Baaghi TV

Tag: پینٹاگان

  • پینٹاگون نے خلیج کی نگرانی کیلئے بحری ڈرونز کو مصنوعی ذہانت سے منسلک کردیا:ایران بھی محتاط ہوگیا

    پینٹاگون نے خلیج کی نگرانی کیلئے بحری ڈرونز کو مصنوعی ذہانت سے منسلک کردیا:ایران بھی محتاط ہوگیا

    تہران :ایران کی جانب سے حال ہی میں امریکی بحریہ کی کشتیوں کو قبضے میں لیے جانے نے پینٹاگون کے ایک اہم پروگرام پر روشنی ڈالی ہے جس میں بڑے علاقوں میں گشت کرنے کے لیے فضائی، سطحی اور پانی کے اندر ڈرونز کے نیٹ ورک تیار کیے جائیں گے اور ان کی نگرانی کو مصنوعی ذہانت سے جوڑ دیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق ایک سال پہلے شروع کیا گیا پروگرام جزیرہ نما عرب کے آس پاس کے پانیوں میں بے شمار بغیر پائلٹ کے جہازوں، یا یو ایس ویز کو چلاتا ہے جس کے ذریعے ڈیٹا اور تصاویر کو جمع کر کے خلیج میں جمع کرنے کے مراکز تک پہنچایا جاتا ہے۔یہ پروگرام بغیر کسی رکاوٹ کے چلتا رہا جب تک کہ ایرانی فورسز نے 29-30 اگست اور یکم ستمبر کو دو واقعات میں 3 سات میٹر طویل سیلڈرون ایکسپلورر یو ایس وی کو پکڑنے کی کوشش کی۔

    سب سے پہلے ایران کے پاسداران انقلاب کور کے ایک جہاز نے خلیج میں ایک سیلڈرون میں ایک لائن ہُک کی اور اسے کھینچنا شروع کر دیا اور اسے اس وقت چھوڑا جب امریکی بحریہ کی گشت کرنے والی کشتی اور ہیلی کاپٹر جائے وقوع کی جانب بڑھے۔دوسرے واقعے میں ایک ایرانی تباہ کن جہاز نے بحیرہ احمر میں دو سیلڈرونز کو اٹھا کر جہاز پر لہرایا۔جس پر امریکی بحریہ کے دو تباہ کن جہاز اور ہیلی کاپٹر تیزی سے نیچے اترے اور ایرانیوں کو اگلے دن انہیں ان سے کیمرے اتارنے کے بعد چھوڑنے پر آمادہ کیا۔

    ایرانیوں نے کہا کہ یو ایس ویز بین الاقوامی شپنگ لین میں تھے اور ‘ممکنہ حادثات کو روکنے کے لیے’ اٹھائے گئے تھے جبکہ امریکی بحریہ نے کہا کہ یو ایس ویز شپنگ لین سے باہر اور غیر مسلح رہ کر کام کر رہے ہیں۔امریکی بحری افواج کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر وائس ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایرانی اقدامات کو ‘واضح، غیر ضروری اور پیشہ ورانہ میری ٹائم فورس کے رویے سے عدم مطابقت’ قرار دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکی افواج جہاں بھی بین الاقوامی قانون اجازت دیتا ہے وہاں پرواز، بحری جہاز اور آپریشن جاری رکھیں گی۔’

    ڈرونز کو بحرین میں قائم امریکی پانچویں بیڑے کی ٹاسک فورس 59 کے ذریعے چلایا جاتا ہے، جو گزشتہ سال بغیر پائلٹ کے نظام اور مصنوعی ذہانت کو مشرق وسطیٰ کی کارروائیوں میں مربوط کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔پانچویں بیڑے کے ترجمان کمانڈر ٹم ہاکنز نے کہا کہ فضائی اور زیر سمندر ڈرون بہت اچھی طرح سے تیار اور ثابت ہوئے ہیں لیکن بغیر پائلٹ کی سطح کی کشتیاں بہت نئی اور مستقبل کے لیے ضروری ہیں۔گزشتہ سال کے آغاز سے امریکی بحریہ اور علاقائی شراکت داروں نے سست یو ایس وی جیسے سیلڈرونز اور بیٹری سے چلنے والی اسپیڈ بوٹس جیسے مانٹاس ’ٹی 12‘ کو تعینات کیا ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • یوکرین میں روس نے ساری افواج داخل کردی ہیں :پینٹاگان نے سب کچھ بتادیا

    یوکرین میں روس نے ساری افواج داخل کردی ہیں :پینٹاگان نے سب کچھ بتادیا

    واشنگٹن :یوکرین میں روس نے ساری افواج داخل کردی ہیں :پینٹاگان کا انکشاف ،اطلاعات کے مطابق امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں یوکرین کی سرحد پر اکٹھا ہونیوالی تمام روسی فوج یوکرین میں داخل ہو چکی ہے۔

    پیٹاگان کے ترجمان جان کیربی نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں روسی افواج یوکرین میں کوئی قابل ذکر پیش قدمی نہیں کرسکی ہیں سوائے ملک کے جنوبی حصے کے ان علاقوں کے جن پر روس قابض ہوچکا ہے۔یوکرین کے کئی شہروں پر شدید بمباری کی جارہی ہے اور شہری مقامات اور رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے یوکرین پر زمینی افواج کے ذریعے بھرپور حملہ خارج از امکان نہیں ہے البتہ اس وقت اس نوعیت کے حملے کے اشارے نہیں ملے ہیں۔

    جان کیربی نے یاد دلایا کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے ہفتے کے اواخر میں یورپ کے مختلف حصوں میں 500 امریکی فوجی تعینات کیے جانے کے احکامات دیے تھے جس کا مقصد یورپ میں تعینات فوجیوں کو تقویت پہنچانا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز کے بعد سے اب تک امریکا اپنے 12 ہزار فوجی یورپ میں تعینات کرچکا ہے اور یہ تعداد مذکورہ براعظم میں عمومی طور پر تعینات فوجیوں کے علاوہ ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ روسی حملے کا مقابلہ کرنے کیلیے اسے مزید عسکری سپورٹ فراہم کی جائے۔ البتہ امریکا سمیت دیگر مغربی ممالک یوکرین کو بھیجی گئی تمام عسکری امداد اور کمک کے باوجود براہ راست یوکرین روس تنازع میں کودنے سے گریز کررہے ہیں۔ ان ممالک کو اندیشہ ہے کہ ایسا کرنے سے تیسری عالمی جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے اور مغربی حکام گزشتہ دنوں اس امر سے متنبہ بھی کرچکے ہیں۔

    یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں ماسکو اور مغربی ممالک بالخصوص یورپ کے درمیان غیرمعمولی تناؤ پیدا ہوا ہے ان ممالک نے روس کے خلاف 5530 پابندیاں عائد کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

    ان پابندیوں کا ہدف روسی بینکوں کے علاوہ تجارتی ادارے، سیاستدان اور بڑے دولتمند افراد شامل ہیں، حتٰی کہ خود روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ان کے وزیر خارجہ اور کریملن کے ترجمان بھی ان پابندیوں کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔