Baaghi TV

Tag: پیپلز پارٹی

  • سانحہ گل پلازہ  پر سندھ حکومت پر تنقید:ایم کیو ایم کے وزراء اور اسمبلی اراکین سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی

    سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت پر تنقید:ایم کیو ایم کے وزراء اور اسمبلی اراکین سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی

    سانحہ گل پلازہ پر تنقید کے باعث پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت متعدد سینئر رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

    ایم کیو ایم کی اعلی قیادت خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی سمیت اراکین سندھ اسمبلی کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہےسندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرعلی خورشیدی کی بھی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور رہنماؤں نے سیکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کو فوری طور پر واپس آنے کی ہدایت جاری کر دی، جس کے بعد متعلقہ موبائلز اور اہلکار واپس بلا لیے گئے، ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور رہنماؤں نے سیکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہےڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے، جب کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس ایک موبائل اور 10 اہلکار موجود تھے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 اہلکار تعینات تھے، جنہیں واپس لے لیا گیا۔

    سیکیورٹی واپس لینے کے اس اچانک اقدام پر ایم کیو ایم نے شدید ردعمل کا فیصلہ کرتے ہوئے کل شام چار بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر لی ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے ایم کیو ایم رہنما رکن اور قومی اسمبلی حسان صابر نے تصدیق کی کہ ایم کیو ایم کے اراکین قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کی سیکیوریٹی واپس لے لی گئی ہے،اس دوران کسی کو بھی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ دار سندھ حکومت ہوگی،سندھ حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ ان پر تنقید بھی نہ کی جائے،سیکیورٹی واپس بلانےکی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ’ممکن ہے سانحہ گل پلازہ پر تنقید ایک وجہ ہو، کچھ بھی ہو ہم سانحہ گل پلازہ پر سوالات اٹھاتے رہیں گے-

  • بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک،تجزیہ   شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک،تجزیہ شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید پاکستان کی سیاست کے وہ نام ہیں جنہوں نے صرف اقتدار نہیں کیا بلکہ ایک سیاسی سوچ، ایک نظریہ اور ایک سمت دی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بجا طور پر عالمی سطح کا رہنما اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قومی خودمختاری، عوامی وقار اور خارجہ پالیسی میں خودداری کو ترجیح دی، جبکہ محترمہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے مقابل جمہوریت کو ایک عالمی آواز دی آج بلاول بھٹو زرداری انہی دو فکری روایتوں کے وارث ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ اس وراثت کو مستقبل کے پاکستان کے لیے کس وژن میں ڈھالتے ہیں۔ پاکستان اس وقت معاشی کمزوری، ادارہ جاتی عدم توازن، سماجی ناانصافی، اور عوام کا نظام سے اعتماد اٹھ جانا ایسے مسائل ہیں جن کا حل وقتی نعروں سے ممکن نہیں۔ بلاول بھٹو کے لیے یہ موقع بھی ہے اور امتحان بھی کہ وہ خود کو صرف ایک جماعتی لیڈر نہیں بلکہ ریاستی سطح کے سیاستدان کے طور پر پیش کریں۔

    پیپلز پارٹی کا بنیادی نظریہ ہمیشہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک مضبوط سماجی معاہدے پر مبنی رہا ہے۔ آج اس معاہدے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے، جہاں ریاست شہری کو تعلیم، صحت اور انصاف فراہم کرے اور شہری ریاست پر اعتماد بحال کرے۔ بلاول بھٹو اگر اس سماجی معاہدے کو اپنی سیاست کی بنیاد بنا لیں تو وہ بھٹو ازم کو محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت بنا سکتے ہیں۔ سیاسی وژن کا تقاضا یہ بھی ہے کہ معیشت کو محض اعداد و شمار کے بجائے انسانی ترقی سے جوڑا جائے۔ روزگار پر مبنی معیشت، زرعی اصلاحات، مقامی صنعت کی سرپرستی اور کمزور طبقات کے لیے سماجی تحفظ—یہ وہ نکات ہیں جو بلاول بھٹو کو دیگر سیاستدانوں سے ممتاز کر سکتے ہیں۔ ایک واضح معاشی بیانیہ ہی عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔

    خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی بلاول بھٹو کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی خوددار اور فعال سفارت کاری کو جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائیں۔ عالمی طاقتوں سے برابری کی بنیاد پر بات چیت اور کشمیر و فلسطین جیسے اصولی مؤقف یہ سب ایک قومی لیڈر کے وژن کا حصہ ہوتے ہیں۔ آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا بلاول بھٹو زرداری سیاست کو صرف اقتدار کی جنگ سمجھتے ہیں یا ریاست کی تعمیر کا عمل؟ اگر وہ وژن، اصول اور عوامی وابستگی کو اپنا راستہ بناتے ہیں تو وہ صرف ایک بڑے نام کے وارث نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی سیاست کا ایک سنجیدہ حوالہ بن سکتے ہیں۔ قوم آج بھی ایک ایسے سیاسی وژن کی منتظر ہے جو ماضی کی عظمت سے سبق لے کر مستقبل کی سمت متعین کرے—اور یہ موقع بلاول بھٹو کے سامنے ہے۔

  • ایک سازش کے تحت سندھ کی کردار کشی کی جاتی ہے، بلاول بھٹو زرداری

    ایک سازش کے تحت سندھ کی کردار کشی کی جاتی ہے، بلاول بھٹو زرداری

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آپ کو اپنے وسائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، جب بے نظیر بھٹو نے کوشش کی تو سازشوں کے تحت اسے ناکام بنادیا گیا۔

    مٹھی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک سازش کے تحت سندھ کی کردار کشی کی جاتی ہے اس جھوٹے بیانیے کا جواب تھرپارکر کی ترقی ہے، جب بھی تھر آتا ہوں تو خوشی ہوتی ہے، یہاں کے عوام پیپلز پارٹی، بے نظیر بھٹو اور شہید بھٹو سے محبت کرتے ہیں، جتنی محنت تھرپارکر کی ترقی کے لیے پیپلز پارٹی نے کی ہے تو ثابت کردیا ہے کہ پارٹی کتنا یہاں کی عوام سے محبت کرتی ہے ہماری بدقسمتی ہے کہ آپ کو اپنے وسائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، جب بے نظیر بھٹو نے کوشش کی تو سازشوں کے تحت اسے ناکام بنادیا گیا۔

    بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13 فیصد اضافہ

    انہوں نے کہا کہ تھرکول کی وجہ سے معاشی انقلاب آیا،اس کی وجہ سے ہم نے ایک سماجی انقلاب تھرپارکر میں دیکھا ہے، یہاں نہ ڈسپنسری، نہ ہیلتھ یونٹ اور نہ اسپتال ہوتے تھے لیکن اب صحت کا نظام تھرپارکر میں بچھایا گیا ہے، تھرپارکر کی ترقی کے لیے ہم نے تھر فاؤنڈیشن بنائی، تھرپارکر سے حاصل منافع کا ایک حصہ اس فاؤنڈیشن کو دیا جاتا ہے۔

    وفاق نےمتبادل راستوں کے ذریعے کینو اور آلو کی ایکسپورٹ کی اجازت دیدی

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم پورے سندھ میں اسی طریقے سے محنت کررہے ہیں، ہماری حکومت عوام دوست حکومت ہے، ہم صوبے کے عوام کے مفاد میں سوچتے ہیں، ہم نے سندھ میں یونیورسٹیز اور اس کے کیمپس کو دگنا کیا، ہم اسی طرح دیگر صوبوں سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، امید ہے کہ تھرپارکر کے عوام تعلیم حاصل کرکے ہر شعبے میں ترقی کریں گے،مجھے خوشی ہوئی کہ تھرپارکر میں گلگت کے طالب علم بھی تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں-

    کراچی اور لاہور کے درمیان بعض فضائی راستے آج اور کل بند رہیں گے

  • بحرانوں میں صرف حکومت کا ہی کردار نہیں ہوتا، مولا بخش چانڈیو

    بحرانوں میں صرف حکومت کا ہی کردار نہیں ہوتا، مولا بخش چانڈیو

    حیدرآباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن پربھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ملک اس وقت شدید سیاسی بحران کا شکار ہے اور جب تک یہ بحران ختم نہیں ہوگا، معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں۔

    حیدرآباد پریس کلب کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےمولا بخش چانڈیو نے کہا کہ حیدرآباد کی شامیں محبتوں والی ہیں، ایسی شامیں کسی اورملک میں دیکھنے کونہیں ملتیں،وہ کسی بھی مکتبہ فکر کے خلاف نفرت کی بات نہیں کرتے اور ہمیشہ برداشت اور رواداری کے قائل رہے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایک سیاسی کارکن ہیں اورکبھی خود کو وڈیرہ نہیں سمجھا، موجودہ حالات میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن پربھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ جب بحران پورے ملک کو ہلا رہے ہوں تواپوزیشن کا کرداربھی اتنا ہی اہم ہوجاتا ہے۔ٕ

    وینزویلا پر حملہ،امریکی طیارہ گرفتار صدر کو لے کر نیویارک پہنچ گیا

    پیپلزپارٹی کے رہنما نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما بانی پرجان قربان کرنے کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن اپنی قائد کی شریک حیات کو چھوڑ کربھاگ گئے، اپوزیشن کواپنا کردارادا کرنا چاہیے جو وہ اس وقت نہیں کررہی، سیاسی جماعتوں نے اپنے فرائض ادا کرنے کے بجائے تما م بوجھ ایک ادارے پر ڈال دیا ہے، حالانکہ سیاسی جماعتوں کو خود آگے بڑھ کر کردارادا کرنا چاہیے اگرحکومت معاملات درست نہیں کر پا رہی تو اپوزیشن کو میدا ن میں آ کرملک کیلئے اپنا کردارادا کرنا ہوگا، پیپلز پارٹی اشاروں کنایوں میں نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے پر یقین رکھتی ہے۔

    وزیراعظم کا ڈاکٹر پرامیلا لال کے انتقال پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار

  • پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے ان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا،حافظ نعیم الرحمان

    پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے ان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا،حافظ نعیم الرحمان

    کراچی:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا مشن کراچی کو موئنجو دڑو بنانے کا ہے، سندھ کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے ان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا-

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کر دیتے ہیں، کرا چی میں پیپلز پارٹی کو بھی فارم 47 کے ذریعے مسلط کیا گیا، پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے ان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا، آئین میں ترمیم کرنا ہو تو پیپلزپارٹی حکومت کا ساتھ دیتی ہے، جب عوام کی بات آئے تو بلیم گیم شروع ہوجاتا ہے، کراچی منی پاکستان ہے اور پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتی ہے۔

    ایم کیو ایم کی کراچی بچاؤمہم پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ اب ایم کیو ایم غیر متعلقہ ہوچکی ہے، ایم کیو ایم کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں، ہم بھی انہیں سنجیدہ نہیں لیتے، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی ہر کام مل کر کرتے ہیں اور پورا حصہ لیتے ہیں پھر کس طرح ایسی بات کرتے ہیں، ایم کیو ایم اب بھی وفا قی حکومت کا حصہ ہے-

    پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کی کارروائی، دہشتگرد حملہ ناکام بنا دیا

    انہوں نے کہا کہ ملک کے چاروں صوبوں میں گورننس کا بحران ہے، کراچی کا پنجاب سے موازنا نہ کیا جائے، پنجاب میں جتنے فنڈز ملتے ہیں اس حساب سے کارکردگی دیکھی جائے، سندھ کا تو برا حال ہے ہی لیکن پنجاب میں بھی دودھ کی نہر نہیں بہہ رہیں،سندھ کی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے، یہ لوگ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں، پیپلزپارٹی کہتی ہے کہ کے فور منصوبہ وفاق کی ذمہ داری ہے، یہ لوگ جب وفاق میں تھے اس وقت انہو ں نے کیا کیا تھا، اب بھی یہ وفاق کا حصہ ہیں، ہر مشکل وقت میں وفاق کے ساتھ ہیں، کے فور کیلئے پانی کو گھروں تک پہنچانے کا کام بھی تو سندھ حکو مت کا تھا لیکن سندھ حکومت نے اپنے حصے کا کوئی کام نہیں کیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے 3 ہزار 400 ارب روپے کھا گئی ہے، نعمت اللہ خان نے اپنے دور کے آخر میں کے فور پر کام شروع کردیا تھا، 21 سال ہوگئے ابھی تک منصوبہ مکمل نہیں ہواکراچی کی شہری سوال کرتے ہیں کب تک ہمارے بچے ڈمپر سے کچلے جاتے رہیں گے، کب تک بچے گٹروں میں گر کر ہلاک ہوتے رہیں گے، شہر کو اس مافیا سے نجات دلانا ہوگی، صوبہ بنانے کی بات اس لیے کی جاتی ہے تاکہ سندھی مہاجر لڑیں، صوبے بنانے سے کس نے روکا ہے؟ تمام اختیارات کی مقامی حکومتوں کو منتقلی سے کون روکتا ہے، کون سی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔

    ٹی20 ورلڈ کپ:بنگلا دیش کا کرکٹ ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان

    امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے آپ کبھی 10، کبھی 20 اور کبھی 1970 کی ڈبل ڈیکر لا رہے ہیں، بلاول کا وژن کراچی کو موئن جو دڑو بنانے کا ہے، موہنجو دڑو میں بھی کوئی نظام اور تہذیب تھی، بلاول وژن کی بات کرنے والے وزیر اعلیٰ سندھ حساب دیں، جنہوں نے کراچی میں میئر شپ پر قبضہ کیا اور جنہوں نے جعلی حکومت دی وہی چھڑوائیں بھی، وسیع تر قومی مفاد کے نام پر سسٹم مسلط کرنے والے جواب دیں۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب میں غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے خلاف 15 جنوری سے مہم کا آغاز کیا جائے گاانتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر کرائے جائیں تاکہ پورے ملک کے عوام اپنی پسند کی جماعت کو ووٹ دے سکیں پارٹی پوزیشن کا تعین پورے پاکستان میں حاصل ہونے والے ووٹوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور اسی تناسب سے نشستیں مختص کی جائیں، انتخابات کو شفاف بنایا جائے اور انتخابی عمل میں کسی قسم کی انجینئرنگ نہ کی جائے۔

    حوالہ ہنڈی کا غیر قانونی کاروبار کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، محسن نقوی

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر ووٹ کی قدر نہ کی گئی اور زبردستی عوام پر فیصلے مسلط کیے گئے تو انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد ختم ہو جائے گاعوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی رائے کو تسلیم کیا جائےسڑکوں پر احتجاج کرنا ہمارا جمہوری اور آئینی حق ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے احتجاج کے دوران پورے سندھ کو آگ لگا دی گئی، جبکہ ہمارے احتجاج ہمیشہ پرامن ہوتے ہیں، کرپٹ عناصر کو ہمارے احتجاج سے تکلیف ہوتی ہے، اسی لیے وہ منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں۔

  • شہید بے نظیربھٹو نےبدترین آمریت کا سامنا کیا،شیری رحمان

    شہید بے نظیربھٹو نےبدترین آمریت کا سامنا کیا،شیری رحمان

    پی پی پی کی مرکزی رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو ہمیشہ آمریت کے خلاف کھڑی رہیں، بینظیر بھٹو نے ہم سب کا سر بلند رکھا۔

    پی پی پی کی مرکزی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید 2 بار وزیراعظم منتخب ہوئیں اور پوری دنیا میں مثالی کردارادا کیا، جب بھی کوئی ملک سے باہر جاتا ہے تو پہلا نام بینظیر بھٹو کا ہوتا ہے بینظیر بھٹو کا ویژن اقتدار نہیں بلکہ عوام کی خدمت تھا، صدر مملکت آصف زرداری نے بھی عوام کی خدمت کرنا سکھایا ہے، شہید بے نظیربھٹو نےبدترین آمریت کا سامنا کیا، بینظیر بھٹو جیلوں میں گئیں لیکن کبھی اف تک نہیں کیا، بینظیر بھٹو سکھرمیں ایسے سیل میں تھی جو ہم سوچ بھی نہیں سکتے، بینظیر بھٹو ہمیشہ آمریت کے خلاف کھڑی رہیں، بینظیر بھٹو نے ہم سب کا سر بلند رکھا۔

    ہم چاہتے تو بھارت کے سارے جہاز گرا سکتے تھے، صدر مملکت

    انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دن لوگوں کو بینظیربھٹو سے سبق سیکھنا چاہئے، سیاسی جماعتیں آج پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں جو نفرت کے کاروان چلارہے انہیں شہید بی بی کے افکارسے سیکھنا چاہئے، بینظیر بھٹو کے قافلوں نے کبھی ایک گملہ بھی نہیں گرایا، آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک کے امن کو بچایا، بلاول بھٹو نے 10دن کا لانگ مارچ کیا لیکن ایک پتہ ہلنے نہیں دیا۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام سنتے نریندر مودی چھپ جاتا ہے،بلاول بھٹو

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام سنتے نریندر مودی چھپ جاتا ہے،بلاول بھٹو

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام سنتے نریندر مودی چھپ جاتا ہے،بلاول بھٹو

    چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہماری افواج نے بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی، یہ جیت گڑھی خدابخش کی قربانیوں کے بغیر ناممکن ہوتی۔ کیونکہ گڑھی خدابخش کی قربانیوں سے ہی پاکستان ایٹمی قوت بنا۔

    گڑھی خدا بخش میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی 18 ویں برسی کی مرکزی تقریب جاری ہے صدرِ مملکت آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو سمیت پیپلزپارٹی کے مرکزی قائدین بھی اسٹیج پر موجود ہیں،تقریب میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں وفاقی حکومت کے وفد نے بھی شرکت کی۔

    اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کو 18 سال گزر چکے ہیں، ہرسال چاروں صوبوں سے لوگ یہاں جمع ہوکر پوری دنیا کو پیغام دیتے ہیں، پاکستان اور چین کی دوستی کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی ،ہماری افواج نے بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی، یہ جیت گڑھی خدابخش کی قربانیوں کے بغیر ناممکن ہوتی،کیونکہ گڑھی خدابخش کی قربانیوں سے ہی پاکستان ایٹمی قوت بنا۔

    شکی مزاج شوہر نے بیوی کو بچوں کے سامنے آگ لگا دی

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے چین سے جہاز منگوائے، ان ہی کے ذریعے بھارتی جہاز گرائے گئے چین سے دوستی کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی اور شہید بینظیر بھٹو نے پاک چین دوستی کو مزید آگے بڑھایا، جبکہ صدر زرداری نے سی پیک کی بنیاد رکھی۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت کیخلاف جیت پورے پاکستان کی جیت ہے،پیپلز پارٹی عوامی مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے، دنیا کے بڑے بڑے فورمز پر بھارتی وزیراعظم پاکستان کیخلاف تقریریں کرتے تھے،10مئی کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی غائب ہوچکے ہیں،معرکہ حق میں شاندار کامیابی پر پورے پاکستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت اپنی شکست کو تاحال ہضم نہیں کر سکا ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام سنتے نریندر مودی چھپ جاتے ہیں،ہماری افواج نے بھارت کا غرور خاک میں ملایا اور معرکۂ حق میں کامیابی پوری قوم کی کامیابی ہے پاکستان کے اندرونی مسائل کسی سے چھپے ہوئے نہیں، ملک کو سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا ہے اور ہمیں ان بحرانوں سے ملک کو نکالنا ہوگا-

    سلمان خان 60 برس کے ہوگئے

    انہوں نے کہا کہ پارلیمان نے 27ویں آئینی ترمیم بھی پاس کروائی، جس میں موجود متنازع شقوں کو نکلوایا گیا، سیاسی میدان میں پیپلز پارٹی نے صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا ،این ایف سی کے آئینی تحفظ کو بھی پیپلزپارٹی نے بچایا،آئینی عدالت کاقیام شہید بے نظیر بھٹو کا وعدہ تھا،آئینی عدالت میں تمام صوبوں سے برابری کی نمائندگی ہوگی۔

    بلاول بھٹو کے مطابق شہید بینظیر بھٹو نے آئینی عدالت بنانے کا وعدہ کیا تھا اور اس ترمیم کے ذریعے آئینی عدالت کا خواب پورا کیا گیاہم وفاق کو درپیش تمام مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، وفاق صوبوں سے حقوق چھینے کے بجائے مزید ذمہ داریاں دے صوبے ٹیکس جمع کرکے وفاق کو درپیش معا شی مسائل حل کریں گے،،سمجھتے ہیں وفاق کے مسائل ہمارے مسائل، وفاق کی پریشانیاں ہماری پریشانیاں ہیں،ہم بھی چاہتے ہیں کہ وفاق کی پریشانیاں دور ہوں۔

    چئیرمین پی پی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں مشکلات تھیں،مہنگائی کا سلسلہ تیز ہو چکا تھا،موجودہ حکومت میں مہنگائی کی صورتحال پی ٹی آئی دور سے بہتر ہوچکی ہے پیپلز پارٹی کی اپنی سیاست اورتاریخ ہے،صوبوں کی خودمختاری اور حقوق کاتحفظ کرتے ہوئے وفاق کے مسائل حل کریں گےصوبوں سےاختیار چھیننے کے بجائےصوبوں کو مزید ذمہ داریاں دی جائیں،ہم مزید ذمہ داریاں اٹھانے کیلئے تیار ہیں تاکہ معیشت کو مضبوط کرسکیں،ٹیکس کے حوالے سے صوبوں کو مزید ذمہ داریاں دیں ،ہم ایف بی آر سے بہتر ٹیکس جمع کرکے معاشی بحران کو دور کریں گے۔

    لاہور میں تین دن کے لیے بسنت منانے کی اجازت

    انہوں نے کہا کہ وفاق دوسروں کو الزام لگانے کا موقع نہ دے،ہم آپ کے ساتھ مل کر معاشی بحران دور کرنا چاہتے ہیں،سندھ کے شعبہ صحت کا مقابلہ کسی دوسرے صوبے سے نہیں ، دنیا سے ہے، گمبٹ میں ہر قسم کی بیماری کا علاج میسر ہےحال ہی میں سیلاب آیا تو زرعی شعبہ کافی مشکل میں تھا، پسماندہ علاقوں کا حق ہے کہ وہاں معیاری علاج کی سہولت میسر ہو،ہم نے سندھ میں عالمی سطح کا صحت کے نظام کا جال بچھایا۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا معاشی بحران ختم کرنے کیلئے صوبوں کو مزید ذمہ داریاں دی جائیں،وفاق کو حیسکو،سیپکو جیسے اداروں کا بوجھ اپنے کندھوں سے ہٹانا چاہئے،پیپلز پارٹی وفاق کے ساتھ مل کر مسائل کا حل نکالے گی،ہم سب کو مل کر پاکستان کی معاشی مشکلات کو دور کرنا چاہئےوفاقی حکومت کہہ رہی ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے،ملک کو ڈیفالٹ ہونے سےبچایا گیا،کیا کریں عوام تو حکومت کے دعوے کو نہیں مانتے۔عوام ہم سے پوچھتے ہیں کہ معاشی ترقی ہمیں کب محسوس ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عام آدمی آج تک معاشی بحران سے گزررہا ہے،آج عام آدمی برداشت سےباہرہوتے ہوئے خرچوں سے لڑ رہا ہے،بجلی بل،گیس بل،راشن ،دواسمیت ہر چیز مہنگی ہورہی ہیں،پیپلز پارٹی میں ہی عوام کو مشکلات سے نکالنے کی صلاحیت ہے ،سیاسی بحران سے نکلنے کیلئے آج نہیں تو کل مفاہمت کرنی ہوگی،سیاست کو سیاست کے دائرے میں رہنا ہوگا، گالم گلوچ سیاست نہیں، مفاہمت کو کامیاب بنانے کیلئے سیاسی انتہا پسندی کو چھوڑنا ہوگا،آج کل جو سیاسی روش ہے وہ ملک کے نقصان میں ہے،مفاہمت کے بادشاہ ہی ملک کو سیاسی بحران سے نکال سکتے ہیں، صدر آصف علی زرداری ہی سیاسی انتہا پسندی ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

    وبائی امراض پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں:مریم نواز

    انہوں نے مزید کہا کہ صدر زرداری نے بی آئی ایس پی کو شروع کیاجو آج تک چل رہا ہے،بی آئی ایس پی آج بھی غریبوں کیلئے ایک سہارا ہے،بی آئی ایس پی کے ذریعے غریب خواتیں کو مالی امداد ملتی ہے،ہم نے سیلاب کے بعد سندھ میں تاریخی کام شروع کیا ہے،ہم سندھ میں سیلاب سے بے گھرخاندانوں کیلئے20لاکھ گھر بنا رہے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی20لاکھ خاندانوں کی خدمت کررہی ہے،18ویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات ملے،ہم عالمی سطح کا صحت کا جال سندھ میں بچھائیں گے،ان اسپتالوں میں 100فیصد مفت علاج ہوگا شہید بینظیر بھٹو کو سلام پیش کرتے ہیں، 27دسمبر ہمیں اجتماعی سوگ، غور و فکر اور عزمِ نو کی یاد دہانی کراتا ہے،بینظیر بھٹو محض رہنما نہیں بلکہ جمہوریت کی نڈر آواز اور مظلوموں کی امید تھیں ، بینظیر بھٹو آمریت، انتہاپسندی اور عدم برداشت کیخلاف ناقابل تسخیر علامت تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی زندگی جرأت اور ہمدردی کا نادر امتزاج تھی، بینظیر بھٹو کا جمہوری پاکستان کا ویژن آج بھی خواتین اور نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہے،بینظیر بھٹو کا ویژن ہماری رہنمائی اور انکی جرأت ہماری دائمی ذمہ داری ہے۔

  • پیپلز پارٹی ذمہ دار اتحادی، بائیکاٹ سیاسی غلطی ہے: عطا تارڑ

    پیپلز پارٹی ذمہ دار اتحادی، بائیکاٹ سیاسی غلطی ہے: عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہر مشکل وقت میں حکومت کا بھرپور ساتھ دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار اور مضبوط اتحادی ہے، اور حکومت ان کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مظفرگڑھ کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ نتیجہ سیاسی عمل میں باہمی اعتماد اور تعاون کا مظہر ہے۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سیاسی عمل ہمیشہ مکالمے، کھلے دروازوں اور بات چیت سے آگے بڑھتا ہے، جبکہ مستقل مزاجی اور جمہوری شمولیت مضبوط سیاسی نظام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سیاسی شرکت کے بغیر اصلاحات ممکن ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے زور دے کر کہا کہ سیاست میں سب سے بڑی غلطی بائیکاٹ کرنا ہے، کیونکہ کسی عمل میں شریک ہوئے بغیر دھاندلی کا الزام لگانا مناسب طرزِ عمل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں بھرپور شمولیت سے نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھتا ہے بلکہ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی طاقت اور عوامی حمایت کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔

    اسکول چھوڑنے کی بلند شرح،بلوچستان میں ارلی وارننگ سسٹم متعارف

    ملائیشیا، کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر پابندی

    انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئندہ بھی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر جمہوری عمل کو مستحکم بنانے کے لیے کام کرتی رہے گی

  • وعدے پورے نہیں ہوئے، حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دی ہے: پیپلز پارٹی

    وعدے پورے نہیں ہوئے، حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دی ہے: پیپلز پارٹی

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت سازی اور اہم آئینی ترامیم میں پیپلز پارٹی نے کلیدی کردار ادا کیا، لیکن حکومت بناتے وقت کیے گئے وعدے تاحال پورے نہیں ہوئے۔

    کراچی میں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکیٹیو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے بتایا کہ وفاقی حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے، اس کے بعد دوبارہ سی ای سی کا اجلاس بلا کر حکومت کے اقدامات کا جائزہ اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کچھ روز قبل صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی، جس میں پیپلز پارٹی نے اپنے تحفظات پیش کیے۔ اگلے روز بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات کی، جہاں وزیراعظم نے یقین دہانیاں کروائیں اور وعدوں پر عمل کے لیے وقت مانگا۔

    شیری رحمٰن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت کا ساتھ دیا اور کبھی مراعات یا کابینہ میں شمولیت کی خواہش نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں حالیہ سیلاب کے دوران شدید تباہی ہوئی، کاشتکاروں کی فصلیں برباد ہوئیں اور مکانات گرے۔ وفاقی حکومت نے بلاول بھٹو کی تجویز پر سیلاب متاثرین کے بجلی کے بل معاف کیے۔شیری رحمٰن نے زور دیا کہ سیلاب متاثرین کو بروقت امداد پہنچانے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بہترین ذریعہ ہے، اسی نظام کے ذریعے 2022 کے سیلاب میں بھی امداد دی گئی تھی جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں پاک-بھارت جنگ کے بعد عالمی سطح پر پاکستانی مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا گیا

    پی سی بی نے سہ فریقی ٹی 20 سیریز کے لیے زمبابوے کو فائنل کر لیا

  • وفاقی بجٹ:  سندھ کو نظرانداز کرنے پر  پیپلز پارٹی برہم،ایم کیو ایم بھی ناخوش

    وفاقی بجٹ: سندھ کو نظرانداز کرنے پر پیپلز پارٹی برہم،ایم کیو ایم بھی ناخوش

    قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے کہاہے کہ وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں سندھ کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جارہا-

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ارکانِ اسمبلی او رحکومتی اتحاد یوں نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر اپنی تنقید جاری رکھی اور وفاقی حکومت کو صوبہ سندھ کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا قومی اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث کے دوران تقریباً تمام پی پی پی ارکان نے یکساں نوعیت کی تقاریر کیں، جن میں انہوں نےکہا کہ سندھ کو ترقیاتی منصوبوں میں اس کا جائز حصہ نہیں دیا جارہا۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان جو کہ حکومتی اتحاد کے ایک اور اہم اتحادی ہیں، انہوں نے بھی سندھ کے مختلف منصوبوں کے لیے مختص بجٹ پر تحفظات کا اظہار کیا، ساتھ ہی انہوں نے پی پی پی کی زیر قیادت سندھ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کراچی کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔

    مختلف علاقوں میں شدید گرمی اور چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش

    پی پی پی کے ارکان نے بنیادی طور پر وفاقی حکومت کی جانب سے ان منصوبوں کو سندھ حکومت کے حوالے نہ کرنے پر احتجاج کیا جو سابقہ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کے ذریعے چلائے جارہے تھےاُن کا کہنا تھا کہ پہلے ہی یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ پی ڈبلیو ڈی کے تمام منصوبے صوبوں کے حوالے کیے جائیں گے، لیکن باقی تین صوبوں کے برعکس یہ فیصلہ سندھ پر لاگو نہیں کیا جارہا۔

    دوسری جانب ایم کیو ایم-پی کے ارکان نے ان منصوبوں کو سندھ حکومت کے حوالے نہ کرنے کے وفاقی اقدام کی حمایت کی ان کا مؤقف تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ صوبائی حکومت ان منصوبوں کو مکمل نہیں کر پائے گی۔

    بحث کے دوران پی پی پی اور ایم کیو ایم کے ارکان کے درمیان زبانی جھڑپیں بھی ہوئیں اور دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو کراچی کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیاشازیہ مری کی تقریر پر ایم کیو ایم-پی کے ارکان نے احتجاج کیا،
    جب انہوں نے بالواسطہ ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کو بھی کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، کیونکہ کراچی کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان

    ایم کیو ایم-پی کی آسیہ اسحاق کو پی پی پی کی نشستوں کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا گیا تاکہ وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کرا سکیں، جس پر کئی پی پی پی رہنما اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے تاکہ کسی ممکنہ تصادم کو روکا جاسکے، کیونکہ آصفہ بھٹو زرداری بھی شازیہ مری کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔

    ایم کیو ایم کی نکہت شکیل نے الزام لگایا کہ وفاق اور سندھ دونوں حکومتیں کراچی کو نظرانداز کررہی ہیں اگر وفاقی حکومت سندھ میں کچھ منصوبے مکمل کررہی ہے، تو پی پی پی کو بلاوجہ شور مچانے کی ضرورت نہیں۔

    ادھر پی ٹی آئی کے رائے حسن نواز نے پی پی پی اور ایم کیو ایم کی اس چپقلش کو ایک ڈرامہ قرار دیاان کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ دونوں جماعتیں بجٹ پر تنقید کررہی ہیں، لیکن آخر میں دونوں بجٹ کے حق میں ووٹ دیں گی۔۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس آج (بدھ) 11 بجے دوبارہ ہوگا۔

    ٹرمپ مودی ٹیلیفونک بات چیت،مودی کا امریکہ کو ثالث ماننے سے انکار