Baaghi TV

Tag: پھل

  • چکوال. بلیک بیری کی پاکستان میں کاشتکاری کا پہلا کامیاب تجربہ

    چکوال. بلیک بیری کی پاکستان میں کاشتکاری کا پہلا کامیاب تجربہ

    بارانی ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ (باری) چکوال نے نایاب قسم کے پھل بلیک بیری کی پاکستان میں کاشتکاری کا پہلا کامیاب تجربہ کرکے اسے کمرشل بنیادوں پر کاشتکاروں تک پہنچانے کا آغاز کر دیا ہے

    زرعی سائنسدانوں کے مطابق بلیک بیری جیسے نایاب پھل کی کاشت پاکستان میں ممکن بنانے کیلئے 6 سال قبل کیلی فورنیا سے چند پودے لاکر ان پر تجربات کیے گئے، اب بارانی ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ چکوال نے پہلا کامیاب تجربہ کرنے کے بعد اسے کمرشل بنیادوں پر کاشتکاروں تک پہنچانا شروع کر دیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق بلیک بیری کا پودا ایک سال میں چار سے پانچ کلو پھل دینا شروع کر دیتا ہے، عام مارکیٹ میں اس کی قیمت توقع سے بڑھ کرہے، جبکہ خوش ذائقہ بلیک بیری کینسر سمیت کئی بیماریوں سے بچاؤ کا باعث بھی ہے ، آئندہ چند سالوں میں پاکستانی بلیک بیری کے پھل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں رسائی یقینی بنا کر زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں مدد حاصل ہوسکتی ہے

    بلیک بیری پاکستان میں ہر قسم کے موسم میں کاشت کی جا سکتی ہے ایک کنال سے 23 من پیداوار حاصل کی جا سکتی.کنال میں پودوں کی تعداد 180،بغیر سپرے، کھاد کے تیار،پانی لگائیں دوسرے سال پھل کھائیں.

    بلیک بیری کے فوائد
    تحقیقات سے حاصل کردہ نتائج کے مطابق بلیک بیری کئی امراض کے علاج میں مفید ہے کینسر کے خلاف بھی نہایت فائدہ مند پھل ہے،ترکی کی اوردو یونیورسٹی کے شعبہ زراعت کے پروفیسر ڈاکٹر توران کھارادینیز کا کہنا ہے کہ بلیک بیری میں وافر مقدار میں الاجک ایسڈ پایا جاتا ہے اور تحقیقات کے مطابق یہ ایسڈ کینسر اور ٹیومر کے خلیات میں اضافے کو روکتا ہے، بلیک بیری کینسر اور ٹیومر کے ساتھ ساتھ انسانی جسم کے مختلف حصوں میں سوجن، درد، بلند فشار خون ، ذیابیطس، سینے اور سانس کی بیماریوں میں بھی مفید ثابت ہوتا ہے، اس پھل کو زخموں پر مل کر زخم مندمل کرنے میں مدد ملتی ہے اس کے علاوہ یہ پھل قبض میں مفید ثابت ہوتا ہے، انسان کو سیر رکھنے کی وجہ سے اسے ڈائٹ پروگراموں میں شامل کیا جاتا ہے،بلیک بیری کے پتوں کو ابال کر پیا جائے تو وہ دانتوں اور مسوڑوں کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے جبکہ اس کی جڑوں کو ابال کر پیا جائے تو وہ گردوں کی پتھری خارج کرنے میں فائدہ مند ہوتا ہے

  • سوشل میڈیا پہ،پھلوں کا بائیکاٹ کرو،ٹرینڈ زور پکڑ گیا

    سوشل میڈیا پہ،پھلوں کا بائیکاٹ کرو،ٹرینڈ زور پکڑ گیا

    قصور
    اہلیان پاکستان کی طرف سے سوشل میڈیا پہ مہنگائی کے خلاف ٹرینڈ،26 مارچ سے پھل و چکن نا خریدنے کا ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے تاکہ قیمتوں میں کمی لائی جا سکے،پھلوں کا بائیکاٹ کرو،ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پہ مہنگائی کی ماری عوام کی جانب سے کل بروز اتوار 26 مارچ سے اشیاء خوردونوش کی ناجائز قیمتوں کے خلاف ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے جس میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ 26 اپریل سے پھلوں اور چکن کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے تاکہ ان ناجائز منافع خوروں کو عبرت حاصل ہو سکے
    سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اگر
    صرف 10 رمضان تک پھلوں کا مکمل بائیکاٹ کردیا جائے یا خرید بلکل محدود کر دی جائے تو بلیک مارکیٹنگ مافیا کو تنبیہہ ہو جائے گی
    اور وہ خود بخود قیمتیں کم کرنے پہ مجبور ہو جائیں گے

    واضع رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال بھی سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ایسا ہی ٹرینڈ چلایا گیا تھا جس کے باعث قیمتوں میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی تھی
    ،پھلوں کا بائیکاٹ کرو، ٹرینڈ زور پکڑتا جا رہا ہے

  • اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    اسٹرابیری پھل دیکھنے میں بہت خوبصورت ہوتا ہے اور ذائقے کے لحاظ سے بھی بہترین ہے اسٹرابیری، موسم بہار اور موسم گرما میں ایک پسندیدہ پھل اپنی مزیدار میٹھی خوشبو اور ذائقے کی بدولت سب کا پسندیدہ بھل ہے اور اسکے ساتھ ساتھ، وٹامن اے، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم اور فولیٹ سمیت غذائی اجزاء کا ایک شاندار ذریعہ ہیں۔ مزید برآں ان کا شمار وٹامن سی اور مینگنیز سے بھرپور پھلوں میں بھی ہوتا ہے

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اسٹرابیری اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے، جو دل کی صحت اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے فوائد رکھتی ہیں عام طور پر سٹرابیری کچی اور تازہ کھائی جاتی ہیں، مگر اس کی علاوہ ان کو مختلف قسم کے جیمز، جیلیوں اور میٹھوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اسٹرابیری بنیادی طور پر %91 پانی اور %7.7 کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان میں معمولی مقدار میں چربی (0.3%) اور پروٹین (0.7%) بھی موجود ہوتی ہے۔

    اکثر خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے اوپر ‘بیج’ پھل کے اندر ہونے کی بجائے اوپر موجود ہیں آپ یہ جان کر حیران رہ جئیں گے کہ اسٹرابیری کے اوپر جو بیج نظر آتے ہیں وہ حقیقت میں بیج نہیں اور جو سرخ رنگ کا پھل ہم کھاتے ہیں وہ تکنیکی طور پر پھل ہی نہیں،اسٹرابیری کے اوپر جو بیج جیسی چیز نظر آتی ہے اسے ایچین کہا جاتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    یہ جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے کہ ایچین درحقیقت اسٹرابیری پودے کا پھل ہوتا ہے اور ہر ایچین کے اندر ایک بیج ہوتا ہےجہاں تک سرخ گودے کی بات ہے جسے ہم اسٹرابیری پھل تصور کرتے ہیں وہ حقیقت میں ایسا ٹشو ہے جو پھول کو پودے سے جوڑنے کا کام کرتا ہے۔

    جب اسٹرابیری کے ایک پھول کی تخم کاری ہوتی ہے تو یہ ٹشو نشوونما پاکر بدل جاتا ہے تو اسٹرابیری کی سطح پر جو متعدد بیج نظر آتے ہیں وہ درحقیقت پھل ہوتے ہیں، مگر یہ معلوم نہیں کہ آخر وہ چھوٹے اور خشک پھل اس سرخ میٹھے حصے کے باہر کیوں ہوتے ہیں۔

    بس یہ معلوم ہے کہ دیگر پھلوں کے برعکس اسٹرابیری کے پھول میں پھل نہیں پھولتا بلکہ اس کا ٹشو پھول جاتا ہے جبکہ حقیقی پھل چھوٹی خشک شکل میں نظر آتا ہےدلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹرابیری کے بیشتر پودوں کو اگنے کے لیے بیجوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی نقول بناکر پھیلتے رہتے ہیں۔

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

  • پاکستانی تاریخ کے مہنگے ترین پھل و سبزیاں

    پاکستانی تاریخ کے مہنگے ترین پھل و سبزیاں

    قصور
    پاکستانی تاریخ کی مہنگی ترین سبزیاں و پھل،سیلاب زدگان کیساتھ پوری قوم بھی پریشان،حکومتی دعوے بے نقاب

    تفصیلات کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگی سبزیاں و پھل فروخت کئے جا رہے ہیں جن کو نا چاہتے ہوئے بھی مہنگائی کے مارے لوگ خریدنے پہ مجبور ہیں
    دس ںیس روپیہ فی کلو والی گوبھی 150 روپیہ،مٹر 300 ،پیاز 150،ٹماٹر 250,بھنڈی 120,بینگن 200 سندر خانی انگور 550,جاپانی پھل 250,کیلا 120 روپیہ فی درجن تک فروخت کئے جا رہے ہیں جبکہ ان تمام چیزوں کے سرکاری نرخ کم ہیں
    بلیک مارکیٹنگ مافیا پوری تندہی سے اور بے خوف ہو کر اپنی من مانیاں کر رہا ہے جسے روکنے والا کوئی نہیں
    گورنمنٹ کے سرکاری نرخوں پر اشیاء فروخت کرنے کے دعوے بے نقاب ہو رہے ہیں
    سیلاب زدگان کیساتھ اس وقت پوری قوم شدید پریشان ہو گئی ہے
    لوگوں کا کہنا ہے کہ خداراہ مہنگائی ختم کرنے کے دعوے کسی حد تک تو پورے کئے جائے نا کہ اور مہنگائی کی جائے

  • انگور — حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    انگور — حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے ۔

    شائد اسی لیے قرآن مجید میں اسے عنب کے نام سے گیارہ مختلف آیات میں ذکر کیا گیا ہے ۔

    انگور کی درجنوں جنگلی قسمیں دنیا کے مختلف خطوں میں پائی جاتی ہیں ۔

    اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا کہ انگور کا اصلی وطن کون سا ہے ممکن نہیں ۔

    اس کے باوجود سائنس دانوں کا خیال ہے کہ انگور کا اصلی وطن آرمینیا اور آذربائجان کا پہاڑی علاقہ ہو سکتا ہے ۔

    اس علاقہ کی آب وہوا بہت اچھی ہے اور غالباً یہیں سے انگور کی کاشت کا فن عام ہو کر ایران مصر اور عرب تک پھیل گیا ۔

    یہ قیاس آرائیاں تین ہزار سال قبل مسیح سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ روایات کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں کاشت کیا گیا انگور دریافت ہو چکا تھا ۔

    اس طرح کھجور کے بعد انگور کی تاریخ ہی پھلوں میں سب سے قدیم مانی جاتی ہے ۔

    آج انگور کی آٹھ ہزار قسمیں تیار کی جا چکی ہیں
    ۔
    ان میں سے چند عمدہ اور اچھی قسموں کی کاشت اٹلی فراس روس اسپین ترکی ایران افغانستان جاپان شام الجیریا مراکش اور امریکہ میں کی جا رہی ہیں ۔

    انگور کی عالمی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ پورپی ممالک پیدا کر رہے ہیں ۔

    انگور کا شمار اہم پھلوں میں ہوتا ہے ۔

    انسانی صحت کی بحالی کے لیے انگور قدرت کا انمول تحفہ ہے ۔

    انگور کے دانے مٹر سے لے کر آلو بخارے تک جسامت رکھتے ہیں ۔

    انگور زرد کالے سرخ سبز اور نیلے رنگ کے ہوتے ہیں ۔

    انگور اپنے قیمتی غذائی اجزاء کی بدولت زبردست غذائی اہمیت رکھتا ہے ۔

    اس میں پائی جانے والی وفر مقدار میں شکر زیادہ تر گلوکوز پر مشتمل ہوتی ہے ۔

    انگور میں پایا جانے والا گلوکوز مختلف اقسام میں شرح یعنی 15 سے 25 فیصد تک موجود ہوتا ہے ۔

    انگور فوری طور پر جسم کو حرارت اور توانائی مہیا کرتا ہے ۔

    گلوکوز پہلے سے ہضم شدہ غذا ہے جو معدے میں پہنچنے کے فوراً بعد خون میں جذب ہو جاتی ہے ۔

    غذائی صلاحیت:
    انگور کے 100 گرام میں 92 فیصد رطوبت 0.7 فیصد پروٹین 0.1 فیصد چکنائی 0.2 فیصد معدنی اجزاء اور 7 فیصد کاربوہائیڈریٹ پائے جاتے ہیں ۔

    جبکہ انگور میں پائے جانے والے معدنی اور حیاتین اجزاء کا تناسب اس طرح ہوتا ہے ۔

    کیلشیم 20 ملی گرام فاسفورس 20 ملی گرام آئرن 0.25 ملی گرام وٹامن سی 31 ملی گرام اور وٹامن بی کمپلیکس وٹامن اے اور وٹامن بی کی بھی کچھ مقدار پائی جاتی ہے ۔

    100 گرام انگور میں 32 کیلوریز ہوتی ہیں ۔

    شفاء بخش قوت اور طبی خواص:
    انگور کی شفاء بخش طبی افادیت کا تعلق اس میں پائی جانے والی گلوکوز کی فراوانی ہے ۔

    انگور بحالی صحت کو بڑی تیزی سے ممکن بناتا ہے ۔

    عام کمزوری بخار اور ضعف ہضم کے مریضوں کے لیے انگور بہت اچھی غذا ہے ۔

    قبض سے چھٹکارا پانے کے لیے روازنہ 350 گرام گرام انگور کھانا ضروری ہے ۔

    اگر تازہ انگور دستیاب نہ ہوں تو کشمش کو کچھ دیر پانی میں بھگو رکھنے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

    انگور بد ہضمی کا خاتمہ کرتے ہیں اور بہت کم وقت میں معدے کی خراش اور گرمی دور کرتے ہیں ۔

    دل کی بیماری میں انگور کامیاب علاج ہے ۔

    انگور دل کو تقویت دیتے ہیں دل کے درد اور تیز دھڑکن کا خاتمہ کرتے ہیں ۔

    اگر انگور کو مریض کچھ دن اکلوتی غذا بنائے رکھے تو مرض پر بہت تیزی سے قابو پایا جاسکتا ہے ۔

    دل کے دورے کے بعد مریض کو انگور کا رس پلانا بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔

    یہ مریض کو دل کی تیز دھڑکن اور سنگین نتائج سے محفوظ رکھتا ہے ۔

    خوب پکے ہوئے انگوروں کا رس درد شقیقہ آدھے سر کا درد میں تسکین بخش ہے ۔

    انگور میں پانی اور پوٹاشیم کی کافی مقدار پائی جاتی ہے ۔

    اسی وجہ سے یہ منفرد قسم کی پیشاب آور صلاحیت رکھتے ہیں ۔

    مثانے اور گردوں کی پتھری کا خاتمہ کرتے ہیں اور گردوں کی سوزش دور کرتے ہیں۔

  • اسلام آباد کے اتوار بازارو ں میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں کے ریٹ جاری

    اسلام آباد کے اتوار بازارو ں میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں کے ریٹ جاری

    اسلام آباد کے اتوار بازارو ں میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں کے ریٹ جاری کر دیئے گئے-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں آلو 43 ، پیاز 70 ،اور ٹماٹر 82 روپے فی کلو قیمت مقرر کی گئی ،ادرک215 ، لہسن 132 اور لیموں 210 روپے فی کلو بکنے لگے،بینگن 42، ٹینڈا80 ، کھیرا 46 اور شملہ مرچ 65 روپے فی کلو بک رہے ہیں-

    پنجاب کے بازار اور مارکیٹیں رات دیر تک کھولنے کی اجازت

    سبز مرچ 150، پھول گوبھی 64، بھنڈی 55 اور پالک 14 روپے فی کلو جبکہ کریلا75، اروی 90، لوکی 73 اور فرشبین 135 روپے فی کلومقرر کئے گئے ہیں-

    اسلام آباد اتوار بازاروں میں پھلوں کی قیمتوں میں سیب 125 ،خوبانی 120، جامن 100 اور تربوز 26 روپے فی کلو فروخت کئے جا رہے ہیں،کیلا 120 روپے فی درجن، آم سندھڑی 151، آم لنگڑا 63 روپے کلو مقرر کئے گئے ہیں-

    جبکہ اسلام آباد اتوار بازاروں میں انڈے 192 روپے فی درجن،مرغی فی کلو 285 روپے میں فروخت کی جارہی ہے-

    ملک بھر میں کورونا مثبت کیسز کی تعداد 650 ہو گئی

    دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے عوام اور تاجر برادری کوبڑی عید کا بڑا تحفہ دے دیا پنجاب بھر کی مارکیٹوں اور بازاروں کو 9 بجے رات بند کرنے کی پابندی چاند رات تک ختم کر دی وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے بتایا کہ فیصلے کا اطلاق پنجاب بھر میں آج سے ہو گا۔ چاند رات تک مارکیٹوں اور بازاروں کے لئے رات 9 بجے بند کی پابندی کا اطلاق نہیں ہو گا۔پنجاب حکومت نے یہ فیصلہ تاجر برادری اور عوام کی سہولت کیلئے کیا ہے۔ کاروبار اور شاپنگ میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔

    قبل ازیں وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں عید الاضحٰی پر لاہور سمیت صوبہ بھر میں صفائی پلان کا تفصیلی جائزہ لیاگیا .وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے عید الاضحٰی پر لاہور سمیت پنجاب کے شہروں میں صفائی کے بہترین انتظامات کے لئے ٹاسک سونپ دیئے جبکہ حمزہ شہباز نے کمشنر لاہورڈویژن، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر اضلاع کے انتظامی افسران کو عید الاضحٰی پر فیلڈ میں موجود رہنے کی ہدایت کر دی-

  • لاہورانتظامیہ کی جانب سے سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری ریٹ جاری

    لاہورانتظامیہ کی جانب سے سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری ریٹ جاری

    لاہور، انتظامیہ کی جانب سے سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری ریٹ جاری کر دیئے گئے-

    باغی ٹی وی : آلو درجہ اول 60 ، پیاز درجہ اول 76 اور لہسن دیسی160روپے کلو مقرر کیا گیا،ادرک چائینہ 200 ،ٹماٹر 90، کھیرا دیسی 84 ،میتھی147 اور بیگن کی قیمت 53 روپے کلو مقرر کی گئی-

    پھول گوبھی 63، شلجم 84 شملہ مرچ 120 اور بھنڈی کی فی کلو قیمت 74 روپے ، لیموں دیسی185،مٹر 178، ٹینڈے دیسی 157، گھیا کدو 90کلو مقرر،گاجر چائنہ 95، کریلا 105 ، پھلیاں 105 ،سیب کالا کولوا ول 288 روپے کلومقرر کیا گیا ہے-

    امریکہ سے باہمی اعتماد و احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں:وزیر اعظم

    سرکاری ریٹ لسٹ میں سیب سفید اول 167، انار قندھاری 380، خوبانی سفید 147 روپے کلو مقرر ،آڑو 200، کھجور ایرانی 250، خربوزہ اول 73، تربوز 38 روپے کلو،کیلا درجہ اول فی درجن 120 روپے مقرر کیا گیا ہے-

    سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق آم سہارنی 120، سندھڑی 152، آم دوسہری 132 روپے فی کلو،لیچی 350، فالسہ 152، جامن 134، گرما فی کلو 63 روپے مقرر کیا گیا ہے-

    حکومت غیرملکی سرمایہ کاری کےلیےسازگارماحول فراہم کرنےکےلیےپرعزم ہے:مفتاح اسمٰعیل

  • لاہور:سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری ریٹ جاری

    لاہور:سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری ریٹ جاری

    لاہور: ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری ریٹ جاری کر دیئے گئے-

    باغی ٹی وی : آلو درجہ اول 65 روپے، پیاز درجہ اول 78 روپے کلو ،لہسن دیسی 160، ادرک چائنہ 230 روپے کلو، ٹماٹر 90، کھیرا دیسی 73 روپے فی کلو کا ہو گا۔ میتھی کی قیمت 126، بینگن 52، پھول گوبھی 63، شلجم 84 روپے فی کلو ہوگا-

    شملہ مرچ 126 اور بھنڈی کی فی کلو قیمت 74 روپے مقرر، لیموں دیسی کی نئی قیمت 250 روپے کلو مقرر، جبکہ مٹر 178، ٹینڈے دیسی 157، گھیا کدو 84، گاجر چائنہ 95، کریلا 115 اور پھلیاں 115 روپے کلو مقرر کیا گیا ہے-

    سیب کالا کولو اول 288، سیب سفید اول 167، انار قندھاری 380، خوبانی سفید 157 روپے کلو، آڑو 200، کھجور ایرانی 250، خربوزہ اول 73، تربوز 38 روپے کلو، سرکاری ریٹ لسٹ میں کیلا درجہ اول فی درجن 120 روپے ہے-

    آم سہارنی 120، سندھڑی 152، آم دوسہری 132 روپے فی کلو، اس کے علاوہ لیچی 350، فالسہ 152، جامن 164 اور گرمے فی کلو کی قیمت 63 روپے رکھی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جون کے دوران افراطِ زر کی شرح 15.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، یہ ساڑھے 12سال میں افراطِ زر کی تیز ترین شرح ہوگی جس کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے پیٹرول و ڈیزل اور بجلی کی قیمت میں کیا جانے والا اضافہ ہے۔

    بلوچستان میں مون سون بارشیں،پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

    وزارت خزانہ کے گزشتہ روز جاری کردہ ماہانہ معاشی جائزے کے مطابق جون میں سال بہ سال کی بنیاد پر افراطِ زر 14.5سے 15.5فیصد رہے گا۔ آخری بار دسمبر 2010ء میں افراطِ زر کی شرح 15.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی شرح بھی وزارت خزانہ کی پیش گوئی سے زیادہ رہنے کا امکان بھی موجود ہے۔

    وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے بڑھتے ہوئے خسارے کو کنٹرول کرنے کے لیے پیٹرول و ڈیزل اور بجلی پر سبسڈی واپس لی ہے۔ اتحادی حکومت اب تک پیٹرول کی قیمت 150 روپے سے بڑھاکر 234 روپے فی لیٹر تک بڑھاچکی ہے۔ جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے اجناس بالخصوص تیل اور توانائی کی عالمی قیمتوں میں ہونے والا حالیہ اضافہ عوام کو منتقل کیا جائے گا۔

    دوسری جانب وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک آوٹ لک رپورٹ جاری کردی،جس میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید کم ہورہی ہے،اسٹیٹ بینک شرح سود کو مزید بڑھا سکتا ہےوفاقی حکومت نےتوانائی کےنرخوں میں اضافہ کےباعث ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کیجانب سے شرح سود میں مزید اضافے کا بھی عندیہ دیا ہے رواں مالی سال کے11 ماہ کے دوران ملکی برآمدات 26.7 فیصد اضافےسے29.3 ارب ڈالر اوردرآمدات 36.5 فیصد اضافےسے65.5 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

    کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ

    کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 15.2 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری 57.1 فیصد کمی کے ساتھ 1570.2 ملین ڈالررہی، وزارت خزانہ کے مطابق زر مبادلہ کے ذخائر 27 جون تک 16.104 ارب ڈالر رہے-

    وزارت خزانہ نے شرح سود میں اضافےکاعندیہ دیتےہوئےکہاہےکہ اسٹیٹ بینک کی ڈیمانڈ منیجمنٹ پالیسی موثرنہیں بیرونی ممالک مہنگائی کوقابو کرنے کیلیے شرح سود بڑھا رہے ہیں، ان ممالک میں کساد بازاری کا اندیشہ ہے،مہنگائی کی موجودہ لہر کا تعلق بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے سے ہے۔ ایکسچینج ریٹ میں مسلسل کمی سے مہنگائی بڑھ اور لوگوں کی قوت خرید کم ہورہی ہے پاکستان کوبیرونی تجارت میں مشکلات درپیش ہیں،5.97 فیصد کی معاشی شرح نمو کے باوجود اندرونی اور بیرونی معاشی چینلجز درپیش ہیں۔

    پاک فوج پر تنقید ۔اینکر عمران خان پر تین مقدمے درج

  • سرکاری ملازمین کو پھل اور سبزیاں اگانےکیلئے ایک دن کی اضافی چھٹی دینے کا فیصلہ

    سرکاری ملازمین کو پھل اور سبزیاں اگانےکیلئے ایک دن کی اضافی چھٹی دینے کا فیصلہ

    سری لنکا کی حکومت نے سرکاری ملازمین کو پھل اور سبزیاں اگانے کے لیے ہفتے میں ایک دن کی اضافی چھٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کے مطابق بدترین معاشی بحران کا سامنا کرنے والے ملک سری لنکا میں حکومت نے اس تجویز کی باقاعدہ منظوری دی جس کے تحت سرکاری ملازمین کو اگلے تین ماہ تک ہرہفتے میں ایک دن اضافی چھٹی دی جائے گی۔

    سری لنکا کی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد سرکاری ملازمین کو اس طرف راغب کرنا ہے کہ اس چھٹی کا استعمال کرتےہوئےوہ اپنےخاندان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنےکےلیے سبزیاں اورپھل اگائیں اسکےساتھ ساتھ ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کی وجہ سے دفاتر پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ملازمین کی مشکلات بھی کم کی جا سکیں گی۔

    آن لائن پورٹل پر حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مناسب سمجھا گیا کہ سرکاری ملازمین کو ہفتے میں ایک اضافی چھٹی دی جائے اور ان کو درکار سہولیات دی جائیں تاکہ وہ زرعی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے گھر کے باغیچے میں یا پھر کسی اور مناسب جگہ پر مستقبل میں خوارک کی قلت کے خطرے کے پیش نظر کام کر سکیں۔

    واضح رہے کہ دو کروڑ بیس لاکھ آبادی والے ملک سری لنکا میں تقریباً دس لاکھ افراد سرکاری ملازمین ہیں اضافی چھٹی جمعے کے دن دی جائے گی یہ فیصلہ ملک میں خوراک کی قلت کے خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے-

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سری لنکا اپنی 70 برس کی تاریخ میں بدترین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔زرمبادلہ ذخائر میں کمی کی وجہ سے سری لنکا کو خوراک، تیل اور ادویات جیسی ضروری اشیا کی درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق امریکہ کی جانب سے سری لنکا کی مدد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا دوسری جانب سری لنکا کی حکومت اس وقت معاشی امدادی پیکج کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں مصروف ہے اور آئی ایم ایف کا وفد آئندہ سوموار کو کولمبو پہنچنے والا ہے۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

  • پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    طبی تحقیقی ماہرین نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطیس کے مرض میں مبتلا نوجوان مریضوں میں دل کا دورہ پڑنے اور فالج ہونے کے امکانات بہت زیادہ پائے گئے ہیں کیونکہ ان کی اکثریت ناصرف موٹاپے کا شکار ہے بلکہ ان میں سے اکثر سگریٹ نوشی، ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی زیادتی کا بھی شکار ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    کراچی میں منعقدہ پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کی جانب سے منعقدہ تیسری سالانہ کانفرنس میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق کراچی میں ذیابیطیس یا شوگر کے نئے مریضوں اوسط عمر 30 سے 35 سال ہے، جن کی اکثریت یعنی 77 فیصد مریض موٹاپے کا شکار ہیں-

    تحقیق کے مطابق شوگر کے مرض کا شکار نوجوان اور جوان مریض نہ صرف ان کنٹرولڈ شوگر یا شوگر کی زیادتی کا شکار پائے گئے بلکہ ان کے خاندان میں بھی شوگر کا مرض پایا گیا جس کی وجہ سے ان میں جلد دل کا دورہ پڑنے یا فالج ہونے کے امکانات بہت زیادہ پائے گئے ہیں۔

    کانفرنس میں تحقیقی مقالہ پیش کرنے پر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ عسکری کو کانفرنس کے دوران پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن ریسرچ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    دوسری جانب ایک دو نہیں بلکہ 11 تحقیقی مقالوں سے ثابت ہوا ہے کہ اگر موٹے افراد صرف تین ماہ تک اپنی غذا میں سبزیوں کی شرح بڑھادیں تو مثبت اثرات صرف تین ماہ میں ہی سامنے آسکتے ہیں اس سے نہ صرف وزن میں کمی ہوتی ہے بلکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس بھی قابو میں آجاتی ہے اس ضمن میں 18 برس یا اس سے زائد عمر کے 800 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں پہلے سے ہی کئے گئے سروے کا دوبارہ جائزہ (میٹا اینالِسس) کیا گیا ہے۔ یہ تحقیقات بہت جلد ہی موٹاپے کی یورپی کانفرنس میں پیش کی جائے گی۔

    کوپن ہیگن میں واقع اسٹینو ڈائبیٹس سینٹر کی ماہر اینی ڈیٹے ٹرمانسن اور ان کے ساتھیوں نے تمام ڈیٹا جمع کرکے اس کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے اور اسے شائع بھی کرایا ہے۔

    تاہم یہاں سبزیوں والی غذاؤں کا مطلب، پھل، دالیں، لوبیا، اور گری دار پھل ہیں انہیں کھانے سے ٹرائی گلائسرائیڈ یا بلڈ پریشر پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن طویل مدتی استعمال سے کچھ اورنتائج ملے ہیں۔ اس ضمن میں مارچ2022 تک انگریزی زبان میں شائع شدہ تمام تحقیقات کو شامل کیا گیا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    اس ڈیٹا میں 800 سے زائد افراد سے معلومات جمع کی گئیں جن میں دل اور ذیابیطس کی وجہ بننے والے بایومارکرز یعنی وزن، بی ایم آئی، خون میں گلوکوز کی مقدار، بلڈ پریشر، ہر طرح کا کولیسٹرول اور دیگر چکنائیاں یعنی ٹرائی گلیسرائیڈز شامل تھے۔ تقریباً ساری تحقیقات میں ہی شرکاکو دو گروہوں میں بانٹا گیا تھا جن میں عام گروپ کے لوگوں کو ان کی مرضی کی غذائیں کھانے کی آزادی تھی جبکہ کنٹرول گروپ کے شرکا کو پھل اور سبزیوں پر مشتمل غذائیں دی گئی تھیں۔

    ماہرین نے 12 ہفتے یعنی تین ماہ تک سبزیاں کھلائیں تو اکثر افراد کے وزن میں پانچ کلوگرام تک کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح خون میں شکر کی مقدار بہتر ہوئی، کولیسٹرول قابو میں آیا اور بی ایم آئی میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔

    جبکہ عام غذا استعمال کرنے والے میں کوئی خاص فرق نہیں دیکھا گیا۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ بڑھے ہوئے وزن کے شکار اور خود ذیابیطس کے کنارے پہنچنے والے افراد اب بھی پھل اور سبزیوں کو اپنی غذا میں شامل کرکے اپنی صحت بہتر بناسکتے ہیں۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق