Baaghi TV

Tag: پیٹرول پرائس

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 روپے تک کا اضافہ کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا گیا۔نوٹی فکیشن کے مطابق حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپےفی لیٹر مہنگاکردیا ہے۔اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 257 روپے 13 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگیا، اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 267روپے 95پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12بجے سے ہوگا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت نے مسلسل دوسری بار 15 دسمبر کو پیٹرول 3 روپے 47 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 63 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا تھا، اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 256 روپے 13 پیسے اور فی لیٹرل ڈیزل 260 روپے 95 پیسے میں دستیاب تھا۔حکومت نے یکم جنوری سے 15 جنوری تک کے لیے نئے سال کے آغاز پر بھی پیٹرول 56 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اس کی قیمت 252 روپے66 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 2 روپے 96 پیسے بڑھا کر 258 روپے 34 پیسے مقرر کر دی گئی تھی۔

  • حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ

    حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ

    حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ نے بتایا کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 248 روپے 38 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 255 روپے 14 پیسے پر برقرار رہے گی۔یاد رہے کہ 31 اکتوبر کو حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی فی لیٹر قیمتوں میں کمی کردی تھی۔حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 35 پیسے کا اضافہ کیا تھا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 روپے 85 پیسے فی لیٹر بڑھائی گئی تھی۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 248 روپے 38 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی فی لیٹر قیمت 255 روپے 14 پیسے ہوگئی ہے۔مزید بتایا گیا تھا کہ مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں ایک روپے 48 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 61 پیسے کی کمی کی گئی ہے۔واضح رہے کہ 13 نومبر کو ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 16 نومبر سے ایک بار پھر 4 سے 5 روپے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی اوسط قیمتوں میں گزشتہ 15 روز کے دوران بالترتیب 1.7 ڈالر اور 4.4 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا ہے۔ پیٹرول پر درآمدی پریمیم تقریباً ایک ڈالر فی بیرل تک ہے، حتمی شرح تبادلہ کے حساب کتاب اور موجودہ ٹیکس کی شرحوں کی بنیاد پر پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 4 اور 5 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔

    کراچی خودکش حملہ: چشم دید گواہان نے مرکزی ملزم کوشناخت کرلیا

    پی ٹی آئی ،جے یوآئی کے اتحاد کی کوئی بات نہیں ہوئی، عبدالغفور حیدری

    دھاندلی سے واضح ہوگیا کہ پیپلزپارٹی کا چراغ بجھنے والا ہے، حافظ نعیم

  • پاکستان دو قدم بڑھتا اور پھر چار قدم پیچھے کیوں؟ثمینہ پیرزادہ کا سوال

    پاکستان دو قدم بڑھتا اور پھر چار قدم پیچھے کیوں؟ثمینہ پیرزادہ کا سوال

    ثمینہ پیرزادہ نے حال ہی میں ایک ٹویٹ کیا جس میںانہوں نے سوال پوچھا کہ ایسا کیوں ہے کہ پاکستان دو قدم آگے بڑھتا ہے اور چار قدم پیچھے چلا جاتا ہے دوسرے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مڈل کلاس طبقہ ہمیشہ سے ہی پستا آیا ہے۔یہی نہیں دو دن قبل جو انہوں نے ٹویٹ کیا اس میں لکھا کہ ”توڑ دو بھیک کا کٹورا کپتان کو واپس لاﺅ پھر دیکھو ہم کیا کرتے ہیں، پیسے کے بغیر کیسے چلے گا کاروبار ؟ ظالمو صاف شفاف انتخابات واحد حل کوئی دھاندلی نہیں۔ان کے ان ٹویٹس پر کافی کمنٹس کئے گئے کوئی ثمینہ کے حق میں بولا تو کوئی خلاف ۔

    یاد رہے کہ اداکارہ ثمینہ پیرزادہ جو پچھلے کچھ عرصے سے بہت زیادہ سیاست میں دلچپسی لے رہی ہیںاو ر عمرا ن خان کو کھل کر سپورٹ کررہی ہیں ان کے تیکھے مگر عمران خان کے حق میں کئے گئے ٹویٹس پر صارفین خوب ہاتھ صاف کرتے ہیں کچھ تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ ہم آپ کو بہت پسند کرتے تھے آپ ہماری پسندیدہ اداکارہ تھیںلیکن جب سے آپ عمرا ن خان کی اندھا دھند تقلید کررہی ہیں اور غلط کو غلط نہیں بلکہ صحیح کہہ رہی ہیں تب سے آپ ہماری فیورٹ نہیں رہیں۔ثمینہ پیرزاد ہ نے یہ تو ٹویٹ کر دیا کہ اختلاف رائے کا احترام کیا جائے لیکن وہ خود اس بات پر عمل نہیں کرتیں اور کسی دوسرے کا عزت احترام سے کیا گیا اختلاف بھی ان کو اتنا چھبتا ہے کہ بلاک کر جاتی ہیں۔