Baaghi TV

Tag: پٹرول

  • یاماہا موٹر سائیکل کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ

    یاماہا موٹر سائیکل کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ

    کراچی :اٹلس ہونڈا کے بعد یاماہا نے موٹر سائیکل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق پیٹرول مہنگا ہونے کے باوجود یاماہا کمپنی نے اپنی موٹر سائیکل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا ہے۔یاماہا کی جانب سے ماٹر سائیکلوں کی قیمت میں 20 سے 22 ہزار روپے تک کا ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے۔

    یاماہا وائے بی 125 زی کی قیمت 20 ہزار روپے بڑھاکر 2 لاکھ 31 ہزار 500 روپے جبکہ یاماہا وائے بی 125 ڈی ایکس کی قیمت 22 ہزار روپے بڑھاکر 2 لاکھ 48 ہزار 500 روپے کردی گئی ہے،یاماہا وائے بی آر کی قیمت میں بھی 22 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 2 لاکھ 55 ہزار روپے ہوگئی ہے۔

    یاماہا وائے بی آر 125 جی کی قیمت 22 ہزار روپے اضافے سے 2 لاکھ 65 ہزار 500 روپے جبکہ یاماہا وائے بی آر 125 جی ڈارک گرے 22 ہزار روپے اضافے سے 2 لاکھ 68 ہزار 500 روپے کی ہوگئی۔یاد رہے کہ یکم جون کو اٹلس ہونڈا نے بھی موٹر سائیکل کی قیمتوں میں 3 ہزار 600 روپے سے 9 ہزار روپے تک اضافہ کیا تھا جو کہ کمپنی کی جانب سے رواں سال کا چوتھا اضافہ تھا۔

    دوسری طرف انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں کاروباری ہفتے کے پانچویں روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں 33 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں ڈالر 197.59 سے بڑھ کر 197.92 روپے پر بند ہوا ہے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • پٹرول مہنگا ہوتے ہی پبلک ٹرانسپورٹ بھی مہنگی ہوگئی،ٹرین اور فضائی کرائے بھی بڑھیں گے

    پٹرول مہنگا ہوتے ہی پبلک ٹرانسپورٹ بھی مہنگی ہوگئی،ٹرین اور فضائی کرائے بھی بڑھیں گے

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہی ہفتے کے دوران مزید 30 روپے اضافے کے نتیجے میں ٹرینوں اور ائرلائنز کے کرایوں میں بڑا اضافہ ہونے کا امکان ہے جب کہ مختلف شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا سفر بھی مہنگا ہونا شروع ہوگیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹرینوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ ائرلائنز کی جانب سے بھی فضائی کرایوں میں اضافے پر غور شروع کردیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ریلوے حکام ملک بھر میں چلنے والی ٹرینوں کی تمام کلاسوں میں 20 فی صد اضافے کی تجویز پرغور کررہے ہیں۔ پاکستان ریلوے سالانہ 20 ارب روپے کا ڈیزل خریدتا ہے جب کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ریلوے کے سالانہ ڈیزل کی مد میں ہونے والے اخراجات 25 ارب تک پہنچ جائیں گے، جس کا سارا بوجھ مسافروں پر ڈالا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ریلوے کرایوں میں اضافے کا اطلاق اے سی سلیپر، اے سی اسٹینڈرڈ، اے سی بزنس کلاس سمیت اکانومی کلاس پر بھی ہوگا۔ حکام کو بھیجی گئی تجویز میں ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن کے مختصر سفر کے لیے بھی کرائے میں اضافہ شامل ہے۔

    دوسری جانب ائرلائنز ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ پٹرولیم کے نرخوں میں بڑے اضافے کے بعد قومی و نجی ائرلائنزکی اندرون و بیرون ملک پروازوں کے کرائے میں اضافہ زیر غور ہے۔ واضح رہے کہ بھاری کرایوں کے باعث پہلے ہی ائرلائنز کو مسافروں کی کمی کے باعث مالی مشکلات کا سامنا ہے جب کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے قومی و نجی ائرلائنز کے مالی اخراجات خصوصا ٹرانسپورٹ اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا، جس کا بوجھ فضائی مسافروں پر منتقل کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ائرلائنز کی بزنس کلاس سمیت اکانومی کی تمام اے تا زیڈ کلاس کے کرایوں میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں پر کرایوں میں اضافے کا مالی بوجھ زیادہ پڑے گا۔

    مزید برآں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 60 روپے اضافہ ہونے سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی من مانا اضافہ کیا جا رہا ہے، جس نے اندرون شہر سفر کرنے والے مسافروں کی کمر توڑ کررکھ دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ جڑواں شہروں میں کرایوں کی مد میں 150 فی صد اضافے سے شہری سخت پریشان ہیں۔

    لاہورمیں بھی پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑنے کے فوری اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، جس کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 300 فیصد تک مزید اضافے کا امکان ہے۔

    پبلک ٹرانسپورٹرز نے لاہور سے ملک بھر کے لیے کرائے بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے مختلف روٹس پر کرایوں میں 150 سے 300 روپے تک اضافے کردیا ہے، جس کے نتیجے میں لاہور سے کراچی تک کرایہ 4 ہزار روپے سے بڑھا کر 4300 روپے ہو جائے گا۔ اسی طرح صادق آباد، راولپنڈی، فیصل آباد، سرگودھا، پشاور، مری اور ساہیوال سمیت دیگر شہروں کے کرائے میں اضافہ کردیا جائے گا۔

  • پٹرول پرلیوی30روپےکرنی ہے،ہرماہ 4روپےبڑھائیں گے،شوکت ترین کی پچھلےسال کی ویڈیووائرل

    پٹرول پرلیوی30روپےکرنی ہے،ہرماہ 4روپےبڑھائیں گے،شوکت ترین کی پچھلےسال کی ویڈیووائرل

    لاہور:پٹرول پرلیوی30روپےکرنی ہے،ہرماہ 4روپےبڑھائیں گے،شوکت ترین کی پچھلےسال کی ویڈیووائرل ،اطلاعات کے مطابق اس وقت سے جب سے موجودہ حکومت نے پٹرول کی قیمتیں بڑھائی ہیں اس وقت سے لیکر اب تک سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہےجس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے وزیرخزانہ شوکت ترین جوکہ اس وقت مشیرخزانہ تھے نے پٹرولیم لیوی ہر ماہ 4 روپے بڑھانے کا ایک پریس کانفرنس میں حماد اظہر کے ساتھ اعلان کیا تھا

    یاد رہے کہ 22 نومبر 2021 کو سابق وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں شوکت ترین نے کہا تھا کہ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 30 روپے تک لے جانی ہے اس لیے ہر ماہ 4 روپے بڑھائیں گے۔

     

    انہوں نے اس وقت یہ اعلان کیا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے مذاکرات طے پاگئے ہیں، ان مذاکرات میں ہم اپنے موقف پر کھڑے رہے، عالمی ادارہ 1 ارب ڈالر قرض فراہم کرے گا۔

    سابق وزیراعظم کے مشیر برائے امور خزانہ نےاس وقت مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف ایگریمنٹ کامیابی سے مکمل ہوا، عالمی مالیاتی ادارے نے ٹیکس ریفارمز جاری رکھنے کا کہا ہے۔

    22 نومبر 2021 کے دن پریس کانفرنس کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات میں مزید بہتری کی ضرورت ہے، ٹیکس نظام میں بہتری، اخراجات میں استحکام اور مالیاتی نظم وضبط سے بہتری ممکن ہے۔

    سابق وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے یہ بھی کہا تھا کہ میں نے کہا تھا ٹیرف بڑھانا مسئلے کا حل نہیں ہے، قیمتیں بڑھائیں گے تو غریب کے اوپر دباؤ بڑھے گا۔

    یاد رہے کہ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سےمذاکرات میں ہم نے زراعت سمیت کچھ شعبوں کو بچایا، ٹیکس قوانین میں بہتری اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنا ہوں گی۔

    وزیر اعظم مشیر برائے امور خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی مہنگی کرنے پر رضامندی پہلے ہوگئی تھی، اسٹیٹ بینک کے بارےمیں ترمیم کا مارچ میں کہا گیا تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے 500 ملین ڈالر لیے تھے، معاہدے سے پیچھے ہٹنا مشکل ہوگیا تھا، اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم ہم نے کرانی ہے، اسے خودمختاری دینے پر پہلے ہی اتفاق کرچکے تھے۔

    شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف نے 700 ارب روپے کا ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا تھا، جی ایس ٹی کے استنیٰ ہٹانے ہیں، پٹرولیم لیوی 10 ارب روپے کرنے کا کہا تھا وہ توہم نہیں کرسکیں گے۔

    ادھر اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو بطورثبوت حکومتی حمایتی یہ کہہ کر پیش کررہے ہیں کہ یہ قیمت تو بڑھنی ہی بڑھنی تھی کیونکہ اس کا معاہدہ شوکت ترین آئی ایم ایف سے کرچکے تھے

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج
    لاہور ہائیکورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو چیلنج کر دیا گیا

    جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو چیلنج کیا ،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات میں 60 روپے تک اضافہ کیا گیا،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے ضروریہ پر اثر پڑے گا، عدالت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو فوری کالعدم قرار دے

    واضح رہے کہ گزشتہ روزحکومت پاکستان نے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید 30، 30 روپے کا اضافہ کردیا ہے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے ملک میں پٹرول کی فی لٹر قیمت 209 روپے 86 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 204 روپے 15 پیسے کردی گئی

    پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی،قرارداد تحریک انصاف کی رکن اسمبلی سیمابیہ طاہر کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ حکومت نے ہفتے میں پیٹرول کی قیمت میں 60 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا حکومت کی نااہلی کے باعث قومی خزانے دیوالیہ ہونے کے قریب ہے عوام پریشان ہے،حالیہ اضافے کو فی الفور واپس کیا جائے

    پیٹرول پرسبسڈی کے باعث ڈیفالٹ کی طرف جا رہے تھے،وفاقی وزیر خزانہ
    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پیٹرول پرسبسڈی ناقابل برداشت ہے ،پیٹرول پرسبسڈی کے باعث ڈیفالٹ کی طرف جا رہے تھے،عمران خان نے پیٹرول پر 30روپے لیوی عائد کیا جو معاشی مشکلات ہیں وہ عمران خان کے معاہدے کے باعث ہیں،کوئلے کے پلانٹ نہیں چل رہے عوام سمجھتے ہیں کہ یہ مہنگائی اور تباہی عمران خان کی ہے، عمران خان نے فروری میں روس سے تیل کیوں نہیں لیا عمران خان کی وجہ سے مہنگائی آئی ہے، 5 ہفتے میں ختم نہیں ہوسکتی، جیسے ہی بجٹ آئے گا تو ہم مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کریں گے،اگست 2023 تک مدت ہے تب تک یہ اسمبلیاں چلتی رہیں گی،

    وزیراعلیٰ سندھ کا خود سمیت تمام وزرا اور افسران کا پیٹرول 40 فیصد کم کرنے کا حکم
    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پیٹرول مصنوعات کی قیمتیں بڑھی ہیں،پیٹرول کی بڑھتی قیمت کا بوجھ خزانے پر مزید نہیں پڑنا چاہیے خزانہ پر بوجھ کا مقصد عوام پر بوجھ ہے،وزیراعلیٰ سندھ نے خود سمیت تمام وزرا اور افسران کا پیٹرول 40 فیصد کم کرنے کا حکم دے دیا، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ 40فیصد پیٹرول کوٹا کی کمی سے خزانہ پر بوجھ نہیں پڑے گا کچھ کم ہوگا،

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کا کہنا تھا کہ حکومتی وزرا ،ججز، اور سول افسران یکجہتی دکھائیں ، پیٹرول الاؤنسز معطل کر دیں،پیٹرول کی قیمتیں واپس آنے تک اعلیٰ عہدوں پر براجمان لوگ عوام کی تکلیف میں حصہ دار بنیں،علامتی طور پر عوام کے ساتھ نظر تو آئیں، آپ کے دورے ہی ختم نہیں ہو رہے،سابق وفاقی وزیر فوادچودھری

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    ‏کچھ دن پہلے پٹرول سستا ھونے پر ذلیل ھو رھا تھا اب مہنگا ھونے پر ذلیل ھو گا، مشاہد اللہ خان

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

  • مہنگائی سے تنگ مشتعل شہریوں نے پیٹرول پمپ پر حملہ کردیا

    مہنگائی سے تنگ مشتعل شہریوں نے پیٹرول پمپ پر حملہ کردیا

    کراچی: شہر قائد کے علاقے پرانی سبزی منڈی کے قریب مشتعل شہریوں نے پیٹرول پمپ پر حملہ کردیا۔اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے ضلع سینٹرل پرانی سبزی منڈی کے قریب شہریوں نے پیٹرول نہ دینے پر پمپ پر حملہ کردیا۔ضلع سینٹرل میں پمپ بند ہونے کے بعد مشتعل افراد نےتوڑ پھوڑ بھی کی اور پیٹرول پمپ پر پتھراؤ کیا گیا۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر یونیورسٹی روڈ پر احتجاج کیا جارہا ہے، ناگن چورنگی سے سخی حسن جانے والے روڈ پر بھی شہریوں کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے۔

    شہر بھر کے مختلف پیٹرول پمپس بند ہیں اور شہریوں کا رش لگا ہوا ہے ادھر سندھ کے شہر لاڑکانہ میں بھی پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف شہریوں کا احتجاج کیا جارہا ہے اور مشتعل افراد نے جناح باغ چوک پر ٹائرز کو آگ لگادی۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا اعلان کیا ہے۔

    پی ٹی آئی کراچی کی جانب سے کل شام 4 بجے پریس کلب پر کیا جائے گا، پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے پیٹرول کی قیمتیں بڑھا کر عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا ہے۔

    ادھرسابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرول پر 50 اور ڈیزل پر 80 روپےکما رہی ہے، 60 روپے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دیں اور ابھی بھی رو رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی سینیٹر اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے شہباز حکومت کی جانب سے ایک ہفتے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 60 روپے اضافے پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ 60 روپے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دیں اور ابھی بھی رو رہے ہیں۔

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل مکمل طور پر کنفیوژڈ نظر آرہے تھے، ابھی بھی کہہ رہے ہیں کہ کوئی سستا تیل دےگا تو خرید لیں گے، ارے بھائی کوئی تمہارے پاس خود آئے گا کہ ہم سے سستا تیل خریدو، پیاسا کنویں کے پاس جاتا ہے یا کنواں پیاسے کے پاس آتا ہے۔

    شوکت ترین نے کہا کہ عمران خان نے روسی صدر سے بات کی تھی، روسی صدر نے کہا تھا کہ سستا تیل بھی دونگا اور پٹرول بھی دونگا، کیا روس آپ کے گھر تیل پہنچائیں گے یا آپ جاکر بات کرینگے، ہمیں تو کہتے تھے ٹارگٹڈ سبسڈی کیوں نہیں دی، اب یہ حکومت خود کیوں ٹارگٹڈ سبسڈی نہیں دے رہی، حکومت کوٹارگٹڈ سبسڈی کی طرف جانا چاہیے اور غریب کو ریلیف دینا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ مفتاح اسماعیل مسلسل جھوٹ بول رہا ہے، حکومت پٹرول پر50 اور ڈیزل پر 80 روپے کما رہی ہے، مفتاح اسماعیل پڑھےلکھے آدمی ہیں اور ایسی باتیں کررہےہیں، انہیں نظر ہی نہیں آرہا، حکومت بتائے 60 روپے کس کھاتے میں اضافہ کیا ہے، یہ حکومت روس کے پاس نہیں جارہی جس کانقصان ہورہا ہے، ہماری حکومت ہوتی توسب سے پہلے روس کے پاس جاتے۔

    سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ حکومت کنفیوژ ہے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں رکھتی، معیشت کو یہ حکومت نہیں سنبھال سکتی، حکومت کو سمجھ نہیں آرہی تو میں چارٹ بناکردیتا ہوں، میرےچارٹ پرعمل کرتےہوئے فیصلے کرلیں، حکومت کو چاہیے فوری الیکشن کرائے تاکہ نئی حکومت آکر معیشت سنبھالے۔

    شوکت ترین نے مزید کہا کہ ہم نےپٹرول پر 20 اور ڈیزل پر 24روپے سبسڈی دی تھی، اس حکومت نے وقت پر ایکشن نہیں لیا، وقت پر فیصلے نہیں کیے، مفتاح کہتا ہے پاکستان کی منفی گروتھ عمران خان دور میں ہوئی، ڈیٹ اگربڑھا ہے تو جی ڈی پی حجم بھی بڑھاہے، مفتاح اسماعیل اس میں ڈنڈی مارسکتاہے تو ہر چیز میں ڈنڈی مارسکتا ہے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • پاکستان کے نیوکلیئر اثاثے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں، اسد عمر

    پاکستان کے نیوکلیئر اثاثے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں، اسد عمر

    اسلام آباد:پاکستان کے نیوکلیئر اثاثے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں،اطلاعات کے مطابق سابق وفاقی وزیراور پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کے نیوکلیئر اثاثے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔

    رہنما پی ٹی آئی اسد عمر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کے لوگ اندھے ،بہرے اور گونگے نہیں ہیں، ن لیگ کے اکثر لیڈر اور کارکن بھی جلد الیکشن چاہتے ہیں۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت تیزی سے تنزلی کی طرف جارہی ہے، فوری الیکشن کے علاوہ کسی کے پاس کوئی حل ہے تو پیش کرے۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نیوکلیئر اثاثے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں جبکہ عمران خان نے ایک خطرے اور اندیشے کا اظہار کیا ہے، عمران خان نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے طوفان برپا ہو۔رہنما پی ٹی آئی اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ ایٹمی پروگرام پاکستان کیلئے ڈھال ہے، عالمی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ ایک مسلمان ملک ایٹمی طاقت ہو۔

    دوسری جانب رہنما پی ٹی آئی اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ آج پریس کانفرنس میں پاکستان کا وزیر خزانہ نہیں، غلامی کی تصویر نظر آئی۔

    رہنما پی ٹی آئی اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ جو مفتاح اسماعیل کہتا تھا ہم ایک روپیہ پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھانے دیں گے، اس نے ایک ہفتے میں 60 روپے پیٹرول کی قیمت بڑھا دی۔جو مفتاح اسماعیل کہتا تھا ہم ایک روپیہ پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھانے دیں گے، اس نے ایک ہفتے میں 60 روپے پیٹرول کی قیمت بڑھا دی.

  • پیٹرول کے بعد گیس کی قیمت میں بھی بڑے اضافے کا امکان

    پیٹرول کے بعد گیس کی قیمت میں بھی بڑے اضافے کا امکان

    اسلام آباد: یکم جولائی سے پیٹرول کے بعد گیس کی قیمت میں بھی بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وزارت توانائی کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ آٗئی ایم ایف پروگرام کو بحال کرنے کی کوشش میں اس بار حکومت کے پاس سسٹم گیس ٹیرف میں 40 سے 50 فیصد تک اضافے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گیس ٹیرف میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2022 سے ہوگا، اب سے آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق ترمیم شدہ اوگرا قانون گیس ٹیرف اور ان پر عمل در آمد کرے گا۔

    رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ سال بجٹ سے دونوں گیس کمپنیوں کو ٹریف میں جمود کی وجہ سے مزید نقصان نہ ہو اور اوگرا کے ترمیم شدہ قانون کو صحیح معنوں میں لاگو کیا جائے۔

     

     

    وزارت خزانہ کے عہدیدرا کا کہنا تھا کہ اب تک دونوں سوئی گیس کمپنیوں سدرن اور ناردرن کو گذشتہ برسوں میں جمع ہونے والے 550 ارب کے بھاری نقصان کا سامنا ہے۔انہوں نے مزید کہا مجموعی طور پر نقصان میں سے 350 ارب روپے سوئی نادردن اور 200 ارب روپے سوئی سدرن کو نقصان کا سامنا ہے جس کی اہم وجہ ٹریف میں مطلوبہ اضافہ نہ کرنا تھا۔

    دوسری جانب سوئی ناردرن پہلے ہی اپنی درخواست میں مالی سال 2022-23 کے لیے گیس کے نرخوں میں 66 فیصد اضافے اور سوئی سدرن نے گیس ٹیرف میں 46 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔اوگرا دونوں گیس کمپنیوں کی درخواستوں کی مستعدی کے بعد جون 2022 کے وسط تک ٹیرف میں اضافے کے بارے میں اپنا فیصلہ لے سکتی ہے۔

  • شوکت ترین پیسے کہاں رکھ کر گئے؟ ہمیں بتا دیں، وزیر خزانہ

    شوکت ترین پیسے کہاں رکھ کر گئے؟ ہمیں بتا دیں، وزیر خزانہ

    شوکت ترین پیسے کہاں رکھ کر گئے؟ ہمیں بتا دیں، وزیر خزانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ گزشتہ رات وزیراعظم شہبازشریف کے خطاب کوسراہا گیا ،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کیا گیا اورمہنگائی آئے گی،پیٹرول مہنگا نہ کرتے تو زیادہ مہنگائی اور روپے کی قدر بھی کم ہوتی ،شہباز شریف کی غریب پرور ہونا روایت ہے،جو مہنگائی کا طوفان پچھلی حکومت کی وجہ سے آیا اس کا تدارک ضروری ہے آبادی کے ایک تہائی افراد کو جون میں وظیفہ دینے کا اعلان کیا،غریب عوام کی مدد کرنا ہماری اولین ترجیح ہے،اگلے سال وظیفے میں اضافہ بھی کریں گے، وزیر اعظم کی ہدایت پر، ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے اندازہ ہے کہ بسوں کے کرائے بھی بڑھیں گے،40 ہزارسے کم آمدن والوں کو میسج کے ذریعے پیسے بھیجے جائیں گے ، ملک میں 85 فیصد پیٹرول 40 فیصد امیر ترین گھرانے استعمال کرتے ہیں ایک کروڑ 40 لاکھ گھرانے ایسے ہیں جن کی آمدن 40 ہزارسے کم ہے ان گھرانوں کو ادائیگی جون سے کی جائے گی شناختی کارڈ کے ذریعےتصدیق کے بعد 2 ہزار روپے ادا کیے جائیں گے ،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ شوکت ترین کا معاہدہ ڈیزل کی قیمت 300 اور پیٹرول 260 روپے کرنا تھا، ہم شوکت ترین کے والے فارمولے پر عمل نہیں کررہے شوکت ترین کہہ گئے تھے کہ وہ پیسے رکھ کے گئے ہیں،ہمیں بتا دیں وہ پیسے کہاں ہیں، ہمیں کہیں نہیں ملے نہیں پتہ کہ آئندہ پیٹرول کی قیمت بڑھے گی یا نہیں،بجلی کی قیمت بڑھانے کی میرے پاس کوئی سمری نہیں ہے،ریلیف ا سکیم سے فائدہ اٹھانے کےلیے 786 نمبر پر شناختی کارڈنمبر بھیجا جاسکتا ہے، جو مستحق ہوگا اسے فوری رقم دی جائے گی، آئی ایم ایف سے اس بار نجکاری کی کوئی بات نہیں ہوئی،پیٹرول کی قیمت خوشی سے نہیں بڑھائی، بین الاقوامی منڈی میں بڑھ گئی تھی حکومت کا ڈیزل کی مد میں سبسڈی ختم کرنے کا ارادہ تھا، 114 روپے سبسڈی ختم اور 30 روپے لیوی لگنے سے بڑھتے ہیں، ہم ابھی اضافی ٹیکس نہیں لگارہے، توقع تو یہی ہے کہ یکم سے پیٹرول نہیں بڑھے گا،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جو کیا اس سے ملک کی معیشت دیوالیہ ہوجاتی،ہم چینی 70 روپے فی کلو بیچیں گے،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا ایک پراسس ہے،اوگرا سمری پیٹرولیم پھر فنانس اور اس کے بعد وزیراعظم کو جاتی ہے،ابھی تک سمری نہیں آئی اور آئے گی تو مزید غور کیا جائے گا، ابھی قیمتیں بڑھائی ہیں،نہیں لگتا 4،2 روزمیں دوبارہ بڑھیں گی،وظیفہ دینے سے 28 کروڑروپے کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی، بےنظیر انکم سپورٹ والے رجسٹرڈ افراد کو دو دن تک پیسے دے دیئے جائیں گے،سعودی عرب ہماری مزید مدد کرنا چاہتا ہے جس پر جولائی میں بات کروں گا آئی ایم ایف سے نجکاری کی کوئی بات نہیں ہوئی، آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ جون میں ہو جائے گا، فورسز کا بجٹ 1340 ارب روپے ہے اس اس میں فورسز کو ملنے والی گرانٹ بھی شامل کر لیں تو یہ بجٹ 1400 ارب روپے بنتا ہے فورسز کا بجٹ جی ڈی پی کے 2 فیصد سے بھی کم ہے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافے کےلیے پاکستانی تیار رہیں : مصطفیٰ نواز

    پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافے کےلیے پاکستانی تیار رہیں : مصطفیٰ نواز

    اسلام آباد:پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافے کےلیے پاکستانی تیار رہیں،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافہ متوقع ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے لکھا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافہ متوقع ہے، آئی ایم ایف شاید کئے گئے اضافہ سے مطمئن نہ ہو، سخت بجٹ بھی دینا پڑے گا۔

     

    اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ سوال تو یہ ہے کہ عمران خان کی ناکامیوں اور ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا بوجھ اپنے سر لینے میں کیا حکمت ہے؟۔

     

     

    دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی شکل میں عوام پر ایک نہیں دو بم گرائے گئے، پہلے مہنگائی کیا کم تھی کہ اب ٹرانسپورٹ کی وجہ سے مہنگائی میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوگیا ہے۔

    چودھری پرویز الٰہی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ نا اہل حکمرانوں نے عوام کو مہنگائی کی چکی میں پسنے کیلئے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے، حکمران سستا تیل روس سے کیوں نہیں لیتے،عمران خان نے روس سے سستے تیل کی ڈیل مکمل کر لی تھی، بھارت نے روس سے سستا تیل لے کر اپنی عوام کو ریلیف فراہم کیا۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے لانگ مارچ ختم نہیں کیا صرف 6 روز کیلئے حکومت کو مزید مہلت دی ہے، گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے، اعلیٰ عدلیہ نے بھی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔

  • عمران خان روس سے تیل کی تجارت کا معاہدہ دکھائیں، مصدق ملک

    عمران خان روس سے تیل کی تجارت کا معاہدہ دکھائیں، مصدق ملک

    عمران خان روس سے تیل کی تجارت کا معاہدہ دکھائیں، مصدق ملک
    وزیر مملکت برائے پٹرولیم ،ن لیگی رہنما مصدق ملک نے عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان روس سے تیل کی تجارت کا معاہدہ دکھائیں، ہم نے روس سے رابطہ کیا مگر انہیں بھی ایسے معاہدہ کا علم نہیں روس کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا پاکستان نے روس سے تجارت کی خواہش ظاہر کی ہے جواب کا انتظار ہے، بھارت میں تیل کی قیمت 250 پاکستانی روپے ہے، عمران خان نے ملک کو دیوالیہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے،

    مصدق ملک کا مزید کہنا تھا کہ تنخواہوں کی مد میں 320 ارب جبکہ پٹرو ل پر دی گئی سبسڈی 720 ارب روپے ہے پٹرول پر جون تک 120 ارب کی سبسڈی دی گئی یہ 120 ارب روپے قومی خزانے میں کہیں موجود نہیں تھے سابق حکومت 720ارب روپے کی سبسڈی دے کر چلی گئی، اقتدار سنبھالتے ہی وزیراعظم نے تمام وزراء سے کہا کہ حکمت عملی بنائے بغیر تیل قیمتوں میں اضافہ نہیں کریں گے وزیراعظم کی جانب سے غریب افراد پر بوجھ نہ دینے کی ہدایت کی گئی پٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے مختلف تجاویز دینے میں 3 سے 4 ہفتے لگے

    مصدق ملک کا مزید کہنا تھا کہ روس سے معاہدہ کیا تھا تو 30فیصد سستا تیل پی ایس او کے ٹینڈر میں کیوں نہیں آیا عمران خان نے اپنی غلط بیانیوں سے ملک میں بد گمانی کی فضا پیدا کی بھارت میں پٹرول کی قیمت 250 روپے 17 پیسے پاکستانی روپے ہے ہمارے ہاں قیمت بڑھانے کے بعد 179 روپے 88 پیسے ہے بھارت نے پٹرول کی قیمت میں 24 روپے کم سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کیلئے کی ہے ہمارے سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی پہلے ہی صفر ہے

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    ‏کچھ دن پہلے پٹرول سستا ھونے پر ذلیل ھو رھا تھا اب مہنگا ھونے پر ذلیل ھو گا، مشاہد اللہ خان

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت