Baaghi TV

Tag: پیپلز پارٹی

  • ٹی وی نہیں دیکھتا ،میری غیبت ہوتی ہے تو مجھے ثواب ملتا ہے،صدر مملکت

    ٹی وی نہیں دیکھتا ،میری غیبت ہوتی ہے تو مجھے ثواب ملتا ہے،صدر مملکت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ زندگی میں ہر قسم کی آزمائشیں آتی ہیں سامنا کرنا پڑتا ہے، بے نظیر بھٹو نے بھی اپنی زندگی میں آزمائشوں کا سامنا کیا .

    وارث میر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کہپروفیسر وارث میر دانشور،جمہوریت پسند انسان تھے، پروفیسر وارث میر کی صحافتی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،زندگی میں ہر طرح کی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،سوشل میڈیا کے دور میں اپنی رائے دنیا کے سامنے رکھنے میں آسانی ہے، سوشل میڈیا کو اپنی مرضی کے مطابق رائے قائم کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، بدقسمتی سے سوشل میڈیا میں گروپنگ نظر آتی ہے،سوشل میڈیا میں حقائق کے منافی کسی بھی بات کو نہیں مانتے، سوشل میڈیا کو معاشرے کی بہتری کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے،میں آزادی صحافت کے ساتھ ہوں، سیلف آزادی کے ساتھ نہیں، مقصد حاصل کرنے کیلئے آزادی صحافت کا حامل نہیں، بھارتی الیکشن میں آپ نے مودی میڈیا کا نام سنا ہوگا، مودی میڈیا گروپ ان کے سپورٹرز سہولت کاروں نے بنایا،

    صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ شہادتیں پیپلز پارٹی کی تاریخ کا حصہ ہیں،پیپلز پارٹی نے جمہوریت کیلئے قربانیاں دیں، کارکنوں نے جیلیں کاٹیں،شہادتیں پیپلز پارٹی کا اثاثہ ہیں،ہمارا ایمان ہے کہ ہر کسی نے اپنے وقت پر جانا ہے،جتنی تنقید مجھ پر ہوئی کسی اور پر نہیں ہوئی ،میں ٹی وی نہیں دیکھتا ہوں ،میری غیبت ہوتی ہے تو مجھے ثواب ملتا ہے، بینظیر بھٹو، مرتضیٰ بھٹو، شاہنواز بھٹو کو قتل کیا گیا ،ملک کی ترقی کا دارومدار زرعی ترقی پر ہے اور زراعت کو ترقی دینے کیلئے ہم اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

    صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کہ حامد میر کے جیو والے بچپن سے میرے ساتھ پڑھے ہیں،پر میں انکو کہتا نہیں کیوں کہ اسکی قیمت بہت بڑی ہے،اور میں اب کیوں آزمائش میں ڈالوں

    موسمیاتی شعبے میں سرمایہ کاری سے ماحولیات کے تحفظ میں مدد ملے گی، صدر مملکت

    مارگلہ ہلز میں آتشزدگی،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کانوٹس

    موسمیاتی تبدیلی،پرواز میں ہچکولے،رخ موڈ دیا گیا، 30 مسافر زخمی

    سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • پیپلز پارٹی بھی اے پی سی میں شرکت کرے گی، بلاول

    پیپلز پارٹی بھی اے پی سی میں شرکت کرے گی، بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا کہ بلوچستان میں کچھ ایسے منصوبے ہیں جب کی تعریف کرنا چاہوں گا ، کچھ ایسے منصوبے ہیں جن پر عملدر آمد ہوا تو بلوچستان کی خدمت ہوگی ، اسکالر شپ سے متعلق وزیر اعلٰی بلوچستان کا منصوبہ بہترین ہے

    کوئٹہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا دورہ انتہائی مفید رہا،صحت کے شعبے میں پیپلزپارٹی نے سندھ میں بہت کام کیا ہے،خواہش ہے کوئٹہ میں این آئی سی وی ڈی جیسا ادارہ بنے، بلوچستان کے نوجوانوں کی اسکالر شپ میں اضافہ کیا جائے گا، روٹی، کپڑا اور مکان پیپلزپارٹی کا فلسفہ ہے،
    کوشش کریں گے پنگ بس سروس کوئٹہ میں شروع کریں اور مزید پھیلائیں ،معاشی بحران سے ہر پاکستان کا مسئلہ مہنگائی ، غربت اور بے روزگاری ہے ، حکومت کی جانب سے سولرائزیشن میں سپورٹ فراہم کریں گے ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سولر پارک بنا کر عوام کو بجلی فراہم کرینگے،بلوچستان میں بھی خواتین کو بلا سود قرض دلوائیں گے، بلوجستان کے10اضلاع میں ریکسیو 1122کی سہولت شروع کر رہے ہیں،گمبٹ کے اسپتال جیسا اسپتال نصیر آباد میں بنانے کا ارادہ ہے جسے بعد میں یونیورسٹی میں بدل دیا جاۓ گا۔

    بلاول زرداری کامزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے امن ومان سے متعلق اے پی سی بھی بلائی ہے ، پیپلزپارٹی اے پی سی میں شرکت کرے گی .ہم سے بجٹ پر مشاورت کی جاتی تو اچھے مشورے دیتے ، امید ہے اگلے پی ایس ڈی پی میں ہم سے ضرور مشاورت ہوگی ،غریب طبقے پر اس بجٹ میں زیادہ ٹیکسز لگے ہیں، جو ٹیکس سلیب دی گئی ہے اس میں غریبوں پر مزید ٹیکس لگادئیے گئے ہیں، ہم کہتے ہیں غریبوں پر اس قسم کے ٹیکس نہیں لگنے چاہئیں،

    بلاول بھٹو زرداری سے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی سے ملاقات
    قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کی جانب سے تمام اراکین صوبائی اسمبلی کے اعزاز میں دئیے گئے ظہرانے میں شرکت کی، بلاول بھٹو زرداری نے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی سے ملاقات کی، بلوچستان کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا،ظہرانے میں بلوچستان کے گورنر جعفر خان مندوخیل، نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، اے این پی کے پارلیمانی سربراہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے شرکت کی، ظہرانے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیرداخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، مسلم لیگ ن کے رہنما اور صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سردار عبدالرحمان کیتھران نے شرکت کی، ظہرانے میں پاکستان پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے تمام اراکین اسمبلی نے شرکت کی.

    بلاول کی وزیراعلی بلوچستان کو تاجر برادری کے مسائل حل کرنے کی ہدایت
    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے سینیٹر بلال مندوخیل کی سربراہی میں بلوچستان کی کاروباری برادری کے افراد کی ملاقات ہوئی ہے، بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وزیراعلی بلوچستان اور پی پی پی بلوچستان کے صدر موجود تھے، بلاول بھٹو زرداری زرداری کو بلوچستان کی تاجر برادری نے صوبے میں کاروباری افراد کو پیش آنے والے مسائل سے آگاہ کیا، بلاول بھٹو زرداری اور بلوچستان کی تاجر برادری کے درمیان صوبے میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے امکانات پر بات چیت کی گئی، بلاول بھٹو زرداری اور بلوچستان کی تاجر برادری کے درمیان معدنیات کی برآمدات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی بلوچستان کو تاجر برادری کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی، بلاول بھٹو زرداری سے کوئٹہ چیمبر آف اسمال انڈسٹریز کے صدر ولی محمد اور پاک ایران چیمبر آف کامرس کے نائب صدر اسد خان نورزئی کی ملاقات ہوئی، ژوب چیمبر آف کامرس کے صدر امیر احمد اور کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے نائب صدر احد آغا کی ملاقات ہوئی،کوئٹہ چیمبر آف اسمال انڈسٹریز کے سابق صدر ڈاکٹر ارشاد علی شاہ، نائب صدر نوید یوسف راجپوت، سیکریٹری منظور احمد، ایگزیکٹو اراکین عطاءاللہ مینگل اور دوست محمد آغا سے ملاقات ہوئی،

    بلاول سے بلوچستان انٹرمیڈیٹ بورڈ میں ٹاپ 10 پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کی ملاقات
    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بلوچستان انٹرمیڈیٹ بورڈ میں ٹاپ 10 پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کی ملاقات ہوئی، بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان انٹرمیڈیٹ بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ عائشہ غضنفر، دوسری پوزیشن ہولڈر سعدیہ طاہر کامران اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالبہ سیدہ سمرین آغا کو شاباش دی،بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وزیراعلی بلوچستان، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی و دیگر موجود تھے، بلاول بھٹو زرداری نے پوزیشن ہولڈر عطاءاللہ، یاسمین بی بی، فاطمہ محبوب، قیام الدین، زبیدہ بی بی، عتیقہ نیاز، ثنااللہ، عتیقہ خان، خانسہ کاکڑ، اسفندیارخان، کرشمہ دیوی اور مبشر احمد کو بھی سراہا، بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان انٹرمیڈیٹ بورڈ میں ٹاپ 10 پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء میں الیکٹرک بائیکس تقسیم کیں.

    بلاول بھٹو زرداری سے پیپلز لائرز فورم کے وفد کی ملاقات
    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے پیپلز لائرز فورم کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے، بلاول بھٹو زرداری کو پیپلزلائرز فورم کے وفد نے وکلاء کے مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا، بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی بلوچستان کو ترجیحی بنیادوں پر وکلاء کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی، بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وزیراعلی بلوچستان، پی پی پی بلوچستان کے صدر اور سیکریٹری اطلاعات ودیگر موجودتھے، پیپلز لائرز فورم کے وفد میں صدر بہرام ترین، جنرل سیکریٹری علی اصغر اور سیکریٹری اطلاعات عبدالرحیم کاکڑ شامل تھے، پیپلز لائرز فورم کے وفد میں مبشر ابابکی، زین الدین کاکڑ، سید سلطان شاہ، ناصر حسین جمالی، عندلیب قیصرانی، سید ظہور آغا، ملک تنویر اسلم شاہوانی، جمال شاہ اور نعیم کولاچی شامل تھے،

    بلاول بھٹو زرداری سے مزدور رہنماؤں کے وفد کی ملاقات
    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے مزدور رہنماؤں کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے،بلاول بھٹو زرداری کو بلوچستان کے مزدوروں بالخصوص کان کنوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی بلوچستان کو مزدوروں کے مسائل کے براہ راست حل کے حوالے سے میکنزم تشکیل دینے کی ہدایت کی، بلوچستان کے مزدور رہنماؤں کے وفد کی سربراہی مرکزی جوائنٹ صدر آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز اینڈ واپڈا لیبر یونین حاجی رمضان اچکزئی نے کی، بلوچستان کے مزدور رہنماؤں کے وفد میں محمد یار علیزئی، باقی لہڑی اور محمد قاسم شامل تھے،

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

  • دہشت گردی کے بیانئے کو شکست دینا ہوگی،بلاول

    دہشت گردی کے بیانئے کو شکست دینا ہوگی،بلاول

    چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں وزیراعلی ہاؤس کوئٹہ میں اجلاس ہوا،

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو صحت، تعلیم، امن و امان اور بجٹ سمیت مختلف فلیگ شپ پروگرام کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی موجود تھے، بلاول بھٹو زرداری کو بلوچستان میں بینظیر بھٹو اسکالر شپ پروگرام، پیپلز ائیر ایمبولینس اور پیپلز گرین بس سروس کے قیام کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی، بلاول بھٹو زرداری کو کوئٹہ میں این آئی سی وی ڈی اور گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف لیور ٹرانسپلانٹ کے قیام، اسکل ورکرز کارڈ پروگرام اور ریسکیو 1122 سروس کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی،جس میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں 300 فیصد اضافہ کیا گیا، بلوچستان میں صحت کے ترقیاتی بجٹ میں 129 فیصد اضافہ کیا گیا،بلوچستان کے دورافتادہ علاقوں میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہیلتھ آن وہیلز پروگرام کا آغاز کردیا گیا،بلوچستان میں کینسر کے مریضوں کے لئے مفت ادویات کی فراہمی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے، بلوچستان میں 30 ہزار سے زائد زرعی ٹیوب ویلز کی سولر پر منتقلی کے منصوبے کا آغاز کردیا گیا ہے، زراعت کی ترقی کے لئے بلوچستان کے کاشت کاروں کو سبسڈی پر ٹریکٹر فراہم کئے جائیں گے، انٹرنیشنل ڈرائیونگ کی تربیت کے حوالے سے کچلاک میں مفت اسکول کے قیام کے حوالے سے بجٹ مختص کردیا گیا، دریائے سندھ سے آنے والی کچھی کینال کے نئے فیز کی تعمیر کے لئے 10 ارب روپے مختص کردئیے گئے، بلوچستان کے بیروزگار گریجویٹس کے لئے بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لئے چار ارب روپے مختص کردئیے گئے، بلوچستان میں یوتھ اسکلز ڈولپمنٹ پروگرام کے تحت دو سالوں میں 30 ہزار نوجوانوں کو تربیت فراہم کرکے بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے، دنیا کی 200 سے زائد یونیورسٹیوں میں سائنس کے مضامین میں پی ایچ ڈی کرنے والے بلوچستان کے طلبہ کو صوبائی حکومت اسکالرشپ دے گی،

    بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ پی پی پی بلوچستان کے صدر چنگیز جمالی، رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی اور پالیٹکل سیکریٹری جمیل سومرو موجودتھے،بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو امن کا مکمل گہوارہ بنانے کے لئے صوبے میں گراس روٹ لیول تک سیاسی عمل ضروری ہے،دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے دہشت گردی کے بیانئے کو شکست دینا ہوگی، بلوچستان کی پہلی یوتھ پالیسی خوش آئند ہے تاہم اس پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں، بلوچستان میں سندھ کی طرز پر صحت کے منصوبوں کی فوری تکمیل جلد از جلد کی جائے، بلوچستان میں 2022 کے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے کی تکمیل میں تیزی لائی جائے، گوادر سے کوئٹہ اور سبی سے جعفر آباد تک پورے بلوچستان کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں،

    بعد ازاں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اعزاز میں وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کی جانب سے وزیراعلی ہاؤس میں عشائیہ دیا گیا،عشائیے میں بلوچستان حکومت کے وزراء، اراکین اسمبلی، پی پی پی عہدیداران و کارکنان اور معززین نے شرکت کی، بلاول بھٹو زرداری نے عشائیے کے شرکاء سے بلوچستان کے عوام کے مسائل اور ان کے حل سے متعلق تجاویز کو سنا

  • وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سندھ ویژن پر بریفنگ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سندھ ویژن پر بریفنگ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ ویژن پر بریفنگ دی ہے

    سندھ ویژن تقریب کا انتظام سندھ اسمبلی کے آڈیٹوریم میں کیا گیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تھر میں مائننگ پروجیکٹس میں 71 فیصد تھری مقامی افراد کام کر رہے ہیں،تھر مائننگ پروجیکٹس میں 3303 مقامی لوگوں کو افرادی وقوت شامل ہے،تھر کی بااختیار 52 خواتین ڈمپ ٹرکس ڈرائیو کر رہی ہیں،9 تھری خواتین کو تربیت دی کر آر او پلانٹس پر تعینات کیا گیا ہے،سندھ حکومت نے مقامی افراد کی دوبارہ آبادکاری کی ہے،ری سیٹلمنٹ ولیج 100 فیصد مکمل ہے جہاں 172 خاندانوں کو منتقل کیا گیا ہے،ری سیٹلمنٹ ولیج میں تمام بنیادی سہولیات پینے کا صاف پانی، صحت کی خدمات، تعلیم، پارک، مسجد، مندر، سولر سسٹم کے ساتھ 100 یونٹ فری بجلی میسر کی گئی ہے

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے ساتھ سندھ حکومت کی شراکت داری کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آج صوبے میں ہر بچہ 30 منٹ کے اندر عالمی معیار کی ایمرجنسی صورتحال سے 24 گھنٹے مفت حاصل کر رہا ہے،سندھ کے 9 اسپتالوں میں جدید ایمرجنسی رومز جو کہ کراچی، حیدرآباد، شہید بینظیر آباد، لاڑکانہ اور سکھر میں ہیں،ٹیلی میڈیسن نیٹ ورک سندھ کی تمام تحصیلوں پر محیط ہے جہاں اطفال کے ماہر کے ذریعہ ساتوں دن 24 گھنٹے مشاورت فراہم کی جاتی ہے،2023-24 میں 10 لاکھ سے زیادہ بچوں کو ایمرجنسی سہولیات فراہم کی گئیں ،امریکہ کی بنیاد پر آزاد تحقیق کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے ایمرجنسی رومز میں آنے والے شدید بیمار بچوں کی اموات کی شرح 19 ملتے جلتے ممالک سے بہت کم ہے ،SYNERGY کے لیے چائلڈ لائف نے زیادہ اثر کے لیے دیگر تنظیموں جیسے این آئی سی وی ڈی، ایس آئی یو ٹی، ایس آئی ای ایچ ایس، پی پی ایچ آئی اور انڈس ہسپتال کے ساتھ شراکت داری کی ہے،سندھ میں اعلیٰ معیار کے پیڈیاٹرک ایمرجنسی روم ہیں،سندھ بھر میں بچوں کی اموات میں نمایاں کمی آئی،این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی کے تحت لاڑکانو، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، سیہون، سکھر، نوابشاہ، مٹھی، خیرپور، لیاری میں سیٹیلائٹ یونٹس قائم کئے گئے ہیں

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ این آئی سی وی ڈی کراچی، ٹنڈو محمد خان اور سکھر میں اسٹروک انٹروینشن پروگرام شروع کا ہے،اسٹروک انٹروینشن کے 300 سے زیادہ طریقہ کار اب تک مکمل کیے جا چکے ہیں،یہ صحت کی سہولیات بالکل مفت ہیں، موبائل ڈائیگنوسٹک اور ایمرجنسی ہیلتھ کیئر لیبارٹری ٹیسٹنگ اور ادویات سمیت ہنگامی صحت کی خدمات فراہم کرتی ہے ،موبائل ڈائیگنوسٹک اینڈ ایمرجنسی ہیلتھ کیئر ڈائریکٹوریٹ میں 26 موبائل ہیلتھ کیئر یونٹس جبکہ پروجیکٹ میں مزید 10 موبائل یونٹس شامل ہیں ،تھرپارکر، ٹھٹو، بدین، سجاول، سانگھڑ، عمرکوٹ، جامشورو، دادو، لاڑکانو، شکارپور، جیکب آباد، ٹنڈو محمد خان، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد، نوشہروفیروز اور خیرپور کے اضلاع شامل ہیں،ڈائریکٹوریٹ کے 26 موبائل یونٹس نے گزشتہ 5 سالوں میں 2,570,612 مریضوں کا علاج کیا ہے اور 549,013 میڈیکل ٹیسٹ کیے ہیں،،پراجیکٹ کے 10 موبائل یونٹس نے گزشتہ سال 93542 مریضوں کا علاج کیا اور 27297 میڈیکل ٹیسٹ کروائے،ان موبائل ہیلتھ کیئر یونٹس نے COVID-19 اور سیلاب / بارش کی ایمرجنسی میں بھی اہم کردار ادا کیا ،اس سال مزید چار موبائل ہیلتھ کیئر یونٹس کا اضافہ کیا جائے گا،

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • کراچی کی بربادی ایم کیو ایم کے آنے کے بعد ہوئی،سعید غنی

    کراچی کی بربادی ایم کیو ایم کے آنے کے بعد ہوئی،سعید غنی

    سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذمت کرتا ہوں کورنگی کنٹونمنٹ بورڈ پی پی کے ورکر کو کل ٹارگٹ کلنگ میں شہید کر دیا گیا

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ امید ہے قاتلوں تک ضرور پہنچیں گے ، شہر میں کسی قوت نے ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے حالات خراب کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا ہے ہم اسے ناکام بنائیں گے ،ماضی میں بہت کچھ ہوا ، کچھ عرصے سے ٹارگٹ کلنگ کنٹرول میں تھا، ایم کیو ایم کے بے بس کنوینر خالد مقبول نے نفرت کی سیاست بڑھانے کی کوشش کی ، سوچا تھا نئی ایم کیو ایم وجود میں آگئی تو شاید نفرتیں اور پرانی روش چھوڑ دی ہو ،جب بھی صوبے میں بہتری آنا شروع ہوتی ہے ایم کیو ایم زہر اگلنے لگتی ہے، نفرت کا سبق ان کو بانی ایم کیو ایم نے پڑھایا، خالد مقبول صدیقی نے نفرت کی سیاست آگے بڑھانے کی کوشش کی، ان کو جب موقع ملتا ہے یہ ثابت کرتے ہیں ہم اسی لیڈر کے پیروکار ہیں،

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں سکھر آئی بی اے سے اچھا ٹیسٹنگ ادارہ کوئی نہیں، سندھ ہائی کورٹ نے ججز کی بھرتی ٹیسٹ کے لیے سکھر آئی بی اے کو چنا، پی پی کی گزشتہ حکومت میں خالی پوسٹ کے لیے اشتہار دیا گیا، ایم کیو ایم نے حکومت جانے سے کچھ روز پہلے عدالت میں کیس کر دیا، ایم کیو ایم کے مطابق پی پی نوکریاں الیکشن میں ووٹ کے لیے دے رہی ہے،نگران حکومت میں کسی کے کہنے پر راتوں رات ایک ادارے میں ہزاروں لوگ بھرتی ہوئے، عدالت کا فیصلہ ایم کیو ایم کی مرضی سے نہیں آیا، عدالت کے فیصلے میں لکھا ہے دوبارہ اشتہار دیا جائے پھر بھرتیاں ہوں گی، کوٹا سسٹم لیاقت علی خان لائے تاکہ بنگالیوں کو نمائندگی مل سکے، اپنی گھٹیا سیاست چمکانے کے لیے لوگوں کے ذہنوں میں زہر نہ گھولیں، ایم کیو ایم، پی ایس پی کے چنگل میں ہے، اصل لیڈر تو مصطفیٰ کمال ہے خالد مقبول تو ایسے ہی ہے،کراچی کی بربادی ایم کیو ایم کے آنے کے بعد ہوئی،

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    قبل ازیں صدر پاکستان پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن اور صوبائی وزیر سعیدغنی نے پیپلز پارٹی کے کورنگی کنٹونمنٹ بورڈ وارڈ 4 کے منتخب کونسلر عامر عباسی شہید کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔اس موقع پر پیپلزپارٹی سندھ کےجنرل سیکرٹری سید وقار مہدی اور پارٹی کےدیگر عہداردان و کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

  • میئر کراچی اور ترجمان ایم کیو ایم کی لفظی جنگ

    میئر کراچی اور ترجمان ایم کیو ایم کی لفظی جنگ

    پیپلز پارٹی نے گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے

    سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کامران ٹیسوری بھی اسی ایم کیو ایم کی طرف سے گورنر بیٹھے ہیں،گورنر سند ھ کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ گورنر سندھ فوری استعفیٰ دیں، ہم نہیں چاہتے صوبے میں مزید الزامات کی سیاست ہو، ہم نہیں چاہتے نفرت کی سیاست کو بڑھائیں، شہید ذوالفقار بھٹو کیخلاف بات کرنے پر متحدہ قومی موومنٹ معافی مانگے، متحدہ نفرت انگیز اور تعصب کی سیاست کا باب بند کرے، ہم نہیں چاہتے آپ نفرت اور بدتمیزی کی سیاست بڑھائیں

    دوسری جانب میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نےمسلسل تیسرے روز بھی نالوں کا دورہ کیا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے بلاول چورنگی نالہ، عیسی نگری نالہ، سونگل نالہ، نرسری نالے سدیگر نالوں کا دورہ کیا۔اور ہدایت کی کہ تمام چاکنگ پوائنٹ روزانہ کی بنیاد پر کلئیر رکھے جائیں،نالوں کی صفائی کاعمل مزید تیز کیا جائے،میئر کراچی نے ضلع کورنگی کھڈی اسٹاپ 10 ہزار روڈ پر نالے کی صفائی کے کام کا معائنہ کیا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے نہال ہسپتال ضلع کورنگی کالابورڈ پر نالے کی صفائی کے کام کا بھی جائزہ لیا.

    بوری بند لاشیں، بھتہ خوری اور ہڑتالیں ایم کیو ایم کی پہچان ہے، مرتضیٰ وہاب
    اس موقع پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ شہید بھٹو پر بات کرنے سے قبل ایم کیو ایم اپنے گریبان میں جھانک لے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو پربات کرنے سے ایم کیو ایم کے بونے رہنماؤں کا قد کبھی نہیں بڑھے گا، انہوں نے پاکستان کے عوام کو ان کی شناخت دی، کراچی میں جب بوری بند لاشوں کی بات ہوگی وہاں ایم کیو ایم کا ضرور ذکر ہو گا، بوری بند لاشیں، بھتہ خوری اور ہڑتالیں ایم کیو ایم کی پہچان ہے، عوام کو ملازمتوں سے محروم کرنے کی مذموم کوشش ایم کیو ایم اپنی فتح تصور کر رہی ہے،پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو میرٹ پر ملازمتیں فراہم کیں، ایم کیو ایم کی مثال جس تھالی میں کھائے اسی میں چھید کرنے والی ہے، ایم کیو ایم نے ہمیشہ شہریوں کے حقوق کا سودا کیا، ایم کیو ایم اپنے آپس کے اختلافات سے تنگ آکر الزام تراشی کی سیاست کر رہی ہے، شہید بھٹو نے سب سے بڑھ کر پاکستان کو ایٹمی پروگرام دیا۔

    زبرستی کے میئر کراچی سوچ سمجھ کر بیان دیں، جس زبان میں بات ہو گی اسی زبان میں جواب آئے گا،ترجمان ایم کیو ایم
    دوسری جانب مرتضیٰ وہاب کے بیان پر مرتضیٰ وہاب کے بیان پر ترجمان ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ مرتضیٰ وہاب کراچی کے میئر ہیں پیپلز پارٹی کے ترجمان نہیں، مرتضیٰ وہاب کراچی کی حالت زار پر رحم کھائیں، کوٹا سسٹم نافذ کر کے میرٹ کا قتل کرنا، سندھ میں لسانی تعصب کی بنیاد رکھنا ذوالفقار بھٹو کا کارنامہ ہے، پیپلز پارٹی میرٹ پر نوکریاں نہیں دیتی، پیپلز پارٹی جعلی ڈومیسائل پر شہری سندھ کے نوجوانوں کا حق بیچ دیتی ہے، کئی دہائیوں سے سندھ پر پیپلز پارٹی قابض ہے، آج سندھ میں نہ بجلی، پانی، گیس ہے اور نہ ہی تعلیم، زبرستی کے میئر کراچی آئندہ سوچ سمجھ کر بیان دیں، جس زبان میں بات کی جائے گی اسی زبان میں جواب آئے گا

  • وزیر اعلٰی بلوچستان نے چمن ماسٹر پلان کا افتتاح کر دیا

    وزیر اعلٰی بلوچستان نے چمن ماسٹر پلان کا افتتاح کر دیا

    وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے چمن کا دورہ کیا

    چمن آمد پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن اور ڈی سی چمن کیپٹن ر راجہ اطہر عباس اور دیگر اعلٰی حکام نے وزیر اعلٰی بلوچستان اور صوبائی وزراء کا استقبال کیا ،کمشنر کوئٹہ ڈویژن اور ڈی سی چمن کیپٹن ر راجہ اطہر عباس نے وزیر اعلی بلوچستان کو چمن ماسٹر پلان اور ضلع چمن کے عوام کو درپیش مسائل کے حوالےسے تفصیلی بریفنگ دی ، وزیر اعلٰی کے ہمراہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی ,صوبائی وزراء اراکین اسمبلی بھی تھے

    وزیر اعلٰی بلوچستان نے چمن ماسٹر پلان کا افتتاح کیا، اور کہا کہ ماسٹر پلان اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، ماسٹر پلان سے وابستہ منصوبوں کی بدولت تجارتی سرگرمیاں تیز ہوں گی، ماسٹر پلان سے مقامی لوگوں کو روزگار اور تجارت کے مواقع میسر آئیں گے، ماسٹر پلان پر عمل درآمد اور تکمیل پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو مبارکباد دیتا ہوں، پاک افغان سرحدی علاقے چمن میں ترقیاتی منصوبے مقامی افراد کے معاشی استحکام کے ضامن ہیں، شہر کی ترقی اور لوگوں کے ذرائع روزگار کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، چمن کے مقامی لوگوں کو روزگار کے لئے قابل عمل پالیسیاں مرتب کی جاررہی ہیں،

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

  • راجہ خرم نواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے چیئرپرسن منتخب

    راجہ خرم نواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے چیئرپرسن منتخب

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین کی تقرری کا سلسلہ جاری ہے

    سید مصطفی محمود قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے،سید مصطفی محمود کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے توانائی(پٹرولیم ڈویژن) کے اجلاس میں کیا گیا،قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ رائے حیدر علی خان اور تائید کنندہ محمد معین عامر پیرذادہ تھے،

    سید حسین طارق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے،سید حسین طارق کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے اجلاس میں کیا گیا،سید حسین طارق کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ سید جاوید علی شاہ اور تائید کنندہ ذوالفقار علی تھے

    ملک محمد افضل کھوکھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے رولز آف پروسیجر اینڈ پریولجز کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے، ملک محمد افضل کھوکھر کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے رولز آف پروسیجر اینڈ پریولجز کے اجلاس میں کیا گیا،ملک محمد افضل کھوکھر کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ ملک محمد عامر ڈوگر تھے

    راجہ خرم نواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے،انتخاب قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے اجلاس میں کیا گیا،راجہ خرم نواز کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ سید رفیع اللہ اور تائید کنندہ میں ڈاکٹر طارق فضل اور جمال احسن خان شامل تھے

    نواب زادہ افتخار احمد خان بابر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت ایوی ایشن کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے، نواب زادہ افتخار احمد خان بابر کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے وزارت ایویشن کے اجلاس میں کیا گیا،چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ حاجی امتیاز احمد چودھری اور تائید کنندہ جام عبد الکریم تھے

    محترم پولین بلوچ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین منتخب ہوگئے،محترم پولین بلوچ کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں کیا گیا،کیسو مل کھئیل داس تجویز کنندہ اور شرمیلا فاروقی تائید کنندہ تھے

    میر غلام علی تالپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے چیئرمین منتخب ہو گئے،میر غلام علی تالپور کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے اجلاس میں کیا گیا،محترمہ آصفہ بھٹو زرداری تجویز کنندہ اور طاہرہ اورنگزیب تائید کنندہ تھے

    مخدوم سید عبدالقار گیلانی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ ڈیویلپمنٹ اور خصوصی اقدامات کے چیئرمین منتخب ہو گئے،عبدالقادر گیلانی کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ ڈیویلپمنٹ اور خصوصی اقدامات کے اجلاس میں کیا گیا، معظم خان جتوئی نے سید عبدالقار گیلانی کا نام تجویز کیا جبکہ اور محترمہ ناز بلوچ سید عبدالقار گیلانی کے نما کی تائید کی۔

    فتح اللہ خان قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین منتخب ہو گئے،فتح اللہ خان کو ممبران قومی اسمبلی برائے دفاع کے ممبران نے کمیٹی اجلاس میں کیا گیا۔ ملک ابرار نام تجویز کیا جبکہ برگیڈیئر ریٹائر محمد اسلم گھمن نے فتح اللہ کے نام کی تائید کی۔

    ملک شاہ گورگیج چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے نارکوٹکس کنٹرول منتخب ہو گئے،ملک شاہ گورگیج کو ممبران قومی اسمبلی برائے نارکوٹکس کنٹرول کے ممبران نے کمیٹی اجلاس میں منتخب کیا۔ممبر قومی اسمبلی خالد حسین مگسی نے ملک شاہ گورگیج کا نام تجویز کیا جبکہ دیگر ممبران نے ملک شاہ گورگیج کے نام کی تائید کی۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

  • سینیٹ اجلاس،وفاقی بجٹ پر بحث،بینظیر کی سالگرہ پر خراج عقیدت پیش

    سینیٹ اجلاس،وفاقی بجٹ پر بحث،بینظیر کی سالگرہ پر خراج عقیدت پیش

    سینیٹ اجلاس 23 منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی چئیرمین سیدال خان کی صدارت میں شروع ہوا۔اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث ہوئی ۔

    سینیٹر بونجو بھیل نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ آج بےنظیر بھٹو شہید کا جنم دن ہے محترمہ نے پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی انسانی حقوق کے لئے طویل جدوجہد کی انکی خدمات کے لئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا جائے ،ڈپٹی چیئرمین نے کہاکہ پورے ایوان کی جانب سے بےنظیر بھٹو شہید کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔جمہوریت کے لئے انکی جدوجہد کو سراہتا ہوں محترمہ شہید پاکستان اور مسلم امہ کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔۔ایوان میں متحرمہ بےنظیر بھٹو شہید کے اہصال ثواب کے لئے دعا مغفرت کرائی گئی دعا سینیٹر ساجد میر نے کرائی ۔

    کب تک عالمی اداروں سے بھیک مانگتے رہیں گےکیا کبھی کوئی بھکاری بھی خوشحال ہو سکا ؟سینیٹر بلال احمد خان
    سینیٹر بلال احمد خان نے اظہار خیال نے کہاکہ سب سے پہلے بے نظیر بھٹو شہید کی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں انہی کے دئیے گئے وژن کے مطابق پیپلزپارٹی آج بھی جمہوریت کو آگے لے کر جا رہی ہے۔بدقسمتی سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوتا رہا لیکن ٹیکس دائرہ کار نہیں بڑھ سکاایف بی آر نے ٹیکس دائرہ کار بڑھانے کے لئے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں اپنائی اس بار بجٹ میں نو ہزار ارب روپے ٹیکس محصولات کا ہدف رکھا گیا ہےحکومتی اخراجات گیارہ ہزار ارب روہے تک پہنچ گئے ہیں اگر حکومتی اخراجات اسی طرح بڑھتے رہے تو سو سال میں بھی ہم معاشی استحکام حاصل نہیں کر پائیں گے، بھاری ٹیکسوں کے باوجود حکومتی اخراجات اور پی ایس ڈی پی کے لئے فنڈز اکٹھے نہیں پائیں گے، پاکستان سونے تابنے لوہے سمیت قدرتی وسائل سے مالامال ہے76 برسوں میں ہم۔کان کنی کو صنعت کا درجہ نہیں دے سکےتعمیراتی شعبے سے 72 صنعتیں وابستہ ہیں لیکن ہم نے اس شعبے کو بھی صنعت کا درجہ نہیں دیا ہم اپنی معدنیات مٹی کے بھاو دوسروں کو بیچ رہے ہیں ریکوڈک میں سونے تابنے کے ذخائر اس کی بڑی مثال ہے اگر ہم خود ان ذخائر کو ڈویلپ کر پاتے تو ہم ایک ارب ڈالر کی بھیک کے لئے در در کی ٹھوکریں نہ کھاتے۔بجٹ میں کان کنی اور معدنی وسائل سے متعلق کوئی پالیسی نہیں بجٹ میں صرف ٹیکس لگانے پر ہی توجہ دی گئی اپنے سرکاری اداروں کو اونے ہونے داموں بچا جا رہا ہے۔ہر پاکستانی شہری ہر ایک چیز پر ٹیکس دینے کے باوجود ٹیکس چور کہلاتا ہےہر پاکستانی ٹیکس ادا کرنے کے باوجود بھی نان فائلر کہلاتا ہےکب تک عالمی اداروں سے بھیک مانگتے رہیں گےکیا کبھی کوئی بھکاری بھی خوشحال ہو سکا ہےبحیثیت قوم کیا ہم اپنی نئی نسل کو بھی بھکاری بنائیں گے ہمیں اپنی نئی نسل کو معاشی بحالی سے متعلق واضح روڈ میپ دینا ہو گا۔

    عوام کو روزگار دینے کے لئے کوئی پالیسی نہیں ہےپاکستانی عوام مایوس ہو کر بیرون ملک جا رہے ہیں،سینیٹر قاسم مندوخیل
    سینیٹر قاسم مندوخیل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اٹھارہ ہزار ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیاعوام کو روزگار دینے کے لئے کوئی پالیسی نہیں ہےپاکستانی عوام مایوس ہو کر بیرون ملک جا رہے ہیں مہنگی بجلی کی وجہ سے پاکستانی صنعت کار کارخانے چلانے کے قابل نہیں ہر پاکستانی ضرورت کی ہر چیز پر بلواسطہ ٹیکس ادا کر رہا ہےیہ کون ہیں جو ملک چلا رہے ہیں اور انھیں عوامی مسائل کا ادراک نہیں۔فیصل آباد میں ٹیکسائل کے ستر کارخانے تھے اب صرف تیس رہ گئے ہیں سرمایہ کار تیزی سے ملک سے باہر جا رہے ہیں ہمیں اپنے عوام کی بھلائی کیلئے امریکہ کی لڑائیوں میں حصہ دار نہیں بننا چاہئیےامریکی مفاد کی لڑائیوں کی وجہ سے آج بھی ہمارے معاشرے میں دہشت گردی ہےرئیل اسٹیٹ پر بھاری ٹیکس لگانے سے تعمیراتی صنعت تباہ ہو جائے گی ملک میں وسائل کی کوئی کمی نہیں بلوچستان کے پہاڑوں سے لے کر پنجاب کے زرخیز کھیتوں تک ہر قسم کے وسائل موجود ہیں

    بہت ہی لاچار اور مجبوریوں والا بجٹ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بنایا گیا ،سینیٹر امیر ولی الدین چشتی
    سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ یہ بہت ہی لاچار اور مجبوریوں والا بجٹ ہےیہ بجٹ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بنایا گیا ہے ایک صحتمند اور تعلیم یافتہ معاشرہ ہی ہمیں آگے لے جا سکتا ہے.پہلی بار تعلیم اور صحت کے شعبے پر بھاری ٹیکس عائد کر دیا گیامڈل کلاس پر بھاری ٹیکس لگا کر تباہ کر دیا گیا.ہمارا شرح سود پورے خطے کے مقابلے میں زیادہ ہےگروتھ ریٹ خطے میں سب سے کم ہےہماری پالیسیوں میں تسلسل نہیں، پہلے بتایا گیا کہ الیکڑک گاڑیاں ماحول کے لئے بہتر ہیں، اس میں سرمایہ لگائیں چھ ماہ بعد ہی الیکڑک گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس لگا دیا گیا لگتا ہے کہ بجٹ بہت ہی جلد بازی میں بنایا گیاہمیں 25سے 30 سال کے لئے معاشی پالیسیاں اپنانا ہونگی اس مقصد کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنا ہو گا

    سب سے زیادہ ریونیو دینے کے باوجود سب سے زیادہ محرومیاں بھی سندھ میں ہیں،سینیٹر ندیم احمد بھٹو
    سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اٹھارہ ہزار ارب روپے کے بجٹ میں کوئی ٹھوس پالیسی نظر نہیں اتی غریب طبقہ مہنگائی میں پس چکا ہےہمیں معیشت کے حوالے سے میثاق معیشت کرنا ہو گاآئین کے تحت ہر پانچ سال میں این ایف سی ایوارڈ کا اعلان ضروری ہے،آخری این ایف سی ایوارڑ پیپلزپارٹی دور حکومت میں کیا گیاسب سے زیادہ ریونیو سندھ دیتا ہے،کراچی منی پاکستان ہے، کراچی سب کو روزگار دیتا یےپی ایس ڈی پی میں صوبوں کے لئے فنڈز مختص کرنا کا عمل غیر منصفانہ ہےکراچی میں کے فور، سرکلر ریلوے کے منصوبے بروقت مکمل ہونے چائیے تھے وفاق ان منصوبوں کی جلد تکیمل کے لئے فنڈز مختص کرے سب سے زیادہ ریونیو دینے کے باوجود سب سے زیادہ محرومیاں بھی سندھ میں ہیں پیپلزپارٹی نے جمہوریت کی مضبوطی کے لئے مسلم لیگ ن کا ساتھ دیاپانی کی تقسیم 1991 کے معاہدے کے مطابق کی جائےقدرتی اور معدنی وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہوتا ہے1973 کا متفقہ آئین ، اٹیمی پروگرام، پورٹ قاسم، سٹیل ملز ، یوٹیلیٹی سٹورز ، میزائل ٹیکنالوجی ، زرعی اصلاحات پیپلزپارٹی نے کرائےخیبر پختونخوا کو نام شناخت پیپلز پارٹی نے دی صدر آصف علی زرداری نے صدارتی اختیارات کو کم کر کے پارلیمان کے حوالے کئے سندھ کے ایس ائی وی ٹی میں دل کے مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے

    وفاق میں غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرنا ہو گا،سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری
    سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں آئی پی پیز کے ساتھ اپنے معاہدوں کا دوبارہ جائزہ لینا ہو گا21 سو ارب روپے ہم کپیسٹی ادائیگوں کی مد میں ائی پی پیز کو دیتے ہیں ہمیں بجلی کے ان مہنگے معاہدوں پر نظر ثانی کرنا ہو گی ائی پی پیز کے ساتھ مہنگی بجلی معاہدوں کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں مہنگی بجلی کے باعث ہمارے ٹیکسوں کی بڑی رقم ان نجی بجلی کارخانوں کو چلی جاتی ہےہمیں اندرونی اور بیرونی قرضوں کو کم کرنا ہو گاہر پاکستانی کی سال میں صرف چالیس ہزار آمدن ہےہر پاکستانی پر دو لاکھ 80 ہزار سے زیادہ قرضہ ہےحکومتی اخراجات میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہواسود کی ادائیگی اور دفاع پر خرچ کے بعد ہمارے پاس صرف 33 فیصد فنڈز رہ جاتے ہیں سات ہزار ارب سے زیادہ بجٹ خسارہ ہے جو مہنگے قرضوں سے پورا کیا جاتا ہےہمیں وفاق میں غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرنا ہو گااٹھارویں ترمیم کے تحت جو وزارتیں صوبوں کے پاس چلی گئیں ان کی وفاق میں کوئی ضرورت نہیں ایران سے سالانہ ایک ارب ڈالر مالیت کا ایندھن سمگل ہو کر پاکستان پہنچتا ہےکار ساز کمپنیاں انڈر انوسئنگ کے ذریعے خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں

    بجٹ کے عوام دشمن سے ملک دشمن ہونا زیادہ بری بات ہے ،سینیٹر ساجد میر
    سینیٹر ساجد میر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہرسال ایک طرف سے بجٹ کو بہترین اور دوسری طرف سے بدترین کہاجاتا ہے بجٹ پر متوازن بحث نہیں ہوتی ہے ۔ جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں ان حالات میں بجٹ بنالینا ہی بڑی بات ہے ۔ دفاعی اخراجات دشمن سے بچنے کے لیے ضروری ہیں ۔قرض واپس کرنا بھی ضروری ہے ۔ سول انتظامیہ پر بھی اربوں روپے خرچ ہوں گے صوبوں کو حصہ دینے یے بعد کچھ بھی نہیں بچتا ہے 18ہزار ارب میں آدھا قرض لینا پڑے گا ٹیکس بیس کو بڑھایا جائے یہ مشکل راستہ ہے مگر یہ ضروری ہے ہمیشہ سے ہمارے حالات ایسے نہیں تھے ۔ کہاگیا کہ ملک پر 22خاندان مسلط ہیں جس پر نیشنلا ئزیشن کردی گئی۔ بجٹ کے عوام دشمن سے ملک دشمن ہونا زیادہ بری بات ہے ۔ ملک کا جو حال ہوا ہے اس سے نجکاری کی ضرورت ہے نیشنلا ئزیشن نے ملک کو تباہ کیا ہوا ہے ۔ پی آئی اے میں سیاسی بھرتی کی گئی ہے اس لیے پی آئی اے کی نجکاری کی مخالفت کی جارہی ہے ۔

    دو ماہ کا انتظامی بجٹ منظور کر کے پورے بجٹ پر نظر ثانی کی جائے۔سینیٹرشہادت اعوان
    سینیٹرشہادت اعوان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بینظیربھٹو کی یوم ولادت پر ایوان میں دعا کرانے پر سب کا مشکور ہوں ۔ پی ایس ڈی پی پر حکومت نے ہماری جماعت کے ساتھ مشاورت نہیں کی گئی ہے ۔ پیپلزپارٹی ۔نے مسلم لیگ ن کا اس شرط پر ساتھ دیا تھا کہ پی ایس ڈی پی منصوبوں میں مشاورت کی جائے گی پی ایس ڈی پی میں ہمارے ساتھ کوئی مشاورت نہیں ہوئی ،ایک طرف حکومت فنڈز نہ ہونے کا رونا روتی ہے دوسری جانب کئی نئے منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل کر دئیے گئے۔وفاقی حکومت نے صوبوں نے سرپلس کو پیشگی طور پر اپنی آمدن میں ظاہر کر دیا جو غلط ہے ملازمت پیشہ افراد اور پنشنرز کو افراط زر کے مطابق اضافہ دینا چائیے تھاکراچی میں سب سے بڑا مسلہ پانی کا ہےاس مالی سال کے فور منصوبے پر ستر ارب روپے مختص ہونے تھےبجٹ میں کے فور کے لئے صرف 25 ارب روپے رکھے گئےریلوے کی اراضی کو خالی کرانے کے نام پر ہزاروں لوگوں کو بےگھر کیا گیاوفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ بےگھر افراد کو روسری جگہ اباد کریں گے جو نہیں ہو سکابجٹ کو چودہ دنوں میں منظور کرنا درست نہیں صحت اور تعلیم کے شعبوں پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا جس سے مہنگائی کا طوفان ائے گاہم اتحادیوں نے عوام کو ریلیف دینے کا وعدہ کیا تھاہم نے مہنگائی ختم کرنے اور روزگار دینے کے وعدے کئے تھےبجٹ میں تو اس سب کے برعکس نظر ا رہا ہےرئیل اسٹیٹ پر بھاری ٹیکس لگانا درست نہیں دو ماہ کا انتظامی بجٹ منظور کر کے پورے بجٹ پر نظر ثانی کی جائے۔

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    تنخواہیں بڑھانے سے ملازمت پیشہ افراد کو کوئی فائدہ نہیں ہوا،سینیٹر ذیشان خانزادہ ن
    سینیٹر ذیشان خانزادہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اپنے نجی شعبے کو مضبوط کرنا ہو گاحکومتوں کا کام کارروبار چلانا نہیں بلکہ پالیسی سازی ہوتا ہےروزگار کے مواقع نجی شعبہ ہی پیدا کرتا ہے،امریکہ کی ایپل کمپنی اور بھارت کی ریلائنس کمپنی اس کی مثالیں ہیں معاشی استحکام کے لئے سیاسی استحکام ضروری ہےمہنگی بجلی کے مسلے پر سولر انرجی کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہےسرکاری شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے نو ہزار ارب جبکہ حکومتی اخراجات گیارہ ہزار ارب ہیں تنخواہیں بڑھانے سے ملازمت پیشہ افراد کو کوئی فائدہ نہیں ہوا،کے ایس ای کو گذشتہ سال ساڑھے تین سو ارب کی سبسڈی دی گئی جو بہت زیادتی ہے

    پنجاب میں سڑکوں کو عرق گلاب سے دھویا جا رہا ہے،سینیٹر افنان اللہ
    سینیٹر افنان اللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ یہ درست ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں کاش یہ بات اس وقت یاد ہوتی جب اپ امپائر کی انگلی کھڑی کرنے کا کہا جاتا تھاپنجاب حکومت نے مختصر عرصے میں بہترین اقدام کئےخیبر پختونخوا میں کونسے منصوبے مکمل ہوئے وہ بھی بتا دیں وزیراعلی خیبرپختونخوا ہر روز دھمکیاں دیتے ہیں وہ زبردستی گرڈ اسٹیشن کھلوا رہے ہیں وزیر اعلی خیبر پختونخوا سرعام کہتے ہیں کہ بجلی چوری کوئی بری بات نہیں۔کاش کہ اپ خیبر پختونخوا میں کوئی ایک اچھا منصوبہ بھی پیش کر سکتےمیاں نواز شریف کا خواب تھا کہ ملک کا نارتھ سے ساوتھ حصہ موٹروے سے منسلک ہوآج یہ خواب اپنی تعبیر کے قریب ہےجلد حیدراباد سکھر موٹر وے کا حصہ بھی مکمل ہو جائے گاسٹاک مارکیٹ میں انڈکس ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پےمہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی پنجاب میں تو سڑکوں کو عرق گلاب سے دھویا جا رہا ہےہمیں تنقید برائے تنقید نہیں کرنی چائیے

    بلوچستان میں دس افراد کے اغواء کا معاملہ سینیٹر کامران مرتضی نے ایوان میں اٹھا دیا
    ڈپٹی چیئرمین نے چیف سیکرٹری اور ائی جی، وزارت داخلہ بلوچستان سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی وزارت داخلہ ایف سی بھی رپورٹ طلب کر کے اگلے سیشن میں پیش کرے۔سینیٹ اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کردیا گیا.

    عوام نے مینڈیٹ پی ٹی آئی کو دیا اور حکومت کسی اور نے بنا لی،سینیٹر علی ظفر
    تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہاکہ میں بات کرنا چاہتا تھا، لیکن حکومتی سائیڈ سے کوئی ذمہ دار موجود نہیں وزیر خزانہ کو آج ایوان میں موجود ہونا چاہیئے تھاہماری طرف سے اٹھائے گئے نکات پر جواب کس نے دینا ہے بجٹ دستاویزات کو دیکھنے کو موقع پر ملا ہے یہ بجٹ عوام دشمن بجٹ ہے اس بجٹ میں ماسوائے ٹیکس پیئر کی کمر ٹوٹنے کے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی یہ حکومت عوام کی نمائندگی نہیں کر رہی عوام نے مینڈیٹ پی ٹی آئی کو دیا اور حکومت کسی اور نے بنا لی جب کبھی کوئی غیر نمائندہ حکومت ٹیکس لگاتی ہے تو اس کا ردعمل آتا ہے تین واقعات تاریخ میں درج ہے برطانیہ، امریکہ اور فرنچ ریپبلکن میں انقلاب آ چکے یہ کمر توڑ ٹیکس والا بجٹ اگر منظور ہو گیا تو بہت جلد اس ملک میں انقلاب آ جائیگا، فنانس منسٹر کو میں جانتا ہوں ان کی ٹیکسیشن کے بارے علم کافی کم ہے ان کا حکومتی تجربہ بہت کم ہے وہ سیدھے ایچ بی ایل صدر سے فنانس منسٹر بن گئےفنانس منسٹر نے تقریر میں کہا کہ میں مرض کی شناخت کر دی ہے نا کے مطابق مرض کیا ہے وہ یہ کہ ضرورت سے زیادہ حکومتی مداخلت ہےانہوں نے کہا کہ مارکیٹ گیوں اکانومی ہونی چاہیئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرے میں نے بجٹ تفصیل سے دیکھا ہے فنانس منسٹر کی تقریر سے متعلق کوئی چیز اس بجٹ میں موجود نہیں۔مزید نوٹ چھپے جائیں گے تو مہنگائی میں اضافہ ہوگا بجٹ تباہی کی ریسیپی (نسخہ )ہے ۔40%بجٹ میں ٹیکس بڑھایا جارہاہے اس سے گروتھ میں کمی ہوگی ۔بجٹ میں کہاگیا کہ ہم بزنس پر ٹیکس بڑھائیں گے صارف پر نہیں لگارہے ہیں مینوفیکچررز یہ ٹیکس صارف پر منتقل کردیں گے یہ خسارے کا بجٹ ہے اس بجٹ سے صرف اس مخلوق کو فائدہ ہوگا جس کو کھانے پینے کی ضرورت نہیں ہے جو کھانے والی مخلوق ہوگی اس کا برا حال ہوجائے گا ۔جس نے بھی بجٹ بنایا ہے اس نے قوم کا نہیں سوچا کہ اس کا کیا بننے گا ۔آدھا سے زیادہ بجٹ قرض واپس کرنے میں لگ جائے گا ۔ہت سال قرض واپس کرنے کے لیے مزید قرض لے رہے ہیں اور یہ پہیا چل رہاہے اس کو ختم کرنے کا کوئی نہیں سوچ رہا ہے ۔جب تک عوام کا چوری شدہ مینڈیٹ واپس نہیں کریں کہ یہ سسٹم نہیں چلے گا اگلے تین ماہ میں منی بجٹ آجائے گا ۔الیکشن کمشین آف پاکستان پاکستان کے ان حالات کا ذمہ دار ہیں اس بجٹ کی وجہ سے پراپرٹی اور کنسٹرکشن کا کاروبار ختم ہوجائے گا ۔ یہ ایسا بجٹ ہے کہ اس میں ایک صوبہ کے لوگ ایوان میں موجود نہیں ہیں ۔ ہمیں ڈیکٹیٹ نہیں کیا جاسکتا کہ آئی ایم ایف کہے رہا ہے کہ یہ کرو تو ہم یہ قانون سازی کررہے ہیں ۔

    وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز نے کہاکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تقریر ہورہی ہے اس وجہ سے وزیرقانون ایوان میں نہیں آئے ہیں ۔

    جمعیت علماء اسلام (ف) کامران مرتضیٰ نے کہاکہ اگر ایوان میں ہم سب بھی نہ ہوں تو ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے سینیٹر علی نے کہاہے کہ کے پی کے کی نمائندگی نہیں ہے اس لیے بجٹ کے لیے ایوان مکمل نہیں ہے ۔ سینیٹ بجٹ پر سفارشات ہی دے سکتا ہے ۔ایس آئی ایف سی کو چھوٹے صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ۔ اس سے فائدہ نہیں نقصان ہوگا بلوچستان اور کے پی کے کو اس سے نکال دیا ہے ایک تہائی رقبے پر سیکورٹی فورسز کی عمل داری ختم ہوگئی ہے ۔ معاشی انصاف نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ حالات بن رہے ہیں ۔کوئٹہ میں دس لوگ اغوا کیا گیا ہے کیا پہلے کوئٹہ میں زبان کی بنیاد پر اس طرح کے واقعات ہوتے تھے ۔ اس صوبے میں نمبر ون ایجنسی سب سے زیادہ آپریٹ کرتی ہے اس نے الیکشن کو ہی دیکھا ہے یہ معاملات نہیں دیکھ رہے ہیں ۔ ان لوگوں کو عوام نے منتخب نہیں کیا انہوں کو اسٹیبلشمنٹ نے منتخب کیا ہے ۔ اللہ کرے اس ملک میں انقلاب آئے ۔ جو اس ملک کو کنٹرول کررہے ہیں وہ ملک کو چھوڑیں گے تو ملک کا بھلاہوگا۔ اس ملک کے اکثریت کے ساتھ شودروں والا سلوک کیا جارہاہے ۔ بلوچستان کے بچے 20 سال سے واپس نہیں آرہے ہیں اب تو پنجاب سے بھی بچے اٹھائے جارہے ہیں چمن دھرنے کے مسائل حل نہیں کئے جارہے ہیں ان پر پرچے درج کئے جارہے ہیں۔ ڈی چوک اسلام آباد میں فلسطینوں سے اظہار یکجہتی والے دھرنے پر کار چڑھانے والے حادثے پر سینیٹ نے رپورٹ طلب کی تھی ابھی تک رپورٹ نہیں آئے ۔فلسطین کے لیے بجٹ میں یہ لکھ دیں کہ ہم روز بددعائیں دیں گے ۔

    بیرون ملک غیر ملکیوں کے ساتھ جام یہ ٹکرائیں اور الزام ہم پر ،سینیٹر قرۃ العین پی ٹی آئی پر برس پڑیں
    پیپلزپارٹی کے سینیٹر قرۃ العین نے کہاکہ پی ٹی آئی کے دوستوں نے بجٹ کی آڑ میں خوب دل کی بھڑاس نکالی ہمارے علاقے میں بیس گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہےگیس آتی نہیں لیکن گیس کے شعبے کے لئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، پی ٹی آئی نے ہم پر فرنگیوں کو سپورٹ کرنے کا الزام لگایاپی ٹی آئی والے لندن مئیر صادق خان کے مقابلے میں یہودی گولڈ سمتھ کے بیٹے کی حمایت کرتے رہے بیرون ملک غیر ملکیوں کے ساتھ جام یہ ٹکرائیں اور الزام ہم پر لگاتے ہیں ہم سے زیادہ پاکستانی کوئی نہیں۔ہمارے لیڈر نے تو بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگایاہمارے لیڈر نے تو ملک کو تقسیم ہونے سے بچایااپ کا لیڈر تو حکومت سے اترنے کے بعد ملک پر بم پھینکے کا کہتا ہے،پی ٹی آئی والوں نے تو کہا تھا کہ ان کا لیڈر سمارٹ ہے اس لئے انھیں موسم اچھا لگتا ہے،بلاول بھٹو زرداری نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر خصوصی فنڈ قائم کرایا پی ٹی آئی والے ہمیں ہرگز کمزور نہ سمجھیں۔۔ہم شریف ہیں کمزور نہیں ہیں۔

    اے این پی کے سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے کہاکہ بجٹ میں ٹیکس کی بھرمار کردی گئی ۔ دوائیوں پر ٹیکس واپس لیا جائے۔پراپرٹی پر ٹیکس کم کیا جائے ۔

    جن لوگوں نے زندگی میں ریل نہیں دیکھی ان کو بھی نان فائلر ہونے کی سزا دی جا رہی ہے،سینیٹر پونجو بھیل
    پیپلزپارٹی کے سینیٹر پونجو بھیل نے کہاکہ 19 کھرب کے بجٹ میں قرضوں پر سود کے لئے کتنی رقم رکھی گئی ہےہمیں اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے چائیےسندھ ملکی ریونیو میں ستر فیصد حصہ دیتا ہےبجلی کی سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ سندھ میں ہےجہاں سے گیس نکل رہی ہے ، وہاں مقامی افراد کو گیس میسر نہیں تھرپارکر میں بجلی پیداوار کے کارخانے لگائے گئے ہیں لیکن مقامی افراد کو گیس نہیں دی جا رہی بھٹو شہید نے سوشلزم کو ہماری پالیسی قرار دیا تھا اب سرکاری اداروں کو بیچا جا رہا ہے۔غریب کے لئے دو وقت کا نوالہ کمانا ممکن نہیں رہاہمارے علاقوں میں انتہا درجے کی غربت ہےجن لوگوں نے زندگی میں ریل نہیں دیکھی ان کو بھی نان فائلر ہونے کی سزا دی جا رہی ہے

  • مولانا فضل الرحمان جمہوریت کے استحکام کیلئے ہمیشہ کھڑے ہوئے،رانا ثناء اللہ

    مولانا فضل الرحمان جمہوریت کے استحکام کیلئے ہمیشہ کھڑے ہوئے،رانا ثناء اللہ

    وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی مکمل تجاویز کے ساتھ بجٹ فائنل ہوگا

    نماز عید کی ادائیگی کے بعد فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ بجٹ تجویز ہوتاہے پارلیمنٹ میں بحث ہوتی ہے، پارلیمنٹ تیس جون سے پہلے بجٹ پاس کرے گی،وزیراعظم ایک مہینے بعد دوبارہ قوم سے خطاب کریں گے، وعدے کے مطابق حکومتی اخراجات میں کمی لائی جائےگی،مسلم لیگ ن نے جب بھی ملک کو اٹھانے کی کوشش کی سازش کر کے ملک کو دوبارہ بحرانوں سے دوچار کیا گیا ۔ اب پاکستان کسی ایسی سازش کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے، بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں اور ٹیکسز کے نفاذ کے معاملے میں وزیر خزانہ اور ٹیم نے کوشش کی کہ اثرات کم سے کم ہوں، گزشتہ 16 ماہ میں آئی ایم ایف کی شرائط زیادہ سخت تھیں، ملکی بحران کی ذمہ داری ان پر جنہوں نے اچھے چلتے ملک کو 2017 میں بحران سے دوچار کیا۔

    رانا ثناءاللہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کےدوست ممالک کی مددسےآئی ایم ایف کی شرائط میں کچھ نرمی ملی ہے، مولانا فضل الرحمٰن جمہوری اور امن پسند لیڈر ہیں، جمہوریت کے استحکام کیلئے ہمیشہ کھڑے ہوئے ہیں، انتشاری ٹولے سے اگر ان کا رابطہ ہوتاہے تو انتشاری ٹولہ کا ایجنڈا غالب نہیں آسکے گا، مولانا کی مصالحت کے اثرات انتشاری ٹولے پر پڑیں گے، الیکشن کے نتائج کو تمام جماعتوں نے قبول کیا ہے،شور شرابہ کرنے والوں نے وزیر اعظم اسپیکر اور وزراء اعلی کے انتخابات کا حصہ بنے ہیں، آئین اور قانون کے مطابق موجودہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرے گی، حکومت کو سائز اور اخراجات میں کمی کرنے جا رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے اعتراضات درست ہیں، یہ نہیں بالکل مشاورت نہیں ہوئی اس میں کمی رہ گئی ہے، بجٹ ابھی فائنل نہیں ہوا ابھی تجاویز لے رہے ہیں، پیپلز پارٹی کی مشاورت اور تجاویز اور ان کی تسلی کے بعد بجٹ منظور ہوگا۔

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ