری فرقے کے ماننے والوں کے نزدیک انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بائبل میں جسے ’زندگی کا درخت‘ کہا گیا ہے وہ بھنگ کا پودا ہے اور اس کا استعمال مقدس ہے وہ اس بارے میں بائبل سے کئی حوالے پیش کرتے ہیں اگرچہ اس پودے کو کئی نام دیئے جاتے ہیں (بھنگ، گانجا) لیکن راستافاری اسے مقدس جڑی بوٹی یا حکمت کی بوٹی کہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اسے نوش کرنے سے حکمت و دانائی حاصل ہوتی ہے اس کو سگریٹ یا چلم پائپ کے ذریعے پیا جاتا ہے اور اس سے قبل خصوصی دعا کی جاتی ہے

    اوسیمم بازلیکم: اس کا سب سے زیادہ استعمال پیزا اور پاستا ساس میں ہوتا ہے لیکن آرتھوڈاکس مسیحیت اور یونانی چرچ میں یہ ایک مقدس بوٹی ہے آرتھوڈوکس مسیحیوں کا یقین ہے کہ یہ بوٹی وہاں اگی جہاں یسوع مسیح کا خون ان کے مقبرے کے نزدیک گرا تھا، اس وقت یہ اس کو صلیب کے ساتھ عبادات سے منسلک کیا جاتا ہے پادری مقدس پانی کو پاک کرنے اور لوگوں کے اجتماع پر پانی کے چھڑکاؤ‌ کے لیے اس کی شاخوں کا استعمال کرتے ہیں۔

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

  • سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے

    سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے

    فلوریڈا:سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے،اطلاعات کے مطابق سائنسدان پہلی بار چاند کی مٹی میں پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اس پیشرفت کو تاریخ ساز قرار دیا جارہا ہے۔

    چاند پر بھیجنے والے اپولو مشنز میں جمع کی گئی چاند کی مٹی کے نمونوں میں پودوں کو اگایا گیا ۔یہ پہلی بار ہے جب زمین میں کسی اور خلائی مقام کی مٹی میں پودوں کو اگایا گیا ہے۔

    پودوں کی افزائش کی اس تحقیق کو چاند میں خوراک اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے جہاں ناسا کی جانب سے آرٹیمس پروگرام کے تحت پہلی بار ایک خاتون اور ایک سیاہ فام مرد کو رواں دہائی کے آخر تک بھیجنے پر غور کیا جارہا ہے۔

    مگر اس تجربے سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ چاند کی سطح پر پودوں کو اگانا کتنا مشکل ہے کیونکہ یہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

    چاند کی مٹی میں پودوں کو اگانے میں کامیابی امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہرین نے حاصل کی اور ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ثابت کرنے میں مدد ملی کہ چاند کی مٹی کے نمونوں میں جراثیم یا ایسے نامعلوم اجزا نہیں جو زندگی کے لیے خطرناک ہوں۔مگر انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ پودے چاند کی مٹی میں صحیح معنوں میں اگ نہیں سکے۔

    تحقیق میں شامل روب فیرل کا کہنا تھا کہ مستقبل میں طویل خلائی مشنز میں ہم ممکنہ طور پر چاند کو ایک ہب یا لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کریں گے، تو تصور کریں کہ اگر ہم چاند کی مٹی میں پودے اگاتے ہیں جو پودوں کے ارتقائی تجربے سے بالکل مختلف ہوگا تو پھر کیا ہوگا؟

    اس تحقیق کے لیے سائنسدان کئی برسوں سے کام کررہے ہیں، 15 سال قبل انہوں نے چاند کے نمونے فراہم کرنے کی درخواست کی تھی اور اس کی منظوری 18 ماہ قبل دی گئی۔

    ناسا کے اپولو 17 مشن میں جمع کی گئی چاند کی 4 گرام مٹی سب سے پہلے محققین کو دی گئی ، بعد ازاں مختلف اپولو مشنز کے نمونوں سے بھی مٹی فراہم کی گئی، جس کی مجموعی مقدار 12 گرام تھی۔

    سائنسدانوں نے انگوٹھے کے حجم کی ایسی پلاسٹک ٹرے کو گملے کے طور پر استعمال کیا گیا جن کو عموماً خلیات کی تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس کے بعد ہر گملے کو چاند کی ایک گرام مٹی سے بھرا گیا ، پھر مختلف اجزا اور پانی کا اضافہ کرکے ان میں میتھی کے بیج بوئے ۔

    ان بیجوں کوآتش فشاں کی راکھ اور دیگر شدید ماحول کے نمونوں میں بھی کاشت کیا گیا اور محققین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے چاند کی مٹی میں بوئے گئے لگ بھگ تمام بیج اگنے لگے۔

    مگر اس مٹی میں پودوں کو نشوونما کے لیے جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے پتے بڑھنے میں عام معمول سے کافی زیادہ وقت لگا جبکہ ان کی رنگت میں سرخی مائل سیاہ ہوگئی۔اس تحقیق کے نتائج جرنل کمیونیکشنز بائیولوجی میں شائع ہوئے۔

  • 14 ہزار پودے لگائے گئے

    14 ہزار پودے لگائے گئے

    قصور
    چھانگا مانگا جنگل میں ٹائیگر فورس پلانٹیشن ڈے بھرپور طریقے سے منایا گیا جس میں 14ہزار پودے مختلف قسم کے لگائے گئے
    تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر بہبود آبادی کرنل (ر) ہاشم ڈوگر، ضلعی کوارڈنیٹر ٹائیگر فورس ندیم ہارون اور ڈپٹی کمشنر منظر جاوید علی کی چھانگا مانگا جنگل میں ٹائیگر فورس پلانٹیشن ڈے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہ درخت کسی بھی ملک کا قابل قدر اور قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جو معاشی اور ماحولیاتی حالت کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں‘مون سون شجرکاری مہم ہمارے ماحول کو آلودگی سے پاک کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور آنیوالی نئی نسلوں کو سر سبز و صاف ستھرا ماحول میسر آئے گا پودے ہماری آنیوالی نسلوں کیلئے قیمتی اثاثہ ہیں،ملک بھر میں ٹائیگر فورس کے تعاون سے شجر کاری مہم کو بھرپور طریقے سے کامیاب بنایا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز چھانگا مانگا جنگل میں ٹائیگر فورس پلانٹیشن ڈےکے موقع پر پودا لگانے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قصور منظر جاوید علی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو عابد حسین بھٹی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل محمد کاشف ڈوگر، اسسٹنٹ کمشنرز قصور انعم زید، پتوکی آصف علی ڈوگر، کوٹ رادھاکشن نازیہ موہل،ضلعی کوارڈینیٹر ٹائیگر فورس قصور محمد ندیم ہارون، کوارڈینیٹر زٹائیگر فورس تحصیل قصور مہر محمد شبیر، چونیاں وقاص باقر، پتوکی محمد شکر باری، کوٹ رادھا کشن سید ظہیر الحسن شمسی، چیئر مین ڈسٹرکٹ اوورسیز پاکستانی کمیٹی چوہدری مختار احمد، ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر چوہدری اسرار احمد انجم،ڈی او فارسٹ چھانگا مانگا رانا شاہد تبسم، ٹائیگر فورس کے جوانوں، سرکاری محکموں کے افسران اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ضلعی کوارڈینیٹر ٹائیگر فورس محمد ندیم ہارون نے ٹائیگر فورس کے جوانوں کا شکریہ ادا کیا ٹائیگر فورس کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے ان ملازمین کا شکریہ ادا کیا جاتا جن ملازمین نے دن رات محنت کر کے پودے لگائے کیونکہ ٹائیگر فورس نے کوئی ایک پودا نہیں لگایااور کریڈٹ ٹائیگر فورس کودیا گیا ہے۔ٹائیگر فورس کے جوانوں نےٹائیگر فورس کی جیکٹ پہن کر انہوں نے تو ہر پودے کے ساتھ کھڑے ہو کر سلفی بنائی اور سلفیاں بناتے رہے۔ بلکہ اسے سلفی فورس کہا جانا چاہیے۔ تمام تر پودے محکمہ جنگلات کے ملازمین نے لگائے ہیں۔ ہم ڈی ایف او فارسٹ اور ملازمین کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اتنی محنت کی