Baaghi TV

Tag: پھانسی

  • چین میں کرپٹ لوگوں کو کیسے سزا دی جاتی رہیِ؟ پرانی ویڈیو وائرل

    چین میں کرپٹ لوگوں کو کیسے سزا دی جاتی رہیِ؟ پرانی ویڈیو وائرل

    چین میں کرپٹ لوگوں کو کیسے سزا دی جاتی رہیِ؟ پرانی ویڈیو وائرل

    اطلاعات کے مطابق اس وقت جہاں پاکستان میں حکومت کے خلاف اپوزیشن جوڑ توڑ اور سازشوں میں مصروف ہے ، دوسری طرف ملک میں کرپشن کنٹرول کرنے کے حوالے سے چین کا کرپش فری ماڈل پاکستان میں اپنانے اور لانے کے لیے چینی سوشل میڈیا ٹیموں نے پاکستانی مقتدر اداروں اور دیگر اہم سوشل میڈیا پیجز پر ایک ایسی ویڈیو وائرل کردی ہے کہ جس کو دیکھنے کےبعد بہت سے خیالات اور احساسات نے جنم لے لیا ہے

    اہم ذمہ داران کو شیئر کی جانی والی یہ ویڈیو 11 سال پرانی ہے لیکن اس میں دیکھنے والوں کےلیے بہت کچھ ہے ، اس ویڈیو کو شیئر کرنے والوں نے پاکستان میں چین کا کرپشن فری ماڈل نافذ کرنےکے لیے یہ ویڈیو وائرل کی ہے

    گیارہ سال پہلے کرپشن پر سزائے موت پانے والے ان چینی وائس میئرز کی کہانی کچھ اس طرح تھی کہ چین میں دوسابق نائب میئرز کو پھانسی دے دی گئی جولائی 2011 میں ان دونوں پراختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت لینے کے الزامات ثابت ہو نے کے بعد ان کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی تھی

    تاریخ کے اوراق کو پلٹیں‌تو معلوم ہوتا ہے کہ چینی عدالت عظٰمی اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں میئر حضرات نے مشرقی چین میں تیزی سے ترقی کرتے ہوئے دو شہروں میں تعمیراتی اور مختلف قسم کے دیگر منصوبوں میں دخل اندازی کی اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ ٹھیکے اپنے من پسند افراد کو دلانے کے لیے انہوں نے لاکھوں ڈالر رشوت لی تھی ۔

    عدالت عظٰمی کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق شنگ ژو شہرکے سابق نائب میئر Xu Maiyong اور سوجو شہرکے نائب میئرJiang Renjie کو منگل کی صبح پھانسی دی گئی۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے 19 جولائی کو ہی بتادیا تھا کہ Xu Maiyong نے سرکاری منصوبوں میں مداخلت کی اور مختلف افراد اورکمپنیوں کو فائدے پہنچائے، جس کے عوض انہیں تقریباً 22 ملین ڈالر رشوت کے طور دیے گئےتھے ۔ اسی طرح دوسرے نائب میئر Jiang نے جائیداد کا کام کرنے والوں سے 108 ملین یوآن رشوت لی تھی ۔

    چین کی کمیونسٹ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک سے جرائم اور بدعنوانی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عزم کیے ہوئے ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ سخت سے سخت اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتی۔

     

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے چین میں2007ء میں بیجنگ حکام نے شنگھائی میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کو برطرف کر دیا تھا۔ ان کا شمار پارٹی کے طاقت ور ترین افراد میں ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ رواں سال بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے ریلوے کے وزیر کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

    دوسری طرف پاکستان میں 11 سال بعد وائرل ہونے والی ویڈیو کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ اس ویڈیو کے وائرل کرنے میں عمران خان کےلیے ایک پیغام ہے کہ ان کے دورہ چین کے دوران چینی صدر سے ہونے والی گفتگو میں جہاں چینی صدر نے پاکستان کو کرپشن فری کرنے لیے کرپٹ لوگوں کو سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی تھی حالیہ ویڈیواس حوالے سے ایک ریمانڈر ہے

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کرپشن فری پاکستان کے لیے چینی صدر نے عمران خان کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اگر وہ پاکستان میں چینی ماڈل اپنانا چاہتے ہیں تو ان کو اس قسم کے سخت فیصلے بھی کرنے ہوں گے ، حالیہ ویڈیو ان تجاویز کی ایک کڑی ہے اور یہ ان طاقتورکرپٹ شخصیات کے خلاف سخت فیصلہ لینے کے لیے ایک پیغام قراردیا جارہا ہے

  • بھٹوکی بستی میں میڈیکل کی طالبہ کا قتل:باپ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ مسترد کردی

    بھٹوکی بستی میں میڈیکل کی طالبہ کا قتل:باپ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ مسترد کردی

    کراچی :بھٹوکی بستی میں میڈیکل کی طالبہ کا قتل:باپ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ مسترد کردی،اطلاعات کے مطابق گرلز ہاسٹل میں مبینہ خودکشی کا معاملہ ابھی تک معمہ بنا ہوا ہے، ادھرمقتول بچی کے والد نے پوسٹ مارٹم رپورٹ مسترد کردی ہے

    لڑکی کے والد کی میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ بیٹی نے کئی مرتبہ ہاسٹل وارڈن کو کمرے کی تبدیلی کی درخواست دی تھی جو منظور نہیں کی گئی، والد کا مزید کہنا تھا کہ پولیس تحقیقات اپنی جگہ لیکن بچی کے انتہائی قدم پر حیران ہیں،

    مقتول بچی کے چچا کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹی دین دار اور خوش تھی وہ خودکشی نہیں کر سکتی،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ واقعہ میں انتظامیہ کی نااہلی صاف ظاہر ہے،

    بچی کے چچا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ شاگردوں کے لیے والدین کی جگہ ہوتے ہیں لیکن اب تک بچی کی تعزیت کے لیے کوئی نہیں آیا

    بچی کے والد کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات ہوتے رہے تو کون اپنی بچیوں کو پڑھنے بھیجے گا، والد,,بیٹی چاہتی تھی کہ وہ اپنے علاقہ کی لڑکیوں کے ساتھ روم میں رہے،

    مقتول بچی کے والد محترم ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کو رد کرتا ہوں، کیمیکل ایگزیمینیش رپورٹس کو بھی دیکھیں گے، بیٹی کی لاش کو رسی سے لٹکا اور پیر ٹیبل پر دیکھ کر ہی شک شبہات پیدا ہو گئے تھے،

    یاد رہے کہ چند دن پہلے بھٹو کی بستی میں ایک اور حوا کی بیٹی کو قتل کردیا گیا تھا ، اطلاعات ہیں کہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے چانڈکا میڈیکل کالج کی چوتھے سال کی طالبہ کی لاش 24 نومبر کی دوپہر کو گرلز ہاسٹل نمبر دو سے ان کے کمرے سے ملی۔

    پولیس عہدیدار کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی پولیس کے مطابق ہاسٹل نمبر دو کے کمرے سے نوشین کاظمی نامی لڑکی کی پھندا لگی لاش ملی۔

    طالبہ کا تعلق ضلع دادو سے تھا اور ان کے والدین کو اطلاع کردی گئی جب کہ طالبہ کی لاش کو تین گھنٹے گزر جانے کے باوجود پھندے سے نہیں اتارا گیا۔

    پولیس کا کہنا کہ فوری طور پر کہنا قبل از وقت ہے کہ طالبہ نے خودکشی کی یا پھر ان کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آیا، تاہم بظاہر واقعہ خودکشی کا لگتا ہے۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ طالبہ کے ورثا کے پہنچنے کے بعد کیس داخل کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا جب کہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ آنے اور واقعے کی ابتدائی تفتیش کے بعد ہی واقعے سے متعلق کچھ کہا جا سکے گا۔

    کچھ عرصہ قبل بھی چانڈکا میڈیکل کالج میں ایک طالبہ نے اسی طرح پراسرار طور پر خودکشی کرلی تھی۔

    گرلز ہاسٹل سے طالبہ کی لاش ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں طالبہ کو پھندے میں لٹکا دیکھا جا سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں طالبہ کو پھندے سے لٹکا دیکھا جاسکتا ہے

  • نوٹس نہیں صرف پھانسی

    نوٹس نہیں صرف پھانسی

    قصور
    سانحہ کھڈیاں پر لوگوں کا ایک بار پھر سرعام پھانسی کا مطالبہ لوگوں کا کہنا ہے اگر اس جیسے واقعات روکنے ہیں تو سرعام پھانسی کا نفاذ کرنا ہوگا
    تفصیلات کے مطابق عید الفطر کے دن پنچاب پیٹرولنگ پولیس کے اہلکار نے کھڈیاں قصور کے رہائشی 18 سالہ حافظ قرآن نوجوان سمیع الرحمن کو بدفعلی پر راضی نا ہونے پر اس کے باپ اور بھائی کے سامنے گولی مار کر قتل کر دیا تھا جس پر ملزم کے خلاف ملک بھر خاص طور پر قصور و گردونواح سے سخت موقف آیا تھا لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ملزم کم سزاؤں کی بدولت رہا ہوتے رہے جس کی بدولت ایسے سانحات رونما ہوتے ہیں لہذہ حکومت اکیلا نوٹس لینے کی بجائے ملزم کو سرعام پھانسی دے تاکہ دوسرے لوگ عبرت حاصل کریں
    لوگوں نے پورے کھڈیاں خاص اور گردونواح میں بینرز آویزاں کر دیئے ہیں جن کا مقصد گورنمنٹ تک اپنی بات پہنچانا ہے

  • انسپکٹر کے قتل میں ملوث ڈکیٹ کو سزائے موت

    کراچی : قتل کے بدلے قتل ، کراچی کی مقامی عدالت نے 2016 میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ایک انسپکٹر کو قتل کرنے والے ڈکیت کو سزائے موت سنا دی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایسٹ حلیم احمد نے ثبوت کا جائزہ لینے اور دونوں فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔

    بنارس ہندو یونیورسٹی میں’مسلم پروفیسر‘ کی تقرری پر ہنگامہ، طلبا نے کیا احتجاجی مظاہرہ

    فیصلے کے مطابق محمد دانش عرف پنچھی پر اگست 2016 میں بریگیڈ پولیس اسٹیشن کی حدود میں ڈکیتی کی کوشش کے دوران مزاحمت کرنے پر 30 سالہ ہاشم یونس کو گولی مار کر قتل کرنے کا جرم ثابت ہوگیا ہے۔

    ججوں کو سلام ،مسجد کی جگہ مندرکا فیصلے پربہت خوشی ہوئی ہے،مولانا سلمان ندوی

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایسٹ حلیم احمد نے فیصلے میں کہا کہ ثبوت کا جائزہ لینے دلائل سننے کے بعد انہیں مجرم قرار دیا۔جج نے مجرم کو سزا کے ساتھ ساتھ مقتول کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے ادا کرنے کا بھی حکم دیا دوسری صورت میں مزید 6 ماہ کی قید ہوگی۔مقدمے میں نامزد دوسرے ملزم سید سبحان علی کو قتل میں ملوث ہونے سے متعلق عدم ثبوت کی بنا کر رہا کردیا گیا۔

    سپریم کورٹ کے ہندووں کے حق میں فیصلے سے حوصلہ ملا،اسی کی تناظر میں آگے بڑھیں گے:مودی

    پروسیکیوٹر کے مطابق اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن میں انسپکٹر ہاشم یونس اور اس وقت سندھ رینجرز میں تعینات تھے اور 6 اگست 2016 کو اپنے والد یونس نذیر کے ہمراہ گھر لوٹ رہے تھے کہ نامعلوم مسلح موٹرسائیکل سوار نے ایم جناح روڈ پر ان سے موبائل چھیننے کی کوشش کی اور اس دوران گولی مار دی۔