Baaghi TV

Tag: پینٹا گان

  • پیٹاگون کا یوکرین کو سیٹلائیٹ رابطےکا نظام فراہم کرنےکا اعلان

    پیٹاگون کا یوکرین کو سیٹلائیٹ رابطےکا نظام فراہم کرنےکا اعلان

    تہران: امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ روس یوکرین جنگ کے دوران یوکرین کی مدد کے لئے سیٹلائٹ رابطے کا نظام فراہم کر رہا ہے۔

    ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو چار عدد سیٹلائٹ رابطے کے سسٹم کی فراہم کر رہا ہے جن کی مالیت 275 ملین ڈالر ہے۔

    روس:جنگ میں سابق افغان فوجیوں کو استعمال کررہا ہے:یوکرین کا الزام

    پینٹاگون کی ترجمان سبرینا سنگھ نے بتایا کہ سیٹلائٹ رابطے کے ان نظاموں سے یوکرین فوج زیادہ موثر ہو جائے گی اور اس ملک کے لیڈروں کا کمانڈر سے رابطہ اور کنٹرول سسٹم بہتر ہو جائے گا۔

    پیٹناگون کی ترجمان نے مزید کہا کہ یہ سستم اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس کی جگہ نہیں لیں گے بلکہ یہ یوکرینی فوج کے لئے میدان جنگ میں ایک دوسرے سے رابطے کا موثر ذریعہ فراہم کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی بھی لانگ مارچ کے دوران زخمی ہوگئے

    جب کہ روس یوکرین کی مواصلاتی لائنوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس کی جوابی کاروائی کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے اور اس حوالے سے یوکرین کی ٹیلی کمیونیکشن اور سیکورٹی تنصیبات روسی حملوں کی مسلسل زد پر ہیں۔

    جسٹس نورمسکانزئی قتل کیس؛گرفتارملزم کا ایران میں تربیت لینےکاانکشاف

    امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلا میں موجود سیٹلائٹوں اور دوسرے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی ہیں۔

  • امریکا پاکستان کیساتھ ملکر کالعدم ٹی ٹی پی کوختم کرنے کےلیے حاضرہے:امریکی جنرل کا کانگریس میں اعلان

    امریکا پاکستان کیساتھ ملکر کالعدم ٹی ٹی پی کوختم کرنے کےلیے حاضرہے:امریکی جنرل کا کانگریس میں اعلان

    لاہور:امریکا پاکستان کیساتھ ملکر کالعدم ٹی ٹی پی کوختم کرنے کےلیے حاضرہے:امریکی جنرل کا کانگریس میں پالیسی بیان،اطلاعات کے مطابق امریکی فوج نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ مل کر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا خاتمہ کرینگے۔

    امریکی افواج سنٹرل کمانڈ کے اگلے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مائیکل کوئریلا نے امریکی کانگریس کو بتایا امریکا پاکستان کے ساتھ ملکر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا خاتمہ چاہتا ہے، کالعدم ٹی ٹی پی پرتشدد دہشت گردتنظیم ہے جو پاکستان کے لیے خطرات پیدا کرتی ہے۔ اسلام آباد اور واشنگٹن کی مشترکہ مفادات فہرست میں”تمام دہشت گرد تنظیموں” کا خاتمہ اور افغانستان میں مستحکم حکومت کا قیام بھی شامل ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر انسانی بحران کے باعث مہاجرین کی بڑی تعداد کے پاکستان ہجرت کرنے کا خدشہ موجود ہے کیونکہ مشکل حالات میں بسنے والے افغان شہری پہلے ہی ملک چھوڑ کر جانا شروع ہو چکے ہیں۔

    بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ ہر ممکن حد تک کام جاری رکھنا چاہتے ہیں، اسلام آباد کے خطے میں عسکریت پسند گروپوں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر امریکا کے ساتھ بعض اوقات مخالفانہ تعلقات رہے ہیں لیکن واضح کرتا چلوں ہمارے مفادات مشترکہ ہیں۔

    خیال رہے کہ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کیخلاف آپریشن کے لیے متعدد بار پاکستان افغان طالبان کو کہہ چکا ہے کہ دہشتگردوں خلاف کارروائی کی جائے۔

    یاد رہے کہ چند ماہ قبل وزیراعظم عمران خان نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغان طالبان کی معاونت سے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ کچھ گروپوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

    اس دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے چند روز بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حکومت اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان ایک ماہ کے لیے سیز فائر ہو چکا ہے، تاہم کالعدم ٹی ٹی پی نے خود ساختہ طور پر خود ہی اس سیز فائر کو توڑنے کا اعلان کیا تھا۔

    5 جنوری کو میڈیا سے گفتگو کے دوران ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے، موجودہ افغان حکومت کی درخواست پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا لیکن کچھ چیزیں ناقابل قبول تھیں، تنظیم غیر ریاستی عنصر ہے جو پاکستان میں کوئی بڑا حملہ نہیں کر سکی۔ کالعدم ٹی ٹی پی میں اندورنی اختلافات بھی ہیں جبکہ افغان حکومت کو کہا ہے کہ اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہورہےنہ ان کے ساتھ اب جنگ بندی کا کوئی معاہدہ ہے،آپریشن جاری ہے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ نو دسمبرکوختم ہوگیا۔جنگ بندی کایہ معاہدہ غیرریاستی جنگجوعناصر کے ساتھ مذاکرات سے قبل موجودہ افغان حکومت کی درخواست پراعتماد سازی کےلیے اٹھایا گیا۔

  • یہ ماننا پڑے گا کہ امریکی فوج میں بھی انتہا پسند عناصرموجود ہیں : پینٹا گون

    یہ ماننا پڑے گا کہ امریکی فوج میں بھی انتہا پسند عناصرموجود ہیں : پینٹا گون

    واشنگٹن : یہ ماننا پڑے گا کہ امریکی فوج میں بھی انتہا پسند عناصرموجود ہیں : امریکہ کے محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ امریکی فوج کے تقریباً 100 ارکان نے گذشتہ ایک سال کے دوران کسی نہ کسی قسم کی ’ممنوعہ انتہا پسندانہ سرگرمی‘ میں حصہ لیا۔

    پینٹاگون کے سربراہ لائیڈ آسٹن نے فروری 2021 میں اپنی صفوں کے اندر انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے سے متعلق محکمہ دفاع کی پالیسیوں پر نظرثانی کا حکم دیا تھا۔

    یہ فیصلہ اس انکشاف کے بعد کیا گیا تھا کہ امریکی فوج کے درجنوں سابق ارکان نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے رواں برس چھ جنوری کو امریکہ میں کیپٹل ہل پر حملے میں حصہ لیا تھا۔

    لائیڈ آسٹن نے پیر کو انتہا پسندانہ سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے سے متعلق ورکنگ گروپ کی رپورٹ جاری کرنے کے ساتھ ایک بیان میں کہا کہ محکمہ دفاع سے منسلک مردوں اور خواتین کی بھاری اکثریت اس ملک کی عزت اور دیانت داری کے ساتھ خدمت کرتی ہے

    لائیڈ آسٹن نے کہا کہ وہ اس حلف کا احترام کرتے ہیں جو انہوں نے امریکہ کے آئین کی حمایت اور دفاع کے لیے اٹھایا تھا۔

    ہم سمجھتے ہیں کہ انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں حصہ لے کر صرف چند لوگ اس حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

    دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا: ’جائزے سے پتہ چلا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران امریکی فوج کے ’تقریباً 100‘ حاضر سروس یا ریزرو اراکین نے ممنوعہ انتہا پسندسرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔

    تاہم انہوں نے یہ واضح کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ کس قسم کی سرگرمی میں ملوث تھے لیکن انہوں نے ممنوعہ سرگرمیوں کی مثال کے طور پر حکومت کا تختہ الٹنے یا ’گھریلو دہشت گردی‘ کی وکالت کا حوالہ دیا۔ورکنگ گروپ نے اپنی نئی ہدایات میں مخصوص انتہا پسند گروہوں کی فہرست نہیں دی۔

    ان سفارشات میں سروس ممبران کے لیے انتہا پسند سرگرمیوں کے متعلق تربیت اور تعلیم میں اضافہ بھی شامل تھا جبکہ پینٹاگون نے سروس ممبران کے لیے نئی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

    جان کربی نے کہا: ’اس میں خاص طور پر سوشل میڈیا کے حوالے سے رہنما اصول شامل ہیں کہ انتہا پسندانہ ممنوعہ سرگرمیوں کے حوالے سے کس چیز کی اجازت ہے اور کس کی نہیں۔‘ امریکی معاشرے کی طرح امریکی فوج بھی برسوں کی تفرقہ انگیز سیاست کے بعد سیاسی دباؤ کا شکار ہے۔

    فوج کے ارکان کی ایک چھوٹی سی اقلیت نے ویکسین لگوانے کے احکامات سے انکار کر دیا ہے۔ اور کچھ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے امریکی کیپٹل ہل میں چھ جنوری کو ہونے والے مہلک فساد میں حصہ لیا تھا۔

    بائیڈن انتظامیہ نے، جس نے 20 جنوری کو اقتدار سنبھالا تھا، اس فساد کے بعد سال کا بیشتر حصہ انتہا پسندی کی اپنی تعریف واضح کرنے اور انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں کس قسم کی فوجی شرکت کو واضح طور پر ممنوع قرار دینے کے لیے کام کیا اور پیر کے روز نتائج پیش کیے۔

    نئی تعریف میں سوشل میڈیا پر انتہا پسند مواد کو لائیک” کرنے سے لے کر فنڈ ریزنگ یا انتہا پسند تنظیم کے لیے مظاہرہ کرنے تک سب کچھ شامل ہے۔ سزا، اگر کوئی ہے، تو وہ مقامی کمانڈر دے سکتے ہیں۔

    اس کے باوجود پینٹاگون نے پراؤڈ بوائز سے لے کر اوتھ کیپرز اور کو کلکس کلان تک کسی بھی گروپ میں شمولیت سے روک دیا ہے اور صدر کی حیثیت سے جو بائیڈن کی قانونی حیثیت کے بارے میں بیان دینے سے منع کیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ ’اگر ہم انتہا پسند گروہوں کی فہرست لے کر آتے ہیں تو یہ شاید اتنا ہی اچھا ہوگا جتنا کہ ہم نے اسے شائع کیا تھا کیونکہ یہ گروپ تبدیل ہو جاتے ہیں۔

    تاہم امریکی دفاعی حکام کا کہنا تھا کہ پیر کو اعلان کردہ پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ ایسے کسی بھی گروپ میں بامعنی اور فعال شرکت ناممکن ہوگی۔

    پینٹاگون کے اس اعلان سے چند ہفتے قبل امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے امریکی سروس ممبران کی انتہا پسندانہ سرگرمی کے 294 الزامات کا حوالہ دیا تھا۔

    ان میں چھ جنوری کو امریکی کیپٹل ہل میں غیر قانونی کارروائی کے 10 الزامات اور گھریلو انتہا پسندانہ تشدد میں ملوث ہونے کے 102 الزامات شامل ہیں۔ نسلی بنیادوں پر پرتشدد انتہا پسندانہ سرگرمی کے 70 الزامات اور حکومت مخالف یا اتھارٹی مخالف انتہا پسندی کے 73 الزامات بھی لگائے گئے تھے