Baaghi TV

Tag: پٹرولیم

  • ڈاکٹر مصدق ملک نالائق انسان،گیس تیل کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن

    ڈاکٹر مصدق ملک نالائق انسان،گیس تیل کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نیا سال شروع ہو چکا ہے، 2025 کا پہلا شو ہے جوپاکستان میں کرپشن کی اعلیٰ ترین مثال ہے کہ کس لیول کی کرپشن ہو رہی ہے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امپورٹ میں بڑا حصہ پٹرولیم کی امپورٹ کا ہے، 35 سے 40 فیصد اسکا حصہ ہے،اسی پر حکومت یا ریزور یا عام عوام کی جیب سب متاثر ہوتے ہیں، کسی نے پٹرول ،ڈیزل بھرواناہےکسی نے انرجی کے لئے استعمال کرنا ہے، پچھلے دنوں مجھے پتہ چلا کہ پاکستان میں کرپشن کو ایک جگہ بند کرنا ہو تو اسکو بڑے آرام سے او جی ڈی سی میں بند کر سکتے ہیں، اوجی ڈی سی پاکستان کا سب سے کرپٹ ادارہ ہے، اس میں لالچ ہے، کاروائی ہے جو ہمارے بیوروکریٹ نے ڈالی ہے، کیا مصدق ملک نالائق ہیں،کیا چیئرمین او جی ڈی سی کو کام نہیں آتا ،ہو کیا رہا ہے؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں اس پر تفصیلی پروگرام بھی کروں گا کہ پاکستان میں تیل کے نام پر کیسے فراڈ ہو رہا ہے، اوجی ڈی سی پوری طرح ڈرلنگ کرتا ہے تو میرا دعویٰ ہے کہ ایک ڈالر کا بھی پٹرولیم مصنوعات امپورٹ نہیں کرنا پڑتا، تمام ضروریات لوکلی پوری کر سکتے ہیں، خام تیل کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے، ملکی معیشت کے لئے ایک المیہ ہے ، گیس کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے،کمی 4.4 فیصد سالانہ ہے،سال 2023 میں ٹوٹل 47 کنویں کھودے گئے،15 تلاشی اور 32 ترقیاتی کنویں، او جی ڈی سی نے دس کنویں ، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے 8 کنویں، ماڑی پور پٹرولیم نے تین کنویں، بے شمار مسائل سامنے آئے، پاکستان پٹرولیم نے کنواں جو 16 ہزار فٹ ہے جس کو ڈرل کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگا، اس کا موازنہ امریکا سے کیا جائے تو امریکہ میں یہی ایک کنواں 3 ہفتوں میں اور پیسے بھی کم لگے، امریکی کنویں 10 ہزار فٹ عمومی دس ملین ڈالر کی لاگت میں کھودا جاتا ہے، 20 ملین ڈالر کی لاگت سے تین کنویں انہوں نے کھودے ، وہ کام جس کی لاگت امریکا میں سات ہزار ڈالر ہے وہ کام پاکستان میں ایک لاکھ بیس ہزار ڈالرمیں کیا جا رہاہے، کمپنی کے شراکت دار سب سے پہلے ماڑی پور پٹرولیم ہے، دوسرے نمبر پر پاکستان پٹرولیم ہے ،اسکے بعد اوجی ڈی سی، جس کے ذریعے روزانہ خالص ،خام تیل ، گیس کی پیداوار ہے، حیران کن طور پر آپریٹنگ اور ترقی اخراجات میں ناکامی ہے، کمپنیوں کو چونا لگایا جا رہا ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مہنگی گیس اور پٹرول حقیقت میں یہ کرپشن کا بازار گرم ہوتا ہے،

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

  • پٹرولیم کمپنیاں کام کی بجائےبینک میں رقم رکھ کر سود کھارہیں،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    پٹرولیم کمپنیاں کام کی بجائےبینک میں رقم رکھ کر سود کھارہیں،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    اسلام آباد (محمد اویس) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم میں انکشاف ہوا ہے کہ پیٹرولیم کمپنیوں کا سی ایس آر کے پیسے بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں اور ڈسٹرکٹ ویلفیر کمیٹی غیر فعال ہونے کی وجہ سے کوئی فلاحی کام تیل وگیس نکلنے والے اضلاع میں نہیں ہورہاہے،بینکوں میں 6ارب روپے سے زائد رقم پڑی ہے فلاحی کام نہ ہونے کی وجہ سے متعلقہ علاقوں میں تیل و گیس کا کام کرنے والی کمپنیوں کو آپریشن میں شدید مشکلات ہیں مقامی لوگ ہم سے خوش نہیں ہیں ،ممبر کمیٹی شاہد خٹک نے کمیٹی میں انکشاف کیا کہ کمپنیاں خود کام نہیں کرتی اور بینک میں یہ رقم رکھ کر سود کھارہی ہیں۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس چیئرمین سید مصطفی محمود کی زیر صدرات ہوا ۔اجلاس میں ممبر کمیٹی سردار غلام عباس،شیزرا منصب،انور الحق ،صلاح الدین جونیجو، شاہد خٹک ،ودیگرممبران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم سمیت ملکی و غیر ملکی تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کے سربراہان و نمائندوں نے شرکت کی ۔سی ایس آر فنڈز کے حوالے سے حکام نے بریفنگ دی گئی ۔ تیل کی تلاش کے دوران کمپنی کو سی ایس آر کی مد میں زون ون ٹو اور تری میں 30ہزار ڈالر سالانہ دینے ہوتے ہیں ،2ہزار بیرل تک پرڈکشن شروع ہوجائے تو پرانے پالیسی کے تحت سالانہ 20ہزار ڈالر اور نئی پالیسی 2009اور 2012کے تحت زون ون میں 50ہزار اور زون ٹو اور تری میں 37ہزار پانچ سو دینے ہوتے ہیں ،سی ایس آر کے استعمال کے لیے 2021کی پالیسی کے لیے ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر کمیٹی بنائی جاتی ہے جس کا چیئرمین وفاقی وزیر لگاتا ہے جو ایم این اے یا ایم پی اے ہوتا ہے سی ایس آر کے تحت فلاحی منصوبوں کی منظوری کی کمیٹی وزیر کے ماتحت اور اس کمیٹی میں متعلقہ ایم این اے شامل ہوگا ۔ممبر کمیٹی نے کہاکہ سی ایس آر میں پیسے جمع ہوئے ہیں مگر استعمال نہیں ہورہاہے ۔پی پی ایل کمپنی کے حکام نے بتایا کہ کمیٹی کی عدم تشکیل کی وجہ سے پیسے جمع ہیں مگر استعمال نہیں ہورہے کمیٹی فعال ہوجائے تو اس سے پیسے لگنا شروع ہوجائیں گے ۔ پیسے خرچ نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگ کمپنی کے آپریشن میں رکاوٹ ڈالتے ہیں ۔

    حکام نے کہاکہ ملک میں تیل و گیس کی تلاش کرنے والی 10غیر ملکی اور 9ملکی کمپنیاں کام کررہی ہیں ۔ کمیٹی نے تیل اور گیس کی تلاش و پیداواری علاقوں میں فنڈز کا استعمال نہ ہونے کا انکشاف ہوا ۔متعلقہ علاقوں میں فنڈز استعمال پر فیصلہ سازی کرنے والی کمیٹیاں فعال نہیں ۔جلد ہی یہ کمیٹیاں بن جائیں گی ۔رکن کمیٹی اسدعالم نیازی نے کہاکہ کمیٹیاں نہ ہونے سے تیل و گیس کی پیداواری کمپنیوں کی طرف سے فلاحی منصوبوں پر فندنگ رک چکی ۔پٹرولیم کمپنیوں کے سوشل ویلفیئر فنڈز صرف 22 فیصد استعمال ہونے کا انکشاف ہوا۔حکام نے بتایا کہ کے پی کے سوشل ویلفیئر اکاونٹ میں 1 ارب 44 کروڑ روپے پڑے ہیں، پنجاب کے سوشل ویلفیئر اکاونٹ میں 1 ارب 31 کروڑ پڑے ہیں، پنجاب میں اس وقت تک 42 کروڑ 74 لاکھ فنڈز خرچ کیے گئے ہیں، 19 پٹرولیم کمپنیاں سی ایس آر میں اپنے فنڈز جمع کرا دیتی ہیں، سی ایس آر فنڈز استعمال کرنے کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ کی ہوتی ہے، ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل نہ دینے کے باعث فنڈز استعمال نہیں ہوئے، سی ایس آر فنڈز اگر متعلقہ شہروں میں لگے تو نمایاں ترقی ہوگی،

    ممبران کمیٹی نے کہاکہ سی ایس آر فنڈز متعلقہ شہروں کے عوام کی فلاح پر خرچ ہونا چاہئیں، ممبر شاہد خٹک نے کہاکہ فنڈز کے پیسے اس لیے نہیں ہوتے کمپنیاں سود پر پیسے لے رہی ہیں، یہ فنڈز سے پیسے نکال کر ٹرسٹ اکاونٹ میں ڈال دیتے ہیں، ممبر کمیٹی نے کہاکہ فنڈز کے استعمال میں رکاوٹ مقامی نمائندوں کی آپس کی مخالفت ہے، کیوں نہ کمپنیوں کو سی ایس آر فنڈز خرچ کرنے کا اختیار دیا جائے، شہروں میں سوشل ویلفیئر کے کئی منصوبے ہوتے ہیں یہ رقم استعمال کیوں نہیں ہوئی، حکام نے بتایا کہ کمپینوں نے اس وقت سی ایس أر فنڈز کی مدمیں 9ارب 95کروڑ جمع کرائے ہیں اس وقت مختص رقم میں سے محض 3ارب 70کروڑ استعمال ہوسکے ۔6 ارب 24کروڑ کی رقم اب تک خرچ نہیں ہوسکی،قائمہ کمیٹی نےسی ایس آر کے معاملے پر سب کمیٹی بنانے کافیصلہ کرلیا. جس کی باقاعدہ منظوری اگلے کمیٹی اجلاس میں دی جائے گئی ۔ذیلی کمیٹی سوشل ویلفیئر فنڈز کے استعمال میں رکاوٹوں کا تعین کرے گی کمیٹی سی ایس آر فنڈز کے استعمال سے متعلق سفارشات بھی دے گی،ممبر کمیٹی شاہد خٹک نے کہاکہ کمپنیاں سی ایس آر کے پیسے بینکوں میں رکھتے ہیں اور اس پر سود لے رہے ہیں اور عوام پر نہیں لگارہے ہیں۔ پیسوں کے خرچ نہ ہونے پر سب سے زیادہ قصور کمپنیوں کا ہے جو پیسے جاری نہیں کرتے ۔

    کمپنیوں کے نمائندوں نے کمیٹی سے سے اپیل کی کہ سی ایس آر کے پیسے پڑے ہوئے ہیں کمیٹی ہو جلد ازجلد فعال کیا جائے تو ہی پیسے خرچ ہوسکیں گے ۔ مول کے نمائندے نے کہاکہ کوہاٹ میں پیسے جاری نہیں ہورہے کیس کاپریشر کم ہوتا ہے تو مقامی لوگ ہمارے گیٹ بند کردیتے ہیں۔ کمپنیوں کے نمائندے نے موقف دیتے ہوئے کہاکہ پیٹرولیم کمپنیوں کے لیے سیکورٹی کے مسائل شدید ہو رہے ہیں ،سیکورٹی مسائل کی وجہ سے ہمارے مالی معاملات متاثر ہو رہے ہیں ،جب سے فنڈز کمپنیوں سے کمیٹیوں کے پاس گئے ہیں فنڈز استعمال نہیں ہو پا رہے،جب فنڈز کمپنیوں کے کنٹرول میں تھے ہم نے علاقے میں میگا پراجیکٹس کیے،ممبر کمیٹی شاہد احمد نے کہاکہ کمپنیاں تاثر دے رہی ہیں کہ تمام مسائل سیاستدانوں کی وجہ سے ہیں ، ان کے سی ایس آر فنڈ کا آڈٹ کیا جائے،عوامی نمائندوں کی مشاورت کے بغیر منصوبے کامیاب نہیں ہو سکتے، پولش پیٹرولیم کمپنی کے سربراہ نے کہاکہ لوگ ہم سے خوش نہیں ہیں ، ہم لوگوں پر خرچ کر رہے ہیں ، سی ایس آر کی رقم خرچ نہیں ہو رہی،دو سال سے رقم خرچ نہیں کی گئی ہے، لوگوں کے مطالبات روز بروز بڑھ رہے ہیں

  • پیٹرولیم اور گیس کمپنیوں کا پاکستان میں  5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    پیٹرولیم اور گیس کمپنیوں کا پاکستان میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے پیٹرولیم اور گیس کے شعبے کی تلاش و پیداواری کمپنیوں کے وفد کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے

    ملکی و غیر ملکی پیٹرولیم اور گیس کے تلاش و پیداواری شعبے نے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کر دیا،پیٹرولیم اور گیس کی تلاش و پیداواری کمپنیوں نے پاکستان میں آئندہ تین سال میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کر دیا، وفد کے شرکاء کا کہنا تھا کہ آپ پہلے وزیرِاعظم ہیں جو سنجیدگی سے اس شعبے پر توجہ دے رہے ہیں.پیٹرولیم اور گیس کی تلاش و پیداواری شعبے کو مشاورتی عمل کا حصہ بنانے، ان کے مسائل سننے اور ان کا سنجیدگی سے حل ڈھونڈنے پر آپ کے مشکور ہیں۔

    وفد نے اجلاس کو بریفنگ دی اور کہا کہ تین سال میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے پیٹرولیم اور گیس کی پاکستان میں تلاش کیلئے 240 جگہ کھدائی کی جائے گی۔

    وزیرِاعظم نے پیٹرولیم اور گیس کی تلاش و پیداواری کمپنیوں کو آف شور ذخائر ڈھونڈنے کی دعوت دے دی۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مقامی سطح پر تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش ہماری اولین ترجیح ہے۔ پاکستان تیل اور گیس کی درآمد پر ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔مقامی ذخائر سے پیداوار سے پاکستان کا قیمتی زرمبادلہ بچے گا اور عام آدمی کیلئے ایندھن اور گیس سستے ہونگے۔

    وزیرِاعظم نے متعلقہ حکام کو شعبے کے تمام مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر حل پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔وزیرِاعظم نے نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی جس میں متعلقہ حکام، سیکرٹریز اور ماہرین شامل ہونگے۔کمیٹی شعبے کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد ملک میں پیٹرولیم و گیس کے ذخائر کی تلاش و ترقی کیلئے پرکشش پالیسی تشکیل دینے کیلئے تجاویز مرتب کرے گی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِاعظم کی شعبے کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے اور حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کی وجہ سے پیٹرولیم اور گیس کی تلاش و پیداواری کمپنیاں آئندہ تین برس میں پاکستان میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔ اس سرمایہ کاری سے ملک کی تیل اور گیس کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ اس وقت پاکستان میں مقامی طور پر پیٹرولیم کی یومیہ پیداوار 70998 بیرل جبکہ 3131 MMSCFD گیس پیدا کی جا رہی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بنک نے اجلاس کو بتایا کہ وزیرِاعظم کی خصوصی ہدایت پر تیل اور گیس کی تلاش و پیداواری کمپنیوں کے منافع کی مد میں تمام ترسیلاتِ زر ان کے ممالک میں بھجوائی جا چکی ہیں۔

    وزیرِاعظم نے متعلقہ حکام کو شعبے کے تمام مسائل حل کرنے اور تشکیل شدہ کمیٹی کو پالیسی تجاویز جلد پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ملاقات میں ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے نمائندگان کے ساتھ ساتھ نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، سید محسن رضا نقوی، انجینئر امیر مقام، احسن اقبال، سردار اویس خان لغاری، گورنر اسٹیٹ بنک جمیل احمد، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جہانزیب خان، وزیرِاعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل، چیئرمین ایف بی آر امجد زبیر ٹوانہ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

  • مذاکرات کامیاب،آئل ٹینکرز اونر ایسوسی ایشن کی ہڑتال ختم

    مذاکرات کامیاب،آئل ٹینکرز اونر ایسوسی ایشن کی ہڑتال ختم

    آئل ٹینکرز اونر ایسوسی ایشن اور اسلام آباد ضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے

    10 دن میں وزارت پٹرولیم میں سیکرٹری پیٹرولیم کے ساتھ میٹنگ ہوگی ، جمشید خان کا کہنا ہے کہ مطالبات حل کرانے کی یقین دہانی پر ہڑتال ختم کر دی گئی،

    قبل ازیں آئل ٹینکرز اونر ایسوسی ایشن نے تمام آئل ٹینکرز اپنے ڈپو میں علامتی احتجاج کے باعث کھڑے کر دیئے تھے. راولپنڈی آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن نے پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بند کر دی تھی۔ملک کے ہوائی اڈوں سمیت راولپنڈی، اسلام آباد، گلگت اور آزاد کشمیر ریجن کو سپلائی بند کی گئی ہے۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ہمارے مطالبات کی منظوری تک سپلائی کو معطل رکھا جائے گا۔آئل ٹینکرز اونر ایسوسی ایشن کے حکام کی پی ایس او مین ٹرمینل کے باہر نعرے بازی کی گئی، حکام کا کہنا ہے کہ ہمارے مطالبات کی عدم منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا،جڑواں شہروں میں پٹرول کی قلت کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہو گی،انتطامیہ کی جانب سے ناپ تول میں کمی کے خلاف پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بند رہے گی .انتظامیہ اور پی ایس او حکام 20 فروری کے معاہدے پر عمل درآمد کریں، ضلعی انتظامیہ نے پی ایس او مین ٹرمینل کے باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی ،

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • پیپلز پارٹی کی دعوت کے باوجود پی ٹی آئی نے تعمیری سیاست نہیں کی،مصدق ملک

    پیپلز پارٹی کی دعوت کے باوجود پی ٹی آئی نے تعمیری سیاست نہیں کی،مصدق ملک

    وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ہم سے پہلے پی ٹی آئی کو مل کر حکومت بنانے کے لیے کہا تھا۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اکثریت ملک گئی ہے تو آئیں ، پیپلز پارٹی کی دعوت کے باوجود پی ٹی آئی نے تعمیری سیاست نہیں کی، وہ چوکوں میں ہی آنا چاہتے ہیں، چوک میں ضرور آئیں پھر اکثریت کیوں کہتے ہیں، فوری طور پر آئین سازی، قانون سازی کرنا ضروری ہے، غربت، مہنگائی کے حوالہ سے اہم اقدامات کرنے ہیں ،دونوں ہاؤسز کا فعال ہونا ضروری ہے،یہی جمہوریت کی معراج ہے، پارلیمان کا مقصد عوام کی آواز کو پارلیمان میں لایا جائے اور عوامی مقدمہ آگے بڑھایا جائے، حکومت عوام کے حق میں قانون سازی کرے اور اپوزیشن بھی اپنا کردار ادا کرے،ہمیں امید ہے کہ تمام امیدوار کامیاب ہو جائیں گے ہمارے،

    مصدق ملک کا مزید کہنا تھاکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد اچھے انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، اس سے پہلے بھی غیر مشروط انداز میں پیپلز پارٹی نے سپورٹ کی تھی، ن لیگ کی اکثریت کا احترام کیا گیا کوئی لے دے، کوئی وعدہ وغیرہ نہیں کیا گیا، سیاسی استحکام آئے گا تو معاشی استحکام آئے گا، شہباز شریف پہلے بھی چارٹر آف اکنامک کی پیشکش کر چکے ہیں،آپس کی نوک جھوک چلتی رہتی ہے، ہمیں ملکی مفاد میں ایک ہونا چاہیے،بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت کبھی کم ہوتی ہے، کبھی بڑھتی ہےیوکرین روس جنگ کی وجہ سے حالات خراب ہیں، عالمی منڈی میں جب تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو سب متاثر ہوتے ہیں ، روپے اور ڈالر کی قیمت میں تناسب بھی اثر انداز ہوتا ہے، ڈالر کی قیمت بڑھنے سے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، ہم ڈالر میں خریدتے ہیں لیکن روپوں میں یہاں‌بیچتے ہیں، خام تیل کے سب سے بڑے سپلائر مشرق وسطیٰ ہیں جب وہاں بھی غیریقینی صورتحال ہو جنگ کی سی فضا ہو تو پھر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے.

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق خبریں،اوگرا کا موقف آ گیا

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق خبریں،اوگرا کا موقف آ گیا

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں،

    اوگرا ترجمان کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین آج رات کو کیا جائے گا،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے سے گریز کیا جائے، غلط معلومات کی وجہ سے مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں خلل پیدا ہوسکتا ہے،

    دوسری جانب اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی سمری وزارت خزانہ کو ارسال کر دی وزارت خزانہ وزیراعظم کی مشاورت کے بعد نئی قیمتوں کا اعلان کریگی ،قبل ازیں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت جتنا ریلیف عوام کو دے سکتی ہے دے رہی ہے. تیل میں کوئی سیلز ٹیکس شامل نہیں ہے، اور اب ہر 15روز بعد تیل کی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے جبکہ پہلے 30دن بعد تیل کی قیمت کا تعین کیا جاتا تھا. اور نیپرا اور اوگرا آزاد ادارے ہیں اس لیئے بجلی کے معاملات نیپرا کا ادارہ دیکھتا ہے حکومت نہیں دیکھتی ہے.اوگرا عالمی منڈی کی قیمتیں اور دیگر عنصر کو شامل کرکے قیمتوں کا تعین کرتی ہے، اور تیل کی قیمتیں حکومت نہیں اوگرا طے کرتی ہے اور ہاں چار سال کی غفلت 4 ماہ میں ٹھیک نہیں ہوسکتی ہے، حالانکہ ہم کہتے ہیں کہ انصاف کے نظام کو چلنا چاہیے اور جواب حکومتیں نہیں لیتیں، بلکہ عدالتیں لیتی ہیں

    یاد رہے کہ 29 اگست سے اب تک امریکی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں تقریباً 14 ڈالر تک کمی ہوچکی ، عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی تھی جبکہ پاکستان میں پیٹرول دن بدن مہنگا ہوتا جا رہا تھا اس سے قبل گزشتہ ماہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والے ممالک نے رواں ماہ ستمبر میں اپنی پیداوار میں قدرے اضافہ کرنے پر اتفاق کیا تھا تاکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    لوٹ مار کا نیا طریقہ، گاڑیوں میں پٹرول کی بجائے پانی بھر دیا گیا

  • پٹرول اتنا مہنگا ہو گیا کہ لوگوں نے اپنی گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں،سینیٹر تاج حیدر

    پٹرول اتنا مہنگا ہو گیا کہ لوگوں نے اپنی گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں،سینیٹر تاج حیدر

    ایوان بالا ء کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹرمحمد عبدالقادر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود پی ایس او کو نئے پیٹرول پمپس کیلئے لائسنس جاری نہ کرنے، اوگرا سے مختلف سیکٹرز کو گیس کی مقدار کی سپلائی کے تعین کے میکنزم، ایل این جی کی ایمپورٹ اور پرائیویٹ سیکٹرکو اس حوالے سے درپیش چلینجز باشمول سی این جی ایسوسی ایشن و دیگر اسٹیک ہولڈرز کے معاملات کے علاوہ عوامی عرضداشت نمبر 4750برائے پی پی ایل کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر پیٹرولیم اور سیکرٹری وزارت پیٹرولیم کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔ ممبران کمیٹی نے کہا کہ وہ ملک کے دور افتادہ علاقوں سے آ سکتے ہیں تو وزیر اور سیکرٹری کو بھی آنا چاہیے۔ کچھ سینیٹرزنے وزیر اور سیکرٹری پیٹرولیم کی عدم شرکت پر احتجاجاً کمیٹی اجلاس سے علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ گیس اور پیٹرولیم کے حوالے سے متعلقہ سیکٹرز کے لوگوں کوبلایا ہے تاکہ وہ اپنے مسائل بارے آگاہ کر سکیں۔ملک میں بجلی اور گیس کا سرکلر ڈیٹ بہت بڑھ چکا ہے اور دونوں شعبے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ گزشتہ برس 1100 ارب روپے کی بجلی کی مد میں سبسڈی دی گئی اور اس سال جو تخمینہ لگایا گیا ہے وہ 2000 ارب روپے کی سبسڈی کا ہے۔سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ پٹرول اتنا مہنگا ہو گیا کہ لوگوں نے اپنی گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں۔ یہی حال گیس کا ہے 30 فیصد گیس پائپ لائنوں میں لیکج سے ضائع ہو رہی موثر اقدامات اٹھانے سے بہتری آ سکتی ہے۔

    قائمہ کمیٹی کو سی این جی ایسوسی ایشن کے سربراہ غیاث پراچہ، کراچی چیمبر کے محمد جاوید، زبیر موتی والا، چھوٹی انڈسٹری کے نمائندہ رحمان جاوید نے سی این جی کے حوالے سے درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا۔ چیئرمین سی این جی ایسوسی ایشن غیاث پراچہ نے کہا کہ پنجاب میں سی این جی قلت کے باعث سات دسمبر سے سی این جی اسٹیشنز بند پڑ ے ہیں۔گیس کی طلب 12 سو مکعب ملین کیوبک فیٹ ہے اور شارٹ فال چار سے چھ سو مکعب ملین کیوبک فٹ ہے۔انہوں نے کہاکہ 2002 میں گیس کی ترجیح بندی کی گئی تھی۔2015 میں ایک پالیسی بنائی گئی کہ سی این جی اسٹیشنز کو قدرتی گیس نہیں دی جائے گی۔2017 میں اوگرا نے لائسنس دیا کہ پرائیوٹ سیکٹر اپنے وسائل سے گیس منگوا کر فروخت کریں بعد میں وہ بھی روک دیا گیا۔ اگر ہمیں اجازت مل جائے تو گاڑیوں کا 53 فیصد کرایہ کم ہو سکتا ہے۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ جنہوں نے عملدرآمد نہیں کیا انہیں سامنے لایا جائے اور عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

    کراچی چیمبر کے محمد جاوید نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ گزشتہ 25سالوں سے پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کو بریف کر رہے ہیں ہر چیز کا فیصلہ وزارت نے ہی کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گیس کے ڈومیسٹک ایک کروڑ کنکشنزہیں یہ دیکھاجائے کہ سبسڈی کس سیکٹر کوملتی ہے اور حکومت کو فائدہ کس سے ہوتا ہے۔ فرٹیلائز کو بھی سبسڈی پر گیس دی جاتی ہے اور باقی بڑی انڈسٹری سے کتنا فائدہ حکومت کو ملتا ہے۔ اگر گیس کایہ حال رہا تو بڑی صنعت بند ہوجائے گی اور وہ بنک کرپٹ ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لائن لاسسزکی تفصیلات بھی اوگرا سے پوچھی جائے۔ اگر ایکسپورٹرز کو گیس کی سپلائی مل جائے تو ایکسپورٹ میں نمایاں بہتری ہو سکتی ہے۔

    معروف بزنس مین زبیر موتی والا نے بھی قائمہ کمیٹی کو آن لائن مسائل بارے تفصیلی آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گیس کے حوالے سے انٹر نیشنل ٹینڈرنگ ہونی چاہیے۔مختصر، درمیانی اور طویل المدتی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔ نئے گیس کے ذخائز دریافت کرنے چاہیں 300 نئی صنعتیں گیس کے انتظار میں ہیں اگر گیس مل جائے تو بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔چھوٹی انڈسٹری کے نمائندے رحمان جاوید نے کہا کہ ملک میں چھوٹی انڈسٹری گیس کی قلت کی وجہ سے تباہی کی طرف جارہی ہے۔ چھوٹی انڈسٹری زیادہ تر بجلی پر چل رہی ہے۔ہمیں خود بجلی پیدا کرنے اور استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

    کمیٹی کو وزارت پیٹرولیم حکام نے بتایا کہا ملک میں سستی گیس کیلئے 75 فیصد لانگ ٹرم منصوبہ بندی ہے۔ دنیا بھر میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ کس سیکٹر کو کتنی گیس فراہم کی جائے۔ گیس ایمپورٹ کیلئے چار دفعہ پراسس کیا گیا مگر کوئی بھی پارٹی قانونی تقاضوں پر پوری نہ اتر سکی۔غیاث پراچہ نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو معاہدے کیے گئے سوئی سدرن کمپنی کا بورڈ ان کی منظوری نہیں دیتا۔معاہدے پر عملدرآمد کرایا جائے۔سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایم ڈی نے کہاکہ جو مسائل غیاث پراچہ نے بتائے ہیں ان کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہماری ہمدردی ان کے ساتھ ہے اضافی اسٹرکچر بنانا ہوگا۔ اتنی کپیسٹی نہیں ہے کہ سب کیلئے گیس فراہم کی جا سکے۔2016 میں 1200 ایم ایف سی ایف کی کپیسٹی تھی جو آج 670 پر آگئی ہے۔

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    چیئرمین اوگرا نے کہا کہ مسائل کا بیٹھ کر حل نکالنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی ایک اوپن پالیسی بنائی تھی اس پیٹرن کو مد نظر رکھاجاسکتا ہے۔جب تک دو ٹرمینل نہیں لگتے تب تک سی این جی ایسوسی ایشن کو 200 ایم ایم سی ایف گیس استعمال کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ سمال بزنس کے نمائندے نے کہاکہ کراچی میں کمپریسر مافیہ ختم کرنے سے بھی بہت سے مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیاکہ آر این جی اور قدرتی گیس کے حوالے سے پرائسنگ کے میکنزم پر حکومت کام کر رہی ہے۔

    ایڈیشنل سیکرٹری وزارت پیٹرولیم نے کہاکہ وہ تمام متعلقہ سیکٹرز جن کو گیس کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے وہ تحریری طور پر مسائل پیش کریں مل کر ان کا حل نکالا جائے گا۔جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ کچھ صنعتوں کو 4750 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو دی جارہی ہے اور کسی انڈسٹری کو 800 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اور کسی کو 1200 روپے دی جا رہی ہے۔ ان چیزوں کو ختم ہونا چاہیے معاملات کی بہتری کیلئے یکساں پالیسی اختیار کرنی چاہیے جو وقت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس سے بے شمار لوگوں کا استحصال ہوتا ہے اور لوگوں میں منفی تاثرات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ادارے جو کیپٹیو پاورسستی گیس سے پیدا کر رہے وہ فروخت کر تے ہیں اس کو بھی ٹھیک کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ اس کا مناسب ریٹ متعین ہونا چاہیے۔ بہتریہی ہے کہ وہ ایکسپورٹرز یا مقامی صنعت کو گیس فروخت کریں تاکہ ملک و قوم کا فائدہ ہو۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود پی ایس او کو نئے پیٹرول پمپس کیلئے لائسنس جاری نہ کرنے کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت پیٹرولیم نے کہا کہ اوگرا نے جو پیڑول پمپ لگانے کا پی ایس او کو کوٹہ دیا ہے پی ایس او نے 358 پہلے ہی سے زیادہ پیٹرول پمپس قائم کررکھے ہیں۔اب یہ سٹوریج کپیسٹی میں اضافہ کر یں یا پرانے پیٹرول پمپس کو ختم کر کے نئے کا لائسنس حاصل کرسکتے ہیں۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ جن کو این او سی دے دیا گیا ہے ان کے مسائل کو حل کریں تاکہ وہ لوگ متاثر نہ ہوں وہ آئل ریفائنریز جوبہت زیادہ منافع لے رہی ہیں ان کاجائزہ لیا جائے۔سینیٹر پرنس احمد عمر احمد زئی نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی سے بلوچوں اور سندھیوں کو فارغ کیا جارہا ہے یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا ہے۔ جس پر ایم ڈی سوئی سدرن نے کہا کہ ایک سال پہلے کچھ لوگوں کو نکالا گیا تھا اب نہیں نکال رہے۔ جس پر سینیٹر پرنس احمد عمر نے کہا جن 9 لوگوں کونکالا گیا ہے اس سے کمپنی کو کتنا فرق پڑے گا اس کی رپورٹ کمیٹی کو فراہم کی جائے۔

    عوامی عرضداشت نمبر 4750برائے پی پی ایل کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔سینیٹر سرفراز احمد بگٹی نے کہاکہ کمپنی نے ڈیرہ بگٹی میں جو معاہدہ کیا تھا اس پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا اور نہ ہی مقامی لوگوں کو معاہدے کے مطابق روزگار فراہم کیاجارہا ہے۔ صرف 15 ڈپلومہ ہولڈرز اور 10 انجینئرز لگائے گئے ہیں جس پر قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ وہ امیدوار جو ویٹنگ لسٹ میں ہیں ان کو کمپنی فوری طور پر لگائے اور معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز فدا محمد، سرفراز احمد بگٹی، انجینئر رخسانہ زبیری، افنان اللہ خان، پرنس احمد عمر احمد زئی،سعدیہ عباسی،عطاالرحمن، شمیم آفریدی، دنیش کمار، تاج حیدراور حاجی ہدایت اللہ کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری پیٹرولیم،چیئرمین اوگرا، ایم ڈی سوئی سدرن، ایم ڈی سوئی نادرن، جی ایم پی پی ایل، ای ڈی اوگرا،سی این جی ایسوسی ایشن کے سربراہ غیاث پراچہ، کراچی چیمبر کے محمد جاوید، زبیر موتی والا، چھوٹی انڈسٹری کے نمائندہ رحمان جاوید و دیگر نے شرکت کی۔

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف قرارداد اسمبلی میں جمع

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف قرارداد اسمبلی میں جمع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے

    دوسری جانب سیاسی رہنماؤں کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالہ سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کہتے ہیں کہ سرکاری عہدے پربیٹھ کر تجارت کرنا درست نہیں،نظام میں حقیقی تبدیلی کی ضرورت ہے لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوااور جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات ہوئے،پشاور میں 40روپے کی روٹی مل رہی ہے ،غریب کدھر جائے گا،عالمی سروے کے مطابق پاکستان کا اشرافیہ مراعات لے رہا ہے،مسائل کے ذمہ دار باہر والے نہیں ، پاکستان میں بیٹھے ہیں،پیٹرول مہنگا ہوگیا ،عوام کو مشکل کا سامنا ہے ،کرپشن کی وجہ سے ادارے تباہ ہوگئے ،اس کا ذمہ دار کون ہے؟ملک کو مختلف چیلنجز کاسامنا ،عوام کس کی طرف دیکھیں گے ، اب تو سانس لینا بھی مشکل ہوگیا،پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم نے ملک کو آئی ایم ایف پر بھیج دیا،گزشتہ روز پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا بم عوام پر گرایا گیا، عمران خان، آصف زرداری اور نواز فیملی کے اثاثوں میں اضافہ ہوا،

    دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس میں میر خان محمد جمالی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں 84 روپے فی لیٹر تین ہفتے میں اضافہ ہوا ہے،وزیر خزانہ منتخب اور نہ ہی کسی کو جوابدہ ہیں،وزیر خزانہ نے طنزیہ طور پر ہنس کر کہا کہ قیمتیں بڑھیں گی،وزیر خزانہ غریب آدمی کی حالت کا اندازہ نہیں لگا سکتے،کہتے ہیں پی ٹی آئی کی حکومت نے سرنگیں بچھائی ہیں ،تواس وقت سب ٹھیک کیسے چل رہا تھا؟ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کا خون چوس رہی ہے یہ ساری جماعتیں کیا پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے اکٹھی ہوئی ہیں، میر خان محمد جمالی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان زندہ آباد کا نعرہ لگا دیا

    وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ ہمیں ملک کی خاطر آئی ایم ایف پروگرام ہر حال میں کرنا ہے، آئی ایم ایف سے روزانہ کی بنیاد پر بات چیت جاری ہے،آئی ایم کے ساتھ بات چیت میں نتائج کے قریب پہنچ چکے ہیں، آئی ایم ایف نئے بجٹ کا جائزہ لے رہا ہے امید ہے آئی ایم ایف سے معاملات جلد طے پا جائیں گے،

    پی ٹی آئی کے رہنما فرح حبیب کہتے ہیں کہ یہ حکومت پچھلے 15 روز میں پٹرول پر 84 روپے اور ڈیزل میں 120 روپے تاریخی اضافہ کر چکے ہیں یہ بدترین مہنگائی کا خودکش حملہ ہے پاکستان کی عوام پر یہ غلام حکومت روس سے سستا تیل نہیں لی رہی جسکی قیمت پاکستان کی عوام ادا کر رہی ہے

    مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری جنرل و رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرا نقوی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کا یہ مقدس ایوان پٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہے حکومت پچھلے بیس روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں 84 روپے فی لٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 119 روپے ریکارڈ اضافہ کر چکی ہے مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام پر پٹرول بم گرانا ظالمانہ اقدام ہے موجودہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ریکارڈ سطح پر لے آئی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے حکومت نے عوام کو زندہ درگور کر دیا ہے ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف مہنگائی کا طوفان آئیگا بلکہ اس کا براہ راست اثر غریب عوام پر پڑے گا

    دنیا کے تین چوتھائی سے زیادہ ممالک میں پیٹرول کی قیمت پاکستان کی نسبت زیادہ،

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

  • ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافے

    ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافے

    ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافے کا اعلان کر دیا گیا ہے

    پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز نے 40 فیصد کرایوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ،جنرل سیکرٹری نبیل طارق کا کہنا ہے کہ آئے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کارروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں ، لاہور سے کراچی کا کرایہ 80 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ دس ہزار روپے کر دیا گیا ،لاہور سے اسلام آباد کا کرایہ 60 ہزار سے 80 ہزار روپے کر دیا گیا ،لاہور سے پشاور کا کرایہ 75 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دیا گیا مانسہرہ کا کرایہ 55 ہزار سے بڑھا کر 70 ہزار روپے کر دیا گیا ،لاہور سے ملتان کا کرایہ 40 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دیا گیا ،لاہور سے کوئٹہ کا کرایہ ایک لاکھ دس ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ 40 ہزار روپے کر دیا گیا،جنرل سیکرٹری نبیل طارق کا کہنا تھا کہ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیے کارروبار بند ہو گئے ہیں ،

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے،عوام پر کرایوں کا بم گرانے کی تیاری بھی جاری ہے، پبلک ٹرانسپورٹرز کی جانب سے 35 فیصد تک کرایہ بڑھانے کا امکان ہے، راولپنڈی کا کرایہ 2000 سے بڑھا کر 2250 روپے، فیصل آباد کا کرایہ 1050 سےبڑھا کر 1250 روپے ،سرگودھا کا کرایہ 950 سے بڑھا کر 1100 روپے ،پشاورکا کرایہ 2300 روپےسے بڑھا کر 2500 روپے ،مری کا کرایہ 2300 روپےسے بڑھا کر 2450 روپے ،خانیوال کا کرایہ 1500 سےبڑھا کر 1650 روپے ،کراچی کا کرایہ 4300 سے بڑھا کر 4800 روپے ،صادق آباد کا کرایہ 400 2 سے بڑھا کر 2700 روپے کئے جانے کا امکان ہے

    ن لیگ عورت مارچ کی حمایت کرے گی یا مخالفت،شاہد خاقان عباسی نے اعلان کر دیا

    خلیل الرحمان قمر لاکھوں مولویوں سے آگے نکل گیا،خادم رضوی بھی بول پڑے، مزید کیا کہا؟

    کراچی والوں کے لئے بڑی خوشخبری، کراچی سرکلرریلوے کے لیے ہوں گی 40 کوچز تیار

    پرائیوٹ کمپنی نے غریب ریل مسافروں پر مہنگائی کا بم گرا دیا

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا فیصلہ

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا فیصلہ

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا فیصلہ

    وزیراعظم شہبازشریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی ہے۔ پچھلی حکومت کی بدترین نالائقی، نااہلی اور فاش غلطیوں کی سزا عوام کو نہیں دے سکتے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی سخت شرائط قرض حاصل کرنے کے عوض عمران خان کی سابقہ حکومت نے طے کی تھیں۔ مہنگائی سے ستائی اور نڈھال عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالنے کی حتی الامکان کوشش کی جارہی ہے۔

    ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی سمری مسترد کردی۔ پچھلی حکومت کی نالائقی، نااہلی اور غلطیوں کی سزا عوام کو نہیں دے سکتا۔ مہنگائی کی ستائی عوام پہ مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے۔شکریہ شہباز شریف

    واضح رہے کہ اس سے قبل خبریں آئی تھیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور آئی ایم ایف نے بھی پٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈیز ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے،

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

    ‏تنخواہ اور پینشن ایک روپیہ نہیں بڑھائی ، پٹرول 25 روپے مہنگا کرکے بتا دیا سلیکٹڈ کے دل میں اس قوم کے لئے کتنا درد بھرا ہوا ہے، جاوید ہاشمی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    ‏کچھ دن پہلے پٹرول سستا ھونے پر ذلیل ھو رھا تھا اب مہنگا ھونے پر ذلیل ھو گا، مشاہد اللہ خان

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت