Baaghi TV

Tag: پیوٹن

  • پیوٹن کا  26 ارب ڈالر  کا اینٹی ایجنگ منصوبہ

    پیوٹن کا 26 ارب ڈالر کا اینٹی ایجنگ منصوبہ

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن مبینہ طور پر ایک بڑے پیمانے پر 26 ارب ڈالر کے ایسے سائنسی منصوبے کی پشت پناہی کر رہے ہیں جس کا مقصد انسانی عمر بڑ ھانے اور اعضا کی تبدیلی کے ذریعے ’لمبی یا ممکنہ طور پر لافانی زندگی‘ کی طرف پیشرفت کرنا ہے،اس منصوبے میں مصنوعی اعضا، جینیاتی علاج اور حیاتیا تی انجینئرنگ جیسے جدید طریقے شامل کیے گئے ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ روس میں ایک ریاستی ترجیح کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس میں انسانی اعضا کی 3D بائیو پرنٹنگ اور جانوروں کے اندر انسانی اعضا تیار کرنے جیسے تجربات شامل ہیں اس پروگرام کے تحت مستقبل میں انسانی اعضا کی مکمل تبدیلی کو اس دہائی کے آخر تک ممکن بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک اس منصوبے کے تحت انسانی کارٹلیج (غضروف) اور چوہے کے تھائرائیڈ گلینڈ جیسے حیاتیاتی نمونے تیار کیے جا چکے ہیں، جبکہ طویل المدتی مقصد انسانوں کے لیے مکمل اعضا کی تبدیلی کا نظام تیار کرنا ہے منصوبے کی قیادت مبینہ طور پر روسی قیادت سے قریبی تعلق ر کھنے والی شخصیات کر رہی ہیں، جن میں پیوٹن کی بیٹی اور اینڈوکرائنولوجسٹ ماہر ماریا وورونتسووا اور فزکس کے ماہر میخائل کووالچک شامل ہیں، کووالچک کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ انسانی جسم کی مرمت اور اعضا کی تبدیلی کو مستقبل کی سائنس کا بنیادی ہدف سمجھتے ہیں۔

    تاہم بعض روسی سائنسدانوں نے اس منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اس حوالے سے بین الاقوامی سائنسی جرائد میں ہم مرتبہ جائزہ (peer-reviewed) تحقیق موجود نہیں، جس کی وجہ سے ان دعوؤں کو زیادہ تر ’توقعات‘ یا ’مستقبل کے تصورات‘ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہےکہ پیوٹن کی ذاتی دلچسپی طویل عمر اور جسمانی فٹنس کے حوالے سے طویل عرصے سے زیر بحث رہی ہے وہ اسپورٹس اور سخت جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ کریوتھراپی جیسے جدید طریقوں میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں، جس میں جسم کو انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے حالیہ برسوں میں ایک موقع پر پیوٹن نے چینی صدر شی جن پنگ سے گفتگو کے دوران انسانی اعضا کی تبدیلی کے ذریعے لافانی زندگی کے امکانا ت کا ذکر بھی کیا تھا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے کے پیچھے ایک طرف سائنسی ترقی کا دعویٰ ہے تو دوسری جانب اسے روسی قیادت کی عمر اور اقتدار سے متعلق خدشات اور عالمی سطح پر سائنسی دوڑ کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے تاہم فی الحال اس منصوبے کے نتائج اور اس کی سائنسی بنیادوں پر عالمی سطح پر مزید تحقیق اور تصدیق کی ضرورت برقرار ہے۔

  • ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات غیر معمولی طور پر بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں، پیوٹن

    ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات غیر معمولی طور پر بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں، پیوٹن

    چین کے دورے سے قبل جاری بیان میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر بیجنگ جا رہے ہیں، جنہیں انہوں نے اپنا ’پرانا اور اچھا دوست‘ قرار دیا،کہا کہ اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہیں-

    ایک ویڈیو پیغام میں پیوٹن نے کہا کہ روس اور چین سیاست، معیشت، دفاع اور انسانی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، سمجھ بوجھ اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات، خودمختاری اور قومی اتحاد کے احترام پر مبنی ہیں،ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات غیر معمولی طور پر بے مثال سطح تک پہنچ چکے ہیں اور دونوں ممالک کی دوستی کسی کے خلاف نہیں۔

    روسی صدر نے بتایا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر بیجنگ جا رہے ہیں، جنہیں انہوں نے اپنا ’پرانا اور اچھا دوست‘ قرار دیا،کہا کہ اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہیں، 25 برس قبل دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے ’معاہدۂ ہمسائیگی اور دوستا نہ تعاون‘ کے بعد روس اور چین نے ایک جامع تزویراتی شراکت داری قائم کی ہے،دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور زیادہ تر لین دین اب روبل اور یوآن میں کیا جا رہا ہے۔

    اسحاق ڈار سے یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر سے ملاقات

    روسی صدر نے روس اور چین کے درمیان ویزا فری نظام کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سیاحت، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی روابط کو فروغ ملے گا،ماسکو چین کی تاریخ اور ثقافت کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور انسانی تعلقات مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

    ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

  • ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن کے دورہ چین کا اعلان

    ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن کے دورہ چین کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چین کے دورے کا اعلان کردیا، یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے فوراً بعد ہورہا ہے۔

    کریملن نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن 19 مئی کو 2 روزہ دورے پر چین جائیں گے پیوٹن اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات میں ماسکو اور بیجنگ کے درمیان جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے دونوں رہنما اہم بین الاقوامی اور علاقائی معاملات پر بھی گفتگو کریں گے جبکہ مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جائیں گے۔

    دورے کے دوران روسی صدر کی چینی وزیراعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات شیڈول ہے، جس میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کے مختلف پہلو زیر بحث آئیں گے پیوٹن کے دورے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعے کو اپنا دورۂ چین مکمل کرکے واپس روانہ ہوئے ہیں۔ قریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا یہ پہلا دورہ چین تھا۔

    اگرچہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان یوکرین روس تنازع اور ایران کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی، تاہم امریکی صدر کسی بڑی پیشرفت کے بغیر واپس لوٹے۔

  • کرسمس کے موقع پر یوکرینی صدر کی روسی صدر کو بد دُعا

    کرسمس کے موقع پر یوکرینی صدر کی روسی صدر کو بد دُعا

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کرسمس کی شام جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خلاف سخت جملوں کا استعمال کیا ہے-

    صدر زیلنسکی نے ایکس پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی جانب سے یوکرین پر ڈھائے گئے تمام تر مظالم کے باوجود روس ان چیزوں پر قبضہ یا بمباری نہیں کر سکتا جو سب سے زیادہ اہم ہیں۔ ان کے مطابق یہ چیزیں یوکرینی عوام کا دل، ایک دوسرے پر اعتماد اور قومی اتحاد ہیں۔

    اگرچہ زیلنسکی نے اپنے بیان میں براہِ راست روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے کہا کہ آج ہم سب ایک ہی خواب دیکھ رہے ہیں، اور ہم سب کی ایک ہی خواہش ہے: ‘وہ ہلاک ہو جائے’، جیسا کہ ہر کوئی دل ہی دل میں سوچتا ہے۔

    برڈ فلو کے ایک اور کیس کی تصدیق ، لاکھوں مرغیاں تلف کرنیکا فیصلہ

    زیلنسکی نےکہا کہ جب وہ خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ اس سے کہیں بڑی چیز مانگتے ہیں، ہم یوکرین کے لیے امن مانگتے ہیں، ہم اس کے لیے لڑتے ہیں، ہم اس کے لیے دعا کرتے ہیں، اور ہم اس کے حق دار ہیں-

    https://x.com/ZelenskyyUa/status/2003863032968188302?s=20

    صدر زیلنسکی نے یہ ویڈیو پیغام ایسے وقت میں دیا جب روس نے منگل کو یوکرین پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے اور کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی جبکہ اپنے خطاب میں زیلنسکی نے ان حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کرسمس کی آمد سے قبل روس نے ایک بار پھر اپنا اصلی چہرہ دکھایا ہے۔

    وفاق اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 730 ملین ڈالر کے دو اہم منصوبوں پر دستخط

  • روس اپنے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا،پیوٹن

    روس اپنے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا،پیوٹن

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس اپنے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، روس یوکرین میں اپنے اہداف سفارتی یا فوجی ذرائع سے حاصل کرے گا اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔

    ایک بیان میں صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ یوکرین میں سیکیورٹی بفر زون کو مزید وسعت دینے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ روس کی سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے خصوصی فوجی آپریشن کے تمام اہداف بلا شبہ حاصل کیے جائیں گے اور روس اپنے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گاانہوں نے زور دیا کہ روسی افواج کو درپیش خطرات کا مؤثرجواب دیا جا رہا ہے اور زمینی حقائق کے مطابق حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔

    روسی صدر نے انکشاف کیا کہ روس ایسے جدید اورنئے ہتھیار تیارکررہا ہے جو اس وقت کسی اور ملک کے پاس موجود نہیں۔ ان کے مطابق دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں روس مسلسل پیش رفت کر رہا ہے درمیانے فاصلے تک مارکرنے والا ہائپرسونک میزائل بھی جنگی کارروائیوں میں شامل کیا جائے گا، جو روس کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کریگا۔

    صدر پیوٹن کے بیان کو روس اوریوکرین جنگ میں ممکنہ شدت اور طویل المدتی حکمت عملی کی عکاسی قراردیا جا رہا ہے جبکہ عالمی سطح پراس اعلان کو تشویش کی نظرسے دیکھا جا رہا ہے۔

  • پیوٹن سے ملاقات کے بعد کم جونگ کی کرسی کی صفائی کرکے ڈی این اے کے ثبوت مٹا دیئے گئے

    پیوٹن سے ملاقات کے بعد کم جونگ کی کرسی کی صفائی کرکے ڈی این اے کے ثبوت مٹا دیئے گئے

    بیجنگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی ملاقات کے بعد شمالی کوریا کے معاونین نے اپنے رہنما کی کرسی کی صفائی کرکے ان کے ڈی این اے کے نشانات مٹانے دیئے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ولادیمیر پیوٹن اور کم جونگ ان کی ملاقات کے بعد کم جونگ ان کے عملے کو اپنے رہنما کی موجودگی کے تمام نشانات مٹاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،روسی صحافی الیگزینڈر یوناشیف نے اپنے یوٹیوب چینل یوناشیو لائیو پر بتایا کہ کم جونگ ان کے عملے نے اپنے رہنما کے ڈی این اے کے تمام نشانات کو بہت احتیاط سے مٹایا۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کِم جونگ اُن کے عملے نے اس کرسی کی پشت، بازو اور سائیڈ ٹیبل کو بھی اچھی طرح رگڑ کر صاف کیا ، عملہ ان کا استعمال شدہ گلاس ٹرے میں اٹھا کر اپنے ساتھ لے گیا،الیگزینڈر یوناشیف نے بتایا کہ ملاقات کے بعد کم جونگ ان کے عملے کی اس عجیب و غریب انداز میں صفائی کرنے کے باوجود بھی دونوں رہنماؤں کی ملاقات مثبت رہی ، دونوں بہت مطمئن نظر آئے اور ایک ساتھ چائے سے بھی لطف اندوز ہوئے۔

    بلوچستان: سیاسی جماعتوں کا 8 ستمبر کو صوبے بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

    سوشل میڈیا پر یہ غیر معمولی احتیاط کس خوف کے تحت برتی گئی، اس پر قیاس آرائیاں جاری ہیں، بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کِم جونگ اُن روسی خفیہ اداروں یا چینی نگرانی سے محتاط ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی اپنے حیاتیاتی نقوش کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کرتے ہیں اور ان کے محافظ غیر ملکی دوروں میں ان کے فضلے کو بھی ساتھ لے کر واپس آتے ہیں۔

    بیجنگ مذاکرات کے دوران کِم جونگ اُن نے ماسکو کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا اور صدر پیوٹن نے انہیں ’محترم چیئرمین آف اسٹیٹ افیئرز‘ کہہ کر مخاطب کیاصدر پیوٹن نے یوکرین میں شمالی کوریائی فوجی دستوں کی تعیناتی پر شکریہ بھی ادا کیا، تاہم رپورٹس کے مطابق بھیجے گئے 13 ہزار فوجیوں میں سے لگ بھگ 2 ہزار ہلاک ہو چکے ہیں،یہ کِم جونگ اُن کا وبا کے بعد چین کا پہلا دورہ تھا جہاں انہوں نے پیوٹن اور شی جن پنگ سمیت کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقات کی، ماسکو اور پیانگ یانگ کے درمیان 2024 کے دفاعی معاہدے کے بعد دونوں ممالک مغرب کے خلاف قریب تر تعلقات میں بندھے نظر آ رہے ہیں۔

    حسن جیل سے چھوٹ گیا تو مجھ سے اپنا بدلہ ضرور لے گا، سامعہ حجاب

  • عالمی عدالت کے وارنٹ کے باوجود روسی صدر کامنگولیا میں پرتپاک استقبال

    عالمی عدالت کے وارنٹ کے باوجود روسی صدر کامنگولیا میں پرتپاک استقبال

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن دو روزہ دورے پر منگولیا پہنچے، جہاں ان کا خصوصی استقبال کیا گیا
    یوکرین نے گزشتہ سال بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلے کے مطابق ان کی گرفتاری کی درخواست کی تھی لیکن ماسکو نے کہا کہ وہ اس بارے میں فکر مند نہیں ہیں،آئی سی سی کے وارنٹ کے باوجود پیوٹن کا منگولیا میں شاندار استقبال کیا گیا۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا منگل کو منگولیا کے سرکاری دورے پر سرخ قالین پر استقبال کیا گیا، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کے تحت انہیں گرفتار کرنے میں ناکامی کو یوکرین نے انصاف کے خلاف ایک دھچکا قرار دیا تھا۔روسی صدر دارالحکومت اولانبتار میں اپنی لیموزین سے باہر نکلے تو، ان کا استقبال ان کے منگول ہم منصب نے گھوڑے پر سوار رسمی محافظوں کی قطار کے سامنے کیا۔

    بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے گزشتہ سال پیوٹن کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے جس میں عدالت کے 124 رکن ممالک بشمول منگولیا کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ روسی صدر کو گرفتار کریں اور اگر وہ اپنی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو مقدمے کے لیے اسے دی ہیگ منتقل کریں۔یوکرائنی وزارت خارجہ کے ترجمان ہیورہی تیکھی نے کہا کہ منگولیا کی جانب سے اس پر عمل کرنے میں ناکامی "بین الاقوامی فوجداری عدالت اور فوجداری قانون کے نظام کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا”۔منگولیا نے ایک ملزم مجرم کو انصاف سے بچنے کی اجازت دی ہے،

    آئی سی سی کے وارنٹ میں پیوٹن پر یوکرین سے سینکڑوں بچوں کو غیر قانونی طور پر ملک بدر کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ کریملن نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی طور پر محرک ہے۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ماسکو کو وارنٹ کے سلسلے میں کسی کارروائی کی کوئی فکر نہیں ہے، کیونکہ روس کا منگولیا کے ساتھ ’’زبردست بات چیت‘‘ ہے اور اس دورے کے تمام پہلوؤں پر پہلے سے بات چیت کی گئی تھی۔منگولین رہنما نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا۔

    منگولیا ایک بڑی پائپ لائن کے منصوبہ بند راستے پر ہے جسے روس اپنے یامال علاقے سے چین تک سالانہ 50 بلین کیوبک میٹر قدرتی گیس لے جانے کے لیے تعمیر کرنا چاہتا ہے۔پاور آف سائبیریا 2 نامی یہ منصوبہ روس کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے کہ یوکرین کی جنگ کے آغاز کے بعد سے یورپ میں گیس کی فروخت میں ہونے والے نقصان کی تلافی کی جائے۔نیا منصوبہ طویل عرصے سے گیس کی قیمتوں جیسے اہم مسائل پر الجھا ہوا ہے۔ تاہم،روسی صدرنے اپنے دورے کے موقع پر کہا کہ تیاری کا کام، بشمول فزیبلٹی اور انجینئرنگ اسٹڈیز، طے شدہ کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔

    روسی صدر کا یہ دورہ جاپانی فوج پر سوویت منگول فوجیوں کی مشترکہ فتح کی 85ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔ منگولیا روس کا پڑوسی ملک ہے، روسی صدر پیر کی شام منگولیا کے دارالحکومت اولانبٹار پہنچے۔روسی صدر کے منگولیا پہنچتے ہی ان کی گرفتاری کے مطالبات اٹھنے لگے، کیونکہ منگولیا بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن ہے اور عدالت کی جانب سے روسی صدر کے وارنٹ جاری ہیں،ولادیمیر پوتن نے سال 2019 کے بعد پہلی بار منگولیا کا دورہ کیا ہے۔

    روسی صدرولادیمیر پوتن دنیا کے دوسرے طاقتور ترین ملک کے صدر ہیں اس لیے امید نہیں کہ وہ آئی سی سی کے احکامات پر عمل کریں گے۔ روس پہلے ہی آئی سی سی کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے ولادیمیر پوتن کو روس کے اندر گرفتار نہیں کیا جا سکتا، اس کے علاوہ اگر وہ ملک میں نہیں ہیں تو ان پر مقدمہ چلانا ممکن نہیں۔

    پی ایچ ڈی کے لئے بیرون ملک جانیوالے 57 اساتذہ واپس نہ آئے

    جعلی سفری دستاویزات پر بیرون ملک جانے والے 2 مسافر گرفتار

    اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خوشخبری،بیرون ملک بیٹھ کر اپنی پراپرٹی ٹرانسفر کرسکیں گے

    بیرون ملک پاکستانیوں کے شرمناک کام،50 فیصد جرائم میں ملوث

    بیرون ملک 29ہزار سے زائد پاکستانی جیلوں میں قید

    بھارت کی صنم فیس بک پر پاکستانی لڑکےکو دل دے بیٹھی،کر لی شادی

    بلاول کامیانمار میں تین پاکستانی نوجوانوں کے مبینہ اغوا کا نوٹس

    سعودی عرب میں 7 پاکستانیوں سمیت 106 افراد کو موت کی سزا

    کرغستان میں 1200 غیرقانونی پاکستانی ہیں جن کو جلد ڈی پورٹ کیا جائے گا، اسحاق ڈار

    پاکستانی سفارتکار کے باورچی کی شرمناک حرکت،بھارت نے ملک بدر کر دیا

    امریکا کے ساتھ میچ سے قبل پاکستانی کھلاڑی امریکا میں کیا "گلُ ” کھلاتے رہے؟

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

  • پیوٹن نے اگلے 6 سال کیلئے روس کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا

    پیوٹن نے اگلے 6 سال کیلئے روس کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا

    ماسکو: روسی صدر ویلادیمیرپیوٹن نے مغرب سے بدترین کشیدگی کے دوران مزید 6 سالہ مدت کے لیے صدارت کا باقاعدہ حلف اٹھالیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبرایجنسی روئٹرز کے مطابق کریملن میں منعقدہ تقریب میں ویلادیمیر پیوٹن نے اگلے 6 سال کے لیے روس کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا جبکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے تقریب کا بائیکاٹ کردیا گیا۔

    پیوٹن نے صدارت کی نئی مدت کی افتتاحی تقریر میں کہا کہ یوکرین میں دوسال سے زائد عرصے سے جنگ لڑنے والے فوجیوں کے سامنے سرجھکانا چاہتا ہوں اور مارچ میں ان کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک متحد او درست سمت پر ہے کریملن ہال میں غیرملکی مہمانوں اور سفارت کاروں سے گفتگو میں روسی صدر نے کہا کہ روس کے شہریوں نے ملک کی تقدیر سنوارنے کے لیے مہر ثبت کردی ہے اور ایسے وقت میں جب ہمیں انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے تو اس کی بڑی اہمیت ہے، میں اس کو ہمارے مشترکہ تاریخی اہداف، اپنے حقوق، اقدار، آزادی اور روس کے قومی مفادات کا بہادری سے دفاع سمجھتا ہوں۔

    او آئی سی اجلاس میں اسلاموفوبیا کے حل کیلئے تجاویز دیں،اسحاق ڈار

    پیوٹن نے حلف برداری کے بعد روسی سیاست دانوں سے کہا کہ وہ مغرب سے جوہری ہتھیاروں سمیت کسی بھی معاملے پر مذاکرات سے انکاری نہیں ہیں، اب فیصلہ ان کا ہے کہ آیا وہ روس کو برداشت کرنے کے خواہاں ہیں یا جارحیت کی پالیسی پر کاربند رہتے ہیں، ہمارے ملک پر برسوں سے بدترین دباؤ ہے، جس کو وہ جاری رکھنا چاہتے ہیں یا تعاون اور امن کی راہ پر چلتے ہیں۔

    انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کمی

    واضح رہے کہ 71 سالہ پیوٹن کو قومی سطح پر سیاسی میدان میں برتری حاصل ہے جہاں بڑے اپوزیشن لیڈرز قید یا جلاوطنی میں ہیں اور ان کے سب سے بڑے مخالف الیکسی نیوالنی رواں برس فروری میں دوران حراست اچانک جاں بحق ہوگئے تھے، نیوالنی کی بیوہ نے پیوٹن کی حلف برداری کے موقع پر اپنے حامیوں کو ویڈیو پیغام میں کہا کہ پیوٹن کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں کیونکہ ان کی ہرمدت میں حالات خراب تر ہوگئے ہیں اور اپنے حکمرانی میں خوف کے عالم کیا ہوگا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا لاہور کو 22 کروڑ روپے مالیت کی 17 گاڑیوں کا تحفہ

    ویلادیمیر پیوٹن کو عالمی سطح پر مغربی ممالک کے ساتھ کشیدگی کا سامنا ہے اور یوکرین جنگ میں جہاں امریکا سمیت دیگر نیٹو ممالک ان کے مخالف ہیں وہیں پیوٹن ان پر الزام عائد کر رہے ہیں وہ یوکرین کے بہانے روس کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔

  • روسی صدر کی مغربی ممالک کو تیسری عالمی جنگ کی دھمکی

    روسی صدر کی مغربی ممالک کو تیسری عالمی جنگ کی دھمکی

    ماسکو: پانچویں بار روسی صدر منتخب ہونے والے ولادیمیر پیوٹن نے مغربی ممالک کو تیسری عالمی جنگ کے حوالے سے خبردار کر دیا-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے ”دی گارڈین“ کی رپورٹ کے مطابق 17 مارچ کی شام انتخابات میں کامیابی کے بعد خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے مغربی ممالک کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے اپنے حامیوں کو بتایا کہ اس طرح کے ردعمل کی انہیں توقع تھی، آپ ان سے کیا امید کر رہے تھے؟ کیا یہ ہمارے لیے تالیاں بجائیں گے؟ وہ ہمارے خلاف ہیں، ان کا مقصد ہماری ترقی کو محدود کرنا ہے، اس لیے وہ کچھ بھی کہتے رہیں گے۔

    روسی صدر نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ سرحد یوکرینی حامی فوجیوں کے حملوں سے محفوظ رہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور صدر ان کا پہلا کام یوکرین جنگ سے نمٹنا، فوج کو مضبوط بنانا اور دفاع کو بہتر بنانا ہے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں کچھ بھی ممکن ہے، یوکرین میں مغربی فوج کی موجودگی دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر پہنچا سکتی ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی ایسا چاہتا ہے۔

  • پیوٹن پانچویں بار روس کے صدر منتخب

    پیوٹن پانچویں بار روس کے صدر منتخب

    ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ابتدائی نتائج کے مطابق صدارتی انتخاب جیت لیا وہ پانچویں بار روس کے صدر بن جائیں گے-

    باغی ٹی وی : روسی میڈیا کے مطابق روس میں صدارتی انتخاب کیلئے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا اور تمام پولنگ اسٹیشن بند کردیے گئے، ابتدائی نتائج کے مطابق پیوٹن نے 87.97 فیصد ووٹوں کےساتھ روسی صدارتی انتخاب جیت لیا اور اگلے 6 سال کیلئے صدر منتخب ہوگئے، پیوٹن 1999 سے روس پر حکمرانی کر رہے ہیں،اور دنیا کی بڑی جوہری طاقت کی حامل ریاست کی سربراہی کے لیے مزید 6 سال مل جائیں گے۔

    روس میں صدارتی انتخاب کیلئے ووٹنگ 15سے17مارچ تک جاری رہی، پولنگ اسٹیشنزبندہونے تک 11کروڑ 23 لاکھ ووٹرزمیں سے 74 فیصد نے ووٹ ڈالا روس کےصدارتی انتخاب میں پہلی بارخیرسون اور ڈونیسک دیگردوعلاقوں میں بھی ووٹنگ ہوئی جبکہ روس کے صدارتی انتخاب میں سب سے زیادہ چیچنیامیں 96فیصد ووٹنگ ہوئی، روس سے باہر دنیا بھرمیں 230 پولنگ اسٹیشنوں پرسوا لاکھ ووٹرز نے اپنا حق رائے استعمال کیا۔

    روس میں صدارتی انتخابات کے دوران متعدد پیوٹن مخالف ووٹرز نے آنجہانی اپوزیشن لیڈر الیکسی ناولنی کی جانب سے مرنے سے قبل دی گئی مظاہرے کی کال پر عمل کیا، اتوار کے روز ہزاروں روسی ووٹرز نے ’نون اگینسٹ پیوٹن‘ مظاہروں میں حصہ لیا، اپوزیشن نے ان مظاہروں کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف پر امن احتجاج قرار دیا۔

    ان مظاہروں میں پیوٹن مخالف ووٹرز دن بارہ بجے پولنگ اسٹیشنز پہنچے جہاں انہوں نے اپنا بیلٹ پیپر ضائع کیا یا پھر پیوٹن کے مدمقابل تین امیدواروں میں سے کسی کو ووٹ دیا،کچھ لوگوں نے بیلٹ پیپر پر آنجہانی اپوزیشن لیڈر الیکسی ناولنی کا نام بھی تحریر کیا-

    یادرہے کہ خود الیکسی ناولنی نے اپنی موت سے قبل سوشل میڈیا پر اپنے وکلا کے ذریعے دیے گئے ایک پیغام میں ’نون اگینسٹ پیوٹن‘ مظاہروں کی کال دی تھی۔