Baaghi TV

Tag: پیمرا

  • لائیو شو میں فضا علی کی غیر اخلاقی حرکت، پیمرا نے ایکشن لےلیا

    لائیو شو میں فضا علی کی غیر اخلاقی حرکت، پیمرا نے ایکشن لےلیا

    لائیو شو میں فضا علی کی غیر اخلاقی حرکت پر ایکشن لیتے ہوئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹیلی ویژن چینل کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ لائیو شو کے دوران میزبان فضا علی کے شوہر نے انہیں کندھوں پر اٹھا لیاتھا اس منظر کے بعد سے رہنما ن لیگ حنا پرویز ٹ اور صحافی روؤف کلاسرا سمیت سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی تھی اور پیمرا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    اس کے بعد پیمرا نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ چینل سے وضاحت طلب کر لی ہے پیمرا کا کہنا ہے کہ براڈکاسٹرز کو مواد کی نشریات کے دوران پیشہ ورانہ معیار اور اخلاقی ضابطوں کی مکمل پابندی یقینی بنانی چاہیے۔

    فضا علی نے اس پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک مختصر سا لمحہ بغیر کسی سیاق و سباق کے وائرل کیا گیا، جبکہ یہ محض ایک ہلکا پھلکا اور بے ساختہ اشارہ تھا جس کا کوئی منفی مطلب نہیں لیا جانا چاہیے، وہ ہمیشہ اپنے کام اور ناظرین کا احترام کرتی آئی ہیں اور آئندہ بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اسی سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ نبھاتی رہیں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات کسی بات کی جتنی بھی وضاحت کی جائے، اسے غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے اسی لیے وہ ایسے معاملات میں خاموشی کو بہتر حکمتِ عملی سمجھتی ہیں وہ اس وقت اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات اور ذاتی زندگی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور سب کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہیں۔

  • لازوال عشق کے ٹریلر پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

    لازوال عشق کے ٹریلر پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

    معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان عائشہ عمر کے ریئلٹی شو’لازوال عشق‘ پر صارفین نے شو کے مواد کو غیر موزوں قرار دیتے ہوئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے اس کی نشریات پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔

    پیمرا نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ ’لازوال عشق‘ کسی لائسنس یافتہ ٹی وی چینل پر نشر نہیں ہو رہا بلکہ صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دکھایا جا رہا ہے، لہٰذا یہ پروگرام براہِ راست پیمرا کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

    پیمرا کی وضاحت کے باوجود سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران شو کا ٹیزر بھی جاری کیا گیا، جس نے عوامی ردعمل کو مزید بڑھا دیا۔ ٹیزر میں دکھایا گیا ہے کہ میزبان عائشہ عمر ایک خاتون شرکاء سے سوال کرتی ہیں کہ دو مرد شرکاء میں سے وہ کس کو زیادہ پسند کرتی ہیں، جس پر خاتون جواب دیتی ہیں ’دونوں اچھے ہیں-

    ایک ویزے پر 6 خلیجی ممالک کا سفر

    سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرز کا مواد مقامی ثقافت اور روایات سے ہم آہنگ نہیں اور اس سے نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،متعدد صارفین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مطالبہ کیا ہے کہ ایسے شوز کے خلاف مؤثر ضابطۂ اخلاق وضع کیا جائے، خواہ وہ کسی بھی میڈیا پر نشر ہوں،صارفین نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے حکومت پاکستان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پاکستان کا کوئی ادارہ اس پروگرام کے خلاف ایکشن لینے پر تیار نہیں، سنا ہے 29 نومبر سے رلیز ہو رہا ہے یہ نیکسٹ لیول پر بے شرمی کو لے جائے گا۔

    ناسا کا 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ

    جہاں کئی صارفین اس پر تنقید کرتے نظر آئے وہیں چند صارفین کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام یو ٹیوب پر نشر ہو گا جس کو مسئلہ ہے وہ اس شو کو نہ دیکھے۔

    https://x.com/RShahzaddk/status/1970505646945509767

  • اداکارہ عائشہ عمر کے شو لازوال عشق پر عوامی اعتراضات، پیمرا کی وضاحت جاری

    اداکارہ عائشہ عمر کے شو لازوال عشق پر عوامی اعتراضات، پیمرا کی وضاحت جاری

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) نے عائشہ عمر کے اردو ریئلٹی ڈیٹنگ شو لازوال عشق کے خلاف موصول ہونے والی شکایات پر باضابطہ وضاحت جاری کر دی ہے۔

    پیمرا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اتھارٹی کو متعدد شکایات موصول ہو رہی ہیں، تاہم یہ پروگرام پیمرا کے دائرہ کار میں نہیں آتا کیونکہ یہ صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر کیا جا رہا ہے، پیمرا کے قوانین صرف لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز پر لاگو ہوتے ہیں۔

    ڈیٹنگ شو لازوال عشق دراصل ترک ریئلٹی شو عشق آداسی کا نیا ورژن ہے، جس میں چار مرد اور چار خواتین ایک شاندار حویلی میں 100 قسطوں کے لیے ایک ساتھ رہیں گے، شو میں دلچسپ مراحل، حیران کن موڑ اور رومانوی مناظر شامل ہوں گے۔

    پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کا اہم معاہدہ

    اداکارہ اور میزبان عائشہ عمر نے حال ہی میں اس شو لازوال عشق کی پرکشش جھلک سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں وہ ایک کشتی پر سفید لباس میں دلکش انداز میں نظر آئیں، جس میں انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ویسا ہے جیسا آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا، لازوال عشق شروع ہو رہا ہے، ایک حقیقت پر مبنی شو جو محبت تلاش کرنے اور اس کے سفر کے امتحانات و سبق پر مبنی ہے۔

    ٹیزر جاری ہونے کے بعد لازوال عشق پاکستانی سوشل میڈیا پر تیزی سے ٹرینڈ کرنے لگا، مگر پسندیدگی کے بجائے لوگوں کی تنقید کا نشانہ بنا، متعدد صارفین نے شو کے تصور کو مقامی ثقافتی اور مذہبی اقدار کے خلاف قرار دیا, نتیجتاً سینکڑوں شکایات پیمرا میں درج کرائی گئی-

    آئی ایم ایف وفد کے دورہ پاکستان سے قبل شرائط پر کام جاری

  • کرائم سینز اور زیر حراست افراد کے انٹرویوز پر پابندی عائد

    کرائم سینز اور زیر حراست افراد کے انٹرویوز پر پابندی عائد

    پیمرا نے کرائم سینز اور حراست میں لیے گئے افراد کے انٹرویوز نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کرائم سینز، برآمد شدہ اشیا اور حراست میں لیے گئے ملزمان کے انٹرویوز نشر کرنے سے گریز کریں، یہ اقدام پولیس تحقیقات میں رکاوٹوں سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ اس سے قبل بھی 19 جون 2023 اور 15 نومبر 2023 کو اس نوعیت کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، جن میں تمام لائسنس یافتہ چینلز کو مشورہ دیا گیا تھا کہ کسی بھی ملزم یا مشتبہ شخص کی فوٹیج یا سی سی ٹی وی ویڈیوز نشر نہ کی جائیں، سندھ پولیس نے ایک بار پھر پیمرا سے رجوع کیا اور درخواست کی کہ چینلز کو ہدایت دی جائے کہ وہ زیرِ تفتیش مقدمات کے دوران کرائم سین کی سی سی ٹی وی فوٹیجز، برآمد شدہ شواہد یا ملزمان کے حراستی انٹرویوز نشر نہ کریں۔

    روس کا چینی شہریوں کیلئے ویزا فری انٹری کا اعلان

    پیمرا نے تمام چینلز کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ ان احکامات پر عمل کریں اور پروگرام مینیجرز، نیوز ایڈیٹرز، نان لینیئر ایڈیٹرز اور گرافک ڈیزائنرز کو اس معاملے پر حساس بنایا جائے،اگر ان ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو پیمرا آرڈیننس 2002 اور پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2023 کی دفعات 27(نشریات پر پابندی)، 29اے(لائسنس فیس کے علاوہ اضافی فیس) 30 (لائسنس کی معطلی یا لائسنس شرائط میں تبدیلی)اور 33 (نشریاتی آلات کی ضبطگی)کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    اینکر رضوان الرحمان عرف رضی دادا کو پی ٹی وی نے معطل کردیا

  • پیمرا میں وفاق اور چاروں صوبوں سے ممبران کی تعیناتی

    پیمرا میں وفاق اور چاروں صوبوں سے ممبران کی تعیناتی

    پیمرا میں وفاق اور چاروں صوبوں سے ممبران تعینات کردئیے گئے ہیں۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق راشد ولی جنجوعہ اسلام آباد سے پیمرا کے رکن ہونگے،صباحت رفیق پنجاب سے پیمرا کی رکن تعینات کی گئی ہیں۔اسی طرح حیدر نقوی سندھ سے پیمرا کے رکن ہونگے،افتخار فردوس خیبر پختونخوا سے پیمرا کے رکن تعینات کئے گئے ہیں۔سمیرا ذاکر بلوچستان سے پیمرا کی رکن تعینات کی گئی ہیں۔پیمرا کے نئے ممبران مختلف میڈیا، قانون، اور انتظامیہ کے شعبوں میں تجربے کے حامل ہیں اور ان کی تعیناتی سے پیمرا کے کاموں میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔ ان تعیناتیوں کے ذریعے پورے ملک کی نمائندگی کو یقینی بنایا گیا ہے، جس سے پیمرا کی فعالیت میں توازن اور شفافیت آئے گی۔

    اس تعیناتی کے حوالے سے توقع کی جا رہی ہے کہ نئے ممبران میڈیا کے قوانین کی سختی سے پیروی کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ میڈیا ادارے عوامی مفاد میں کام کریں۔ ان تعینات ممبران کی مدد سے پیمرا کی کارکردگی اور اس کے اقدامات میں مزید تیزی آئے گی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ آنے والے 3 ججز کے بینچ کا روسٹر جاری

    دنیا بھارتی دہشتگردی کا نوٹس لے، مشعال ملک

    ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیے

    بہنوئی کے ہاتھوں یتیم سالی زیادتی کے بعد قتل ،مکمل تفصیل سامنے آ گئی

  • چیئرمین پیمرا نے صدر مملکت کو  پیمرا رپورٹ 2021-23 پیش کر دی

    چیئرمین پیمرا نے صدر مملکت کو پیمرا رپورٹ 2021-23 پیش کر دی

    صدر آصف علی زرداری سے چیئرمین پیمرا محمد سلیم کی ملاقات ہوئی ہے،
    چیئرمین پیمرا نے ایوان ِصدر میں صدر ِ مملکت کو پیمرا رپورٹ 2021-23 پیش کی،صدر مملکت نےجعلی خبروں ، غلط معلومات کے پھیلاؤ کی حوصلہ شکنی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ حقائق کی جانچ پڑتال ، معلومات کی تصدیق کا کلچر فروغ دینا ہوگا، میڈیا معاشرے میں رواداری، اتحاد اور اخلاقی اقدار کے فروغ میں کردار ادا کرے ، میڈیا صحافت کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھے ، جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کی وجہ سے نئے چیلنجز درپیش ہیں ، میڈیا رائے عامہ کی تشکیل میں ذمہ دارانہ اور تعمیری کردار ادا کرے،غلط معلومات ، پروپیگنڈے کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر عمل ہونا چاہیے،

    صدر مملکت نے جدید ٹیکنالوجی ، باصلاحیت انسانی وسائل سے پیمرا کی استعدادِ کار بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ میڈیا ملک کا بہتر تشخص ، سماجی و اقتصادی مسائل بارے شعور اجاگر کرے،

    چیئرمین پیمرا نے صدر مملکت کو میڈیا منظرنامے کی ریگولیشن اور ترقی میں پیمرا کے کردار اور کارکردگی بارے آگاہ کیا،صدر مملکت نے پیمرا کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا

  • عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکڑانک میڈیا پر عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کیخلاف پیمرا نوٹیفکیشن کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن اور پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی درخواستوں پر سماعت کی،عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو آئندہ ہفتے سنایا جائے گا، دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ایسا کیا رپورٹ ہوا تھا جس پر ڈائریکٹو جاری کرنا پڑا اور آپ سیدھا پابندی پر چلے گئے، زمانہ تبدیل ہوچکا ہے اور چیزیں تبدیل ہوچکی ہیں، ہمیں ان چیزوں کے ساتھ خود کو ڈھالنا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کی بات کروں تو ایسا کچھ نہیں کہ کہیں غلط رپورٹنگ ہوئی ہے، کل میں نے جو کہا وہ بالکل درست رپورٹ ہوا، میں نے ہر سیاسی جماعت کے رہنماؤں کے کیس سننے کوئی ایک کیس ایسا نہیں جو مس رپورٹ ہوا ہو، کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا کہ کہنا پڑے یہ میں نے نہیں کہا، اگر کہیں غلط رپورٹنگ ہوئی ہے تو اس کے لیے طریقہ کار موجود ہے۔

    پیمرا کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ پیمرا نے اجازت دی ہے کہ جب تحریری فیصلہ آئے تو رپورٹ کرسکتے ہیں، یہ ہدایات میڈیا چینلز کو جاری کی گئی ہیں، انہوں نے سپریم کورٹ کی ایک بھی گائیڈ لائن پر عمل نہیں کیا، سپریم کورٹ میں عوامی مفاد کے مقدمات کی لائیو اسٹریمنگ ہوتی ہے۔

    قانون قاعدے کے حساب سے چلیں گے تو عدالت آپ کو نہیں روکے گی.چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہے کہ بات پابندی کی طرف کیوں گئی؟ آپ کے سامنے کوئی کمپلینٹ نہیں آئی، اگر ہوتی تو آپ یہاں پیش کر دیتے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایسی کوئی شکایت نہیں بھیجی کہ غلط رپورٹنگ ہوئی ہے، کل ہم نے گھنٹوں سماعت کی لیکن سماعت کا حکم نامہ 4 سطروں پر مشتمل تھا، عدالتی آبزرویشن بھی رپورٹ ہوسکتی ہیں، یہاں بھی سب کیس رپورٹ نہیں ہورہے ہیں صرف عوامی نوعیت کے مقدمات رپورٹ ہورہے ہیں، آپ بتا دیں غلط رپورٹنگ ہوئی اور پیمرا نے ایکشن لیا ہو. قانون قاعدے کے حساب سے چلیں گے تو عدالت آپ کو نہیں روکے گی.

    اگر کوئی غلط کرتا ہے تو پیمرا اس کے خلاف کارروائی کرے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کیخلاف پیمرا کو نوٹس جاری،جواب طلب

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    واضح رہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے بھی پیمرا کا عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے،پی ایف یو جے کی جانب سے وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل عادل عزیز قاضی کے ذریعے درخواست دائر کی گئی ،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پیمرا کا عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی کا 21 مئی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، پیمرا کو انسانی بنیادی حقوق کے خلاف کوئی بھی نوٹیفکیشن یا حکم دینے سے روکا جائے، 21 مئی 2024ء کو پیمرا کی جانب سے 2 نوٹیفکیشنز کا اجراء ہوا، ٹی وی چینلز کو عدالتی کارروائی رپورٹ نہ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے، صرف عدالتی تحریری حکم ناموں کو ہی رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

  • اگر کوئی غلط کرتا ہے تو پیمرا اس کے خلاف کارروائی کرے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اگر کوئی غلط کرتا ہے تو پیمرا اس کے خلاف کارروائی کرے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کا پیمرا کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا کوئی چیز غلط رپورٹ ہوئی جس پر پیمرا نے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا؟ میرا نہیں خیال کہ ہماری ہائیکورٹ سے ایسا کچھ ہوا ہے یا رجسٹرار نے کوئی شکایت بھیجی ہو، اگر میں نے کوئی بات نہ کہی ہو اور رپورٹ ہو جائے تو کمپلینٹ پر پیمرا اُس میڈیا ہاؤس کو penalize بھی کر سکتا ہے،اوپن دنیا کا زمانہ ہے، جو کچھ ہو رہا ہے عوام کو جاننے دیں، پچھلے ایک سال میں پیمرا نے غلط رپورٹنگ پر کتنی کاروائیاں کی ہیں؟رپورٹرز تو بالکل درست رپورٹنگ کرتے ہیں، شام کو جو پروگرامز میں بیٹھ کر فیصلے سناتے ہیں وہ مسئلہ ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے رپورٹرز تو بہت ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرتے ہیں، میں تو کہتا ہوں 99.99 فیصد رپورٹنگ درست ہوتی ہے، پوائنٹ ون فیصد انسانی غلطی ہو سکتی ہے، سپریم کورٹ میں بھی مجھے یقین ہے کہ ایسے ہی ہوتا ہو گا، اگر کوئی غلط کرتا ہے تو پیمرا اس کے خلاف کارروائی کرے، عدالت جب دستخط شدہ فیصلہ جاری کر دیتی ہے تو وہ پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے، جج پر نہیں بلکہ اُسکے فیصلے پر تنقید کی جانی چاہیے،ہمیں عدالتی فیصلوں پر مباحثوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، عدالتی فیصلوں پر روشنی ڈالی جانی چاہیے کہ قانون ایسے تھا لیکن فیصلے میں یہ غلطی ہے،

    عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کیخلاف پیمرا کو نوٹس جاری،جواب طلب

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

  • پابندی رپورٹنگ پر نہیں غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر ہے،عدالت

    پابندی رپورٹنگ پر نہیں غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر ہے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت ہوئی

    پریس ایسوسی ایشن اور پی ایف یو کی درخواستوں پر بھی سماعت ہوئی،درخواست گزار فیاض محمود ، رضوان قاضی اور عقیل افضل عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی رپورٹنگ پر کوئی پابندی نہیں ہے،میڈیا عدالتی کارروائی کو رپورٹ کرسکتا ہے، پابندی رپورٹنگ پر نہیں غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ پر ہے،صرف سنسنی خیز ٹکر چلانے پر مسئلہ ہوتا ہے ،

    پیمرا نے عدالت میں جواب جمع کروا دیا ،درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر عمر اعجازِ گیلانی اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاست علی آزاد عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت کا اس معاملے سے تعلق ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ یہ پیمرا کا معاملہ ہے وفاقی حکومت کا تعلق نہیں ہے ،بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کہا کہ پیمرا نے جس قانون کا سہارا لیا ہے اس میں زیر سماعت مقدمات رپورٹ کرنے پر پابندی نہیں ہے، عدالت نے آئندہ سماعت پر حتمی دلائل طلب کرلئے کیس کی سماعت گیارہ جون تک ملتوی کر دی گئی

    عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی،پیمرا کو ایک اور عدالتی نوٹس جاری

    عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کیخلاف پیمرا کو نوٹس جاری،جواب طلب

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

  • عدالتی کاروائی کی کوریج پر پابندی ،پیمرا کا نوٹفکیشن معطل

    عدالتی کاروائی کی کوریج پر پابندی ،پیمرا کا نوٹفکیشن معطل

    سندھ ہائیکورٹ ،عدالتی کاروائی کی کوریج پر پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالت نے کورٹ رپورٹرز کو روزہ مرہ کی عدالتی رپورٹنگ کی اجازت دے دی ،سندھ ہائیکورٹ نے پیمرا کے 21 مئی کے نوٹیفکیشن کی پابندی سے متعلق شقوں پر عملدرآمد روک دیا ،عدالت نے پیمرا ،وزارت اطلاعات و دیگر کو نوٹس جاری کرتے 6 جون تک جواب طلب کر لیا

    وکیل نے عدالت میں کہا کہ پیمراچینلزکواس قسم کی ہدایات جاری کرنے کا مجاز نہیں،پابندی کی آڑ میں پیمرا نے عدلیہ پر قدغن لگانے کی کوشش کی،کورٹ رپورٹرز کوبھی عدالتی رپورٹنگ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حقیقت ہے کہ بعض آبزرویشن نشرہونےسےعدلیہ کا غلط تاثر چلا جاتا ہے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 جون تک ملتوی کردی

    سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں پیمرا ،وزارت انفارمیشن براڈ کاسٹ و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست کے مطابق پیمرا کی جانب سے عدالتی رپورٹنگ پر 21 مئی 2024 کو پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا ، پیمرا قواعد عدالتی لائیو رپورٹنگ کی اجازت دیتا ہے ، عدالتی رپورٹنگ پر پابندی عائد کرنے سے قبل اتھارٹی کی میٹنگ تک نہیں طلب کی گئی، پیمرا قوانین کے تحت پابندی سے قبل کورٹ رپورٹرز کا موقف نہیں سنا گیا ہے ، کورٹ رپورٹنگ پر پابندی آئین کے آرٹیکل 8,9,10،18,19 اور 25 کی خلاف ورزی ہے

    دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے بھی پیمرا کا عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے،پی ایف یو جے کی جانب سے وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل عادل عزیز قاضی کے ذریعے درخواست دائر کی گئی ،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پیمرا کا عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی کا 21 مئی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، پیمرا کو انسانی بنیادی حقوق کے خلاف کوئی بھی نوٹیفکیشن یا حکم دینے سے روکا جائے، 21 مئی 2024ء کو پیمرا کی جانب سے 2 نوٹیفکیشنز کا اجراء ہوا، ٹی وی چینلز کو عدالتی کارروائی رپورٹ نہ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے، صرف عدالتی تحریری حکم ناموں کو ہی رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

    عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کیخلاف پیمرا کو نوٹس جاری،جواب طلب

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ