Baaghi TV

Tag: پیجاب

  • پنجاب حکومت کے پاس نئی گاڑیوں کیلئے پیسے ہیں سیلاب متاثرین کیلئے نہیں،خرم دستگیر

    پنجاب حکومت کے پاس نئی گاڑیوں کیلئے پیسے ہیں سیلاب متاثرین کیلئے نہیں،خرم دستگیر

    وفاقی وزیرتوانائی خرم دستگیرنے کہا کہ سیلاب سے بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا،سیلاب سے بجلی سپلائی میں رکاوٹ آئی تھی،سیلاب سے متاثرہ بجلی کا نظام مکمل بحال کر دیا ہے،دن رات کی محنت کے بعد بجلی کا نظام بحال کیا گیا ہے.

    گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرتوانائی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ اب صرف معمول کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ،دادو کا گریڈ اسٹیشن بلوچستان اور جنوبی سندھ کی سپلائی کیلئے بہت اہم ہے،دادو کے گریڈ اسٹیشن پر خطرہ ابھی بھی موجود ،پانی کا ریلا اس کی طرف بڑھ رہا ہے،ہم دادو گریڈ اسٹیشن کو بچانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں،دادو شہر چاروں طرف سے پانی میں گھیرا ہوا ہے.

    خرم دستگیرنے کہا کہ ملک میں خسارے والے فیڈرز میں معمول کی لوڈشیڈنگ جاری ہے،کچھ لوگ اس ملک میں فساد پھیلانے چاہتے ہیں، خیبر پختونخوا میں سیلاب سے بجلی کے کھمبے بھی پانی میں بہہ گئے تھے،یہ سیاست کا نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کا وقت ہے،سیلاب متاثرین کی بحالی کی حکومت اپنا کام کر رہی ہے،کسی جتھے کے پاس جلسے کیلئے 10 کروڑ ہیں تو بہتر یہی تھا کہ وہ سیلاب متاثرین کیلئے استعمال ہوتے،سیلاب متاثرین کیلئے حکومت پنجاب کے پاس پیسے نہیں.

    انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے پاس وزرا کیلئے نئی گاڑیاں خریدنے کیلئے30کروڑ روپے موجود ہیں،ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ایک دن بھی پیٹرول کی شارٹیج نہیں ہوئی،بجلی کے بلوں کا بہت دکھ تھا مگر وزیر اعظم نے فوری طور پر ریلیف دیا،بجلی کی قیمت نیچے آئیگی، تمام اسٹیشن چلا کر لوڈشیڈنگ کو کنٹرول رکھا، کل خبر آئی ان کے دور میں یوٹیلٹی اسٹور میں 6ارب روپے کا گھپلا ہوا،ان کے دور میں کویڈ فنڈز میں کم ازکم 140ارب روپے کا گھپلا ہوا ہے،300یونٹ والوں کو ریلیف فوری طور پر دیدیا ہے ،ہم نے متاثرین کو گھر بنا کر دینے ہیں، کروڑوں لوگوں کو کھانا فراہم کرنا ہے، تحریک انصاف کا فتنہ اور فساد جلد عوام کے سامنے بے نقاب ہوجائے گا.

  • عطاء تارڑ، وزیراعظم کی جانب سے بھیجا گیا امدادی سامان لے کر جنوبی پنجاب روانہ

    عطاء تارڑ، وزیراعظم کی جانب سے بھیجا گیا امدادی سامان لے کر جنوبی پنجاب روانہ

    وزیراعظم کے معاون خصوصی عطااللہ تارڑ وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے بھیجا گیا امدادی سامان لے کر جنوبی پنجاب روانہ ہو گئے.امدادی سامان میں اشیائے خوردونوش سمیت دیگر ضروریات زندگی کا سامان موجود ہے.

    وزیراعظم کے معاون خصوصی عطااللہ تارڑ نےکہا کہ اللہ پاک کی مدد سے جب تک آخری متاثر شخص اپنے گھر میں آرام و سکون سے نہیں جائیگا تب تک چین سے نہیں سوئیں گے،وزیراعظم شہباز شریف اوران کی ٹیم ساری ٹیم دن رات متاثرین کےریلیف کیلئے کوشاں ہے،ہمیں باتیں نہیں کام کرنا آتا ہے،اوراللہ کے فضل سے کررہے ہیں.

    قبل ازیں اویس لغاری کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب میں 2 اضلاع مکمل تباہ ہوئے ہیں ،اس سیلاب کے ذریعے زرخیز مٹی نہیں بلکہ ریت آئی ہے ،2 اضلاع میں کم از کم 2 لاکھ گھر مکمل ختم ہو گئے ہیں ،ان اضلاع میں دیہاڑی باز لوگ بھی پہنچ گئے ہیں جن کی وجہ سے اصل حقداروں تک امداد نہیں پہنچ پا رہی

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب میں پھنسے عوام تک کشتیوں کے ذریعے پہنچا جا سکتا تھا لیکن حکومت پنجاب کو کوئی ہوش ہی نہیں ،سیلاب سے پہلے ہی عوام کو خوراک کی قلت کا سامنا تھا ،آج سوشل میڈیا کے ذریعے اداروں پر حملے کئے جا رہے ہیں ،آج زمیندار میں کھاد کی بوری خریدنے کی سکت نہیں ہے

    اویس لغاری نے کہا کہ بنکوں کے پاس عوام کو دینے کے لئے قرضے ہی نہیں ہیں ،دیہات میں قرضے دینے کا بنکوں کا رواج ختم ہو چکا ہے ،آئی ایم ایف کے پروگرام کو فیل کروانے کے لئے وار کئے گئے ،اگر وہ وار کامیاب ہو جاتا تو ہم عالمی طور پر ڈیفالٹر ہو جاتے ،آج وقت ہے کہ ہر سیاسی جماعت، ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا معاشی استحکام کے لئے مل کر بیٹھے

    رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ آج کسان کو پیسہ دینے کی ضرورت ہے ،آج بیرونی ممالک سے قرضے ری شیڈول کروانے کی ضرورت ہے ،سندھ کے سٹوروں سے گندم ختم ہو چکی ہے ،اب گندم بیرون ممالک سے امپورٹ کرنا پڑے گی ،ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو سکتا ہے کہ لوگ بھوک سے مر سکتے ہیں ،زرعی اصلاحات کے لئے یکجہتی کیسے ہو، اس پر غور کی ضرورت ہے ،ہر علاقے میں پانی جمع کرنے اور دریاوں اور پانی کا بہاو بہتر کرنے کی ضرورت ہے

  • پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے، سراج الحق

    پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے، سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے۔ حکمران جماعتوں کے درمیان جاری چپلقش کا انجام خطرناک ہو گا۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے عوام کو سینڈ وچ بنایا ہوا ہے۔ ظالم اشرافیہ کو عوام کی فکر نہیں، مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا سانس لینا دشوار ہو گیا۔ مزدور، کاشتکار رُل گئے، تعلیم غریب کے بچے کی پہنچ سے دور،عام آدمی کے لیے علاج کرانا ناممکن ہو چکا۔ گھمبیر حالات میں حکمران جماعتیں مسلسل گالم گلوچ کی سیاست کو ہی پروان چڑھا رہی ہیں۔ اپنے رویے درست کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے، تینوں بڑی سیاسی جماعتوں میں مفادا ت کی جنگ جاری ہے۔

    قوم اب ان حکمرانوں سے تنگ آ چکی، ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ اسلامی انقلاب ہے۔ جماعت اسلامی قوم کو دعوت دیتی ہے کہ اسلامی نظام کے لیے ہمارے دست و بازو بنیں۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں کہیں نہ کہیں حکومت میں ہیں، صرف جماعت اسلامی ہی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ قرآن و سنت کے نظام اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ حکمرانوں کی لڑائی کی وجہ سے قوم شدید پولرائزیشن کا شکار ہے، قومی میڈیا تعمیری کردار ادا کرے۔ سیاسی جماعتوں کے ورکرز اور کارکنان سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جماعت اسلامی کا سوشل میڈیا اور کارکنان معاشرے میں اسلامی شعائر کی ترویج، نظریہ پاکستان کے فروغ اور قوم میں اتحاد و اتفاق کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔

    سراج الحق منصورہ میں میڈیا کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم،سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔
    سراج الحق نے کہا کہ وفاق اور صوبوں نے جو بجٹ پیش کیے ہیں اس سے صرف مراعات یافتہ طبقہ کو مزید مراعات ملیں گی یا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔بجٹ میں عام شہری کے حصے میں معاشی تباہی کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔ حکمران جماعتوں نے مل کر ملک کو عملی طور پر آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے۔ غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے قومی خزانے میں سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے پیسے نہیں ہیں۔ اتحادی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 60روپے فی لٹر اضافہ کر کے بھی بس نہیں کی اور قیمتوں کو مزید بڑھانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

    حالات اسی طرح رہے تو پٹرول 260روپے فی لٹر تک پہنچ جائے گا۔ بجلی کے ٹیرف میں 9روپے فی یونٹ اورگیس کی قیمتوں میں 45فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو گیا۔ ملک کے طول و عرض میں 12گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ جاری، بجلی پیدا کرنے کے کارخانوں کو فیول دستیاب نہیں ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر صرف 9.2ارب ڈالر ہیں۔ گزشتہ 10ماہ میں برآمدات 30ارب ڈالر جب کہ درآمدات کا حجم 75ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ حکومت کو خسارہ کم کرنے کے لیے کم از کم 12ارب ڈالر چاہییں۔ حکمران ابھی سے ہی منی بجٹ کی باتیں کر رہے ہیں۔

    امیر جماعت نے کہا کہ سودی معیشت، کرپشن مسائل کی جڑ ہیں۔ مافیاز نے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ حکومت کو کہا تھا کہ بجٹ میں سودی معیشت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں، مگر حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بجٹ تیار کیا اور اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    جماعت اسلامی ان حالات میں خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔ چوکوں چوراہوں میں عوام کا مقدمہ لڑا جائے گا، ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔قوم آزمائے ہوئے لوگوں کو مسترد کرے اور جماعت اسلامی کو خدمت کا موقع دے۔ لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ ظالموں کا ساتھ دینا ظالم میں شراکت کے مترادف ہے۔ 75برسوں سے عوام کی گردنوں پر سوار جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کو گھر بھیجنا ضروری ہے اور اسی سے ہی ملک کی کشتی گرداب سے نکل پائے گی۔