Baaghi TV

Tag: پینٹاگون

  • امریکا میں اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں پر تشویش

    امریکا میں اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں پر تشویش

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے انٹیلیجنس ادارے نے اسرائیلی جاسوسی سرگرمیوں سے لاحق خطرے کی درجہ بندی بڑھا کر ’کریٹیکل‘ یعنی بلند ترین سطح پر کر دی ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز اور اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی نے حالیہ ہفتوں میں ایک داخلی جائزہ رپورٹ تیار کی ہے جس میں اسرائیل کی انسانی اور تکنیکی جاسوسی صلاحیتوں کو ’کریٹیکل‘ قرار دیا گیا ہےیہ جائزہ 7 صفحات پر مشتمل دستاویز اور ایک تفصیلی چارٹ پر مبنی ہے، جس میں امریکی حکام کے خلاف ممکنہ انٹیلیجنس سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے،یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور لبنان کے معاملات پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات اور کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی انسدادِ جاسوسی حکام اسرائیلی سرگرمیوں پر بڑھتی ہوئی تشویش رکھتے ہیں، خصوصاً ان کوششوں پر جو ایران اور لبنان کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی سازی اور اندرونی مشاورت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں، بعض اعلیٰ امریکی عہدیداروں کو بھی ممکنہ نگرانی کے اہداف میں شامل قرار دیا گیا ہے۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں کی شدت غیر معمولی رہی ہے اگرچہ اتحادی ممالک کے درمیان محدود پیمانے پر جاسوسی کوئی غیر معمولی بات نہیں، تاہم حالیہ سرگرمیاں معمول کی سفارتی حدود سے آگے جاتی دکھائی دیتی ہیں۔

    دوسری جانب پینٹاگون نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے این بی سی نیوز سے گفتگو میں رپورٹ کو مکمل طور پر غلط قرار دیا، واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے بھی ان دعوؤں کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں کا رخ اس کے دشمنوں کی جانب ہوتا ہے، اتحادیوں کی جانب نہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک غیر معمولی پیشرفت ہوگی، کیونکہ دونوں ممالک طویل عرصے سے قریبی دفاعی اور انٹیلیجنس شراکت دار سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر ان دعوؤں کی تصدیق نہ ہونے کے باعث معاملہ تاحال میڈیا رپورٹس اور غیر مصدقہ ذرائع تک محدود ہے۔

  • صحافیوں کی پینٹاگون میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی

    صحافیوں کی پینٹاگون میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی

    امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنے پریس آفس کو حساس اور خفیہ مقام قرار دیتے ہوئے صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون نے حالیہ ہفتوں میں اپنے پریس آفس کی سیکیورٹی حیثیت تبدیل کر دی ہے، جس کے بعد صحافیوں کا اس دفتر میں داخلہ مکمل طور پر بند ہو گیا ہےاس فیصلے کے بعد میڈیا نمائندے امریکی فوج کے معاملات پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے والے افسران تک براہِ راست رسائی سے محروم ہو جائیں گے ،ماضی میں یہ دفتر ایک کھلی جگہ تصور کیا جاتا تھا جہاں صحافی آزادانہ طور پر جا سکتے تھے، فوجی ترجمانوں سے ملاقات کر سکتے تھے اور مختلف حکام سے غیر رسمی گفتگو بھی ممکن تھی. تاہم اس نئے فیصلے کے بعد صحافیوں کا اس علاقے میں داخلہ ممنوع ہوگا۔

    پینٹاگون کے قائم مقام پریس سیکریٹری جوئل والڈیز کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ اسی دفتر میں تعینات اسپیچ رائٹرز خفیہ معلومات تک رسائی رکھتے ہیں اور ان اہلکاروں کو خفیہ نوعیت کے مواد تک رسائی درکار ہوتی ہے، جس کے لیے خصوصی محفوظ کمپیوٹر نیٹ ورک استعمال کیا جاتا ہے اسی وجہ سے دفتر کو حساس نوعیت کا علاقہ قرار دیا گیا ہے، جہاں سیکیورٹی قواعد کے تحت عام افراد یا صحافی داخل نہیں ہو سکتے اور عوامی امور کے دفتر اور پر یس سیکریٹری سے ملاقات پیشگی وقت لینے کے بعد ممکن ہوگی۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پینٹاگون اور صحافیوں کے درمیان پینٹاگون میں دفاتر اور رسائی کے معاملات پر کئی ماہ سے رسہ کشی جاری ہےروایتی طور پر صحافیوں کو پینٹاگون کے غیر خفیہ حصوں تک رسائی حاصل رہی ہے، جہاں وہ ذرائع سے ملاقات اور بریفنگز میں شرکت کرتے تھے تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دور میں میڈیا کے لیے قواعد سخت کر دیے گئے ہیں۔

    نئے ضوابط کے تحت صحافیوں کے لیے عمارت کے اندر نقل و حرکت کے دوران سرکاری اہلکار کی نگرانی کی شرط بھی عائد کی گئی ہے، جس کے خلاف نیویارک ٹائمز نے الگ قانونی مقدمہ دائر کر رکھا ہے، اس مقدمے کی سماعت تاحال جاری ہے تجزیہ کاروں کے مطابق پریس آفس کو خفیہ علاقہ قرار دینے سے صحافیوں اور پینٹاگون کے ترجمانوں کے درمیان روزمرہ رابطے مزید محدود ہو جائیں گے۔

    گزشتہ اکتوبر میں سینکڑوں صحافیوں نے پینٹاگون کی نئی میڈیا پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے اپنی صحافتی اسناد واپس کر دی تھیں اس پالیسی میں صحافیوں سے یہ وعدہ لینے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جن کی اشاعت کی سرکاری طور پر اجازت نہ ہوبعد ازاں مارچ میں ایک وفاقی جج نے نیویارک ٹائمز کی درخواست پر اس متنازع پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا تھا تاہم امریکی حکومت نےاس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔

    امریکا کی بڑی صحافتی تنظیم نیشنل پریس کلب نے اس اقدام کو تشویش ناک قرار دیا ہےتنظیم کے صدر مارک شوف جونیئر کے مطابق، امریکی عوام کو فوج کے بارے میں مکمل اور آزاد معلومات ملنا ضروری ہے، اور ایسے اقدامات سے شفاف رپورٹنگ متاثر ہوتی ہے،پینٹاگون کا یہ تازہ فیصلہ امریکی فوج اور میڈیا کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات فوجی امور کی رپورٹنگ اور عوامی شفافیت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • پینٹاگون کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ سمیت  سینئر فوجی کمانڈرز برطرف

    پینٹاگون کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ سمیت سینئر فوجی کمانڈرز برطرف

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ اور دو دیگر سینئر فوجی افسران کو عہدے سے برطرف کردیا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع نے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز کو اعتماد کھو دینے کے سبب عہدے سے ہٹایا ہے،اپریل میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیر دفاع کے قریبی حلقوں میں اختیارات کی جنگ کے سبب پینٹاگون ہلچل اور افراتفری کا شکار ہے،وزیر دفاع نے ایسے افراد کو مشیر بنایا ہے جو ایک دوسرے کے حریف بن گئے ہیں جس کی وجہ سے ماحول کشیدہ ہے اور لوگوں کو غیر متوقع طور پر نوکریوں سے نکالا جارہا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق یہ ٹرمپ انتظامیہ کی پینٹاگون میں اعلیٰ عہدیداروں کی برطرفیوں کی تازہ ترین کارروائی ہے، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جنرل جیفری کروز کو برطرف کیوں کیا گیاایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جیفری کروز کے علاوہ یو ایس نیول ریزرو کے چیف اور نیول اسپیشل وارفیئر کمانڈ کے کمانڈر کو بھی برطرف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں امن ،استحکام ،خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئے پُرعزم ہیں،فیلڈ مارشل

    ژوب اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    امریکی سینیٹر مارک وارنر نے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے ایک اور سینئر اہلکار کی برطرفی ٹرمپ انتظامیہ کی اس خطرناک روش کو ظاہر کرتی ہے جس میں انٹیلی جنس کو ملک کے تحفظ کے بجائے وفاداری کے پیمانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہو۔

    یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہے، جس کے تحت وہ ان موجودہ اور سابق فوجی، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو سزا دے رہے ہیں جن کے نظریات یا رپورٹس ان کے مؤقف سے متصادم سمجھے جاتے ہیں۔

    رواں برس ٹرمپ نے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (NSA) کے ڈائریکٹر جنرل ٹموتھی ہاف کو ان کے عہدے سے برطرف کیا تھا، جو وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکیورٹی کونسل میں درجنوں افراد کی برطرفیوں کا حصہ تھاامریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اس سے قبل بھی پینٹاگون میں امریکی فوجی افسران کو ہدف بنا چکے ہیں۔

    فروری میں انہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایئر فورس جنرل سی کیو براون کو پانچ دیگر ایڈمرلز اور جنرلز کے ساتھ برطرف کیا جو امریکی فوجی قیادت میں ایک غیر معمولی تبدیلی تھیاس کے علاوہ رواں ہفتے امریکی ایئر فورس کے چیف نے اپنی مدتِ ملازمت کے درمیان ہی ریٹائرمنٹ کا اچانک اعلان کیا۔

    کھیت میں داخل ہونے پر گدھے کی ٹانگ کاٹ دی،سخت غم و غصہ

    اگرچہ یہ واضح نہیں کہ جنرل جیفری کروز کو کیوں ہٹایا گیا، لیکن یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) کی ایک ابتدائی رپورٹ میڈیا میں لیک ہوئی، جس میں کہا گیا تھا کہ 22 جون کو ایران کے تین نیوکلیئر مراکز پر امریکی فضائی حملوں سے تہران کے پروگرام کو صرف چند مہینے کی تاخیر ہوئی ہے جو صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی نفی تھی کہ اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہےاس رپورٹ کے لیک ہونے پر صدر ٹرمپ ناراض ہو گئے تھے،وائٹ ہاؤس نے اس خفیہ رپورٹ کو بالکل غلط قرار دیا تھا، جبکہ ٹرمپ نے سی این این، نیو یارک ٹائمز اور دیگر میڈیا اداروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں فضول لوگ اور فیک نیوز قرار دیا تھا-

  • افغانستان سے امریکی فوجی انخلا اور کابل ایئرپورٹ دھماکے کی نئی تحقیقات کا حکم

    افغانستان سے امریکی فوجی انخلا اور کابل ایئرپورٹ دھماکے کی نئی تحقیقات کا حکم

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے 2021 میں افغانستان سے ہونے والے امریکی فوجی انخلا اور کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے خودکش دھماکے کی نئی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جس میں امریکی فوجیوں اور افغان شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیگسیتھ نے بارہا بائیڈن انتظامیہ پر اس انخلا کی شدید تنقید کی ہےجسے ہیگسیتھ نے منگل کو ’’تباہ کن اور شرمناک ‘‘ قرار دیا انہوں نے کہا کہ نئی تحقیق میں گواہوں کے انٹرویوز کیے جائیں گے، فیصلہ سازی کا جائزہ لیا جائے گا اور ’’سچائی سامنے لائی جائے گی‘‘۔

    پینٹاگون، یو ایس سینٹرل کمانڈ، محکمہ خارجہ اور کانگریس کی جانب سے اس انخلا کے متعدد جائزے پہلے ہی کیے جاچکے ہیں، جن میں سینکڑوں انٹرویوز اور ویڈیوز، تصاویر اور دیگر ڈیٹا کا تجزیہ شامل تھا یہ واضح نہیں کہ نئی تحقیق کون سی نئی مخصوص معلومات حاصل کرنا چاہتی ہےپینٹاگون کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر 13امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور اربوں ڈالر کے ہتھیاروں سے محرومی کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔

    پاک بنگلادیش سیریز: نظرثانی شدہ شیڈول کا اعلان ہوگیا

    افغانستان سے انخلا کے آخری دنوں میں ایبی گیٹ پر ہونے والے دھماکے میں 13 امریکی فوجیوں اور 170 افغان شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی، جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے اس واقعے نے وسیع پیمانے پر بحث و تنقید کو جنم دیا تھا، جس میں کابل سے نکلنے کے لیے ایئرپور ٹ پر امڈتے ہوئےمایوس افغان شہریوں کی دل دہلا دینے والی تصاویر نے مزید شدت پیدا کی تھی۔ کچھ افغان تو امریکی فوجی طیاروں سے چمٹ گئے تھے جبکہ وہ اڑان بھر رہے تھے۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بیجز لگانے کی تقریب ملتوی

    2023 میں ایک تفصیلی امریکی فوجی جائزہ کا حکم دیا گیا تھا تاکہ انٹرویوز کیے جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے، بعد ازاں دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک میرین نے بتایا تھا کہ اسنائپرز نے ممکنہ بمبار کو دیکھا تھا لیکن اسے نشانہ بنانے کی اجازت نہیں مل سکی تھی-

  • ٹرمپ کے غیر قانونی احکامات پر کس طرح ردعمل دینا ہے،پینٹاگون حکام نے سر جوڑ لئے

    ٹرمپ کے غیر قانونی احکامات پر کس طرح ردعمل دینا ہے،پینٹاگون حکام نے سر جوڑ لئے

    واشنگٹن: امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے حکام اس بارے میں غیر رسمی بات چیت کر رہے ہیں کہ اگر نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوئی متنازع حکم جاری کرتے ہیں تو کس طرح کا ردعمل دینا ہے، جیسا کہ فوج کو مقامی طور پر تعینات کرنا ہے تو کیا کرنا ہے وہ اس امکان کے لیے بھی تیاری کر رہے ہیں کہ وہ کئی کیریئر سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے کے لیے قواعد میں تبدیلی کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی نشریاتی ادارے دی گارڈین نے سی این این کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ارادے کا اظہار کیا تھا کہ وہ فعال فورسز کو مقامی قوانین کی پاسداری اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو ملک بدر کرنے کے لیے استعمال کریں گے اور انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ وہ وفاقی حکومت میں وفاداروں کی فراوانی سے امریکی اسٹیبلشمنٹ سے کرپٹ عناصر کا صفایا کریں گے۔

    رپورٹ کے مطابق کے مطابق پہلے دور صدارت میں ٹرمپ کے اعلیٰ ملٹری آفیشلز سے تعلقات اچھے نہیں رہے تھے اور جنرل ریٹائرڈ مارک ملے جو اس وقت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف تھے، نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی طاقت کو محدود کر دیا تھا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی آرمی جنرلز کو کمزور اور بیکار لیڈرز قرار دیتے رہے ہیں۔

    انتخابی مہم کے دوران، ٹرمپ نے اپنے سیاسی دشمنوں کے بعد فوج بھیجنے اور جنوبی سرحد پر تارکین وطن کو واپس بھیجنے پر غور کیا ہے۔ امریکی قانون عام طور پر فعال ڈیوٹی والے فوجیوں کو قانون نافذ کرنے والے مقاصد کے لیے تعینات کرنے سے منع کرتا ہے۔ یہ خدشہ بھی ہے کہ وہ پینٹاگون میں سول سروس کو ختم کر سکتا ہے، اور برطرف عملے کی جگہ اپنے وفادار اور قریبی ساتھیوں کو عہدے دے سکتا ہے-

    امریکی وزارت دفاع کے حکام پینٹاگون کی اوور ہالنگ کی تیاریوں کے ساتھ اب مختلف قسم کی صورتحال پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں، اس حوالے سے امریکی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہم بدترین قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاہم ابھی ہمیں نہیں معلوم کہ ہم نے یہ کیسے کرنا ہے۔

    ایک اور ڈیفنس آفیشل کا کہنا ہے کہ فوجی، قانون کے تحت مجبور ہیں کہ وہ غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کر دیں، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ یہ کس طرح سے ہو گا، کیا ہم سینئر ملٹری لیڈر شپ کے استعفے دیکھیں گے یا پھر وہ اپنے لوگوں کو چھوڑ دیں گے۔

    ٹرمپ کے گزشتہ دور حکومت میں وزارت دفاع سے تعلق رکھنے والے ایک سابق عہدیدار کا کہنا ہے ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ٹرمپ کسے پینٹاگون کا چیف مقرر کریں گے تاہم حکام پرامید ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ملٹری انتظامیہ سے مخالفانہ رویہ اختیار کرنے سے گریز کریں گے ٹرمپ کے گزشتہ دور حکومت میں وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کا تعلق انتہائی برا تھا اس لیے اس بار سب کے ذہنوں میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ ٹرمپ وزارت دفاع میں کسے لاتے ہیں۔

    امریکا کے سیکرٹری دفاع لائیڈ آسٹن کا اس حوالے سے کہنا ہے میں اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے لیڈرز جو درست ہوگا وہ کرتے رہیں گے، میں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ ہماری کانگریس فوج کی حمایت جاری رکھے گی۔

  • ہم نے کسی ٹینکر پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا، ایران نے پینٹاگون کا الزام مسترد کر دیا

    ہم نے کسی ٹینکر پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا، ایران نے پینٹاگون کا الزام مسترد کر دیا

    بحر ہند میں کیمیائی مواد سے بھرے ٹینکر پر ڈرون حملہ ہوا تھا جس کا الزام امریکا نے ایران پر عائد کیا تھا-

    باغی ٹی وی: امریکی امور دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ بحر ہند میں دوران سفر ایک کیمیائی مواد سے بھرے ٹینکر پر ایران سے ڈرون حملے کی کوشش کی گئی ہے کہا گیا تھا کہ یہ حملہ ایران کی طرف سے ڈرون کے ذریعے کیا گیا ہے جس میں فی الوقت کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہِیں ملی ہے، سینٹ کام ٹینکر سے مسلسل رابطے میں ہے جو بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی کوشش میں ہے-

    پینٹاگون کے مطابق ، لیبیائی پرچم بردار جاپانی اور ولندیزی کمپنی کے حامل شیم پلوٹو نامی اس ٹینکر پر آج صبح بحر ہند میں ساحل سے 370 کلومیٹر دور ڈرون حملے کی کوشش کی گئی ۔

    چین اور روس نے دوطرفہ تجارت میں امریکی ڈالر کو مکمل طور …

    سینٹ حکام کا کہنا ہے کہ سال 2021 سے اب تک ایران نے تجارتی بحری جہازوں پر سات بار حملے کیے ہیں اس ٹینکر پر حملے ی کی ایران نے تردید کی ہے جو سعودی عرب سے بھارت جا رہا تھا ،ایرانی حکام نے کہا کہ ایران کی جانب سے کسی ٹینکر پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا گیا-

    دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ایندھن اور دیگر مصنوعات کی فراہمی کو روکیں، تہران میں خوزستان اور کرمان صوبوں کے عوام سے ملاقات کے دوران آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ مسلم ممالک کو اپنی حکومتوں سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اسرائیل کی امداد بند کریں اور اس کے ساتھ تعلقات منقطع کریں۔

    یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز ایک ڈرون حملے میں مبینہ طور پر بھارت کے ساحل کے قریب ایک بحری جہاز کو نقصان پہنچا ، جبکہ امریکا نے جمعہ کے روز الزام عائد کیا تھا کہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ایران ملوث رہا ہے، جس سے عالمی جہاز رانی میں خلل پڑا ہے۔

    سال 2024 میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے امکانات ،ورلڈ گولڈ کونسل

    ایران کے سپریم لیڈر نے غزہ جنگ کے تناظر میں مزید کہا کہ امریکا بے شرمی سے جنگ بندی کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو کر رہا ہے اور مغربی تہذیب کا چہرہ بے نقاب کر رہا ہے،اسرائیل ایک دن زمین سے مٹا دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ انشا اللہ یہ وعدہ مستقبل کے یقین میں سے ایک ہے نوجوانوں، اس دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے، خدا کی مدد اور طاقت کے ساتھ اور خدا کی اجازت اور جلال کےساتھ، یہ ہو جائے گا، اور انشا اللہ، مجھے امید ہے کہ آپ نوجوان اس دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے فلسطینی قوم کی سب سے بڑی فتح یہ ہے کہ انہوں نے مغرب اور امریکا کو بدنام کیا اور انسانی حقوق کے ان کے جھوٹے دعوؤں کو دنیا کے سامنے اشکار کیا۔

    واضح رہے کہ زیر محاصرہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے آغاز سے اب تک ایرانی نواز حوثیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے ۔

    انڈونیشیا نکل پروسیسنگ پلانٹ میں دھماکہ،13 افراد ہلاک،39 زخمی

  • امریکی وزیر دفاع کا  آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ٹیلی فونک رابطہ

    امریکی وزیر دفاع کا آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ٹیلی فونک رابطہ

    واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع لائیڈ جے آسٹن ہوم نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : اس ٹیلی فون کال کا اعلان امریکی محکمہ دفاع نے کیا جو پاکستان کی جانب سےغیر قانونی طور پرمقیم تمام غیرملکیوں کو ملک بدر کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کیے جانے کے فورا بعد سامنے آیا، گزشتہ روز 3 اکتوبر کو نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑکی زیرصدارت مایپکس کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے تھے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں نگراں وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے اعلان کیا تھا کہ یکم نومبر کے بعد غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو ملک بدر کریں گے، یکم نومبر کے بعد کوئی بھی بغیر ویزہ اور پاسپورٹ ملک میں داخل نہیں ہوگا غیرقانونی طور پر مقیم افراد جائیدادیں فوری بیچ دیں، اب پیپر تذکیرہ نہیں چلے گا صرف ای تذکیرہ اور پاسپورٹ پر داخلہ ممکن ہوگا یکم نومبر کے بعد جو بھی آئے وہ ویزہ لے کر پاکستان آئے۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں ہاؤس اسپیکر کیون مک کارتھی کو عہدے سے ہٹا دیا

    تاہم اب پینٹاگون کے پریس سیکریٹری بریگیڈیئر جنرل پیٹ رائیڈر نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر دفاع لائیڈ جے آسٹن نے منگل کو پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر سے فون پر بات چیت کی، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور امریکی وزیر دفاع آسٹن اور جنرل منیر نے باہمی دلچسپی کے شعبوں کے ساتھ ساتھ حالیہ علاقائی پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    دوسری جانب اس حوالے سے پاکستانی فوج کے میڈیا ونگ پاکستان انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے ۔

    فزکس کا نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنسدانوں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا

    واضح رہے کہ 10 اکتوبر سے افغان شہریوں کیلئے ڈیجٹائزڈ ای تذکیرہ نافذ کیا جا رہا ہے جو 31 اکتوبر تک نافذ رہے گا اس کے بعد افغان باشندوں کو پاکستان میں داخلے کے لیے باقاعدہ ویزا لینا ہوگا۔

  • روس کا یوکرینی شہر کراماٹوسک میں ریسٹورنٹ پر میزائل حملہ

    روس کا یوکرینی شہر کراماٹوسک میں ریسٹورنٹ پر میزائل حملہ

    روس نے یوکرین کے شہر کراماٹوسک میں واقع ریسٹورنٹ پر میزائل داغ دیا-

    باغی ٹی وی :برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے یوکرین کے شہر کراماٹوسک میں واقع ریسٹورنٹ پر میزائل داغ دیاروس نے یوکرین کے مشرقی شہر کراماٹوسک میں میزائل برسائے جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    انتظامیہ کے مطابق منگل کو روس نے یوکرین کے شاپنگ سینٹر اور ریسٹورنٹ کو نشانہ بنایا اور میزائل داغے، جس علاقے میں میزائل سے حملہ کیا گیا وہ یوکرین کے قبضے میں ہے لیکن ان علاقوں سے قریب ہے جہاں اب روس نے قبضہ جمایا ہوا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جنہیں بچانے کیلئے ریسکیو عمل جاری ہے جبکہ عینی شاہدین نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ انہوں نے لوگوں کو مردہ حالت میں دیکھا جبکہ لوگوں کو چیختے اور مدد کو پکارتے بھی دیکھا ہے،دھماکے کے مرکز میں رہائشی عمارتیں بھی تھیں۔

    یونان:دائیں بازو کی جماعت کی انتخابات میں کامیابی،پناہ گزینوں کیخلاف پالیسیاں مزید سخت کرنے کا فیصلہ

    دوسری جانب امریکا نے یوکرین کو نصف ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے منگل کے روز پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 50 کروڑ ڈالر مالیت کے اس پیکج میں یوکرین کی جوابی کارروائیوں میں مدد دینے اس کے عوام کی حفاظت کے لیے دفاعی نظام اور اس کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اضافی بکتر بند گاڑیاں، اینٹی آرمر سسٹم، اہم گولہ بارود اور دیگر سازوسامان شامل ہے تاکہ یوکرین کو روس کی مسلط کردہ جارحانہ جنگ کو پسپا کرنے میں مدد مل سکے۔

    واشنگٹن یوکرین میں نصب پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم اور ہائی موبیلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم (ہیمارس) کے لیے مزید گولہ بارود مہیا کرے گا۔اس کے علاوہ اضافی اسٹنگر طیارہ شکن نظام اور جیولن اینٹی آرمر سسٹم دینے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔

    فرانس:پولیس نے نوجوان کو گرلی مار کر ہلاک کر دیا

    امریکا کی جانب سے یوکرین کے لیے نئے پیکج میں 30 بریڈلی انفنٹری فائٹنگ گاڑیاں اور 25 اسٹرائیکر بکتر بند گاڑیاں شامل ہوں گی۔ہتھیاروں اور سازوسامان کی مکمل فہرست میں پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کے لیے اضافی گولہ بارود، اسٹنگر طیارہ شکن نظام، ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم (ہیمارس ،ایچ آئی ایم اے آر ایس) کے لیے اضافی گولہ بارود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے گولہ بارود اور نظام، بارو دی سرنگیں صاف کرنے کا سامان شامل ہیں –

    سعودی ولی عہد نے حج خدمات کے جائزہ لینے کے لیے منیٰ پہنچ گئے

    علاوہ ازین پیکج میں 155ملی میٹر اور 105 ملی میٹر توپ خانے کے گولے، 30 بریڈلے انفنٹری لڑاکا گاڑیاں، 25 اسٹرائیکر بکتربند عملہ بردار گاڑیاں، ٹیوب لانچ، آپٹیکل ٹریکڈ، وائر گائیڈڈ (ٹی او ڈبلیو) میزائل، جیولن اینٹی آرمر سسٹم، اے ٹی -4 اینٹی آرمر سسٹم، اینٹی آرمر راکٹ، تیز رفتار اینٹی ریڈی ایشن میزائل (ایچ اے آر ایم)، ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے والا فضائی گولہ بارود، چھوٹے ہتھیار اور ان کا گولہ بارود اور دستی بموں کے دوکروڑ 20 لاکھ سے زیادہ گولے، تھرمل امیجری سسٹم اور رات کو دیکھنے والے آلات (نائٹ ویژن ڈیوائسز)، گاڑیوں کی دیکھ بھال اور مرمت میں معاون ٹیسٹنگ نظام اور تشخیصی سامان، فاضل پرزہ جات، جنریٹرز، اورمیدان جنگ کا دیگر سامان شامل ہے-

    موبائل فون کی لت، 13 سالہ لڑکی نے گھر والوں کو قتل کرنے کی …

  • امریکا کا یوکرین کیلئے30 کروڑ ڈالر کے نئے اسلحہ پیکج کا اعلان

    امریکا کا یوکرین کیلئے30 کروڑ ڈالر کے نئے اسلحہ پیکج کا اعلان

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے یوکرین کے لیے 30 کروڑ ڈالر کے نئے اسلحہ پیکج کا اعلان کر دیا تاہم ساتھ ہی کیف کو خبردار کیا ہے کہ امریکی ہتھیاروں کو روس کے اندر حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اسلحہ پیکج میں ائیرڈیفنس سسٹم اور ایمونیشن شامل ہے اس کے علاوہ پیکج میں پٹر یاٹ ائیر ڈیفنس سسٹمز، اے آئی ایم 7 ائیر ڈیفنس میزائل، ایونجر ائیر ڈیفنس سسٹمز اور اسٹرنگر اینٹی ائیر کرافٹ میزائل کے لیے ایمونیشن شامل ہے جب کہ ہائی موبیلٹی آرٹیلری راکٹ سسٹمز، 155 ایم ایم اور 105 ایم ایم آرٹیلری راؤنڈز، 105 ایم ایم ٹینک ایمونیشن اور زونی ائیر کرافٹ راکٹ بھی پیکج کا حصہ ہیں۔

    امریکا دیوالیہ ہونے سے بچ گیا

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ روسی حملے کے بعد یوکرین کو 37.6 ارب ڈالر کی امریکی سکیورٹی امداد دی گئی ہے ، امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ کام جاری رکھے گا یوکرین کی فوری اور طویل مدتی جنگی ضروریات پوری کی جائیں گی اور یوکرین کی مشرقی اور جنوبی علاقوں سے روسی فوج کو نکالنے کی تیاریاں جاری ہے۔

    قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ ہم نجی طور پر یوکرائنیوں کے ساتھ بہت واضح رہے ہیں – ہم یقینی طور پر عوامی طور پر واضح رہے ہیں کہ ہم روس کے اندر حملوں کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ ہم فعال نہیں ہیں اور ہم روس کے اندر حملوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے ہیں۔

    شادی کی تقریب میں بھائی نے اپنے ہی بھائی کو چاقو گھونپ دیا

    پینٹاگون نے ایک بیان میں کہاکہ امریکہ اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر یوکرین کو اس کی فوری میدان جنگ کی ضروریات اور طویل مدتی سیکیورٹی امداد کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت فراہم کرنے کے لیے کام جاری رکھے گا۔”

    امریکہ نیٹو اور دیگر اتحادی ممالک کی جانب سے یوکرین کو ہتھیار اور دیگر امداد فراہم کرنے کی ایک بے مثال کوشش کی قیادت کر رہا ہے اسلحے کی تازہ ترین کھیپ اس وقت سامنے آئی ہے جب یوکرین ایک جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے جس کا مقصد روسی افواج کو ملک کے مشرقی اور جنوب میں مقبوضہ علاقوں سے واپس بھگانا ہے۔

    سعودی خلابازوں کا مشن مکمل،10 دن بعد زمین پر واپس پہنچ گئے

  • پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے انتہائی حساس امریکی دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کے لیے انتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: حال ہی میں کئی بڑے امریکی رازوں پر مشتمل خفیہ دستاویزات کی ایک تازہ کھیپ سوشل میڈیا پر لیک کردی گئی ان دستاویزات میں یوکرین اور مشرق وسطیٰ سے لے کر چین تک امریکی قومی سلامتی کے رازوں کی تفصیل بتائی گئی ہے۔

    دنیا کے امیر ترین لوگوں کی آرٹیفشل انٹیلیجنس کی مدد سے بنائی گئی تصاویر وائرل

    انتہائی حساس امریکی دستاویزات سامنے آنے پر ترجمان پینٹاگون کرس میگر نے کہا ہے کہ دستاویزات میں موجود معلومات سے لوگوں کی جانیں جاسکتی ہیں،ڈیفنس سیکرٹری لائیڈ آسٹن کو ان دستاویزات سے متعلق 6 اپریل کو بریف کیا گیا۔

    ترجمان پینٹاگون کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کی ٹیم پرکھ رہی ہے کہ دستاویزات اصل ہیں یا نہیں جبکہ محکمہ انصاف دیکھ رہا ہے کہ دستاویزات لیک کیسے ہو گئیں؟-
    https://twitter.com/THEEURASIATIMES/status/1644309728322019328?s=20
    واضح رہے کہ جمعے کو سوشل میڈیا سائٹس پر گردش کرنے والی ان خفیہ دستاویزات نے پینٹاگون کو خطرے میں ڈال دیا اور وائٹ ہاؤس میں ہنگامی صورتِ حال پیدا کرتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ کو چوکنا کردیا ہے۔

    آئر لینڈ کے ڈبلن ائیرپورٹ پرغیرمتوازن لینڈنگ کے دوران پرواز کو حادثہ،رن وے بند

    امریکی خبر رساں ادارے نیویارک ٹائمز کے مطابق لیک ہونے والی دستاویزات کی تعداد 100 سے زیادہ ہے، اور یہ دستاویزات حساسیت کے باعث بہت زیادہ نقصان دہ ہوسکتے ہیں ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار نے امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا کے حوالے سے اس لیک کو ”ایک ڈراؤنا خواب“ قرار دیا ہے یہ پانچوں ممالک ”فائیو آئیز“ کے نام سے وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس کا اشتراک کرتے ہیں۔

    تازہ ترین دستاویزات جمعہ کو ٹوئٹر اور دیگر سائٹس پر پائی گئیں، جس کے ایک دن بعد بائیڈن انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں نے اعترافاً کہا کہ وہ خفیہ یوکرینی جنگی منصوبوں کے ممکنہ لیک ہونے کی تحقیقات کر رہے ہیں ان دستاویزات میں یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کی کمزوری کا تشویش ناک جائزہ بھی شامل ہے مورخہ 23 فروری کی ایک سلائیڈ پر ”خفیہ/نوفورن“ کا لیبل لگا ہوا ہے، یعنی اس کا مقصد غیر ممالک کے ساتھ ہرگز اشتراک کرنا نہیں تھا-

    امریکی منصوبے میں روس پر حملے کے لیے یوکرین کو مسلح کرنے سے متعلق معلومات شامل تھیں، جنگی منصوبے میں یوکرینیوں کی غیرمعمولی اموات کا ذکر کیا گیا ان دستاویزات میں دعویٰ کیاگیا کہ جنگ میں اب تک 71 ہزار 500 یوکرینی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ جنگ میں 16ہزار سے17ہزار روسی فوجی ہلاک ہوئے یوکرین کی 12 میں سے 9 بریگیڈ امریکا نے مسلح کیں۔

    امریکا میں خرگوش پولیس افسر بن گیا

    پینٹاگون کے ایک سابق سینئر اہلکار مک ملروئے نے کہا کہ خفیہ دستاویزات کا لیک ہونا ”سیکیورٹی میں ایک اہم بریچ“ کا انکشاف کرتا ہے جو یوکرین کی فوجی منصوبہ بندی میں رکاوٹ بن سکتا ہےان میں سے بہت سی دستاویزات تصاویر کی شکل میں تھیں، اور ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی نے جان بوجھ کر لیک کی ہیں جو یوکرین، امریکہ اور نیٹو کی کوششوں کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔“

    ایک تجزیہ کار نے نیو یارک کو بیان میں کہا کہ اب تک جو کچھ ابھر کر سامنے آیا ہے وہ تو بس دیگ کا ایک چاول ہے۔

    ابھی تحقیقات جاری ہی تھیں کہ ایک گمنام فرینج میسج بورڈ 4Chan پر ایک نقشہ جاری کیا گیا جو مشرقی یوکرین کے شہر باخموت میں جنگ کی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے، اور ایک مہینوں تک جاری رہنےوالی شدید لڑائی کا منظر ہےلیکن افشا ہونے والی دستاویزات یوکرین کے جنگی منصوبوں کے حوالے سے انتہائی خفیہ مواد سے کہیں زیادہ ہیں۔

    سوشل میڈیا سائٹس پر گردش کرنے والی دستاویزات کا جائزہ لینے والے سیکیورٹی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ لیکس کی ان بڑھتی ہوئی تعداد میں چین، انڈو پیسیفک ملٹری تھیٹر، مشرق وسطیٰ اور دہشت گردی پر حساس بریفنگ سلائیڈز بھی شامل ہیں۔

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

    پینٹاگون نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ محکمہ دفاع اس معاملے کو دیکھ رہا ہے یوکرین کی فوج سے متعلق دستاویزات متوقع ہتھیاروں کی ترسیل، فوج اور بٹالین کی طاقت اور دیگر منصوبوں کے چارٹ کی تصاویر کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔

    پینٹاگون کے حکام تسلیم کرتے ہیں کہ یہ محکمہ دفاع کی قانونی دستاویزات ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ کاپیوں کے کچھ حصوں میں تبدیلی کی گئی ہے ترمیم شدہ ورژن میں، مثال کے طور پر یوکرینی جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی تخمینوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے اور ہلاک ہونے والے روسی فوجیوں کے تخمینے کو کم ظاہر کیا گیا ہے۔

    جمعہ کو یوکرینی حکام اور جنگ کے حامی روسی بلاگرز نے تجویز پیش کی تھی کہ یہ لیک دوسری طرف سے غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کا حصہ ہے، جس کا وقت ملک کے مشرق اور جنوب میں علاقے پر دوبارہ دعویٰ کرنے کے لیے یوکرین کے موسم بہار کے ممکنہ حملے کو متاثر کرنے کے لیے ہے۔

    برطانیہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات منقطع ہوگئے

    یوکرین کے ایک سینئر اہلکار نے کہا تھا کہ یہ لیک ایک جوابی کارروائی کو بدنام کرنے کے لیے روسی چال معلوم ہوتی ہےبند دروازوں کے پیچھے، پریشان قومی سلامتی کے اہلکار مجرم کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ایک اہلکار نے بتایا تھا کہ امکان ہے یہ دستاویزات یوکرینی حکام کی طرف سے نہ آئی ہوں، کیونکہ ان کے پاس مخصوص منصوبوں تک رسائی نہیں تھی،جن پر پینٹاگون کےجوائنٹ اسٹاف کےدفاتر کےنقوش ہیں ایک دوسرے اہلکارنےکہاتھا کہ اس بات کاتعین کرنا کہ دستاویزات کس طرح لیک ہوئیں اس بات کی نشاندہی سے شروع ہوگا کہ کن اہلکاروں کی ان تک رسائی تھی۔

    ڈچ تحقیقاتی سائٹ بیلنگ کیٹ کے تجزیہ کار ایرک ٹولر کے مطابق، دستاویزات کی پہلی قسط مارچ کے اوائل میں ڈسکارڈ پر پوسٹ کی گئی تھی، جو ویڈیو گیمرزمیں مقبول سوشل میڈیا چیٹ پلیٹ فارم ہےبیرونی ماہرین نے کہا کہ اس بارے میں نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے کہ معلومات کس نے اور کیوں جاری کیں۔

    بھارتی مرکزی بینک کی 18 ممالک کو بھارت کرنسی میں تجارت کی سہولت