Baaghi TV

Tag: پٹرول

  • صومالیہ بنتاپاکستان

    صومالیہ بنتاپاکستان

    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    2011ء میں صومالیہ کو بد ترین خشک سالی کاسامناکرنا پڑا جسے اقوامِ متحدہ نے قحط قرار دیا۔ شدید قحط کے باعث روزانہ سینکڑوں افراد ہلاک ہوتے رہے اوراس طرح 2011ء میں قحط سے ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے۔پھر2020ء میں صومالی حکومت نے بڑھتی ہوئی خشک سالی کی وجہ سے 23 نومبر کو ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا تھا۔صومالیہ میں بھوک کے بحران کی وجہ محض خراب فصلیں، سیلاب اور خشک سالی نہیں بلکہ کرپشن ، بد انتظامی اور ناقص حکومتی نظام کا بھی کا عمل دخل تھا۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ اس کے پڑوسی ملک بھارت میں کمی ہوئی ہے۔موجودہ حالات میں پاکستان تیزی سے صومالیہ بننے کی طرف گامزن ہے ،اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے چند وجوہات کاجائزہ لیتے ہیں۔ شہبازشریف کی حکومت نے مسلسل چوتھی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پروزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ عمران خان کی سابقہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کاIMF سے معاہدہ کیاتھا اس لئے ہمیں مجبوراََ قیمتیں بڑھانی پڑیں،جس پر عوام اور اپوزیشن جماعت PTIنے مزمت کی اور کہاکہ اگرہم نے کوئی معاہدہ کیا ہے وہ قوم کے سامنے لایاجائے ،جس پر مفتاح اسماعیل نے پینترابدلاکہ آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں بلکہ ڈالرکی بڑھتی قیمت اور عالمی منڈی میںتیل کی زیادہ ہوتی قیمتوں کوقراردیا،ان دوماہ میں ان سیاسی ارسطوئوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرعوام کومہنگائی کے سونامی کی خطرناک لہروں میں بیدردی سے پھینک دیا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ سے گڈزٹرانسپورٹ کومجبوراََ کرایوںمیں اضافہ کرنا پڑا، کرایوں کے اضافے سے ہرچیزکی قیمت بڑھ جاتی ہے اور حکومتی پنڈت یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم نے عام شہری پرکوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا۔
    حکومت کی جانب سے 13 بڑے صنعتی شعبوں سیمنٹ ، ٹیکسٹائل، شوگر ملز، آئل اینڈ گیس، فرٹیلائزر ، ایل این جی ٹرمینلز، بینکنگ، آٹو موبائل، بیوریجزور یسٹورنٹس، کیمیکلز، سگریٹ، سٹیل اور ایئر لائنز پر 10 فیصد پر ٹیکس کے نفاذ سے ان شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں کمی واقع ہو گی جس کے نتیجے میں ملک میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل میں کمی اور روز گار کے نئے مواقع نہ پیدا ہونے کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ ان 13 شعبوں کے علاوہ دیگر شعبہ جات پر 4 فیصد پر ٹیکس عائد ہے جبکہ وفاقی حکومت کے نئے اعلان کے مطابق مذکورہ 13 شعبوں پر 10 فیصد کی شرح سے ایک سال کیلئے سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اس وقت ملک میں کارپوریٹ اور دیگر مد میں ٹیکسوں کی شرح لگ بھگ 50 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ میں اضانے کی بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈال دیا جس کے نتیجے میں ملک میں معاشی و اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ نئے حکومتی اقدامات میں بڑے سیکٹرز پر سپر ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں دیا جانے والا ریلیف بھی واپس لے لیا گیا۔سپرٹیکس کے ثمرات عوام تک فوراََ پہنچ گئے،عوام سے ضروریات زندگی بھی چھین لی گئیں۔ملک میں بجلی نام کوبھی نہیں ہے اوپرسے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام پرایٹم بم گرانے کے مترادف ہے۔
    پاکستان ایک زرعی ملک ہے،جس کی 70فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی اور زراعت سے وابستہ ہے اورزراعت کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی قراردیاجاتا ہے موجودہ حکومت نے زراعت سے وابستہ کسان کو زندہ درگورکردیا۔اپنی مخلوط حکومت بچانے کیلئے جنوبی پنجاب کی نہروں کاپانی بند کرکے سندھ کودیاجارہاہے ،ہم یہ نہیں کہیں گے کہ سندھ کوپانی کیوں دیاجارہاہے سندھ بھی پاکستان ہے وہاں کے کسان بھی ہمارے اپنے ہیں لیکن ہم صرف اتنا گذارش کریں گے منصفانہ تقسیم کے فارمولاپرعملدرآمدکرتے ہوئے سندھ کواس کے حصے کاپانی دیاجائے اورجنوبی پنجاب کے کسان سے سوتیلی ماں کاسلوک روانہ رکھاجائے ،جس طرح سندھ،اپرپنجاب یادوسرے صوبوں کے کسانوں کوان کے حصے کاپانی دیاجارہا اِدھرکاکسان بھی اتناہی حقدار ہے ، ان کی زمینوں کوسیراب کرنے والی نہریں بند کیوں ہیں۔حکومت کی بے ترتیبی اورناکام حکمت عملی کی وجہ سے ہماراکسان زبوں حالی کاشکارہے۔بجلی مہنگی،پٹرول ،ڈیزل مہنگااورکھادنایاب ہوچکی ہے ،پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے کسان کی کمرتوڑدی گئی ہے ،پانی نہ ہونے کی وجہ سے اس باردھان ،کپاس،جوارودیگرفصلیں کاشت نہ ہوسکیں کیونکہ ہمارے 90فیصد کسان پیٹرانجن کے ذریعے ٹیوب ویل چلاکر اپنے کھیت سیراب کرتے ہیں،کھیتوں میں ہل چلانے کیلئے ٹریکٹراستعمال ہوتے ہیں کھیت سے منڈی تک سبزیوں اوراناج کی ترسیل بھی ٹریکٹرٹرالی کے ذریعے ہوتی ہے ،پیٹرانجن اورٹریکٹرڈیزل پرچلتے ہیں موجودہ حالات میں ہماراکسان مہنگے داموں ڈیزل خریدنے سے قاصر ہے،بجلی مہنگی ہے لیکن ہے ہی نہیں کئی کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے رہی سہی کسربھی پوری کردی ہے ،حکومتی سرپرستی میں پلنے والے کھاد مافیاء نے کھاد اپنے گوداموں میں چھپارکھی ہے جوکسانوں کو من مانی قیمت پر بلیک میں فروخت کررہے یاپھرحکومتی اداروں کی سرپرستی میں سٹاک شدہ کھادافغانستان سمگل کی جارہی ہے۔اندھے حکمرانوں کوہمارے کسان کے مسائل نہیں دکھائی دے رہے،جب کسان کے پاس فصلیں کاشت کرنے کیلئے وسائل نہیں ہوں گے تووہ کس طرح فصلیں کاشت کریں گے ۔جب فصلیں کاشت نہیں ہوں گی تولازمی طورپرمارکیٹ میں اجناس کی قلت ہوگی اورقیمتیں بڑھ جائیں گی پہلے بھی غریب اور مزدور،دیہاڑی دار طبقہ اس ہوشرباء مہنگائی کے ہاتھوں پس چکا ہے وہ کس طرح بلیک مارکیٹ سے مہنگی اشیاء خرید پائیں گے ۔ اتحادی حکومت کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں کسان اور دیہاڑی دارمزدورطبقے کااحساس کرتے ہوئے اس بے لگام مہنگائی کے آگے بند باندھنا بہت ضروری ہے ۔فصلیں کاشت کرنے کیلئے ہمارے کسان کیلئے علیحدہ سے بجلی ،ڈیزل اور کھادکیلئے سپیشل بجٹ مختص کیا جائے ورنہ فصلات کاشت نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں اناج کی قلت پیداہونے کا خطرہ ایک اژدھاکی طرح پھن پھیلائے کھڑاہے ،اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے توپاکستان کوقحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔صومالیہ کو کئی سالوں کی خشک سالی اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کاسامنا کرناپڑا، اس وقت پاکستان صومالیہ بننے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ اگرپاکستان میں قحط آتاہے تویہ قحط قدرتی نہیں بلکہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کاشاخسانہ ہو گا۔

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ردعمل آ گیا

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ردعمل آ گیا

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ردعمل آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد تحریک انصاف کا ردعمل آیاہے تو دوسری جانب وزیر خزانہ نے پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کس کے حکم پر کیا انہوں نے بھی بتا دیا ہے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے روس سے سستا تیل نہیں خریدا، امپورٹڈ حکومت عوام پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال رہی ہے حکومت خود کو 11سوارب روپے کا این آر او دے رہی ہے،پیٹرول کی قیمت میں 99 روپے،ڈیزل کی قیمت میں 133 روپے کا اضافہ کیا گیا عوام کل ہمارے احتجاج میں شامل ہوں

    سابق وزیرخزانہ سینٹرشوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف موجودہ حکومت سے پیشگی اقدامات چاہتا ہے آئی ایم ایف پھر اس کو اپنے بورڈ میں لے جانے پرغور کرے گا،855 ارب پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی،11فیصد سیلز ٹیکس کی شرائط ہیں یہ لوگ پیٹرول کی قیمت 300 روپے فی لیٹر سے اوپر کر سکتے ہیں بجلی کی قیمتوں میں فوری اضافے کی شرط ہے صوبوں سے 800 ارب روپے کے صوبائی سرپلس پر دستخط کئے گئے، صوبوں نے صرف 80 ارب روپے دکھائے

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ ،سابق وفاقی وزیرشیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ پیٹرول میں15روپے اور ڈیزل میں14 روپے اضافہ کر دیا گیا،جولائی میں مہنگائی کے اور ٹیکے لگیں گے لوگ گھریلو سامان بیچ کر گزارہ کررہے ہیں ابھی بجلی کا بل بھی آنا ہےعوام کو ریلیف نہیں تکلیف ملے گی،ووٹ بیچنے والے کو عہدے اور پارٹی ٹکٹ مل رہے ہیں عنقریب حکومت کا سیاسی جنازہ دھوم سے نکلے گا،

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کرنے ٹی وی پر نہیں جانا تھا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کااعلان ایک اور ساتھی نے کرنا تھا وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ مجھے اور مصدق ملک کو ایسا کرنا چاہیے

    واضح رہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ گزشتہ شب کیا ہے، پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے بعد مہنگائی کی لہر آنے کا امکان ہے،پیٹرول کی قیمت میں 14روپے 85 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 248 روپے 74 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 23 یسے کا  اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 276 روپے 54 پیسے ہوگئی ہے

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    لوٹ مار کا نیا طریقہ، گاڑیوں میں پٹرول کی بجائے پانی بھر دیا گیا

  • حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 15 روپے اضافہ کردیا

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 15 روپے اضافہ کردیا

    اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصںوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 85 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 248 روپے 74 پیسے مقرر ہوگئی۔

    ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 276 روپے 54 پیسے ہوگئی۔

    اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں 18 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 230 روپے 26 پیسے ہوگی۔لائٹ ڈیزل کی قیمت میں بھی 18 روپے 68 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے اور نئی قیمت 226 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    علاوہ ازیں پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 10 روپے فی لیٹر عائد کی گئی ہے جبکہ ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل پر 5، 5 روپے پیٹرولیم لیوی عائد کی گئی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم مصںوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

  • پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

    پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

    اسلام آباد: پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان،اطلاعات کے مطابق نئے بجٹ کا حجم 96 کھرب سے تجاوز کرگیا ہے اور پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

    نئے مالی سال کے بجٹ میں ترامیم کے مطابق اب نئے مالی سال میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو 7445 ارب کا ٹیکس جمع کرے گا کیونکہ ایف بی آر کے ٹیکس ہدف میں 1340 ارب روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ سپر ٹیکس سے 200 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوگی اور سپر ٹیکس کا اطلاق یکم جولائی 2021 سے ہوگا۔

    یکم جولائی 2021 سے 30 جون 2022 کی آمدن پر سپر ٹیکس عائد ہوگا۔ فنانس بل میں پٹرولیم لیوی 30 روپے سے بڑھا کر 50 روپے فی لٹر کردی گئی ہے اور مائع پٹرولیم گیس پر 30 روپے فی کلو لیوی عائد کی جا رہی ہے۔ اس طرح پٹرول لیوی 750 کی بجائے 855 ارب روپے جمع کرنے کا تخمینہ ہے۔

    نئے مالی سال میں پنشن کے لیے 530 کی بجائے 605 ارب خرچ کا تخمینہ ہے جبکہ انتظامی امور چلانے کےلیے 550 کی بجائے 570 ارب کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے 1.9 ارب ڈالر بجٹ دستاویز میں شامل کرلیے گئے۔

    چین سے 2.3 ارب ڈالر بجٹ دستاویز میں شامل کرلیے گئے۔ فنانس بل میں ترمیم کے بعد سناروں پر 17 فی صد سیلز ٹیکس کی بجائے اب سناروں پر ماہانہ 40 ہزار روپے فکس سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مزید 10 روپے اضافے کا امکان

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مزید 10 روپے اضافے کا امکان

    اسلام آباد:عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ کے باعث یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مزید 10 روپے اضافے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا ایم ای ایف پی، معاشی نظم و ضبط ضروری ہے، یکم جولائی سے مزید معاشی مشکلات ہوسکتی ہیں، یکم جولائی سے مزید سخت فیصلے کرنا ہوں گے، میمورینڈم آف اکنامکس اینڈ فنانشنل پالیسیز معاشی نظم و ضبط لازم قرار دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایم ای ایف پی پر بات چیت جاری ہے، یکم جولائی سے پٹرول پر5 فیصد سیلز ٹیکس جبکہ 10 روپے لیوی عائد ہو سکتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے بجلی مزید مہنگی ہوسکتی ہے، توانائی کے نقصانات کم کرنے کا سخت ہدف ملا ہے، سرکاری اداروں میں نقصانات کم کرنے کا سخت ہدف بھی ملا ہے، ٹیکس مراعات اور چھوٹ مزید کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کیلئے دو ارب ڈالر کی دو قسطیں جاری کرنے کی توقع ہے۔آئی ایم ایف کے رواں ہفتے پاکستان کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پانے کی توقع ہے۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ٹویٹ میں بتایا کہ ساتویں اور آٹھویں اقتصادی جائزہ کے لیے پاکستان کو آئی ایم ایف سے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فسکل پالیسی فریم پروگرام کی کاپی موصول ہوگئی ہے۔

  • سری لنکا : پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں،حالات مزید خراب ہوگئے

    سری لنکا : پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں،حالات مزید خراب ہوگئے

    کولمبو:سری لنکا کی حکومت نے اتوار کو ایک مرتبہ پھر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔سیلون پیٹرولیم کارپوریشن نے کہا ہے کہ اس نے پبلک ٹرانسپورٹ میں استعمال ہونے والے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔ 15 فیصد اضافے کے ساتھ ڈیزل کی قیمیت 460 روپے یا 1.27 ڈالر فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس کی نئی قیمت 550 روپے یا 1.52 ڈالر ہے

    ایندھن کا بحران:سری لنکا میں اسکولز اورسرکاری دفاتردو ہفتوں کے لئے بند

    یہ اعلان وزیر توانائی کنچنا ویجیسکیرا کے اس بیان کے ایک دن بعد آیا جب انہوں نے تیل کی نئی کھیپ سے متعلق کہا تھا کہ اس میں غیرمعینہ مدت تک تاخیر ہوگی۔ ویجیسکیرا نے صارفین سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پمپ سٹیشنوں کے باہر لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے سے گریز کریں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ملک میں تیل کی سپلائی تقریباً دو دن کے لیے کافی تھی لیکن حکام نے اس کو ضروری خدمات کے لیے رکھا ہے

    اگر اسی طرح چلتا رہا تو ملک سری لنکا کی طرف جائے گا، عمران خان

    ادھرامریکی محکمہ خزانہ اور وزارت خارجہ سے ایک وفد ’ضرورت مند سری لنکن شہریوں‘ کی مدد کے لیے کولمبو پہنچ گیا ہے۔ امریکی سفیر جولی چنگ نے کہا ہے کہ ’سری لنکن شہریوں کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی چیلنج کا سامنا ہے۔‘ امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں اس نے سری لنکن شہریوں کی مدد کے لیے 158.75 ملین ڈالر کی نئی مالی مدد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے پہلے ہی ایک ہنگامی اپیل کی تھی کہ وہ دو کروڑ 20 لاکھ آبادی والے جزیرہ نما ملک کے کمزور طبقے کے لیے 47 ملین ڈالر اکٹھا کرے گا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایک اعشاریہ سات ملین شہریوں کے لیے ’زندگی بچانے والے امداد‘ کی ضرورت ہے۔ شدید قلت اور اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ہر پانچ میں سے چار افراد نے اپنے کھانے میں کمی کر دی ہے۔

    معاشی مشکلات میں گھرے ملک سری لنکا نے روس سے تیل خرید لیا

    ملک میں پیٹرول کی کمی وجہ سے ہسپتالوں کے عملے کی حاضری میں بھی کمی رپورٹ ہوئی ہے۔ سنیچرہفتے کو سری لنکن وزیراعظم نے پارلیمان کو خبردار کیا تھا کہ مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ہماری معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔‘ سری لنکا کی حکومت نے کہا اپریل میں کہا تھا کہ ممکنہ بیل آؤٹ پیکج کے لیے آئی ایم ایف سے بات چیت کر رہی ہے۔ سری لنکا کی حکومت 51 بلین ڈالر کا غیرملکی قرض دینے سے قاصر ہے

  • لوٹ مار کا نیا طریقہ، گاڑیوں میں پٹرول کی بجائے پانی بھر دیا گیا

    لوٹ مار کا نیا طریقہ، گاڑیوں میں پٹرول کی بجائے پانی بھر دیا گیا

    لوٹ مار کا نیا طریقہ، گاڑیوں میں پٹرول کی بجائے پانی بھر دیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئیں تو شہریوں نے جہاں پٹرول ڈلوا کر گاڑی بھگا لی اور پیسے نہیں دیئے وہیں پٹرول پمپ مالکان کی جانب سے گھناؤنی واردات سامنے آئی ہے

    پٹرول ڈلوانے جانے والے گاڑی مالکان کی گاڑیوں میں پٹرول کی بجائے پانی ڈال دیا گیا اور پیسے پٹرول کے لے لئے گئے، ایسا ایک شخص کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ درجنوں متاثرین سامنے آ گئے، واقعہ کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں پٹرول کی جگہ پانی کے ساتھ ٹینکی بھروانے والے سراپا احتجاج ہیں

    واقعہ ساہیوال میں پیش آیا،ساہیوال پاکپتن چوک پرموجود (گو ) بلوچ کے پمپ سے پٹرول کی جگہ گاڑ یوں میں پانی 235 روپے فی لیٹر میں بھرنا شروع کردیا جس سے گاڑیوں کے مالکان پریشان گاڑیاں خراب ہو چکی ہیں، جو اب سٹارٹ بھی نہیں ہو رہی ہیں، گاڑی میں پٹرول کی جگہ پانی بھروانے والے ایک متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ گاڑی کی ٹینکی فل کروانے آیا تھا، گاڑی میں پٹرول ڈلوایا، 235 روپے فی لیٹر ٔپٹرول ڈالا گیا لیکن حقیقت میں اس میں پانی ڈالا گیا ، 12 ہزار کا تیل ڈلوایا لیکن پانی نکلا،

    شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایک تو ہمیں لوٹ لیا گیا کہ گاڑیوں میں پانی ڈال دیا گیا اور پیسے پٹرول کے لئے گئے ، دوسری جانب اب پمپ والے غائب ہیں، کوئی ہماری مدد کو نہیں آ رہا، منیجر کو کالیں کر رہے ہیں لیکن اسکا نمبر نہیں لگ رہا، اب ہم کس کے پاس انصاف کے لئے جائیں، ہمارے نقصان کا ازالہ کون کرے گا

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

  • سری لنکا نے آئی ایم ایف سے پھر امیدیں جوڑ لیں

    سری لنکا نے آئی ایم ایف سے پھر امیدیں جوڑ لیں

    کولمبو:آئی ایم ایف ہی مشکل میں کام آتی ہے ، کوئی کسی کے ساتھ اس طرح معاشی تعاون نہیں کرتا جس طرح آئی ایم ایف کرتی ہے ،شاید یہی وجہ ہے کہ دیوالیہ ہونے کے بعد سری لنکا نے تیل کی درآمدات پر ادائیگیوں کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے امیدیں جوڑ لیں۔

    سری لنکامیں مزید حالات ابترپاورسیکٹریونین کی طرف سےہڑتال کی دھمکی:ہرطرف اندھیرے…

    سری لنکا میں معاشی بحران سنگین شدت اختیار کرگیا ہے اور سری لنکن وزیراعظم نے آنے والے دنوں میں غذائی قلت کی بھی گھنٹی بجا دی ہے۔سری لنکن وزیراعظم کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں آئندہ آنے والے مہینوں میں تقریباً 50 لاکھ افراد غذائی قلت کا براہ راست شکار ہوسکتے ہیں۔دوسری جانب سری لنکا میں ایندھن کی شدید قلت کے باعث سرکاری ملازمین کو 2 ہفتے گھر سے کام کرنے کا حکم جاری کردیاگیا ہے۔

    اگر اسی طرح چلتا رہا تو ملک سری لنکا کی طرف جائے گا، عمران خان

    خبرایجنسی کے مطابق سری لنکا کی وزارت پبلک ایڈمنسٹریشن نے پبلک ٹرانسپورٹ کی معطلی اور نجی گاڑیوں کوپیٹرول نہ ملنے کے باعث صرف ضروری عملے کو دفاتربلانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے قبل سری لنکا میں سرکاری ملازمین کے ہفتے میں 4 دن کام کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

    ایندھن کا بحران:سری لنکا میں اسکولز اورسرکاری دفاتردو ہفتوں کے لئے بند

    سری لنکا میں اسکول بھی دو ہفتے کیلئے بند کردیے گئے ہیں اور وزارت تعلیم نے آن لائن کلاسز بجلی کی فراہمی سے مشروط کردی ہیں۔ وزارت تعلیم نے اساتذہ اورطلبہ کو بجلی کی فراہمی پر آن لائن کلاسز کو یقینی بنانے کیلئے کہا ہے۔سری لنکا میں تیل کی درآمدات پرادائیگیاں نہ ہونے کے باعث ایندھن کاسنگین بحران ہے اور بیل آؤٹ پیکج کیلئے آئی ایم ایف سے بات چیت کررہا ہے۔ آئی ایم ایف کا وفد پیر کو کولمبو جا کر قرض دینے کے امکانات کا جائزہ لے گا۔

  • عمران خان نے اتوار رات 9 بجےاحتجاج کی کال دے دی

    عمران خان نے اتوار رات 9 بجےاحتجاج کی کال دے دی

    اسلام آباد:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے بعد گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پرعوام کی پریشانی کوبھانپتے ہوئے چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اتوار رات 9 بجے احتجاج کی کال دے دی ہے۔

    پٹرولیم مصنوعات میں 59 روپے تک اضافہ کردیا گیا

    پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بات کرنا چاہتا ہوں، یہ اب تک پیٹرول کی قیمت میں 85 روپے اضافہ کر چکے ہیں، پیٹرول کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔

    پیٹرول کےبعد سی این جی کی قیمت میں بھی اضافہ

    عمران خان نے کہا ہے کہ بجلی ہم 16 روپے فی یونٹ چھوڑ کر گئے تھے، آج بجلی 29 روپے فی یونٹ ہو گئی جو مزید بڑھے گی، آٹے کا تھیلا ہماری حکومت میں 1100 کا تھا جو اب 1500 کا ہو گیا۔

    چیئر مین پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ گھی کی قیمت بھی فی کلو 400 سے بڑھ کر 650 روپے کلو تک پہنچ گئی، جب ہم گئے تو پیٹرول 150 روپے فی لیٹر تھا، ہمارے ساڑھے 3 سالوں میں پیٹرول صرف50 روپے بڑھا تھا۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف قرارداد اسمبلی میں جمع

    انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کوبھی پرامن احتجاج میں شرکت کی دعوت دے رہا ہوں، پر امن احتجاج کرنا ہمارا آئینی اورجمہوری حق ہے، قوم اتوارکی رات 9 بجے ملک گیراحتجاج کیلئے نکلے، اتوارکی رات 10بجے قوم سے مخاطب ہوں گا۔

  • پٹرول،ڈیزل،گیس کے بعد اب بجلی کی قیمت میں پھراضافہ کردیا گیا

    پٹرول،ڈیزل،گیس کے بعد اب بجلی کی قیمت میں پھراضافہ کردیا گیا

    اسلام آباد:پٹرول،ڈیزل،گیس کے بعد اب بجلی کی قیمت میں اضافے کی منظوری ،اطلاعات کے مطابق نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 55 پیسے اضافے کی منظوری دے دی۔

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ڈسکوز کے مالی سال 2021-2022 کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دے دی۔

    ڈسکوز نے نیپرا کو بجلی کی قیمتوں میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کی درخواست دی تھی جس پر اتھارٹی نے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد ڈسکوز کے صارفین کے لئے 1 روپیہ 55 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی جو کہ جولائی 2022 سے لاگو ہو گی۔

    نیپرا نے کہا کہ اس ٹیرف کی ایڈجسٹمنٹ تین ماہ تک لاگو رہے گی اور اس کا اطلاق ڈسکوز کے تمام صارفین ماسوائے لائف لائن اور کے الیکٹرک صارفین پر ہوگا۔پاکستان اس وقت سخت مہنگائی کے دباومیں ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حکومت بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ گیس کی مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھا رہی ہے ، اس سلسلے میں‌ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سی این جی کی قیمت بھی بڑھا دی گئی۔

     

    ہنگائی،غربت اور بیروزگاری،محنت کش بھوک مٹانےتھانہ پہنچ گیا،حوالات رہنے پر اصرار

    ذرائع کے مطابق سی این جی اسٹیشنز نے فی کلو قیمت میں 10 روپے اضافہ کردیا جس کے بعد خیبرپختونخوا میں سی این جی کی فی کلو قیمت 180 روپے ہوگئی۔دوسری طرف اس قیمت کے بڑھ جانے کےبعد عوام کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے

    گیس کی بڑھتی ہوئی اور بے قابو قیمتوں سے پریشان ہوکر آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے رہنما غیاث پراچہ کا کہنا ہے کہ سی این جی اسٹیشنزمیں جنریٹر کے استعمال سے قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی نسبت سی این جی اب بھی بہت سستی ہے۔

     

    شیخ رشید کی مہنگائی کیخلاف جماعت اسلامی اور عوامی تحریک کے احتجاج کی حمایت

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جس کے بعد عوام اور شوبز ستارے بھی شہباز حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان گزشتہ رات کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 24.03 روپے اضافہ کیا جارہا ہے جب کہ ڈیزل پر 59.16 روپے، لائٹ ڈیزل آئل پر 39.16 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 39.49 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جارہا ہے۔

    ملک میں مہنگائی 23.98 فیصد کی بلند شرح پر پہنچ گئی

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام کی جانب سے حکومت پر سخت تنقید کی جارہی ہے اور سوشل میڈیا صارفین بھی میمز بنا کر حکومت پر طنز کررہے ہیں۔