Baaghi TV

Tag: پینٹاگون

  • پینٹاگون پر شہری ہلاکتوں کے اعداد و شمار  کم ظاہر کرنے کا الزام

    پینٹاگون پر شہری ہلاکتوں کے اعداد و شمار کم ظاہر کرنے کا الزام

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون پر 2025 کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کے اعداد و شمار کم ظاہر کرنے اور حقائق کو چھپانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    کانگریس کو جمع کرائی گئی پینٹاگون کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئےتمام تصدیق شدہ شہری ہلاکتیں یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی بمباری کے نتیجے میں ہوئیں، جبکہ مزید 15 کیسز کا جائزہ جاری ہے۔

    تاہم آزاد اداروں کے اعداد و شمار پینٹاگون کے تخمینے سے کہیں زیادہ ہیں ایئر وارز کے مطابق یمن میں امریکی کارروائیوں کے دوران کم از کم 258 شہری ہلاک ہوسکتے ہیں، جبکہ یمن ڈیٹا پروجیکٹ نے ہلاکتوں کی تعداد 238 اور زخمیوں کی 467 بتائی ہے۔

    پینٹاگون نے مغربی نصف کرہ میں امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں کسی شہری ہلاکت کو رپورٹ نہیں کیا، حالانکہ ستمبر 2025ء سے کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں منشیات اسمگلنگ کے شبہے میں متعدد کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    رپورٹ پر امریکی حکام کی جانب سے بھی تنقید سامنے آئی ہےامریکی اخبار دی انٹرسیپٹ سے گفتگو میں 2 حکام نے پینٹاگون کے اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو حقائق چھپانے کی کوشش قرار دیا،رپورٹ کے مطابق 2025 میں ان کارروائیوں کے دوران قریباً 120 افراد ہلاک ہوئے، تاہم پینٹاگون نے ان میں سے کسی کو شہری ہلاکت کے طور پر شمار نہیں کیا۔

  • پینٹاگون کا یمن میں امریکی فضائی حملوں میں153 عام شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف

    پینٹاگون کا یمن میں امریکی فضائی حملوں میں153 عام شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف

    یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف امریکی فضائی کارروائیوں کے دوران 153 عام شہریوں کی ہلاکت اور 247 کے زخمی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    امریکی میڈیا ادارے ’دی ہل‘ کے مطابق پینٹاگون کی 12 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ جانی نقصان اپریل 2025 میں کیے گئے 3 مخصوص فوجی آپریشنز کے دوران ہوا،پہلا واقعہ 6 اپریل کو یمن کے دارالحکومت صنعا میں پیش آیا،جہاں امریکی فضائی حملے میں 5 عام شہری ہلاکہوئے،دوسرا اور سب سے زیادہ جانی نقصان 17 اپریل کو راس عیسیٰ کی بندرگاہ پر کیے گئے فضائی حملے میں ہوا، جس میں 80 شہری ہلاک ہوئے۔

    پینٹاگون کے مطابق 28 اپریل کو صعدہ کے قریب کیے گئے تیسرے فضائی حملے میں 47 افراد ہلاک ہوئے امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران پیش آنے والے مزید 15 واقعات بھی زیرِ تفتیش ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    پینٹاگون کی رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انسانی حقوق کی تنظیمیں جنگ زدہ علاقوں میں عام شہریوں کے تحفظ اور فوجی کارروائیوں کے دوران احتیاطی اقدامات یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں،تفتیشی حکام کے مطابق زیرِ غور واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

  • پینٹاگون نے ‘یو ایف او’ کی نئی  فائلیں جاری کردیں

    پینٹاگون نے ‘یو ایف او’ کی نئی فائلیں جاری کردیں

    امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے نامعلوم پروازوں سے متعلق 41 نئی دستاویزات جاری کردیں ہیں، جن میں 25 نامعلوم اشیا کے مشاہدات شامل ہیں۔

    امریکی حکام کی جانب سے جاری کی گئی نئی غیر اعلانیہ دستاویزات میں مشرق وسطیٰ کے ایک رہائشی علاقے کے اوپر تیزی سے حرکت کرتی ہوئی پراسرار گول شے کی مختصر ویڈیو بھی شامل ہے حکام کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والی اس شے کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی اور کیس کو غیر حل شدہ قرار دیا گیا ہے۔

    پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے جمعہ کو ان دستاویزات کے اجرا کا اعلان کیا یہ رواں سال نامعلوم پروازوں یا ’یو اے پی‘ سے متعلق خفیہ ریکارڈز کی جاری کی جانے والی پانچویں کھیپ ہے دستاویزات پینٹاگون، ایف بی آئی، سی آئی اے، محکمہ خارجہ اور امریکی صدر کے ایگزیکٹو آفس سے متعلق ریکارڈز پر مشتمل ہیں، جن میں 1950 سے 2026 تک کے واقعات شامل ہیں۔

    جاری کردہ ریکارڈز میں جنوری 1947 کی ایک انٹیلیجنس رپورٹ میں فن لینڈ اور ڈنمارک میں نظر آنے والے ’گھوسٹ راکٹس‘ کا ذکر کیا گیا تھا، جنہیں اس وقت سوویت راکٹ تجربات سے جوڑا گیا تھا 1948 کی ایک یادداشت میں بھی ایک نامعلوم ’پرواز کرنے والی شے‘ دیکھے جانے کی تصدیق کی گئی، تاہم اس کی کوئی واضح وضاحت پیش نہیں کی گئی۔

    1963 میں برازیل سے بھیجا گیا ایک ٹیلی گرام خاص توجہ کا مرکز ہے، جس میں ایک دھاتی غبارے نما شے کے حادثے اور اس کے اندر ایک ہلاک شخص کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم صرف 6 روز بعد بھیجی گئی ایک اور رپورٹ میں پہلے واقعے کو من گھڑت قرار دے دیا گیا تھا،حالیہ ریکارڈز میں 2021 کا ایک واقعہ بھی شامل ہے، جس میں خلیج عمان میں فوجی اہلکاروں نے ایک لائیو فائر مشق کے دوران 25 نامعلوم اشیا کو حرکت کرتے دیکھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اشیا تقریباً 1300 میل فی گھنٹہ تک کی رفتار سے سفر کر رہی تھیں۔

    ایف بی آئی نے 2023 اور 2011 میں بھی کولوراڈو اسپرنگز میں دیکھے جانے والی 2 مثلث نما اشیا کی ڈیجیٹل تصاویر تیار کی تھیں، تاہم یہ دونوں مشاہدات تصویروں کے بجائے عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی تھے۔

    دستاویزات میں مشرق وسطیٰ کے ایک رہائشی علاقے کے اوپر تیزی سے حرکت کرتی ہوئی پراسرار گول شے کی مختصر ویڈیو بھی شامل ہے حکام کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والی اس شے کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی اور کیس کو غیر حل شدہ قرار دیا گیا ہے۔

    امریکی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے (ان آئیڈینٹیفائڈ اینومولس فینومینا) یعنی پُراسرار گولے سے متعلق ریکارڈ کے نئے مجموعے میں یہ ویڈیو سامنے آئی ہے ویڈیو میں ایک گنجان آباد علاقے کے اوپر ایک گول یا کرہ نما شے کو تیزی سے حرکت کرتے دیکھا جاسکتا ہے ماہرین نے دستیاب معلومات اور ویڈیو کا جائزہ لیا، تاہم وہ اس بات کا تعین نہیں کرسکے کہ یہ شے ڈرون، غبارہ، طیارہ یا کسی اور معلوم فضائی ذریعے سے تعلق رکھتی تھی۔

    حکام کے مطابق اس شے میں بعض غیر معمولی خصوصیات دیکھی گئیں، جن کی دستیاب معلومات کی بنیاد پر مکمل وضاحت نہیں کی جاسکی اسی وجہ سے اس واقعے کو غیر حل شدہ کیسز کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔

    تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی واقعے کو غیر حل شدہ قرار دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے خلائی مخلوق یا کسی غیر زمینی سرگرمی کا ثبوت سمجھا جائے حکام کے مطابق غیر حل شدہ کا مطلب غیر زمینی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ واقعے کی حتمی شناخت کے لیے ضروری معلومات دستیاب نہیں تھیں۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان آئیڈینٹیفائڈ اینومولس فینومینا سے متعلق مزید ریکارڈ بھی عوام کے لیے جاری کیے جاسکتے ہیں اور ان دستاویزات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید فائلیں سامنے آئیں گی۔

    گزشتہ چند برسوں کے دوران یو ایف اوز اور نامعلوم فضائی اشیا کے بارے میں دنیا بھر میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے مختلف حکومتوں سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایسے واقعات سے متعلق معلومات زیادہ شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائی جائیں۔

  • پینٹاگون نےایران جنگ میں   ہلاک اور زخمی امریکی فوجیوں کی تفصیلات جاری کردیں

    پینٹاگون نےایران جنگ میں ہلاک اور زخمی امریکی فوجیوں کی تفصیلات جاری کردیں

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں جانی نقصان کے شفاف اعداد و شمار پر اعتراضات کے بعد پینٹاگون نے اپنے مرکزی ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے،گزشتہ ہفتے ڈیٹا میں غیر متوقع کمی اور شفافیت کی کمی پر پیدا ہونے والے سوالات کے بعد ہفتے کے روز ڈسکاس (ڈی سی اے ایس) کے نظام میں 140 سے زائد مزید زخمی امریکی اہلکاروں کا اندراج کیا گیا ہے اور پچھلے ہفتے ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے 4 فوجیوں کے نام بھی شامل کر دیے گئے ہیں۔

    پینٹاگون کے ان نئے اعداد و شمار کے مطابق، 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 624 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ پچھلے ہفتے سامنے آنے والے 482 زخمیوں کے ہندسے میں نمایاں اضافہ ہے۔

    پینٹاگون کے نظام میں کی جانے والی ان تبدیلیوں اور ایرانی حملوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کم دکھائے جانے پر امریکی قانون سازوں اور میڈیا نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھااس معاملے پر سینیٹ کی مسلح خدمات کی کمیٹی کے بارہ ڈیموکریٹک ارکان نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو خط لکھ کر اس گڑبڑ کی وجوہات طلب کی تھیں۔

    تنازع بڑھنے پر دفاعی شعبے کے قائم مقام پریس سیکرٹری جوئیل والڈیز نے وضاحت پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ”ویب سائٹ پر اعداد و شمار میں یہ کمی صرف عارضی فنی خرابیوں کا نتیجہ تھی“۔

    تاہم، ڈیٹا میں جانی نقصان کی ایک نئی کیٹیگری کا اضافہ بھی کیا گیا ہے جس میں7 جولائی سے شروع ہونے والے غیر ملکی آپریشنز کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں، لیکن پینٹاگون کی جانب سے اس نئی کیٹیگری کی مکمل وضاحت تاحال فراہم نہیں کی گئی،7 جولائی کی یہ تاریخ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کانگریس کو بھیجے گئے اس نوٹس سے ملتی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک نیا تنازع شروع ہوا ہے۔

    امریکی آئین کے تحت وار پاورز ایکٹ کے مطابق صدر کو 60دنوں کے اندر ملٹری آپریشنز کے لیے کانگریس سے اجازت لینا ہوتی ہے، تاہم موجودہ انتظامیہ نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کو بنیاد بنا کر اس وقت کی گنتی دوبارہ شروع کی ہے۔

    انتظامیہ کی اس منطق پر اپوزیشن اور بعض حکومتی ارکان کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہےاس حوالے سے ہاؤس کی سماعت کے دوران ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکووسکی نے وزیر دفاع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے شدید تشویش ہے کہ انتظامیہ اس وقفے کے بہانے کانگریس کی آئینی منظوری کو نظر انداز کر رہی ہے اور قانونی ضرورت سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے-

  • امریکا میں اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں پر تشویش

    امریکا میں اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں پر تشویش

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے انٹیلیجنس ادارے نے اسرائیلی جاسوسی سرگرمیوں سے لاحق خطرے کی درجہ بندی بڑھا کر ’کریٹیکل‘ یعنی بلند ترین سطح پر کر دی ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز اور اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی نے حالیہ ہفتوں میں ایک داخلی جائزہ رپورٹ تیار کی ہے جس میں اسرائیل کی انسانی اور تکنیکی جاسوسی صلاحیتوں کو ’کریٹیکل‘ قرار دیا گیا ہےیہ جائزہ 7 صفحات پر مشتمل دستاویز اور ایک تفصیلی چارٹ پر مبنی ہے، جس میں امریکی حکام کے خلاف ممکنہ انٹیلیجنس سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے،یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور لبنان کے معاملات پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات اور کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی انسدادِ جاسوسی حکام اسرائیلی سرگرمیوں پر بڑھتی ہوئی تشویش رکھتے ہیں، خصوصاً ان کوششوں پر جو ایران اور لبنان کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی سازی اور اندرونی مشاورت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں، بعض اعلیٰ امریکی عہدیداروں کو بھی ممکنہ نگرانی کے اہداف میں شامل قرار دیا گیا ہے۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں کی شدت غیر معمولی رہی ہے اگرچہ اتحادی ممالک کے درمیان محدود پیمانے پر جاسوسی کوئی غیر معمولی بات نہیں، تاہم حالیہ سرگرمیاں معمول کی سفارتی حدود سے آگے جاتی دکھائی دیتی ہیں۔

    دوسری جانب پینٹاگون نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے این بی سی نیوز سے گفتگو میں رپورٹ کو مکمل طور پر غلط قرار دیا، واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے بھی ان دعوؤں کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیوں کا رخ اس کے دشمنوں کی جانب ہوتا ہے، اتحادیوں کی جانب نہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک غیر معمولی پیشرفت ہوگی، کیونکہ دونوں ممالک طویل عرصے سے قریبی دفاعی اور انٹیلیجنس شراکت دار سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر ان دعوؤں کی تصدیق نہ ہونے کے باعث معاملہ تاحال میڈیا رپورٹس اور غیر مصدقہ ذرائع تک محدود ہے۔

  • صحافیوں کی پینٹاگون میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی

    صحافیوں کی پینٹاگون میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی

    امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنے پریس آفس کو حساس اور خفیہ مقام قرار دیتے ہوئے صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون نے حالیہ ہفتوں میں اپنے پریس آفس کی سیکیورٹی حیثیت تبدیل کر دی ہے، جس کے بعد صحافیوں کا اس دفتر میں داخلہ مکمل طور پر بند ہو گیا ہےاس فیصلے کے بعد میڈیا نمائندے امریکی فوج کے معاملات پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے والے افسران تک براہِ راست رسائی سے محروم ہو جائیں گے ،ماضی میں یہ دفتر ایک کھلی جگہ تصور کیا جاتا تھا جہاں صحافی آزادانہ طور پر جا سکتے تھے، فوجی ترجمانوں سے ملاقات کر سکتے تھے اور مختلف حکام سے غیر رسمی گفتگو بھی ممکن تھی. تاہم اس نئے فیصلے کے بعد صحافیوں کا اس علاقے میں داخلہ ممنوع ہوگا۔

    پینٹاگون کے قائم مقام پریس سیکریٹری جوئل والڈیز کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ اسی دفتر میں تعینات اسپیچ رائٹرز خفیہ معلومات تک رسائی رکھتے ہیں اور ان اہلکاروں کو خفیہ نوعیت کے مواد تک رسائی درکار ہوتی ہے، جس کے لیے خصوصی محفوظ کمپیوٹر نیٹ ورک استعمال کیا جاتا ہے اسی وجہ سے دفتر کو حساس نوعیت کا علاقہ قرار دیا گیا ہے، جہاں سیکیورٹی قواعد کے تحت عام افراد یا صحافی داخل نہیں ہو سکتے اور عوامی امور کے دفتر اور پر یس سیکریٹری سے ملاقات پیشگی وقت لینے کے بعد ممکن ہوگی۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پینٹاگون اور صحافیوں کے درمیان پینٹاگون میں دفاتر اور رسائی کے معاملات پر کئی ماہ سے رسہ کشی جاری ہےروایتی طور پر صحافیوں کو پینٹاگون کے غیر خفیہ حصوں تک رسائی حاصل رہی ہے، جہاں وہ ذرائع سے ملاقات اور بریفنگز میں شرکت کرتے تھے تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دور میں میڈیا کے لیے قواعد سخت کر دیے گئے ہیں۔

    نئے ضوابط کے تحت صحافیوں کے لیے عمارت کے اندر نقل و حرکت کے دوران سرکاری اہلکار کی نگرانی کی شرط بھی عائد کی گئی ہے، جس کے خلاف نیویارک ٹائمز نے الگ قانونی مقدمہ دائر کر رکھا ہے، اس مقدمے کی سماعت تاحال جاری ہے تجزیہ کاروں کے مطابق پریس آفس کو خفیہ علاقہ قرار دینے سے صحافیوں اور پینٹاگون کے ترجمانوں کے درمیان روزمرہ رابطے مزید محدود ہو جائیں گے۔

    گزشتہ اکتوبر میں سینکڑوں صحافیوں نے پینٹاگون کی نئی میڈیا پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے اپنی صحافتی اسناد واپس کر دی تھیں اس پالیسی میں صحافیوں سے یہ وعدہ لینے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جن کی اشاعت کی سرکاری طور پر اجازت نہ ہوبعد ازاں مارچ میں ایک وفاقی جج نے نیویارک ٹائمز کی درخواست پر اس متنازع پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا تھا تاہم امریکی حکومت نےاس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔

    امریکا کی بڑی صحافتی تنظیم نیشنل پریس کلب نے اس اقدام کو تشویش ناک قرار دیا ہےتنظیم کے صدر مارک شوف جونیئر کے مطابق، امریکی عوام کو فوج کے بارے میں مکمل اور آزاد معلومات ملنا ضروری ہے، اور ایسے اقدامات سے شفاف رپورٹنگ متاثر ہوتی ہے،پینٹاگون کا یہ تازہ فیصلہ امریکی فوج اور میڈیا کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات فوجی امور کی رپورٹنگ اور عوامی شفافیت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • پینٹاگون کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ سمیت  سینئر فوجی کمانڈرز برطرف

    پینٹاگون کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ سمیت سینئر فوجی کمانڈرز برطرف

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ اور دو دیگر سینئر فوجی افسران کو عہدے سے برطرف کردیا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع نے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز کو اعتماد کھو دینے کے سبب عہدے سے ہٹایا ہے،اپریل میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیر دفاع کے قریبی حلقوں میں اختیارات کی جنگ کے سبب پینٹاگون ہلچل اور افراتفری کا شکار ہے،وزیر دفاع نے ایسے افراد کو مشیر بنایا ہے جو ایک دوسرے کے حریف بن گئے ہیں جس کی وجہ سے ماحول کشیدہ ہے اور لوگوں کو غیر متوقع طور پر نوکریوں سے نکالا جارہا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق یہ ٹرمپ انتظامیہ کی پینٹاگون میں اعلیٰ عہدیداروں کی برطرفیوں کی تازہ ترین کارروائی ہے، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جنرل جیفری کروز کو برطرف کیوں کیا گیاایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جیفری کروز کے علاوہ یو ایس نیول ریزرو کے چیف اور نیول اسپیشل وارفیئر کمانڈ کے کمانڈر کو بھی برطرف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں امن ،استحکام ،خوشحالی اور پائیدار ترقی کیلئے پُرعزم ہیں،فیلڈ مارشل

    ژوب اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    امریکی سینیٹر مارک وارنر نے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے ایک اور سینئر اہلکار کی برطرفی ٹرمپ انتظامیہ کی اس خطرناک روش کو ظاہر کرتی ہے جس میں انٹیلی جنس کو ملک کے تحفظ کے بجائے وفاداری کے پیمانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہو۔

    یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہے، جس کے تحت وہ ان موجودہ اور سابق فوجی، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو سزا دے رہے ہیں جن کے نظریات یا رپورٹس ان کے مؤقف سے متصادم سمجھے جاتے ہیں۔

    رواں برس ٹرمپ نے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (NSA) کے ڈائریکٹر جنرل ٹموتھی ہاف کو ان کے عہدے سے برطرف کیا تھا، جو وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکیورٹی کونسل میں درجنوں افراد کی برطرفیوں کا حصہ تھاامریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اس سے قبل بھی پینٹاگون میں امریکی فوجی افسران کو ہدف بنا چکے ہیں۔

    فروری میں انہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایئر فورس جنرل سی کیو براون کو پانچ دیگر ایڈمرلز اور جنرلز کے ساتھ برطرف کیا جو امریکی فوجی قیادت میں ایک غیر معمولی تبدیلی تھیاس کے علاوہ رواں ہفتے امریکی ایئر فورس کے چیف نے اپنی مدتِ ملازمت کے درمیان ہی ریٹائرمنٹ کا اچانک اعلان کیا۔

    کھیت میں داخل ہونے پر گدھے کی ٹانگ کاٹ دی،سخت غم و غصہ

    اگرچہ یہ واضح نہیں کہ جنرل جیفری کروز کو کیوں ہٹایا گیا، لیکن یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) کی ایک ابتدائی رپورٹ میڈیا میں لیک ہوئی، جس میں کہا گیا تھا کہ 22 جون کو ایران کے تین نیوکلیئر مراکز پر امریکی فضائی حملوں سے تہران کے پروگرام کو صرف چند مہینے کی تاخیر ہوئی ہے جو صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی نفی تھی کہ اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہےاس رپورٹ کے لیک ہونے پر صدر ٹرمپ ناراض ہو گئے تھے،وائٹ ہاؤس نے اس خفیہ رپورٹ کو بالکل غلط قرار دیا تھا، جبکہ ٹرمپ نے سی این این، نیو یارک ٹائمز اور دیگر میڈیا اداروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں فضول لوگ اور فیک نیوز قرار دیا تھا-

  • افغانستان سے امریکی فوجی انخلا اور کابل ایئرپورٹ دھماکے کی نئی تحقیقات کا حکم

    افغانستان سے امریکی فوجی انخلا اور کابل ایئرپورٹ دھماکے کی نئی تحقیقات کا حکم

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے 2021 میں افغانستان سے ہونے والے امریکی فوجی انخلا اور کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے خودکش دھماکے کی نئی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جس میں امریکی فوجیوں اور افغان شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیگسیتھ نے بارہا بائیڈن انتظامیہ پر اس انخلا کی شدید تنقید کی ہےجسے ہیگسیتھ نے منگل کو ’’تباہ کن اور شرمناک ‘‘ قرار دیا انہوں نے کہا کہ نئی تحقیق میں گواہوں کے انٹرویوز کیے جائیں گے، فیصلہ سازی کا جائزہ لیا جائے گا اور ’’سچائی سامنے لائی جائے گی‘‘۔

    پینٹاگون، یو ایس سینٹرل کمانڈ، محکمہ خارجہ اور کانگریس کی جانب سے اس انخلا کے متعدد جائزے پہلے ہی کیے جاچکے ہیں، جن میں سینکڑوں انٹرویوز اور ویڈیوز، تصاویر اور دیگر ڈیٹا کا تجزیہ شامل تھا یہ واضح نہیں کہ نئی تحقیق کون سی نئی مخصوص معلومات حاصل کرنا چاہتی ہےپینٹاگون کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر 13امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور اربوں ڈالر کے ہتھیاروں سے محرومی کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔

    پاک بنگلادیش سیریز: نظرثانی شدہ شیڈول کا اعلان ہوگیا

    افغانستان سے انخلا کے آخری دنوں میں ایبی گیٹ پر ہونے والے دھماکے میں 13 امریکی فوجیوں اور 170 افغان شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی، جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے اس واقعے نے وسیع پیمانے پر بحث و تنقید کو جنم دیا تھا، جس میں کابل سے نکلنے کے لیے ایئرپور ٹ پر امڈتے ہوئےمایوس افغان شہریوں کی دل دہلا دینے والی تصاویر نے مزید شدت پیدا کی تھی۔ کچھ افغان تو امریکی فوجی طیاروں سے چمٹ گئے تھے جبکہ وہ اڑان بھر رہے تھے۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بیجز لگانے کی تقریب ملتوی

    2023 میں ایک تفصیلی امریکی فوجی جائزہ کا حکم دیا گیا تھا تاکہ انٹرویوز کیے جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے، بعد ازاں دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک میرین نے بتایا تھا کہ اسنائپرز نے ممکنہ بمبار کو دیکھا تھا لیکن اسے نشانہ بنانے کی اجازت نہیں مل سکی تھی-

  • ٹرمپ کے غیر قانونی احکامات پر کس طرح ردعمل دینا ہے،پینٹاگون حکام نے سر جوڑ لئے

    ٹرمپ کے غیر قانونی احکامات پر کس طرح ردعمل دینا ہے،پینٹاگون حکام نے سر جوڑ لئے

    واشنگٹن: امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے حکام اس بارے میں غیر رسمی بات چیت کر رہے ہیں کہ اگر نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوئی متنازع حکم جاری کرتے ہیں تو کس طرح کا ردعمل دینا ہے، جیسا کہ فوج کو مقامی طور پر تعینات کرنا ہے تو کیا کرنا ہے وہ اس امکان کے لیے بھی تیاری کر رہے ہیں کہ وہ کئی کیریئر سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے کے لیے قواعد میں تبدیلی کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی نشریاتی ادارے دی گارڈین نے سی این این کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ارادے کا اظہار کیا تھا کہ وہ فعال فورسز کو مقامی قوانین کی پاسداری اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو ملک بدر کرنے کے لیے استعمال کریں گے اور انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ وہ وفاقی حکومت میں وفاداروں کی فراوانی سے امریکی اسٹیبلشمنٹ سے کرپٹ عناصر کا صفایا کریں گے۔

    رپورٹ کے مطابق کے مطابق پہلے دور صدارت میں ٹرمپ کے اعلیٰ ملٹری آفیشلز سے تعلقات اچھے نہیں رہے تھے اور جنرل ریٹائرڈ مارک ملے جو اس وقت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف تھے، نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی طاقت کو محدود کر دیا تھا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی آرمی جنرلز کو کمزور اور بیکار لیڈرز قرار دیتے رہے ہیں۔

    انتخابی مہم کے دوران، ٹرمپ نے اپنے سیاسی دشمنوں کے بعد فوج بھیجنے اور جنوبی سرحد پر تارکین وطن کو واپس بھیجنے پر غور کیا ہے۔ امریکی قانون عام طور پر فعال ڈیوٹی والے فوجیوں کو قانون نافذ کرنے والے مقاصد کے لیے تعینات کرنے سے منع کرتا ہے۔ یہ خدشہ بھی ہے کہ وہ پینٹاگون میں سول سروس کو ختم کر سکتا ہے، اور برطرف عملے کی جگہ اپنے وفادار اور قریبی ساتھیوں کو عہدے دے سکتا ہے-

    امریکی وزارت دفاع کے حکام پینٹاگون کی اوور ہالنگ کی تیاریوں کے ساتھ اب مختلف قسم کی صورتحال پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں، اس حوالے سے امریکی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہم بدترین قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاہم ابھی ہمیں نہیں معلوم کہ ہم نے یہ کیسے کرنا ہے۔

    ایک اور ڈیفنس آفیشل کا کہنا ہے کہ فوجی، قانون کے تحت مجبور ہیں کہ وہ غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کر دیں، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ یہ کس طرح سے ہو گا، کیا ہم سینئر ملٹری لیڈر شپ کے استعفے دیکھیں گے یا پھر وہ اپنے لوگوں کو چھوڑ دیں گے۔

    ٹرمپ کے گزشتہ دور حکومت میں وزارت دفاع سے تعلق رکھنے والے ایک سابق عہدیدار کا کہنا ہے ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ٹرمپ کسے پینٹاگون کا چیف مقرر کریں گے تاہم حکام پرامید ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ملٹری انتظامیہ سے مخالفانہ رویہ اختیار کرنے سے گریز کریں گے ٹرمپ کے گزشتہ دور حکومت میں وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کا تعلق انتہائی برا تھا اس لیے اس بار سب کے ذہنوں میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ ٹرمپ وزارت دفاع میں کسے لاتے ہیں۔

    امریکا کے سیکرٹری دفاع لائیڈ آسٹن کا اس حوالے سے کہنا ہے میں اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے لیڈرز جو درست ہوگا وہ کرتے رہیں گے، میں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ ہماری کانگریس فوج کی حمایت جاری رکھے گی۔

  • ہم نے کسی ٹینکر پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا، ایران نے پینٹاگون کا الزام مسترد کر دیا

    ہم نے کسی ٹینکر پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا، ایران نے پینٹاگون کا الزام مسترد کر دیا

    بحر ہند میں کیمیائی مواد سے بھرے ٹینکر پر ڈرون حملہ ہوا تھا جس کا الزام امریکا نے ایران پر عائد کیا تھا-

    باغی ٹی وی: امریکی امور دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ بحر ہند میں دوران سفر ایک کیمیائی مواد سے بھرے ٹینکر پر ایران سے ڈرون حملے کی کوشش کی گئی ہے کہا گیا تھا کہ یہ حملہ ایران کی طرف سے ڈرون کے ذریعے کیا گیا ہے جس میں فی الوقت کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہِیں ملی ہے، سینٹ کام ٹینکر سے مسلسل رابطے میں ہے جو بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی کوشش میں ہے-

    پینٹاگون کے مطابق ، لیبیائی پرچم بردار جاپانی اور ولندیزی کمپنی کے حامل شیم پلوٹو نامی اس ٹینکر پر آج صبح بحر ہند میں ساحل سے 370 کلومیٹر دور ڈرون حملے کی کوشش کی گئی ۔

    چین اور روس نے دوطرفہ تجارت میں امریکی ڈالر کو مکمل طور …

    سینٹ حکام کا کہنا ہے کہ سال 2021 سے اب تک ایران نے تجارتی بحری جہازوں پر سات بار حملے کیے ہیں اس ٹینکر پر حملے ی کی ایران نے تردید کی ہے جو سعودی عرب سے بھارت جا رہا تھا ،ایرانی حکام نے کہا کہ ایران کی جانب سے کسی ٹینکر پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا گیا-

    دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ایندھن اور دیگر مصنوعات کی فراہمی کو روکیں، تہران میں خوزستان اور کرمان صوبوں کے عوام سے ملاقات کے دوران آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ مسلم ممالک کو اپنی حکومتوں سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اسرائیل کی امداد بند کریں اور اس کے ساتھ تعلقات منقطع کریں۔

    یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز ایک ڈرون حملے میں مبینہ طور پر بھارت کے ساحل کے قریب ایک بحری جہاز کو نقصان پہنچا ، جبکہ امریکا نے جمعہ کے روز الزام عائد کیا تھا کہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ایران ملوث رہا ہے، جس سے عالمی جہاز رانی میں خلل پڑا ہے۔

    سال 2024 میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے امکانات ،ورلڈ گولڈ کونسل

    ایران کے سپریم لیڈر نے غزہ جنگ کے تناظر میں مزید کہا کہ امریکا بے شرمی سے جنگ بندی کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو کر رہا ہے اور مغربی تہذیب کا چہرہ بے نقاب کر رہا ہے،اسرائیل ایک دن زمین سے مٹا دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ انشا اللہ یہ وعدہ مستقبل کے یقین میں سے ایک ہے نوجوانوں، اس دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے، خدا کی مدد اور طاقت کے ساتھ اور خدا کی اجازت اور جلال کےساتھ، یہ ہو جائے گا، اور انشا اللہ، مجھے امید ہے کہ آپ نوجوان اس دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے فلسطینی قوم کی سب سے بڑی فتح یہ ہے کہ انہوں نے مغرب اور امریکا کو بدنام کیا اور انسانی حقوق کے ان کے جھوٹے دعوؤں کو دنیا کے سامنے اشکار کیا۔

    واضح رہے کہ زیر محاصرہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے آغاز سے اب تک ایرانی نواز حوثیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے ۔

    انڈونیشیا نکل پروسیسنگ پلانٹ میں دھماکہ،13 افراد ہلاک،39 زخمی