Baaghi TV

Tag: پولیس حکام

  • چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے وقت پولیس کے ساتھ گفتگوسا منے آ گئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے وقت پولیس کے ساتھ گفتگوسا منے آ گئی

    لاہور: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے وقت پولیس کے ساتھ گفتگو کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔

    باغی ٹی وی :نجی خبررساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عمران خان دوپہر کا کھانا شروع کر چکے تھے کہ پولیس انہیں گرفتار کرنے کیلئے داخل ہوئی چیئرمین پی ٹی آئی پولیس کو دیکھ کر حیران ہوگئے پولیس نے عمران خان کے گارڈز کو گھر کے احاطے میں ہی روک دیا-

    رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے عمران خان کو بتایا کہ عدالت کے حکم پر آپ کی گرفتاری کا حکم آیا ہے عمران خان نے کہا کہ مجھے پتا تھا کوئی ایسی چیز ضرور ہو گی پولیس حکام نے کہا کہ آپ کو بعد میں لنچ کروا دیں گے، اس وقت گرفتاری ضروری ہے۔

    عمران خان کی گرفتاری پر بلاول بھٹو کا تبصرہ،مخالف جماعتوں میں مٹھائیاں تقسیم

    ذرائع کے مطابق خفیہ مقام پر ایک دفعہ پھر چیئرمین پی ٹی آئی کا پولیس کے ساتھ مکالمہ ہوا، عمران خان نے کہا کہ آپ نے مجھے لنچ نہیں کرنے دیا ، مجھے بھوک لگی ہے۔ جب مجھے گرفتار کیا گیا اس وقت میں نے کھانا شروع ہی کیا تھا عمران خان نے پولیس سے اصرار کیا کہ مجھے دوپہر کا کھانا کھانا ہےجس پر پولیس حکام نےانہیں جواب دیا کہ اس وقت آپ کو عدالت کے حکم پر اسلام آباد منتقل کرنا ضروری ہے ، کھانا بعد میں دیکھیں گے۔

    عمران خان کی گرفتاری: شاہ محمود قریشی پارٹی کو لیڈ کریں گے

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے عمران خان کو توشہ خانہ فوجداری کیس میں 5 برس کے لئے نا اہل اور 3 سال قید کی سزا سنائی ہے عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیاعدالت نے فیصلےمیں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کرالیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے-

    عمران خان کی گرفتاری پر بلاول بھٹو کا تبصرہ،مخالف جماعتوں میں مٹھائیاں تقسیم

  • مری سانحہ: اسسٹنٹ کمشنرمری، ڈی سی راولپنڈی اور سی ٹی او کےخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر

    مری سانحہ: اسسٹنٹ کمشنرمری، ڈی سی راولپنڈی اور سی ٹی او کےخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر

    مری میں برف باری سے ہلاکتوں کا معاملہ : راولپنڈی تھانہ میں پولیس حکام کے خلاف مقدمے کی درخواست دائر کرا دی گئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے تھانہ سول لائین میں اسسٹنٹ کمشنر مری، ڈی سی راولپنڈی اور سی ٹی او کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کرائی گئی-

    درخواست میں درخواست گزارایڈووکیٹ شہناز بیگم جو ڈسٹرکٹ کورٹ راولپنڈی میں پریکٹس کرتی ہیں نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی پیش گوئی کردی تھی کہ برف باری ہونی ہے اور سیاحوں کا رش پڑنا ہے انتظامیہ نے بروقت انتظامات کرتے تھے لیکن اموات انتظامیہ کی لاپرواہی سے ہوئی-

    مری میں ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے،ابھی تک انگریزوں کےڈھانچے پر چل رہا ہے،حماد اظہر

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اسسٹںٹ کمشنر مری ، سی ٹی او ،ڈی سی او اور 1122 ان تمام کی غفلت اور لاپرواہی سے لوگوں کی قیمتی جانیں اور مال کانقصان ہوا ان تمام کے خلاف مقدمہ درج کرکے کروائی کی جائے تاکہ ایسے واقعات آئندہ نہ ہوں-

    واضح رہے کہ قبل ازیں اپوزیشن جماعتوں نے سانحہ مری کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا کہ سانحہ انتظامی ناکامی ، مجرمانہ غفلت اور قتلِ عام ہے مری میں پھنسے ہوئے لوگوں کا کوئی پوچھنے والا نہیں تھا لوگ مرتے رہے مگر 20 گھنٹوں تک کسی نے نہیں پوچھا جب کہ ایک نیروسانحے کے وقت اسلام آباد میں سویا ہوا تھا اور دوسرا نیرو پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی آڑ میں دھاندلی کرنے میں مصروف تھا۔

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

    انہوں نے کہا کہ مری میں کوئی انتظام نہیں تھا، ٹریفک پولیس بھی موجود نہیں تھی برف ہٹانےکا کام سی اینڈڈبلیو والوں کا ہے لیکن وہ بھی موجود نہیں تھےانہوں نے ں استفسار کیا کہ مری میں سیاحوں کے لیے کیا انتظامات کیے گئے تھے؟ محکمہ موسمیات کے الرٹ کے باوجود انتظامات کیوں نہیں کیے گئے تھے؟ اگر رش بے پناہ تھا تو سیاحوں کو جانے سے روکنے کے لیے کیا انتظامات کیے گئے تھے؟

    انہوں نے کہا کہ 23 لوگوں کا قتل حکومت وقت کے سر پر ہے ان کا کہنا تھا کہ سانحہ مری نا اہلی کا فعل تھا جس کی معافی نہیں ہے وزیراعظم نے کہا انتظامیہ تیار نہیں تھی تو آپ کس مرض کی دوا ہیں ، استعفیٰ دیں اور گھر جائیں۔

    کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے…

    اس موقع پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہاکہ عمران خان اور عثمان بزدار عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ، یہ سیاست سے پہلے انسانیت سیکھیں ہ جو شخص بھی مشکل میں ہو اس کی مدد کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ہم مری میں پھنسے ہوئے لوگوں کی وہ مدد نہیں کرسکے جو کرنی چاہیے تھی جب لاکھوں لوگ مری پہنچے تووزیرصاحب نے ویلکم کیا کہ معیشت بہترہو گئی ہے مگر دوسرے ہی دن اسی وزیر صاحب نے کہا کہ اتنے لوگوں کو مری نہیں جانا چاہیے تھاسانحہ مری کے وقت وزیراعلیٰ پنجاب پی ٹی آئی کی میٹنگ میں مصروف تھے اور جب معاملہ مینج ہو گیا تو مری کا فضائی دورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مری نہیں جا سکتے تھے تو متاثرہ خاندانوں کے پاس ہی چلے جاتے۔

    مری میں سیاحوں کا داخلہ غیر معینہ مدت کے لئے بند