Baaghi TV

Tag: پٹرول

  • آسٹریلیا بھی توانائی بحران کا شکار:غیرضروری لائٹیں بندرکھنےکی اپیل

    آسٹریلیا بھی توانائی بحران کا شکار:غیرضروری لائٹیں بندرکھنےکی اپیل

    سڈنی:آسٹریلیا بھی توانائی بحران کا شکار:غیرضروری لائٹیں بندرکھنےکی اپیل،اطلاعات کےمطابق آسٹریلیا کے وزیر توانائی نے نیو ساؤتھ ویلز کے گھرانوں پر زور دیا ہے کہ اس وقت مُلک میں توانائی کا بحران بڑھتا جارہا ہے اورایسی صورت میں اپنے گھروں ، مارکیٹوں اوردیگرمقامات پرغیرضروری لائٹس کوبند رکھیں

    امریکہ بھی توانائی کے بحرانوں کی زد میں ، پٹرول کے بعد گیس کی قیمتیں آسمان کوچھونےلگیں

    ایک ایسا مُلک جس میں ملک کا سب سے بڑا شہر سڈنی بھی شامل ہے – ہروقت روشنیوں سے چمک دمک رہا ہوتا ہے لیکن اب اس کی گنجائش نہیں ہے کرس بوون کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ہر شام دو گھنٹے تک بجلی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے اگر ان کے پاس "کوئی انتخاب” ہو۔تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ وہ "پراعتماد” ہیں کہ بلیک آؤٹ سے بچا جا سکتا ہے۔

    توانائی کی بچت،صوبوں کا بازار رات ساڑھے 8 بجے بند کرنے پراتفاق

    وزیرتوانائی کا کہنا تھا کہ یہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے آسٹریلیا کی مرکزی ہول سیل بجلی کی مارکیٹ کو معطل کرنے کے بعد آیا ہے۔مسٹر بوون نے نیو ساؤتھ ویلز میں رہنے والے لوگوں سے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ بجلی کا تحفظ کریں۔

    انہوں نے کینبرا میں ایک ٹیلی ویژن میڈیا کانفرنس کے دوران کہا، "اگر آپ کے پاس کچھ چیزوں کو چلانے کا انتخاب ہے، تو انہیں 6 سے 8 شام میں نہ چلائیں۔”

    آسٹریلیا دنیا کے کوئلے اور مائع قدرتی گیس کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے لیکن گزشتہ ماہ سے بجلی کے بحران سے نبرد آزما ہے۔ ملک کی تین چوتھائی بجلی اب بھی کوئلے سے پیدا کی جاتی ہے۔ اس پر طویل عرصے سے یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ قابل تجدید ذرائع میں سرمایہ کاری کرکے اپنے اخراج کو کم کرنے کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کر رہا۔

    وفاقی وزیر توانائی کا3 اوقات میں گیس کی فراہمی کے بیان سے یوٹرن

    حالیہ ہفتوں میں، آسٹریلیا نے کوئلے کی سپلائی میں رکاوٹ، کوئلے سے چلنے والے کئی پاور پلانٹس میں بندش اور توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو محسوس کیا ہے۔

  • امریکہ میں گیس کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور

    امریکہ میں گیس کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور

    واشنگٹن :امریکہ میں گیس کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور،اطلاعات کے مطابق ہفتہ تک امریکہ میں ایک گیلن ریگولر گیس کی اوسط 5 امریکی ڈالرسے تجاوز کرگئی ہے

    یوکرین جنگ:امریکہ میں چالیس سالہ مہنگائی کےتمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

    اس حوالےسے اے اے اے نامی ادارے کی طرف سے جاری اعدادوشمار کے مطابق یہ ایک گیلن گیس کے لیے سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی اوسط قیمت ہے، سی این این نے بھی اسے ایک بہت بڑی قیمت قرار دیا ہے جو کہ اس سے پہلے نہیں تھی

    اے اے اے نامی ادارے کےاعدادوشمار کے مطابق صرف ایک سال پہلےامریکہ میں ایک گیلن گیس کی قیمت 3امریکی ڈالرتک تھی، گیس کی قیمتیں ریکارڈ بلندی پر نہیں ہیں۔ یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، افراط زر سے ایڈجسٹ ریکارڈ جون 2008 میں قائم کیا گیا تھا جب ان کی اوسط $5.38 فی گیلن تھی۔

    سال 2022 میں دنیا کےدس مہنگےترین شہر:ہانگ کانگ نے ہیٹرک کرلی

    خام تیل کا ایک بیرل اب 120 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے، جو ایک ماہ پہلے 100 امریکی ڈالرسے کم تھا۔ متعدد تجزیہ کاروں اور EIA نے پیش گوئی کی ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھتی رہیں گی۔شاید اسی حوالے سے اے اے اے ذرائع کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا پٹرول کے لیے امریکہ کی سب سے مہنگی ریاست ہے، جس کی اوسط قیمت 6.43 امریکی ڈالرفی گیلن ہے، جو ایک ماہ قبل 5.85امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتیں بھی اس وقت بہت زیادہ ہیں جو کہ اہستہ آہستہ عوام کی پہنچ سے دورہوتی جارہی ہیں ،۔ ڈیزل کی اوسط قیمت 5.765 ڈالر فی گیلن ہو گئی ،گیس کی قیمتوں کا پتہ لگانے والے OPIS کے توانائی کے تجزیہ کے عالمی سربراہ ٹام کلوزا کے مطابق، اس موسم گرما کے آخر تک پٹرول کی قومی قیمیت 6 امریکی ڈالرکے قریب ہو سکتی ہے۔

  • سپیکر،چیئرمین سینیٹ کا پٹرول پر اٹھنے والے اخراجات پر 40 فیصد کٹوتی کا فیصلہ

    سپیکر،چیئرمین سینیٹ کا پٹرول پر اٹھنے والے اخراجات پر 40 فیصد کٹوتی کا فیصلہ

    سپیکر،چیئرمین سینیٹ کا پٹرول پر اٹھنے والے اخراجات پر 40 فیصد کٹوتی کا فیصلہ

    اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ نے پٹرول پر اٹھنے والے اخراجات پر 40 فیصد کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کی ملاقات ہوئی ہے بجٹ اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے جاری اجلاسوں اور قانون سازی پر بات چیت کی گئی ،اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ملک معاشی مشکلات سے دوچار ہے، بحران سے نکالنے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنا وقت کی ضرورت ہے،عوام کے نمائندے ہیں، ان کے تکلیف کو محسوس کرتے ہیں ،مشکل حالات میں کفایت شعاری کو اپنانا ناگزیر ہے،

    پٹرول کی مد میں 40 فیصد کٹوتی کا اطلاق اسپیکرو ڈپٹی اسپیکر پرہوگا 40فیصد کٹوتی کا اطلاق چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ و دیگر عہدیداروں پر بھی ہوگا،

    پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے حکومت پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے،اسکے باوجود کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ پی ٹی آئی نے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرول مہنگا کرنے کا معاہدہ فروری میں کیا تھا.

    قبل ازیں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پیٹرول پرسبسڈی ناقابل برداشت ہے ،پیٹرول پرسبسڈی کے باعث ڈیفالٹ کی طرف جا رہے تھے،عمران خان نے پیٹرول پر 30روپے لیوی عائد کیا جو معاشی مشکلات ہیں وہ عمران خان کے معاہدے کے باعث ہیں،کوئلے کے پلانٹ نہیں چل رہے عوام سمجھتے ہیں کہ یہ مہنگائی اور تباہی عمران خان کی ہے، عمران خان نے فروری میں روس سے تیل کیوں نہیں لیا عمران خان کی وجہ سے مہنگائی آئی ہے، 5 ہفتے میں ختم نہیں ہوسکتی، جیسے ہی بجٹ آئے گا تو ہم مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کریں گے،اگست 2023 تک مدت ہے تب تک یہ اسمبلیاں چلتی رہیں گی،

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

  • سب سے پہلے پاکستان:اشرافیہ کا مفت پٹرول،گیس،    بجلی اوردیگرمراعات کم کی جائیں:پاکستان بارکونسل

    سب سے پہلے پاکستان:اشرافیہ کا مفت پٹرول،گیس، بجلی اوردیگرمراعات کم کی جائیں:پاکستان بارکونسل

    اسلام آباد:سب سے پہلے پاکستان:اشرافیہ کا مفت پٹرول،گیس،بجلی اوردیگرمراعات کم کی جائیں:اطلاعات کے مطابق پاکستان بارکونسل نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرپاکستان کومستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو پھراس کابوجھ غریبوں پر ہی نہیں بلکہ اشرافیہ کی موج مستیاں‌بھی ختم کرنی ہوں گی،

    مفت پٹرول میں بھی صرف دس روپے کی کمی ، حکومت ابھی بھی چار گنا منافع کما رہی، شاہ…

    پاکستان بار کونسل کی طرف سے کہا گیاہے کہ پٹرول کی قیمت میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دو اضافوں نے عوام کے مسائل کئی گنا بڑھا دیے ہیں۔ حالیہ دونوں اضافوں کے بعد پٹرول کی قیمت پہنچ سے باہر ہوچکی ہے۔ یہ صورتحال عوام کے لیے ناقابلِ بیان مسائل کا باعث بن رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے عوام کو ریلیف دینے کے دعوے تو بہت کیے جارہے ہیں لیکن تاحال ایسا کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا

     

     

    پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30،30،روپے اضافہ کر دیا گیا

    حکومت کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ سخت شرائط پر کیے جانے والے معاہدے کی وجہ سے عوام اورخاص کرغریب طبقہ بہت ہی زیادہ پریشان ہے یہ کس طرح گزارہ کرتے ہوں گے وہ ہی بہتر جانتے ہیں ، پاکستان بارکونسل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جب تک اشرافیہ کی موج مستیاں ختم نہیں کی جائیں گی حکومت اس قسم کے فیصلوں پرعمل درامد کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ عوام حکومت امیدآہستہ اہستہ دم توڑ رہی ہیں ۔

    پٹرول کے بعد آٹا بھی مہنگا کر دیا گیا

    ان حالات میں کئی ایسے عہدیدار ہیں جنہیں نہ صرف مفت پٹرول، بجلی، گیس اور فون کی سہولتیں حاصل ہیں بلکہ انہیں ان کے بچوں اور اہل خانہ کے ہمراہ مفت فضائی سفر اور لاکھوں کروڑوں روپے مالیت کی طبی سہولتیں بھی حاصل ہیں۔ پاکستان جیسے قرضوں کے جال میں جکڑے ملک کے عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس کر اشرافیہ طبقے اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں سے ایسی پرتعیش مراعات واپس لی جائیں تاکہ سب ملکر پاکستان کومضبوط بناسکیں

  • برطانیہ میں پیٹرول کی قیمت میں17سالوں میں سب سےزیادہ

    برطانیہ میں پیٹرول کی قیمت میں17سالوں میں سب سےزیادہ

    لندن : برطانیہ میں پیٹرول کی قیمت میں 17سالوں میں سب سےزیادہ،اطلاعات ہیں کہ برطانیہ میں اس وقت17سالہ تاریخ میں پہلی باراس قدر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں کہ اب کسی کار یا گاڑی کی ٹینکی بھروانے کے لیے ایک سو برطانوی پاونڈ کی قیمت درکار ہوتی ہے ،

     

    برطانیہ میں 69 فی صد مسلمان اسلاموفوبیا کا شکار ہیں،سروے

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ مہنگائی کی اس لہر نے ڈرائیوروں کو بہت پریشان کررکھا ہے اوراب وہ کسی معجزے کے منتظر ہیں کہ کوئی ان کی مدد کو آپہنچے، برطانیہ کے اس RAC موٹرنگ گروپ نے اسے "واقعی ایک سیاہ دن” قرار دیا کیونکہ 55 لیٹر کے ٹینک کو بھرنے کی قیمت 100.27 پاونڈز برائے پٹرول اور ڈیزل کے لیے103.43 تک پہنچ گئی۔

    برطانیہ میں ایک اور تجربہ صرف 4 دن کام اور 3 دن چھٹی

    آراے سی اور اس کے حریف ادارے اے اے چانسلر سے ایندھن پر ایندھن کی ڈیوٹی کو مزید کم کرنے پر زور دیا۔،ٹریژری نے کہا کہ اس نے پہلے ہی زندگی گزارنے کی لاگت کو کم کرنے کے لیے 37 ارب پاونڈس فراہم کیے ہیں۔پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈال رہی ہیں، توانائی کے بلوں اور خوراک کی قیمتیں بھی اب کئی سالوں کی بلند ترین سطح پر ہیں۔

    فروری میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد تیل کی سپلائی کے خدشے کے باعث پمپ کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئیں۔ تاہم، خدشات ہیں کہ پیٹرول خوردہ فروش صارفین کو فیول ڈیوٹی میں حالیہ 5p کی کٹوتی نہیں دے رہے ہیں۔

    ملکہ برطانیہ کی تخت نشینی کی 70ویں سالگرہ کی شاندار تقریبات کا اختتام

    اس ادارے کے مطابق ان لیڈ پیٹرول کی اوسط پمپ قیمت اب 182.31 پاونڈ ہے جبکہ ڈیزل کے لیے 188.05پاونڈ ہے۔ تاہم، موٹرنگ گروپ نے خبردارکیا ہے کہ یہ جلد ہی 2 پاونڈ فی لیٹر تک بڑھ سکتا ہے۔

  • موجودہ حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونےسے بچایا، وفاقی وزیر خزانہ

    موجودہ حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونےسے بچایا، وفاقی وزیر خزانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت مزید بڑھی تو حکومت کے پاس نقصان برداشت کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہنا تھا کہ پاور پلانٹ بند پڑے ہیں اور صلاحیت بھی پوری نہیں اس لیے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے ،نئے بجٹ میں نوکری پیشہ افراد پر نہیں اشرافیہ پر ٹیکس لگے گا دفاعی بجٹ معمول کے مطابق بڑھے گا اور آمدنی کے حساب سے ٹیکس لیں گے موجودہ حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونےسے بچایا ہے، عمران حکومت نے 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا، عمران خان جان بوجھ کر ہمارے لیے مشکلات پیدا کرکے گئے ہیں

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی میں تو اپنی تنخواہیں بھی چھوڑنے کو تیار نہیں اسمبلیوں میں آنہیں رہے لیکن تنخواہیں پوری وصول کر رہے آئی ایم ایف سے پٹرولیم مصنوعات مہنگا کرنے کا معاہدہ بھی عمران حکومت نے ہی کیا اگلے سال 21 ارب ڈالرز قرضے کی مد میں واپس کرنے ہیں

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،درخواست ناقابل سماعت قرار

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،درخواست ناقابل سماعت قرار

    لاہور ہائیکورٹ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا میں فیصلہ کروں کہ پیٹرول کی قیمت کیا ہونی چاہیے؟ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت کا کام ہے حکومت فیصلہ کرے کہ پیٹرول کی قیمت کیا ہونی چاہیے اس طرح کی غیر ضروری درخواستیں کیوں دائر کرتے ہیں؟ عدالت نے درخواست گزار کو وزیراعظم ک انام فریق کےطور پر واپس لینے کی ہدایت کردی

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو چیلنج کیا گیا تھا جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو چیلنج کیا ،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات میں 60 روپے تک اضافہ کیا گیا،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے ضروریہ پر اثر پڑے گا، عدالت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو فوری کالعدم قرار دے

    حکومت پاکستان نے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید 30، 30 روپے کا اضافہ کردیا ہے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے ملک میں پٹرول کی فی لٹر قیمت 209 روپے 86 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 204 روپے 15 پیسے کردی گئی

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پیٹرول پرسبسڈی ناقابل برداشت ہے ،پیٹرول پرسبسڈی کے باعث ڈیفالٹ کی طرف جا رہے تھے،عمران خان نے پیٹرول پر 30روپے لیوی عائد کیا جو معاشی مشکلات ہیں وہ عمران خان کے معاہدے کے باعث ہیں،کوئلے کے پلانٹ نہیں چل رہے عوام سمجھتے ہیں کہ یہ مہنگائی اور تباہی عمران خان کی ہے، عمران خان نے فروری میں روس سے تیل کیوں نہیں لیا عمران خان کی وجہ سے مہنگائی آئی ہے، 5 ہفتے میں ختم نہیں ہوسکتی، جیسے ہی بجٹ آئے گا تو ہم مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کریں گے،اگست 2023 تک مدت ہے تب تک یہ اسمبلیاں چلتی رہیں گی،

    ‏کچھ دن پہلے پٹرول سستا ھونے پر ذلیل ھو رھا تھا اب مہنگا ھونے پر ذلیل ھو گا، مشاہد اللہ خان

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

  • جماعت اسلامی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیخلاف احتجاج

    جماعت اسلامی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیخلاف احتجاج

    کراچی: حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیخلاف جماعت اسلامی کے زہر اہتمام کراچی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج مظاہرے کیے ہیں۔ احتجاجی مظاہرے برنس روڈ، واٹرپمپ چورنگی، ناظم آباد، نارتھ کراچی، حسن اسکوائر، کورنگی ڈھائی نمبر، ملیر، بنارس اور مومن آباد مارکیٹ میں کیے گئے۔

    مظاہرین نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں طالمانہ اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میں آنے سے قبل مہنگائی کو کم کرنے کے جو وعدے اور دعوے کیے گئے تھے انہیں پورا کیا جائے۔مظاہروں میں شرکاء نے مختلف بینرز اور پلے کارڈز اُٹھائے رکھے تھے، جن پر ”آئی ایم ایف کی غلامی نا منظور نامنظور، گیس، بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے۔

    مظاہروں سے جماعت اسلامی کے امراء اضلاع سید عبدالرشید، مولانا فضل احد، مولانا مدثر حسین انصاری، سید وجیہ حسن ،محمد یوسف، توفیق الدین صدیقی، ڈاکٹر فواد اور دیگر نے خطاب کیا۔

    یاد رہےکہ پاکستان میں حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔جمعرات کو مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ’پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30، 30 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔‘’اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 209 روپے 86 پیسے ہوگئی ہے۔ پیٹرول پر اب بھی 8 روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں۔‘

    سوئی سدرن کےلیےگیس کی قیمت میں44 فیصد اضافے کی منظوری

    بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    ہمارے ملک میں مداخلت کیوں:کویت نے امریکی سفیرکوطلب کرکےسخت پیغام بھیج دیا

    اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونےکا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی

  • پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا

    پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا

    پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اتحادی حکومت نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے پٹرول کی قیمتیں بڑھائیں تو سابق حکمران جماعت تحریک انصاف نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی اور کہا کہ عوام پر پٹرول بم گرا دیا گیا لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے کا معاہدہ تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیا تھا اور یہ طے تھا کہ تیل کی قیمتیں 30 روپے تک بڑھائی جائیں گی ،آئی ایم ایف کے ساتھ تحریک انصاف کے معاہدے کی کاپی باغی ٹی وی نے حاصل کر لی ہے، معاہدہ فروری 2022 میں کیا گیا تھا جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ابھی تک جمع نہیں ہوئی تھی،تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا تھا

    تحریک انصاف کی حکومت کے آئی ایم ایف سے معاہدے کی تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے 4 فرروی 2022 کو چند دستاویزات جاری کی گئیں تھیں اس وقت جاری کی گئی پریس ریلیز میں میں ایگزیکٹو بورڈ کے چیئرمین کا بیان اور ایگزیکٹو بورڈ کے خیالات کا خلاصہ شامل کیا گیا رپورٹ کے مطابق آرٹیکل 4 سے متعلق مشاورت اور آئی ایم ایف انتظامات سے متعلق امور پر عملے کی رپورٹ پر غور کیا گیا،

    18 نومبر 2021 کو پاکستان کے حکام کے ساتھ اقتصادی پیشرفت اور پالیسیوں پر ختم ہونے والی بات چیت کے بعد آئی ایم ایف کے عملے کے ذریعہ تیار کردہ معلوماتی ضمیمہ اس وقت کی پیشرفتوں کے بارے میں معلومات کو اپ ڈیٹ کرنے والی ایک اضافی معلومات اسٹاف رپورٹ اور ایگزیکٹو بورڈ کی بحث کے جواب میں پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا بیان شامل تھا-

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ آمدنی. پائیدار مالیاتی اصلاحات اور ٹیکس انتظامیہ کی کوششوں کی وجہ سے وفاقی ٹیکس ریونیو میں 25 فیصد سے زیادہ اضافے کا امکان ہے۔ اسے پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کو نئے ریونیو ہدف سے ہم آہنگ کرنے کو یقینی بنا کر ماحولیاتی ٹیکس کے اعلیٰ عمل سے بھی مدد ملے گی۔ اس طرح ہم پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں 8 روہے فی لیٹر اضافہ کریں گے اور ہم مالی سال 2022 کے لیے ہر ماہ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو فی لیٹر بڑھانے کا عہد کرتے ہیں جب تک کہ زیادہ سے زیادہ قیمت 30 روپے فی لیٹرنہ بڑھا دی جائے۔ اور نئے ترجیحی ٹیکس یا چھوٹ جاری کرنے کے طریقہ کار سے گریز کریں۔

    آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دسمبر میں پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی فی لیٹر 4 رپوے فی مہینہ اضافہ جاری رکھے گا جب تک کہ زیادہ سے زیادہ 30 روپے لیٹر حاصل نہ ہو جائے جو ماضی میں موجود تھا۔ آئی ایم ایف نے مارہ فروری میں مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان تعمیراتی شعبے کے لیے مالیاتی اداروں کی ایمنسٹی اسکیم کنٹرول کرے، آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتیں بھی بڑھانےکا مطالبہ کیا ہے۔

    پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور قیمتوں پر ٹیکس نہیں لگایا جس کی وجہ سے آنے والی نئی حکومت کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا، معاہدے کے تحت پاکستان کوگزشتہ سال 5 نومبر یکم دسمبر اور رواں سال یکم جنوری کو پیٹرول و ڈیزل پر4، 4 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانا تھی پی ٹی آئی حکومت نے معاہدے کے برعکس جنوری کے بعد پیٹرولیم لیوی میں اضافہ نہیں کیا اور سیلزٹیکس بھی صفرکردیا

    عمران خان کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تو انہوں نے پٹرول کی قیمتیں مستحکم کر دیں اور کہا کہ پانچ ماہ تک یہی قیمتیں رہیں گی، عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو آنے والی اتحادی حکومت ایک ماہ تک سوچ بچار کرتی رہی کہ قیمتیں بڑھائیں یا نہیں، لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ تحریک انصاف حکومت کے کئے گئے معاہدے کے تحت موجودہ حکومت کو پٹرول کی قیمتیں 30 روپے بڑھانا پڑیں جس کے بعد تحریک انصاف نے ہی احتجاج کا اعلان کیا، اور معاہدہ کرنے والی سابق حکمران جماعت کے رہنماؤں نے بیان دیئے کہ یہ سب موجودہ حکومت کر رہی

    تحریک انصاف کے رہنما، وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بھی آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے معاہدے کے اعتراف کر چکے ہیں پی ٹی آئی کے وائس چیرمین شاہ محمود قریشی نے قبول کرلیا کہ موجودہ مہنگائی، ڈالر، پٹرول اور بجلی کی قیمیتیں آئی ایم ایف سے ہمارے کئے گئے معاہدوں کی وجہ سے بڑھیں ہیں.

    پروگرام کے دوران سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے پوچھا گیا کہ معاشی مسائل تو پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں بھی تھے اور ان کی حکومت میں ہی آئی ایم ایف سے معاملات طے کئے گئے اور مانا گیا کہ پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی اور آپ ہی کے دور میں بیرونی قرض بھی بڑھا مگر اس وقت تو آپ نے پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی بات نہیں کی .189 تک تو ڈالر کی قیمت پی ٹی آئی کی حکومت چڑھا کر گئی ہے مگر اس وقت بھی ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی بات نہیں کی گئی کیونکہ اس وقت آپ حکومت میں تھے.پٹرول کی قیمتیں بڑھانے پر مسلم لیگ ن کی حکومت پر تنقید ہو رہی ہے حالانکہ یہ پی ٹی آئی کی حکومت کی ڈیل تھی آئی ایم ایف کے ساتھ ،اب آپ کہ رہے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ ہونے جارہا ہے تو دو ماہ پہلے آپ کی حکومت تھی تو تب ملک ڈیفالٹ نہیں ہو رہا تھا ؟

    سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ آپ بالکل درست کہ رہے ہیں (یعنی شاہ محمود قریشی نے تسلیم کر لیا کہ ان کی حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے ہوئے تھے جس کے مطابق پٹرول اور بجلی کی قیمتیں مرحلہ وار بڑھانا تھیں ) انہوں نے جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ معاشی مشکلات چند ہفتوں کی پیدا کردہ نہیں ہیں،عمران خان بھی یہی کہ رہے ہیں کہ معاشی چیلینجز راتوں رات پیدا نہیں ہوئے، کزشتہ 30 سال مسلم لیگ ن اور پیپلزپارتی برسراقتدار رہے ہیں.

    وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک بھی قوم کو بتا چکے ہیں کہ عمران خان ہی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر کے گئے تھے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں گے،مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ضرورت کیوں پیش آئی ،عمران خان نے پیٹرول کی 10 روپے قیمت بڑھا کر کہااب یہی رہے گی ،ہمیں لگا شاید کابینہ کی منظوری سے ہوا ہو گا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا،سابق وزیر اعظم عمران خان ملک کو تباہ کرنا چاہ رہے تھے، عمران خان کی سبسڈی کی قیمت 3 ماہ میں 300 ارب روپے تھی، عمران خان نےجوسبسڈی دی اس کی منظوری کسی فورم سےنہیں لی،عمران خان حکومت ختم ہونے سے پہلے سبسڈی کا اعلان کیوں کرکے گئے؟ آئی ایم ایف کیساتھ انہوں نےطےکیاکہ قیمتیں بڑھائیں گے،

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    تحریک انصاف کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالہ سے قوم کو سچ بتانا چاہئے اور عمران خان میں اتنی جرات ہونی چاہئے کہ وہ قوم کو سچ بتائیں کہ یہ معاہدہ ہم کر کے گئے تھے، پاکستانی قوم کو مہنگائی میں جکڑنے کے ذمہ دار عمران خان اور انکی کابینہ ہے جنہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ 30 روپے پٹرول کی قیمت بڑھانے کا معاہدہ کیا، اب سب سامنے آ چکا،عمران خان جو یوٹرن خان کے نام سے مشہور ہیں قوم کو جھوٹ بتانے کی بتائیں سچ بتائیں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تحریک انصاف کے احتجاج میں بھی اس بات کو بتایا جائے کہ یہ گڑھا تحریک انصاف نے ہی عوام کے لئے کھودا تھا، اب صرف سیاست کی جا رہی ہے

    اینکر غریدہ فاروقی ٹویٹ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ پٹرول قیمت میں اضافہ عوام پر بہت سنگین بوجھ تو ہے ہی لیکن یہ اُسیIMFمعاہدے کی شرائط ہیں جو عمران خان حکومت میں کیا گیا۔عمران خان حکومت ہوتی تو بھی پٹرول بجلی کی یہی قیمت ہوتی۔قیمتیں منجمد سیاسی فائدے،عدم اعتماد کوآتے دیکھکر کی گئیں تھیں۔ حقائق یہی ہیں؛کسی کو برالگےتو کیا کیاجائے۔

    فواد چودھری کہتے ہیں کہ مہنگائی کے اس طوفان کی ذمہ دارنون لیگ تو ہے ہی لیکن پیپلز پارٹی، MQM، BAP, فضل الرحمنٰ اور لوٹوں کو مت بھولیں جو اس جرم میں نون لیگ کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہیں موجودہ تباھی کی ذمہ داری اس پوری ٹیم پر عائد ہوتی ہے یہ سب نون پر ڈال کر خود میسنے بنے ہوئے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، موجودہ مہنگائی کی ذمہ دار عمران خان ہیں، سابق حکومت نے ایسے معاہدے کئے جس سے ملک میں اب مہنگائی میں اضافہ ہوا، اگر عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ تیل کی قیمتیں 30 روپے بڑھانے کا معاہدہ نہ کرتی تو تیل کی قیمتوں میں اب اتنا اضافہ نہ ہوتا، بلکہ کم ہوتا، عمران خان کی جانب سے ایسے غلط فیصلے کئے گئے جس کا خمیازہ قوم آج بھگت رہی ہے، سوال یہ بھی ہے کہ اگر عمران خان کی حکومت ہوتی تو کیا وہ آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے مطابق تیل کی قیمت نہ بڑھاتی؟

    علاوہ ازیں سابق گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر بھی انکشاف کر چکے تھے کہ آئی ایم ایف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ چاہتا ہے،آئی ایم ایف بجلی کے ریٹ بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے،

  • ’ آج چیخیں مارنے والوں کو عمران خان نے کارکردگی کی بنیاد پر وزارتوں سے نکالا تھا ‘:مریم اورنگزیب

    ’ آج چیخیں مارنے والوں کو عمران خان نے کارکردگی کی بنیاد پر وزارتوں سے نکالا تھا ‘:مریم اورنگزیب

    اسلام آباد:مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آج جو چیخیں ماررہےہیں انہیں عمران خان نےکارکردگی کی بنیاد پر وزارتوں سے نکالا تھا،وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لئے آسان تھا کہ ملک کو بحرانوں میں چھوڑ کر نگران حکومت کے حوالے کر دیتے۔

    وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ سیاست کو بچانا آسان فیصلہ تھا لیکن ہم نے ذمہ دارانہ سوچ کا مظاہرہ کیا، 2013 میں لوڈ شیڈنگ 18، 18 گھنٹے تھی، ہم نے چیلنج قبول کیا اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر کے دکھایا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان کے دور میں ایک سال کاروبار بند رہا، کاروباری برادری اور مارکیٹ کنفیوژن کا شکار تھی، وزیراعظم سے لے کر نیچے تک کرائے کے ترجمان کہتے تھے کہ ہم آئی ایم ایف نہیں جائیں گے۔

    وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ سابق دورمیں پانچ مرتبہ وزیرخزانہ بدلا گیا، سات مرتبہ ایف بی آرکےچیئرمین کوبدلا گیا، چھ بارسیکریٹری فنانس کو تبدیل کیا گیا، آج جو چیخیں مار رہے ہیں انہیں عمران خان نے کارکردگی کی بنیاد پر وزارتوں سے نکالا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیت ان کے وزیراعظم نے قبول نہیں کی تو عوام کیسے کرے، جب معیشت تباہ ہوئی اور مارکیٹ کا اعتماد ختم ہو گیا تو انہوں نے کمزور بنیادوں پر آئی ایم ایف کے ساتھ سخت شرائط طے کیں۔

    مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اس وقت سیکریٹری فنانس نے کہا کہ یہ معاہدہ غلط ہے تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا، وہ عوام کی بات کر رہے تھے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پارلیمنٹ میں لائی جائیں۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک