Baaghi TV

Tag: پینٹا گون

  • پینٹاگون کی ایرانی حملوں میں 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق

    پینٹاگون کی ایرانی حملوں میں 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق

    امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایران جنگ میں اب تک تقریباً 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق زخمی ہونے والے بیشتر اہلکاروں کی چوٹیں معمولی نوعیت کی تھیں اور ان میں سے 108 فوجی صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں، اس وقت 8 امریکی فوجیوں کی حالت نازک ہے جنہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اس سے قبل پینٹاگون نے 7 امریکی فوجیوں ی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے جنگ کے دس روز کے دوران تقریباً 150 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد پینٹاگون کے ترجمان نے 140 فوجیوں کے زخمی ہونے کا بیان جاری کیا وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بھی میڈیا کے سوال پر ان اعداد و شمار کو درست قرار دیتے ہوئے مزید تفصیلات کے لیے پینٹاگون سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔

    گوشت کی قیمتوں میں اضافہ،عام شہریوں کی قیمت خرید سے بڑھ کر،نوٹس کی اپیل

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے تھے، جو آج 12 ویں روز بھی جاری ہیں۔ دوسری جانب ایران نے ان حملوں کے جواب میں خطے کے مختلف ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

    پینٹاگون کے مطابق جنگ کے آغاز سے ایران کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے کیونکہ امریکی فوج ایران کے ہتھیاروں کے ذخائر اور محدود تعداد میں موجود میزائل لانچرز کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    پاکستان کی لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت

  • ایک ماہ میں امریکی فوج سے ٹرانسجینڈر فارغ کرنیکا حکم

    ایک ماہ میں امریکی فوج سے ٹرانسجینڈر فارغ کرنیکا حکم

    پینٹا گون نے ٹرانسجینڈر فوجی اہلکاروں کو 30 دن کی ڈیڈ لائن کے اندر فارغ کرنے کاحکم دے دیا.

    پینٹاگون نےاپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ پالیسی اس وقت لاگو ہوگی جب تک کہ ہر معاملے کی بنیاد پر استثنیٰ نہ دیا جائے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ٹرانسجینڈر افراد کے لیے فوج میں شامل ہونا یا اپنی خدمات جاری رکھنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پینٹاگون کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پہلے 30 دن کے اندر ٹرانسجینڈر فوجیوں کی شناخت کرے اور اس کے بعد اگلے 30 دنوں میں انہیں فوج سے الگ کر دے۔پینٹاگون نے وضاحت کی ہے کہ اس پالیسی کا مقصد فوج کی یکجہتی، مؤثر کارکردگی اور تنظیمی ڈھانچے کو برقرار رکھنا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے اعدادوشمار کے مطابق، اس وقت امریکی فوج میں تقریباً 13 لاکھ فعال اہلکار موجود ہیں، جبکہ ٹرانسجینڈر حقوق کے حامی ادارے اس تعداد کو 15,000 کے قریب قرار دیتے ہیں۔

    26 فروری کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا، ’’یہ امریکی حکومت کی پالیسی ہے کہ فوجی اراکین میں اعلیٰ درجے کی تیاری، مؤثر کارکردگی، یکجہتی، ایمانداری، ہم آہنگی اور وفاداری کو یقینی بنایا جائے۔‘‘ٹرانسجینڈر فوجیوں کے خلاف یہ اقدام اس سے قبل بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے متعارف کرائی گئی پالیسیوں کے برعکس ہے۔ بائیڈن حکومت نے ٹرانسجینڈر افراد کو فوج میں شمولیت اور طبی سہولیات کی فراہمی کی اجازت دی تھی۔ تاہم، ٹرمپ کے اس فیصلے کے تحت تمام جینڈر-افرمیشن میڈیکل کیئر ختم کر دی گئی ہے، جس میں جینڈر ٹرانزیشن (جنس کی تبدیلی) سے متعلق تمام طبی عمل روکنے کے احکامات شامل ہیں۔