Baaghi TV

Tag: پیشگوئی

  • بابا وانگا کی اسمارٹ فونز سے متعلق دہائیوں پرانی پیشگوئی

    بابا وانگا کی اسمارٹ فونز سے متعلق دہائیوں پرانی پیشگوئی

    دوسری جنگِ عظیم، 11 ستمبر کے واقعات اور 2004 کے سونامی جیسے بڑے عالمی سانحات کی پیش گوئیوں کے باعث پہچانی جانے والی بابا وانگا کی ایک پرانی پیش گوئی آج کے جدید ڈیجیٹل دور میں خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بابا وانگا نے کئی دہائیاں قبل یہ پیش گوئی تھی کہ آنے والے وقت میں انسان اپنی روزمرہ زندگی کے بیشتر معاملات کے لیے چھوٹے الیکٹرانک آلات پر انحصار کرنے لگے گا، یہ آلات جہاں سہولت کا باعث بنیں گے، وہیں انسانی تعلقات کی نوعیت میں بھی نمایاں تبدیلی لے آئیں گے۔

    رپورٹ کے مطابق اس وقت بابا وانگا کی اس بات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، تاہم آج اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کا بڑھتا ہوا استعمال اس پیش گوئی کی عملی تصویر پیش کرتا دکھائی دیتا ہے موجودہ دور میں بچے ہوں یا بزرگ، ہر عمر کے افراد نہ صرف کام بلکہ تفریح، تعلیم اور سماجی رابطوں کے لیے بھی انہی آلات پر انحصار کر رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان ضرور بنایا ہے، مگر بابا وانگا نے اس کے ممکنہ منفی اثرات کی بھی پیشگی نشاندہی کی تھی، جیسے جیسے انسان ٹیکنالوجی کے قریب ہوتا جائے گا، ویسے ویسے حقیقی انسانی روابط میں کمی آتی جائے گی، جس کے اثرات ذہنی صحت پر نمایاں ہوں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق آج یہ خدشات کسی حد تک درست ثابت ہوتے نظر آ رہے ہیں اسکرین ٹائم میں مسلسل اضافے کے باعث تنہائی، بے چینی اور توجہ میں کمی جیسے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں اسمارٹ فونز کا حد سے زیادہ استعمال ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جو مستقبل میں بڑے سماجی چیلنجز کو جنم دے سکتا ہے۔

    نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی ایک تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں بچے سونے سے قبل بستر میں اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ ذہنی اور جسمانی نشوونما پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین اسکرین کے ضرورت سے زیادہ استعمال کو ڈپریشن، بے چینی اور سماجی تنہائی جیسے مسائل سے جوڑ رہے ہیں۔

  • بابا وانگا کی 2023 میں ایک تباہ کن ایٹمی تباہی کی پیشگوئی

    بابا وانگا کی 2023 میں ایک تباہ کن ایٹمی تباہی کی پیشگوئی

    بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی خاتون نجومی آنجہانی بابا وانگا نے 2023 کے حوالے سے ایک بڑی پیشگوئی کی تھی۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق بابا وانگا سے متعلق افواہیں ہیں کہ انہوں نے مرنے سے قبل دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے واقعات کی پیش گوئیاں کی ہیں جن میں سے بہت سی درست ثابت ہوئیں-

    بھارتی کرکٹ بورڈ تنظیمی لحاظ سے ایک ناکام ادارہ ہے،جو سمجھ سے باہر …

    بابا وانگا کو ماننے والوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 2023 سے متعلق ایک تباہ کن ایٹمی تباہی کی پیش گوئی کی تھی، کہا جاتا ہے کہ نجومی خاتون نے 2023 میں ایک بڑے جوہری پاور پلانٹ کے دھماکے سے خبردار کیا تھا جس سے ایشیا میں زہریلے بادلوں کا راج ہوگا۔

    اب ان کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ کئی ممالک اس دھماکے سے متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں ہوا میں کئی سنگین بیماریاں پھیلیں گی جس سے لوگ بیمار ہوجائیں گے۔

    جب کہ ہمارے سیارے کا سورج کے گرد مدار دسیوں ہزار سالوں میں معمولی طور پر تبدیل ہوتا ہے، ایک زیادہ ڈرامائی تبدیلی تباہ کن ہوگی سورج کے قریب ایک حرکت گلیشیئرز کو پگھلائے گی اور سیارے کو سیلاب دے گی، جبکہ دور دور کی حرکت ہمیں برفانی دور میں ڈوب سکتی ہے۔

    امریکا کا سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کیلئے مزید امداد کا اعلان

    خیال کیا جاتا ہے کہ بابا وانگا نے ایک طاقتور شمسی طوفان کی پیش گوئی کی ہے جو 2023 میں آب و ہوا کو ہلا کر رکھ دے گا شمسی طوفان سورج پر ہونے والے خلل ہیں جو ہیلیوسفیر میں باہر کی طرف نکل سکتے ہیں اور زمین کو متاثر کر سکتے ہیں-

    کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک شمسی سونامی آنے والا ہے، جو ٹیکنالوجی کی بڑی ناکامیوں کا سبب بن سکتا ہے – حالانکہ معمولی شمسی طوفان بغیر کسی تباہی کے باقاعدگی سے آتے ہیں-

    بابا وانگا نے پیشگوئی کی کہ 2023 میں ایک سپر پاور کی جانب سے ایک حیاتیاتی ہتھیار استعمال کیا جائے گا، جس سے لاکھوں اموات ہوں گی بابا وانگا کے مطابق سال 2023 میں آنے والی نسل کو لیبارٹریز میں تیار کیا جائے گا یعنی یہ رجحان بڑھ جائے گا کہ لوگ اپنے بچوں کی پیدائش لیبارٹریز میں کروائیں گے۔

    اس کے علاوہ لوگ اپنے بچوں کی پیدائش سے قبل ان کے رنگ اور خصوصیات کا بھی انتخاب کرسکیں گے، ناصرف یہ بلکہ بابا وانگا نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ قدرتی پیدائش پر پابندی عائد کردی جائے گی۔

    روس اور یوکرین کی بمباری میں ڈیم تباہ،سلامتی کونسل کا اجلاس بلائے جانے کا امکان

    2023 کے حوالے سے بابا وانگا کی جانب سے ماضی میں کی گئی پیش گوئیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ زمین پر رہنے والے لوگ خلائی مخلوق کے حملے میں مارے جائیں گے، پیش گوئی کے مطابق یہ دنیا کے بڑے ملکوں میں ہوسکتا ہے۔

    حیاتیاتی ہتھیار مائکروجنزم ہیں جیسے وائرس، بیکٹیریا یا فنگس، یا زندہ حیاتیات کے ذریعہ تیار کردہ زہریلے مادے جو انسانوں، جانوروں یا پودوں میں بیماری اور موت کا سبب بنتے ہیں۔

    2023 کے باقی سات مہینوں میں یہ بہت کچھ ہونا ہے!

    واضح رہے کہ بابا وانگا کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہزادی ڈیانا کی موت، سویت یونین کے خاتمے، جرمنی کے مشرق اور مغرب کے اتحاد اور 2004 میں تھائی لینڈ کے سونامی جیسی بڑی پیش گوئیاں کی تھیں جو پوری ہوئیں۔

    پاکستانی سیاست کے فیصلے پاکستانی عوام نے کرنے ہیں،امریکا

    اس کے علاوہ انہوں نے 2022 کے حوالے سے بھی چند پیش گوئیاں کی تھیں جن میں سے دو یعنی خطرناک زلزلے اور سیلاب کا خطرہ اور پینے کے پانی کی قلت سچ ثابت ہوئیں۔

  • اے آئی چیٹ بوٹس کسی انسان جتنے ہی اچھے استاد ثابت ہو سکتے ہیں،بل گیٹس

    نیویارک: مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے حوالے سے نئی ییشگوئی کی ہے-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ڈیڑھ سال میں بچوں کو پڑھنے اور لکھنے میں مدد فراہم کر رہی ہو گی۔

    ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق

    بل گیٹس نے کہا کہ اے آئی چیٹ بوٹس کسی انسان جتنے ہی اچھے استاد ثابت ہو سکتے ہیں اور موجودہ دور کے چیٹ بوٹس پڑھنے لکھنے کی بہت زیادہ قابلیت رکھتے ہیں آئندہ چند ماہ میں طلبہ اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں گے۔ تبدیلی آ رہی ہے اور اے آئی ٹیکنالوجی کو استاد کے طور پر استعمال کرنے سے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

    دنیا کے تین صدیوں پرانے اخبار کی اشاعت بند کرنے کا اعلان

    بل گیٹس نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی لوگوں کے کام کرنے، سیکھنے، سفر سمیت ایک دوسرے سے رابطوں کے طریقے کو بدل دے گی۔ دنیا بھر کی حکومتیں ٹیکنالوجی کی صنعت کے ساتھ مل کر اے آئی سے جڑے خطرات کو محدود کریں۔

    واضح رہے کہ مائیکرو سافٹ نے چیٹ جی پی ٹی کو اپنے سرچ انجن، براؤزر اور دیگر سروسز کا حصہ بنا لیا ہے۔

    مغرب سے کم ہواؤں کے بادلوں کا سلسلہ پاکستان میں داخل