Baaghi TV

Tag: پہاڑ

  • اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    اسرائیل نے بشار الاسد کی حکومت کے گرنے کے چند گھنٹے بعد ہی شام کے تمام فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے کا آغاز کر دیا تھا، تاکہ وہ ان اثاثوں کو باغیوں کے ہاتھوں میں آنے سے بچا سکے۔

    اسرائیل کی فوج نے شام میں تقریباً 500 مقامات پر بمباری کی، شام کی بحریہ کو تباہ کیا اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے شام کی معروف سطح سے ہوا میں مار کرنے والی میزائلوں کا 90 فیصد حصہ تباہ کر دیا۔ لیکن اسرائیل کا سب سے اہم اور دیرپا اقدام شام کے بلند ترین پہاڑ، جبل حرمون کی چوٹی پر قبضہ کرنا ہو سکتا ہے، حالانکہ اسرائیلی حکام نے یہ موقف اپنایا ہے کہ اس کا قبضہ عارضی ہے۔ اسرائیلی دفاعی ماہر ایفرایم انبار، جو یروشلم انسٹیٹیوٹ فار اسٹرٹیجی اینڈ سیکیورٹی کے ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ جبل حرمون علاقے کا سب سے بلند مقام ہے، جو لبنان، شام اور اسرائیل پر نظر رکھتا ہے۔ انبار نے کہا، "یہ اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم ہے۔ پہاڑوں کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔”

    جبل حرمون کی چوٹی شام میں واقع ہے اور یہ ایک بفر زون میں آتا تھا، جو اسرائیلی اور شامی افواج کے درمیان 50 سال تک تقسیم کا باعث رہا۔ تاہم، پچھلے اتوار تک یہ بفر زون غیر فوجی تھا اور اس کی نگرانی اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے ذریعے کی جاتی تھی، جو دنیا کی سب سے بلند مستقل نگرانی کے مقام پر تعینات تھے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع، اسرائیل نے جمعہ کے روز فوج کو حکم دیا کہ وہ موسم سرما کی سختیوں کے لیے تیاری کریں۔ انہوں نے کہا، "شام کی صورت حال کے پیش نظر جبل حرمون کی چوٹی پر ہمارے کنٹرول کو برقرار رکھنا ہماری سیکیورٹی کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔” اسرائیلی فوج جبل حرمون کی چوٹی سے آگے بھی پیش قدمی کر چکی ہے اور بقااسم تک پہنچ چکی ہے، جو دمشق سے تقریباً 25 کلومیٹر (15.5 میل) دور ہے، تاہم یہ دعویٰ وائس آف دی کیپیٹل، ایک شامی کارکن گروپ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ سی این این نے اس دعویٰ کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس ہفتے اس بات کی تردید کی کہ اسرائیلی افواج "دمشق کی طرف بڑھ رہی ہیں۔”

    اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں گولان کی بلندیوں پر قبضہ کیا تھا، جو جبل حرمون کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور تب سے اس پر قابض ہے۔ شام نے 1973 کی جنگ میں اس علاقے کو واپس لینے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ ناکام ہو گیا۔ اسرائیل نے 1981 میں گولان کو اپنی سرزمین میں ضم کر لیا، حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ قبضہ غیر قانونی ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے دوران امریکہ نے گولان پر اسرائیل کے دعوے کو تسلیم کیا۔

    اسرائیل نے دہائیوں تک جبل حرمون کے نچلے ڈھلوانوں کو اپنے قبضے میں رکھا ہے اور یہاں ایک اسکی ریزورٹ بھی قائم کیا ہے، تاہم چوٹی ہمیشہ شام کے اختیار میں رہی تھی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل شام کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہم اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائیں گے۔”

    جبل حرمون کی چوٹی اسرائیل کے لیے ایک زبردست اثاثہ ہے۔ یہ 2814 میٹر (9232 فٹ) بلند ہے اور یہ نہ صرف اسرائیل یا شام کا سب سے بلند مقام ہے بلکہ لبنان کے ایک پہاڑ سے بھی اونچا ہے۔

    ایفرایم انبار نے 2011 میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا تھا جس میں جبل حرمون کی کئی اہمیتوں پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ پہاڑ اسرائیل کو شام کی گہرائیوں میں الیکٹرانک نگرانی کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جو کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں اسرائیل کو بروقت خبردار کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اس طرح کے جدید ٹیکنالوجی والے متبادل جیسے فضائی نگرانی کے آلات، پہاڑ پر نصب تنصیبات کی مانند مؤثر نہیں ہو سکتے کیونکہ ان میں بڑے اینٹینا نصب نہیں کیے جا سکتے اور یہ دشمن کی زمین سے مار کرنے والی میزائلوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

    اسرائیل کا موقف اور شام کی مستقبل کی صورتحال

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل شام کے نئے حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے "ہاتھ بڑھا رہا ہے”۔ لیکن 7 اکتوبر کے بعد کے عالمی منظر نامے میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی قسم کے خطرات کو نظرانداز نہیں کرے گا۔ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل اسرائیل زیو نے کہا، "یہ زیادہ تر ہمارے لیے تسلی کی بات ہے۔ ہم نے دیگر ممالک میں دیکھا ہے کہ جب دہشت گرد تنظیمیں فوجی سازوسامان پر قابض ہو جاتی ہیں تو اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔”نیتن یاہو نے کہا کہ جبل حرمون پر اسرائیل کا قبضہ عارضی ہے اور اسرائیل کبھی بھی جہادی گروپوں کو اس خلا کو پُر کرنے اور گولان کی بلندیوں پر اسرائیلی کمیونٹیز کو 7 اکتوبر جیسے حملوں کا سامنا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں ایسا کوئی فوجی دستہ قائم ہونا ضروری ہے جو 1974 کے معاہدے پر عمل پیرا ہو اور جو سرحدی سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔اب یہ سوال باقی ہے کہ اسرائیل کب اس علاقے سے پیچھے ہٹے گا۔ ایفرایم انبار کے مطابق، "یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ فوج وہاں رہنا پسند کرے گی۔”

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

  • 18 سالہ کوہ پیما فرید حسین فروسٹ بائٹ کا شکار

    18 سالہ کوہ پیما فرید حسین فروسٹ بائٹ کا شکار

    پاکستانی کوہ پیما 18 سالہ فرید حسین کے ٹی مہم جوئی کے دوران 8200 میٹر بلند کیمپ فور کے قریب فروسٹ بائٹ کا شکار ہوگئے ہیں جس سے ان کا ہاتھ متاثر ہوا ہے۔ جبکہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے 18سالہ کوہ پیما فرید حسین کے ٹو سر کرنے کی مہم جوئی کے دوران فروسٹ بائٹ کا شکار ہوگئے ہیں، اور ان کا ہاتھ بری طرح زخمی ہوا ہے۔

    کوہ پیما فرید حسین نے انتظامیہ سے ریسکیو کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں بر وقت ریسکیو نہ کیا گیا تو ان کا ہاتھ خراب ہو سکتا ہے۔ لہذا انہیں فلفور یہاں سے نکالا جائے تاکہ ان جان کو کسی حادثے سے بچایا جاسکے اور فوری علاج ممکن ہوسکے.


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    تاہم دوسری جانب فروسٹ بائٹ کا شکار ہونے والے اٹھارہ سالہ کوہ پیما کو ان کے ساتھی کوہ پیماؤں نے ریسکیو کرکے کنکورڈیا پہنچا دیا ہے۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کوہ پیما فرید حسین کا کہنا تھا کہ بروقت ریسکیو کے لئے ساتھی کوہ پیماؤں کا شکر گزار ہوں، تاہم مجھے جلدی اسپتال منتقل نہیں ہوا تو ہاتھ خراب ہوں گے۔ فرید حسین کا کہنا تھا کہ ٹریک کرکے سکردو پہنچنے میں 6 دن لگ سکتے ہیں، میری اپیل ہے کہ فورس کمانڈر ہیلی کاپٹر کے ذریعے مجھے ریسکیو کرے۔

  • کوہ پیما کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی مشن شروع

    کوہ پیما کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی مشن شروع

    اسلام آباد یونیورسٹی کے پروفیسر اور پاکستان کے کوہ پیما آصف بھٹی نانگا پربت چوٹی سر کرنے کے مشن کے دوران برف کے اندھے پن میں مبتلا ہو گئے جبکہ کوہ پیما کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی مشن شروع کردیا گیا ہے، آصف بھٹی نامی کوہ پیما 7500 میٹر کی بلندی پر نانگا پربت پر پھنسے ہیں۔ وہ برف کے اندھے پن کا شکار ہوئے اور خود نیچے اترنے سے قاصر ہیں۔

    شمشال میں قراقرم مہم کے کوہ پیماؤں کا ایک گروپ اس کی مدد کے لیے ایک ریسکیو مشن کی تیاری کر رہا ہے جبکہ وہ فی الحال انہیں اعلیٰ کیمپوں تک پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کا انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم خیال رہے کہ اسی مہم کے دوران دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کرنےکی کوشش میں ہسپانوی سیاح چل بسا ہے۔ ہسپانوی سیاح کی موت دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انسانی اسمگلرز کے بینک اکاؤنٹس منجمد
    معروف پروفیسر بلقیس ملک سپردخاک

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے نو ماہ میں 3 ارب ڈالر ملیں گے. وزیر اعظم
    امریکا کے شہر ہیوسٹن میں پہلی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد
    کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پشاور پولیس کا موک ایکسر سائز جاری
    جبکہ واضح رہے کہ 8126 میٹر بلند نانگا پربت دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے جسے گزشتہ روز پاکستان کی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی نے سر کیا ہے، وہ نانگا پربت سر کرنے والی پہلی پاکستانی کوہ پیما بن گئی ہیں۔ نائلہ کیانی کے علاوہ ثمینہ بیگ اور دیگر پاکستانی کوہ پیماؤں نے بھی نانگا پربت سر کیا۔

  • سرکاری راشن کے لیے گاؤں والوں نے30 فٹ اونچا پہاڑ کاٹ کر راستہ بنالیا

    سرکاری راشن کے لیے گاؤں والوں نے30 فٹ اونچا پہاڑ کاٹ کر راستہ بنالیا

    چھتیس گڑھ کے کاوردھا (کبیردھام) میں سرکاری راشن کے لیے گاؤں والوں نے پہاڑ کو کاٹ کر راستہ بنالیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق گاؤں والوں نے خود محنت کر کے 30 فٹ اونچا پہاڑ کاٹ کر یہ کچا راستہ بنایا ہے۔ اس کے بعد چار گاؤں کے مسائل حل ہو گئے ہیں گورنمنٹ فیئر پرائس شاپ ، گاؤں بہپانی میں چل رہی ہے۔ یہ گاؤں ڈونگر پہاڑ کی دوسری طرف ہے۔

    باپ نےغیرت کے نام پر بیٹی اور داماد کو قتل کردیا

    کنھاکھیرا، ڈھیپرپانی، مہارانی ٹولہ اور تھینگاٹولا گاؤں اس کے نچلے علاقے میں آباد ہیں یہاں کے لوگوں کو راشن کے لیے 12 کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا تھا گاؤں والے یہ فاصلہ پیدل طے کرتے تھے اور اپنے سروں پر راشن لے جاتے تھے۔ جس کی وجہ سے انہیں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اب یہ فاصلہ صرف دو کلومیٹر رہ گیا ہے-

    بھارتی میڈیا کے مطابق اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے چاروں دیہات کےلوگوں نےآپس میں میٹنگ کی پھر کنھاکھیرا گاؤں سے ملحق ڈونگری پہاڑ پر راستہ بنانے کا فیصلہ ہوا۔ اس میں چار گاؤں کے 70 دیہاتیوں نے کام کیا اور آٹھ دن کی محنت کے بعد پہاڑ کو توڑ کر دو کلومیٹر کچی سڑک بنائی۔

    بھارت کے خاتون صحافی کو امریکی سفر سے روکنے پر امریکا کا ردعمل

    تھینگاٹولا کے سابق نائب سربراہ دھرم سنگھ بیگا نے بتایا کہ گاؤں کے لوگ راشن کے لیے بہپانی جاتےہیں بہپانی کا فاصلہ تقریباً 12 کلومیٹر ہے۔ نقل و حمل کا کوئی ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے پیدل چلنا پڑتا ہے۔ راشن سر پر اٹھانے کے بعد وہ پیدل ہی گاؤں لوٹتے ہیں۔

    بھارت میں انسانی حقوق کی بہت زیادہ پامالیاں ہورہی ہیں:سیکرٹری اقوام متحدہ کا بھارت…