Baaghi TV

Tag: پیمرا

  • جیو نیوز کی معطلی ختم، ایک کروڑ جرمانہ عائد، پیمرا کا فیصلہ جاری

    جیو نیوز کی معطلی ختم، ایک کروڑ جرمانہ عائد، پیمرا کا فیصلہ جاری

    مذہبی تصویر کشی – جیو نیوز بندش کیس پیمرا اتھارٹی نے جیو نیوز کی بابت حتمی فیصلہ جاری کر دیا –

    معاملہ جیو نیوز کے پروگرام “سفر عشق” کی 10 محرم الحرام کی نشریات میں مذہبی تصویری کشی سے متعلق تھ،اتھارٹی نے 11 جولائی کو ہونے والے اپنے 191ویں اجلاس میں معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا،اجلاس میں کونسل آف کمپلینٹس لاہور کی سفارشات، کارروائی کے ریکارڈ، لائسنس ہولڈر کے تحریری و زبانی مؤقف اور پیمرا آرڈیننس 2002، متعلقہ قواعد اور الیکٹرانک میڈیا (پروگرامز اینڈ ایڈورٹائزمنٹس) کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی متعلقہ شقوں کو مدنظر رکھا گیا

    کونسل نے اس معاملے پر بالترتیب 30 جون، 2 جولائی اور 10 جولائی 2026 کو منعقد ہونے والے اپنے 127ویں، 128ویں اور 129ویں اجلاسوں میں غور کیا،لائسنس ہولڈر کے نمائندگان کا مؤقف سننے، ریکارڈ کا جائزہ لینے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کو مدنظر رکھنے کے بعد کونسل نے اپنی سفارشات اتھار ٹی کو پیش کیں-

    فیصلے میں کہا گیا کہ جیو نیوز اور اس کے نمائندگان کو وضاحت کا مناسب موقع فراہم کیا گیا، اتھارٹی نے قرار دیا کہ مذکورہ خلاف ورزی سنگین نوعیت کی ہے جو ذمہ دارانہ نشریات کے تقاضوں اور پیمرا قوانین کے تحت لائسنس ہولڈر کی ذمہ داریوں کے منافی ہے-

    پیمرا نے جیو نیوز کی جانب سے غفلت تسلیم کرنے، اظہار ندامت اور تمام میڈیا پلیٹ فارمز پر غیر مشروط معذرت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں تخفیفی عوامل قرار دیا تاہم واضح کیا کہ یہ عوامل خلاف ورزی یا اس کے قانونی نتائج کو ختم نہیں کرتے-

    فیصلے کے مطابق 27 جون 2026 کو جیو نیوز کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کرنے کا حکم صحیح قرار دیامعطلی آج رات 12 بجے تک برقرار رہے گی چینل کی نشریات معطلی کی مدت مکمل ہونے اور ایک کروڑ روپے جرمانے کی ادائیگی کے بعد ہی بحال کی جا سکیں گی-

    پیمرا نے ہدایت کی کہ جیو نیوز انتظامیہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکامی پر متعلقہ افراد کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی مکمل کر کے ان کو بر طرف کرے، کارروائی کے نتیجے میں ملازمت سے فارغ کیے جانے والے افراد پیمرا کے زیر نگرانی کسی بھی لائسنس یافتہ، رجسٹرڈ یا مجاز سروس سے براہ راست یا بالواسطہ کسی حیثیت میں دوبارہ منسلک نہیں ہو سکیں گے جیو نیوز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اگر آئندہ ایسی غفلت برتی گئی تو ان کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا-

    پیمرا نے ہدایت کی کہ جیو نیوز سمیت تمام لائسنس یافتگان غیر جانبدار اور باصلاحیت ان ہاؤس مانیٹرنگ کمیٹی یا ایڈیٹوریل بورڈ تشکیل دیں تمام چینلز یہ تفصیلا ت پیمرا کو فراہم کریں اور ہر نشریاتی مواد کی پیشگی ادارتی جانچ یقینی بنائیں،تمام لائسنس یافتگان کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ازخود نوٹس کیس نمبر 28 آف 2018 (PLD 2019 SC 1) کے فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کے لیے علیحدہ ہدایت نامہ جاری کیا جائے گا-

    پیمرا نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے-

  • مذہبی و عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا خدشہ،جیو نیوز نےخود اپنی نشریات معطل کرنے کی درخواست کی

    مذہبی و عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا خدشہ،جیو نیوز نےخود اپنی نشریات معطل کرنے کی درخواست کی

    جیو نیوز کے پروگرام "سفرِ عشق” سے متعلق تنازع کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر پروگرام میں نشر ہونے والا مواد قانون، پیمرا ضابطۂ اخلاق یا مذہبی حساسیت کے منافی تھا تو پہلے شوکاز نوٹس جاری کیا جانا چاہیے تھا، پھر مکمل تحقیقات اور متعلقہ فریق کا مؤقف سننے کے بعد کارروائی عمل میں لائی جاتی۔

    باغی ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جیو نیوز نے خود ہی اپنی نشریات 15 روز کے لیے معطل کرنے کی درخواست کی، ذرائع کے مطابق خدشہ تھا کہ اگر معاملہ معمول کے قانونی طریقہ کار کے تحت چلتا تو تحقیقات میں وقت لگ سکتا تھا، جبکہ اس دوران مذہبی و عوامی حلقوں کی جانب سے ملک بھر میں احتجاج اور جیو نیوز کے دفاتر کے باہر کشیدگی پیدا ہونے کا امکان موجود تھا، اسی تناظر میں مبینہ طور پر چینل نے رضاکارانہ طور پر 15 روزہ معطلی کی درخواست دی۔

    ادھر سوشل میڈیا پر متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ پروگرام میں نشر کیے گئے مواد سے عوامی و مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے، اسی لیے عوامی ردعمل سامنے آیا ان حلقوں کا کہنا ہے کہ جیو نیوز کو 15 روز کے لیے بند کرنا اس کی گستاخی یا غلطی کی نوعیت کے مقابلے میں سزا بہت ہلکی ہے۔

  • پیمرا نے جیو نیوز کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کر دیا

    پیمرا نے جیو نیوز کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کر دیا

    پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے جیو نیوز کی نشریات 15 روز کے لیے معطل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے چینل کو نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔

    پیمرا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق جیو نیوز پر 10 محرم الحرام، 26 جون 2026 کو پروگرام "سفرِ عشق” میں نا قابل قبول مذہبی تصویر کشی کی گئی ایسی تصویر کشی اور تصوراتی عکاسی نا صرف لائسنس کی خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی اقدار اور اصولوں کے منافی ہے ایسی تصویر کشی قانون اور پیمرا کی کئی شقوں کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے اور ہونے کا خدشہ ہے، جس کی بنیاد پر جیو نیوز کا لائسنس معطل کیا جا رہا ہے۔

    پیمرا نے کہا کہ مذہبی جذبات مجروح ہونے کے نتیجے میں اور مذہبی ہم آہنگی کو نقصان کے پیشِ نظر یہ احکامات جاری کیے جا رہے ہیں،جیو نیوز پر یہ لازم تھا کہ مذہبی پروگرام نشر کرتے ہوئے، احتیاط سے کام لیا جائے اور ان کی اندرونی کمیٹی ایسے معاملات کو خود دیکھے جس میں وہ ناکام رہے،لہٰذا جیو نیوز کا لائسنس فی الفور 15 دن کے لیے معطل کیا جاتا ہے،یہ تمام احکامات پیمرا قوانین کے تحت جاری کیے جا رہے ہیں-

    پیمرا نے اعلامیے میں کہا کہ جیو نیوز کی نشریات سیٹلائٹ اور تمام نشریاتی نیٹ ورکس پر معطل رہیں گی، تمام ڈسٹریبیوٹرز اور آپریٹرس کو ہدایت کی جاری ہے، کہ ان احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں،اس معاملے پر پیمرا کی شکایات کونسل بھی مزید کارروائی کے لیے سماعت کرے گی اور مزید ریگولیٹری ایکشن کی سفارشات مرتب کرے گی،جیو نیوز کو یہ احکامات جاری کیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے ادارے کے اندر بھی انکوائری کرے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ایسی خلاف ورزی نہ ہو۔

  • لائیو شو میں فضا علی کی غیر اخلاقی حرکت، پیمرا نے ایکشن لےلیا

    لائیو شو میں فضا علی کی غیر اخلاقی حرکت، پیمرا نے ایکشن لےلیا

    لائیو شو میں فضا علی کی غیر اخلاقی حرکت پر ایکشن لیتے ہوئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹیلی ویژن چینل کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ لائیو شو کے دوران میزبان فضا علی کے شوہر نے انہیں کندھوں پر اٹھا لیاتھا اس منظر کے بعد سے رہنما ن لیگ حنا پرویز ٹ اور صحافی روؤف کلاسرا سمیت سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی تھی اور پیمرا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    اس کے بعد پیمرا نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ چینل سے وضاحت طلب کر لی ہے پیمرا کا کہنا ہے کہ براڈکاسٹرز کو مواد کی نشریات کے دوران پیشہ ورانہ معیار اور اخلاقی ضابطوں کی مکمل پابندی یقینی بنانی چاہیے۔

    فضا علی نے اس پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک مختصر سا لمحہ بغیر کسی سیاق و سباق کے وائرل کیا گیا، جبکہ یہ محض ایک ہلکا پھلکا اور بے ساختہ اشارہ تھا جس کا کوئی منفی مطلب نہیں لیا جانا چاہیے، وہ ہمیشہ اپنے کام اور ناظرین کا احترام کرتی آئی ہیں اور آئندہ بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اسی سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ نبھاتی رہیں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات کسی بات کی جتنی بھی وضاحت کی جائے، اسے غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے اسی لیے وہ ایسے معاملات میں خاموشی کو بہتر حکمتِ عملی سمجھتی ہیں وہ اس وقت اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات اور ذاتی زندگی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور سب کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہیں۔

  • لازوال عشق کے ٹریلر پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

    لازوال عشق کے ٹریلر پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

    معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان عائشہ عمر کے ریئلٹی شو’لازوال عشق‘ پر صارفین نے شو کے مواد کو غیر موزوں قرار دیتے ہوئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے اس کی نشریات پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔

    پیمرا نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ ’لازوال عشق‘ کسی لائسنس یافتہ ٹی وی چینل پر نشر نہیں ہو رہا بلکہ صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دکھایا جا رہا ہے، لہٰذا یہ پروگرام براہِ راست پیمرا کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

    پیمرا کی وضاحت کے باوجود سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران شو کا ٹیزر بھی جاری کیا گیا، جس نے عوامی ردعمل کو مزید بڑھا دیا۔ ٹیزر میں دکھایا گیا ہے کہ میزبان عائشہ عمر ایک خاتون شرکاء سے سوال کرتی ہیں کہ دو مرد شرکاء میں سے وہ کس کو زیادہ پسند کرتی ہیں، جس پر خاتون جواب دیتی ہیں ’دونوں اچھے ہیں-

    ایک ویزے پر 6 خلیجی ممالک کا سفر

    سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرز کا مواد مقامی ثقافت اور روایات سے ہم آہنگ نہیں اور اس سے نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،متعدد صارفین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مطالبہ کیا ہے کہ ایسے شوز کے خلاف مؤثر ضابطۂ اخلاق وضع کیا جائے، خواہ وہ کسی بھی میڈیا پر نشر ہوں،صارفین نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے حکومت پاکستان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پاکستان کا کوئی ادارہ اس پروگرام کے خلاف ایکشن لینے پر تیار نہیں، سنا ہے 29 نومبر سے رلیز ہو رہا ہے یہ نیکسٹ لیول پر بے شرمی کو لے جائے گا۔

    ناسا کا 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ

    جہاں کئی صارفین اس پر تنقید کرتے نظر آئے وہیں چند صارفین کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام یو ٹیوب پر نشر ہو گا جس کو مسئلہ ہے وہ اس شو کو نہ دیکھے۔

    https://x.com/RShahzaddk/status/1970505646945509767

  • اداکارہ عائشہ عمر کے شو لازوال عشق پر عوامی اعتراضات، پیمرا کی وضاحت جاری

    اداکارہ عائشہ عمر کے شو لازوال عشق پر عوامی اعتراضات، پیمرا کی وضاحت جاری

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) نے عائشہ عمر کے اردو ریئلٹی ڈیٹنگ شو لازوال عشق کے خلاف موصول ہونے والی شکایات پر باضابطہ وضاحت جاری کر دی ہے۔

    پیمرا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اتھارٹی کو متعدد شکایات موصول ہو رہی ہیں، تاہم یہ پروگرام پیمرا کے دائرہ کار میں نہیں آتا کیونکہ یہ صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر کیا جا رہا ہے، پیمرا کے قوانین صرف لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز پر لاگو ہوتے ہیں۔

    ڈیٹنگ شو لازوال عشق دراصل ترک ریئلٹی شو عشق آداسی کا نیا ورژن ہے، جس میں چار مرد اور چار خواتین ایک شاندار حویلی میں 100 قسطوں کے لیے ایک ساتھ رہیں گے، شو میں دلچسپ مراحل، حیران کن موڑ اور رومانوی مناظر شامل ہوں گے۔

    پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کا اہم معاہدہ

    اداکارہ اور میزبان عائشہ عمر نے حال ہی میں اس شو لازوال عشق کی پرکشش جھلک سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں وہ ایک کشتی پر سفید لباس میں دلکش انداز میں نظر آئیں، جس میں انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ویسا ہے جیسا آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا، لازوال عشق شروع ہو رہا ہے، ایک حقیقت پر مبنی شو جو محبت تلاش کرنے اور اس کے سفر کے امتحانات و سبق پر مبنی ہے۔

    ٹیزر جاری ہونے کے بعد لازوال عشق پاکستانی سوشل میڈیا پر تیزی سے ٹرینڈ کرنے لگا، مگر پسندیدگی کے بجائے لوگوں کی تنقید کا نشانہ بنا، متعدد صارفین نے شو کے تصور کو مقامی ثقافتی اور مذہبی اقدار کے خلاف قرار دیا, نتیجتاً سینکڑوں شکایات پیمرا میں درج کرائی گئی-

    آئی ایم ایف وفد کے دورہ پاکستان سے قبل شرائط پر کام جاری

  • کرائم سینز اور زیر حراست افراد کے انٹرویوز پر پابندی عائد

    کرائم سینز اور زیر حراست افراد کے انٹرویوز پر پابندی عائد

    پیمرا نے کرائم سینز اور حراست میں لیے گئے افراد کے انٹرویوز نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کرائم سینز، برآمد شدہ اشیا اور حراست میں لیے گئے ملزمان کے انٹرویوز نشر کرنے سے گریز کریں، یہ اقدام پولیس تحقیقات میں رکاوٹوں سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ اس سے قبل بھی 19 جون 2023 اور 15 نومبر 2023 کو اس نوعیت کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، جن میں تمام لائسنس یافتہ چینلز کو مشورہ دیا گیا تھا کہ کسی بھی ملزم یا مشتبہ شخص کی فوٹیج یا سی سی ٹی وی ویڈیوز نشر نہ کی جائیں، سندھ پولیس نے ایک بار پھر پیمرا سے رجوع کیا اور درخواست کی کہ چینلز کو ہدایت دی جائے کہ وہ زیرِ تفتیش مقدمات کے دوران کرائم سین کی سی سی ٹی وی فوٹیجز، برآمد شدہ شواہد یا ملزمان کے حراستی انٹرویوز نشر نہ کریں۔

    روس کا چینی شہریوں کیلئے ویزا فری انٹری کا اعلان

    پیمرا نے تمام چینلز کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ ان احکامات پر عمل کریں اور پروگرام مینیجرز، نیوز ایڈیٹرز، نان لینیئر ایڈیٹرز اور گرافک ڈیزائنرز کو اس معاملے پر حساس بنایا جائے،اگر ان ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو پیمرا آرڈیننس 2002 اور پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2023 کی دفعات 27(نشریات پر پابندی)، 29اے(لائسنس فیس کے علاوہ اضافی فیس) 30 (لائسنس کی معطلی یا لائسنس شرائط میں تبدیلی)اور 33 (نشریاتی آلات کی ضبطگی)کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    اینکر رضوان الرحمان عرف رضی دادا کو پی ٹی وی نے معطل کردیا

  • پیمرا میں وفاق اور چاروں صوبوں سے ممبران کی تعیناتی

    پیمرا میں وفاق اور چاروں صوبوں سے ممبران کی تعیناتی

    پیمرا میں وفاق اور چاروں صوبوں سے ممبران تعینات کردئیے گئے ہیں۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق راشد ولی جنجوعہ اسلام آباد سے پیمرا کے رکن ہونگے،صباحت رفیق پنجاب سے پیمرا کی رکن تعینات کی گئی ہیں۔اسی طرح حیدر نقوی سندھ سے پیمرا کے رکن ہونگے،افتخار فردوس خیبر پختونخوا سے پیمرا کے رکن تعینات کئے گئے ہیں۔سمیرا ذاکر بلوچستان سے پیمرا کی رکن تعینات کی گئی ہیں۔پیمرا کے نئے ممبران مختلف میڈیا، قانون، اور انتظامیہ کے شعبوں میں تجربے کے حامل ہیں اور ان کی تعیناتی سے پیمرا کے کاموں میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔ ان تعیناتیوں کے ذریعے پورے ملک کی نمائندگی کو یقینی بنایا گیا ہے، جس سے پیمرا کی فعالیت میں توازن اور شفافیت آئے گی۔

    اس تعیناتی کے حوالے سے توقع کی جا رہی ہے کہ نئے ممبران میڈیا کے قوانین کی سختی سے پیروی کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ میڈیا ادارے عوامی مفاد میں کام کریں۔ ان تعینات ممبران کی مدد سے پیمرا کی کارکردگی اور اس کے اقدامات میں مزید تیزی آئے گی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ آنے والے 3 ججز کے بینچ کا روسٹر جاری

    دنیا بھارتی دہشتگردی کا نوٹس لے، مشعال ملک

    ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیے

    بہنوئی کے ہاتھوں یتیم سالی زیادتی کے بعد قتل ،مکمل تفصیل سامنے آ گئی

  • چیئرمین پیمرا نے صدر مملکت کو  پیمرا رپورٹ 2021-23 پیش کر دی

    چیئرمین پیمرا نے صدر مملکت کو پیمرا رپورٹ 2021-23 پیش کر دی

    صدر آصف علی زرداری سے چیئرمین پیمرا محمد سلیم کی ملاقات ہوئی ہے،
    چیئرمین پیمرا نے ایوان ِصدر میں صدر ِ مملکت کو پیمرا رپورٹ 2021-23 پیش کی،صدر مملکت نےجعلی خبروں ، غلط معلومات کے پھیلاؤ کی حوصلہ شکنی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ حقائق کی جانچ پڑتال ، معلومات کی تصدیق کا کلچر فروغ دینا ہوگا، میڈیا معاشرے میں رواداری، اتحاد اور اخلاقی اقدار کے فروغ میں کردار ادا کرے ، میڈیا صحافت کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھے ، جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کی وجہ سے نئے چیلنجز درپیش ہیں ، میڈیا رائے عامہ کی تشکیل میں ذمہ دارانہ اور تعمیری کردار ادا کرے،غلط معلومات ، پروپیگنڈے کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر عمل ہونا چاہیے،

    صدر مملکت نے جدید ٹیکنالوجی ، باصلاحیت انسانی وسائل سے پیمرا کی استعدادِ کار بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ میڈیا ملک کا بہتر تشخص ، سماجی و اقتصادی مسائل بارے شعور اجاگر کرے،

    چیئرمین پیمرا نے صدر مملکت کو میڈیا منظرنامے کی ریگولیشن اور ترقی میں پیمرا کے کردار اور کارکردگی بارے آگاہ کیا،صدر مملکت نے پیمرا کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا

  • عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکڑانک میڈیا پر عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کیخلاف پیمرا نوٹیفکیشن کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن اور پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی درخواستوں پر سماعت کی،عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو آئندہ ہفتے سنایا جائے گا، دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ایسا کیا رپورٹ ہوا تھا جس پر ڈائریکٹو جاری کرنا پڑا اور آپ سیدھا پابندی پر چلے گئے، زمانہ تبدیل ہوچکا ہے اور چیزیں تبدیل ہوچکی ہیں، ہمیں ان چیزوں کے ساتھ خود کو ڈھالنا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کی بات کروں تو ایسا کچھ نہیں کہ کہیں غلط رپورٹنگ ہوئی ہے، کل میں نے جو کہا وہ بالکل درست رپورٹ ہوا، میں نے ہر سیاسی جماعت کے رہنماؤں کے کیس سننے کوئی ایک کیس ایسا نہیں جو مس رپورٹ ہوا ہو، کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا کہ کہنا پڑے یہ میں نے نہیں کہا، اگر کہیں غلط رپورٹنگ ہوئی ہے تو اس کے لیے طریقہ کار موجود ہے۔

    پیمرا کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ پیمرا نے اجازت دی ہے کہ جب تحریری فیصلہ آئے تو رپورٹ کرسکتے ہیں، یہ ہدایات میڈیا چینلز کو جاری کی گئی ہیں، انہوں نے سپریم کورٹ کی ایک بھی گائیڈ لائن پر عمل نہیں کیا، سپریم کورٹ میں عوامی مفاد کے مقدمات کی لائیو اسٹریمنگ ہوتی ہے۔

    قانون قاعدے کے حساب سے چلیں گے تو عدالت آپ کو نہیں روکے گی.چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہے کہ بات پابندی کی طرف کیوں گئی؟ آپ کے سامنے کوئی کمپلینٹ نہیں آئی، اگر ہوتی تو آپ یہاں پیش کر دیتے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایسی کوئی شکایت نہیں بھیجی کہ غلط رپورٹنگ ہوئی ہے، کل ہم نے گھنٹوں سماعت کی لیکن سماعت کا حکم نامہ 4 سطروں پر مشتمل تھا، عدالتی آبزرویشن بھی رپورٹ ہوسکتی ہیں، یہاں بھی سب کیس رپورٹ نہیں ہورہے ہیں صرف عوامی نوعیت کے مقدمات رپورٹ ہورہے ہیں، آپ بتا دیں غلط رپورٹنگ ہوئی اور پیمرا نے ایکشن لیا ہو. قانون قاعدے کے حساب سے چلیں گے تو عدالت آپ کو نہیں روکے گی.

    اگر کوئی غلط کرتا ہے تو پیمرا اس کے خلاف کارروائی کرے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کیخلاف پیمرا کو نوٹس جاری،جواب طلب

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    واضح رہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے بھی پیمرا کا عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے،پی ایف یو جے کی جانب سے وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل عادل عزیز قاضی کے ذریعے درخواست دائر کی گئی ،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پیمرا کا عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی کا 21 مئی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، پیمرا کو انسانی بنیادی حقوق کے خلاف کوئی بھی نوٹیفکیشن یا حکم دینے سے روکا جائے، 21 مئی 2024ء کو پیمرا کی جانب سے 2 نوٹیفکیشنز کا اجراء ہوا، ٹی وی چینلز کو عدالتی کارروائی رپورٹ نہ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے، صرف عدالتی تحریری حکم ناموں کو ہی رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔