Baaghi TV

Tag: پیشکش

  • معافی نہیں مانگوں گا،عمران خان نےخاتون جج سے متعلق الفاظ واپس لینے کی پیشکش کردی

    معافی نہیں مانگوں گا،عمران خان نےخاتون جج سے متعلق الفاظ واپس لینے کی پیشکش کردی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے توہین عدالت شوکاز نوٹس پر معافی مانگنے سے انکار کردیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت شوکاز نوٹس معاملہ پر چیئرمین پی ٹی آئی نے خاتون جج زیبا چودھری سے متعلق الفاظ واپس لینے کی پیشکش کردی۔

    عمران خان کا جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرادیا گیا، جواب ایڈووکیٹ حامد خان کی جانب سے جمع کرایا گیا۔

    عمران خان نے دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرانے کیلیے عدالت سے رجوع کرلیا

    جواب میں کہا گیا کہ عمران خان ججز کے احساسات کو مجروع کرنے پر یقین نہیں رکھتے، سابق وزیراعظم کے الفاظ غیر مناسب تھے تو واپس لینے کے لیے تیار ہیں، عدالت عمران خان کی تقریر کا سیاق و سباق کیساتھ جائزہ لے، عمران خان نے پوری زندگی قانون اور آئین کی پابندی کی ہے، پی ٹی آئی چیئرمین آزاد عدلیہ پر یقین رکھتے ہیں، ان کیخلاف توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔

     

    وزیر اعلی محمود خان دورہ سیلاب زدگان پر ایسے مسکرا کر ہاتھ ہلا رہے جیسے کوئی جلسہ عام کی عوام سامنے ہو

     

    قبل ازیں سابق وزیراعظم نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چودھری کو دھمکی دینے کے الزام پر درج دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ عمران خان کی طرف سے درخواست شعیب شاہین ایڈووکیٹ، بیرسٹر سلمان صفدر اور فیصل چودھری کے ذریعے جمع کرائی گئی۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ تقریر پر دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت 20 اگست کو تھانہ مارگلہ میں درج مقدمہ خارج کیا جائے۔ میں نے ورلڈ کپ جتوایا، فلاحی کام کیے، ہسپتال اور یونیورسٹی بنائی، پاکستان کے کچھ اصل ’’اسٹیٹس مین “ میں سے ایک ہوں۔ کورونا سے موثر انداز میں نمٹا، امریکا افغان مذاکرات کرائے، میرے خلاف بدنیتی سے دہشت گردی کا مقدمہ درج کرایا گیا۔

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس پر دہشت گردی کی دفعات لگائی جائیں، انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سرنڈر کر چکا ہوں، عبوری ضمانت منظور کی گئی، مقدمہ کے اخراج کی درخواست پر فیصلے تک ایف آئی آر پر کارروائی معطل اور کرکے تفتیش روکنے کا حکم دیا جائے۔

  • چین کی پاکستان کودو ارب ڈالرز قرض کی پیشکش

    چین کی پاکستان کودو ارب ڈالرز قرض کی پیشکش

    چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کرنے کے عزم کا اظہار کر دیا اور پاکستان کویقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مشکل وقت میں پہلے سے زیادہ عزم اور سرگرمی کے ساتھ پاکستان کا ساتھ دے گا۔ چین نے پاکستان کوکم شرح پردو ارب ڈالرز کے قرضے کی پیشکش بھی کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین میں پاکستانی سفیر کے توسط سے موصول ہونے والی سفارتی رابطے میں پاکستان کوبتایا گیا ہے کہ چینی حکومت پاکستان کے ساتھ اپنے معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کو وسیع اور مضبوط کرنا چاہتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سفارتی رابظے میں مزیدیہ بھی کہا گیا ہے کہ چین ، پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ موجودہ وزیراعظم شہبازشریف کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

    زرائع کے مطابق سفارتی رابطےمیں چین کی حکومت نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ شہباز شریف ’’اپنے گورننس کے فلسفے‘‘ کی بنیاد پر اُن چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ہوں جائیں گے جو اس وقت پاکستان کو درپیش ہیں۔

    چین نے پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے دو ارب ڈالرز کا قرضہ دینے کی تصدیق کی ہے جو کم شرح پر دیا جائے گا اور یہ شرح اس شرح سے بھی کم ہوگی جس پر چین نے اپنے دیگر قریبی دوست ممالک کو قرضہ جات دیئے ہیں۔

    چینی قیادت ،شہباز شریف کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ مطمئن ہے کیونکہ انہیں شہباز شریف کے ساتھ اس وقت بھی کام کرنے میں اطمینان حاصل تھا جب وہ وزیراعلیٰ تھے۔ تو اس وقت ان کی گڈ گورننس کو دیکھ کر ہی چین کی حکومت نے ان کو’’شہباز اسپیڈ‘‘ کا نام دیا۔

    رپورٹ کے مطابق اس وقت حکومت پاکستان آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو پورا کرنے کیلئے کام کر رہی ہے، جیسے ہی آئی ایم ایف کی ڈیل مکمل ہو جائے گی تو چین پاکستان کی توقعات سے زیادہ مدد کر گا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں تاہم زیادہ تر معاملات آئی ایم ایف کی ڈیل سے جڑے ہیں۔

    دوست ممالک سے ملنے والی مدد اور یقین دہانیوں کی وجہ سے حکومت پاکستان کو حوصلہ ملا ہے کیونکہ پہلے ہی اسے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ توقع ہے کہ حکومت جلد ہی عمران خان کی دی ہوئی سبسڈی ختم کرنے کیلئے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے گی۔ یہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ مکمل کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا اور یہ قدم پاکستان کو 30 جون سے قبل اٹھانا ہے۔